Aug 23

مکہ محمد اور خُدائے مہتاب ایک حقیقی اسلامی نسب سے ایک حقیقی تحقیق – باب بارہ سولہ تک

حصہ ساتواں جہاد

بارہواں سبق

ابتدائی اسلامی سلطنت کی پالیسی

مقدس جنگ کاسے دفاع

یہ قدیم رسوم سے منسوب ہے ، کہ جہاد کے تصور نے لازوال نقش مغربیوں کے ذہنوں میں چھوڑے ہیں تو حقیقت میں جہاد ہے کیا تھامس ہیگس بیان کرتے ہیں کہ جہاد کی اصلاح اسلامی ڈکشنری میں :

‘‘اسلامی عقائد کی انسائکلیوپیڈیا میں دستور رسومات اور رواج کِسی خاص علم کے ساتھ اکٹھے ہیں اور یہ مسلمان مذہب میں ایک تھیالوجیکل اصطلاح ہے: لِٹ ‘‘ایک کوشش’’ یا محنت کرنا ہے ، ایک مذہبی جنگ ہے جو محمد کے مقصد میں غیر ایماندار میں ۔ یہ مذہب میں ایک عہدہ دار کے طور پر فرض ہے۔ یہ قرآن میں ، اور اپنی تعلیم کی روایات میں منظر عام پر ہے اور خاص طور پر اسلام کے ترقی یافتہ مقصد کی تاکید کرتا ہے اور مسلمانوں سے بدی کو رفع کرتا ہے۔ جب ایک کافر ملک پر مسلمان حکمرانوں نے قبضہ کیا ۔ تو اس میں بودوباش کرنے کی تین متبادل پیش کش کی گئیں : (۱) اسلام کا داخلہ ، جس میں فتح کی صورت میں اسلامی ریاست کے اندر شہریوں کو پوری آزادی ہو گی

جزیہ کی ادائگی جس میں اسلام میں غیر ایماندار محفوظ تھے اور اُن کو خاص ٹیکس ادا کرنے کے لیے ان کی رہائش میں تبدیلی دی گئی عرب کے اندر بت پرستی نہیں کرنے دیں گے ۔(۳) تلوار کے ساتھ موت:۔ اُن کے لیے جو ٹول ٹیکس ادا نہیں کریں گے۔(۱)

فہرست میں دوسرے نمبر کا پوائنٹ بت پرستوں کے لیے لوگو نہیں ہوتا تھا۔ مثال کے طور پر ، ہندو ، بدھ مت اور دوسرے ایک خُدا کو نا ماننے والے دوسری آپشنز میں ہے تبدیلی یا موت ، جہاد کی پالیسی کی وجہ سے مشرق کی سرزمین ہر خاص طور پر بے رحم تاریخی اور خونی فتوحات ہوئی ہیں ہیگس ایک صوفی ہے جہاد کا ظاہر تناسب بیان کرتا ہے۔

صوفی لکھاری کہتے ہیں کہ جہاد دو طرح کا ہے: الجہاد الاکبر یا ‘‘ایک بڑی جنگ وجدل’’، جو اُنکی اپنی ہی نفس پرستی کے خلاف ہے؛ اور ایک الجہاد الاصغر ہے ، یا ‘‘ چھوٹی جنگ قجدل ہے ’’ یہ کافروں کے خلاف ہے۔(۲)

دوبارہ بیاہ کرتے ہیں کہ کافروں کی مسلمانوں نے ادا کی ہے یہ اُن کے دشمنوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

ہیگس اس اصطلاح کو بیان کرتا ہے۔ کافروں کی ریاست میں مختلف قسم کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔ ۱ ، کافر ایک وہ جو سچائی کو چھپاتا یا اس کا انکار کرتا ہے ؛ ۲ مُشرک ایک وہ جو اللہ کا شریک ٹھہرتا ہے؛ مُلحد: ایک وہ جو سچائی سے پھر جاتا ہے۔ ۴: زندیک و ایک کافر یا ایک زندوننا کا پجاری؛ ۵ منافق ، ایک وہ جو فقہیہ طور پر محمد کے مقصد کو نا مانتا ہو: مُرتد ایک وہ جو اسلام سے منحرف ہے، ۱ دہری ، بے دین (کافر) ۸ ، وسانی ، ایک وہ جو بُت پرست (۳)

بنیادی طور پر ایک کافر کِسی میں بھی شامل ہو جاتا ہے وہ جو اسلامی دستور کو نہیں جانتا۔ جسکا دعویٰ کرتا ہے کہ صرف وہی اللہ کا سچا نبی ہے ، دلچسپی سے ابتدائی مکی سورتیں کِسی بھی جہاد کے لیے اُصول بیان نہیں کرتی۔ جہاد کے قلع کی دیواروں محمد کی خدمت کو متحرک کرنے کے لیے بڑھنا تھا۔ بعد میں ، اُسکے مدینہ میں سالوں کے دوران محمد نے اپنے آپ کو سیاسی حکمران کے طور پر مضبوط بنایا اور دنیا کی فتح کی کامیابی کا نیا الہام قبول کرنا شروع کیا اسے جہاد کی ابتداء تسلیم کیا گیا ؛ افرائیم قریش ؛ اسلام مین اسلامی سلطنت کی پہلی پالیسی ہے ؛ ایک تاریخ ک کا لکھاری لکھتا ہے ؛ کہ پرانے اسلامی معاشرے کے انتخاب کی ایک بھی سرگرمی نہیں تھی ۔ یہ جنگ جو بہت مختصر تھے۔(غزوہ ، یا رضیہ ، یہ عام طور پر جانے جاتے تھے۔ یہ حملہ کرتے تھے ۔ بڑی چالاکی کے ساتھ ، اُنکے اونٹنوں ، گھوڑوں، کھانے پینے کی چیزوں یا اس کی بڑی کمی کو ضبط کرنے کے لیے اشانہ بناتے تھے ، مخالف قبیلے کی عورتوں کو غلام بنا لیتے تھے۔(۴)

زیادہ تر خانہ بدوشوں کے لیے راضیہ خوراک کا وسیلہ نہیں تھا۔بلکہ معاشرتی کوششیں خوشی سے کی جا رہی تھیں اور قبیلے کے باہمی طور پر مدد کرنے کا اقرار تھا اور فوج کے تجربات کی اقرار جیتنا تھا۔ اس لئے یہ بہت زیادہ تھا اس لیے کُچھ مفکر اس کو اس طرح بیان کرتے دوبارہ محمد بھی اسے اپنے مذہب کے سانچے میں عربیوں کی اس مشترکہ مشق پہلے سے خُوش تھا ، محمد نے اپنی ابتدائی خدمت میں جہاد کا حکم نہیں دیا تھا ، جہاد کا تشدد اُن کی فطرت میں بتدریج ترقی پا گیا تھا ، محمد نے قریش کے قبیلے کو تبدیل کرنے کے لیے کوشش کی تھی کہ وہ اُس اللہ کے الہیٰ پیغمبر کے طور پر جانیں۔ لیکن اُنہوں بڑی بے عزتی کے ساتھ محمد کو رد کر دیا تھا ۔ لیکن وہ اکثر اُسے جھوٹا شاعر ، غیب بین ، جادوگر اور شیطان کا قابض کہتے تھے ۔(۵)

اس کے رد کیے جانے پر آخر کار محمد نے اپنے ابتدائی لوگوں کو جہاد لڑنے کا حکم دیا ابن عاشق نے اس آبوہوا کے محور کو دوبارہ شمار کیا ۔

جب قریش اُسکے متعلق باتیں کر رہے تھے اور اللہ کے رسول اُن کی جانب بڑھے اور کالے پتھر کو چُوما تب وہ اُن کے پاس سے گزرا اور اُس نے اُس معبد (خانہ کعبہ) کے گرد چکر لگائے۔

جیسے ہی وہ اُن کے پاس سے گزرا اُنہوں نے اُس کے بارے میں کُچھ ناحق باتیں کہیں ۔ یہ میں اُسکے تاثرات دیکھ سکتا تھا ۔ وہ آگے بڑھا اور دوبارہ پھر اُن کے پاس سے گزرا اور دوسری دفعہ پھر انہوں نے ایسی ہی باتیں کیں ۔ تب وہ تیسری دفعہ اُن کے پاس سے گزرا اور انھیں دوبارہ پھر ایسا ہی کیا ۔ وہ رُک گیا اور فرمایا ‘‘ اے قریش کیا تم مجھے سُنو گے؟ اس کے وسیلہ سے جس کے ہاتھوں میں میری جان ہے میں تم کو ذبح کرونگا۔’’(۶)

بڑی دلچسپ بات ہے ، محمد قریش کو ذبح کرنے کی ثبوت کرنے سے پہلے اُس نے اپنے چاند دیوتا اللہ کو چُوما تھا ۔ کیا محمد اپنے ذاتی بت کے رابطے سے اپنے نقطہ اعتبار سے شیطانی تاثیروں کی آمیزیش پر تکیہ کر رہا تھا۔ کیا اُس نے شیطانی چاند دیوتا اللہ کے لیے روحانی درقازہ کھولا تھا؟ ظاہر تو یہی ہوتا ہے۔

تقریباً ایک سال کے بعد ۶۲۲ء میں ہوا تھا ۔ جب محمد نے اس وحی کا ثبوت دیا جس میں یہ اسلام کے پیروکاروں کے لیے یہ بیان تھا کہ وہ اُن کے خلاف اپنے دفاع کے لیے جنگ کریں جو اُن کو نقصان پہنچانتے ہیں (۷)

ممکن طور پر قرآن کی آیات پر اُس شخص کے خلاف جہاد کا حکم دیتی ہیں وہ جو اسلام کو قبول نہیں کرتا، محمد کی اپنی ذاتی جہاد کی صفت ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے ابن عمر سے روایت ہے ۔‘‘اللہ کے رسول نے فرمایا مجھے اللہ نے حکم دیا ہے کہ اُن لوگوں کے خلاف جہاد کرو جب تک وہ اس بات کی تصدیق نہیں کر دیے کہ دنیا میں کوئی خُدا (دیوتا) نہیں ہے۔ سوائے اللہ کے اور محمد اللہ کے رسول ہیں نماز پڑھو اور زکوۃ دو اِس لیے اگر وہ یہ سب کُچھ کرتے ہیں تو اُنکیہ زندگیاں بچ جائیں گی اور اُنکی جائدایں اسلامی قانون کے مطابق ہونگی اور اُنکا شمار اللہ ہی کرے گا۔ (۸)

ایک اور اسی طرح کی حدیث ہے ۔ اُنس بن مُلک بیان کرتے ہیں کہ ‘‘اللہ کے رسول نے فرمایا مجھے حکم ہے کہ میں لوگوں کے خلاف لڑوں جب تک وہ یہ نہیں کہتے ؛ کہ دُنیا میں کوئی خُدا نہین ہے سوائے اللہ کے ؛ اگر وہ یہ کہتے ہیں ؛ اور ہماری طرح ہمارے قبیلے کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور قربانی میں جس طرح ہم قُربانی کرتے ہیں ۔ تو اُن کا خُون اُنکی جائیدادیں ہمارے لئے واجب تعظیم ہیں اور ہم اِن میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے سوائے قانون کے اور اُن کا شمار اللہ کے ساتھ ہو گا۔(۹)

 حدیث کی گواہی اس کو بلور کی طرح واضع کر دیتی ہے۔ جو کوئی بھی اسلام کی مخالفت کرے گا وہ محمد کے غضب کا سامنا کرے گا۔نتیجے کے طور اسلامی تاریخ کے مطابق، دیناکی فتح اور مذہب میں تبدیل کرنے کے لیے ہتھیار کا اور تلوار کا استعمال کیا گیا۔حدیث جہاد کی اہمیت کو بیان کرتی ہے ۔ابو حریرہ سے روایت ہے : کہ اللہ کا رسول سے پوچھا گیاکہ ‘‘سب سے بہتر کام کیا ہے؟‘‘آپ نے جواب دیا: ‘‘اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان رکھنا ’’ سوال نے پھر پاچھا۔‘‘اگلی نیکی کیا ہے؟ آپ نے جواب دیا۔ اللہ کی خاطر مذہبی جنگ میں حصہ لینا (یعنی جہاد کرنا)’’ (۱۰)

قرآن کے سارے پیراگراف بیان کرتے ہیں اور مسلمانوں کو کافروں کو مارنے کا حکم دیتے ہیں ۔ آئیں ہم اُن کے بارے میں جانیں وہ جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں۔ وہ جو اس دنیا میں اپنی زندگی دوسروں کے لیے بیچتے ہیں وہ جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اللہ کی راہ میں لڑنا یا فاتح ہونا تو وہ ااُسے بڑا وسیع اعزاز دے گا اُن کے لیے جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور وہ جو بتوں کی راہ مین لڑنے کو نہیں جاتے ہیں ۔ اِس لیے جنگ کریں شیطان کے حصہ کو ختم کرنے کے لیے جنگ کریں ۔(قرآن ۴ : ۷۴ ۔ ۷۶)

کیسے کِسی پر قرآن یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ جو اللہ کو نہیں مانتے حقیقت میں وہ شیطان کے خادم ہیں ۔وہ تمام جو محمد سے رضامند نہیں ہیں یا اُس کے مخالف مار دیے گئے تھے۔ یہ سورۃ کی پیروی کرنے کی تشریح بیان کی گئی ہے۔

میں لوگوں کے دِلوں میں خوف بھر دونگا وہ جو محمد کو نہیں جانتے۔

اُن کی گردنوں کو کاٹ دوں گا اُن کی ہر ایک انگلی کو کاٹ دونگا جو اُسکی طرف اُٹھے گی۔کیانکہ یہ اِس لیے ہے کہ وہ اللہ اور اُس کے رُسول کے مخالف ہیں اللہ اُن کو سزا دے گا۔(قرآن ۸ : ۱۲ ۔ ۱۳)

موت کی دھمکی میں آکر بہت سارے محمد کے دشمنوں کو جبراً اسلام میں تبدیل کیا گیا تھا۔

مسلمان تاریخ نگار تیاری ان واقعات کا دوبارہ شمارا کیا ہے اللہ کے رُسول نے خالد بن ولید کو تاجری میں بھیجا کہ وہ اُن کو اسلام کی دعوت دے اس سے پہلے کہ وہ اُن سے جنگ کریں تین دن میں اسلام قبول کر لیں ۔ اگر وہ اُسکو ردِعمل دینا چاہیں(اسلام کو قبول کرنے کے ساتھ ) تو وہ اُن کو بھی قُبول کرے گااگر وہ انکار کریں گے تو وہ اُن کے ساتھ لڑائی کرے گا (۱۱)

بعد میں خالدنے اُن کو محمد کے سامنے پیش کیا اور اللہ کے نبی نے فرمایا: کیا مجھے خالد بن ولید نے یہ نہیں لکھا تھا ۔ کہ تم نے ہتھیار ڈال دیئے تھے لڑائی نہیں کی تھی ۔میں آپ کے سروں کو آپ کے قدموں تلے کر دوں گا۔(۱۲) اگر وہ سچے دِل سے ایمان نہ لا سکیں۔

محمد نے آہستگی سے اُن کے معاہدے کو اور اقرار کو قبول کیا تلوار کے ذریعے سے بشارت دیتا بائبل کی نئے عہدنامے کی تعلیمات سے بہت مختلف ہے۔جب ایتھوپیا کے خواچہ ایک مسیحی مبشر فلپ سے پوچھا گیا آپ اُسے بپتسمے کے ذریعے سے بچا سکتے ہیں ۔ فلپ نے جواب دیا ۔ پس اگر تو پورے دِلوجان سے ایمان لائے۔(اعمال ۸: ۳۷) سچے مسیحی کلام مقدس کی بشارت کرتے وقت کِسی کو دھمکی نہیں دیتے۔

تاریخی طور پر یسوع نے اور ابتدائی کلیسیاء نے تبدیلیکے لیے کِسی کو مجبور نہیں کیا۔ یہ بعد میں کلیسیاء کی تاریخ میں سیاست کی وجہ سے داخل ہوئی اور دولت کی چڑیا کے طور پر کلیسیاء میں شامل ہو گیا تھا۔ غلط کلیسیائی راہنماؤں نے مسیحیت میں تبدیل ہونے کے لیے لوگوں کو مجبور کیا تھا اس کے باوجود اسلام کی مذہبی پالیسی کے محمد نے غلط چاند دیوتا اللہ کو قبول کرنے کے لیے لوگوں کو مجبور کیا ۔قرآن کے اس حکم کو رد نہیں کیا گیا تھا۔ بالآخر دوسری طرف عرب میں محمد کی فتح کی منزل کے لیے وسعت پیدا ہوئی۔ اُس نے ایک ہرکولس کو بھیجا جو ایک بازنطینی کی طاقتور حکمران تھا اور ہمیں لکھا تھا، ‘‘ میں تم کو اسلام کو قبول کرنے کی دعوت دیتا ہوں اگر تم مسلمان بن جاؤ گے تو تم بچ جاؤ گے۔’’ (۱۳) محمد کا یہ آخری اعلان تمام دنیا کے لیے تھا ۔ اس سے مقدس جنگ یا پھر قتلوغارت ہوتی ہے، ‘‘ اور اُن کے ساتھ اتنی اذیت ، جب تک وہ مر نہ جائیں اور مذہب صرف اللہ کا مذہب ہے۔(قرآن ۸:۳۹) اگر پھر بھی جنگ یا قتل کرنا ضروری ہو تو کرو۔ چاند دیوتا اللہ نے محمد کے مقصد وسعت دی ہے اللہ نے پوری دنیا کو اسلام کے مذہب کا مطیع کر دیا ہے۔قرآن واضع طور پر اقرار کرتا ہے کہ وہ جو اسلام کو قبول نہیں کرتا اُن پر تشدد کیا جائے گا یا پھر مار دیا جاے گا۔

صرف اُن لوگوں کے لیے یہ اعزاز ہے وہ جو اللہ کے لیے اور اُس کے رُسول کے خلاف لڑتے ہیں ۔ وہ مار دیے جائیں گے یا پھر مصلوب کیے جائیں گے یا اُن ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں گے یا زمین سے خارج کر دیے جائیں گے۔(القرآن ۵ : ۳۳)

ایک دوسری سورۃ بیان کرتی ہے۔

جب تُم لوگوں سے جنگ کرتے ہو وہ جو ایمان نہیں رکھتے تو اُن کی گردنوں کو اُڑا دو ۔ جب تک وہ راہ ِ راستہ پر نہیں آجاتے۔ اور تیزی سے اپنے میں مِلا لینا۔ اُسکے بعد اُن پر رحم کرنا یا چھوڑ دینا اور جنگ اس بوجھ کو کم کرتی ہے۔ (قرآن ۴۷ : ۴) اُن کے ساتھ متواتر دولت کے وعدے کی محمد اپنے پیروکاروں کو تحریک دیتا ہے کہ اللہ کا وعدہ ہے کہ جو لوٹ کا مال ہے ۔ تم اپنے قبضے میں کر لو گے (القرآن ۴۸ : ۲۰ ) قرآن قانونی طور پر اجازت دیتا ہے کہ کِسی کی بھی جائیداد وہ جو اسلام کو قبول نہیں کرتا لوٹ لی جائیگی یا چھین لی جائیگی۔ اکثر محمد خفیہاللہ سے لوٹ مار کے مال کے لیے یا غلام لڑکیوں کے لیے حملہ کرتا تھا ۔ کیا محمد چور یا ایک عام ڈاکو تھا ۔ تاریخی ثبوت کے مطابق جواب صاف ہے کہ وہ بے گناہ ہے۔

یہودیوں اور مسیحیوں کے خلاف جہاد

اگرچہ بہت سارے مسلملان اس دعوے کا انکار کرتے ہیں کہ قرآن تمام مذہبی ایمان کے بے دینیوں (کافروں) کو مارنے کا دعویٰ نہیں کرتا۔ اس میں انسانی فطرت کا مطالعہ کرنے والے بھی شامل تھے وہ اپنے مذہب سے برگشتہ ہیں وہ اللہ اور اُسکو حکموں کو نہیں  مانتے وہ جھوٹا کہتے ہیں ۔ قرآن واضع طور پر مسلمانوں کو یہودیوں اور مسیحیوں کو قتل کرنے کے لیے اُکساتا ہے یا کوئی دوسرے مذاہب یا دوسرے مذہبی طور پر ممانعت کرنے والے وہ جو اسلام کے تقاضوں کو رد کرتے ہیں ۔ اُن کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے۔

اُن کے خلاف جنگ کرنا جو اللہ کے دیے گئے احکام پر عمل نہیں کرتے اور نہ آخری دن پر اور وہ اللہ اور اُسکے رُسول کی مخالفت کرتے ہیں (رد کرتے ہیں ) یہ ایک مذہبی سچائی نہیں ہے جب تک وہ جلدی سے اپنا نذرانہ نہیں دیتے ۔ وہ شخص نیچے کر دیا جائیگا۔ (قرآن ۹ : ۲۹ )

بڑے ٹیکسوں کو ادا کرنا ۔ ایسے دکھائی دیتا ہے ، کہ جیسے یہودیوں اور مسیحیوں کو موت سے بچانے کا ذریعہ ہو ۔ کیا اس طرح کا تصور پاک خُدا کرتا ہے یا سادہ طور پر محمد کے لالچ کے وہم کا غلبہ ہے اور نفس پرستی کی خواہش معصوم لوگوں کو قتل کرواتی ہے؟

یہ ساری دُنیا اسلامی ریاست کی پالیسی ہے کہ لوگ بھاری ٹیکس ادا کرنے کے لیے مجبور ہیں۔

یہ نمایاں طور پر دیکھائی دیتا ہے کہ محمد اپنے مذہب کو دوسرے بڑے مذاہب سے بہتر قرار دیتا ہے ۔ جس میں خانہ بدوش شامل ہیں۔ یہودی اور مسیحی فرقے کو بدعت قرار دیتا ہے ۔

وہ جو عرب کی سرزمین پر گُھس گئے تھے ، اُسکی ملی جُلی صحیفوں کی تعلیم جو اُسکی کم عقلی کی وجہ سے تھھی اور بھروسہ کو زبانی منتقل کیا اور مختلف قسم کی رسومات کو اس میں شامل کیا ۔ اس سچائی کو درجِ ذیل سورۃ ثابت کرتی ہے۔

اور ایک یہودی کہتا ہے ، عزرا اللہ کا بیٹا ہے ۔ اور ایک مسیحی کہتا ہے کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے یہ وہ اپنے منہ سے کہہ رہے تھے ، ۔۔۔ اللہ اُن کے خلاف خود ہی لڑے وہ کتنے گُمراہ ہیں ۔ انہوں نے اسے آقا کے طور پر لیا ہے اس کے علاوہ اللہ اُنکا ربی ہے اور اُنکی عبادت ہے اور مسیح مریم کا بیٹا ہے ۔ جبکہ وہ ایک ہی خُدا کی عبادت کرتے تھے (القرآن ۹ : ۳۰ ۔ ۳۱ ) اگر محمد صیحح طور پر جبرائیل فرشتے کو سُن لیتا تو وہ بائبل کے ابتداء کے صحیفوں کے ماضی کے واقعات کو سمجھنے میں کبھی غلطی نہ کرتا ۔

محمد کے مطابق مسیحیوں کا ایمان غلط ہے وہ یسوع کو ایک خُدا کے علاوہ دوسرے خُدا کی تعلیم دیتے ہیں باقی خاص بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو مسیحیت کو قبول کرنے سے روکا جائے تاہم حقیقت یہ ہے کہ سچے مسیحی اصل میں ایک خُدا کی ہی عبادت کرتے ہیں وہ جو اپنے آپ کا تین شخصیات کے ظہور کا انکشاف ایک ہی وقت میں کرتا ہے ۔لیکن لغوی طور پر یہ تینوں الگ الگ خُدا نہیں ہیں اس لیے کُچھ مسیحی اور مسلمان اس تصور کو سمجھنے میں غلطی کر جاتے ہیں وہ ہمیشہ سے قائم ہے اور اُسکی ایک پوشیدہ روح لوگاس ہے جس نے بذاتِ خود جسم لیا اور وہ لوگاس ظاہر ہوا یہ وہی لوگاس تھا جس کے بارے میں یوحنا رُسول لکھتا ہے کہ تمام چیزیں اُسکے وسیلہ سے پیدا ہوئیں : ابتداء میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا اور یہی ابتداء میں خُدا کا ساتھ تھا ۔

سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہوئیں اور جو کُچھ بھی پیدا ہوا اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پیدا نہیں ہوئی۔ اُس میں زندگی تھی اور وہ زندگی آدمیوں کا نور تھی ۔ (یوحنا ۱ : ۱۔۹ ) اس کے بارے میں خاص فقرہ یہ تھا کہ ‘‘ کلام خُدا تھا ’’ خُدا کی واحدایت کا سمجھنا بہت ضروری ہے یہاں پر تین خُدا نہیں ہیں ۔ بہت سارے دوسرے لوگ ایسا خیال کرتے ہیں اسی طرح نیا عہدنامہ دعویٰ کرتا ہے کہ یسوع خُدا کی پوشیدہ صورت ہے کیونکہ اسی میں سب چیزیں پیدا کیں گئیں آسمان کی ہوں یا زمین کی دیکھی ہوں یا اندیکھی تخت ہوں یا ریاستیں یا حکومتیں یا اختیارات سب چیزیں اُسی کے وسیلہ سے اُسی کے واسطے پیدا ہوتی ہیں وہ سب چیزوں سے پہلے ہے ۔اور اُسی میں سب چیزیں قائم رہتی ہیں۔(کلیسیوں ۱ : ۱۶۔۱۷)

یہ آیات ثابت کرتی ہیں کہ کائنات کو تخلیق کرنے والا اصل میں یسوع ہے۔ خُدا کی الوہیت کی ساری معموری اُس میں سکونت کرتی ہے ، مزید اسکے جب شاگرد فلپس نے یسوع سے کہا کہ وہ اُنہیں باپ کو دیکھائے یسوع نے جواب دیا ‘‘ اے فلپس ! اتنی مدت سے تمہارے ساتھ ہوں کیا تو مجھے نہیں جانتا ؟ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا ۔۔۔ کیا یقین نہیں کرتا کہ جس باپ میں میں ہوں اور باپ مجھ میں ہے ۔’’(یوحنا ۱۴ : ۹۔ ۱۱) کائنات کو پیدا کرنے والا ایک ہی ہے اور وہ ایک خُدا ہے ۔ محمد کے الہام اُسکے اپنے ذاتی تجربے پر انحصار کرتے ہیں۔ مسیحیوں کو ایک بدعت قرار دیتا ہے ۔ جو عرب میں رہتے تھے اور وہ اُن کو راہِ راست کے طریقے سے بیان کرتا ہے ۔

قرآن مریم کی اور مقدسوں کے بتوں کی پرستش کو روکتا ہے۔(القرآن ۵ : ۱۱۶ )

ایک دفعہ پھر محمد مسیحیوں کے اس قابلِ قبول ایمان کو قبول کرتا ہے اگرچہ پہلی صدی عیسوی میں اس قسم کی مشق کرنے کا کوئی حصہ نہیں تھا یا بائبل کی بنیاد پر یہودی اور مسیحی ہیں ۔ اور نہ ہی اُنکا مقدس پر عقیدہ ہے

محمد کے دور میں مسیحیوں نے بہت بڑی مصیبت کا سامنا کیا تھا ۔ بہت سارے غلط عقائد اور بہت ساری غلط رسومات کلیسیاء میں شامل ہو گی تھی ۔مان لیا گیا تھا کہ محمد سچا نبی تھا وہ اس بات پر جانا گیا تھا کہ کیا اُسکی تعلیمات کی ابتداء یہودیوں اور مسیحیوں کے صحیفوں کی تعلیمات کے مطابق تھیں اور نہ کہ متبرک ادارے سے لی گئی تھی ۔ بجائے اس کے کہ ان بدعتوں کے ایمان پر یقین کرے۔ اُسے مسیحیت اور اپنے ذاتی خیالات کو نمانہ بنایا تھا اور اُسکا مذہب اس کے مطابق تھا۔ محمد اپنے مرنے کے بستر پر تھا اُسکا چہرہ بار بار پسینے سے صاف کیا جا رہا تھا ، اُسے نفرت بھرے لہجے میں فرمایا کہ ‘‘ اللہ مسیحیوں اور یہودیوں پر لعنت کرے کیونکہ وہ اپنے نبی کی قبر پر جا کر اُسکی پرستش کرتے ہیں، ’’ (۱۴) ایک دفعہ پھر یہ مشق مسیحیوں اور یہودیوں میں سچی ثابت نہیں ہوتی تھی ۔ بائبل مقدس نبیوں اور مقدسوں کی پرستش کرنے سے منع کرتی ہے ۔

لیکن یہودیوں اور مسیحیوں کو یادگاری کے طور پر عبادت کے لیے اُنکی جگہوں پر عمارت بنانا ، منع نہیں کیا تھا۔ اُن کی یادگاری کے لیے جو اُن سے فائق تھے ۔ اُن کے مضبوط ایمان کی رسم ہے کہ وہ خُدا کی عبات کریں کلام مقدس آدم کی پرستش کرنے سے منع کرتا ہے جسکی جبلت میں گناہ شامل ہو گیا تھا ۔ ایسے ہی نبیوں اور مقدسوں ، مقدس مریم کی پرستش یا دوسرے لوگ جو آدم سے پیدا ہوئے ہیں پرستش کرنے سے منع کرتا ہے اسی طرح یہ سچ ہے کہ فرشتوں اور دوسری پیدا کردہ مخلوق کی پرستش کرنا منع ہے ۔ سوائے یسوع مسیح کے جس کی فطرت میں گناہ شامل نہیں تھا ۔ یا وہ صرف عورت کی روحانی فطرت سے تھا ۔ مقدس مریم نے صرف اپنا رحم یسوع مسیح کو دیا تھا اور یسوع مسیح آسمانی شخصیت تھی۔ آسمانی روٹی کی ‘‘طرح’’ (یوحنا ۶ : ۵۸ )

کُچھ لوگ بحث کر سکتے ہیں کہ یسوع نے اپنی اصل آزمائش برداشت کرنے کے لیے گناہ آلودہ فطرت اختیار کی تھی ۔ دوسرے تمام انسانوں کی طرح یقیناً اُس حکم کی انسانیت کے ساتھ پہچان کروائی تھی ۔ تاہم پہلا آدم اس طرح آزمائش میں نہیں پڑا تھا ۔ حتی بھر میں اُسکی گناہ آلودہ فطرت کی وجہ سے آزمائش ہوئی تھی؟ کیا یسوع دوسرا انسان نہیں ہے؟ منطق کے طور پر اُس نے  آزمائش برداشت کیتھی ۔ اگرچہ وہ مکمل انسان تھا ۔ آدم اپنے جسم کی خواہش کی وجہ سے آزمایا گیا تھا ۔ آنکھوں کی خواہش ، زندگی کی شیخی سے ۔ کیا یسوع بھی اسی طرح آزمایا گیا تھا ۔ مزید اس کے یسوع میں بھی انسانی خُدان تھا جو بے عیب تھا ۔ اس کا خون انسانی گناہوں کی قُربانی کے کفارے کے لیے بے عیب تھا ۔ غزوہ خندق کی لڑائی کے بعد ، فرض کریں جبرائیل فرشتہ محمد پر ظاہر ہوا ہوتا تو یقیناً یہودیوں کو سزا مِلی ہوتی۔

حدیث بیان کرتی ہے۔

جب اللہ کے رُسول غزوہ خندق کی لڑائی کے بعد واپس لوٹے ۔ اُس نے اپنے بازو نیچے کیے اور غسل کیا ۔ تب جبرائیل حاضر ہوئے ، اُنکا سر مٹی سے ڈھانپا ہوا تھا ۔ آپ کے پاس آئے اور فرمایا۔ آپ اپنے بازو نیچے کر لیں ! اللہ کا حکم ہے ۔ میں اپنے بازو تب تک نیچے نہیں کروں گا ، اللہ کے رسول نے فرمایا ۔ اب آپ کہاں جا رہے ہیں ؟

جبرائیل نے فرمایا یہی وہ رستہ ہے ، اسی نقطے کے تحت بنی قریش کے قبیلے کی طرف بڑھا جائے تو اللہ کے رُسول قریش کی جانب گئے ۔ (۱۵)

یہ کُچھ مشکوک سا دیکھائی دیتا ہے کہ جبرائیل کا پورا سرمئی سے بھرا ہوا تھا اور وہ صرف بدلہ لینے کو اُکسانے کے لیے ۔

کلامِ مقدس کے مقدس کے مطابق کہ فرشتے صاف و شفاف دیکھائی دیتے تھے ، وہ بھی مکاشفے دینے کے لیے نظر آتے تھے ، یہ تو محمد پر واضع طور پر ظہور تھا وہ صرف کِسی ناپاک روح کا تھا اور قتل کرنے کی کھوج لگارہا تھا۔ جب مسلمانوں کی فوج یہودیوں کے قبیلے بنی قریعنہ کے پاس آئی تو محمد نے اُنکے خلاف لعن طعن شروع کر دی ، انکو حقیر و ذلیل کیا اور اُن پر لعنت کی ۔ رابرٹ سپنسر، ‘‘محمد کی سچائی میں ’’ جو دنیا کے سب سے زیادہ تنگ نظر مذہب ہیں اُسکے بانی ہیں لکھتے ہیں۔

محمد اُنکی اصطلاح بیان کرتا ہے کہ اسلامی جہادیوں کے لیے خاندان کا بنانا ایک محاورہ بن چُکا ہے جب آج یہودیوں کی زبان بولی جا رہی ہے کہ تو اُسکے رستے بھی قرآن کے اندر بنائے گئے تھے ۔ آپ بنرر کے بھائی ہو ۔ خُدا تم کو بے عزت کر چُکا ہے اور خُدا اپنا انتقام تم سے لے گا ۔’’ قرآن میں یہ تین جگہوں پر بیان ہے ۔ (۲ : ۶۲ ۔ ۶۵ ؛ ۵ : ۵۹ ۔ ۶۰ ؛ اور ۷ : ۱۶۶ ) کہ اللہ یہودیوں کو سبت کے دن بندروں اور سوروں میں تبدیل کر دے گا ۔ (۱۶)

یہ دعویٰ یہودیوں کے خلاف نہیں اور یہ ابھی تک مسجدوں کے امام پوری دُنیا میں دُہراتے ہیں ۔ یہودیوں کا فیصلہ بنوں قریعنہ بڑے ہیبت ناک طریقے سے محمد پر جپھٹا تھا، اس خون آلودہ واقعہ کو ابنِ عشق ایک حدیث میں بیان کرتے ہیں کہ تب رُسول مدینہ کی مارکیٹ میں گیا اور اُس کے چوگرد ایک خندق کھودی تب اُس نے اُن کو اُس میں ڈالا ، اور اُن کے سروں کو اُڑا دیا اپنی اپنی خندق میں جیسے اُس نے اُنکو گھان کی روٹیوں کی طرح باہر پھینک دیا تھا وہ تعداد میں ۷۰۰ یا ۶۰۰ تھے ، اگرچہ کُچھ اُن کی زیادہ سے زیادہ تعداد ۸۰۰ یا ۹۰۰ بتاتے ہیں وہ رُسول کے کہنے کے مطابق جتھوں میں تھے ۔ انہوں نے کاپ سے پوچھا کہ وہ کیا سوچتا تھا کہ اُن کے ساتھ کیا کیا جائے؟ اُسے جواب دیا ۔ ‘‘ کیا تم نہیں سمجھو گے ’’؟ کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ جو طلب کرنے والا ہے وہ کبھی نہیں اُکتاتا اور وہ جو چلے جاتے ہیں وہ کبھی لوٹ کر نہیں آتے؟ اللہ کے پاس ، یہ موت تھی ۔ محمد نے یہ اُن کے لیے آخری وقت ٹھہرایا تھا ۔ (۱۷) ایک دوسری حدیث اس کی مزید تصیح کرتی ہے ۔ کہ کیسے کیسے یہودی مرد خندق کے کنارے پر بیٹھے تھے اور کیسے انکار ایک ایک کا سر اور اُن کی لاشیں اس میں پھینکی گئیں تھیں ۔ عورتیں اور بچے غلاموں کی طرح بیچے جاتے تھے ۔ غلاموں کی تجارت کا منافع اور یہودی قبیلے کی ملکیت جنگ کے لوٹ کے مال کے طور پر مسلمانوں میں تقسیم کی گئی تھی ۔ (۱۸)

مختصراً ، جب محمد مدینہ میں داخل ہوا تو یہودیوں نے اُس کے نئے مذہب کی پیروی کرنے سے انکار کیا ، اُس کے نتیجے میں انہوں نے اُن کے ساتھ لڑائی کی ۔ اُس نے جلدی ہی یہودی قبیلے کو ہستی کی انتہا تک جلا وطن کر دیا اور ممکن طور پر اُنکا قتلِ عام کیا ۔ اس کے علاوہ محمد نے بزاتِ خود ان جنگوں میں حصہ لیا تھا ۔ جو اُس نے یہودیوں کے درمیان لڑائی کی تھی۔ یہ یہودی تقریباً ۶۰۰ یا ۹۰۰ مردوں کی تعداد میں تھے ۔ (بنوں قریعنہ ) (۱۹) مزید اس کے کہ تمام یہودیوں کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا گیا تھا ان میں یہودیوں کا قبیلہ قینوقہ بھی شامل تھا ۔ عبداللہ بن سلام کا قبیلہ اور یہودیوں کا بنوں ہیرا تھا ( حریرہ ) کا قبیلہ بھی شامل تھا ۔(۲۰)

دفاعی خواہش کی شدت کی وجہ سے اور یہودیوں سے دھوکے کے خلاف ، محمد کو ایک نیا اور مفید الہام ہوا تھا کہ ‘‘اگر تو کسی گروپ کے دغے سے خوف زدہ ہے تو اُن کو واپس پھینک دو، یہ ایک مساوی اصطلاح ہو گی : اللہ دھوکے بازوں سے پیار نہیں کرتا۔’’ (القرآن ۸ : ۵۸ ) اس الہام کو قبول کرنے کے بعد محمد نے یہودی قبیلے بنو قینوقہ سے آگے بڑھ کے بات کی اور فرمایا کہ ان کی جائیدادیں چھین لو ، اور ان کو مدینہ سے بدر کر دو ۔(۲۱)

۶۲۸ء میں محمد نے دوبارہ دس سالہ صُلح کے معاہدے کو توڑ دیا یا ‘‘ صُلح حدیبیہ کو ’’ توڑ دیا ۔ اُسے خُود غرضی سے شر کشی کی جو اُس قریش کے ساتھ صُلح حدیبیہ کیا تھا ۔ اُسے توڑ دیا اور بعد میں اللہ سے ایک نیا الہام چلا اس فیصلے کی منظوری کے لیے اپنا الہام مِلا تھا ۔ مسلمان اس اصول پر تکیہ کرتے ہیں کہ اسلام کا اس میں جو کُچھ بھی فائدہ تھا وہ اچھا تھا ، اور جس سے اسلام منع کرتا تھا وہ بُرا تھا۔(۲۲) محمد کے وقت میں آپریشن کرنے کا طریقہ یہ استعمال ہوا ، یہ صلیبی جنگ کے ذریعے سے تھا اور یہ آج بھی موجود ہے ۔ اُن میں وہ جو اسلامی گروپوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یا گورنمنٹ ان کا راز ظاہر کرنے کے لیے اُنیں تلاش کرنی ہے اسی اصولوں کے تحت تلاش کرتی ہے اور ان واقعات کو تاریخ میں بیان کیا جانا ہے ۔

اُس نے اپنے ثبوت کے دعوؤں کو عرض کرنے سے دریغ کیا ۔محمد نے یہودیوں اور مسیحیوں سے بد زبانی کو جاری رکھا ، جِس طرح سورۃ میں بیان کیا گیا ہے ۔ قرآن ۹۸ : ۶ کو دیکھو وہ جو صحیفوں کے کو اور بتوں کو نہیں مانتے وہ دوزخ کی آگ میں پھینکے جائیں گے ۔ وہ کائنات کی سب سے بد تر تخلیق ہے۔’’ آپ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ۔ یہودیوں اور مسیحیوں کی دوستی کو قبول نہیں کرتے ۔۔۔ دیکھو اللہ غلط کرنے کے لیے ہدایت نہیں دیتا۔(القرآن ۵ : ۵۱ ) محمد نے یہ کہنا جاری رکھا ، اسلام کی اس تجرد پسند فطرت کو مزید سورۃ ۵:۶۵ میں بیان کیا گیا ہے۔

اگر صحیفے کے لوگ ہی ایمان رکھیں کہ اور برائی کو تو یقیناً ہمیں اُن کے گناہوں کو معاف کر دینا چاہیے ۔ اور یقیناً ہمیں اُن کو خُوبصورت باغ میں بھیج دینا چاہیے۔

محمد خاص طور پر یہودیوں سے نفرت کرتا تھا۔ وہ یہودیوں سے انتقام کے لیے موت کے جرمانے کی ہدایت دیتا تھا عبداللہ بن عُمر ایک حدیث میں روایت بیان کرتے ہیں ۔

میں اللہ کے رسول کو کہتے ہوئے سُنا ۔ کہ یہودی آپ کے ساتھ لڑیں گے اور آپ کو اُن پر فتح ملے گی اس لیے کہ ایک پتھر کہے گا اے مسلمان کہ یہودی میرے پیچھے ہے ؛ اس کو مار دو! (۲۳)

اپنے مرگ کے بستر پر محمد نے حکم دیا کہ تمام یہودیوں اور مسیحیوں کو عرب سے خارج کر دیا جائے سپنسرمحمد کے آخری الفاظ کی مطابقت کا شمار کرتا ہے۔

‘‘ میں یہودیوں اور مسیحیوں کو عرب کے جزیرے خارج کر دونگا ۔’’ اُس نے اپنے ساتھیوں کو بنایا میں کِسی ایک بھی نہیں رہنے دونگا سوائے مسلمانوں کے اُس نے صرف مرگ کے بستر پر ایک حکم دیا تھا ۔ آج سعودی عرب کی سلطنت کے مزدور سرگرمی سے محمد کی خواہشات کو پورا کرنے اور عزت دینے پر پورے غوروفکر سے کام کر رہے ہیں۔ (۲۴)

اسلام کی روایات کے مطابق ۔آخری دِنوں میں مسلمان یہودیوں کے خلاف لڑیں گے مسلمان اُن کو ماریں گے جب تک یہودی اپنے آپ کو اُن پتھروں کے پیچھے نہ چھپا لیں گے یا درختوں کے پیچھے تب پتھر اور درخت کہیں گے : دے مسلمان یا اللہ کے نوکر کہ میرے پیچھے ایک یہودی چُھپا ہوا آجوؤ اور اُسے مار دو۔’’(۲۵)

محمد اور قرآن اور اسلام حد سے زیادہ مسیحیوں اور یہودیوں کے خلاف ہیں (مخالفِ مسیحیت، مخالفِ یہودیت ) جب ایک مسلمان اپنے مذہب کا دعویٰ !دن اور تحمل سے کرتا ہے تو وہ اپنی مقدس تحرورں کو رد کرتے ہیں ۔ سادہ طور پر ریا کاری کرتے ہیں ۔ کُچھ صورتوں میں مسلمان وہ ہے جو قتل وغارت کو نظر اندازی نہیں کرتا ، لیکن وہ اسلامی مومن نہیں ہیں ۔ کیونکہ وہ قرآن کی بنیادی تعلیمات کا انکار کر رہا ہے ۔ مسلمانوں نے اپنے دشمنوں کے ساتھ اللہ کی خاطر دھوکا دینا اور جھوٹ بولنا سیکھا ہے کوئی بھی جو اسلامی شریعت کی مخالفت اُسے بغیر رحم کے تباہ کر دینا چاہیے ۔ یہ ایک سیاسی اور جابرانہ جنگجوؤں کا مذہب ہے اور یہ مذہب اس کی پوری آزادی دیتا ہے۔

تاریخ میں اسلامی فتح

قدیم رسوم کا جہاد

محمد کا مقصد اور چاند دیوتا اللہ نے ہو سکتا ہے قرآن میں ایک آیت شمار کیا ہواور اُن سے تب تک لڑو جب تک ایذارسانی ختم نہ ہو جائے (قرآن ۸: ۳۹ )

بالکل تاریخ میں ، مسلمانوں کو اللہ کے نام میں فتح اور مالِ غنیمت مِلا ہو۔ فارا خان میں ، اسلام اور مذہب امریکہ کو مار رہے ہیں مودی آدم سے روایت ہے کہ ، محمد نے ہمیشہ ہمسایہ ملکوں پر ۲۷ حملوں میں راہنمائی کی اور ان میں ۹ حملوں میں وہ خود لڑے اور ہزاروں کو قتل کیا ۔ وضاحت میں اُس نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ کم سے کم ۴۷ حملے کریں تاکہ ہمسایہ ملکوں کی حکومت ختم ہو جائے۔(۲۶)

۲۵ سالوں میں محمد کے پیروکاروں نے شام کو ، ایران کو ، فلسطین کو اور مِصر کو فتح کر لیا تھا ۔ دو آدمی اس ابتدائی فتح کے ذمہ دار ہیں جو خلیفہ ابو بکر صدیق اور خالد بن ولید تھے ۔ ان دونوں نبی پیغمبر بہت عزت کرتے تھے ۔ اُس کے بعد کُچھ اور اسلامی قتل وغارت کی مثالیں نظر آتی ہیں ۔ ابو بکر نے خالد کو حکم دیا کہ ایراینوں کو فتح کرے۔ اور عراق کی بندر گاہ کو استعمال کرکے اُس نے اعراق کے جنرل حرمیض کو حکم دیا تھا کہ اسلامکو قبول کریں اور خاص ٹیکس کو ادا کریں جو جزیہ کہلاتا ہے ۔ یا اُس نے لڑائی کےانتخاب کے لیے کہا تھا۔ حرمیض نے اس تجویز کو رد کر دیا ۔ اُس نے ایرانیوں کو لوٹا اور ۱۵ جنگی ہتھیار پکڑ لیے گئے ۔ عراق کے بارڈر پر ابلیس کی جنگ کے دوران ۷۰،۰۰۰ لوگوں کو خالد نے مار دیا ،

اس وقت دُنیا کی آبادی میں لغزش کھانے والی تعداد تھی ۔

ایانالتمر ، عراق ، اُن میں ایک قلعے پر محاصرہ کر لیا تھا اس کے بعد خالد نے اُن تمام رہائشیوں کو مارنا شروع کر دیا جہنوں نے اسلام کو قبول کرنے کا انکار کیا تھا ۔ ابو بکر نے شام پر حملہ کرنے کا فیصلہ کیا اور یارمیک کی لڑائی میں ہزاروں لوگوں کو قتل کیا گیا تھا۔(۲۷)

اسلامی سلطنت کی فتح کے پیچھے کونسی قوت عمل کر رہی تھی؟ محمد نے خیال انکو دیا تھا کہ دُنیا کو اسلام کے قدموں تلے لاؤ اور اس مقدس فرمان کو نفع کے مقصد کے لیے متحد کرو۔ محمد نے ہمیشہ سے یہ وعدہ کیا تھا کہ جنگ میں لوٹا ہوا مال (مالِ غنیمت) اُن لوگوں کے لیے ہو گا جہنوں نے اس مقدس جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ محمد کے جانشین اور پہلے خلیفہ نے بازنطینی سے لوٹے ہوئے مال کا وعدہ کیا تھا ۔اسی طرح محمد کا داماد چوتھا خلیفہ تھا۔ علی ابن طالب ، ایک خیال سے ورغلایا اس سے پہلے کہ آپ جھوٹے ہوں یہ عراق کی زرخیز سرزمین ہے اور وہ اُنکے بڑے خیمے ہیں۔’’(۲۸)

تیسرا خلیفہ عثمان محمد کا دوسرا داماد ہے اس نے ان جنگوں سے بڑی دولت حاصل کی ہے ۔ کارش اس بات پر تبصرہ کرتے ہیں کہ اُس نے اپنے قریب القتل کے وقت جولائی ۶۵۵ ء میں اُس نے اپنے آپ کو ۱۵۰،۰۰۰ دینار کے قسمت کے جال میں پھنسایا۔ ایک ملین دینار کیش میں تھا اور ریاست کی رقم کی قدر ۲۰۰،۰۰۰ دینار تھی ۔ اُس نے اونٹو اور گھوڑوں بڑے جتھوں سے الگ تھے۔

اس کی قسمت کی دولت کا موازنہ محمد کے کُچھ قریبی ساتھیوں کی جمع کردہ فرضی دولت کے ساتھ تھا ۔ زبیر ابنِ اعوام اپنا کُچھ سرمایہ صرف کیا ۔ جسکی کُچھ رقم ۵۰ ملین درہم اور ۴۰۰،۰۰۰ دینار تھی وہ مدینہ و عراق اور مِصر میں بے شمار جائیداد کا مالک تھا ۔ طلحہ ابنِ عبداللہ ایک اسلام کے ابتدائی تبدیل لوگوں میں سے تھا ۔ جن کے ساتھ محمد نے جنت میں جانے کا وعدہ کیا تھا ۔ کُچھ اختیارات کے مطابق اُس ۲۰۰،۰۰۰ دینار اور ۲۔۲ ملین درہم کیس مین چھوڑے تھے۔ اس کی سلطنت میں ان کی قدر ۳۰ ملین درہم تھی۔ صرف اس کی اکیلے ہی عراق میں سرمایہ کاری تھی ۔ اور جسکی آمدنی ایک ہزار دینار ہر دن کی تھی۔(۲۹)

اسلامی اصولوں کے ساتھ بغداد میں منتقل ہوئی اس سے وسیع تجارت کے رستے کُھلے تھے اور یہ دور دراز سے وہاں پہنچے اور اسلامی معاشیات کی طاقت کو بڑھانے میں تبدیل ہو گی تھی ۔ یہ تمام نئی دولت اُن کے لیے خرچ کا باعث بھی بنی وہ جہنوں نے فتوعات کیں تھیں ۔مثال کے طور پر انہوں نے سونے کو نا بجھنے والی حوس کے طور پر حاصل کیا تھا۔ مسلمانوں کا لوٹا ہوا مال ِ غنیمت ان کے لیے تمام ذرائع تھا ۔

انہوں نے ایرانیوں کی جگہوں سے بہت بڑی رقم لوٹی تھی ۔ اور حتیٰ کہ انہوں نے مصر میں فرعون کے محل پر بھی حملہ کیا تھا ۔ مزید اسکے اسلامی منافع بخش غلام ، کالے مشرقی غلام جہنیں گرفتار کرکے عزیز بچوں کی طرح تجارت کرتے تھے ۔ ہزاروں کی تعداد میں لائے جاتے تھے اور ان کو نمک کے میدانوں ں مزدوروں کے طور پر بصرہ کے قریب کام کرانے پر مجبور کیا جاتا تھا ۔ ان کی کلاس کی طرح حاضری بولی جاتی تھی ۔ اُن خاندانوں سے غریبوں کی طرح برتاؤ کیا جاتا تھا۔ اور اُن کو تھوڑی خُوراک مہیا کی جاتی تھی ۔ حیران کن بات ہے کہ اسلامی پیروکار آج بھی افریقیوں کو مطیع کرتے ہیں اور اُن کو قابو کر کے غلاموں کی طرح تجارت کرتے ہیں ۔ (۳۰)

اسلامی خانہ بدوز لوگوں نے اپنی سلطنت کو وسعت دینا جاری رکھا ہوا ہے ۔ بالکل اس طرح قدیم دنیا کے متعلق جانا جاتا ہے ابتدائی آٹھ صوبوں میں ، اسلامی مملکت کے مرکزی ایشیاءکو فتح کر لیا تھا اور بڑا علاقہ انڈیا برصیغر ، مغربی چین کی ریاست ، اور بازنطینوں کے دارلخلافہ قسطنطنیہ پر قابض ہو گئے تھے اور شمالی ایفریقہ اور سپین پر بھی حملہ کر دیا تھا ۔ (۳۱) وضاحت میں جنوبی اٹلی او میڈیٹریرین کا جزیرہ (کورسیکا ، سائپرس ، سریٹ ، رہوڈیس ، مالٹا  اور سارڈینیہ ) اسلامی فوجوں نے فتح کر لیے تھے ۔

کارش محمد نے پیروکاروں کی تابعداری کا ایک بڑا دلچسپ تاریخی بیان کیا ہے ان پیروکاروں کو محمد پوری دنیا کو اللہ کے لیے محکوم بنانے کے لیے بُلاتا ہے۔

‘‘میں نے تمام مردوں کو اُس وقت لڑنے کا حککم دیا تھا ۔ جب تک وہ یہ نہ کہیں کہ دنیا میں کوئی خُدا نہیں ہے سوائے اللہ کے ۔۔۔ (نبی پاک )

محمد کا ظطبہ الوادع، مارچ ۶۳۲

‘‘ میں سمندر پار اُنکی سر زمین پر اُنکا تاقب کروں گا جب تک زمین کی سطح پر کوئی بھی شخص باقی نہ رہے جو اللہ کو نہ جانتا ہو ۔

صِلاح دین جنوری ۱۱۸۹ ء

‘‘ ہم پوری دُنیا میں اپنا انقلاب لائیں گے ۔۔۔ جب تک یہ آواز نہ آئے کہ دُنیا میں کوئی خُدا نہیں ہے سوائے اللہ کے ، اور محمد اللہ کے رُسول ہیں ۔ اور یہ گونج پوری دُنیا میں سُنائی دے گی ۔۔۔ عطااللہ کھومینی ۱۹۷۹ء۔‘‘ میں نے لوگوں کو حکمدیا کہ وہ اُس وقت لڑیں جب تک وہ یہ نہ کہہ دیں کہ دُنیا میں اللہ کے سواکوئی خُدا نہیں ہیں اور محمد اُس کے نبی ہیں۔’’

 اسامہ بن لاددبن نومبر ۲۰۰۱ (۳۲)

قستیطنطینہ کی جنگ

اسلامی لوگوں کے کرشن کے بتوں کو اُکھاڑا علاوہ ازاں مشرقی مسیحیوں کی حد بندی کی اور ہر اُس شخص کو ذبح کر دیا جاتا تھا وہ جو اللہ کو نہیں جانتا تھا ۔ ۷۰۵ ء میں مسلمانوں نے آرمیتی معزز مسیحیوں کو چرچ میں بند کر دیا تھا اور اُنکو جلا دیا اور وہ مر گئے ۔

اِن اسلامی حملوں کے دوران بہت سارے مسیحیوں اور یہودیوں کے خلاف قتلِ عام ہوا۔(۳۳)

بہت سارے تاریخ نگار قسطنطنیہ کے خلاف محصروں کی فتح پر (۶۷۸۔۶۷۴ اور ۷۱۷ ۔ ۷۱۸ ) ہو ئی ہوئی عزت دیتے ہیں اور اُسے تاریخ میں ایک بڑے تبدیل ہونے والے نقطے کے طور پر بیان کیا گیا ہے ، بازنطینی کے دارلخلافہ قسطنطنیہ کے طاقتور مسیحیوں نے اُس کے چوگرد بڑی مضبوطی سے قلعہ بندی کی تھی ۔ اُسکا دروازہ یورپ تھا اور ان کا آخری مقابلہ مشرقی اسلامی فوج کے خلاف تھا۔ (۳۴)

خلیفہ ماویہ نے باز نطینی فوج کو مِصر ، شام کو اور جتنے شمالی افریقہ کے ساتھ مُلک تھے شکست دی ۔ خلیفہ بہت بھاری آرمی ۵۰،۰۰۰ اسلامی جہادی بازنطینی کے دِل قسطنطنیہ میں لایا تھا ۔

یہ صرف ٹیکنالوجی کے فائدہ کی بالادستی کو بہتر بنانے کے لیے لایا تھا طاقتور قلعہ بندی اور ایک راز نفرت انگیز ہتھیار ہے ، جِس نے بازنطینی اسلامی محاصرے پر قابض ہونے کے لیے قابل ہوئے تھے ۔

خُدا کے فوجی دستہ میں رونڈی سٹارک قسطنطینہ کی دیواروں کے متعلق بیان کرتے ہیں :

کہ یہ دیواریں عام نہیں تھیں ؛ انہوں نے ان پر حیران کُن انجیئنرنگ کا کام کیا ہوا تھا ، بابر کی دیواروں کے ساتھ بڑے ستون کا بھاری برکم کام کیا گیا تھا اور عالیشان فیصل اور اُس کے اندر کی جانب مضبوط دیوار تھی ۔ اس کی چالیس فُٹ اونچائی اور ۱۵ فٹ موٹائی اسکی مزید تفصیل بڑی فصیل اور بڑے ستون ہیں ۔ اگر یہ کافی نہیں تھا ۔ ساحل کی جانب بڑی خندق تھی بیشک دوسری تینوں اطراف سے حملہ آور صرف کشتی کے ذریعے ہی دیواروں تک پہنچ سکتے تھے ۔ (۳۵)

بازنطینی اسلام کے سامنے کے حملے کو روکنے کے قابل ہو گے تھے ، تاہم مسلمانوں نے بحری رستہ بند کرکے شہریوں کو بھوک سے مارنے کی کوشش کی تھی ۔ اتفاقی طور پر واقعہ ہونے والے وقت میں شامی انجینئرنگ فنِ تعمیر کا ماہر جسکا نام ہیلی اوپلوس کا کالنیکوس تھا ۔ اُس نے اپنی سر زمین پر مسلمانوں سے ایذارسائی برداشت کی تھی اور وہ قسطنطینہ میں رہتا تھا ۔ اُسے یونانی آگ کی ایجاد کا اعزاز دیا گیا تھا ۔ تاہم قدیم عبارت کی بنیاد پر کیمیائی ٹیکنالوجی کو چلانے کا ٓغاز حقیقت تھا یا پھر اسکندریہ کی لائبریری سے پرانی مصری داستانوں کے علم کو محفوظ کیا گیا تھا ۔

یونانی آگ موجودہ پٹرول کی جیلی کی مشابہت رکھتی تھی ۔ یہ بہت زیادہ اشتعال پذیری تھی اور یہ پانی سے بجھ نہیں سکتی تھی ۔ بازنطینوں نے اُسے منجنیق کے ذریعے سے روکنے کی کوشش کی یا پھر پمپ جیسی اشیاء کا استعمال کیا تھا ۔ منجنیق اس اٹ کے شیشے میں چھپے ہوئے مادے کو پھینک سکتی تھی ۔ یا اس برت کو ۴۰۰۔ ۵۰۰ گز تک پھینک سکتی تھی اس کے بعد اس شعلے کے دھماکے کا پھیلاؤ ۷۵ فٹ کے احاطے میں ہو سکتا تھا اور اس سے دشمن کے جہازوں کا نقصان قابلِ غور حصے تاہم منجنیق کو جہازوں سے چلانا شکل تھا ۔ اس لیے یونانیوں نے ااگ کو پھینکنے کے لیے پمپ جیسی چیز کو ایجاد کیا اور یہ پانی کے دریا کو روک سکتی تھی پرانے جنگی جہازوں کی غلیل میں نلی کے ذریعے لگائی جاتی تھی اور یہ پانی نما دریا کو روک سکتی تھی ۔ باز نطینوں نے اس ٹیکنالوجی کے ہتھیار سے مسلمانوں کے جہازوں کے اوپر بار بار پھینک کر انہیں تباہ کر دیا تھا ۔

۷۱۷ ء میں قسطنطینہ کے خلاف ۱۸۰۰ جنگی جہازوں کے ذریعے آگے بھاری برکم حادثات کے لیے تھے ، باز نطینوں نے بوسپوریس پر مسلمان نبوی کو دھوکے سے مارا اور بعد میں یونانی آگ کے ساتھ اُنکو مارا ، اُنکے زیادہ تر جہاز تباہ ہو گئے تھے اگلی بہار میں مسلمانوں نے نئی نبوی کے ساتھ کوشش کی یونانی آگ کے اسلحے سے بازنطینوں کی چڑھائی سے وہ دوبارہ مغلوب ہو گے تھے ۔(۳۶) بالکن کے ذریعے اسلام کے یقینی حملوں سے یورپ کو بچانے کے لیے قسطنطینہ کی مشہور اور فیصلہ کن جنگیں تھیں ۔

سیاحوں کی جنگ

اُن کی دُنیا پر قبضہ کرنے کی شدید جستجو تھی ، اسمای جنگ میں انہوں نے اپنی مشینوں کو مغ؟رم پر سامنے سے حملہ کرنے کے لیے یورپ کے دل کی سرزمین پر لگایا۔ مسلمان حملہ آور عبدالرحمٰن کو کی کی راہنمائی میں انہوں نے شمالی سپین کو فرانس میں دھکیل دیا ۔

اس طریقے سے مسلمانوں نے مسیحیوں کی بہت ساری فوج کو ذبح کیا ، گرجا گھروں کو جلا دیا اُنکو لوٹا گیا اور انکو غارت کیا گیا ۔ وہ سینٹ مارٹن کے دورے کے دوران لوٹنے والے تھے ، لیکن پہلے انہوں نے لوٹ مار اور محاصرے اور فتح کی خُوشی کو منانا بہتر سمجھا اسی اثناء میں چارلس مارٹل اور اُسکے مشہور امیر و وینگین اس سے ملے وہ بہادری سے مستحکم طور پر آگے بڑھے عبدالرحمٰن کی فوج پر چڑھائی کر دی

مارٹل غیر معمولی لمبا اور طاقتور تھا۔

اسکی نہایت اعلی ٰفتوعات الیماتائی ، باعیئرین ، اور فرانس کے خلاف تھیں اور جرمنوں نے اُسے کارولنجین ملک کو فتح کرنے کی حماقت دی تھی ۔ وہ درحقیقت شمال مشرقی گال کا حکمران تھا جس نے فرانس کی سلطنت کو مستحکم کیا۔

بعد میں اسکا نام فرانس پڑ گیا وہ آرمی کا چہرہ اور صاف دِل شخص تھا اُس نے اسلامی فوج پر ۷۳۲ میں چڑھائی کی ، چارلس مارٹن کی فوج اور عبدالرحمٰن الغفاکی کی فوج میدانِ جنگ میں خطرناک طریقے سے سات دِن تک لڑتے رہے تھے جو سیاحوں اور پوٹیرس کے درمیان ہوئی تھی ۔ جو تقریباً ۱۵۰ میل پیرس کے جنوب میں واقعہ ہے ۔ اس جنگ کے دوران میں تاریخ نگاروں نے اندازہ لگایا تھا کہ ہر جگہ پر مسلمان ۳۰،۰۰۰ سے بڑھ کر ۳۰۰،۰۰۰ تک مارے گئے تھے ۔

مسلمان خطرناک طریقے سے اس حادثے سے دوچار ہوئے تھے عبدالرحمٰن بھی مارا گیا تھا ۔ مارٹل کی اس عظیم فتح سے ایک عنوان مشہور ہوا ‘‘دی ہیمیر’’ جو اُس کے نام سے منسلک تھا ۔ممکن ہے کہ یہواہ میکاہیس کی طرف اشارہ ہو رہا ہو ۔

‘‘دی ہیمیر’’ مشہور میکاہسین سے پھر گئے تھے ۔ممکن طور پر چارلس مارٹل مقدس رومن سلطنت کا طاقتور شہنشاہ گرینڈ فادر بن گیا ۔ بہت سارے تاریخ نگار اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اس فتح نے یورپ کو اسلامی فتح سے مکمل طور پر بچایا تھا شاید یہ اس جنگ کی سب سے اہم فتح تھی ۔ ۷۳۵ میں اسلامی فوجوں نے دوبارہ گاؤں پر حملہ کر دیا ۔ لیکن مارٹل اور اس کے بہادروں نے اُن کو شکست دی بلکہ اُسی فوج کے ساتھ اور مسلمان دوبارہ کبھی حملہ نہیں کریں گے اور وہ جنوبی یورپ سے دور بھگا دیے گئے ہیں۔ (۳۷) نفرت کے ساتھ ان حملوں میں خلل ڈالا گیا ، اسلامی مملکت کی فوجیں لگاتار تعداد میں بڑھتی گئیں اور دوسرے علاقوں میں پھیلتی گئی تھی ۔ محمد کا فرمان رد نہیں کیا گیا تھا ۔ اسلامی حکومت کا جزبہ تھا کہ پوری دنیا پر قبضہ کرنا تھا۔

الحاکم (مہندی)

اسلامی شعیہ سے روایت ہے کہ وہ مِصر میںچھے خلیفوں پر یقین کرتے ہیں ، طارق الحاکم مرا نہیں تھا اور وہ بارہویں امام کے طور پر دوبارہ واپس آئیگا یا مہدی آخری دِنوں میں واپس آئیگا وہ سات سال حکومت کرے گا ۔ مسیحیت میں اسلام کا مہندی اصل میں مخالف ِ مسیح ہے ۔ تمام مسلمان آخری وقت پر ایمان رکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کا دُنیا کا راہنما مہدی کہلاتا ہے لیکن ہر فرقہ اُس کے ظاہر ہونے کی تشریحات خُود ہی تبدیل کر رہا ہے ۔ ۹۹۶ ء میں (الحاکم بارہ سال کی عمر میں مِصر کا خلیفہ بن گیا تھا اور اُس نے حکومت کی جب تک ۳۶ سال کی عمر کا اختتام نہ ہوا تھا ۔ اُسکی حکمرانی کا کردار بے رحم ایزا رسائی اور تباہی تھا ۔ سٹارک حاکم کی عجیب حکمرانی کو اختصار کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔ اُس نے حکم دیا کہ کیرو میں تمام کتوں کو مار دیا جائے کہ انگور نہ بڑھیں یا کھائیں نہ جائیں ( اور نہ ہی شیراب بنانے کے لیے محفوظ کیے جائیں ) نہ کوئی عورت اپنے گھر باہر نکلیں اور موچی عورتوں کے جوتے بنانا ترک کر دے ۔ حاکم بھی قانون سے باہر چیزیں کھاتا تھا ۔ پنیر اور واٹر کرس کھاتا تھا کوئی چھلکے کے بغیر مچھلی کھاتا تھا ۔ اچانک اُس نے تقاضہ کیا کہ شخص رات کے وقت کام کرے اور دن کے وقت سوئے اس وقت یہ اُس کے دوسروں سے بہتر گھنٹے تھے ۔ اُس نے اپنے اُستاد کو قتل کر دیا اور قریب قریب اُس کے تمام وزیر اور بڑی تعداد میں اُس کے سرکاری آفیسر ، شاعر اور طبیب اور اُس کے بہت زیادہ رشتہ دار اکثر کو اُس نے بزاتں خود مار دیا تھا ۔ اُس نے اپنی جگہ میں غلام عورتوں کے ہاتھوں کو کاٹ دیا تھا ، اُس نے بیان کیا ہے کہ وہ عورت کے پبلک میں غُسل کرنے کے خلاف ہے اور اُس نے ایک دم سے ایک دیوار میں داخل ہونے کا رستہ بنایا تاکہ تمام عورتیں اس کے اندر ہی رہیں ۔(۳۸)

سٹارک اِن ایذا رسائیوں کی تفصیل بیان کرتے ہیں ۔

حاکم نے تمام مسیحیوں کو عبور کیا کہ وہ اپنے گلوں کے چوگرد چار پونڈ کا کراس (صلیب) پہنیں اور یہودی مساوی وزن کا ایک کالف (بچھڑا) پہنیں (عبادت کے لیے ندامت کے طور پر سونے کا بچھڑا )

آخر کار ، حاکم نے مسجدوں میں عبادت کے دوران اللہ کے لیے اپنا نام متبادل قائم کیا ۔۔۔ حاکم تمام مسیحی گرجا گھروں کو جلانے اور قبضے میں لینے کا حکم دیا ۔( ممکنا طور پر ، تیس ہزار چرچوں کو جلایا گیا اور لوٹا گیا ) یہ ایک لمبی فہرست تھی ۔یروشلم میں مقدس مزاروں کے گرجا گھروں کو مکمل طور پر تباہ کر دیا تھا۔ اُن تمام مزدوروں کے اندر باہر کیا ہے کھوج لگائی گئی ۔

حاکم پہاڑوں کے سفر کے دوران غائب ہو گیا تھا ۔ جہاں وہ اکثر عِلم نجوم سے تر ہو جاتا تھا ۔ اُسکا گدھا اپنی پیٹھ پر فون کے ساتھ واپس مُڑ جاتا تھا ۔ بہت سارے ایمان رکھتے تھے کہ اُس نے کوئی قتل کیا تھا ۔ ۱۰۲۷ ء میں اگلے حکمران کے باز نطینوں کو دوبارہ گرجا گھر کے مقدس مزار تعمیر کرنے کی اجازت دی تھی ۔ لیکن اُن میں بہت سارے بہت زیادہ تباہ ہو چکے تھے وہ تعمیر کے قابل نہیں تھے ۔ (۴۰)

یہ خبر اُن کے لیے انتہائی حماقت انگیز تھیں اور مقدس جگہوں کے بے حُرمتی یورپ میں رہنے والوں کو غُصہ دلا رہی تھی اور یہ لگاتار اُن کے لیے لعنت کے طور پر پروان چڑھ رہی تھیں ، یہ مقدس مقاموں کی واپسی کی رپورٹ میں درج ہے ۔ یہ ایک دلچسپ نوٹ ہے کہ امام مہدی کا رویہ مخالفِ مسیح کے لوگوں میں شمار کیا گیا ہے وہ جہنوں نے مقدس جگہوں کی بے حُرمتی کی تھی ، ایذا رسائیوں کا بھاری ادارہ جو اپنے رتبے میں خُدا سے بڑھ کر ہے۔ اور بڑا یہ ایک بڑے آدمی کے شابہہ ہے جو آخری دِنوں کو بڑی چالاکی کے ساتھ پورا کرنے کے لیے کھڑا ہو گا لیکن ایک بڑے رُتبے کے ساتھ اسلامی قتلِ عام بِلا تخیف جا رہی تھا ۔ ابتدائی گیارہ صدیوں کے دوران ۱۰۳۲۔ ۱۰۳۳ میں چھ ہزار یہودیوں مراکو میں ذبح کیا گیا اور یہ کم سے کم ان میں بہت سے چھوٹے بم کککے ساتھ مرے تھے۔ (۴۱)

نارمن اٹلی کی آزادی اور سیسلی باشندے

۱۰۳۸ ء میں جارج مینکس ایک مشہور باز نطینی جنرل تھا جس نے باقاعدہ طور پر اپنے شکر کی راہنمائی کی تھی ، لومبرڈز ، اور ایک عارضی طور پر خُود غرضی ، جس میں ایک نارمن بہادر بھی شامل تھا ، جہنوں نے پوری جنوبی اٹلی کو رہائی دی ، اور سیسلبوں کو مسلمانوں سے رہائی دی تھی ۔ نارمنوں کی آرزو تھی یا ‘‘ شمالی لوگ ’’ بہت طاقتور جنگ جو تھی ، وہ جہنوں نے فرانس کے شمالی علاقے میں رہائش کی تھی ، اور یہ نارمنڈے کی سلطنت کی بنیاد بنی تھی۔ اُن کے حملے مکمل طور پر کامیاب ہوئے ۔ اُس وقت جب تک مینکس پر کنٹرول کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور اُنکے اعزازات کا بھی بیان کیا تھا ۔ ایک سرکش نے بازنطینی آرمی کے درمیان پھوٹ ڈال دی تھی ، اور مسلمانوں نے سیسلبوں پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔

۱۰۴۱ ء میں ، نارمن نے خُداوند کی لڑائی میں جِس کی راینمائی طاقتور سورما ولیم آف بائیوئیلی نے کی ۔ (آئرن آرمی) اُس نے فیصلہ کیا کہ اُنکے لیے سیسلی پر قبضہ کرنا ہے ، وہ اُن پر قابض ہو کر قلعہ بندی کرنے کے قابل ہو گے تھے اور انہوں نے حِلفی کی بنیاد کو بنایا ۔ باز نطینوں نے مقالے کے لیے اور اُنکو عزت کرنے کے لیے اپنی آرمی کو نارمن کے خلاف جنگ کرنے کے لیے بھیجا تھا ۔ اگرچہ وہ بہت بڑی تعداد میں تھے ، نارمنوں نے اُن کے بڑی بہادری اور طاقت سے لڑائی کی اور اُن بہادری سے باز نطینوں کو وقت بہ وقت مارا ۔ نتیجے کے طور پر دوبارہ شکست ہوئی اور باز نطینی دوبارہ کبھی بھی اٹلی میں کُھلے عام نارمنوں کے ساتھ لڑائی نہیں کریں گے ۔

۱۰۵۹ ء اور ۱۰۷۱ ء کے درمیان نارمن ، رابرٹ گِسکارڈ نے جنوبی اٹلی میں نارمن سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ اور سیسلی میں مسلمانوں کو اُکھاڑ دیا گیا ۔ اِسی طرح باز نطینی اور مسلمان دوبارہ کبھی بھی اُن پر دہشت گردحملہ نہیں کریں گے

۱۰۹۸ ء میں رابرٹ گِسکارڈ کا بڑا بیٹا ، بوہمینڈ نے انطاکیہ کے شہر کی قلعہ بندی کے خلاف فتح کے لیے صلیبی جنگجو فوجوں کی راہنمائی کی ۔ نارمن اور ناروے کے بحری باشندوں نے مسیحی سر زمین کی آزادی میں ایک دائرے کا کردار اسلامی فوجوں کے خلاف ادا کیا تھا ۔ گیارہویں اور بارہویں صدی کے دوران جس میں مقدس زمین پر صلیبی جنگیں بھی شامل تھیں ۔(۴۲)

اِل سیڈ

سپین میں مسیحی فوجوں نے وشِگو تھیک تولیڈو کی سابق سلطنت پر مسلمانوں نے ۱۰۸۵ پر قبضہ کرنے کا دوبارہ دعویٰ کیا تھا ۔ ٹولیڈو عربیوں میں گِر چُکا تھا اور آٹھویں صدی میں بِیر بِیر مسلمانوں نے اور لمبے عرصے تک مضبوط اسلامی کنٹرول کو بنائے رکھا تھا اور ان میں سے ایک شاہی گھرانے امیر مسلمان تھا ۔(۴۳)

جب بادشاہ اُلفونوسو آف لیون ، کیسٹل نے تولیڈو پر قبضہ حاصل کیا تھا ۔ اسلامی اختللاقیات میں یہ بہت طاقتور تھا ۔

۱۰۹۲ ء سے ۱۰۹۸ ء تک مسلمانوں نے ابیریا پنسلیویا  میں بہت سنجیدہ نقصان اُٹھایا تھا ۔ سپین میں بہت سارے مشہور مسیحی سورما تھے روڈاِگوڈیذ دی وائیویر ، ویسے تو وہ اِل سیڈ کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ایک چار لٹن ہیسٹین کہلاتا ہے ۔ اُس نے ۱۹۶۱ ء میں اِل سیڑ کی فلم میں روڈ اگو ڈیز کا کردار ادا کیا تھا ۔ اِل سیڈ کے عنوان کا ترجمہ ‘‘آقا’’ یا مالک کے طور پر کیا گیا ہے اور اعزاز کے طور پر اُس کے عنوان کو کیمپیڈر یا چمپیئن کے طور پر دیا گیا تھا ، بادشاہ نے جنگوں میں بڑے نقصان کی ذمہداری اپنے اوپر کی اور حکم دیا اور اکثر اُسکی تجویز لڑائی کے لیے بہادر سومار تھے اور ایک چمپیئن سومار پوری فوج کی مخالف کرتا ہے ، فتح کرنے والے شہر میں یا شہروں میں لڑائی کرنے کا دعویٰ کریں گے ۔ روڈاگوڈیز فوجوں میں ملٹری کا محافظ روح انسان تھا ۔ خواہ وہ اکیلا ہی لڑائی کرے یا بڑی آرمی کی راہنمائی کرے ۔ اُسکو کبھی بھی شکست نہیں ہوےئ تھی ۔

اِل سیڈ اپنے مخالف لڑنے والوں کے خلاف ایک عقل مند فاتح تھا اور آزادی حاصل کرنے کے لیے اور والنیسا کے شہر کے قلعوں کی حفاظت کرنے کے طریقے کو بہت سارے مسیحی سورماؤں نے تحریک پائی اور انہوں طریقے کو اتنا پسند کیا ۔

بھارت

ان میں ایک عظیم جینو سائیڈز نے تاریخ کو جاری رکھا اور تابعداری بھی اُس مین شامل تھی ۔ہندوستان برصغیر کی آبادی کے دسویں حصے کو تباہ و برباد کر دیا تھا انسانیت کے خلاف جرم کو مسلمانوں نے لغوی طور پر محمد کی تابعداری میں اُس کے اُس حکم کی پیروی کی کہ اللہ کی خاطر ساری دنیا کو مطیح بنانا ہے ۔ تاریخ نگار کے ایس ۔ لال نے جا ئز ہ لیا کہ ۱۰۰۰ اور ۱۵۲۵ سالوں کے درمیان آٹھ میلین لوگ اسلام کے نام کی خاطر مارے گئے ہیں وہ یہ بھی شمار کرتا ہے کہ دو ملین لوگ محمود غزنوی کے حملوں میں مارے گئے تھے ۔ جِس نے سلطنت پر قبضہ کیا ہوا تھا ۔ پاکستان و افغانستان ، ایران اور شمالی مشرقی ہندوستان پر یہ علاقے اسلامی جہاد کی فتح میں موت کے حادثات کا شکار تھے۔

سلجوق ترکیوں کا مشہور حملہ آور

صلیبی جنگ میں :مقدس زمین کے لیے جنگ کی مستند تاریخ تھا مِس ایسبریج نے مشرقسے ایک نئے اسلامی خوف کا بیان کیا :

دیگر ڈرامائی ردوبدل جیسا کہ ترکیوں کی آمد نے گیارہویں صدی میں اسلامی دُنیا کو پیدل کرکے رکھ دیا ۔

۱۰۴۰ کے قریب یہ بے گھر قبائلی لوگ مرکزی ایشیاء سے (یاد رکھنے کی بات ہے کہ یہ لوگ اپنے جنگجو کردار کی وجہ سے جانے جاتے تھے ) وسط ایشیاء میں آنا شروع ہو گئے ۔ سلجوق ایک شاہی قبیلہ تھا ۔ (روس سے لیکر آرل کے سمندر تک ) ۔۔۔ تُرکی مہاجروں کے حملہ آور دستے پیلے ہوئے تھے ۔ ۱۰۵۵ سے سلجوق قائد جنگ نگرہورل بیگ تھا جیسے بغداد میں سلطان کے طور پر فائز کیا گیا تھا سُنی اسلام پر اس کی حکمرانی کا دعویٰ کر سکتا تھا۔ (۴۴)

نگر ہورل بیگ مسلمان فوجوں نے مسیحی آرمنیاکی سلطنت پر حملہ کرکے اُن پر اجارہ داری قائم کی تھی ۔ انہوں آرذڈن شہر کو لوٹ لیا تھا ۔ لوگوں کو ذبح کرایا تھا ۔ عورتوں کی عزت لوٹی گئی تھی اور بچوں کو غلام کے طور پر چھین کرتے گئے تھے ۔

مزید اُس کے آرمنیا کے باہر کے کُچھ شہروں میں خونریزی اطمینان کے ساتھ عام کی گئی تھی ۔ لاشوں کے بہت بڑے انبار لگا دیے گئے تھے انہوں نے تمام گلیوں کو لاشوں سے روک دیا گیا تھا ۔ ممکنہ طور پر یہ واقعات بازنطینوں کی طرف ردِعمل ظاہر کرتے ہیں ترکی فوجوں باز نطینوں کے خلاف لڑائی کو جاری رکھا تھا اور مسیحی مشرقی سلطنتیں صدیوں کے لیے مصیبت میں آگئیں ہوں گی ۔

اِٹسائز بن اووق کی راہنمائی میں ترکیوں نے دان پر قابض ہونے وسعت کو جاری رکھا اور مقدس سرزمینوں پر حملے کرنے جاری رکھے ۔ ۱۰۷۴ میں انہوں بہت ساری زمین پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ۱۰۷۵ء میں انہوں نے دمشق پر قبضہ کر لیا تھا ۔میں انہوں نے یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا ۔ ایٹسائز نے وعدہ کیا کہ یروشلم کے رہائشیوں کو حفاظت دی جائے گی ۔لیکن جب دروازے کھوئے گئے تھے ، ہزاروں لوگوں کو ذبح کیا گیا تھا ترکیوں نے شہریوں کو رملہ ، غزوہ ، تائر اور جافہ باہر نکلا دیا تھا ۔ (۴۵)

اور درمیان میں قتل و غارت ، مسیحی مقدس مقامات کو ایذارسان کیا گیا تھا ۔ وہ جو باہر نکال دیے گئے ۔یہ بڑی دہشتناک قبر تھی اِس بڑی حماقت کا ارتکاب مسلمان ترکی خانہ بدوشوں نے کیا تھا ۔

اسی اثنا ء میں سلجوق نے اپنے آپ کو روم کا سلطنت مقرر کیا (روم ، نئے روم قسطنطنیہ کی طرف اشارہ کر رہا ہے ) اور اسی سال نیسیا میں بھی سلطان مقرر ہوا ۔(۴۶) اِس لیے ترکیوں نے اپنے دارلخلافہ اصلی قسطینطنیہ کے قریب اس کو مرکز بنایا ہو گا ۔جنگ جاری تھی کیا مسیحیوں کی چھوٹی سی سلطنت بازباقی رہ گئی تھی ۔ دنیا پر اسلامی حکمرانی کو تاریخ نگار ثابت کرتے ہیں اور دنیا پر قبضہ اس بات کو ثابت نہیں کر سکتا اور نہ ہی نظر انداز کرنا چاہیے۔ بہت سارے اس سبق میں حوالہ جات صرف خدمت کے طور پر جھلک دیتے ہیں ۔ یا تاریخ کے اُن واقعات کی جھلکیاں لوگوں کو دیکھاتا ہے اور زمین محمد کی عزت میں برباد کی گئیں تھیں ۔ بے رحم اسلامی ایجیڈے کو قبول کرنا ۔ دنیا کی فتوعات کے لیے یہ صدیاں گیارہویں صدی کے آخر تک راہنمائی کرتیں ہیں ۔ بقائے حیات کے لیے ذہن ایک جگہ پر قائم ہے وہ جو آزادی کے لیے صلیبی جنگ میں جانے کے لیے چُنے گئے تھے ۔ اسلامی حکمرانی کے طریقے سے ایک مسیحی مقدس سرزمین کو کنٹرول کرتا ہے ۔

 

 

 

سبق تیرہ

صلیبی جنگوں کا ردِ عمل

صلیبی جنگیں۔ تعریف بمقابلہ فرضی داستان

جب لفظ صلیبی جنگ گفتگو میں شامل کیا گیا تھا ، بہت سارے پھٹ جانے والے خیالات آتے تھے ، ذہنی تصاویر کھل کر سامنے آئیں بد قسمتی سے بہت ساری فرضی داستانوں کی موجودہ سمجھ صلیبی جنگوں کے بارے میں گھوم رہی تھیں ۔ یہ سبق ایسے غلط تصورات کو واضع طور پر تاریخ کی صلیبی جنگوں کے بارے میں بیان کرنے  کی خواہش کرتا ہے۔

حقیقی اصطلاح ‘‘صلیبی جنگ’’استعمال نہیں ہوئی تھی یا پوپ ارمن دوئم نے اُسکا جواب نہیں دیا تھا ، جب اُس نے اُسکو پہلی صلیبی جنگ کہا تھا۔ ایس بریچ مختصر طور پر تاریخ کی تعریف کرتا ہے عام طور پر ہم عصر اصطلاح صلیبی جنگ ہی ہے ۔ ( پہلی صلیبی جنگ ) آسان کہہ سکتے ہیں ۔ یہ ایک سفر ہے یا سیروسیاحت ( مقدس مقامات ) ابھی تک گیارہویں صدی ختم نہیں ہوئی تھی اس سے خاص اصطلاح میں صلیب کے نشان جیسے لفظ میں ترقی ہوئی ۔صلیبی جنگجوؤں کے لیے اور ممکن طور پر فرانس کی اصطلاح کروسیڈ کو تسلیم کیا گیا تھا ، جسکا ترجمعہ ‘‘ صلیب کے راستے کے طور پر کیا گیا تھا ۔ ( ۱ ) تاریخ میں بہت سی صلیبی جنگیں ہوئیں ۔تاہم تاریخدان عام طور پر یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ صلیبی جنگیں وہ سات بڑی فوجی مہم ہیں جو کہ مغربی یورپ سے شروع ہوئیں تاکہ مقدس زمین کو اسلامی حکمرانی سے آزاد کرائیں۔ پہلی صلیبی جنگ کے لیے پوپ اربن دوئم نے ۱۰۹۵ میں بلایا اور یہ جنگ ۱۰۹۹ میں شروع ہوئی ۔ ساتویں صلیبی جنگ ۱۲۵۰ میں اپنے انجام کو پہنچی اور آخری صلیبی جنگ ۱۲۹۱ میں شہروں کو مسلمانوں کے حوالہ کیا گیا ۔( ۲ )

تحریک صلیبی جنگ میں یورپ کا ہر ملک اور ہر طبقہ شامل تھا حقیقت میں زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ جیسے کہ کلیسیاءسیاست، ادب ، معاشی اور معاشرتی بڑی تعداد میں شامل تھے ۔( ۳ )

اسلام کا صلیبی جنگوں کے بارے نظریہ

      ۱۹ء صدی سے قبل مسلمانوں نے صلیبی جنگوں کے لیے معمولی دلچسپی کا اظہار کیا زیادہ تر اسلامی تاریخدانوں نے انہیں بطور بے توجہی اور مُردہ دلی لیا اِن میں سے بہت سے عالموں نے حقیر تُرکیوں کو نکالنے کے لیے رعایت کرنے کو ترجیح دی اور اُنہیں آگے مصر میں بڑھنے سے روکا ۔ تاہم ایک بہت طاقتور اسلامی شہنشاہ عثمان جو ‘‘ یورپ کا بیمار آدمی ’’ کے لقب سے جانا جاتا تھا۔ طاقت کی زوال پزیری اور تاثیر، ناراضگی کی وجہ مغرب کے خلاف مسلمانوں میں بڑھ رہی تھی ، مزید اسرائیل کی قوم کی ریاست کے طور پر بڑھتا گیا جسکا حکم دیا گیا تھا ۔ اگرچہ سب سے اہم حصہ اسلامی نصاب صلیبی جنگوں کے خلاف پیدا ہوا اور یہ صلیبی جنگیں گیارھویں صدی میں ایجاد ہوئیں ۔( ۴ )

( صلیبی جنگوں کیلئے قوت رفتار۔‘‘ جاڑنے والی مکرو چیز ’’ )

موجودہ دور میں ایک مشہور  لائن خیال جانی کہ پوپ اور بادشاہ کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتی ہیں نئی سرزمین پر اُس کی طاقت کو بڑھانے کے لیے اورمسلمانوں کو مسیحیت میں تبدیل کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہیں ۔جس وقت ستمبر ۱۱، ۲۰۰۱ میں حملہ ہوا تو  بہت سارے شہریوں نے اور دنیا نے لیڈروں نے مسلمانوں سے صلیبی جنگوں سے معافی مانگی تھی کیا یہ وجوہات تاریخ سے تصدیق کر سکتی ہیں یا یہ منطق ہے؟ یا مسلمانوں کو چاہیے بلکہ سابق مسیحیوں کی سرزمین پر مسلمانوں کی خُونریزی سے مسلمانوں کو معافی مانگینی چاہیے ۔ دنیا پر اُنکی فتح کے لیے خُونریزی پر معافی مانگنی چاہیے؟ ۔اسلامی ملٹری کا یورپ کے حملوں کا اتحاد اور بے حرمتی بھی اور مقدس سرزمین پر قبضہ کرکے حکمران یہ دو ابتدائی وجوہات تھیں جو ملٹری کے منصوبے کا ردِعمل کہلاتی ہیں ۔ اسلامی حملے مقدس سرزمین پر ۶۳۹ میں شروع ہوئے تھے جب خلیفہ عمر نے سفورنیس کو حکم دیا تھا جو  یروشلم چرچ کا بشپ تھا وہ ایک یادگار مسجد یروشلم میں بنانے جا رہا تھا (چٹان پر گنبد) اس جگہ پر یہودیوں کی پرانی ہیکل تھی محمد نے اس پر بنانے کا حکم دیا تھا۔ سفورنیس اس صدمے سے ٹوٹ گیا تھا ۔

حقیقت میں اس تباہی کے بارے میں دانی ایل نبی نے نبوت کی تھی اور اب یہ مقدس جگہ میں کھڑے ہیں عمر نے اسی بوڑھے مسیحی بشپ سفورنیس کو قید میں مزدور کے طور پر کام کروایا اور سفورنیس تھوڑے عرصے کے بعد مر گیا تھا۔ مسلمانوں نے دونوں پر فتح پائی اور مقدس شہر یروشلم کو تباہوبرباد کر دیا تھا ۔ ( ۵ ) سفورنیس مختلف مسیحی یہودیوں کی طرف اشارہ کر رہا ہے کلام کی آیات بیان کرتی ہیں کہ جب مسجد بننے کا حکم دیا گیا تھا ‘‘ جاڑنے والی مکروہ چیزیں’’ پہلے دانی ایل ۱۲: ۱۱۔۱۲ میں بیان کرتا ہے۔ اس وقتسے روزانہ قربانیاں دی گئیں اور جاڑنے والی مکروہ چیزیں اُس پر رکھی گئی ۔ ۱۲۹۰ دن پورے ہو گئے تھے مبارک ہے وہ جو ۱۳۳۵ دنوں کا انتظار کرتا ہے۔

دوسری مرقس ۱۳: ۱۴ میں بیان مِلتا ہے ۔

‘‘ پس جب تم اُس جاڑنے والی مکروہ چیز اسکی جگہ کھڑی ہوئی دیکھو جہاں اسکا کھڑا ہونا روا  نہیں ( پڑھنے والا سمجھ لے) اُس وقت جو یہودیہ میں ہوں وہ پہاڑوں پر بھاک جائیں’’

تیسری لوقا ۲۱ : ۲۰ میں بیان ملتا ہے

‘‘ پھر جب تم یروشلم کو فوجوں میں گِھرا ہوا دیکھو تو جان لینا کہ اُسکا اجڑ جانا نزدیک ہے۔’’

‘‘ جاڑنے والی مکرو چیز ’’ یسوع مسیح کے بعد کے واقعات کا بیان کرتی ہے ۔مختلف مفکر اسکی تھیوری کے ‘‘ چٹان پر گنبد ’’ کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ یہ جاڑ دینے والی مکروہ چیز تھی ۔ جسطرح بشپ سفورنیس کا ایمان تھا۔ یہ تفصیل یروشلم کی تباہی کے وقت کو تاریخی طور پر اور اسکی تباہی اثرات کو بیان کرتی ہے۔

پہلی تباہی کی ہر ۷۰ سال سے طِطس نے یروشلم پر قبضہ طکیا ہوا تھا اور اسکی جگہیں ویران کر دی تھیں۔ یہ ایک اندازہ لگایا گیا کہ ۵۔۱ ملین یہودی یروشلم میں اور یروشلم کے قریبی علاقوں میں قتل کیے گئے تھے دوسری تباہی کی ہر ۱۳۲ ۔ ۱۳۵ میں وقوع پزیر ہوئی تھی ۔ وہاں پر دوسرے ۶۰۰۰۰۰ سے ۷۵۰،۰۰۰ ۔ یہودیوں کو ذبح کیا گ یا بارکو کوبہ کی روگردانی کے دوران اس قتلوغارت کے باوجود بھی یہودی اور مسیحی لگاتار پسے ہوئے تھے اور دوبارہ اُن کو یروشلم میں رواں ہونا پڑا تھا۔ تاہم ۶۳۹ میں ایک آخری تباہی ہوئی ۔

تیسری تباہی کے ہر یروشلم میں وقوع پزیر ہو جب اسلامی فوجوں نے حضرت عمر کی راہنمائی میں یروشلم پر قبضہ کیا۔ (۶)

اسلامی جمعہ کے بعد ۶۳۷ میں یروشلم پر قبضہ ہو گیا تھا اور مکمل طور پر سرکاری ڈھلوان بن چکا تھا اور نفرت کے ساتھ مقدس ہیکل کی جگہ مسجد بنا دی گئی تھی غور کریں کہ اصلی زبان کو حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اور اسکو قائم گیا ، جاری کیا گیا ۔

اگرچہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا ۔ یہ تمام بیانات اکھٹے لسانیات کی تعلیم کو بڑھانے کے لیے دلائل پیش کرتے ہیں ۔ یا بنیاد کی اُس جگہ کو جہاں پر اسکا کوئی تعلق نہیں بناتا۔ مزید برآں شٹان پر مسجد کا گنبد اللہ کی بے حرمتی کی فہرست میں شامل ہوتا ہے قرآن بیان کرتا ہے ۔ قرآن ۱۹ : ۳۵ یہ موزوں نہیں ہے۔( اسے اللہ کی شان ) کہ اللہ کو ایک بیٹا پیدا کرنا چاہیے۔

یروشلم بہت سارے موقعوں پر فوجوں میں گِرا رہا تھا ؛ ۷۰ ، ۱۳۲ ، ۶۳۹، ۱۰۹۹، ۱۱۸۷ ، ۱۹۴۸، اور ۱۹۶۷ تک فوجوں کے قبضوں میں رہا ۔ ۶۳۹ اور ۱۹۴۸ کے دوران یروشلم خاص طور پر اسلامی حکمرانوں کے قبضے میں رہا سوائے کُچھ خاص اوقات کے واقعات کے دوران صلیبی جنگوں سے مسیحیوں نے دوبارہ قبضہ کر لیا تھا ۔ دانی ایل کے حساب کے دنوں سے ایک سال حساب کے مطابق مِلتا ہے ۔ تاریخوں کی ان چابیوں میں ایک بڑا دلچسپ تعلق ملتا ہے ، ۱۲۶۰ سال تھے ۔ ( دانی ایل میں ان کا شمار ) اس سے حقیقی طور پر چٹان کا گنبد ۶۸۸ میں بنیاد بنا تھا ( تاریخ کا دورانیہ ۶۸۸۔ ۶۹۱ ) اور سرکاری طور پر اسرائیل کی ریاست کو ۱۹۴۸ میں بحال کیا گیا یہ ۱۲۹۰ دنوں یا سالوں کی دانی ایل کی تیس سالوں کی نبوت کا وقت پورا ہوتا ہے ۔ یہ دیکھائی دے گا کہ قابض لوگ ( اور ممکن ہے کہ مقدس مقام کو اللہ کے گنبد کی عمارت کے لیے مخصوص کیا گیا تھا ‘ وہ دوسرے تیس سالوں کی شمار کرتے ہونگے ۔ بائبل میں کُچھ دوسرے ، غیر اور تاریخیں دی گئیں ہیں ۔ جو نیا شمار کی جاتی تھیں ۔ ۶۸۸، ۱۹۴۸ اور ۱۹۶۷ کی تاریخوں کا مفہوم موزواں دیکھائی دیتا    ہے ۔

۶۸۸ اور ۱۹۴۸ کے درمیان یروشلم ایک تباشدہ زمین تھی ۔۱۸۶۷ میں مارک تائیوان نے اس مقدس شہر کو وزٹ کے دوران اپنے تاثرات دیئے ۔

( اے ) تباہ شدہ مُلک جس کی زمین کافی زرخیز ہے لیکن اب یہ پوری طور سے جڑی بوٹیس پیدا کر رہی تھی اور بڑی کشادگی سے خاموش اور ماتم میں ہے ۔  ۔۔۔۔یہاں پر تباہی ہے اور نہ ہی کوئی فضل کا تصور کر سکتا ہے۔ زندگی کی شانوشوکت اور اعمال کے ساتھ ۔۔۔۔۔ ہم نے پورےمجمع میں کِسی ایک انسان کو بھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ وہاں بڑی مشکل سے ایک درخت تھا وہاں پر ہر طرف جھاڑیاں تھیں ، حتیٰ کہ زیتون کا کٹلس ناقص زمین کے دونوں خاص دوست ہیں زیادہ تر ملک کا اندر صحرا ہی تھا ۔ (۷)

تاریخی موقعوں اور تاریخی نبوت میں نفرت انگیز اسلامی نظام بڑا حیران کن دیکھائی دے رہا تھا ایک مفروضے کا تجزیہ کرنا باقی ہے کہ کُچھ بےوفا اعتبار کرتے ہیں اور بائبل کی ادبی سائنز پر سوچ وبچار کرتے ہیں ۔

ابتدائی گیارھویں صدی کے بعد میں ، حاکم ، مہدی ایک خاکے کی طرح ہے ، مزید مسیحیوں اور یہودیوں نے جگہوں کو سمجھ لیا تھا اور یروشلم کے شہریوں کے خلاف قابلِ نفرت قدم اُٹھائے گئے تھے یہ لعنتیں اسلامی گروہوں کے ہاتھوں لگاتار گیارہویں صدی کے مسیحیوں کے مقدس مقاموں اور مقدس زمینوں کی مخالف ہو رہی تھیں۔ مسیحیوں کے مقدس مقامات کی پہلی گواہی یورپ میں معزز لوگوں کی حماقتیں ہیں ۔ گیارہویں صدی کے دوران ، چرچ کو مرتب کرنا اور پرہزگاری پورے یورپ میں پھیل گئی تھی اور تمام فرقوں کو یہ پرہیز گاری چھو گئی تھی ، ان میں بہادر جنگجو بھی شامل تھے ،

ایس بریچ مقدس سرزمین کی شہرت اور اسکے تحفظ کی اہمیت کو صلیبی جنگوں کی تحریک کے طور پر قبول کرتے ہیں

گیارہویں صدی کے اختتام سے آگے کو صلیبی جنگوں کا گزارا ہوا دورانیہ مشرقی میڈ ٹرینین کے مسلمانوں کے خلاف صاف اور واضع ہے یہ ایک بڑی گالی نہیں تھی ۔ ان صلیبی جنگوں کا مقصد پہلے پہل اسلام کو جڑ سے نکالنا تھا یا مسلمانوں کو مسیحی ایمان میں تبدیل کرنا تھا بلکہ اسلام کا انجام یہ تھا کہ مقدس سرزمین پر قبضہ کرنا اور مقدس شہر یروشلم پر ۔  ( ۸ ) بہت سارے سوال ہیں ایک محمد اور اس کے پیروکاروں کا تمام فلسطین اور یروشلم پر قبضہ کرنے کا کوئی حق تھا ۔؟ جواب بالکل واضع ہونا چاہیے۔ محمد عربی دہشت گردوں میں رہتا تھا اور یروشلم پر دعویٰ کرتا صرف اسکا ایک خیال تھا وہاں اسکا مطلب یہ تھا کہ جنت کی طرف یروشلم سے بڑھنا تھا ۔ تاہم کوئی بھی ایسا گواہ نہیں ملا تھا جو محمد نے ذاتی خواب پر تکیہ کرتا ہو ۔ مزید برآں محمد اس بات کا دعویٰ کرتا ہے وہ سرائیل کے نبیوں کی لائین میں آخری نبی ہیں ، کیا یہ حقیقت ہو سکتی ہے ؟ درحقیقت نہیں ۔ محمد کا قرآن غلطیوں سے بھرا پڑا ہے اور یہ کہانیوں کی غلط بیان کرتا ہے حالانکہ اسکا اصل عبرانی متن میں کوئی وجود نہیں ہے۔

وضاحت میں مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ محمد نبیوں کا سردار ہے ۔ اگر یہ حقیقت تھی تو کیسے اس نے کوئی بھی فوق الفطرت معجزہ نہیں کیا تھا ۔یا پھر شفائیہ قوت جیسے پیچھلے عبرانی نبی کرتے تھے ؟۔ اس کا جواب صاف اور واضع نظر آتا ہے وہ ایک دغاباز تھا اور آسان یہ کہ وہ ہمیشہ بدعتی عقائد کو بیان کرنے والا تھا ۔ جو عقائد عرب کے صحراؤں میں گھوم رہے تھے ۔ مسلمانوں کا قانونی طور پر یروشلم پر کوئی دعویٰ نہیں ہے یا مقدس سرزمین مذہبی وجوہات کی بنیاد ہے ۔ صرف یہودی اور مسیحیوں کے صیحیح نبی رہ رہے تھے اور انہوں نے ان جگہوں پر خدمت کی تھی

( صلیبی جنگوں کیلئے قوت ۔ بازنطینوں کی محاصرے میں مدد )

وضاحت میں یہ کہ مقدس سرزمین کی آزادی خواہش تھی ، یورپ کے خلاف اسلامی مداخلت اور اسلامی مداخلت کے خلاف دفاع کے کے لیے جنگ کرنا ، قانونی وجہ تھی ۔ بازنطینوں کی مسیحی مملکت کے تمام صوبے دس برس کے لیے حملوں کے قبضے میں رہتے تھے ۔ جس میں یروشلم کھو گیا تھا اور اب اُسے ہیبتناک مدد کی ضرورت تھی ۔ ترکی کے مسلمان قسطنطینیہ کے ایک سو میل تک اندر گُھسے ہوئے تھے ۔ باز نطینی شہنشاہ الیگزیس کامنیس نے ایک خط کو خاص اپیل کے ساتھ جلدی کاؤنٹ آف فلینڈرز کو بھیجا جس میں حملہ کرنے والوں کی مدد لینے کے لیے درخواست کی گئی تھی ۔ ۱۰۹۵ مارچ میں پوپ نے یہ خط پیپاسینزا کونسل میں پہلے پیش کیا روایت بیان کرتی ہے کہ فرانس کی سرزمین پر اُسکی واپسی تھی؛ پوپ اربن دوئم ریمنڈ سینٹ گلیز کے ساتھ ملے تھے آزادی کی مہم میں فوج کے راہنما کے طور پر کاؤنٹ آف ٹاولکیس نے ممکن طور پر کردار ادا کیا ۔

پوپ اربن دوئم نے بعد میں کلر سوفٹ پر ایک کونسل بلائی ۔ فرانس نے شہنشاہ الیگزیس کا خط پڑھا ۔ اس کو دوبارہ قتل کی جغرافیہ تفصیل کا خط میں شمار کیا جس میں بیان کیا گیا تھا کہ ترکی کے مسلمانوں نے مسیحیوں پر تشدد، مقدس مقاموں کی بے حرمتی ، تباہی ، مقدس جگہوں کی تباہی کی ، اس کے بعد جلد ہی ۲۷ نومبر ۱۰۹۵ میں پوپ دوئم اربن دوئم نے کلر مونٹ شہر کے باہر چراگاہ میں ایک پلیٹ فارم قائم کیا اور اُس نے اپنی طاقتور آواز کے ساتھ شہریوں کے بڑے ہجوم کے ساتھ خطاب کیا جس میں کسان دہیاتی ، معزز، اہل کلیسیاء کے لوگ بھی شامل ہیں اُسکی تقریر نے ہمیشہ کے لیے تاریخ کو بدل دیا تھا۔سٹارک پوپ اربن دوئم کی تقریر کا بیان جیسا کرتا ہے اور سب نے بازو  اُٹھا کر کہنا شروع کر دیا۔ ‘‘ انہوں نے مذبحوں کو تباہ کر دیا ، اس کے بعد انہوں نے ناپاکی سے مذبحوں کو گندہ کر دیا ہے ، وہ مسیحیوں کا ختنہ کرتے ہیں اور وہ ختنے کے خُون کو مذبحوں پر انڈیلتے ہیں یا انہوں نے اس خُون کو بپتسمہ کے بڑے حوض میں انڈیل دیا ہے ۔ جب انہوں نے موت کی بنیاد پر لوگوں پر تشدد کی خواہش کی ، انہوں نے اُنکی نافوں میں سوراخ کر دیے جب انہوں نے بے رحمی کے ساتھ باہر کو کھینچا تو انتڑیاں باہر ننکل آئیں۔ لکڑی کے ساتھ انہوں نے مسیحیوں کو باندھ دیا اور تب انہوں نے اُن کو کوڑوں کے ساتھ مارا انہوں مصیبت زدہ کے چوگرد راہنمائی کی جب تک جسم کے اعضاء باہر نکل نہ آئے تھے اور شکار ذدہ لوگوں کی غدودیں مثانے باہر نکل کر زمین پر گر گئے تھے ۔ میں عورتوں کی قابلِ نفرت بے حرمتی کے بارے میں کیا کہوں نگا؟ اس سے بدتر بولنے سے بہتر ہے کہ خاموش روہوں اس لیے وہ جو انتقام کی مزدوری کر رہے ہیں یہ وہ غلط کر رہے ہیں اور اس علاقے کے عہدداروں کو قابو کر رہے ہیں ۔ اگرچہ یہ آفت تم  پر نہیں آتی ہے اگر آپ فاتح ہیں تو آپ جلال ہونگے اور آپ اُس جگہ پر ہونگے جہاں پر یسوع مسیح ہے اور خُدا آپ کو کبھی نہیں بُھولے گا اور وہ آپ کو مقدس دستے کے طور پر پاتا ہے ۔۔۔۔دوزخ کے سپاہیوں زندہ خُدا کے سپاہی بن جاؤ۔ (۹)

خُدا کی مرضی یہی ہے چلاؤ، خُدا کی مرضی ہی ہے لوگوں نے اپنے کپڑے اور جوتے پھاڑے اور صلیبوں کو بنانا شروع کر دیا اور اُن کو اپنی چھاتیوں پر سی لیا اگلے سال وہ صلیبی جنگ کرنے کے لیے تمام رضامند تھے ۔

یہ قابلِ غور نہیں تھی کہ پوپ نے کہیں بھی اپنی تقریر میں مسلمانوں کی تبدیلی کی بلاہٹ کے لیے کوئی حوالہ نہیں دیا تھا ۔ یہ نو آبادکاری جذبات تھے ۔ اُس نے سادہ طور پر مقدس سرزمین کے ابتدائی مسیحیوں کی آزادی کے لیے کہا تھا ۔ ویمنڈ گلیز کے سینٹ نے اپنے مقصد کو دہرایا اس بات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہ مقدس مقامات کی خاطر غیر ملکی لوگوں سے جنگ کرنے جا رہا ہے اور وحیشی قوم کو شکست دے گا ۔ ایسا نہ ہو کہ مقدس یروشلم کے اسیر ہو جائے یسوع مسیح کا مقدس کے مزاروں کو خراب کر رہے ہیں۔ ( ۱۰ )

فرضی خزانے کی تلاش کی جستجو

 ایک اور داستان دعویٰ کرتی ہے کہ صلیبی جنگیں چھوٹے بیٹوں کو جائیدادوں سے عاق کرنے کے لیے لڑی گئیں تھیں دولت اور امیری خواہش تسکین نہیں دے سکتی تھی ۔ جو اُن کے لیے جمع کی جاتی ہے جو اس پر قابض ہوتے ہیں یہ بالکل حیران کن بات ہے کہ کیسے ایسی کہانیاں کِسی ثقافت میں زور پکڑ سکتی ہیں جبکہ تاریخی طور پر اس کی کوئی بنیاد نہیں ہے ۔ حقیقت میں بہت ساری صلیبی جنگیں بالخصوص تھوڑے سے خاندانوں کے گہرے تعلقات کی بنا پر ہوئی ہیں ، صلیبی جنگ کرنا ایک ذاتی طور پر قُربانی کا روپے پیسے کا وسیع ذریعے کا تقاضا کرتا ہے ۔ ہر کوئی اپنے خاندانوں کو گھروں میں مہیا کرتا تھا ۔ یا مشرق کی طرف لمبے سفر کے مقصد کے لیے تیار کرتا تھا ۔ یہ اندازہ لگایا گیا کہ ہر صلیبی مجاھد کو اس سفر کو کرنے کے لیے چار یا پانچ دفعہ سالانہ تنخواہوں کو اٹھا کرنا تھا ۔ بہت سارے لوگوں نے اپنے سفر کے سرمائے کے لیے اپنی جائیدادوں کو بیچ دیا تھا اور اپنی ذاتی استعمال کی چیزوں کو بھی اُن میں سے صلیبی جنگ کا راہنما بیولین کے گارڈفرائے نے مُلک کا وارڈن فرانس کے بادشاہ فلپس کو بیچ دیا تھا اور اُسے اپنے مُلک بیولین کے قابلِ عزت بشپ کو فرضی ضمانت کے طور پر دیا ۔(۱۱) ایک اور دوسرا جنگی راہنما نارمنڈے کا رابرٹ نے اپنی ڈیوک کی ریاست میں اپنے بھائی کو ضمانت کے طور پر پیش کیا۔ (۱۲)ٌ

مشرق میں بہادری کے ساتھ مرنے والوں کی شرح فیصد بہت زیادہ تھی اور رہن کی ہوئی چیزوں کی ضبطی بھی کثیر تعداد میں تھی ، صلیبی جنگجوؤں کے خاندانوں نے اس مقصد میں حصہ کے لیے بہت بڑی مالی قیمت چاہنی تھی ۔ فی الحقیقت مال ومتاع کو رکھنا آسان تھا۔ کیوں دس سے پندرہ فیصد بہادر لوگوں نے پوپ کی پکار پر اپنے آپ کو پیش کیا تھا اور صلیبی جنگوں میں حصہ لیا تھا؟ جواب بالکل  واضع ہے ؛ بعوض اس کے انہوں نے زیادہ تر اپنے مال ومتاع کو پیش کیا تھا اور اس جستجو میں حصہ لینے کے لیے انہوں نے اپنی زندگیوں کو خطرے میں ڈالا تھا ۔

سلطنت کی صلیبی جنگ ۔ وسعت اور وقت کا نقشہ

پہلی صلیبی جنگ (۱۱۰۲)

پہلی صلیبی جنگ بہت بڑے لوگوں کے گروہ کو عارضی طور پر جمع کرتی ہے ۔ ایس بریچ بیان کرتے ہیں ۔ ۶۰،۰۰۰ اور ۱۰۰،۰۰۰ کے درمیان یونانی مسیحی پہلی صلیبی جنگ میں مارے گئے تھے ۔ جس میں ۷۰۰۰ سے ۱۰،۰۰۰ بہادری کے ساتھ لڑتے ہوئے مرے تھے ۔ شاید ۳۵۰۰۰ سے ۵۰۰۰۰ سپاہ سالاروں کا دستہ تھا اور باقی دس ہزار نمبر جنگ جو تھے جن میں عورتیں اور بچے شامل تھے تو لازم کیا ہے یہ کہ صلیبی جنگ کے لیے کہا جانا ظاہری طور پر ایک قاعدے کے خلاف تھا اس پیمانے قرونِوسطیٰ کی کمر توڑ دی تھیھ ۔ حھکومت اس وقت کی حکومت میں فوج ایک سائز میں اکھٹا نہیں کیا گیا تھا ۔ یہ بہادروں کی آمرانہ طرفداری تھی کہ یہ درمیانی عمروں کے جنگجو مقرر ہوئے تھے ۔ (۱۳ )

یہ مشکل کام صلیبی جنگ کے ‘‘شہزادے’’ کے طور پر جانا جاتا تھا ۔ اُس وقت دو میجر پہلی صلیبی جنگ میں شامل ہوئے تھے اُن کے نام نارمنز اور فرینکس تھے اور جن کو پانچ راہنماؤں کی راہنمائی میں شامل کیا گیا تھا: (۱) ۔ ہاگ ، ورمنڈس کا شمار ( ۱۰۵۳ ۔ ۱۱۰۱ ) میں ہوا فرانس کے بادشاہ ہنری کا بیٹا تھا اور شہزادی سکینڈائیوین ، کیوکی آن ؛ (۲) گارڈ فرائے بیولین (۱۰۶۰ ۔ ۱۱۰۰ ) ڈیوک ریاست کی عمر لورین ( اور اسکی ماں ) یہ ایک چارلی میحبین کا براہ ِراست ظہور تھا ۔ گارڈ فرائے اپنے بھائی ایسوئیس سوئم کے ہمراہ تھا اور بیولوگوں کا بالڈنون ( جو بعد میں بالڈون یروشلم کا بادشاہ بن گیا تھا ) ؛  ( ۳ ) ٹرائنٹو کا بوہیمنڈ ( ۱۰۵۸ ۔ ۱۱۱۱ ) ، رابرٹ گیوس کارڈ کا بیٹا تھا ۔ جہنوں نے اکٹھے جنوبی اٹلی میں نارمن سلطنت کو قائم کیا سیسلیوں پر بازنطینوں اور مسلمانوں نے حکومت کی ۔ بوہیمنڈ نے نارمن بہادروں کی بڑی فوج کو پختہ طریقے سے راہنمائی کی تھی ۔ ( ۴ ) ٹویولوئیس کے ریمنڈ ( ۱۰۴۱ ۔ ۱۱۰۵ ) جنگ میں شامل تھے جو سینٹ روغنڑے کے نام سے جانے جاتے تھے ، گیلز اور جو بوڑھے جنگ جو راہنما ۳۰ پچپن سال کی عمر کے تھے انہوں نے بھی صلیبی جنگ میں شراکت کی تھی، ؛ ( ۵ ) نارمنڈے کا رابرٹ ڈیوک نے ( ۱۰۵۱ ۔ ۱۱۳۴ ) شمولیت کی ، ولیم کا بڑا بیٹا فاتح ہوا تھا ۔ البرٹ انگلینڈ ، سکاٹلینڈ اور نارمنڈے سے بہادر نارمنوں کو لایا تھا ۔ یہ پانچ عارضی فوجیں بروقت دسمبر ۱۰۹۶ اور مئی ۱۰۹۷ کے درمیان لڑنے کے لیے قسطنطینہ میں پہنچی تھیں ۔( ۱۴ )

بھاری اور باتربیت فوجوں کے بہادر بازنطینی سلطنت کے شہنشاہ الیگزیئس پر فخر کرتے تھے وہ اُن کے لیے بالکل حیران کُن شخصیت کے طور پر تھا۔ وہ زرخرید اور غلاموں کو خریدنے میں پہل کرنے والا تھا ۔ لیکن اب اُسے ہزاروں مقرر جنگجوؤں کا مقابلہ کرنا تھا جو اُن کی اپنی آزاد مرضی سے فوج کی مہم میں مرکزی نگا بن کر آ رہے تھے۔

لاطینی بازنطینوں کی دور افتادی پر یقین کرتے تھے اور الیگزنیس کی ان ہیبتناک اور خطرناک صلیبی جنگجوں کی سوچوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے الیگزنیس کی پہلی صلیبی جنگجوؤں کے طور پر لڑنے والی فوج تھی جس نے اُس کی وفاداری کا حلف اُٹھایا تھا اور سرزمین بازنطینوں سے بھر گئی تھی، اسکے بعد جلد ہی اُس نے اعلان کیا کہ وہ اپنی فوج کو اُن کے ساتھ مقدس سرزمین پر نہیں بھیجے گا وہ صرف ایک چھوٹا عارضی دستہ وسطیایشیاء کی بازنطینوں کی سرزمین پر قابض ہونے کے لیے مدد کرنے کو بھیجے گا ۔ نتیجے کے طور پر شہنشاہ کے دھوکے دہی کے مختلف واقعات کی وجہ سے صلیبی جنگجوؤں نے الیگزنیس پر کسی بھی قسم کے الزام پر ممکنہ طور پر انکار کر دیا ہو گا ۔(۱۵) بوہمینڈ کی راہنمائی میں صلیبی جنگجوؤں کو نیسیا ڈورے لہیوم اور انطاکیہ میں بھیجا گیا تھا انہوں نے ترکیوں ، عرب ، عرب کے خانہ بدوشوں کے خلاف آرمی کو اکٹھا کیا اور لڑائی کی اور فتوعات کے ساتھ واپس آئے اور انہوں نے خطرناک لمبے سفر کو پہاڑوں کے پار اور سورج کی گرمی میں بے رحم صحرا کو برداشت کیا۔ انطاکیہ میں گُھس کر انہوں نے شہر کے قعلے کو خوفناک بنا دیا اور ایک وقت میں پری میٹر پر ترکی کی آرمی کو تباہ برباد کرکے شکست دی ۔ بڑی ہوشیاری کے ساتھ اور بوہمینڈ نے جنگی ترکیب کے ساتھ آخر کار انطاکیہ پر قبضہ کر لیا تھا ۔ جون ۱۰۹۸ میں ، نارمن شہزادہ بوہمینڈ نے صلیبی جنگ کے تمام کمانڈروں کے حکموں کو قبول کر لیا تھا ۔ زیر نہ ہونے والے فرق کے خلاف اسکی اپنی فوجی طاقت کی وجہ سے قبول کیا تھا ۔ بوہمینڈ کو انطاکیہ کے لوگوں نے ہیرو کے طور پر قبول کیا اور اُس نے انطاکیہ پر اپنے کنٹرول کو قائم رکھا جب تک یروشلم میں دوسرے جنگ کر رہے تھے ۔(۱۶)

یروشلم کا شہر پوری دنیا کے لیے ایک بڑی قلعہبندی کے طور پر قبول کیا جاتا تھا جیسے ہی صلیبی جنگ جو یروشلم شہر کے قریب پہنچے تھے اُن کی تعداد کم ہو ۱۳۰۰ بہادر جوان رہ گئے تھے اور ۱۰۰دس ہزار فوج کے سپاہسالار شاید صرف دو تہائی آرمی کے برابر تھے جہنوں نے نیسیا پر دو سال تک حملہ کیا تھا جیسے انطاکیہ کے ساتھ صلیبی جنگ جو فوجیں یروشلم پر قابض ہو گئیں تھیں اور وہ یروشلم میں اتفاقی طور پر واقع ہونے والے حالات کی مدد کرنے کے ساتھ اُس پر قابض ہو گئے تھے ۔ بروقت جینوز کے بحری جہازوں کی خوراک اور ضروری تعمیری سامان کے ساتھ بروقت پہنچ ، تعمیری کاموں کے لیے مشینری یہ سب کُچھ جنگ جو کو فتح حاصل کرنے کے قابل بناتی ہے ۔(۱۷) ۱۵ جولائی ۱۰۹۹ کو یروشلم پر قبضہ کر لیا گیا تھا اور بنیادی طور پر یروشلم ایک سلطنت بن گئی تھی ممکنہ طور پر یروشلم کی سلطنت کو فرانس کے لفظ آؤٹیر مئیر کے طور پر جانا گیا تھا ۔ یہ سلطنت ویسے ہی علاقے پر پھیلی ہوئی تھی جس طرح پرانے فلسطین کا علاقہ تھا ۔

گارڈ فرائے یروشلم کے خلاف فتح حاصل کرنے کے لیے راہنمائی کی تھی اورع اسکا دفاع کیا تھا جب مصر کی فوج نے اُسکے خلاف حملہ کیا تھا ۔ انہوں نے کوشش کی کہ وہ دوبارہ اس پر قابض ہو جائیں ۔ ( ۱۸ )

سٹارک گارڈ فرائے کے بارے میں بیان کرتا ہے:

گارڈ فرائے اس سرزمین پر بادشاہ کا تاج پہننے سے انکار کر دیا تھا کیونکہ وہاں پر سونے کا تاج نہیں پہن سکتا تھا ۔ جہاں پر کانٹوں کا تاج پہننا تھا۔’’

اس سے پہلے کہ وہ مقدس مزار کا دفاع کرنے والے کے طور پر خطاب حاصل کرتا اُس نے انکار کر دیا ۔

سٹارک مسیحیوں کی نئی سلطنت کے بننے کا بارے میں بیان کرتا ہے،

مزید اس کے کہ یروشلم کی سلطنت میں وہاں پر سلطنت کے تین دوسرے جھوٹے جنگجو بھی تھے یہ ایڈیسہ کے علاقے کے تھے ۔۔۔ اور انطاکیہ کے حکمران تھے۔جو پورے انطاکیہ کے شہر کو گھیرے ہوئے تھے جو اب موجودہ ترکی ہے ؛ اور ٹریبولی کا علاقہ ، انطاکیہ کے جنوب کی طرف واقع ہے اور لینبیز کاسٹل میں بھی جو شہر کا نام پھیلے ہوئے تھے انطاکیہ اس علاقے کا بہت بڑا شہر تھا ۔ جس میں تقریباً چالیس ہزار رہائشی تھے ۔ ایڈسیہ میں تقریباً ۲۴ ہزار لوگ تھے ۔ ڈٹریپولی میں تقریباً آٹھ ہزار : یروشلم اکیلے میں تقریباً آٹھ ہزار لوگ رہتے تھے ۔ (۱۹)

یہ حیرانکن تاریخ تھی کہ صلیبی جنگ جوؤں نے سلطنت کو اسلامی فوجوں سے دوبارہ واپس جلدہ نہیں لیا تھا ۔ سلطنت کی بنیاد رکھنے کے بعد بھاری تعداد میں صلیبی جنگ جو یورپ واپس لوٹے تھے اور وہاں پر صرف تین سو بہادروں کو چھوڑا تھا اور بہت سارے فوجی سپاہسالاروں نے سلطنت کو ریاستوں کے قلعوں کی فوج کو کنٹرول کیا ۔ دوبارہ فتوعات کو سہارا اسلامی سلطنت میں پُر شور تفرقے کی وجہ سے چلا تھا اور جو صلیبی جنگجوؤں کے سامنے اکٹھے نہ ہو سکے۔ پہلی صلیبی جنگ کا وقت بھی قابل غور تھا ، دونوں سلطنتوں کو بچانے کے لیے مسیحی فوجوں کی طرفداری بہت اہم تھی۔

سلطنت کا دفاع ۔ بحری ڈاکیوں سے مدد

ایک سال کے بعد گارڈ فرائے کلر گیا تھا اور تین دنوں کے بعد اُسے یروشلم لے جایا گیا ۔ اُس کے بعد اُسے بھائی بالڈون نے کرسمس کے دن کا ۱۱۰۰ میں بادشاہ کا تاج پہنا حقیقت میں بالڈون سلطنت کے بانی نے سلطنت کو وسعت دینے کو بڑی اہمیت دی ۔ ابتدائی فتوعات میں سلطنت کو وسعت اور دفاع کو بڑھایا ۔ ناروے کے پاکیزہ لوگوں نے اور مسیحی مجاہدین نے سختی سے رسد کی ضرورت کو مہیا کرنے میں معنی خیز کردار ادا کیا اور فوج کو باہم مدد پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ شروع میں پہلے مسیحی بادشاہ یورپ سے بھیجا گیا تھا اس کی ایک مثال کا شمار کرتے ہیں ۔ یہ بادشاہ سیگرڈ تھا ۔ ناروے کے یاتری (مقدس، حاجی ) اس مقدس سر زمین میں آزادی کی بہادری کے کارناموں کی ناقابلِ بیان کہانیاں لے کر واپس لوٹے تھے ۔ یہ تحریک بالڈون کی مدد کے مقصد میں تبدیل ہو گی ۔ یروشلم کا نیا بادشاہ تھا ۔

بادشاہ سیگرڈ کو مقدس سرزمین کی ڈاکیوؤں کی فوج کی راہنمائی کے لیے منقتہ طور پر چنا گیا تھا ۔ ۱۱۰۷ میں بادشاہ سیگرڈ ۶۰ بحری جہاز اور پانچ ہزار مسیحی بحری جنگ جو ( بحری ڈاکوں ) کو لیکر مقدس سرزمین کی طرف روانی ہوا ۔ اس سفر کے دوران انہوں نے سات اہم جنگیں لڑیں ۔ ان میں کُچھ بتپرست بحری ڈاکیوں کے خلاف تھیں اور دوسرے وقت میں اسلامی فوجوں کے خلاف لڑیں ۔ سیگرڈ بذاتِ خود جنگ میں فیصلہ کُن فتح کے ساتھ لڑا۔ اُس نے سیسلی میں اسے بند بھی کر دیا تھا اور اس نے نارمن راہنماؤں کے ساتھ مضبوط باہمی تعلق بنائے تھے ، جنکا شمار روجر دوم نے کیا ہے ۔

اسکے بعد فلسطین ۱۱۱۰ میں پہنچے، سیگرڈ بالڈون کے مِلا جس نے اسکا استقبال بڑے اچھے طریقے سے کیا ۔ انہوں نے اکٹھے دریائے یردن میں جھڑی ڈالی او وہیں پر سِگرڈ نے بپتسمہ لینا پسند کیا تھا اور دوسرے عام مقدس کاموں کی مشق بھی کی تھی اور سِگرڈیت جڑ سے لیکر موسم سرما کے آغاز تک یروشلم میں ہی ٹھہرا رہا ۔ قدیم ناروے کے لٹریچر ، ہیمسکرائنگلہ: میں ناروے کے بادشاہوں کی تواریخ درج ہے۔ ستوری سٹیورلسن ریکارڈ کرتے ہیں:۔

بادشاہ بالڈون نے بڑی شانوشوکت کے ساتھ بادشاہ سِگرڈ اور اسکے تمام لوگوں کی دعوت کی اور اُسے بڑی مقدس یادگاریں دیں بالڈون کے اور کلیسیاء کے بزرگوں کے حکم سے مقدس صلیب سے لکڑی ایک چپٹی نکالی گئی اور اس مقدس یادگار کے ساتھ اُن دونوں نے حلف اُٹھایا یہ جو لکڑی تھی مقدس صلیب کی تھی ۔ جس پر خُدا نے بذاتِ خود بڑی تکلیف اُٹھائی تھی اور تب یہ مقدس یادگار بادشاہ سِگرڈ کو دی گئی اس صورت میں وہ اور اُس کے بارہ مرد اور بھی تھے ۔ اس بات کی قسم کھانی چاہیے کہ وہ مسیحیت کو اپنی پوری طاقت کے ساتھ پھیلائے ۔

اگر ممکن ہو تو اس لکڑی کلو ناروے میں آرچ بشپ کی سیٹ پر نصب کرے اور اس مقدس صلیب کو وہاں لے گئے وہاں پر جہاں مقدس بادشاہ اولاف رہتا تھا ۔۔۔ اس کے بعد بادشاہ سِگرڈ اپنی مزروعہ زمین کی طرف لوٹنے کے لیے واپس بحری جہاز پر گیا تب بادشاہ بالڈون شام میں کفاروں کے قبضہ سیڈاؤن کو جانے کی تیاری کی ۔ اُس کی وسعت پر بادشاہ سِگرڈ نے اس کا ساتھ دیا۔ اُس کے بعد بادشاہ نے کُچھ وقت کے لیے اُس گاؤں کو محاصرے میں لے لیا تھا ۔ اُس کے بعد انہوں نے اپنے ہتھیار ڈال دیے تب بادشاہوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ (۲۰)

سیٹورنسن نے فرنگیوں کے تسسل کی ایک پرانی نظم کو ریکارڈ کیا ۔ جو اُس واقعہ کی روح کی عکس مندی کرتی ہے۔

اینارسکلاسن نے بھی اس کے بارے میں بیان کیا ہے

‘‘ باروے کا کا بادشاہ ہکلاڈز کہتا ہے۔

کافروں کا قصبہ سیڈاؤن ہے

خطرناک شور کے ساتھ انجن چل رہا ہے

دیواریں اور پتھروں کی چھتیں تباہ ہو چُکیں ہیں

قصبوں کی دیواروں کی بربادی قریب ہے یہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ناروے کے باشندے ان سیاہ دیواروں پر چڑھ گئے ہیں

وہ بزرگ جہنوں نے اُن کے غارت کرنے کے اعلان کو پڑھا۔

جھوٹوں کے قصبے کو اپنی مرضی سے جیت لیا۔(۲۱)

اگرچہ بڑی بہادری کے ساتھ اُن کے خلاف زبردست لڑائی سے بڑی فتوعات حاصل ہوئیں اور وہاں پر بہت جانوں کا نقصان بھی ہوا تھا۔ جس طرح ماضی میں بیان کیا گیا تھا ۔ قرونِ وسطیٰ کے مفکر ایس بریچ نے دعویٰ کیا کہ از صلیبی جنگوں پر ۱۰۰،۰۰۰ زندگیاں اُٹھائی گئیں وہ جوان صلیبی جنگوں میں مریں تھیں ۔ہو سکتا ہے یہ تعداد بہت زیادہ ہو۔ صلیبی جنگوں کے تاریخ نگار، رونڈی سٹارک ۱۳۰،۰۰۰ کا حوالہ دیتے ہیں جو مقدس سرزمین کے لیے بندی ہوئیں تھیں اور ۸۸ فیصد یروشلم کو حاصل کرنے کے وقت ضائع ہو گئیں تھیں سٹارک مزید لکھتے ہیں یہ اُس وقت تک نہیں ہوا تھا جب تک یورپ کے اعلیٰ درجے کے بیٹے پہلی جنگِ عظیم کے دوران خندق میں ذبح نہیں ہوئے تھے۔ اس لیے یورپ نے ساری راہنمائی کی نس کو کھو دیا تھا جو پہلی صلیبی جنگ میں اُس جگہ پر بڑے تھے ۔ اُن میں وہ جو اُس دوران مشرق میں چلے گئے تھے اپنے اچھے وقت میں۔(۲۲)

پہلی صلیبی جنگ لڑنے والوں کی قربانیاں بہت حد مہنگی تھیں اور زیادہ تر زندگیاں اُنکی مقدس سرزمین کی آزادی کو حاصل کرنے کے لیے ضائع ہو گئیں تھیں ۔

سلطنت کا دفاع ۔ بیت المقدس کی حفاظت کرنے والے سورما اور رفائے عامہ کی جماعت

وضاحت میں بحری ڈاکو صلیبی جنگجوؤں اور فوج کو حکم جاری کیا کہ مقدس مقامات بنائیں جائیں اور اُس کا دفاع کیا جائے اور اُن کا جو اس سلطنت میں رہ رہے تھے ، اولیت کے مطابق ۱۱۱۹ میں ہیوہیگس دی پینس نے تیس قرینکش سے یروشلم میں راہنمائی بالڈون دوئم کے دورِ حکومت کے شروع میں ہوا تھا ۔ جس نے سلطنت پر حکومت کرنے کے لیے تین سال کے لیے حلف اُٹھایا اور مقدس حکم کو پورا کیا ان جنگ جوؤں کی خاص مہارت پر غور کریں ۔ بالڈون نے حکم دیا کہ وہ مقدس وعدوں کو حکم کو ترک کر دیں کہ وہ مقدس مقامات کو بچانے کے لیے اُسکی مدد کریں اُن کو جگہ کا نام دیا گیا اور سلیمان بادشاہ کے گھر کا بھی (سلیمان کی ہیکل کی نوعیت پر بھروسہ کرنا ) اور اُن کے نئے گھر کا بھی پتہ دیا۔

۱۱۲۵ ہیوہیگس دی پینس نے یورپ میں نئی تقویت کی تلاش میں یروشلم کو چھوڑا اور اُس نے صلیبی جنگجوؤں کے احکام کو حکم کے طور پر قانوناً مستحکم پایا۔ پینس یورپ میں صاحبِ اختیار آدمی حمایت کو حاصل کرنے کے قابل ہو گیا تھا ۔ اس کا نام برنارڈ آف کِلوویکس تھا ۔ برنارڈ اپنے دورے کے بہت معزز اور قابل ِ عزت تھیالوجی کے ماہر تھے اور اُس نے آرچ بشپوں ، بادشاہوں اور پوپوں کو بغیر کسی تعلق اور خوف کے اُن کو رد کیا ، وہ بذاتِ خود ایک بہادر آدمی تھا اور اُس کے حکم دینے کی ساخت آرمی کی طرح تھی ، برنارڈ ابتدائی طور پر زبردست بہادری کی وکالت کرتا تھا اور بہت سارے تجویز کرتے تھے کہ اُسکی خدمت کرنے کا انداز پرانے سر گلہاڈ کی طرح ہے ۔ برنارڈ نے قانون وقواعد کو لکھا جو ۷۲ آرٹیکل پر مشتمل تھا ۔ جس میں قواعد کی فہرست کو بھی شامل کیا تھا ۔ دُعائیں ، پرستش ، پاکیزگی، تقامیل اور لباس کے کوڈ بھی شامل تھے بہادروں کا لباس باحیا ہو ، جس پر چاندی کی کڑھائی کی گئی ہو یا اُن کے بازوں پر سونا نہ جڑا ہو اور وہ سفید پوشاک پہنے گئے۔ مشہور سرخ صلیب اُنکی چھاتیوں پر بعد میں شامل کی گئی تھی ۔ ۱۱۲۸ میں ایک چرچ کونسل ٹورس میں ہوئی جہاں یہ قانونی طور پر حکم جاری کیا گیا جس میں مسیح کے غریب بہادروں کے طور پر حکم جاری کرنے کی اور سلیمان کی ہیکل کی تصدیق کی گئی تھی ۔ ( جو بعد میں بیت المقدس کے بہادر دفاع کرنے والے کہلائے ، بیت المقدس کے دفاع کرنے والوں میں صرف اُن کو اجازت تھی جو بالغ اور پکے بہادر تھے۔ (۲۳)

۱۰۷۰ کے قریب ( ایک ہسپتال میں جو بعد میں سینٹ جان کے نام جانا گیا )

ایک نرس جو بیمار تھی جو یروشلم کے مقدس مقامات میں زخمی ہوئی تھی ۔ممکنہ طور پر لیڈرشپ نے یروشلم کے مقدس مقامات کی حفاظت شروع کر دی تھی اور جس میں تقریباً ۴۵ قلعے گریژن تھے ، یہ جنگ جو کالے چوغے پہنے ہوئے تھے اور اُن کے چھاتیوں پر سفید صلیبیں تھیں ۔ ۱۱۲۰ کے دوران وہ بیت المقدس کے دفاع کرنے والے کے پاس حریف آئے ہونگے اور اس وقت انہوں نے بہت ساری جنگوں میں حصہ لیا تھا ۔ سٹارک ان بہادروں کے بارے میں بیان کرتے ہیں ؛

قانونی طور پر سینٹ جان کے حکم کے طور پر جانا جاتا ہے۔

بہادر رفائےعامہ کی جماعت بیتالمقدس کے دفاع کرنے والوں کی اصطلاح برابر ہے اور اُنکی لڑائی کی قابلیت برابر ہیں اور حادثات جو انہوں نے برداشت کیے تھے بالکل برابر تھے جب وہ مقدس سرزمین کو چلا رہے تھے اور رفائےعامہ کی جماعت یورپ میں نہیں آئی تھی لیکن صرف اوڈس نے مسلمانوں کے ساتھ لڑائی کو جاری رکھا تھا ۔

اوریب لوڈس وہاں پر تھے ، وہ مالٹا پر قابض ہو گئے تھے انہوں نے مسلمانوں کے حملوں کو دوبارہ پسپا کیا ۔۔جھگڑا بہت زیادہ تعداد میں تھا ۴۰ ہزار اور چھے سے زیادہ جنگجوؤں کے درمیان ہوا تھا۔ فیالحقیقت اب مالٹا کے جنگجوؤں کے طور پر جانے جاتے تھے ، رفائےعامہ کی حمایت وہاں پر موجود تھی۔

( ۲۴ )

موجودہ تاریخ کی ترمیم میں رحجان

کیا صلاحدین ایک روشن خیال اور صابر مسلمان تھے؟

بارہویں سبق کے ابتداء میں ہم نے با اصول اور پوری دنیا کو اُس کے لیے محکوم بنانے کی دھمکی کے حکم کو بیان کیا تھا اور محمد کے کھڑے ہونے کے انداز کے طور پر آغاز ہی تھا۔ ۱۱۸۹ میں صلاحالدین نے  اس کے لے علاوہ حالیہ میں ۱۹۷۹ میں کھومیانی اور نومبر ۲۰۰۱ میں اُسامہ بن لادن منظر عام پر تھا ۔ ( دو مہنے کے بعد ۹ ۔ ۱۱ کے واقعات ) یہ طنزیہ طور پر تھا ، تاہم صلاحدین نے آسمان کی بادشاہی کی سکاٹ کے جنگ نامہ کی رہائی کی تصویر کشی کی ہے وہ بڑے روشن خیال مسلمان راہنما تھے انہوں نے رحم اور صبر کے ساتھ اس جنگ کو ختم کیا

اُن کے لیے جہنوں نے صلیبی جنگجو کی وحشیانہ تصویر کی تائید کی اور انہوں نے مسلمانوں کی پیاری سرزمین کے اندر امن اور صبر میں مداخلت کی تھی ۔ یہ طفلم گھر کو چلانے کے لیے ہٹ ہوئی تھی ۔ ریڈی سکاٹ کی ٹیم نے امریکہ میں مسلمان کے ساتھ تعلقات ( سی اے آئی آر ) کی کونسل کا انتظام کیا تھا اور دوسرے گروپوں نے اس خیال کی حمایت کی اوٹ میں مخالف احساسات سے پرہیز کیا تھا۔ ہالی وڈ نگار دلال سیاست کو درست کرنے کے لیے اکررہائی تھامس کبھی کبھار صحیح تاریخ کا نقشہ کھینچنا تھا۔

ریڈلی سکاٹ ناقابلِ بیان طریقے سے اس حیران کن فلم کا بیان کرتا ہے لیکن یہ بد قسمتی ہے کہ وہ اس حوالے کا انتخاب کرتا ہے کہ یہ اسلامی دباؤ کا نمانہ ہے ۔ یہ انٹریمبنٹ کے مقصد کے لیے جنگ نامے کو تاریخی طور پر حیس بنانا ایک مسئلہ ہے ۔ لیکن ایک دوسرا مسئلہ ہے جب تاریخ ہو جاتی ہے تو اس سوچ کو ماننا الٹ ہو جاتا ہے جس طرح یسعیاہ نبی دعویٰ کرتا ہے ۔ یسعیاہ ۵ : ۲۰ ‘‘ اُن پر افسوس جو بدی کو نیکی اور نیکی کو بدی کہتے ہیں اور نور کی جگہ تاریکی کو اور تاریکی کی جگہ نور کو دیتے ہیں اور شیرینی کے بدلے تلخی اور تلخی کے بدلے شیرینی رکھتے ہیں ۔ ’’ بہت ساری برطانیہ کی اکیڑمیاں اس فلم پر الزام لگاتی ہیں کہ یہ مکمل طور پر تاریخ کی سچائی پر لاگت ہے اور یہ مسلمان معاشرے کی طمانیت کرتی ہیں ۔ دوسرے تاریخ نگاروں کی بحث کا یہ ایک صدری عکس ہے۔

پروفیسر یونتھن ریلے سمتھ، صلیبی جنگجو کی مختصر تاریخ کا ایک مصنف ہے اور وہ دنیا کے تاریخ نگاروں کے دور کی راہنمائی کرنا ہے ۔ وہ فلم کو ‘‘ کوڑا کرکٹ’’ کہتا ہے وہ تفصیل بیان کرتا ہے کہ یہ تمام درست تاریخ نہیں ہے یہ مسلمانوں اور اُن کی تہذیب کی باطل دلیل پیش کرتے ہیں اور صلیبی جنگ تمام بے رحم اور وحشی تھے ۔ حقیقت میں کرنے کے لیے کُچھ نہیں تھا ؛ اوہ اور مسلمانوں کا مقابلہ یہودیوں اور مسیحیوں سے نہیں تھا ، یہ بالکل بے معنی بات ہے۔(۲۵)

مزیداس کے ریلے سمتھ نے کہا کہ فلم مکمل طور پر سر والٹر سکاٹ کی کتاب ‘‘ دی تالسمین ، جس کی اشاعت ۱۸۲۵ میں ہوئی تھی ۔ یہ روحانی طرز کی تحریر تھی اس میں صلیبی جنگجوؤں کی ۔۔۔۔۔دیکھائی گئی ۔ اس پر بھروسہ کرنی تھی ۔ اب مکمل طور پر اس کی بدنامی تاریخ نگار اکیڈمیوں کو جاتی ہے ۔ سپینز دوسرے تاریخ نگاروں کا شمار کرتا ہے۔

پروفیسر یونتھن فلپ ‘‘قسطنطینہ کو بچانے کے لیے ، چوتھی صلیبی جنگ کا ’’ مصنف ہے اس نے بھی فلم کی تصویر کو بھی ختم کیا ۔ وہ تاریخی سچائی کو بیان کرنا ہے اور اس نے اس موضوع کی یعنی صلیبی سورماؤں اور بیت المقدس کے محافظوں کے طور پر تصویر کھینچتی ہے ، بیتالمقدس کے محافظ ‘‘باڈیذ ’’ کے طور پر صرف مسلمانوں کے ظاہری تناسب سے سہارا دے رہے تھے اور ‘‘ باڈیذ ’’ یہظاہر کرنے کا کوئی غلط رستہ ہے یہ واقعی کوئی غلط رستہ ہے انکو مسلمانوں سے بڑی دھمکیاں چلی ہیں اور بہت سارے آخر تک مار دئے گئے تھے ۔ کیونکہ انکی شمشیرزنی کی صلاحیت صرف مقدس سرزمین کا تحفظ تھا۔ (۲۶ )

صلاح الدین کون تھا؟ وہ کرد کا باشندہ تھا اور شاہرُخ کا بھتیجا تھا، اُس نے ۱۱۶۹ میں مصر کو فتح کیا تھا ۔ اُس نے اُس شام پر فتح مند حکمرانی کی تھی ۔ نورالدین جس نے صلیبی سلطنتوں کے سورماؤں کے خلاف بہت دفعہ مہم جوئی بھی کی تھی اور صلاحالدین نے اسے فتح کیا تھا۔ ( ۲۷ ) صلاح الدین نے ۴۵ سال کی عمر میں الہ الدین کی بیوہ سے شادی کی اور تخت کو چھین لیا تھا اور ایک ہی حکمرانی کے ساتھ اس کو مصر اور شام میں لے گئے ۔ صلاح الدین دونوں بہت ساری صلیبی جنگجوؤں کے خلاف لڑائیاں جیتی اور ہاری بھی ہیں ، صلاح الدین نے اپنا عمل محمد کی بے درد جنگوجدل کے مطابق عمل کیا تھا ۔ ہیٹن کی لڑائی جولائی ۱۱۸۷ میں ہوئی ۔ اُسے بذاتِ خود آگے بڑھ کر رفائے عامہ کی جماعت اور بیت المقدس کے محافظوں کے طور پر حصہ لیا تھا اور تب اسکی فوج ختم ہو گئی تھی جو باقی بچنے والے بہادر تھے انہی پر تکیہ کیا تھا ۔ ( ۲۸ )

کُچھ لوگوں کا خیال ہے کہ یروشلم کو فتح کرنے کے بعد صلاح الدین کے کام رحم کرنے والے کام تھے ۔ یہ غلط تھا اسکی ذاتی طور پر خواہش تھی کہ وہ مکمل طور پر مسیحیوں کو جہاں سے نکال دے ۔ مگر اسکا موزوں ذریعہ دولت حاصل کرنا تھا ۔ صلاح الدین نے بازنطینی شہنشاہ کے صلح نامہ پر مہر کر دی تھی اگرچہ یہ قانون کی پابندی کی آمیزش کرنا تھا ۔ یہ بہت زیادہ ممکن تھا ۔ وہ سات ہزار یروشلم میں رہائشیوں سے اور ۳۰ ہزار بسنت کے رہائشیوں کو آزاد کرنے پر راضی ہو گیا تھا ۔

اور دوسرے شہر کے آدھے لوگ مارکیٹ میں غلاموں کی طرح بیچ دیئے گئے تھے ۔ اس لیے صلاح الدین کا ایک رحم کا نمونہ یروشلم کو لوٹا ہے اور شہر کے آدھے لوگوں نے غلاموں کی طرح مارکیٹ میں بھیجنا تھا۔

جبکہ دوسرے نمونے خاص طور پر اسلامی بدلے اور تیزی سے جنگ و جدل محمد کے مسلمانوں نے کردار کے نمونے کی خاص درسگاہ تھی ۔ وہ کِس قسم کا روشن خیال اور رحم دل ہیرو تھا۔؟ صرف وہ جو اسلام کو رفع کرنے کی خواہش کرتے ہیں اور اسلام کی سچائی کو انوکھی اور غلط تصویر میں ایک اسلام کے ہیرو کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ بذاتِ خود اکثر کُتب خانوں ، کتابوں اور علم کی تباہی میں شامل تھا ۔ اسلام کے ابتدائی سالوں میں سکندریہ کو فتح کرنے کے بعد مسلمان کمانڈر نے خلیفہ عمر سے پوچھا کہ دمشق کی عظیم لائبریری کے بارے میں کیا کرنا چاہیے ۔ جس میں سینکڑوں ہزاروں طومار پڑے ہوئے ہیں ۔ سپنسر ان واقعات کا دوبارہ شمار کرنا ہے ۔

عمر کو کہا گیا کہ اس کا جواب دے، ‘‘ کہ جو کُچھ اس پر لکِھا گیا کیا اس کے ساتھ خُدا کی کتاب (قرآن  ) متفق ہے، اگر یہ متفق نہین ہے تو ان کی ضرورت نہیں ہے ۔ اس لیے اِن کو ضائع کر دیا جائے ’’ اس طرح سے ان چار ہزار عام طوماروں کو شہر کے ایندھن کے طور پہ استعمال کیا گیا اور اس جلائے جانے میں چھ مہنے لگے۔ ( ۲۹  )

اِسی طرح صلاح الدین نے قاہروؓں میں لائبریریکو بند کر دیا گیا اور کتابوں کو ترک کر دیا۔ ( ۳۰ )

اسلام سائنسی اور بیصرت کے لیے ایک عظیم ذخیرہ ہے؟

ایک اور مشہور عقیدہ جو سالوں سے گردش کرتا رہا ہے کہ مسلمانوں نے فن، موسیقی، ثقافت، تعمیر، سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی کی ہے تاہم اِن دعوٰوں کو چیلنج نہیں کیا گیا ۔ سب سے پہلی بات حدیث میں ایک بڑی فہرست ذکر کرتی ہے اور ایک مفصل وضاحت بیان کرتی ہے کہ محمد نے پُرزور طریقے سے فنون، تصاویر، موسیقی، موسیقاروں خاص آلات یہاں تک کہ پالتو جانوروں جیسے کہ کتے اُن کی مخالفت کی تھی ۔ اسلامی قانون کے مطابق ثقافت ایک لعنت تھی اور مسلمانوں کے لیے ممنوع تھی کیوں محمد کے ڈینمارک میں کارٹونوں کے فنکاری کے ڈرامے پر یہ غُل گپاڑا تھا؟ یہ مادہ سی بات ہے کہ یہ اسلامی فلسفہ قانون کے مطابق اور محمد کے نقطہ نظر کے مطابق ایک لعنت تھی۔

تقریباً تمام اسلامی ثقافت اور سائنس کی ترقی براہ راست یہودی ، مذہبی ثقافت سے لی گئی جو اُس زمین میں بستے تھے جو لوگوں نے فتح کی ۔ اسلامی تعمیر کی کمزور داستان جو مسجدوں کے نمونوں کی صورت مں ہے ۔ وہ مشرقی رومی سلطنت کے مضبوط مسی

ھی ڈھانچوں سے لی گئی ۔ چٹان کا مشہور گنبد مشرقی رومی سلطنت کے دستکاروں اور معماروں نے پیش کیا اور یہ کلیسیاء کے پاک حصہ سے مشابہت رکھتا ہے ۔ بہت سے مشہور مساجد مسیحیوں کے گرجا گھروں سے اضافی میناروں اور کُچھ اندرونی ڈئیزان کی تبدیلیوں کے ساتھ بنائی گئی ہیں ابتدائی سائنسی کتاب جو عربی میں لکھی گئی وہ شام کے مسیحی کاہن جو اسکندریہ میں بہتا تھا اُس نے طِب پر لکھی ۔ یہ کتاب فارسی یہودی فزیشن کی کتاب کا عربی میں ترجمہ ہے۔ ( ۳۱ ) اسٹاک اسلامی ادویات کی بنیاد کا خلاصہ کرتا ہے:

‘‘ مسلمان ’’ یا ‘‘ عرب ’’ ادویات درحقیقت مسیحی دوائی کی حقیقی شکل ہے۔  یہاں تک کہ بڑے بڑے مسلمان اور عرب کے ڈاکٹر بھی عظیم نسٹورین میڈیکل سنٹر جو شام میں نسی بس میں تربیت پا چکے ہیں نہ صرف ادویات بلکہ ترقی یافتہ تعلیم کا ایک مکمل سلسلہ بھی نِسی بس میں دوسرے سیکھنے کے ادارے بھی نسٹورین نے قائم کیے جن میں سے ایک جنڈیشر پُر ہے جو کہ سائنس کی تاریخ میں اعلیٰ مقام رکھتا ہے ۔ جارج سرمُون نے ( ۱۸۸۴ ء ۔۔۔ ۱۹۵۶ ء ) میں اِس کو اُس وقت کا سب سے بڑا دانش کا مرکز کہا ۔ اِس طرح سے نسٹورینس نے جلد ہی عرب میں اپنی ایک ساکھ قائم کی جس میں اُس نے بہترین اکاونئنٹ ماہر تعمیر، فلکیات دان، بنکر، ڈاکٹر، تاجر فلاسفر ، سائنس دان ، بتالہ نویس اور اساتزہ پیش کیے ۔ درحقیقت نوی صدی کی ابتداء میں تقریباً تمام پڑھے لکھے مفکرین جو اسلامی علاقوں میں تھے وہ نسٹورین مسیحی تھے ۔( ۳۲ )

 مشہور عربی عدد شماری کرنے والوں نے زیرو کا تصور ایجاد کیاجِس کو مسلمانوں نے اپنی ایجاد کے طور پہ بنا لیا ۔

اگرچہ یہ حقیقت میں اسلام سے پہلے ہندوستان میں ایک ہندو کی ایجاد تھی یہاں تک کہ مار ما ڈیوک پکٹیل جو کہ قرارن کا ایک مشہور مترجم تھا اور جس نے اسلام قبول کر لیا اُس نے اِس بات کو تسلیم کیا کہ جدید اسلامی ثقافت مقامی فاتح لوگوں میں سے ہو کر آئی ہے ۔ اسلامی نیو بحری فوج بھی اسی سے بنی ہے اور بذہنٹائن اور دستے بھی اِسی سے بنے کیونکہ عرب والوں کو سمندری سفر کا کوئی علم نہ تھا۔ ( ۳۳ ) یہ مثالیں مسلمانوں کے اُدھار لئے گئے کلچر تہذیب کی سطح کو  کریدتی ہے اور یہ کریدنے کا کام اِس مقامی سر ذمین میں رہنے والے لوگوں نے کیا۔

جہادوں کا خلاصہ

جہادوں کا آغاز ۱۰۹۵ میں ہوا اور ساتواں جہاد ۱۲۵۰ تک رہا آخری جہادی شہر اور علاقے ۱۲۹۱میں مجبوراً اسلام قبول کر گئے۔ پہلے جہاد ( ۱۰۹۸ء سے ۱۰۹۹ ء ) کو ایک بہت کامیاب جہاد قرار دیا گیا جس میں یروشلم کو دوبارہ فلسطین میں بطور ایک مسیحی مضبوط علاقے کے قائم کیا گیا ۔

دوسرا جہاد ( ۱۱۴۶ء سے ۱۱۴۸ ء ) میں مکمل ہوا یہ جہاد ناکام قرار دیا گیا کیونکہ ۱۱۴۴ءمیں ابتدائی مسلمانوں نے اِس میں کامییابی پائی ۔ تیسرا جہاد ۱۱۸۸ ء سے ۱۱۹۲ ء میں پوپ گریگری ہشتم نے صلاح و دینکی فتح کے جواب میں ہیٹن میں ۱۱۸۷ ء میں اُن جہادی جو یروشلم میں تھے اُن کے خلاف کیا ۔ یورپ کی بہت ساری مشہور شخصیات اِس مزن میں شامل تھیں جن میں انگلینڈ کے شیردل بادشاہ رچڑڈ سے اور فرانس کے بادشاہ فلپ اور شہنشاہ فریڈرک بار با رُوسا اُنہوں نے یروشلم تو نہ لیا لیکن وہ اِس قابل ہوگئے کہ وہ ساحل لیوینٹ کے ساتھ ساتھ کی جہادی زمین پر قبضہ کر لیں ۔ چوتھا جہاد ( ۱۲۰۱ ء سے ۱۲۰۴ ء)میں کونسٹنٹ ٹائن کی جنگ میں تبدیل ہوگیا اورلاطینی بادشاہت کے قیام پر ختم ہو گیا اس عرصے کے دوران بہت سارے ادرونی شاہی خفیہ راز بھی سامنے آئے جہنوں نے سابقہ بیذینٹائن لڑایئوں کو جہادوں میں اکٹھا کر دیا اور یہ سب دارلخلافہ بیذینٹان کا نتیجہ بنے ۔ پانچواں جہاد (۱۲۱۸ ء سے ۱۲۲۱ء ) میں ہوا ۔ چھٹا جہاد (۱۲۲۸ ء سے ۱۲۲۹ ء) میں ہوا اور ساتواں جہاد ۱۲۴۸ء سے ۱۲۵۰ء میں ہوا جس کا مرکز بنیادی طور پہ مِصر تھا اور اِس کا زیادہ تر حصہ ناکامیوں کا ہے ۔ ساتویں جہاد کے دوران کٹر مذہبی بادشاہ لویس نہم نے اس مہم کی راہنمائی کی ۔جہادی کُچھ عشرے تک دباؤ ڈالتے رہے لیکن آخرکار اِن کی قوتیں ۱۲۹۱ء میں بٹنی شروع ہو گئی ۔ ( ۳۴ )

 کُچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ جہاد ناکام ہوئے کیونکہ اِس کے بعد بادشاہتیں نہیں رہیں لیکن یہ نتیجہ مندرجہ ذیل حقائق کے سبب سے ناکام ہے جیسا کہ پچھلے باب میں ذکر کیا گیا ہے کہ کونسٹنٹ ٹائمپل اور ٹورذ کی لڑائیاں مسلمان سپین کے فاتحین مشرقی وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے فاتحین کے قصے مشہور ہیں ۔ اسلامی گِدی نشینوں نے ویانہ کی اور ورنا کی اور قصاؤ  کی بڑی بڑی لڑایئوں میں یورپ کو بھی فتح کرنے کی کوشش کی ۔ لیکن یہ بائلون کے گاڈفربے بوہی مونڈ کے ٹرائنٹو شیردل بادشاہ رچرڈ بادشاہ لوئیس نہم اور بہت سے دوسرے ہیروز نے ایسا نہ ہونے دیا۔ اسلامی فوج کو یورپ میں سے نکال دیا گیا اگرچہ یہ اُن کے بُہت سارے حصوں پر اختیار لے چُکی تھی۔ ( ۳۵ ) درحقیقت یورپ میں اچانک اسلامی حملوں میں اِن جہادوں کے عرصے کے دوران بہت سے لوگ ختم کر دیئے گئے ۔ اس بات پر بھی بحث کی جا سکتی ہے کہ مغربی لاطین نے بیذینٹائن شہنشاہ کی درخواست جو اُس نے مدد کے لیے کیاُس کو نظرانداز کر دیا گیا ۔ اسلامی فوجوں کو کونسٹنٹ تائمپل سے نکال گیا اور یورپ کے بڑے حصے میں دھکیل دیا گیا ۔جہادیوں نے سفر کا انتخاب کیا اور ایشیاء مائنر سے لیکر بیذینٹائن تک بہت سارے علاقوں کو بحال کیا جبکہ فلسطین میں اپنا تسلط قائم کیا۔

جہاد اور بائبل کا ‘ حیوان ’

گدی نشینیوں کی باشاہت کی وُسعت

بارھویں صدی کے ابتدائی حصے کے دوران بسیار خور منگولوں نے ایک لاکھ خانہبدوش جنگ جوئیوں کے ساتھ خود کو مغرب کی طرف دھکیل دیا اور اُن کی راہنمائی جن جیس خان ( جو کہ ایک بینالاقوامی حکمران تھا ) نے کی جین جیس خال ۱۲۲۷ ء میں مر گیا لیکن اپنی وسیع سلطنت چار بیٹوں کے درمیان تقسیم کر دی ۔ یہ نئی بادشاہتیں گولڈن منگولی بادشاہتیں کہلائیں جس کا زیادہ تر حصہ روس، یوکرائن، جنوبی پولینڈ، بلغاریہ، اور ہنگری سے لیکر ساحل ایڈرئیٹک تک قائم ہوئیں۔ ( ۳۶ ) ( ۱۲۹۴ ء سے ۱۳۰۴ ء ) میں غزنی سلطنت کے دوران منگول حکمرانوں نے اسلام قبول کیا اور دوسری اسلامی قوتوں کے خلاف جس میں سلجک ترک شامل تھے اور یہ وہ لوگ تھے جہنوں نے اِنسٹولیا کے بہت سارے حصے میں حکومت کی تھی ۔ منگولوں کے حملے سے بچ کر ترکوں نے مغربی انسٹولیا کے علاقے کے پہاڑوں کی طرف ہجرت کی اور اس بات نے دنیا کی تاریخ میں ایک بہت اہم نقطہ گدی نشین شہنشائیوں کے مستقبل کے لیے ثابت کیا کراش اِن اسلامی جہادوں کے بارے میں بیان کرتا  ہے :

اس معاشرے پر غزا کے فوجیوں کا اختیار تھا اور یہ ابتدائی دنوں کے اسلامی لوگوں کی یاد دلاتے ہیں جہنوں نے جہاد سے محبت کو فروغ دیا اور اس کی ہتھیائی ہوئی چیزوں علاقے اور ساخت کو دنیا کی بے قیام مذہبی وبسگی کو ضائع کر دیا ۔ غزنیوں کے دستوں جو کہ مذہب کے جہادی تھے سارے ملک میں اُسے فروغ دیا وہ ہتھیائی ہوئی چیزوں پر زندہ  رہتے تھے جو اُنھوں نے بیذینٹائن کے لوگوں کے ساتھ مسلسل لڑائی کے ذریعے سے حاصل کی تھیں ۔ ان میں زیادہ تر ترک منافع خور تھے۔ ( ۳۷ )

سوگٹ سے ایک ترک علاقی جو مغربی انسٹولیا میں ہے وہ عثمان کی خلیج کے نام سے مشہور ہوا ۔ ( ۱۲۵۸ ء سے ۱۳۲۶ ء اور یہی گِدی نشین کہلائے۔ ۱۳۰۱ء میں گدی نشین جِس کے ترجمے کا مطلب ہڈی توڑنے والے کیا گیا اُنھوں نے بہت شہرت حاصل کی کیونکہ اُنھوں نے جنوبی کونسٹنٹ ٹائمپل کی زبردست بیذینٹائن قوت کو شکست دی ۔ گدی نشین نے اُنھیں بیذینٹائن کے علاقے تک دھکیلا اور گدی نشینوں کے سردار نے اپنے بیٹے اُوریان کو فوجی طاقت میں چھوڑا اور اُس نے اپنی بادشاہت کو پھیلا لیا ۔ اُوریان نے بیذینٹائن کی قوتوں کو جو انسٹولیا میں تھی علامتی طور پہ نظرانداز کر دیا اور جنوب مشرقی یورپ میں چڑھائی کی ۔ اُوریان کے بیٹے مُراد نے ( ۱۳۶۱ ء سے ۱۳۸۹ء ) تک اسلامی وسعت کو جاری رکھا اور جنوبی کونسٹنٹ ٹائمپل تک لے گیا اور پھر بلغاریہ اور سربیا کی زمینوں تک اگلے دو عشروں کے لیے مُراد نے اپنے علاقوں کو اختیارکے لیے مسلسل وُسعت دی ۔ ( ۳۸ )

مُراد نے جینی سریز  لوگوں کو دریافت کیا جینی.سریز ابتداء میں جوان باکن لڑکے تھے جن کی عمریں عام طور پہ دس سے بارہ سال تھی اور اِن کو ۸ اور ۲۰ کے درمیان کے لڑکے بھی تصور کیا جاتا تھا ۔ تُرکی منتظمین اس سلطنت میں سکائٹ ہوتے تھے اور مسیحی خاندانوں سے اُمیدوار لڑکوں کو قبضے میں لیا جاتا تھا اور اُنھیں عثمانی سلطنت کے لیے مضبوط جہادی جنگ جُو بنایا جاتا تھا ۔ یورپ کے بعد ابتدائی روم میں پہلی منظم فوج بنائی گئی ۔ سپنسر اس کے بارے میں بیان کرتا ہے:

جینی سریز عثمانی سلطنت کے سب سے زیادہ خطرناک جنگ جو تھے جو مسیحیت کے خلاف تھے اور اِن فوجوں کے اندر جو لڑکے تھے وہ مختلف علاقوں سے جمع کئیے گئے تھے ۔ مسیحی باپ مجبور تھے کہ وہ اپنے بیٹوں کو اس میں بھیجتے اور مسلمانوں نے مضبوط ترین اور ذہین ترین لڑکوں کو لے لیا تھا جو دوبارہ کبھی بھی اُس وقت تک اپنے گھروں میں نہ آئے جب تک کہ وہ اُس علاقے کی مسلمان فوج کا حصہ نہ بن گئے۔ ( ۳۹ )

یہ جوان لڑکے مکمل طور پر اسلامی خیموں کے نیچے اُن کے زیرسایہ تعلیم پاتے اور اُن پر شدید نظم وضبط لاگو کیا جاتا تھا ۔ جینیسریز ہر بڑی عثمانی جنگ لڑیں گئے اور وہ جہادی سربرائیوں کے خلاف بھی محاصرہ کریں گئے۔ ( ۱۵۲۲ء )

اسلامی عثمانی حملہ آوروں نے مزید ( ۱۳۸۵ء) میں صوفیہ کی فتح کے ساتھ وُسعت پائی اور بعد میں مزید دو سالوں  میں سیلونیکا کی بندرگاہ کو بھی فتح کیا۔

 ( ۴۰ ) ۱۳۸۹ء میں مُراد نے اپنی فوجوں کو مسیحیوں کے خلاف کسوو کی لڈائی میں لایا ۔ سپنسر اِس کے بارے میں لکھتا  ہے ۔

جنگ سے پہلے کی رات میں عظیم وزیر نے قرآن کھولا اور اُس سے فوجیوں کو اُکسایا اُس کی آنکھیں اُس آیت پر گئیں جس میں لکھا ہے ۔ ‘‘  اےنبی منافقوں اور بے ایمانوں کے ساتھ لڑ۔’’ اُس وزیر نے کہا کہ یہ مسیحی کتے بے ایمان اور منافق ہیں۔

ہم اِن کے ساتھ لڑتےت ہیں ۔ وہ اِن کے ساتھ لڑا اور ایک بڑی فوج اِن کے خلاف پھیل گئی اور ۱۵ جون کے دن سربیوں کے خلاف یومِسوگ منایا۔

( ۴۱ )

بِضد نے ۱۳۸۹ء سے لیکر ۱۴۰۲ء تک اپنی سلطنت کو بڑھایا اور ستمبر ۱۳۹۶ء کو ایک منظم جہاد میں جو کہ نیکو پوُلس کے شہر میں بلغاریہ کے قریب ہوا شکست دی۔ اِن فوجی دستوں کے جوتوں کی بڑھتی ہوئی آواز نے ترکی کرنلوں کو جو بلقان کے علاقے میں نئے نئے آباد ہوئے تھے ہلا کر رکھ دیا۔ ( ۴۲ ) یورپ کی اسلامی اختیار نے خود کو جلد رونما کیا۔

خوش قسمتی سے یورپ کے لیے جیس خاں کے منگول ورثاء یورپ میں آئے جو تمرلین یو تمُوری کہلائے۔ ( ۱۳۳۶ء سے ۱۴۰۵ء ) تیُموری لوگوں کا یہ فرقہ اسلامی فرقے نقشبند سوفی فرقے سے تعلق رکھتا تھا اور یہ ترکی جہادی فوجوں کے خلاف بہت سے اسلامی علاقوں میں لڑے ۔ تموریوں نے ۱۴۰۲ء میں ترکوں کو انقرہ میں شکست دی اور پھر اپنی توجہ چین کی طرف کر لی۔ اِس صورتحال میں عثمانی سلطنت کمزور پڑ گئی۔ یورپ کے لیے یہ وقفہ مختصر ہوا کیونکہ ۱۴۰۵ء میں تموری سلطنت اُس کی بادشاہ کی وفات کے بعد الگ ہو گئی۔ عثمانیوں نے اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو دوبارہ لے لیا۔ محمود دوم نے بیذینٹائن کے دارلخلافہ کو جیتنے کی کوشش کی اور دوبارہ بیذینٹائن کے شہنشاہ نے لاطینی کلیسیاء کو اسلامی جہادیوں کے خلاف فوجی مدد کے لیے کیا، شہنشاہ جون ہشتم آرتھوڈوکس اور کاتھولک کلیسیاؤں کو فلورین کی کونسل میں اکٹھا کرنے پر اپنے شہنشاہت کے دفاع کی اُمید پر متفق ہو گیا، پوپ ایگنس ہشتم پولینڈ ہنگری اور والکیا سے ایک فوج کو بھینے پر رضامند ہو گیا۔

ورنا ہنگری کی مشہور لڑائی ( ۱۴۴۴ء ) میں مُراد نے تیس ہزار جہادیوں کی ایک فوج کو شکست دی۔ ( ۴۳ )

ورنا کے مقام پر شکست کے بعد ابھی زیادہ دیر نہیں گذری کہ عثمانی دستے نے اپنے بہت لمبے عرصے کے انٹظار کیے ہوئے مقاصد کو ۲۹ مئی ۱۴۵۳ء میں حاصل کر لیا۔  محمود دوم نے اپنا سفید گھوڑا کونسٹنٹ ٹائمپل میں دوڑایا تاکہ اِس قابل فخر شہر کو اپنی سلطنت کے نئے دارلخلافہ کے طور پہ لے سکے اور جیت کے ٹائٹل کے ساتھ فاتح کا ٹائٹل لکھ سکے یہ مغرب کے لیے ایک بڑی شکست تھی اِس شہر کے لیے یہ ہمیشہ عظیم یورپ کی دیوار کا ٹائٹل لگتا تھا ۔ محمود کی بادشاہت کے تحت عثمانیوں نے یونان ، سربیہ، بلقان کے ایک بہت بڑے حصے اور کرائیمن پینی سولہ کو بھی فتح کیا روس مرکزی ایشیاء اور یورپ کے درمیان اہم تجارت کے راستے اب عثمانی حکومت کے تحت تھے ۔( ۴۴ ) اِن حکمرانوں کے تحت اسلامی عثمانی سلطنت فلسطین ، مصر ، عرب، عراق، شمالی افریقہ ہنگری کے بہت بڑے حصول اور جنوبی اٹلی تک پھیلتی چلی گئی ۔

 ۱۵۲۹ء میں ترک ویانہ کے دروازوں تک تھے ۔ عثمان کی حکومت میں عظیم بادشاہ سلیمان ۱۵۲۰ء سے ۱۵۶۶ء تک اسلام کا گھر تھا اس نے دوبارہ ایک ہی سلطنت الہی خلافت میں بدل دیا۔ کرش اِن واقعات کے بارے میں بیان کرتا ہے:

جلد ہی عثمانی سلطنت بلندترین مقام تک پہنچ گئی ۔

ایسے مقام تک جِس نے پہلے کبھی بھی اتنا عروج نہیں پایا تھا ماضی کی مسلمان سلطنتوں کو دبا دینے والے پریشر سے پستی کے عمل کا سامنا بھی تھا اُن کے درمیان تنظیمی ابتری بھی تھی اور ہر طرح کے سالوں سال رہنے والے مسائل بھی تھے جس کے سبب سے وہ آفتوں کا شکار رہے معشیت آہستہ ہستہ پستی چلی گئی لیکن اب اِس نے بہتر ہونا شروع کیا لیکن جنگوں پر بہت زیادہ روپیہ پیسہ خرچ کرنے کی وجہ سے عثمانی حکومت تجارت کے خسارے میں چلی گئی ۔ جس کے سبب سے ناصرف خام مال اور مقامی صنعتیں متاثر ہوئیں بلکہ سونے اور چاندی کا کاروبار بھی بہت زیادہ انحصار میں چلا گیا۔ ( ۴۵ )

 ایک سلطنت کے یہ کردار پستی میں چلے گئے اور پھر تاریخ میں یہی ہوتا رہا۔ سلطنت اور ریاستیں دھوکہ دیتی رہیں ایسا دھوکہ جو اِس سے پہلے کبھی نہیں ہوا کیونکہ اُنھوں نے ایک ایسا منصوبہ باندھا کہ وہ کِسی بھی مسئلے کو حل کرنے میں بچے عثمانی سلطنت نے اپنی جنگوں کی وسعت کو جاری رکھا ۱۶۸۳ء میں ترکوں نے ویانہ کو لینے کی کوشش کی لیکن اُن کا سامنا ایک اور بڑے گروہ سے ہو گیا ۔ پاک رومی سلطنت اور پالش لیتھینن کومن ویلتھ یعنی ( ہولی لیگ ) سے تاریخ دانوں نے ۸۰۰۰۰ سے ۸۴۰۰۰ مغربی گروہ کے جنگجوؤں کا تخمینہ لگایا ہے جِس کی راہنمائی پالش بادشاہ جانتھری، جانسن سوم، صوبیسکی کر رہا تھا یہ جنگ میں ایک لاکھ تیس ہزار سے لیکر ایک لاکھ پچاس ہزار عثمانی ترکوں کے خلاف تھے اِن میں ایک بڑا گروہ آلیڈ جینسری کا بھی تھا۔ ویانہ کی لرائی میں تاریخ کا سب سے بڑا گھوڑوں کے دستوں کا گروہ بھی شامل تھا ۔ یورپین اتحاد نے اپنی فتح کو ثابت کیا اور وہ مغربی تہذیب کے ہیرو کہلائے آخرکار عثمانی سلطنت مزید گِر گئی اور اُس کو ایک بُرے استعارے یعنی ‘‘ یورپ کے بیمار آدمی ’’ کا نام دیا گیا ۔ آہستہ آہستہ مزید بربادی پہلی جنگِ عظیم تک جاری رہی اور اسلامی عثمانی خلافت ۳ مارچ ۱۹۲۴ء کو آئنی طور پر برپا ہو گئی اور مکاشفے کی کتاب میں لکھا ہوا ‘‘ حیوان ’’ اب زخمی ہو گیا ۔

آرمینیاء کی نسل کشی

گرائے جانے کے باوجود ترکوں نے بہت سی لڑائیاں لڑی اور بہت سے وحیشیانہ جرائم اپنی آخری بربادی تک کرتے رہے بیسویں اور اکسیویں صدی میں سلمان گروہوں نے تشدد کو جاری رکھا ۱۸۹۴ء سے ۱۸۹۶ء تک ترک مسلمانوں نے آرمینیاء کے ۲۵۰۰۰۰ مسیحیوں کو ذبح کیا ۱۹۰۴ء اور ۱۹۰۹ء میں مزید ۳۰۰۰۰ آرمینیوں کو مارا گیا ۔ ۱۹۱۵ء میں ایک بار پھر پہلی جنگِ عظیم سے پہلے مسلمان ترکوں نے انتظامی طور پر ایک ملین آرمینیوں کی نسل کشی کر دی بہت سارے گولی کا شکار ہوئے بہت سوں کو ڈبو دیا گیا جن میں بچے بھی شامل تھے اور بہت سوں کو پہاڑوں کی چوٹیوں سے گرا دیا گیا اور جو بچ گئے اُن کو ملک بدر کر دیا گیا یا غلام بنا لیا گیا۔ ( ۴۶ ) کوئی بھی شخص اِن کی نسل کشی پہ غور کر سکتا ہے کہ یہ کتنی متاثر ہوئی ۔ اسلامی ترک اداروں میں تشدد کے لیے ہتھیار موجود ہیں اور یہ ادارے تشدد اور موت کے خطرات پیدا کرتے تھے ایک بار پھر آرمینیوں نے اپنی دفاع کے سارے ذرائع کو کھو دیا جب اُنھیں ملک بدری اور قتل کے ذریعے سے بڑے پیمانے پر ذبح کرنا شروع کیا گیا ایک اور ملک بدر پالیسی کے تحت مسلمان اِس قابل ہوئے کہ وہ دوسری قوموں کو دھوکہ دینے میں مداخلت کریں۔ حقیقت میں اُن میں زیادہ تر اُن کو ذبردستی ٹرینوں کاروں میں راستے ہی میں مار دیا گیا یا بھوک سے مار دیا گیا ۔

دوسرے جو سمندر کے راستے گئے اُن میں سے اکثر کو پانی میں ڈبو دیا گیا وہ جہنوں نے سریا کے صحرا کے ذریعے سے سفر کیا جو کہ افرات کے ساتھ ساتھ ہے اُن کو یا تو قتل کر دیا گیا یا بیماری سے مر گئے۔ ( ۴۷ )

اِسی اثنا میں مکمل مذہبی صفائی پورے آرمینیاء کے صوبوں میں ہوئی ۔ کرشن وین کے صوبے کی ایک مثال بیان کرتا ہے:

بڑا قاتل ڈی جے ویدت پاشا تھا جو کہ جنگ کے منسٹر ایبتر پاشا کا سالہ تھا جو کہ فروری ۱۹۱۵ء میں وین کا گورنر بنا اور ایک بری ترین خبر یہ تھی کہ آرمینیاء میں متاثرین کے بدنوں پر گھوڑوں کے پاؤں کے نشاناتت تھے۔ ڈی جے ویدت نے کوئی ۸۰۰ لوگوں کو ذبح کیا جن میں زیادہ تر بوڑھے آدمی عورتیں اور بچے تھے۔ اپریل تک مرنے والوں کی تعداد دس ہزار ہو گئی اور آنے والے مہنوں میں وین کے علاقہ میں اِن کی آبادی اور زیادہ بڑھ گئی۔ ( ۴۸ )

ہٹلر آرمینیوں کی نسل کشی کے اِس نمونے کو اپنے ہتھیار کے لیے زبردست تباہی کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ ہٹلر اور ہینرچ ہملر دونوں ہی اسلامی فرقوں کے طریقوں سے جو اُنھوں نے نسل کشی کے لیے استعمال کیے اُن سے متاثر تھے ۔ ہٹلر سٹائِطن، مائیو، پولپوٹ اور بہت سے دوسرے اِس نسل کشی کے طریقے سے متاثر تھے اور اُنھوں نے اِس کو اپنایا اور اپنی حکومتوں میں دہشتگردی اور لاکھوں کے ذبح کرنے میں اِس کو اختیار کیا مسلمان اِس منصوبہ سازی میں بانی تھے اور اکیسویں صدی کے تمام تر عظیم ڈکٹیٹروں نے اِنھی کی نقل کرنی شروع کی۔

ریاست متحدہ امریکہ کے شہریوں نے یہ برکت اپنے آباواجداد کی باریک بینی سے پائی کہ وہ اپنے حق کو آہنی قوانین کے تحت حاصل کریں۔ بانیوں کو یہ بات بڑی گہری طور پہ پتہ چلی کہ وحشیانہ حکومتیں لوگو کی جاتی ہیں اور اِن کی بنیاد یورپ کی تاریخ میں موجود ہے اور اُن کی جدوجہد ایک نئی ریپبلک حکومت کو قائم کرنے میں تھی ۔

   مزید برآں ہتھیاروں کی ضبطی میں ہٹلر نے بھی خیموں کے مظلوموں تک پہنچانے کے لیے ٹرینوں کو آمدورفت کے لیے بھی استعمال کیا اور اِس میں تین گنا اہلیت سے ذیادہ لوگوں کو بھر دیا اِس طرح سے بہت سے راستے میں ہی مر گئے ۔

مزیدبرآں ہٹلر نے بھی رعایا کو آزادانہ اذیت دی جیسے کہ مسلمانوں نے کیا ۔ والدشوبد نے اپنی کتاب تشدد کے لیے خُدا کی لڑائی : اسلام نبوت اور بائبل ، میں تاریخی بیان دیتے ہوئے لکِھا:

     ‘‘ ہٹلر ترکوں کے نسلکشی کے کام سے اِس قدر متاثر تھا کہ اُس نے ۲۲ اگست ۱۹۳۹ء کو اپنے پولینڈ کے لیے وسیع منصوبوں کو بیان کرتے ہوئے اس بات کو شامل کیا کہ وہ دستوں میں موجود آدمیوں ، عورتوں اور بچوں کو مار ڈالے گا اُس نے کہا کون آج آرمینیاء کی نسل کشی کو یاد نہ کرے گا ؟ ’’۔

 ( ۴۹ )

 ہٹلر نے مسلمانوں کے اِس ناپاک کام کو یہودیوں کو دوسری جنگِ عظیم میں مارنے کا کام جاری رکھا ۔ یہ بات مکمل طور پہ قابلِ فہم ہے کہ ہمارےت موجودہ اقتصادی ، سیاسی اور دنیا کی فضاء میں بائبل کے آخری دِنوں کے متعلق جو کُچھ بتایا گیا ہے اُس میں اسلام اور مستقبل کے زورآور مطلقالعنانوں کے درمیان لڑائیاں ہو گئیں اور ممکنہ طور پہ مسلمان دنیا میں ایسا کریں گئے ۔ یوحنا رُسول نے نبوت کی ہے ‘‘ اورمیں نے اُس کے سروں میں سے ایک پر گویا زخم کاری لگا ہوا دیکھا مگر اُس کا زخم کاری اچھا ہو گیا اور ساری دنیا تعجب کرتی ہوئی اُس حیوان کے پیچھے پیچھے ہو لی۔

( مکاشفہ ۱۳ : ۳ ) ۱۹۲۴ء میں اسلامی خلافت کے خاتمے پر یہ کاری ذخم حیوان کے ؛گا اور پھر اب یہ تازہ ہورہا ہے ، ٹھوس ہو رہا ہے اور ساری زمین پر پھیل رہا ہے ۔ آخر کار حیوان کا یہ زخم ٹھیک ہو جائے گا ۔ جب خلافت دوبارہ قائم ہو گی۔ یوحنا اِس بیان کو جاری رکھتا ہے ۔

 ‘‘ یہ جو تو نے حیوان دیکھا یہ پہلے تو تھا مگر اب نہیں ہے اور آئندہ اتھاہ گڑھے سے نکل کر ہلاکت میں پڑے گا اور زمین کے رہنے والے جنکے نام بنایِ عالم کے وقت سےکتابِ حیات میں لکھے نہیں گئے اِس حیوان کا یہ حال دیکھ کر کہ پہلے تھا اور اب نہیں اور پھر موجود ہو جائیگا تعجب کرینگے ۔’’ ( مکاشفہ ۸ : ۱۷ )

خلافت کا انقلاب

اسلام پوری دنیا میں ایک ہی حکومت یا خلافت پر زور دیتا ہے جِس کی بنیاد شریعت کے قانون پر ہے اور اب یہ بات بخار کی طرح ہو چکی ہے اسلامی انقلاب نے موجودہ عشروں میں بے شمار مثالوں میں سر نکالا ہے ۔

چند مختصر جھلکیاں اِس بڑھتے ہوئے رُجحان کو ظاہر کرنے کے لیے یہاں دی گئیں ہیں کہ موجودہ زمانے میں یہ تصور اِس قدر بین الاقوامی سطح تک پھیل گیا ہے ۔

بہت ساری شمالی افریقہ کی قومیں اسلامی حکومتیں کوشش کر رہی ہیں کہ وہ اپنے شریعت لا کے تصورکے ساتھ تمام مسیحی مخالفت کو ختم کر دیں ۔ عیدی امین کے یوگینڈا میں حکومت میں آنے کے بعد اُس نے اسلام قبول کیا اور نتیجے کے طور پہ تین لاکھ شہریوں کا قتل عام کیا جن میں زیادہ تر مسیحی تھے۔ آج مصری مسیحی زیادہ تر بڑے منظم طریقے سے مارے جاتے قیدی بنائے جاتے تشدد کیے جاتے اور موت کے گھاٹ اُتارے جاتے۔ عشروں سے اسلامی جوشیلے کوشش کر رہے ہیں کہ مصر کی سیکولر حکومت کو برباد کر دیں اور اِس کو اسلامی شریعت کے تحت لے آئیں ۔

اب وہ اپنے مقصد کو پورا کرنے کے لیے زور لگاے ۔ نائجریا میں بھی مسلسل حملوں کے تحت ملک کے شمالی حصے کے مسلمان کوشش کر رہے ہیں کہ جنوبی حصے میں بھی اسلامی حکومت کو قائم کریں ۔ نائجریا میں خوش قسمتی سے مسیحی مبشرین جیسے کہ رہنہارڈ بونکی لاکھوں کی تعداد میں مشتمل عبادات کروائی ہیں اور لوگوں نے مسیحیت کو قبول کیا ہے شاہد لہر بھی اسلامی زیادتوں کئے خلاف جنوب میں ایک بہتری کا قدم ہے۔ ۱۹۸۵ء سے سوڈان کی حکومت نے بھی شہریوں کے خلاف بڑے پیمانے پر جنگ شروع کی ہے جو دہی علاقوں میں ہے اور اِس کا آغاز نیوبہ کی پہاڑیوں سے ہوا ہے سوڈان کی حکومت نے ایک طے شدہ پروگرام کو سارے ملک میں اسلامی حکومت لاگو کرنے کے لیے طے کیا ہے ۔ اِس کا تخمینہ لگایا گیا ہے کہ گورنمنٹ آف سوڈان کے ۱۰ لاکھ لوگوں نے ۸۰ کی دہائی کے آخر میں اور ۹۰ کی دہائی کے شروع میں اِس بات کے لیے خیمے لگائے ہیں ۔ پیٹر ہمینڈ نے اپنی دستاویز ‘‘ آگ کے نیچے ایمان ’’ میں اپنی ابتدائی گوائیوں میں اِن خیموں کے بارے میں بیان کیا ہے :

سوڈان کی حکومت میں نسل کشی کا ایک مرکزی حصہ لوگوں کے ساتھ زیادتی میں مذمر ہے ۔ نیوبہ کی ہر خاتون کو ‘‘ پیس کیمپ ’’ کے اندر یا تو اُس کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے یا اُس کو زیادتی کی دھمکی دی گئی ہے ۔ ۹ سال کی عمر کی لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جس  کے لیے سپاہیوں نے حدیث میں سے یہ دلیل پیش کی تھی کہ محمد نے بھی ۹ سال کی عائشہ کے ساتھ شادی کی تھی۔ خواتین کے ساتھ زیادتی ہوئی جیسے ہی اُن کو اغواہ کیا گیا اور جیلوں  میں آمد پر بھی اجتماعی زیادتی ہوئی اور اِن زیادتوں کو ‘‘ پیس کمیپ ’’ میں یا لیبر کیمپ میں دہرایا گیا یا مسلمان سپاہیوں نے اپنی ڈیوٹی کے دوروں کے دوران اُن کے ساتھ عارضی شادیاں کیں اِس جنسی تشدد اور غلامی کی پالیسی کا مقصد نیوبہ کے معاشرے کے سماجی طور پر برباد کرنا تھا ۔( ۵۰ )

 موجودہ لوگوں کی نسل کشی دارفر کے شہر میں ہوئی اور ملک کے دوسرے حصوں میں بھی میڈیا نے اِسی کا نوٹس لینا شروع کیا۔

     جہاد کی ہدایت کی آڑ میں مشرقِ وسطیٰ میں دہشت گردی کو مغرب میں آفت بنایا گیا ایران میں آیت اللہ خمینی کے زیر سر پرستی اسلامی انقلاب ناقابلِ فراموش ہے۔

 فروری ۱۹۷۹ء خمینی نے اپنے زور کا استعمال کیا اور نومبر میں تہران میں یو۔ایس ایمبسی کو قابو کیا جنوری ۱۹۸۱ء میں ترپین مکفول اشخاص کو قید کر لیا گیا جب تک کہ رونلڈ ریگن نے جو کہ امریکہ کا صدر تھا اِس کا چالیس گنا ادا نہ کر دیا ۔ اکتوبر ۱۹۸۳ء میں بنیاد پرست مسلمانوں نے لبنان میں ۲۴۱ امریکی سپاہیوں کو قتل کر دیا گیا اپریل ۱۹۸۸ء میں اسلامی دہشت گردوں نے پین امریکی ورلڈ ایئرویز نمبر ۷۴۷ جیٹ ایر لائینز میں ایک بم نسب کر دیا جیسے ہی جہاد لاکر بی سے سکاؤٹلینڈ سے اُڑا یہ پھٹ گیا اور ۲۵۹ لوگ جو جٹ کے اندر تھے مارے گئے اور گیارہ جو زمین پر تھے وہ مارے گئے۔ خلیجفارص کی لڑائی کے دوران صحرائی طوفان مغرب کے معصوموں کے خلاف جاری رہا جس کو شدید طریقے سے سُنا جاتا رہا ۔ ۱۹۹۳ء میں ۶ مارے گئے اور ہزاروں زخمی ہوئے مسلمانوں نے بارود سے بھری ہوئی ایک ویگن نیویارک سٹی کے جڑواں ورلڈ ٹریڈ سنٹر میں بھیجی جون ۱۹۹۶ء میں مسلمانوں نے ایک ایندھن سے بھرے ہوئے ٹرک میں خوبر سعودی عربیہ سے بھیجا جس نے ۱۹ امریکیوں کو مار دیا اور ۴۰۰ زخمی ہوئے ۔ اگست ۱۹۹۸ء میں دو بڑے بم نیروبی، کینیاء اور دائرے اسلام کی ایمبسیوں میں بھیجے جس نے ۲۲۴ کو مارا اور پانچ ہزار زخمی ہوئے۔

 ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو مسلمانوں نے مِل ملا کر چار جیٹ ایئرلائینز کو اغواہ کیا دو جہازوں کو جڑواں ٹریڈ سنٹر کے ٹاورز کی طرف اُڑا دیا تاکہ اِس کے ڈھانچوں کو برباد کر دے ۔ ایک پینٹاگون کی طرف اُڑ گیا اور چوتھا وشگیٹن ڈی سی کی طرف اُڑا جو شینکس وائل، پینسولینیہ میں ہی مستقل طور پر برباد ہو گیا کیونکہ مسافروں نے بہادری کے ساتھ جہاز دوبارہ قابو کر لیا ۔ اسلام نے دنیا کے مختلف بہت سارے حصوں میں اپنے بین الاقوامی غلبے کے لیے لڑائی کو جاری رکھا ہے اِس کے ساتھ ساتھ وہ لوگوں کی ہجرت کے وسیلے سے بھی مغربی ملکوں میں آہستہ آہستہ داخل ہوئے ۔ یہ پس منظر کلیسیاء کے اندر بھی بطور اُن کے ایان کے گواہوں کے طور پہ دیکھا جا سکتا ہے ۔ بد قسمتی سے یورپ میں مسیحی ایمان سے لوگ گِر رہے ہیں اور امریکہ میں بھی اِسی بات کی پیروی کی جا رہی ہے اِس طرح سے بغیر کِسی روحانی بیداری کے بہت ساری مغربی قوموں میں مسلمان اِس بات کو ترجیح دیں گئے کہ وہ اِن قوموں سے وفاداریوں کا الحاق کر لیں ۔ جیسا کہ مسلمانوں کی آبادی قوموں میں بڑھتی ہے تو شریعت لا کے لاگو ہونے کا مطالبہ بھی مقامی سطح پر آہستہ آہستہ پروان چڑھتا ہے اور آخرکار یہ شدد اختیار کرکے قومی سطح تک پہنچ چُکا ہے تاریخی تخمینے کے مطابق جو اسلامی جہاد میں لوگ مارے گئے اُن کی تعداد ۱۲۰ ملین افریقی تھے جن میں ۷ ملین مسیحی تھے ۸۰ ملین ہندو تھے اور ۱۰ ملین بدوہست تھے ۔ اصل تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے کیونکہ بین الاقوامی طور پہ حقائق بکھرے ہوئے ہیں اِس طرح سے اسلامی جہاد نے تقریباً ۲۷۰ ملین لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔ ( ۵۱ ) یہ تعداد حیرت انگیز طور پر اُن لوگوں کی اکثریت پر مشتمل ہے جو اِن صدیوں کی ابتداء میں تھے۔ اِس کو دیکھنے کے لیے دو زبردست ویب لنکس ہیں جو کہ روزانہ اسلام کے دنیا بھر میں تشدد کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں ۔

پہلی سائٹ

http://www.thereligionofpeace.com/

 یہ اسلام سے متعلقہ اموات کو ۱۱ ستمبر ۲۰۱۱ سے اب تک روز بروز تصدیق کرتی ہے اور اِس سائٹ میں تعداد کو تاریخ ، ملک اور شہر کے حساب سے لکھا گیا ہے غالباً بہترین ساٗئٹ

http://www.thereligionofpeace.com/

 ہفت روز کی نئی کہانیوں کو جو جہادی سرگرمیوں یا اسلامی افزائش سے متعلق ہے پیش کرتی ہے اس سائٹ کے اندر لنکس بے شمار ہیں اور ہر کسی کے لیے جو موجودہ دنیا کے اسلامی تحریکوں کی تحقیق کرنا چاہتے ہیں بہت مفید ہیں اور یہ پوری دنیا کی خلافت کو بھی بیان کرتے ہیں ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

باب چودہ

مرتد ہونے پر جہاد

مرتد ہونے کی تعریف

حدیث کے اندر بہت سارے پیراؤں میں اُن تمام لوگوں کے لیے موت کا اعلان کیا گیا جو اسلامی ایمان کو چھوڑتے ہیں ۔ ایک حدیث بیان کرتی ہے ، ‘‘ جو کوئی اپنے اسلامی مذہب کو چھوڑ دے تو اُسے مار ڈالو۔ ’’ ( ۱ ) ایک اور حدیث اس طرح کی موت کے بارے بتاتی ہے۔ ابو موسیٰ کے ایک طرف ایک آدمی کھڑا تھا موتھ نے پوچھا یہ آدمی کون ہے ؟ ابو موسیٰ نے کہا وہ ایک یہودی تھا اور مسلمان ہو گیا اور پھر دوبارہ یہودی مذہب میں واپس چلا گیا پھر ابو نے موتھ سے درخواست کی کہ بیٹھ جائے لیکن موتھ نے کہا کہ جب تک یہ آدمی مارا نہ گیا میں نہیں بیٹھوں گا یہ اللہ اور اُس کے رُسول کی عدالت ہے اور اُس نے تین بار یہ بات کہی پھر ابو موسیٰ نے حکم دیا کہ اِس آدمی کو مار دو اور اُسے مار دیا گیا۔ ( ۲ )

مرتد ایمان کے لیے محمد کا حکم تھا کہ اُسے فرداً سزائے موت دو۔ حدیث میں مزید ایک اور گواہی ہے بے شک میں نے اللہ کے رُسول کو یہ کہتے ہوئے سُنا آخری دِنوں میں کُچھ بیوقوف نوجوان ظاہر ہونگے جو بہت سی اچھی باتیں کہے گئے لیکن اُن کا ایمان اُن کے گِلوں سے باہر نہیں آئے گا اور وہ مذہب کو ایسے چھوڑ دیں گئے جیسے کھیل کے وقت تیر چھوڑا جاتا ہے بس جہاں کہیں اُن کو دیکھوں اُنہیں مار دو اور جو کوئی اُنھیں مارے گا اُن کو روز محش میں انعام ملے گا۔ ( ۳ )

اِن مرتد لوگوں کے مارے جانے والوں میں عورتیں بھی شامل تھیں اور عورت جو اپنے ایمان سے پھر جائے اُسے بھی مارا جانا چاہیے۔ ( ۴ ) محمد کے وقت سے آج تک اُن تمام تر لوگوں کو جو مرتد ہو جاتے ہیں جوشیلے مسلمان مار دیتے ہیں اسلامی قانون کے مطابق مرتد کی تعریف یہ ہے ۔ ۱۔ جو اسلام کو ترک کرنے کا اعتراف کر لے ۲۔ بنیادی اسلامی قوانین کا انکاری ہو ۔ ۳۔ قرآن اور محمد کا تمسغر اُڑائے مسلمانوں نے اپنے نبی محمد کی مثال کی پیروی کو جاری رکھا۔ جنوری ۱۹۹۶ ء میں ایک بین الاقوامی امام نے جنوبی افریقہ کے پروپیکشن کے سنٹر میں مرتدوں کے خلاف جہاد کو دفاع کیا ۔ اُس نے اُن مسلمانوں کی مصلوبیت کی حمایت کی جہنوں نے سوڈان میں مسیحیت کو قبول کیا سوڈان کی اسلامی حکومت نے اِس  بات کی برائے راست ذمہداری لی کہ وہ سینکڑوں مسیحیوں کو مصلوب کریں گئے۔ ( ۵ )

نبی محمد نے اپنے پیروکاروں کو حکم دیا کہ وہ اُن سب کو مار ڈالیں جو محض اُن پر تندید کرتے یا اُس کے اختیار اور اُس کے اعلیٰ حکمرانی کے استْحقاق پر سوال اُٹھاتے ہیں ایک سو سالہ بوڑھے یہودی شاعر ابو عقیق نے محمد پر تنقیدی نظمیں لکھیں اور محمد نے حکم دیا کہ اِسے مار ڈالو۔ ( ۶ ) ایک جوان خاتون شاعرہ عصملہ بنتِ مروان نے نبی پر تنقید کو جاری رکھا اور اُس کے وحشیانہ اعمال پر ملامت کی ۔ محمد نے اِس ناگوار حالت کو جو اُس نے

 بیان کی سُنا اور اُس کے پیٹ کے اندر بچے سمیت اُسے مار دیا۔ تاریخ دان برنارڈ لوئیس اپنی کتاب تاریخ میں اسلام خیالات، لوگ اور قرونِ وسطیٰ میں واقعات کے اندر لکِھتا ہے اور بہت سارے قتلوں کا ذکر اُس نے کیا :

ایک خاصڈ یہودی عبداللہ ابن کھتیر نے نبی کے کردار پر چھینٹے اُڑانے والی نظموں کی دُھنیں بنائی جِس کو عوام کے اندر دو غلام لڑکیوں نے گایا اُن میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا اور دوسری کو معافی مانگنی پڑی ایک بہت مشہور مثال کعب ابن الہ اشرف جو کہ شاعر تھا اور نبی کا مخالف اور جِس نے واضح طور پر وسیع پیمانے پر مسلمانوں کے خلاف آیات لکھیں۔ ایک مقامی کہانی کے مطابق نبی نے پہلے اُس سے واقفیت بڑھائی اور پھر اس کو قتل کرکے کعب ابن الہ اشرف سے چھٹکارا پایا۔ ( ۷ )

اِن بیانات کے اندر مزید محمد کے بہت سارے اپنے دوسرے مرتد تھے۔ مخالفت کرنے والے بھی تھے اور اِن سب کو قتل کر دیا گیا اُس نے اپنے پیغام کے خلاف کِسی قسم کی تردید کو قبول نہ کیا ہر شخص کے لیے موت تجویز کی گئی جس نے اُس کی نبوت کے خلاف دعویٰ کیا۔ محمد نے دعویٰ کیا کہ وہ بائبل کے نبیوں کا پیروکار ہے پھر بھی اُس نے بائبل کی تعلیم کی مخالفت کی یسوع نے اپنے مشہور پہاڑی وعظ میں ‘‘ جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کر کرینگے اور سائینگے اور ہر طرح کی بُری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہنگے تو تم مبارک ہو گئے ۔ خوشی کرنا اور نہایت شادمان ہونا کیونکہ آسمان پر تمہارا اجر بڑا ہے۔ اِس لیے کہ لوگوں نے اُن نبیوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے اِسی طرح ستایا تھا ۔ ( متی ۱۲ ۔ ۱۱ : ۵ )

  ‘‘ بعض ٹھٹھوں میں اُڑائے جانے اور کوڑے کھانے بلکہ زنجیروں میں باندھے جانے اور قید میں پڑنے سے آزمائے گئے۔ ’’ ( عبرانیوں ۳۶ : ۱۱ )

پُولس رُسول نے نہ صرف مخالفت کو برداشت کیا بلکہ اپنے پختہ انداز کا اعلان بھی کیا۔

‘‘ اور اپنے ہاتھوں سے کام کرکے مشقت اُٹھاتے ہیں لوگ بُرا کہتے ہیں ہم دُعا دیتے ہیں وہ سُتاتے ہیں ہم سہتے ہیں وہ بدنام کرتے ہیں ہم مِنت سماجت کرتے ہیں ۔ ہم آج تک دُنیا کے کوڑے اور سب چیزوں کی جھڑن کی مانند رہے ۔ ( ۱۔ کرنتھیوں ۱۳ ۔ ۱۲ : ۴ ) وہ مزید واضح طور پہ اپنی خونی برتری کے خلاف خبردار کرتا ہے۔

 ‘‘ اے عزیزوں ! اپنا انتقام نہ لو بلکہ غضب کو موقع دو کیونکہ یہ لِکھا ہے کہ خُداوند فرماتا ہے انتقام لینا میرا کام ہے بدلہ میں ہی دونگا۔ بلکہ اگر تیرا دشمن بھوکا ہو تو اُس کو کھانا کِھلا ۔ اگر پیاسا ہو تو اُسے پانی پِلا کیونکہ ایسا کرنے سے تو اُس کے سر پر آگ کے انگاروں کا ڈھیر لگائیگا۔ بدی سے مغلوب نہ ہو بلکہ نیکی کے ذریعے سے بدی پر غالب آؤ۔ ’’ ( رومیوں ۲۱ ۔ ۱۹ : ۱۲ )

 کلام ِ خُدا معصوم لوگوں کے خُون کے بدلے کے لیے محمد کو ملامت کرتا ہے جہنوں نے اُس کے پیغام پر شک کیا وہ جہنوں نے اُس کے کردار کے حوالے سے سوال اُٹھائے اور جہنوں نے اُسے اللہ کے آخری رُسول ماننے کا انکار کیا ۔ اُن کے لیے اُس نے یقینی موت کا اعلان کیا۔ محمد نے ایک بار پھر بائبل کی نبوت کے سچا ہونے کے امتحان میں ناکامی حاصل کی۔

سلمان رشدی کا معاملہ

اسلام کی برداشت نہ کرنے کی فطرت کے بارے میں بیان اور اِس کے جہاد کے اصولوں کے تعلق سے اکثر مصنفین کو موت کی دھمکیاں دی گئیں یا اُن کو قتل کیا گیا جہنوں نے اپنے مذہب کی پڑتال کی یا آزادی تقریر کی عزت کی واضح طور پر اسلامی عقیدہ ہر قسم کے آزادانہ خیال اور اُن کے مذہبی یا سیاسی تصورات کو چیلنج کرنے پر مخالفت کرتا ہے شاہد سب سے اہم مرتد ہونے کا کیس جو شائع ہوا وہ سلیمان رشدی کے ناول شیطانی آیات کا کیس تھا ۔ برنارڈ لوئیس جو کہ برطانوی امریکی تاریخ دان ہے اُس نے اِس بیان کا ذکر کیا : ۱۴ فروری ۱۹۸۹ ء کو آیت الہ خمینی نے جو کہ ایران میں اسلامی مذہبی اختیار کا اعلیٰ مرتبہ رکھتا ہے اُس نے ایک فتویٰ جاری کیا اِس فتویٰ میں اُس نے دنیا کے تمام جوشیلے مسلمانوں کو اطلاع دی کہ وہ شیطانی آیات کے نام سے کتاب لِکھنے والے مصنف کا خون بہائیں کیونکہ یہ کتاب اسلام ، نبی اور قرآن کے خلاف تالیف کی گئی۔ پرنٹ کی گئی اور شائع کی گئی ہے اور اُن لوگوں کو بھی اِس میں شامل کیا جائے جہنوں نے اِس کی فہرست کو جانتے ہوئے بھی اِس کو شائع کیا میں اِس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ تمام جوشیلے مسلمان اِن کو تیزی سے قتل کر دیں جہاں کہیں بھی یہ ملیں ۔ تاکہ کوئی بھی دوبارہ اسلامی تقدس کی بے حرمتی کرنے کی جرات نہ کرے اور جو کوئی اِس راہ میں خود قتل ہو گیا وہ شہید مانا جائے گا ۔ ( ۸ )

مسلمان متشددین نے مرتد رُشدی اور اُس کے ساتھیوں کے خلاف ریلیاں نکالی ۔ شیطانی آیات کے بہت سارے مترجمین کو شکار بنایا گیا اور اُنھیں قتل کیا گیا ۔ مزید برآں اسلامی عدالت نے سلیمان رُشدی کے قاتل کو ایک ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا۔ برطانوی حکومت نے فوراً ہی مسٹر رُشدی کے لیے حفاظتی قوت فراہم کی جس کے لیے برطانیہ کے ٹیکس ادا کرنے والے سالانہ ایک ملین سے زیادہ اب تک ٹیکس ادا کر رہے ہیں۔

دانیل پائپ نے اپنی دستاویز رُشدی کے معاملات : ناول ، آیت الہ اور مغرب کے بارے میں بیان کرتے ہوئے رُشدی کے ناول کی اشاعات کے بارے میں مندرجہ ذیل باتیں لکھیں:

خمینی کے مددگار بھی گلیوں میں نکل آئے ۱۵۰۰۰ بنیاد پرست مسلمان جِن میں زیادہ تر پاکستانی تھے اُنھوں نے پیرس میں احتجاج کیا اور کیمروں کے اندر رُشدی کو موت دو کے پلے کارڈ لگائے۔ ہینگی میں ۵۰۰۰ مسلمان منصٹری آف جسٹس کے آگے اکٹھے ہوئے اور شیطانی آیات کی بہت ساری جلدیں اور مصنف کی تصویری نظرِ آتش کی اور سلیمان رُشدی کی موت کے بارے میں مطالبہ کیا۔ تقریباً ۲ ہزار مسلمانوں نے چوبیس فروری کو مانچسٹڑ میں اور اگلے دن نیویارک سٹی میں دس ہزار لوگوں نے احتجاج کیا اور ۲۵ تاریخ کو ہی ایک ہزار مسلمانوں نے اُوسلو میں مارچ کیا اگلے دن ۲ ہزار لوگوں نے کوپن ہیگن میں مارچ کیا سیکنڈ نیوبا کے احتجاج کرنے والے اُس عشرے کے سب سے بڑے احتجاج کرنے والے تھے دوبارہ انگلینڈ میں تین ہزار مسلمانوں نے رُشدی کی کتاب کے خلاف ۳ مارچ کو ہیلی فِکس میں احتجاج کیا ۔ چوتھی دفعہ شیف فیلڈ میں سلیمان رُشدی کی موت کے لیے احتجاج کیا ۔

چھٹی دفعہ دوبارہ تین ہزار مسلمانوں نے ڈربی میں مارچ کیا اور شیطانی آیات کی کتاب کی جلدیں نظر آتش کیں ۔ ( ۹ )

اور اِس موت کے رُکے ہوئے اِن فطرات کے لیے بہت زیادہ پوری دنیا میں انتظامات کیے گئے ۔ پائپ نے اِس کی مثالوں کی کُچھ وضاحت دی ہے۔:

سیاست دانوں کو مزید حاظت دینی پڑی ۔ کینڈا میں منسٹڑ کو ، برطانیہ میں وزیراعظم کو ، وزیر خارجہ کو اور ہوم سیکرٹری کو ، فرانس میں قومی اسمبلی کے صدر کو ، فرانس ، نائجریا اور مِصر میں فنکاروں کو دھمکیاں دی گئیں ۔ برطانوی ٹیلی ویژن کے انٹرویو لینے والے پیٹر سینسز نے ایک ایرانی ڈپلمیٹ سے سوال پوچھا ، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بحیثیت ایک مہذب شہری ہمیں دوسروں کی آراء پر اُنھیں قتل کرنا چاہیے۔ مسلمان جوشیلوں نے اِس سوال کو اپنی بے عزتی سمجھنا اور سینسز کو بھی جان کی دھمکیاں دیں ۔ پس اُسے بھی اپنے ساتھ پولیس کا محافظ رکھنا پڑا ایک عوامی آسٹریا کے شیطانی ٓیات کے ریڈر کو بھی معتطل کر دیا کیونکہ اُس کو بھی ٹیلی فون پر بم کے حملہ کی دھمکیاں ملیں ۔ اِن میں سے ایک دھمکی ویانہ میں ایرانی امبیسی میں پہنچی۔ خمینی کے پیروکاروں نے درجنوں کی تعداد میں اشاعات گھروں میں اور کتاب گھروں میں جو کہ مغرب میں موجود تھے دھمکیاں جاری کی۔ ( ۱۰ )

سلیمان رُشدی کو ضرور قتل کیا جانا چاہیے اِس کی بازگشت پوری دُنیا میں سُنائی دی ۔ یہاں تک کہ مشہور شخصیات جو نئی نئی اسلام میں آئیں تھیں اُنھوں نے بھی اس کی موت کی حمایت کی ۔ پائپس نے اِس بیان کو جاری رکھتے ہوئے کہا :

اس میں فرانس کے دانشور ونسنٹ منصور اور سوئس صحافی احمد حبر بھی شامل تھے ۔ کیٹ سیٹونز جو کہ سابقہ راک سنگر تھا اور جس نے ۱۹۷۷ء میں اسلام قبول کیا اور اپنا نام تبدیل کرکے یوسف الہ اسلام اُس نے سرے کے مسلمان طالب علموں کو بتایا کہ اُسے ضرور مارا جانا چاہیے۔ قرآن اِس کو واضح کرتا ہے ۔ اگر کوئی نبی کی توہین کرتا ہے تو اُسے ضرور مارا جانا چاہیے ۔ اسلام ( کیٹ سیٹونز ) نے دو مال پہلے ٹیلی ویژن پر اپنا انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر سلیمان رُشدی میرے دروازے پر مدد کے لیے آئے تو میں آیت اللہ خمینی کو فون کروں گا اور اُس شخص کا پتہ اُسے ٹھیک ٹھیک بتاؤنگا ۔ ( ۱۱ ) اِس قسم کی سر چڑھتی تقریروں کا مظاہرہ ٹرائنٹو کینڈا میں بھی ہوا جہاں راہنماؤں نے اس بات کا اعلان کیا کہ ہم چاہتے ہیں اسلامی قانون نافذ کیا جائے ہم دنیا کے دوسرے قوانین کی پرواہ نہیں کرتے۔ ( ۱۲ ) اپنی ابتداء ہی سے اسلام تمام دنیا کے لیے ہمیشہ ایک خطرہ رہا ہے ۔

جوشیلے مسلمانوں نے جیسے ہی قرآن و حدیث کو قبول کیا تو اُنھوں نے اسی کو مقام دیا اور پوری دنیا کو فتح کرنا چاہا ۔

‘‘ تمام مذاہب اللہ کے لیے ہیں قرآن ۳۹ : ۸ ) اگر اسلامی قانون ( شریعت ) مغرب میں کافی زور پا جاتا ہے تو تمام سابقہ آزادیاں منسوخ کی جائیں گئیں اسلامی قانون مذاہبوں کی جمہوریت کے اُصولوں اور آزادی کی مخالفت کرتا ہے ۔ اسلام دنا میں تیزی سے بڑھنے والا مذہب اور انسانیت کی آزادی کے لیے تیزی سے بڑھنے والا خطرہ ہے جب تک کلیسیاء اور باقی آزاد دنیا پوری سرگرمی کے ساتھ اِس خطرے کو پختہ طور پر نہیں روکتی تو اسلام پورے طور پہ اپنا مقصد جو دنیا پر حکومت کرنے کا ہے یقیناً پورا کر سکتا ہے ۔ اسلامی منصوبہ سازی ہمیشہ ہی استعمال کی جاتی رہی ہے ۔ جہاں نہیں اِس نے حکومت کو وسیع کرنے کا کام ضروری سمجھا اور اِس منصوبہ سازی میں جھوٹے امن کے محادوں ٹوٹے پھوٹے مقالوں ، جنگوں اور علاقائی نفود میں جو کہ انسانی ہجرت کے ذریعے کی گئی اُس کے عمل کو اِس میں شامل کیا صرف ایک ہی امن جو اسلامی مذہہب چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ ہر ملک پورے طور پہ اُن کی حکومت کے تحت ہو وہ کِسی بھی دھوکے فریب سے حاصل کی جائے۔ دنیا کے مسلمان فاتحین کی ہمیشہ یہی منزل رہے گی۔

رُشدی اور اُس کا ناول ( شیطانی آیات )  ۱۹ جون ۱۹۴۷ ء کو سلیمان رُشدی ممبی کے ایک آزاد خیال مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ۔ ماسوائے بڑے بڑے کُچھ عید کے موقعوں پہ اُس کے والدین اپنے ثقافتی ایمان کی کم ہی مشق کیا کرتے تھے ۔ اُس نے ایک مختلف مذہبی ماحول میں نشوونما پائی چونکہ اُس کی نانی مسیحی تھی اور اُس کے دوست ہندو سکھ اور پارسی تھے ۔ ۱۳ سال کی عمر میں اُس نے انگلینڈ کے ایک سکول میں شمولیت حاصل کی بعد میں ۱۹۶۵ ء میں وہ کنگز کالج کیمرج میں تاریخ کی تعلیم پانے کے لیے چلا گیا ۔ اُس کے ابتدائی سالوں میں اُس نے اسلامی اصلیت کو مرکز بنایا اور اسلامی تاریخ میں ۱۹۸۸ ء کو ( شیطانی آیات ) کے نام سے اِس کو شائع کیا جب وہ یہ ناول لکھ رہا تھا تو رُشدی نے اپنے آپ کو ایک مسلمان نہ جانا دوسری طرف کہ آیا وہ مسلمان ہے یا غیر مُسلم اِس امتیاز کے بغیر محمد کی ایک سیکولر انسان کے طور پہ بے عزتی کی جِس کو اسلامی قانون کی عدالتوں کے مطابق موت کی سزا دی جانی چاہیے تھی یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ رُشدی کے ناول کے ۵۶۱ صحیفوں میں سے صرف ایک باب کے ۳۶ صفحات متضاد شیطانی آیات کے بارے میں بات کرتے ہیں اس کتاب کا زیادہ تر حصہ اسلام سے متعلقہ نہیں ہے اور اِس میں زیادہ تر برطانیہ اور ہندووں کی سماجی زندگی کو مرکز بنایا گیا اِس ناول کے دوسرے باب میں رُشدی محمد کی ابتدائی خدمت کا مقامی حصہ بھی بیان کرتا ہے۔ اُس نے بہت سارے حقائق کو بھی استعمال کیا ہے جو کہ اِس کتاب کے ابتدائی حصوں میں پہلے سے بیان کیے جا چُکے ہیں رُشدی ایک سابقہ مسلمان کے طور پہ محمد کے نبوت کے دعوؤں کے بارے میں شک پر مبنی بیانات دیتا ہے اور وہ اِس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ کِس طرح سے درحقیقت اسلامی عمل نے ترقی کی۔

۲۰۱۲ ء میں اب تقریباً دو عشرے گذر چُکے ہیں کہ سلیمان رُشدی کے خلاف ابھی تک شریعت کے متوالے پر جوش طریقے سے لوگوں کو اُکسا رہے ہیں یہاں تک کہ وہ ابھی اپنی زندگی قتل کیے جانے کے خوف کے بغیر امن سے نہیں گزار سکتا۔ رُشدی نے جے پور لِٹری فیسٹیول انڈیا میں ایک تقریب میں شرکت کی جہاں بہت سارے اور مصنفین بھی آئے ہوئے تھے ۔ بد قسمتی سے رُشدی کو مجبور کر دیا گیا کہ وہ اِس کو منسوخ کرے کیونکہ بہت ساری مسلمان تنظمیں زہر آلودہ خطرات کو اگل رہی تھیں ۔ فیسٹیول والوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اِس فیسٹیول میں شرکت کے لیے رُشدی کو اجازت دیں گئے کہ وہ ایک وڈیو کے ذریعے اس میں شرکت کرے۔ دوبارہ مسلمانوں نے اِس کو مرتدی کے باعث دھمکیاں دیں اور اِس فیسٹیول کے منتظمین کے خلاف اس کی وڈیو کے منسوخ کرنے پر زور دیا۔ ( ۱۳ )

جبکہ بائبل کو پچھلے ۲۰۰ سالوں سے ایک تنقیدی مضمون بنایا ہوا ہے ۔ مغربی مفکرین نے حال ہی میں اسلامی قرآن کی جانچ پڑتال شروع کی ہے ۔ موت کی سزا اُن کے خلاف نہیں ہے جو بائبل مقدس کے خلاف تنسیخی مقالے اور کتابیں لکھتے ہیں اِن میں وہ مُسلمان بھی شامل ہیں جن کے اعمال اِس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ پاک صحیفوں پر حقیقی طور پہ ایمان نہیں رکھتے ۔ جبکہ اِس کے بالکل متضاد مسلمان دنیا اُن تمام لوگوں کے لیے قتل کا حکم دیتی ہے جو قرآن کے تنقیدی تجزیئے یا محمد کی تاریخ بیان کرنے کی جرات کرتے ہیں ۔ محمد اپنی ساری تاریخ میں بطور جنگ اور قاتل کے شہزادے کے طور پہ جانا گیا جیسے کہ اُس کا باپ شیطان ہے ۔ جبکہ اِس کے برعکس یسوع مسیح کو بطور صُلح کے شہزادے کے نبیوں نے اُس کی پہلی آمد پر پیش کیا اور اِس بات کا ذکر یسعیاہ ۶ : ۹ آیت یسوع مسیح نے اُن سب کو برداشت کیا جہنوں نے اُسے ردکیا یا اُس کی باتوں پر شک کیا ۔ لیکن محمد نے ہر اُس کفن کو جِس نے اُس کے کاموں پر تنقید کی یا اُس کی نبوت کے دعوے پر اُس کو قتل کروا دیا ۔ محمد کا فلسفہ اپنی فطرت میں واضح طور پہ مخالف ِ مسیح کا فلسفہ تھا اور اُس کے کام اور اُصول شیطان کے ساتھ مشابہت رکھتے تھے جو کہ جھوٹوں کا باپ نفرت پھیلانے والا اور قاتل اور جدائیاں ڈالنے والا اور وہ یسوع کی محبت اور معافی کے خلاف تھا۔

یسوع مسیح نے ایسے کام کرنے والے لوگوں کے بارے میں بیان کیا ہے کہ یہ شیطان کے بچوں کے کام ہیں تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچائی ہے نہیں جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے ۔ ( یوحنا ۴۴ : ۸ )

محمد نے اُن تمام کو ذبح کروا دیا جہنوں نے اُس کے دعوے پر شک کیا مزید برآں اُس نے اصلی بائبل کے صحیفوں میں تضاد پیدا کیا اور اُنھیں بدل دیا جو کہ پہلے ہی سے موجود تھے۔

 

 

 

 

 

 

باب پندرہ

غلامی کا جہاد

محمد ( نسلی غلام تاجر ؟ )

حیرت انگیز طور پر امریکہ کے ہزاروں سیاہ فارم لوئیس فرقان کی ‘‘ اسلامی قوم ’’ کو سیاہ فارم تسلیم کرتے ہیں اور اُنھوں نے سیاہ امریکی آدمیوں کے لیے سفید فارم نسلی لوگوں کے لیے جنگ جاری رکھی ہے جس میں یہودی بھی شامل ہیں۔ فرقان نے دھوکے کے ساتھ اِس بات کو یقینی بنایا ہے کہ افریقی معاشرے کو اپنی جنگ لڑنی ہے وہ جو اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ وہ فرقان کی نسل کے خاص حصے کی پیروی کریں تو اُن کو ضرور اُس کی تنظیم کی غلط باتوں کی وفاداری کرنی ہے۔

مندرجہ ذیل پیرائے اس بات کا ثبوت ہے کہ تاریخی طور پہ یہ حقیقت موجود ہے کہ بنیادی طور پہ اسلام کا مذہب سیاہ فارم افریقیوں کی نسل سے تھا۔ بہت سارے افریقی سیاہ فارم جنگ جو اسلامی گروپ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اسلامی ایمان اور محمد کی تعلیمات ضابط حیات ہے۔ بہت ساروں نے اپنے ہی طور پہ اسلام کے عقائد کو خلاف معمول شامل کر لیا ہے ۔ انھوں نے انسانی شکل میں خُدا کے بیٹے کے عقیدے کی تنسیخ کی ہے اور سمجھتے ہیں کہ اُن کا رہنما اسلامی سیاہ فارم ہے جبکہ بہت سارے مسلمان اِس کو سچے اسلامی عقیدے نہیں سمجھتے ۔

محمد ایک سفید آدمی تھا

امریکہ اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ایک عقیدہ گردش کر رہا ہے کہ محمد ایک سیاہ آدمی تھا اِس مفروضے کو کوئی تاریخی پذیرائی نہیں ملی ۔ حڈیث اِس کے لیے واضح گواہی پیش کرتی ہے کہ محمد ایک سفید آدمی تھا ۔ ایک حدیث واضح طور پہ محمد کی جسمانی ظاہریت کو پیش کرتی ہے :

ہم نبی کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے ، جب ایک آدمی اُونٹ پر سوار ہو کر آیا اُس نے مسجد کے سامنے اپنے اوُنٹ کو بٹھایا اُس کی ٹانگیں باندھی اور کہا : تمہارے درمیان محمد کون ہے ؟ اُس وقت میں نبی ہمارے درمیان اپنے بازوؤں کے بل جُھکے ہوئے تھے ۔ ہم نے جواب دیا کہ یہ اپنے بازؤں کے بل کمر ٹِکا کر بیٹھنے والا سفید آدمی محمد ہے ۔ ( ۱ ) مزید ایک حدیثی شہادت بیان کرتی ہے : ۱ ‘‘ اور ایک سفید آدمی ( یعنی نبی ) جس نے بارش کے لیے دُعا کی درخواست کی ۔۔۔۔ ’’ ( ۲ ) ۲۔ اُس نے اپنے رانوں کو ننگا کیا ‘‘ اور ہم نے اُس کی ران کی سفیدی کو دیکھا۔ ’’ ( ۳ ) ۳۔ ‘‘ جب نبی نے دُعا کی ، اُس نے اپنے بازؤں کو پھیلایا اور ہمہ نے اُس کے بازوؤں کی سفیدی دیکھی ۔ ’’ ( ۴ ) ۴۔ ‘‘ نبی الہ احزاب کی لڑائی کے دن ہمارے ساتھ زمین کو اُٹھا رہے تھے اور ہم نے دیکھا کہ اُن کے پیٹ کی سفیدی پر مٹی تھی ۔ ’’ ( ۵ ) اِن واضح شہادتوں سے اِس بات کے لیے کوئی شک کی کہ محمد ایک سفید آدمی تھا۔

محمد نے سیاہ غلاموں کو لیا

حدیث تاریخی طور پہ اِس بات کا ریکارڈ بیان کرتی ہے کہ محمد نے ذاتی طور پہ سیاہ غلاموں کو خریدا ، ‘‘ پس میں اُوپر والے کمرے میں گیا جہاں نبی تھے اور اُس نے اپنے سیاہ غلاپ سے کہا کیا تم عمر کو اندر لاؤ گئے ’’ ؟ ( ۶ )

نبی کی سوانح عمری میں اُس کے بہت سارے سیاہ فارم غلاموں جیسے کہ بلال ، ابو ہریرہ ، اُسامہ ابن زید اور رابہ شامل تھا اُن کا ذکر ملتا ہے اِن میں سے ایک افریقی مرد غلام تھا جِس کا نام مہران تھا اِس کا دوبارہ نام سفینہ رکھا گیا اور یہ نام محمد نے رکھا ۔ ایک نا معلوم مصنف نے اپنی کتاب پردے کے پیچھے : بے نقاب  اسلام میں اِس غلام مہران یعنی سفینہ کے بارے میں لِکھا : ‘‘ خُدا کے رُسول اور اُس کے ساتھی ایک سفر پر گئے اور جب اُن کا سامان اُٹھانے کے لیے بہت زیادہ بھاری ہو گیا تو محمد نے مجھے کہا کہ اپنا کپڑا پھیلاؤ اُنھوں نے اِس کو سامان سے بھر دیا پھر اُنھوں نے اس کو مجھ پر رکھ دیا خُدا کے رُسول نے مجھے بتایا اِسے اُٹھاؤ کیونکہ تم ایک جہاز ہو یہاں تک کہ مجھے چھ یا سات گدوں کے سامان کے ساتھ لاد دیا جب ہم اُس سفر پر جا رہے تھے جو کوئی اپنے آپ کو کمزور محسوس کرتا وہ اپنے کپڑے ، اپنا بکتر یا اپنی تلوار مجھ پر پھینک دیتا اور میں اُسے اُٹھا لیتا۔ نبی نے مجھے بتایا کہ تم ایک جہاز ہو ۔ ’’ ( ابن قائم ، پی پی ، صفحہ ۳۶۹، احمد سے بیان کیا گیا ۔ ۵ : ۲۲۲ ) ۔ ( ۷ )

محمد کے سیاہ فارم لوگوں کے لیے مذمتی بیانات محمد نے بار بار ایتھوپیا کے لوگوں کے لیے بے دین لوگوں کے طور پہ بیان دیئے۔ ( ۸ ) ایک دفعہ اُنھوں نے ایک خواب میں ایک سیاہ فارم عورت کو دیکھا اور اُسے برائی کی نمائندہ اور آنے والی وبائی مرض سے تعبیر کیا۔ ( ۹ ) دوسری رویتوں میں اُنھوں نے کہا کہ سیاہ فارم لوگ چپٹی ناک والے غلام ہیں۔ ایک اور بیان سے یہ واضح ہوتا ہے کہ محمد افریقی سیاہ فارم لوگوں سے کہرایت کھاتا تھا ۔ اُس کی نسلی عداوت جو کٹرپن کی حد تک تھی وہ سیاہ فارم مشترک قومیت کی تحقیر کرتی تھی۔

اسلامی غلامی کی تاریخ

محمد نے بہت سارے لوگوں مردوزن کو غلام ببنایا اور مسلمانوں نے اُس کی مثال کی پیروی کی اور ظالمانہ حد تک چودہ سو سالوں تک غلاموں کی تجارت کی اور یہ اسلامی غلاموں کی تجارت آج بھی جاری ہے ۔ تاریخی شواہد کی دستاویز موجود ہیں کہ عرب والوں نے سیاہ فارم غلاموں کو بیچنا ایک ادازے کے مطابق دعویٰ کیا جاتا ہے کہ ۶۵۰ ء سے لیکر ۱۹۰۰ء تک عرب والوں نے ۴ ۔ ۱۴ ملین سیاہ فارم غلاموں کو افریقہ سے چوری کیا۔( ۱۰ ) انسانی حقوق کی تذلیل کرتے ہوئے پوری دنیا میں براہ راست ۲ یا زیادہ چیزوں کے تعلق کے ساتھ اسلامی لوگوں نے غلاموں کو بیچا اور اِن لوگوں کا عقیدہ نیئے عہدنامے کی تعلیمات کے متضاد ہے ۔ جب مسلمان پہلی دفعہ شمالی افریقہ گئے تو اُنھوں نے لوگوں کو ایک چناؤ دیا کہ ی تو مسلمان ہو جاؤ یا پھر غلام بن جاؤ۔ مسلمانوں اور اہل یورپ کے درمیان تجارت غلاموں کی تجارت کی اسلامی مشق سے روک دی گئی۔ افریقہ سے بہت سے بڑے قبائل نے خود کو مسلمانوں کے ساتھ صف باندھ لی تاکہ دشمن قبیلوں کو قیدی بنا لیں۔ پس افریقیوں نے ایک دوسرے کو ، مسلمان غلاموں کے تاجروں کے ساتھ ، غلام بنا دیا ۔ اسلامی یو پوری غلاموں کی تجارت سے پہلے ، افریقہ میں سخت غلامی کی رسم تھی انکے اپنے ہی لوگوں کے درمیان حدود کی فتح اور طاقت کے لیے۔ جنسی غلامی میں بہت پہلے دوسری اقوام کے ساتھ ملوث تھے ۔ انہوں نے اُن کو فتح کر لیا ، لیکن مسلمانوں نے عالمی منڈی کی سستے مزدور کے لیے لالچی بھوک کو پُر کرنے کے لیے یہ کام بہت بڑھایا۔ آج اسلامی برسراقتدار ممالک میں ، بلا تخفیف، بڑی سطح پر غلاموں کی تجارت جاری ہے ۔ حبشیوں کی تجارت سفید فارموں کی تجارت ایشیائی لوگوں کی تجارت ، دوسرے مشرک گروہوں کی تجارت اور حتیٰ کے بچوں کی تجارت جاری ہے ۔ ان میں سے اکثر بچوں کو دولتمند گاہکوں کے لیے بطور جنسی کھولنے استعمال کیا جاتا ہے۔ سوڈان میں ، عرب ؟غلام تاجر ابھی تک خاندانوں اور دوستوں کو ڈنکا  غلاموں کی خریدوفروخت ہوتی ہے ۔ ان غلاموں میں زیادہ تر کو مشرقِ وسطیٰ کی دولتمند اقوام کو ترسیل کیا جاتا ہے تاکہ طاقتور تیل کے تاجر شیخوں کی خدمت کی جائے۔

حال ہی میں تاجروں کے بہت مال کا اندازہ ہزاروں میں دس ہے ۔ نئے پکڑے جانے والے غلاموں میں سے کُچھ نے بچ نکلنے کی کوشش کی اور اکثر اس کے نتیجہ میں قتل ہو گئے ۔

اکثر عورتوں اور جوان  لڑکیوں کے ساتھ بے رحمی نے زبردستی زنا کیا گیا اور غیر طبعی جنسی کام کیے گئے۔ قرآن نے کسی بھی لڑکی کے ساتھ مباشرت کرنے کی اجازت دی ہے۔ ( کسی بھی عمر کی ) جس کو وہ ملکیت رکھتا ہو، ‘‘ تمام شادی شدہ عورتوں کو منع کیا گیا اُن کو بچاؤ ( قیدیوں ) کو جو تمہاری ملکیتی ہیں ۔ ’’ ( قرآن ۴ : ۲۴ ) ۔ اسلام میں کسی غلام کو کوئی قانونی حق نہیں ہے مرد یا عورت سے ظالمانہ سلوک کیا گیا اور صرف مادی جائداد تصور کرو ۔ ابنِ ورق نے ایک حیران کن اطلاع پیش کی :

فرانسیسی میگزین میں ایل وی ( نمبر ۲۵۶۲ ، ۶ اکتوبر ۱۹۹۴ء ) ۴۵۰۰۰ جوان افریقی حبشی ہر سال ابھی تک اغواہ ہوتے ہیں اور غلامی میں تبدیل کر دیا جاتا ہے ۔ بطور خلیجی ریاستوں کے اور مشرقِ وسطیٰ کی ریاستوں کے نوکر ۔ ( ۱۱ ) ان میں سے کئی غلام جنوبی سوڈان سے حاصل کیے جاتے ہیں ۔ سوڈان کی اسلامی حکومت مالی طور پر اور اکثر عسکری طور پر ، جنوبی سوڈان کے کالے مسیحیوں کو زنا بالجبیر اور مغلوب کرنے کے لیے مدد کرتی ہے۔

۱۹۹۲ ء کے موسم گرما کے دوران، میرے افریقہ کے تیسرے مشنری دوسرے پر میں نے ان رویوں کے ثبوت گواہی دی ۔ میں نیروبی کلیسیاء کے ایک نشیبی گاؤں میں ایک طرف کھڑا تھا اور ایک اچھی بولی بولنے والا ادھیڑ عمر شخص میرے قریب آیا۔ اُس نے مجھ سے سگریٹ مانگی لیکن میں نے کہا میں ایک مشنری ہوں برونڈی جانے والا ہوں اور سگریٹ نوشی نہیں کرتا ۔ اس نے اُس اپنی حالیہ داستانِ غم مجھے سنانا شروع کی ۔ مجھے حیران کرنے کے لیے اس نے سوڈان سے نیروبی تک چلنے کا مطالبہ کیا اور تنزانیہ میں ملیشیاء ٹریننگ کیمپ میں خواہش اور شرکت کے لیے منصوبہ بندی کر رہا تھا ۔ اس کے منصوبے تھے کہ وہ خُود کو ضروری تربیت سے اور ہتھیاروں سے مسلح کرے اور آخر کار واپس آئے اور اپنے وطن جنوبی سوڈان میں مزاحمتی تحریک سے لڑے۔

اس کا خاندان اور دوست احباب شمالی سوڈان سے مسلمان افواج کی طرف قتل کر دیے گئے تھے ۔ اُس نے اپنے ٹخنے دکھانے کے لیے اپنی پلیٹ اوپر کی جو بہت زیادہ فاصلہ طے کرنے کی وجہ سے جو اس نے پہلے کیا تھا جو سورج کہ سو فٹ بال سے زیادہ بڑے ہو گئے تھے ، شاید کوئی ۶۰۰ ۔ ۹۰۰ میل کا فاصلہ ۔ اس سے میں لا جواب ہو گیا چونکہ ذرائع نے اِن واقعات کے بارے کم بتایا تھا ۔ میں نے اُسے کُچھ ڈالر دے اور کہا کہ تمہارا سفر مبارک ہو ۔ یہ کوئی عشرے کے بعد کی بات نہیں ، ڈارفر کے مسئلہ کے دوران یہ کہ ذرائع اور مشہور شخصیات نے اسلامی مجرموں اور گروہوں کے وحشیانہ  شرمناک کاموں کی نشاندہی کرنا شروع کر دیا ۔ بہترین قائم شدہ ایجنسیوں نے تخمینہ لگایا کہ ۳۰۰۰۰۰ سے ۴۵۰۰۰۰ مارے گئے اور ۲ ملین سے زیادہ بے گھر ہوئے ۔ مجموعی طور پر ان شکار ہونے والے سوڈانیوں کی بڑی تعداد کو بطور غلام اسیر کر لیا اور اکثر سے زنا بالجبیر کیا گیا ۔

غلاموں کے عرب تاجروں کی طرف سے حبشیوں کو مغلوب کرنے کی یہ صرف چند مثالیں ہیں ۔ اسلام انسانی حقوق کے لحاظ سے اخلاقیات کو نہیں بڑھاتا ۔ جنسی غلط استعمال ، غلامی اور نسل پرستی کا اسلامی عمل نے بڑی اچھی تحریری شہادت دی ہے ؛ یہ تعصب کا عدم برداشت اور جنگ کا دان رہ جاتا ہے بے شک معقول وجہ دنیا کی آبادی کا پانچواں حصہ اسلامی نظام کی پیروی کرتا ہے وجہ یہ ہے کہ تاریخی علم اور آگاہی کی کمی ہے اس تحریری شہادت میں معاملات کو کھولا گیا ہے ۔

مسیحیت غلامی کی مذمت کرتا ہے

مسیحیت کے ابتدائی رسول رومی سلطنت کے طاقتور دور میں رہتے تھے ۔ وہاں غلامی ایک معیار تھا ۔ ابتدائی مسیحی مصنفین سرکاری ملازم نہ تھے اور غلامی کے متعلق موجود رومی قوانین کو ختم نہ کر سکے ، لیکن انہوں نے ایسے کاموں کی کھلم کھلا مخالفت کی کہ یہ ایک بُرائی ہے ۔ پولس رسول نے مسیحیوں کو اس مکروہ منڈی میں کسی قسم کی شرکت سے بچنے کی ہدایت کی ۔ فلیمون کے اپنے مسیحی خط کی سولہویں آیت میں اس نے کہا کہ بھاگے ہوئے غلام انیسمس کو واپس آنے دے اور عزت سے پیش آنا ، ‘‘ اب سے غلام کی طرح نہیں بلکہ غلام سے بہتر ہو کر پیارے بھائی کی طرح ’’۔ متن میں نوکر کی اصطلاح کا مطلب ہے ‘‘ غلام ’’ یونانی میں کوئنے۔ نئے عہدنامے میں غلاموں کی تجارت کو ایک سنجیدہ گناہ خیال کیا جاتا ہے۔ بائبل نے اس جرم کو دوسروں میں شمار کیا ہے :

 بے آئین اور فرمان لوگوں کے لیے ، غیر ایمانداروں اور گناہگاروں کے لیے ، ناپاک اور خُدا کی چیزوں کی بے حرمتی کرنے والوں ، ماؤں کو قاتلوں کے لیے ، بندے اغوا کرنیوالوں کیلئے زناکاروں کے لیے، انکے لیے جو خود کو انسانیت کے ساتھ بے حرمتی کرتے ہیں ، جھوٹی قسم کھانے والوں کے لیے اور اگر کوئی دوسری چیز یہاں ہے جو مضبوط تعلیم کے خلاف ہے ۔ ( ۱۔ تمتھیس ۱ : ۹ ۔ ۱۰ ) اصلی یونانی زبان اغواکاروں کو پیش کرتی ہے یعنی یونانی لفظ ( انتراپوڈ سٹیاس ) یعنی اغوا کار ’’، غلاموں کا ایک تاجر ، اغواء کرنے والا ایک وہ آدمی جو بے انصافی سے انسانوں کو غلامی میں مفت لے لیتا ہے ، یا وہ جو دوسروں کے غلاموں کو چُرا لیتا ہے اور فروخت کر دیتا ہے ۔ ’’ کوئی بھی بندہ جس نے غلاموں کی تجارت میں یا کاروبار میں حصہ لیا ہو یا غلاموں کا مالک ہو کر نئے عہدنامے کی تعلیمات کی خلاف ورزی کی ہے ۔

حتیٰ کہ مسیحیوں میں غلامی کی بُری ریت متحدہ ریاستوں میں خونی سولِ جنگ کا نتیجہ بنی یہ گناہ ایک ہی ایمان رکھنے والے بھائیو اور بہنو میں بڑی خونریزی لایا ۔

کلامِ پاک کی تعلیمات کی نافرمانی آخر کار یہواہ کی عدالت لاتی ہے ۔ تاہم ، محمد نے بھی ، اپنے طریقہ دہائے زندگی کی حمایت میں اصلی بائبلی نوشتوں کی مخالفت کی ۔ اکثر اس نے موسیٰ کو بطور ایک عظیم رہنما کا دعویٰ کیا جس نے اپنے لوگوں کو مصری اسیری سے باہر لانے کیلئے رہنمائی کی ؛ پھر بھی ، ریاکارانہ طور پر اس نے ذاتی طور پر ( محمد نے ) ، غلاموں کی تجارت میں بطور مالک اور اُکسانے والا دونوں میں اپنی مصروفیت کا اظہار کیا ۔

واضح طور پر ، محمد بائبل کے اصول اور نئے عہد نامے میں بیان کردہ اعتقاد کے مطابق نبی نہ تھا ۔ آخر کار محمد اور اُسکے ساتھیوں نے یہودی الہام کی نافرمانی کی وجہ سے اور چاند دیوتا اللہ کی پیروی کی وجہ سے آخری عدالت کا سامنا کیا۔

سبق نمبر سولہ

مخالفِ مسیح کا جہاد ( مہدی )

بائبلی نبوتی نوشتوں کو مکمل طور پر سمجھنے کے لیے ، ایک یروشلِم مرکزی گفتگو شنید کو کام میں لانا ضروری ہے۔ اکثر نبوتی نوشتے یروشلِم ، اسرائیل اور اردگرد کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ایک دفعہ یہ مضبوط تفسیری پہنچ نبوت کو زیادہ سمجھنے کے لیے توجہ دیتی ہے۔

اسلامی مہدی کی تعریف سُنی اور شعیہ اسلام کی شاخیں اپنے آنے والے مسیحائی رہنما مہدی کا انتظار کرتے ہیں سُنی مسلمان اس کی طرف اشارہ کرتے یں کہ ‘‘ وہ ایک درست رہنمائی کرنے والا اور جس کا انتظار ہوتا ہے ایک ہے ۔ ’’ اور شعیہ مسلمان اُسے صاحب الزمان کا لقب دیتے ہوئے مانتے ہیں، ‘‘ زمانے کا آقا ’’۔ بائبلی نوشتے اس شخصیت کو بطور شیطان جانتے ہیں جو ‘‘ زمانے کا مالک ’’ کی طرح کہلاتا ہے۔ مسلمانوں کا مسیح مسیحیوں کا مخالفِ مسیح ہے۔ ویلڈ شعبت ، گاڈزوارآنٹیرر: اسلام، پروفیسی اینڈ دی بائبل رائٹس:

 اسلامی روایت کے مطابق، مہدی صرف بطور ایک غیر واضح مذہبی رہنما ظاہر نہیں ہوتا؛ وہ خلافت کی حکومت کو بحال کرنے کے لیے پھر آئیگا۔ اسلام اس کے پیروکاروں کو ہدایت کرتا ہے : اگر تم اُسے دیکھو ، جا کر اس کی اطاعت کرو، حتیٰ کہ اگر تمہیں برف پر رینگنا ہڑے، کیوننکہ وہ اللہ کا نائب ( خلیفہ ) مہدی ہے ۔‘‘ کیونکہ وہ راہ صاف کرے گا اور حکومت قائم کرے گا ، محمد کے خاندان ( کمیونٹی ) کی ۔۔۔ ہر ایماندار اسے سہارا دینے کے لیے اسکی اطاعت کرے گا ۔ ’’ ( ۱ )

خلیفہ پارسائی کے طور پر مذہبی معاملات میں پوپ جیسا ہے۔ تاہم ، خلیفہ بھی اسلامی دنیا کی حکومت ( خلافت ) کے ایک سردار حکمران کے طور پر حکومت کرتا ہے ، اسلامی شریعت میں مطلق اختیار کے ساتھ ۔ شُعبت آنیوالی خلافت ایک درست خلاصہ دیتا ہے :

لیکن ۱۹۲۴ ء سے ‘‘ الہیٰ حکومت ’’ کی تقریباً چودہ صدیوں کے بعد خلیفہ کی حکومت آخر کار موقوف ہوگئی۔ آج پوری مُسلم دُنیا میں خلافت کو بحال کرنے کے لیے قوت کے ساتھ آتشفشاں پھٹنے والا ہے۔ مہدی اور خلیفہ کی دونوں نشستوں کے لیے اختیار کے ساتھ ایک ہی شیز ہے، محمد نے کہا، ‘‘ میری اُمت کے آخری زمانے میں ایک خلیفہ ہو گا ۔ ۔ ۔ وہ امام مہدی ہو گا ۔ ’’ دوسرے الفاظ میں ، یہ آخری خلیفہ ، جب اپنے عہدہ پر بیٹھے گا ، آخری زمانوں کا مہدی ہو گا۔ ( ۲ )

تمام مسلمانوں کو آنے والے مہدی کے لیے تعظیم اور مکمل اطاعت کرنا ضروری ہے۔ ایک اعتدال پسند مسلمان کی زبردست فرضی داستان بذاتِ خود بطور ایک مکمل طور پر ظاہر ہو گی ایک دفعہ مہدی حکم قبول کرتا ہے ۔ آج مسلمانوں کی ایک تھوڑی تعداد پر تشدد بنیاد پرست ہے؛ لیکن جب مہدی ظاہر ہوتا ہے تو اعتدال پسندوں کو قبول کرنے اور اس کی اطاعت کے لیے مجبور کیا جائیگا ۔ آخری دنوں میں مسلمانوں کی اکثریت، جہادی ذہن کی اکثریت بن جائیگی اور نافرمان آزاد خیال مسلمان فوراً قتل کر دیے جائیں گے ۔ آنے والے مہدی پر ایمان لانے کے لیے عالمی ضرورت کو مسلم ورلڈ لیگ کی طرف سے ۱۹۷۶ء میں اسے ایک فتویٰ قرار دیا گیا ۔ بےشمار احادیث آنے والے مہدی کی تصدیق کا بیان کرتی ہیں اور تمام مسلمانوں کے لیے ایمان لانے کے لیے بطور لازمی حوالہ دیا گیا ۔ ( ۳ )

۲۰۰۵ ء میں کئی اقوام کو مہدی کی پرستش کا قبل از وقت منظر دکھایا گیا جب انہوں نے ایرانی صدر محمود احمدی نثاد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے نیویارک میں خطاب کرتے سُنا شُعبت لکھتا ہے :

احمد نثاد نے اصلی طور پر دعا کی ، اے قادرِمطلق مالک ، میں تم سے دعا کرتا ہوں کہ جلدی سے اپنے آخری راز کو آشکارا کہ ، جس کا تو نے وعدہ کیا ، جو کامل اور خالص انسانیت ہے وہ شخص جو اس دنیا کو انصاف اور امن سے بھر دے گا۔ ’’ مہدی جسکا اس طرح حوالہ دیا گیا ہے کامل انسانیت جو تمام انبیاء اور نیک آدمیوں کا والی ہے ۔ ’’ مہدی سارے نبیوں کا والی ہے؟ اسلام کے مطابق، محمد آخری نبی ہے اور کامل انسان ہے ۔ جو احمد نثاد جو کہہ رہا ہے وہ یہ ہے کہ مہدی محمد کا دوبارہ تجسم ضروری ہے ۔ ۔ ۔ ابن خطیر اسلام کا مشہور عالم نے آٹھویں صدی میں بیان کیا کہ ، ‘‘ اس وقت کے اظہار اور اضافے کی تھوڑی نشانیوں کے بعد ، انسان ایک عظیم اذیت کے مرحلے میں پہنچ چُکا ہو گا۔ پھر آنیوالا مہدی ظاہر ہو گا ؛ وہ اُس زمانے کی نشانیوں میں سے پہلی واضح تر نشانی ہو گی۔ ’’ ( ۴ )

ہو سکتا ہے کہ کوئی حیران ہو اگر کوئی ایسا جیسے احمدی نثاد عالمی طور پر آتشزدگی کی تحریک دینے کا خواہاں تاکہ زیادہ سے زیادہ مصیبت آئے اور اُن کے آنے والے من پسند مہدی کے آنے کی رفتار بڑھے۔

مہدی اور مخالفِ مسیح ایک جیسے ہیں

اسلامی مہدی اور مخالفِ مسیح کے درمیان بہت ساری باتیں ایک جیسی ہیں۔ اسلام اپنی روح میں مخالفِ مسیح ہے اور سب سے بڑے کامل گستاخ شیطان کا ہم خیال ہے تمام تر ضروری عقائد جو مسیحیت کے اندر نجات کے لیے ہے اسلامی عقیدے اُن کی مخالفت کرتے ہیں ۔ اسلام مکمل طور پر مسیحیت کے خلاف ہے اور اُس کا مواد مسیحیت کا مخالف مواد ہے یہاں تک کہ سیاہ و سفید میں مسیح یسوع اور مہدی جو کہ مخالفِ مسیح ہے اُن کے خطبات میں بھی تضاد ہے یسوع مسیح خُدا کا بیٹا ہے جب کہ مخالفِ مسیح بربادی کا فرزند ہے ( تباہی کا قہر کا بدکاری کا یعنی شیطان کا ) ( ۲۔ تھسلنیکیوں ۸ ۔ ۳ : ۲ ) ، یسوع مسیح کو سچائی کہا گیا جبکہ مخالفِ مسیح ( شیطان ) کو جھوٹوں کا باپ کہا گیا ( یوحنا ۴۴ : ۸ ) یسوع کو پاک کہا گیا جبکہ مخالفِ مسیح کو ہلاکت کا فرزند کہا گیا ۔ ( ۲ ۔ تھسلینیکوں ۳ : ۲ ) یسوع مسیح کا نام خوفں خُدا کا مکاشفہ جب کہ مخالفِ مسیح کا خُطاب روکنے والی تاثیر ہے۔ ( ۲۔ تھسلنیکیوں ۷ : ۲ ؛ مکاشفہ ۵ : ۱۷ ) ۔( ۵ )

تثلیث اور مسیح کے بیٹے ہونے کا انکار

اسلام خُدا کے ثالوث ہونے کی فطرت کا انکار کرتا ہے ۔ ‘‘ بے شک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں اللہ تین خُداؤں میں تیسرا ہے ۔ ’’ ( قرآن ۷۳ : ۵ ) اسی طرح اسلام خاص طور پہ بہت ساری سُورتوں میں خُدا کے بیٹے ہونے کی مخالفت کرتا ہے :

‘‘ ۔ ۔ ۔ اور نصرانی بولے مسیح اللہ کا بیٹا ہے جو باتیں وہ اپنے منہ سے بکتے ہیں اگلے کافروں سے بات بناتے ہیں اللہ اُنھیں مارے کہاں اُوندھے جاتا ہے ۔ ’’ ( قرآن ۳۰ : ۹ ) ‘‘ وہ کہتے ہیں رحمان نے اولاد اختیار کی بے شک تُم حد کی بھاری بات لائے فریب ہے کہ آسمان اِس سے پھٹ پڑے اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گِر جائیں ڈح کر اُس پر کہ اُنھوں نے رحمان کے لیے اولاد بتائی اور رحمان کے لیے لائق نہیں کہ اولاد اختیار کرے۔ ’’ ( قرآن ۹۲ ۔ ۸۸ : ۱۹ ) ؛ بے شک کافر ہوئے وہ جہنوں نے کہا کہ اللہ مسیح بن مریم یہی ہے ۔ ’’ ( قرآن ۱۷ : ۵ ) بائبل واضح طور پہ بیان کرتی ہے ، ‘‘ کہ وہ جھوٹا ہے جو یسوع کے مسیح ہونے کا انکار کرتا ہے وہ مخالفِ مسیح ہے جو باپ اور بیٹے کا انکار کرتا ہے جو کوئی بیٹے کا انکار کرتا ہو وہ باپ کا بھی انکار کرتا ہے لیکن جو بیٹے کا اقرار کرتا ہے اُس کے اندر باپ بھی ہے ۔ ’’ ( ۱۔ یوحنا ۲۳ ۔ ۲۲ : ۲ ) اِسی طرح ، ‘‘ خُدا کے روح کو تم اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی روح اقرار کرے کہ یسوع مسیح مجسم ہو کر آیا ہے وہ خُدا کی طرف سے ہے اور جو کوئی روح یسوع کا انکار نہ کرے وہ خُدا کی طرف سے نہیں اور یہی مخالفِ مسیح کی روح ہے ۔ ۔ ۔ ’’ ( ۱ ۔ یوحنا ۳ ۔ ۲ : ۴ ) دوبارہ اسلام مخالفِ مسیح ہونے کے کردار سے بھرا ہوا ہے جب وہ خُدا کے بیٹے کے مجسم ہونے اور خُدائے ثالوث کا انکار کرتا ۔

مصلوبیت اور جی اُٹھنے کا انکا ر

 مسیح کے خلاف اسلام کی گستاخ جاری رہتی ہے اور وہ مسیح کے مُصلوب ہونے اور زندہ ہونے کی گواہی کا بھی انکار کرتی ہے :

‘‘ اور اِن کے اِس کہنے پر کہ ہم نے مسیح عیسیٰ بن مریم اللہ کے رُسول کو شہید کیا اور ہے یہ کہ اُنھوں نے نہ اسے قتل کیا اور نہ اِسے سُولی دی بلکہ اِن کے لیے ان کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا اور جو اِس کے بارے میں اختلاف کر رہے ہیں ضرور اُس کی طرف سے شبے میں پڑے ہوئے ہیں اِنھیں اِس کی کُچھ بھی خبر نہیں مگر یہی گمان کی پیروی اور بے شک اُنوں نے اِس کو قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے اُسے اپنی طرف اُٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔ ( قرآن ۱۸۸ ۔ ۱۵۷ : ۴ )

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ تمام مسلمان اس پیرائے پر متفق نہیں ہو سکتے ۔ درحقیقت وہ تمام پریشان ہیں اور اُن کے پاس کوئی خاص علم نہیں ہے اور اِن مسلمانوں میں سے ایک اکثریت اس تشریح پر ایمان رکھتی ہے کہ یسوع ابھی بھی بدن میں زندہ ہے اور امام مہدی کے آنے کے بعد ظاہر ہو گا ۔ اسلامی علم و آخرت کے مطابق یسوع امام مہدی کا اُمتی ہو گا ۔ ایک دفعہ پھر اسلام اس بات پر ایک دوسرے کا مخالف ہے جبکہ بائبل فرماتی ہے کہ مخالفِ مسیح ( مہدی کو مسیح خُداوند شکست دے گئے اور اُسے آگ کی جھیل میں ڈالیں گئے ۔ ( مکاشفہ ۲۰ : ۱۹ )

ایک دوسرا فرقہ اس بات پہ ایمان رکھتا ہے کہ مسیح اب حقیقی بدن میں نہیں ہے بلکہ صرف صلیب پر مرا ہوا ظاہر ہوا ۔ خیر ان دونوں میں سے کوئی بھی تشریح کیوں نہ ہو مسلمان اس بات کا انکار کرتے ہیں کہ مسیح صلیب پر موا۔ مسلمان تبصرہ کرنے والے اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ خُون کی قُربانی کے عقیدے کی الیات سے مِلتا جُلتا ہے اور مُسلمان گناہوں کے کفارے کو بھی رد کرتے ہیں۔ اِس طرح سے اسلام یہودیوں اور مسیحیت میں نجات کے ضروری تصور کو بھی رد کرتا ہے ۔

یوحنا رُسول نے لکھا ہے ‘‘ کیونکہ بہت سے ایسے گمراہ کرنے والے دنیا میں نِکل کھڑے ہوئے ہیں جو یسوع مسیح کے مجسم ہو کر آنے کا اقرار نہیں کرتے ۔ گمراہ کرنے والا اور مخالفِ مسیح یہی ہے۔ ’’ ( ۲ ۔ یوحنا ۷ : ۱ ) دوبارہ اسلام اِس عقیدے کا انکار کرتا ہے کہ مسیح بیٹے کی صورت میں مجسم ہو کر آیا ۔ مخالفں مسیح کو ایک ‘‘ دھوکہ دینے والا ’’ بھی کہا گیا ہے اور اِس کا کردار بالکل مہدی کے ساتھ ملتا ہے اللہ کو اصل عربی زبان میں مُکارا بھی کہا گیا ہے ۔ ( یعنی بہت بڑا دھوکہ دینے وال ) اِسی طرح سے مہدی بھی شیطان کے قبضے میں ہے اور وہ بھی پوری دنیا کو دھوکہ دے گا کہ اُسے سجدہ کریں۔

اسلامی عقیدہ بار بار یہواہ پاک خُدا کے خلاف گُستاخی کرتا ہے اور مستقبل میں بائبل کی نبوت کے مطابق مخالفں مسیح ( مہدی ) بھی یہی کُچھ کرے گا :

‘‘ اور بڑے بول بولنے اور کفر بکنے کے لیے اُسے ایک منہ دیا گیا اور اُسے بیالیس مہینے تک کام کرنے کا اختیار دیا گیا اور اُس نے خُدا کی نسبت کفر بکنے کے لیے منہ کھولا کہ اُس کے نام اور اُس کے خیمے یعنی آسمان کے رہنے والوں کی نسبت کفر بکے اور اُسے یہ اختیار دیا گیا کہ مقدسوں سے لڑے اور اُن پر غالب آئے اور اُسے ہر قبیلے اور اُمت اور اہل زبان اور رقوم پر اختیار دیا گیا ۔ ’’ ( مکاشفہ ۷ ۔ ۵ : ۱۳ )

مقررہ وقتوں اور قوانین میں تبدیلی کی کوشش

دانیل نبی کے مطابق مخالفِ مسیح ‘‘ اور وہ حق تعالیٰ کے خلاف باتیں کرے گا اور حق تعالیٰ کے مقدسوں کو تنگ کرے گا اور مقررہ اوقات اور شریعت کو بدلنے کی کوشش کرے گا ۔ ’’ ( دانیل ۲۵ : ۷ )

 اسلامی کیلنڈر کی بنیاد محمد کی زندگی پر ہے اور چاند کے گھومنے پر جِس کی تمام مسلمان پیروی کرتے ہیں ، مزید برآں شریعت کا قانون بھی مذہبی قانونی نظام کے مطابق اسلامی معاشروں کے شہریوں پر لاگو کیا جاتا ہے ۔ ایک دفعہ مخالفِ مسیح کی دنیا بھر میں خلافت کا کنٹرول ہو گیا تو وہ تمام تر آئنی قوانین کو شریعت کے قوانین میں بولنے کی اور اسلامی کیلنڈر کو ایک ادارہ بنانے کی کوشش کرے گا ۔

خواتین کے حقوق کا انکار

مہدی اور مخالفِ مسیح دنیا میں نئی خلافت کے دور میں دونوں خواتین کے حقوق کا انکار کرتے ہیں ۔ ‘‘ وہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کی پرواہ نہ کرے گا اور نہ عورتوں کی مرغوبہ کو اور نہ کِسی اور معبود کو مانے گا ۔ ’’ ( دانیل ۳۷ : ۱۱ ) کُچھ نبوتوں کا تجزیہ کرنے والے یہ بھی کہتے ہیں کہ مخالفِ مسیح ہم جنس پرست ہو گا ۔ عبرانی کے اصل متن میں یہ بات بہت واضح ہے کہ وہ عورتوں کی خواہش کی عزت نہیں کرے گا ۔ خلافت کے تحت شریعت کا قانون نافذ ہو گا اور خواتین کے حقوق پامال کیے جائیں گئے۔

جنگ کے خُداؤں کی عزت کی جائے گی

آخری دنوں میں مخالفِ مسیح مکمل طور پہ شیطان کے قبضے میں ہو گا اور مہدی کو اللہ کنٹرول کرے گا اللہ کے ۹۹ خطبات میں سے ایک ‘‘ المومیت ’’ ہے جس کا لفظی ترجمہ ‘‘ ایک ایسا شخص جو موت کی طاقت کے قبضے میں ہے ، موت کا سبب بننے والا ہے ، زندگی لینے والا یا اُسے برباد کرنے والا ’’

بائبل کا یہ سارا بیان شیطان کے ساتھ مُلتا جُلتا ہے ، چور نہیں آتا مگر چرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو ۔ ۔ ۔ ’’ ( یوحنا ۱۰ : ۱۰ ) مکاشفہ ۱۱ : ۹ میں شیطان کا ایک نام ابدون ہے ( یعنی برباد کرنے والا ) اور یونانی میں اُپلیون ہے ، بائبل کے بہت سارے دوسرے حوالے بھی شیطان کو موت کا لانے والا اور برباد کرنے والے کے طور پہ آئے ہیں ۔

مہدی کے لیے ہیگز نے بیان کیا ہے :

صحیح بخاری کی رویات کے مطابق محمد کے بارے میں یہ کہا گیا اور المہدی بھیجا جائے گا جو اماموں کی مہر ہے وہ تمام مذاہب کو فتح کرے گا ۔ وہ قلعہ بنائے گا اور لوگوں کو برباد کرے گا اور بتوں کے تمام قبیلوں کو گرائے گا اور خُدا کے شہیدوں کی اموات کا انتقام لے گا۔ ( ۶ )

  یہ بیان دوبارہ مخالفِ مسیح کے ساتھ مِلتا جُلتا ہے یہ ساری خلافت کی سلطنت کی رہنمائی کرے گا ۔ اُس نے کہا کہ چوتھا حیوان دُنیا کی چوتھی سلطنت ہے جو تمام سلطنتوں سے مختلف ہے اور تمام زمین کو نِگل جائے گی اور اُسے لتاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کرے گی۔ ’’ ( دانیل ۲۳ : ۷ ) ؛ ‘‘ اور اِس حیوان کی مانند کون ہے۔؟ کون اِس سے لڑ سکتا ہے؟ ’’ ( مکاشفہ ۴ : ۱۳ ) شُعبت مہدی کی قوت کے بارے میں مسلمانوں کے تصور کو پیش کرتا ہے:

یہاں تک کہ بہت سارے جدید اور بین المذاہب تصور رکھنے والے مُسلمان مفکرین بھی اِس بات پہ یقین رکھتے ہیں کہ مہدی فوجی حکومت کے ساتھ دُنیا میں حکمرانی کرنے آ رہا ہے ۔ ہارون یحییٰ جو کہ ایک جدید دور کا دعویٰ کرنے والا اور وسیع خیال مسلمان مصنف ہے اُس نے ویب سائٹ پر ایک سوال کے جواب میں کہا۔ ‘‘ مہدی مشرق اور مغرب کے درمیان تمام جگہوں پر حکومت کرے گا ۔’’ اِس طرح یحییٰ مہدی کی خوبیوں کا بھی ذکر کرتا ہے جو کہ تمام دنیا پر قبضے کے حوالے سے ہے : ‘‘ کوئی بھی مہدی کے مقابلے میں کھڑا نہیں ہو سکتا اور وہ تمام دنیا پر حکمرانی کرے گا۔’’ ( ۷ )

مسلمان مفکرین اِس بات پر یقین کرت ہیں کہ مہدی دنیا کے قوموں کے خلاف بہت سارے جہادوں میں رہنمائی کرے گا اور وہ اسلام کے لیے دنیا بھر میں راج کرے گا جس طرح سے پانویں باب میں بیان کیا گیا ہے کہ اللہ جغرافیائیہ طور پر گناہ کے تمام دیوتاؤں کے برابر ہے اور عُلمکا ( یعنی سائبین دیوتا ) یہ دونوں جنگ کے دیوتاؤں کے طور پہ جانے جاتے ہیں ۔ اپنی کتاب مون تہیم میں جوئیل ناتن لکھتا ہے:

مرد چاند دیوتاؤں میں مشرقِ وسطیٰ میں ہلال چاند کی شکل شمشیر کی سی ہے جو اِس بات کو ظاہر کرتی  کہ چاند دیوتا قُدرتی طور پر جنگجو دیوتا ہے اور اِس حقیقت کی پہچان گلِگیمش کرواتا ہے ۔ گلِگیمش اپنے گناہ کے لیے ایک کلہاڑے اور ایک تلوار کو جو کہ رات کے وقت تنے ہوئے شیروں جو کہ رات کو گشت کرتے ہیں اُن کو مارنے میں اپنی اہلیت بتاتا ہے ۔ ( ۸ )

اللہ ایک جنگ کا دیوتا ہے اور بہت سارے اسلامی جھنڈے اور اُس کی چہرہکشی کے نمائندے تلواروں کے نشان کے طور پہ اس کی نمائندگی کرتے ہیں۔

دانیل نبی ایک پیرائے میں مخالف مسیح اور اِس کے مذہبی عقائد کی اہمیت کو بیان کرتا ہے :

‘‘ وہ اپنے باپ دادا کے معبودوں کی پرواہ نہ کرے گا اور نہ عورتوں کی مرغوبہ کو اور نہ کسی اور معبودوں کو مانے گا بلکہ اپنے آپ ہی کو سب سے بالا جانے گا اور اپنے مکان پر معبود حصار کی تظیم کرے گا اور جِس معبود کو اُس کے باپ دادا نہ جانتے تھے سونا اور چاندی اور قیمتی پتھر اور نفیس ہدیے دیکر اُس کی تظیم کرے گا وہ بیگانہ معبود کی مدد سے محکم قلعوں پر حملہ کرے گا جو اُس کو قبول کریں گئے اُن کو بڑی عزت بخشے گا اور بہتوں پر حاکم بنائے گا اور رشوت میں ملک کو تقسیم کرے گا۔ ’’ ( دانیل ۳۷ : ۱۱ )

اصلی عبرانی زبان میں ، ۳۷ آیت میں جو لفظ ‘‘ معبود ’’ کے لیے استعمال ہوا ہے اُس کا ترجمہ جمع کی صورت میں یعنی ‘‘ معبودوں ’’ میں ہونا چاہیے تھا ۔

(۹ )کیا یہ محمد کی طرف سے اسلام کے ساتھ تعلق نہیں رکھتا؟ اُس کے ٓباؤاجداد نے کعبہ کے مزار میں ۳۶۰ معبودوں کی پوجا کی اور اُس نے تمام بتوں کو توڑ دیا لیکن جمرہ اسود کو جو کہ اللہ کی نمائندگی کرتا تھا اُس کو پوجا ۔ تاہم محمد بہت سارے نئے مختلف عقائد کے درمیان ہم آہنگی کے مذاہب اور بدعتی عقائد جو کہ اللہ کی پوجا کے ساتھ ملتے تھے۔

اُن کے ساتھ جُڑا رہا۔ جلد ہی مادہ پرستوں کا اللہ ریاکار چاند دیوتا میں بدل گیا اور اُس کی خصوصیات ، خوبیوں اور ایمان میں اضافہ ہوا۔ محمد کا نیا مذہب اسلام اِس کو وحدانیت کا نام دیا گیا یہاں تک کہ وہ خُود اپنے ہی قبیلے کے لوگوں اہل قریش کے خلاف ہو گیا اور اُن میں سے بہتوں کو ذبح کیا اِس طرح سے محمد نے اپنے آباؤاجداد کے دیوتاؤں کی نہ تو مزید پیروی کی اور نہ ہی اُن کی عزت کی اگر مخالفِ مسیح مہدی آنے والے دور میں اسی پس منظر سے آتا ہے تو یہ بات اُس کے لیے پوری آنی ہے اور اسلام کے لیے بھی مخالفِ مسیح اپنے ہی دیوتا کو عزت دے گا ۔

دوسرے لفظوں میں وہ جنگ کے دیوتا کو عزت دے گا ( یعنی چاند دیوتا اللہ کو ) اور بڑے بڑے مضبوط قلعوں پر حملہ کرے گا ۔ ( یعنی دوسری بڑی بڑی فوجی قوتوں پر ) مخالفِ مسیح شیطان کے قبضے میں ہو گا ، ‘‘ وہ کِسی دیوتا کو عزت نہیں دے گا : کیونکہ وہ خود اپنے آپ کو سب سے بڑا بنائے گا ۔ ’’ ( دانیل ۳۷ : ۱۱ ) شیطان ایک بہت بڑا باغی تھا اور اِسی سبب سے اُس نے اپنے آپ کو خُدا سے بھی بڑا ہونے کے لیے پیش کیا اور ایک طور پہ اُس نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ صرف اُسی کی پرستش ہو ۔ مخالفِ مسیح مہدی صرف شیطان کی پیروی کرے گا جِس نے اُس پر مکمل طور پر قبضہ کیا ہوا ہے وہ صرف جنگ کے دیوتا کی عزت کرے گا اور دنیا پر اُس کے اختیار اور فتح کے لیے اُس سے درخواست کرے گا ۔ ‘‘ اے غیب بتانے والے نبی کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور اُن پر سختی فرماؤ اور اِن کا ٹھکانہ جہنم ہے اور کیا ہی بُرا انجام ۔۔۔۔ ’’ ( قرآن ۹ : ۶۶ )

‘‘ اور اگر اُن سے لڑو یہاں تک کہ کوئی فساد باقی نہ رہے اور سارا دین اللہ ہی کا ہو جائے پھر اگر وہ بعض رہیں تو اللہ اُن کے کام دیکھ رہا ہے اور اگر وہ پھریں تو جان لو کہ اللہ تمہارا مولا ہے تو کیا ہی اچھا مولا اور کیا ہی اچھا مددگار اور جان لو کہ جو کُچھ غنیمت لو تو اُس کا پانچواں حصہ اللہ اور رُسول اور قرابت والوں اور یتیموں اور محتاجوں اور مسافروں کا ہے ۔ ’’ ( قرآن ۴۱ ۔ ۳۹ : ۸ )

شیطان بطور ہلال نئے چاند کے طور پہ پیش کیا گیا ہے قضاہ کی کتاب میں جدعون نے مدیان کی فوجوں کے خلاف اسرائیل کا دفاع کیا اُن میں سے کُچھ نسلاً اسماعیلی تھے۔ ‘‘ جدعون سارے زیورات یہاں تک کہ جو اُونٹوں کی گردن میں بھی تھے لے گیا۔ ( قضاہ ۲۱ : ۸ ) اصلی عبرانی ترجمے کے مطابق یہ زیورات چاند یا الہلال کے معنی رکھتے ہیں۔ عبرانی رسم الخط کے مطابق اور جو اس کی زبان کی جڑ ہے ۔( ۱۰  ) ہو سکتا ہے کہ یہ زیورات جو اُونٹوں کے گلوں کے ساتھ بندھے ہوئے تھے وہ ہلال چاند کی طرح کے ہیں ( قضاہ ۲۶ : ۸ ) یہ لوگ چاند دیاتا کی پوجا کرتے تھے جس کے سبب سے اُنھوں نے اپنے جانوروں کے گلے میں اِس قسم کے زیورات پہنائے ۔ زباندانی کی قربت میں اِن کا ترجمہ ہلال چاند ہی بنتا ہے قضاہ ۲۱ : ۸ میں اگر ہم اِس کو ایک لفظ کے ساتھ جوڑے تو اِس کا ترجمہ شہار کیا گیا ہے اور بعد میں یسعیاہ ۱۲ : ۱۴ میں بھی ہے اِسی طرح پرانے تصور کے مطابق لفظ سِن کے لیے شِن استعمال ہوتا تھا ۔ اِسی سبب سے چاند دیوتا کے لیے بھی پہلے لفظ ڈاؤن استعمال ہوتا تھا اور یہ اصل متن میں ایک دوسرے سے ملتے جُلتے ہیں ۔ یسعیاہ بابلیوں کے بادشاہ سے خطاب کرتا ہے۔ ( یہ بھی شیطان کی ایک قسم ہے اور آنے والے مخالفِ مسیح مہدی کی صورت بھی ) :

‘‘ اے صُبح کے روشن ستارے تو کیونکرآسمان سے گِر پڑا اے قوموں کو پست کرنے والے تو کیونکر زمین پر ٹپکا گیا تو تو اپنے دل میں کہتا تھا میں آسمان پر چڑھ جاؤں گا ۔

میں اپنے تخت کو خُدا کے ستاروں سے بھی اُونچا کروں گااور میں شمالی اطراف میں جماعت کے پہاڑ پر بیٹھوں گا میں بادلوں سے بھی اوپر چڑھ جاؤں گا میں خُدا تعالیٰ کی مانند ہونگا لیکن تو پاتال میں گڑھے کی تہہ میں اُتارا جائے گا اور جن کی خطر تجھ پر پڑے گی تجھے غور سے دیکھ کر کہے گئے کیا یہ وہی شخص ہے جِس نے زمین کو لرزایا اور مملکتوں کو ہلا دیا ۔ ’’ ( یسعیاہ ۱۶ ۔ ۱۲ : ۱۴ )

غور کیجیے شیطان اور مخالفِ مسیح پہلے بھی ٹھیک ایک طرح سے بیان کیے گئے ہیں ، ‘‘ وہ اپنے آپ کو سب سے بالا جانے گا۔’’ ( دانیل ۳۷ : ۱۱ ) مزید برآں قرآن اصل میں حکم دیتا ہے کہ مسلمان شیطان کی پوجا کریں ، ‘‘ کہو میں صبح کے خُدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ ’’ ( قرآن ۱ : ۱۱۳ )

سے کہری شرٹس لکھتا ہے :

 مزید برآں شیطان اور ہلال چاند کے درمیان کافی مماثلت ہے ویب سائٹ

www.backyardprofessor.com

گلیزن ایل آرچر نے اپنی کتاب ‘‘ انسائیکلوپیڈیا آف بائبل ڈیفیکلٹیز ’’ جو کہ ذونڈوارن پریس سے ۱۹۸۲ء میں شائع ہوئی اُس میں لکھا کہ عبرانی زبان میں ‘‘ ہیلل ’’ کا ترجمہ یونانی زبان کے ‘‘ ہیوس فورس ’’ میں کیا ہے لیکن اِس کاحقیقی مطلب ‘‘ صبح لانے والا اور صبح کے ستارے ’’ کی طرف کیا گیا ہے وہ مزید اِس کی واضح وجہ بیان کرتا ہے جو کہ ابتدائی قریبی مشرقی زبانوں میں سمجھا جاتا ہے اِس کے مطابق لفظ سیریاک پشتہ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو قریب ترین ہیلل سے مِلتا جُلتا ہے اِس کو ‘‘ آلل ’’ بھی کہتے ہیں ایک ممکنہ طور پر عربی نسل اِس کو ‘‘ ہیللن ’’ کہتی ہے جس کا مطلب ہے ‘‘ نیا چاند ’’ اگر اِس کی جڑیں عبرانی کے ہلال سے ملتی ہیں ( یعنی عربی کے ہالہ سے ) تو اِس کا مطلب ہے ‘‘ آب و تاب سے چمکنا ’’ ( عقائدین نسل میں ‘‘ ایلو ’’ ایک اِسم صفت ہے جس کا مطلب ‘‘ چمکنا ’’ ہے ) ، اِس طرح سے ہم سمجھ سکتے ہیں کہ ‘‘ ہیلل ’’ کا مطلب ‘‘ چمکنے والا ’’ ہے ( صفحہ نمبر ۲۶۸ ) وہ مزید بیان کرتا ہے کہ لوسیفر کو طنزاً ‘‘ شہار ’’ بھی کہا گیا ہے جس کا مطلب ہے ‘‘ ایک چمکنے والا ’’ ( صفحہ نمبر ۲۶۹ ) ۔ ( ۱۱ )

عربی زبان عبرانی زبان کے قریب ترین زبان ہے اور اکثر ابتدائی لفظوں کے مطلب کی صیحح اصلی جڑ کو دیکھنے کے لیے مفید ہے ۔ عربی نسل کا لفظ ہیلن کا ترجمہ نیا چاند ہے جس کا مطلب ہے کہ یہواہ ابلیس کی عدالت کا مذاق اُڑاتا ہے ۔ یہواہ ابلیس کے بارے میں بیان کرتا ہے کہ وہ ایک چمکتا ہوا صبح کا سُتارا تھا جو اپنی روشنی کھو بیٹھا اور آخرکار وہ بُجھ جائے گا ۔ دوسرے اِس پیرائے کو وینس کے ستارے کے مساوی بھی سمجھتے ہیں جس کی جڑیں اسلام سے پہلے عرب کے کاموں سے تھی جن کا تزکرہ پچھلے ابواب میں ہوا ہے ۔ اسلامی جھنڈے میں ہلال چاند اور ستارے کی تصویروں کی شبیہ نظر آتی ہے۔

جن ( بد روحیں ) قرآن سے پیار کرتی ہیں

جن جو کہ بدروحوں کے مساوی ہیں اِسی طرح کی اور روحیں یا شیطان قرآن کی سورتوں میں ہے اور اِس کا تعلق اسلام سے پہلے کی اصل سے ہے ۔ اِنھوں نے اسلام کے راستے کی پیروی کی اور قرآن کی تعریف کی ۔

‘‘ تم فرماؤ مجھے وحی ہوئی کہ کُچھ جنوں نے میرا پڑھنا کان لگا کر سُنا تو بولے ہم نے ایک عجیب قرآن سُنا کہ بھلائی کی راہ بتاتا ہے تو ہم اُس پر ایمان لائے اور ہم ہر گز کِسی کو اپنے رب کا شریک نہیں کریں گئے ۔۔۔ اور یہ کہ ہم نے جب ہدایت سُنی اِس پر ایمان لائے تو جو اپنے رب پر ایمان لائے اُسے نہ کِسی کا خوف اور نہ زیادتی کا ، ہم نے تسلیم کیا ۔ ۔ ۔ ’’ ( قرآن ۱۳ ، ۲ ۔ ۱ : ۷۲ )

کیوں کوئی مسلمان ایسے خُدا کی پوجا کرے گا جس کی بدروحیں بھی پوجا کرتی ہیں ؟ کیا کِسی کو سمجھنا نہیں چاہیے کہ یہ اِسی بات کی علامت ہے ؟ کیا یہ کِسی کے لیے ٹھیک ہے کہ وہ اُسی شیطانی چاند دیوتا اللہ کے آگے جُھکے جِس کی پوجا بدروحیں بھی کرتی ہیں۔

قتل کرنے کی بڑے پیمانے پر مشق

ایک بہت بڑی نظریں جما کر دیکھنے والی مشاہبت جو مخالفِ مسیح اور مہدی کے درمیان ہے وہ ہے مارنے کا طریقہ کار ‘‘ پھر میں نے تخت دیکھے اور لوگ اُن پر بیٹھ گئے اور عدالت اُنکے سُپرد کی گئی اور اُنکی روحوں کو بھی دیکھا جنکے سر یسوع کی گواہی دینے اور خُدا کے کلام کے سبب سے کاٹے گئے تھے اور جہنوں نے نہ اُس حیوان کی پرستش کی تھی نہ اُس کے بُت کی اور نہ اُسکی چھاپ اپنے ماتھے اور ہاتھوں پر لی تھی ۔ وہ زندہ ہو کر ہزار برس تک مسیح کے ساتھ بادشاہی کرتے رہے۔ ’’ ( مکاشفہ ۴ : ۲۰ )

مزید برآں مخالفِ مسیح کی سلطنت مندرجہ ذیل ایمان بھی رکھے گی : ‘‘ لوگ تم کو عبادتخانوں سے خارج کر دینگے بلکہ وہ وقت آتا ہے کہ جو کوئی تم کو قتل کرے گا وہ گمان کریگا کہ میں خُدا کی خدمت کرتا ہوں۔ ’’ ( یوحنا ۲ : ۱۶ )

دوبارہ اسلام کی ساری تایخ نے ساتویں صدی سے متحدہ ہو کر قتل کرنے کی ایک بڑی مشق کی ہے ۔ محمد نے خود بھی ۶ سو اور ۹ سو یہودی آدمیوں کو جو کہ بنو قریزہ سے تھے قتل کرنے میں حصہ لیا اِس کے بعد جلد ہی اُس نے اور ۴ سو یہودیوں کو مارنے کا حکم دیا۔ ابن عشاق اِس واقعے کو بیان کرتے ہیں :

ابو عبیدہ نے مجھے ابوامر کی سربراہی میں مجھے بتایا کہ مدیان میں جب رُسول نے بنو قریزہ نے یہودیوں میں سے ۴ سو آدمیوں کو مار دیا جو کہ آس کے اتحاد میں سے خزراج کے خلاف تھے اُن کے لیے قتل کا حکم دیا گیا ۔ ( ۱۲ )

محمد نے مسلمانوں کے لیے پیروی کا ایک طریقہ کار قائم کیا، ‘‘ تمہارے پاس بلاشبہ اللہ کے رُسول بہترین نمونہ ہے ’’ قرآن ۲۱ : ۳۳ ) بے شک بعد میں آنے والی تمام خلیفوں کی نسلوں اور اسلامی رہنماؤں نے محمد کے سر قلم کرنے کے طریقہ کار کو جاری رکھا یہاں تک کہ ۱۹۸۰ء کے جدید دور میں افغان جہادی جنگجوؤں نے اندازاً ۳۰۰۰ سویت فوجوں کے سر قلم کیے۔ ( ۱۳ ) سعودی عربیہ کی حکومت نے اِس قانون کو جاری رکھا کہ سعودی عربیہ کی بادشاہت میں جادوگروں نشہ لینے والوں اور ہم جنس پرستوں وغیرہ کے سر قلم کیے جائیں گئے شُعبت اپنے تجزیے میں لکِھتا ہے : کسی  بھی دوسری حکومت نے اسلام کی طرح سر قلم کرنے کی مشق کو اختیار نہ کیا ۔ رومی حکومت نے بنیادی طریقہ کار میں غیر شہریوں کے قتل کے لیے صلیب دینے کا طریقہ اختیار کیا ۔ جبکہ کاتھولک کلیسیاء نے ڈبونے یا جلانے کا طریقہ اپنایا صرف اسلام نے ہی اس قتل کی تاریخی روایت کو لمبے عرصے کے لیے جاری رکھا ۔ یہاں تک کہ اُن کے خاص احکامات جو اُن کی ‘‘ پاک کتاب ’’ میں ہے ۔ ‘‘ اُن کے سرتن سے جُدا کر دو ۔ ’’ ( قرآن ۴ : ۴۷ ) ۔ ( ۱۴ )

ہو سکتا ہے کہ کِسی کو القاعدہ کی تقسیم کی ہوئی وہ ویڈیوز یاد ہوں جن میں زندہ لوگوں کے سر کاٹے گئے ۔ ایک دفعہ اسلامی خلافت اگر سرکاری حکومت بن جاتی ہے اور مہدی اُس کا سربراہ ہوتا ہے تو پوری دنیا میں سر کاٹنے کا کام ہو گا اُن سب کے لیے جو اُس کے نشان کے سامنے جُھکنے سے انکار کریں گئے۔

پوری دنیا میں مخالفِ مسیح کی حکومت

بطور بائبل کی نبوتوں کے ریکارڈ میں جو مخالفِ مسیح کا مُستقبل میں خطابات ہونگگے وہ ساری دنیا میں بادشاہی کرے گا اُسے بابل ، اُسوریہ کا بادشاہ طائر

( لبنان ) کا شہزادہ اور مِصر کا فرعون کہا جائے گا ۔ جغرافیائی طور پہ یہ نبوت بڑی جامع ہو گی مسیح کے بارے میں نبوت ہوئی کہ وہ مِصر ، بیت الحم اور ناصرت سے آئے گا اور سچی نبوت کے مطابق یسوع بیت الحم سے آیا ۔ ہیرودیس کے زمانے میں مِصر کی طرف بھاگا اور ناصرت میں پلا بڑھا۔

دس قومی اسلامی سیاسی اتحاد

شُبت اُن قوموں کا ایک خلاصہ بیان کرتا ہے جو مخالفِ مسیح مہدی کنٹرول کرے گا ۔ یسعیاہ کی کتاب میں اِس کا زیادہ تر حتمی حصہ ملتا ہے کہ مسیحا اور مخالفِ مسیح کے درمیان جنگ ہوتی ہے ۔ تاہم جب ہم درحقیقت خاص قوموں کو جو اُس ‘‘ نبوتی حصے ’’ کی زد میں آتے ہیں یا اِس بات کا ‘‘ بوجھ ’’ رکھتے ہیں کہ وہ مسیح کے خلاف ہو تو وہ ساری مُسلم اقوام نظر آتی ہیں۔ اِن قوموں پر غور کیجیے اِن میں زیادہ تر جن پر زور دیا گیا ہے : بابلیوں۔ یسعیاہ ۱۳ باب ؛ اُسوریہ اور فلسطین یسعیاہ ۱۴ باب ؛ موآب ۔ یسعیاہ ۱۵ باب ؛ دمشق ۔ یسعیاہ ۱۷ باب کش ( سوڈان اور صومالی لینڈ ) ۔ یسعیاہ ۱۸ باب ؛ مصر ۔ یسعیاہ ۱۹ باب ؛ مصر اور کش ۔ یسعیاہ ۲۰ باب ؛ بابل ( عراق اور عرب ) اور ادوم ( عرب ) ۔ یسعیاہ ۲۱ باب ؛ طائر ( لبنان ) ۔ یسعیاہ ۲۳ باب ۔ ( ۱۵ )

یہ دس اسلامی ملکوں کا سارا اتحاد ہے ، ‘‘ اور وہ دس سینگ جو تو نے دیکھے دس بادشاہ ہیں ۔ ابھی تک اُنہوں نے بادشاہی نہیں پائی مگر اُس حیوان کے ساتھ گھڑی بھر کے واسطے بادشاہوں کا سا اختیار پائینگے۔ ’’ ( مکاشفہ ۱۲ : ۱۷ ) یہ دس حکمران حیوان کے ساتھ ایک اتحاد بنائے گئے شُعبت لکھتا :

۲۰۰۲ء میں خلافت کی دوبارہ تشکیل کا ایک منصوبہ ابوقنات الہ شریف الحیسنی جن کا تعلق گائیڈنگ ہیلپر فائنڈیشن سے تھا اُس نے لکھا اِس منصوبے کا نام ، ‘‘ خلافت کی واپسی کا منصوبہ’’۔ تھا ۔ اِس منصوبے کے مطابق ، دس لوگوں کی ایک کونسل کا ہونا ہے جو ‘‘ معاون خلیفے ’’ ہونگے اور یہ خلافت کی حکمرانی کی معاونت کریں گئے ۔ یہ معاونین یا اراکین کی کونسل آج کی حکومتوں کے بہت سارے وزراء کی طرح ہونگے ۔ ( ۱۶ )

دوسری اسلامی گروہ اور تحریکیں اِسی طرح کا نظریہ پیش کرتی ہیں اور مشرقِ وسطیٰ میں تمام دنیا کی سلطنت کے لیے اِس مقصد کے لیے کام کر رہی ہیں اور پوری دنیا کی طرف بڑھ رہی ہیں ۔ اِن بادشاہتوں میں سے اُسوریہ پچھلے دِنوں میں کافی اُبھر کر سامنے آئی ، اسرائیل کی جنگ کے ساتھ لشکروں کے خُدا نے فرمایا۔ ‘‘ میں اپنے ہی ملک میں اُسوری کو شکست دونگا اور اپنے پہاڑوں پر اُسے پاؤں تلے لتاڑونگا۔ تب اُس کا جوا اُن پر سے اُتریگا اور اُس کا بوجھ اُنکے کندھوں پر سے ٹیلگا۔ ( یسعیاہ ۲۵ : ۱۴ )

سات سر

یوحنا رُسول نے آخری وقت کے حیوان یا بادشاہی کی گواہی دی ‘‘ پس وہ مجھے روح میں جنگل  کو لے گیا ۔ وہاں میں نے قرمزی رنگ کے حیوان پر جو کفر کے ناموں سے لِپاہوا تھا اور جِس کے سات سر اور دس سینگ تھے ایک عورت کو بیٹھے ہوئے دیکھا ۔ ۔ ۔ یہی موقع ہے اُس ذہن کا جس میں حکمت ہے ۔ وہ ساتوں سر سات پہاڑ ہیں جن پر وہ عورت بیٹھی ہوئی ہے اور وہ سات بادشاہ بھی ہیں پانچ تو ہو چُکے ہیں اور ایک موجود ہے اور ایک ابھی آیا نہیں اور جب آئیگا تو کُچھ عرصہ تک اُس کا رہنا ضرور ہے اور جو حیوان پہلے تھا اور اب نہیں وہ آٹھواں ہے اور اُن ساتوں میں سے پیدا ہوا اور ہلاکت میں پڑے گا ۔ ’’ ( مکاشفہ ۱ ۔ ۹ ؛ ۳ : ۱۷ )

دُرست تفسیری مطالعہ میں ، لفظ پہاڑ کو ‘‘ بادشاہت ’’ میں ترجمہ کیا جانا چاہیے تھا ۔ جِس طرح کہ دوسرے نبوتی پیراؤں میں ہے دوبارہ شُعبت کے شاندار مشرقی وسطیٰ کے تجزیئے میں وہ اِ آیات کی ایک زبردست بیصرت دیتا ہے :

سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں اِس وقت جو کُچھ لِکھا گیا اِس کے مطابق پانچ حکومتیں پہلے گرائی جا چُکی ہیں جِس کہ جملے میں دیکھا گیا ‘‘ پانچ گرائی جا چُکی ہیں ’’ یہ حکومتیں ہیں :

۱ ۔ مصری شاہنشاہیت

۲۔ اُسوری شاہنشاہیت

۳۔ بابلی شاہنشاہیت

۴۔ فارسی شاہنشاہیت

۵ یونانی شاہنشاہیت

اِن پانچ کے بعد فرشتے نے یوحنا کو بتایا کہ ایک پہاڑ ( شاہنشاہت ) ‘‘ ہے ’’ اِس وقت میں یوحنا نے مکاشفہ کی کتاب میں لکھا کہ یہ رومی شاہنشاہت تھی اِس نے مشرقِ وسطیٰ ، شمالی افریقہ اور بہت سارے یورپ پر حکومت کی ۶ ۔ رومی شاہنشاہت ۔ ( ۱۷ )

  پس، ساتویں صیغہ راز میں ہے ۔ یوحنا رُسول کی زندگی کے دوران یہ ساتویں شاہنشاہت موجود نہ تھی ۔

آٹھویں آخری حکومت ساتویں حکومت کی تجدید کرے گی ہر کامیاب حکومت پہلی حکومت کو جذب کرے گی اور اپنے اختیار کو باہر کی طرف مزید وسع کرے گی ۔ یوحنا کے دور کی رومی حکومت زور آور تھی لیکن اُس پر اسلامی عثمانیہ کی شاہنشاہت کی خوبیوں کو پورا کیا اور یہی ساتویں شاہنشاہت ہے یہ اسلامی شاہنشاہت برباد ہو گی لیکن آخری دِنوں میں آٹھویں شاہنشاہت کے طور پر سُپر پاور ہو گی ۔ یہ تمام تر شاہنشاہتیں یروشلم کو مرکز بنا کر یروشلم پر قبضہ کریں گئیں ۔

ترکی بطور مخالفتِ مسیح کے ایک مضبوط سلطنت

کوئی بھی مسیح کے واپس آنے کے دن یا گھڑی کو نہیں جانتا لیکن وہ نشان گواہی ہونگے جو اِس موقعے پر ظاہر ہونگے ۔ بائبل کی نبوتیں جدید ترکی کی طرف بطور مخالفتِ مسیح کی ایک مضبوط حکومت ہونے کے اشارہ کرتی ہے اِس حوالے سے اِس حصے کی ایک خاص اہمیت ہے ۔ ‘‘ اور میں نے اُس کے سروں میں سے ایک پر گویا زخم کاری لگا ہوا دیکھا مگر اُس کا زخم کاری اچھا ہو گیا اور ساری دنیا تعجب کرتی ہوئی اُس حیوان کے پیچھے پیچھے ہو لی۔ ’’ ( مکاشفہ ۳ : ۱۳ ) جِس طرح سے اِس ترھویں باب میں پینگوئی ہوئی ۔ ساتویں شاہنشاہت کا ہُڈ کوارٹر کونسٹنٹ ٹائمپل ہو گا ۔ ترکی ( مشرقی رومی سلطنت کا سابقہ دارلخلافہ تھا ) وہ زخمی ہوا جب ۱۹۲۴ء میں خلافت ختم ہوئی ۔ حزقی ایل کی نبوتوں میں سے ترکی اخیر زمانے ایک خاص بڑا کھلاڑی ہے جو کھڑا ہوتا ہے اور اسرائیل کے خلاف جنگ کرتا ہے ۔ حزقی ایل مخالفِ مسیح کو جُوج کے نام سے نبوت کرتا ہے :

‘‘ کہ اے آدمزاد جُوج کی طرف جو ماجوج کی سرزمین کا ہے اور روش اور مِسک اور توبل کا فرمانروا ہے متوجہ ہو اور اُس کے خلاف نبوت کر اور کہہ خُداوند خُدا یوں فرماتا   ہے کہ دیکھ اے جُوج روش اور مِسک اور توبل کے فرمانروا میں تیرا مخالفِ ہوں ۔ ۔ ۔ اور اُن کے ساتھ فارس اور کُوش اور نوط جو سب کے سب سُپر بردار اور خُود پوش ہیں ۔ جُمرا اور اُسکا تمام لشکر اور شمال کی دُورا اطراف کے اہل تجرمہ اور اُنکا تمام لشکر یعنی بہت سے لوگ جو تیرے ساتھ ہیں ۔ ’’ ( حزقی ایل ۶ ۔ ۵ ؛ ۳ ۔ ۲ : ۳۸ )

اِن نبوت کی آٹھ جگہں میں سے پانچ خاص طور پر ترکی کے جدید بارڈرز پر واقع ہے اُن علاقوں میں موجوج ، مسک ، توبل ، گومر، جُمرا کے علاقے ہیں یہ اس علاقے کے ساتھ شامل ہیں اور جدید دور میں فارص ( جدید دنوں میں ایران ) ، کُوش ( سوڈان اور صومالیہ ) فوط ( مغربی مِصر ممکنہ طور پہ لیبیاء ، الجیریا ، تنسیہ اور مُری طانیہ ) یہ تمام تر علاقے اسلامی ہیں ۔ ( ۱۸ ) اِس نبوت میں بُہت ساری چیزیں عبرانی سے غلط ترجمہ ہوئی ہیں ‘‘ بڑے شہزادے ’’ کا ترجمہ بطور ‘‘ روش کے شہزادے ’’ کے کیا ہے ۔ یا ‘‘ بڑے ’’ کو بطور رُوش ترجمہ کیا گیا ہے ۔ زبندانی کے لحاظ سے یہ رُوش رس یا رشیہ کے مترادف ہے ۔ یہ عبرانی زبان سے تعلق نہیں رکھتا جیسے کہ براؤن ڈرائیور برگز اور دوسروں نے یہ کہا ہے لفظ رُوش یا بڑا یا سردار تمام تر بائبلی بیان میں ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔ ( ۱۹ ) اِس لیے دُرست پڑھنے میں جُوج بطور ایک رہنما ( ‘‘ کا سردار ’’ یا ‘‘ کا بڑا سردار ’’ ) یہ تمام اسلامی علاقے ہیں۔

موجوج سنطیہ کے علاقے کے طور پر متعارف ہوا ہے جس نے ‘‘ ایشیاء ماوئنر ( ترکی ) ، اور بہت سارے مرکزی ایشیائی مملک ( ترکمانستان ، قانقستان ، تاجکستان ، ازبکستان وغیرہ وغیرہ ) ’’ یہ سارے کے سارے سابقہ سوویت یونین آف رشیہ کے حصے ہیں اور اب مُسلم ممالک میں بدل چُکے ہیں ۔

( ۲۰ )  یہ تمام علاقے سابقہ اُسوری سلطنت کے حصے تھے جس طرح کہ پہلے چار نبوتی علاقے مِسک ، توبل ، گومر اور جُمرا کی سلطنتیں جو کہ تمام جدید ترکی کی سرحدوں میں ہیں۔

پرگُمن کا مذبح بطور شیطان کا ایک تخت

  مکاشفہ کی کتاب میں سات کلیسیاؤں کے لیے یسوع مسیح کا پیغام ایشیاء مائنر کے لیے تھا ( جدید ترکی ) :

 ‘‘ اور پر گُمن کی کلیسیاء کے فرشتہ کو یہ لکھ کہ جس کے پاس دو دھاری تیز تلوار ہے وہ فرماتا ہے کہ میں یہ تو جانتا ہوں کہ تو شیطان کی تخت گاہ میں سکونت رکھتا ہے اور میرے نام پر قائم رہتا ہے اور جن دِنوں میں میرا وفادار شہید انتپاس تم میں اُس جگہ قتل ہوا تھا جہاں شیطان رہتا ہے اُن دِنوں میں بھی تو نے مجھ پر ایمان رکھنے سے انکار نہیں کیا ۔ ’’ ( مکاشفہ ۱۳ ۔ ۱۲ : ۲ )

ابتدائی پرگُمن پیگن لوگوں کی پرستش کا مرکز سمجھا جاتا تھا ۔ جو ایشیاء مائنر یعنی ترکی میں تھا اور اِس کو بطور تمام تر ماضی کی سلطنتوں میں ایک وسیع دیوتاؤں کے مقام کے طور پہ جانا جاتا تھا  ۔ اس کے جنوب کے حصے میں زیس دیوتا کا ایک بُہت بڑا مذبحہ تھا اور یہ   مذبحہ گھوڑے کے جُوتے کی شکل میں تعمیر کیا گیا تھا اور اِس کے پہلو ۶۴ ۔ ۳۵ میٹر کُھلے اور ۴ ۔ ۳۳ میٹر گہرے تھے اِس مندر کی نیچے والی جگہ بہت سرد تھی جِس کو جیسجینٹ میسی کا نام دیا گیا تھا اِس جگہ پہ جنوں اور دیوتاؤں کے درمیان لڑائی ہوتی تھی اِس کا خدوخال جرمن کے جٖغرافیائی دانوں نے بنایا تھا اور اِسے برلن جرمنی میں لائے تھے

پہلا پرگُمن عجائب گھر ۱۹۰۱ ء میں کھولا گیا تاہم یہ آخر کار ڈھانچے کے طور پہ ان فٹ ثابت ہوا اور آخر کار اسے ۱۹۳۰ ء میں ایک بڑے عجائب گھر کی شکل میں بدل دیا گیا ۔ ۱۹۳۴ ء سے ۱۹۳۷ء کے درمیان نازی پارٹی کے بڑے معمار ایلبرٹ سوئیر نے پرگُمن کا ایک مذبحہ زی پیلن ٹرائیل کے لیے بنایا جو کہ نیوریم برگ ریلیوں کے لیے شاندار جگہ تھی ۔ اس مذبحہ کے درمیان میں کانسی کا ایک بیل بنایا گیا جو انسانی قُربانیوں کے لیے تھا اِس بیل کو ہٹا کر اُس کی جگہ ہٹلر کا پلپٹ بنا دیا گیا ۔

 اِس بیل کی اُس کے مظلوموں کے لیے ایک لمبی خوفناک تاریخ ہے ۔ مسیحی بشپ اینٹی پاس کو یوحنا رُسول کے مکاشفے کے مطابق اس قربان گاہ پر قتل کر دیا گیا اینٹی پاس نے بُہت ساری بدروحیں اس شہر سے نکالی جِس کی وجہ سے پیگن دیوتاؤں کی پوجا میں خلل پڑا اور اُنھوں نے رومی گورنر سے اِس مسئلے کی شکایت کی جب اینٹی پاس نے رومی شہنشاہ کے بُت کو بطور ‘‘ آقا ’’ اور ‘‘ دیوتا ’’ قربانی چڑھانے سے انکار کر دیا تو اُس کو موت کی سزا دی گئی ۔ پیگن روایت کے مطابق اِس بیل کی قربانی میں دروازہ کھولنے کا حصہ بھی شامل تھا جس میں بیل کے لیے دروازہ کھولا جاتا اور انسانی قربانی کو بیل کے سر پر ادا کیا جاتا اور اُس کا جسم انسانی جسم کے ساتھ ہوتا آگ اُس کانسی کے بُت کے نیچے جلائی جاتی جس میں اُس زندہ مظلوم شخص کو آہستہ آہستہ بُھونا جاتا ۔ بیل کا سر ایک پائپ کے ساتھ فٹ کیا گیا تھا اِس لیے جب ایک مظلوم کو دُکھ دیا جاتا اور وہ درد کے ساتھ چلاتا تو بیل زندہ ہو جاتے ۔ ( ۲۱ )

اور اِسی قربان گاہ کے مرکز سے ہٹلر نے اپنی مافوق الفطرت قوت کا دعویٰ کیا اور پیغام سُنائے اور دُنیا کی فتح کے لیے لوگوں کی ریلی نکالی۔ لفظ ہولوکاسٹ یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ۔‘‘ جانور کی قُربانی کا مکمل طور پہ جلایا جانا ۔ ’’ چھ میلین یہودی ہٹلر کے بڑے احکام کی وجہ سے اِس طریقہ سے قُربان کیے گئے ۔ یہ مناظر نیوریم برگ کے اجتماعات میں ٹارچ لائٹ کے ساتھ ہوئے ۔ جس میں ہٹلر کو بطور ایک دیوتا پیش کیا گیا ۔ اس کے حوالے سے ایک مشہور فلم بھی بنائی گئی جس کا نام ‘‘ ارادے کی فتح ’’ تھا ۔ یہ فلم مشہور جرمنی کے اداکار لینی ریفنستھل نے ڈیریکٹ کی ۔ ہٹلر نے بڑے محتاط ہو کر اس کے ہر سین کی اجازت دی اور یہ جرمنی میں ۱۲ سال تک دکھائی جاتی رہی ۔ دلچسپی کی بات یہ ہے کہ جب پر گُمن کا مذبحہ روسیوں نے ۱۹۴۸ء میں جب اسرائیل قوم پیدا ہوئی لے لیا تو یہ مذبح ۱۹۵۸ ء میں واپس آیا۔

۲۰۰۶ ء میں ترکی نے پرگُمن کا مذبح جرمنی سے واپس لانے کی کوشش کی لیکن اُنھوں نے انکار کر دیا ۔ ترکی کی حکومت نے یہ ارادہ کیا تھا کہ اِس مذبحے کو اِس کے اصلی مقام پر دوبارہ تعمیر کیا جائے ۔ بائبل کے صحیفے اور چرچ کی تاریخ کے گواہوں نے اِس حقیقت کو تصدیق کیا کہ شیطان اور اُس کی شیطانی طاقتیوں نے قوموں ، شہروں ، عمارتوں ، جانوروں، لوگوں اور یہاں تک کہ وقتوں کو بھی اپنے قابو میں کیا ۔ ایشیاء مائنر ترکی پر بھی سالوں تک شیطان کا قبضہ رہا اور یہ قبضہ اسلام کی سلطنت کے ساتھ تھا ۔ دارلخلافہ جو کہ پرانے وقتوں میں پیگن شہر تھا ، اُس وقت میں پرگُمن جغرافیائی طور پہ مشرقی رومی سلطنت کے دارلخلافہ ( کونسٹنٹ ٹائمپل ) کے نزدیک تھا جو کہ اب استنبول ہے جو کہ اسلامی عثمانی سلطنت کا دارلخلافہ ہے اور جلد ہی یہ مخالفِ مسیح اور پیگنوں کے چاند دیوتا اللہ کے تحت آجائے  گا ۔

ترکی میں اسلامی اور فوجی رُجحان

دانیل کی کتاب میں مخالفِ مسیح کی ایک نبوت بیان کرتی ہے :

‘‘ اور اُنکی سلطنت کے آخری ایام میں جب خطاکار لوگ حد تک پہنچ جائینگے تو ایک ترش رو اور رمز شناس بادشاہ برپا ہو گا ۔ یہ بڑا زبردست ہو گا لیکن اپنی قوت سے نہیں اور عجیب طرح سے برباد کریگا اور برومند ہو گا اور کام کریگا اور زورآوروں اور مقدس لوگوں کو ہلاک کریگا اور اپنی چترائی سے ایسے کام کتیگا کہ اُسکی فطرت کے منصوبے اُس کے ہاتھ میں خوب انجام پائینگے اور دل میں بڑا گھمنڈ کریگا اور صُلح کے وقت میں بہتروں کو ہلاک کریگا ۔ وہ بادشاہوں کے بادشاہ سے بھی مقابلہ کرنے کے لیے اُٹھ کھڑا ہو گا لیکن بےہاتھ ہلائے ہی شکست کھائیگا اور یہ صبح و شام کی رویا جو بیان ہوئی یقینی ہے ۔لیکن تو اِس رویا کو بند کر رکھ کیونکہ اِس کا علاقہ بُہت دور کے ایام سے ہے ۔ ’’ ( دانیل ۲۶ ۔ ۲۳ : ۸ )

‘‘ اور وہ ایک ہفتہ کے لیے بہتوں سے عہد قائم کریگا اور نصف ہفتہ میں ذبیحہ اور ہدیہ موقوف کریگا اور ِٖیصلوں پر اُجاڑنے والی مکروہات رکھی جائینگی یہاں تک کہ بربادی کمال کو پہنچ جائینگی اور وہ بلا جو مقرر کی گئی ہے اُس اُجاڑنے والے پر واقع ہو گی ( دانیل ۲۷ : ۹ )

مخالف مسیح تعلق قائم کرنے کا اور فریب دینے کا ماسٹر ہو گا وہ اسرائیل اور دوسری قوموں کے ساتھ سات سال کے لیے ایک عہد باندھے گا اور درمیان میں اِسے توڑ دے گا ۔ محمد اور اللہ کا نام نہاد مکاشفہ اس جُھوٹے امن کے محاہدے کو قائم کرے گا اور اسلام کی ترقی کے لیے مزید کام کرے گا ۔ محمد نے دس سال میں حدیبہ میں عہد کو توڑا جیسے ‘‘ صلح حدیبہ ’’ کہتے ہیں اور اُس کے پیروکار ساری تاریخ میں اِس جُھوٹے فریبی امن کی پیروی کی مثال ہیں ۔

ترکی وزیراعظم ریسِپ طیئی اپ ایرڈگن اور صدر عبدالہ ( لفظی طور پر جس کا ترجمہ ‘‘ بدروح اللہ کا نوکر ’’ ) نے ترکی میں بطور ایک رہنما کے پوزیشن اختیار کی جِس نے مشرقی وسطیٰ امن کے لیے کوشش کرنی تھی ۔ ترکی نے بہت سارے امن کے محادوں کے درمیانی کے طور پر اپنا کردار ادا کیا تاہم یہ بات قابلِ غور ہے کہ ای یو کی رُکنیت حاصل کرنا اور مغرب کی مخالفت کرنا اُن کی خواہشیں تھیں ۔ اسی اثناء میں اسلامی بنیاد پرست پس پردہ شدید یہودی مخالفت اور مسیحی مخالفت کا جزبہ پورے ترکی میں پھیلا رہے تھے ۔ اِس بات کو ایک دھچکا نہیں لگنا چاہیے کہ اِن لوگوں نے اسلامی دارلخلافہ سے یہودیوں اور مسیحیوں کی ایک لمبے عرصہ کے لیے مخالفت کی ۔ ترکی حکومت نے مسلسل کِسی بھی رسمی پہچان کا ارمینیاء کے مسیحیوں کے قتل کے لیے انکار کیا ۔ جیسے کہ اُنھوں نے یہودیوں کے مذبح پر ذبح ہونے کا انکار کیا ۔ ۲۰۰۷ ء میں ایرڈگن نے گورنمنٹ ادارہ کی پالیسی میں ایک نیا قانون جاری کیا جِس میں ۱۹۱۵ ء کے واقعے کے لیے نام نہاد امن کو ارمینیاء میں قتل ہونے والے مسیحیوں کے نام کے ساتھ جُوڑا گیا ۔ یہ واضح طور پہ ۱۹۱۵ء میں ارمینیاء میں ہونے والے قتل کے خلاف ایک یک جہتی کی کوشش تھی ۔ ۲۰۱۲ ء میں فرانس نے ارمینیاء کے قاتلوں سرکاری طور پرسزا دینے کی بات کی جِس کے لیے تُرکی نے اِس کے تاریخی حقائق کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ۔ اِسی اثناء میں ترکی نے شریعت کے قانون جِس میں ۱۴۰۰ فیصد عورتوں کے مرنے کی شرح تھی اور بہت سوں کو اِسی پاداش میں قتل کر دیا گیا۔ اُس کی سلائیڈیں جاری کیں۔

بُہت ساری مثالیں اِس بات کی بھی ملتی ہیں کہ جدید ترکی میں مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے بُہت زیادہ مذہبی تُصب پایا جاتا ہے ۔ ۲۰۰۶ء میں ترکی فلم ‘‘ ایراق : بھیڑیوں کی وادی ’’ نے ترکی میں زش کا ریکارڈ قائم کیا۔ اور اِسی طرح جرمنی کے مہاجر طبقوں کو بھی جو تترکی میں آباد تھے ۔ ایک فلم ‘‘ ہُڈ انسیڈنٹ ’’ ان ایراق بھی شامل ہے جس میں ترکیوں نے خاص فوجی دستے دکھائے جن کو امریکی فوجوں نے پکڑا ہوا تھا اور اُن کے سروں پر ہُڈ رکھے ہوئے تھے ۔ ترکی کے کمانڈو نے بے عزتی محسوس کی اور ترکی کے لوگوں کی طرف سے مخالفت اُبھری۔ ایک تشدد کی صورت میں اِس فلم میں امریکیوں کو برائی کے مُجرم دکھایا گیا اور اُن کے ساتھ ایک یہودی ڈاکڑبھی جِس کا کردار گیری بسی نے کیا اور یہ شخص ٹیل آویو، نیویارک اور لندن میں بلہُل مارکیٹ میں اعراقیوں کے عضاء بیچ رہا تھا ۔ ( ۲۲ )

آن لائن درسپائجل انٹرنیشنل نیوز نے اپنی سائٹ میں یہ بیان جاری کیا ۔ ‘‘ اِس طرح کا کوئی بھی بُرا کام نہیں کیا گیا جبکہ فلم والوں نے ترکیوں اور مسلمانوں کی وحیشیانہ مخالفت کو پیش کیا اِس فلم میں بُرے لوگ کالے تھے اور سفید دنیا امریکی تھے یعنی کُرد، مسیحی اور یہودی ’’۔ ( ۲۳ ) بہت سارے ترکوں نے اِس فلم کی تظیم اِس طرح بھی کی کہ اِس کو ایک زبردست فلم کی پذیرائی ملی اور درحقیقت اِس کی بنیاد ایک پروپیگینڈے پہ تھی ۔ اس کے بعد جو فلم آئی وہ ‘‘ بھیڑیوں کی وادی ’’ : فلسطین ’’ یہ فلم دعحقیقت واضح طور پر صیون کے خلاف ایجنڈا تھا جو کہ فلسطین میں ‘‘ فلوٹیلا ’’ مسائل کے بارے میں تھا ۔ ترکی کی نفرت کے بارے میں دوسری اُبھرتی ہوئی مثالیں مختلف کتابوں کا ہاتھوں ہاتھ بِکنا تھا اِن میں ‘‘ آڈولف ہٹلر ’’ کی کتاب ‘‘ میری حدود ’’۔ ، پوپ پر حملہ ، صیون کے بزرگ کا پروٹوکول اور ہنری فورڈ کے بین الاقوامی یہودی ۔ ( ۲۴ )

صدر عبدالہ گُل اور وزیراعظم ایرڈوگن دونوں کی جڑیں ترکی کی اسلامی تحریک سے ہے جو کہ اے کے پی کی لیبرل جماعت کے تحت ہے ( اسلامی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ۔ ایرڈوگن بین الاقوامی امن اور مگربی جمہوریت کی بات کرتا ہے جبکہ اُس کی جڑیں اسلامی ہیں شُعبت کُچھ مثالیں بیان کرتا ہے :

ایروڈوگن کو یہ غیر مشہور بیان دیتے ہوئے پکڑا گیا ، ‘‘ جمہوریت ایک گلی کی کار کی طرح ہے ۔ آپ اِس کو اُس وقت تک چلاتے ہیں جب تک کہ منزل نہ آئے اور پھر آپ اُتر جاتے ہیں ۔’’ یہ بھی بیان کیا گیا کہ ایروڈوگن کی سیکرٹری نے یہ بیان جاری کیا کہ یہ ضروری تھا کہ سیکلرازم اور ریپبلک ازم کو یٹا دیا جاتا ہے اور اسلامی نظام کی شرکت ہوتی ۔ ایک اور موقع پر ایک نایاب لمحے میں ایروڈگن نے ایک زبردست نظم لکھی اُس نے لِکھا : ‘‘ مسجدیں ہمارے نشان ہیں گنبد ہمارے ہیلمٹ ہیں اور مینار ہمارے ایمان کا حصہ ہیں اور سارے ایماندار سپاہی ہیں یہ پاک فوج میرے مذہب کے محافظ ہیں ۔ قادرِ مطلق کی طرف ہمارا سفر ہماری منزل ہے اور ہمارا اخیر شہادت ہے ۔ ’’ ( ۲۵ ) یہ بیانات ایروڈگن کی نیت جو اسلامی ادارے کے لیے تُرکی پر حکومت کرنے کے لیے تھی اُس کی فطرت کی عکاسی کرتی ہے ۔ اِس قسم کے بیانات نے اُس کے لیے القاعدہ کی لیڈرشپ کی طرف سے جیسے کہ الزواری اور دوسروں کی طرف سے عزت بڑھائی ۔ مختصر عرصے میں اے کے پی نے ایروڈگن کے قبضے میں ایک اسلامی سلطنت کو جمہوریت کے بھیس میں اسلام کے نزدیک کیا جوئیل رچرڈسن کے بھیس میں اسلام کے نزدیک کیا جوئیل رچرڈسن کے ایک آرٹیکل کے مطابق جس کا عنوان ترکی اپنی فوج کو دوگنا کرتا ہے ’’ اور اے کے پی نے ۲۰۰۲ سے مندرجہ ذیل کام کیے۔

‘‘ صدارت پر قبضہ ؛ وزیراعظم کی نشست پر قبضہ پارلیمنٹ کی بُہت ساری نشستوں کو حاصل کرنا ؛ اسلامی ججوں کی جیوری کا بھرنا ؛ فوج کا سر قلم کرنا ؛ پولیس کی قوت میں مداخلت کرنا ( تقریباً ۷۰ فیصد اراکین اسلامی گُولن مومنٹ کے ہیں ) ؛ جیل میں قید ترکی کے صحافی ( پوری دنیا میں کِسی بھی دوسری قوم سے زیادہ ترکی کے صحافی قید میں ہیں جو کہ چین اور ایران سے بھی زیادہ ہیں ) ۔ ’’ قوم کی قیادت اب ترکی کے آہن کو دوبارہ لِکھنے کے لیے بِل پاس کرنے کے اختیار پر کام کر رہی ہے ۔ فوج اور عدلیہ کی قوتوں کو صاف کیا جا رہا ہے ۔ ( ۲۶ )

تُرکی کے لیے یہ منصوبہ کیا گیا کہ اُس کی فوج کو دوگنا کر دیا جائے جو کہ پہلے ہی نیٹو کی فوج کی دوسرے نمبر پر آنے والی فوج ہے جِس کی تعداد تقریباً ۵۰۰۰۰۰ سپاہی ہیں۔ ترکی کا ایک سنجیدہ مسئلہ بے روزگاری کی ایک تحریک ہے ۔ مزید برآں اِس تنخواہ دار فوج کی بقاء کے گورنمنٹ خاموشی کے ساتھ اپنے نیوکلیائی مقاصد کو بھی بڑھا رہی ہے ۔ ۲۰۰۶ء میں ایروڈگن نے اپنے نیوکلیائی پاور پلانز کی تجدید کی اور پارلیمنٹ سے ۲۰۰۷ءمیں یہ منظوری ملی کہ ۲۰۱۰ء میں رشیا اور ترکی اِس عشرے میں ایک  نیوکلیائی پلانٹ تعمیر کریں گئے جبکہ میڈیا ترکی میں ہونے والے اِس بڑے منصوبے کے بارے میں خاموش رہا ۔ ( ۲۷ )

مغربی قوتوں کی اب ہو سکتا ہے کہ دلچسپی ہو کیونکہ اسلامی عثمانیہ کی شہنشاہت نے اپنی نئی زندگی کے نشانات کو ظاہر کیا ہے اور مشرقی قوموں کے ساتھ مغربی اقتدار کے لیے منصوبے بنا رہی ہے ۔ ترکی عام طور پر ‘‘ اینا ٹوین ایگل ’’ کے ساتھ مل کر اپنی طاقت کی مشقیں کرتا ہے ۔حال ہی میں اسرائیلیوں کو تہران میں ایرانی ائیرسپیس پر اُڑایا ۔ ( ۲۸ ) یہ تمام تر نشانات دکھاتے ہیں کہ مخالفِ مسیح کی بادشاہت جاگتی ہے اور قوموں کے لیے بربادی ہے۔

مغرب میں بُہت سارے اِن اسلامی نشانات سے غافل ہیں اور اِس مقصد پر اُن کی فوجیں اِس تصور سے دور ہیں اور اُنھوں نے کبھی بھی اِس کا نوٹس نہیں لیا ۔ تاہم بڑی تیزی کے ساتھ یہ سپر پاور کے طور پر چلتی ہے ۔ اسلامی مُلاء اپنے لوگوں کو یہ تبلیغ کرتے ہیں کہ مُسلمان اُسی طرح مغرب کو شکست دے دیں گئے جِس طرح سے مسیحیوں نے پیگن روم کو دی تیسری صدی کے نتیجے کے طور پہ روم ایک فوجی اکثریت بنا لیکن اُس میں اقتصادی بحران بھی آیا ۔ شہنشاہ ڈی اولیشن نے فیصلہ کیا کہ وہ بڑھتے ہوئے اقتصادی بحران کے سبب چیزوں کی قیمتوں مقرر کر دے آہستہ آہستہ اُس نے مسیحیوں اور یہودیوں کے لیے ساری سلطنت میں مخالفت کو بڑھا دیا جس نے بین الاقوامی انقلاب کو جنم دیا جو حال ہی میں مسیحی ہونے والوں کی طرف سے آیا اور یہ کونسٹنٹ ٹائن کی طرف سے تھا ۳۱۲ء میں رومی سلطنت کا پیگانی دور ختم کیا گیا اور کونصٹنٹ ٹائن ایک بادشاہ کے طور پہ سامنے آیا کیا دنیا میں ایسے ہی قوتیں اسلام کے لیے بھی واقع ہو سکتی ہیں ۔ مسیحیوں نے پوری رومی سلطنت میں مسیحیت کو پھیلایا اور یہ محض وقت کی بات تھی کہ اِس نے ایک فتح حاصل کی اِسی طرح سے پہلی اسلامی سلطنت نے مسیحی بیزن ٹائن کو فتح کیا ( جو کہ پہلے رومی حکومت تھی اور یہ محض چند عشروں میں ہویا کیا تاریخ بین الاقوامی اسلامی سلطنت کے لیے خُود کو دہرائے گی ؟ مسلمان مغرب میں وسیع پیمانے پر ہجرت کر گئے اور بڑے پیمانے پر بڑھ گئے کیا اِسی پس منظر میں اگلے چند عشروں میں دنیا کی طاقت اِسی طرح منتقل ہو گی۔ جواب اس موجودہ معاشی اور اقتصادی رُجحان کی بنا پر سنجیدہ ہے ۔

حیوان کا نشان

  حیوان کا عدد مکاشفہ کی کتاب میں لکِھا گیا ہے بہت سارے تفسیر کرنے والے اِس نشان کو ہائی ٹیک ڈیوائس بتاتے ہیں جو کہ دہنے ہاتھ یا ماتھے پر ہو گی یہ بات ممکن نظر آتی ہے لیکن کیا اِس کی کوئی متبادل تفسیر بھی ہو سکتی ہے ۔ مندرجہ ذیل تجزیہ مزید تحقیق کا متحامل ہے جو کہ الہیات دان پیش کریں گئے۔

ایک دلچسپ یو ٹیوب ویڈیو جو کہ جاری کی گئی اُس میں اِس نشان اور اُس کی خصوصیات کو بیان کیا گیا یہ ویڈیو پڑھنے والوں کو بہُت فائدہ دے گی اگر ممکن ہو تو ضرور دیکھیے کیونکہ اِس کتاب میں اِس کو دکھانا مشکل ہے ۔

http://www.youtube.com/watch?v=JIXdFjuAJ-w&feature=player-embedded

مکاشفہ ۱۸۔ ۱۶ : ۱۳

‘‘ اور اُس نے سب چھوٹے بڑوں دولتمندوں اور غریبوں، آزادوں اور غلاموں کے دہنے ہاتھ یا اُن کے ماتھے پر ایک ایک چھاپ کرا دی۔ تاکہ اُس کے سوا جِس پر نشان یعنی اُس حیوان کا نام یا اُس کے نام کا عدد ہو اور کوئی خریدوفروخت نہ کر سکے۔ حکمت کا یہ موقع ہے ۔ جو سمجھ رکھتا ہے وہ اِس حیوان کا عدد گِن لے کیونکہ وہ آدمی کا عدد ہے اور اُس کا عدد چھ سو چھیاسٹھ ہے۔ ’’

اس لفظ کے متبادل ممکنہ ترجمہ جو یونانی میں سے کیا گیا وہ اِن مندرجہ بالا آیات سے ملتا جُلتا ہے۔ لفظ ‘‘ نشان ’’ یونانی کے لفظ چیراگامہ سے لیا گیا ۔ ( ایک اعلیٰ یونانی کلیدالکتاب کے حوالہ نمبر ۸۰ : ۵۴ دیکھیئے اس لفظ کا مطلب کھودنا یا کھرچنایا مہر کرنا ہے ۔( ایک کندہ کیا ہوا نشان جو مجسمے پہ کیا جاتا ہے : ‘‘ کندہ کیا ہوا تصور ’’ رومہ پیرائے میں چیراگامہ شاہی مہر کو کہتے ہیں جو سرکاری دستاویز کے ساتھ رکھی جاتی ہے۔ یہ مہر بھی ایک اختیار کی بات کرتی ہے جو عام طور پر غلاموں کی ملکیت کو ثابت کرنے کے لیے لگائی جاتی تھی ۔ فوجی اکثر اپنے پسندیدہ جرنیل کا نام لِکھتے اور اِسے بدعتی عقیدے کے طور پہ اپنے پسندیدہ دیوتا کے ٹیٹو کی شکل میں بطور اپنی عقیدت اور تعلق کے علامتی طور پر بناتے تھے۔ ( ۲۹ )

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اسلامی جہادی اور اسلام کے لیے وقف لوگ اکثر اپنے ماتھوں پر پٹیاں باندھتے اور اپنے دہنے بازوؤں پر عطات گزاری کا نشان باندھتے ( یعنی بسمہ اللہ اسلامی عقیدہ ‘‘ کہ اللہ کے نام میں ’’ ) اور اِس کے ساتھ ہی دو تلواریں کراس کی شکل میں ہوتی ہیں اور ۶۶۶ کا عدد کلیسیاء کے لیے پہچان ہے کُچھ لوگ اِس کو عدد سے زیادہ ایک علامت سمجھتے ہیں اور یہ نشان بسمہ اللہ سے مشاہبت رکھتا ہے اور تلواروں کا اِس طرح سے نشان کو پیش کرنا کائناتی اسلامی اتحاد کو بھی ظاہر کرتا ہے۔

اسلامی مُلاء سکھاتے ہیں کہ آخری وقت میں کِسی کے پاس بھی کوئی اور حل نہیں ہو گا کہ وہ اِس کے بغیر زندہ رہے اِس لیے ہر کسی کو اللہ کی تابعداری میں یا اُس کے لیے سر کٹوانے کے لیے اسلامی مذہب کو قبول کرنا چاہیے ۔ اگر کوئی اللہ کی عطات کا انتخاب کرتا ہے تو اُن کو اجازت ہے کہ وہ پوری دنیا میں خلافت کی شہنشاہت پر ایمان رکھتے ہوئے کُچھ بھی بیچے یا خریدیں ۔

اِس پس منظر میں بائبل بتاتی ہے ۔۔ ۔ اور اُن کی روحوں کو بھی دیکھا جنکے سر یسوع کی گواہی دینے اور خُدا کے کلام کے سبب سے کاٹے گئے تھے اور جہنوں نے نہ اُس حیوان کی پرستش کی تھی نہ اُسکے بُت کی اور نہ اُس کی چھاپ اپنے ماتھے اور ہاتھوں پر لی تھی ۔ وہ زندہ ہو کر ہزار برس تک مسیح کے ساتھ بادشاہی کرتے رہے۔’’ ( مکاشفہ ۴ : ۲۰ )

دوبارہ اسلام اِس سر قلم کرنے کے مرکز کے لیے بڑا مناسب ثابت ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو اسلام کی تابعداری نہیں کرتے یا مہدی یعنی مخالفِ مسیح کی یا ( اُس کی پوجا نہیں کرتے ْ اُس کے سامنے جُھکتے نہیں ْ یا اُس کی تابعداری نہیں کرتے ) اُس کی تصویر کی ( یعنی ہلال چاند کی یا مکہ کے حجرہ اسود کی ) جِس کے اِس کتاب کے ابتدائی ابواب میں بیان کیا گیا ہے کہ اِس حجرہ اسود یعنی اِس بُت کی تاریخی ، جغرافیائی اور الہیاتی تعریف کیا ہے تمام مسلمانوں کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی روزانہ کی نمازوں میں اِس حجرہ اسود کے سامنے جُھکیں۔

 یونانی ترجمے کے مطابق ماتھا اور بازو لفظ ‘‘ اُن کے ’’ کی وجہ سے فقرے میں جمع کے صیغے میں آتا ہے اور یہ پیشانی کے لیے اور بازو کے لیے پھر بھی انفرادی طور پہ استعمال ہوا ہے ۔ دائیں ہاتھ یا بازو اور ماتھے کی اہمیت اسلامی پس منظر میں اُن کی رویتوں سے لی گئی ہے ولید شُعبت اِس حقیقت پر اپنی رائے پیش کرتے ہیں :

حیران کُن طور پر اور بائبل کی اِس پیشن گوئی کو بُہت لمبے عرصے پہلے سچ ثابت کرنے کے لیے حیوان کے اِس نشان کو نبی پاک نے اپنے اُوپر اسلامی حکم کی حقیقت میں لیا اور حکم دیا : ‘‘ اللہ میری قوم کو روزِ محشر سے بچائے گا اور اُس کے سامنے گناہ کے ننانوے رجسٹرڈ ہو گئے اور ہر رجسٹرڈ دیکھا جا سکتا ہے پھر اُس سے پوچھا جائے گا کیا تم اِن میں سے کِسی کا انکار کرتے ہو پھر وہ کہے گا نہیں خُدا یا پھر وہ اُس سے پوچھے گا کیا اِن کے لیے تمہارے پاس کوئی بہانہ وہ کہے گا نہیں خُدایا پھر اُسے بتایا جائے گا لیکن تمہارا ایک نیک کام ہے اُس کی وجہ سے تمہیں سزا نہیں ملے گی پھر ایک پٹی لائی جائے گی اور اُس طومار پر یہ الفاظ لکھے ہونگے کوئی خُدا نہیں ماسوائے اللہ کے اور محمد اُس کا رُسول ہے پھر وہ اُس سے اُس کے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا وہ کہے گا اے خُداوند اِس پٹی اور ان رجسٹروں کا کیا مطلب ہے ؟ اُسے بنایا جائے گا تمہیں کوئی سزا نہیں ملے گی ایک ہاتھ پر اُس کے اعمال ہونگے اور دوسرے پر پٹی پھر رجسٹرڈ تیرے گئے اور اُس پٹی کا وزن اُن رجسٹروں سے زیادہ ہو گا ۔ ’’ ( ترموتھی ۳۹ : ۲۶ ) ۔ ( ۳۰ ) شُعبت اِس کے بارے میں بتاتا ہے :

‘‘ حیوان کا نام ’’ اللہ کے مختلف ناموں کے ساتھ ساتھ ہو گا اور یہ آدمی کے بازو یا ماتھے پر عطات گزاری کے لیے باندھا ہوا ہو گا اسلام عطات گزاری اور غیر معبودوں کے ساتھ تعلق کو پیش کرتا ہے اور اُن کے گُستاخ ہونے کی شہادت دیتا ہے اور یہ پٹیاں اُن کے ماتھے پر بندھی ہوئی ہیں یہ ساری چیزیں مِل ملا کر بائبل کے مطابق حیوان کے نشان کو پیش کرتی ہیں۔ ( ۳۱ )

شہادت اسلام کا ایک عقیدہ یا اُن کے ایمان کا اعلان ہے یہ ایک عربی محاورہ ہے ‘‘ لا الہ اللہ محمد رُسول اللہ ’’ جِس کا مطلب ہے ‘‘ کوئی خُدا نہیں ماسوائے اللہ کے اور محمد اللہ کا بھیجا ہوا رُسول ہے ۔( اللہ کا رُسول ) ’’یہ عقیدہ دونوں طرح سے گُستاخی کی تعریف کے لیے پورا اُترتا ہے : پہلے نمبر پر یہ یہواہ کے علاوہ کِسی اور کو سچے خُدا کے طور پہ پیش کرتا ہے ؛ دوسرے نمبر پر یہ محمد کو ایک ایسی خاص جگہ پہ پیش کرتا ہے جس جگہ کو صرف یسوع ہی پُورا کر سکتا ہے۔ ( ۳۲ )

ایک اور پہلو یہ ایک غور کریں تو اسلام اور بائبل کے پیراؤں کے درمیان دہنے ہاتھ کا ایک تعلق نظر آتا ہے جیسے کہ چھٹے باب کے نتیجے میں یہ پیش کیا گگیا ہے ۔ محمد نے اپنی ایک فرضی اور سخت رسم میں کہا کہ ہر کام سیدھے ہاتھ سے کرو اور اپنے پیروکاروں کو بھی حکم دیا یہ بات سختی سے محمد نے کہی اور موجودہ زمانے میں یہی عادت جاری ہے ۔ میرے ایک دوست نے جو انگلش کا سعودی عرب میں ایک استاد ہے میرے ساتھ ایک تجربے کو بانٹا ۔ پہلے دن اُس نے اپنی آمد پر متعلقہ افسر کو رپورٹ دی وہ ایک داڑھی والا بوڑھا شخص تھا جو داڑھی کے ساتھ اپنی مذہبی عقیدت کو پیش کر رہا تھا ۔ افسر نے اپنے دہنے ہاتھ سے میرے دوست سے اُس کی دستاویز لینے کی کوشش کی اور میرے دوست نے بائیں ہاتھ سے یہ دستاویز دی کُچھ سیکنڈوں کے لیے یہ بڑا بُرا لگا جب اُس نے میرے دوست پر جُھک کر اُس کے کان میں کہا ‘‘ سیدھے ہاتھ ’’ سے پکڑاؤ۔ ایک دفعہ جب پیپر سیدھے ہاتھ سے دیئے گئے تو اُنھوں نے اسے فوری طور پر قبول کر لیا اِس روایت کی روشنی میں کوئی بھی اِس بات کو اسلام اور جانور کے دہنے ہاتھ پر نشان کے ساتھ پیش کر سکتا ہے ۔ موجودہ دور میں اسلام کے ساتھ وقف لوگ بسمہ اللہ کا نشان پہنتے ہیں یا اسلامی عقیدے کو اپنے دہنے بازوؤں پر رکھتے ہیں لیکن مستقبل میں یہ آسانی سے دہنے ہاتھ پر بدل دیا جائے گا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلامی روایت مکہ کی طرف بطور حیوانی نظام کے اشارہ کرتی ہے ۔ شُعبت دو اسلامی حدیثوں کو پیش کرتا ہے : ‘‘ حیوان المسجد اور مکہ میں الحرم سے آئے گا ’’۔

‘‘ محمد مجھے صحرا میں مکہ کے نزدیک ایک جگہ پر لے گیا یہ ایک ریت کے سبب زمین کا خشک ٹکڑا تھا ۔ محمد نے کہا حیوان اِس جگہ سے نمودار ہو گا، یہ ایک بہت چھوٹا علاقہ تھا۔ ’’ ( ۳۳ )

اِسی طرح بائبل میں فرشتہ بھی یوحنا کو صحرا میں ایک ‘‘ عورت ’’ یا ‘‘بابل کی فاحشہ ’’ جو حیوان پر سوار تھی دکھانے کے لیے لے گیا اور یہ بھی عرب کے صحرا میں سے آرہی تھی۔ بائبل کے بُہت سارے پیرائے ہیں جو ‘‘ بابل کی فاحشہ ’’ کے مساوی ہیں اور جغرافیائی طور پر عرب کو پیش کرتے ہیں جو کہ ابتدائی بابلی شہنشاہت کا حصہ تھا ۔

 مزید برآں وہ جو غیر معمولی بائبل کی نبوت سے دلچسپی رکھتے تھے جیسے کہ نوسترہ دامس نے بھی پیشن گوئی کی کہ مخالفِ مسیح عرب میں سے آئے گا ۔ اور پس منظر کے مطابق اسلامی لیڈر مہدی عرب سے آئے گا اور ترکی پر اور ممکنہ طور پر اسلامی کونفیڈریسی پر حکومت کرے گا یا یہ علاقہ مخالفِ مسیح کے لیے حیوانی نظام جِس کی ابتداء عرب سے ہوئی کو آگے بڑھائے گا ۔ یہ مقالہ مزید تحقیق کے لیے ایک قائلیت کی روح فراہم کرے گا اور اِس سے علم و الہ آخرت کے مطالعہ میں تحقیق اہم پہلو پیش کریں گی۔

نتیجہ

اسلام چاند دیوتا یعنی اللہ کے ذریعے سے اُن سب کو چیلنج کرتا ہے جو قرآن کے اختیار پر شک کرتے ہیں :

‘‘ مگر ایک بہُتان جو اُنھوں نے بنا لیا ہے اور اُس پر اور لوگوں نے اُنھیں مدد دی ہے بے شک وہ ظالم اور جھوٹ پر آئے اور بولے اگلوں کی کہانیاں ہیں جو اُنھوں نے لِکھ لی ہیں تو وہ اُن پر صبح و شام پڑھی جاتی ہیں ۔ ’’ ( قرآن ۵ ۔ ۴ : ۲۵ ) پھر قرآن ایک اور بیان دیتا ہے جو ایماندار بے ایمانوں کو دیتا ہے ۔ ‘‘ تُم فرماؤ اُسے تو اُس نے اُتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چھپی بات جانتا ہے ۔۔۔ ’’ ( قرآن ۶ : ۲۵ )

یہ پیرائے بغیر کِسی شہادت کے اِس بیان کو مدد دینے کی وجہ پیش کرنا چاہتا ہے مفکرین نے اِس بات کو دیکھا ہے کہ قرآن کی ساری کہانیاں یا تو پہلے سے موجود ہیں یا محمد کی زندگی کے بارے میں ہے ۔ قرآن میں کُچھ بھی نیا نہیں ہے ۔ بہت سارے قرآن کے قابل ذکر پیرائے اسلام سے پہلے کی تاریخ یا حدیث کے حوالوں کے بغیر نہیں سمجھے جا سکتے ۔ ( ۱ ) مثال کے طور پہ سورما اُونٹنی کا ذکر ایک مشہور عربی کی دیوار کے عقیدے سے لیا گیا ہے ۔ قرآن ۷۸ ۔ ۷۷ : ۷ ) مزیدبرآں قرآن کی یہودی کہانیوں جیسے کہ ‘‘ بندر آدمی ’’ کی کہانی جس میں لوگ بندروں کی صورت میں بدل جائیں گئے ۔ ( قرآن ۶۵ : ۲ ؛ ۱۶۶ : ۷ ) مسیحی ذرائع بھی جیسے کہ غار کے ساتھی کا حوالہ بُہت زیادہ لیے گئے ہیں ۔ ( قران ۲۶ : ۱۸ ) یہ کہانی ید دلاتی ہے کہ کیسے کُچھ نوجوان ۳۰۹ سالوں کے لیے غار کے اندر گئے اور پھر ٹھیک حالت میں زندہ پائے ۔ ( ۲ ) کُچھ مثالیں ایسی ہیں جن کا پرانے عقائد سے جو کہ محمد کے قرآن سے پہلے ہی عرب میں موجود تھے سامنے آئی ہیں۔

اِن عقائد کے لیے مزید اسلام سے قبل کی رواتیں بڑھی پڑی ہیں۔ یہ کتاب اِن میں سے بُہت ساری روایتوں کو پیش کرتی ہیں ۔ مقدس پتھروں کو چُومنے اور رگڑنے کی مادہ پرستی کی رسمیں جو کعبہ میں تھیں طواف کرنے کی رسم چاند دیوتا اور الرحمان کی بدعت اور اللہ کی تین بیٹیاں یہ سب مادہ پرستوں کی رسمیں ہیں ۔ یہ ساری کی ساری اسلام سے پہلے کی رسموں اور اسلام کی مشق کے ساتھ بندھی ہوئی ہیں جن کو تحقیق اور مطالعہ کے ساتھ ایک تاریخی شواہد میں دستاویز کی صورت میں پیش کیا گیا ہے ۔ ( ۳ ) دوسری مشقیں بھی جو موجود نہیں تھیں وہ بھی شامل کی گئی اِس میں مادہ پرستوں کی دن میں پانچ دفعہ مکہ میں نماز پڑھنے کی رسم ، دو پہاڑوں کے درمیان دوڑنے کی رسم، کنکریاں مارنے کی رسم ، ہفتے کی بجائے جمعے کو لوگوں کے اکٹھے ہونے کی رسم مہنے میں دن کے وقت روزہ رکھنے کی رسم ، نماز سے پہلے وضو کرنے کی رسم ، ناک میں پانی ڈالنے اور نکالنے کی رسم، عربیوں کے جنوں پر ایمان لانے کی رسم، چوروں کے ہاتھ کاٹنے کی رسم یہ سب پہلے موجود تھیں۔

مزید ، اور بُہت ساری مادہ پرستی کی رسمیں حدیث کے اندر موجود ہیں ۔ جِس میں : ٹیبوز کی رسم، بُری آنکھ کی رسم ، جادو کی رسم ، بد دعاؤں کی رسم، ناموں کی رسم، کامیابی کی رسم ، قسم کھانے کی رسم، خاص قربانیوں کے وسیلے قسم توڑنے کی رسمیں ، تہم پرستی کے عددوں کی رسمیں ، شمانیت کی رسمیں اور روحوں کی رسمیں ۔  ( ۴ ) اِن تمام تر مشقوں کو محمد کی تعلیمات کے ساتھ جوڑ کر اسلامی ایمان بنا دیا گیا۔ بُہت سارے مسلمان تسلیم کرتے ہیں کہ یہ کہانیاں اور رسمیں عربوں کی تاریخ میں پہلے سے موجود تھیں ۔ جب بہت ساری چیزوں میں اسلام کی یہ شکلیں موجود تھیں تو پھر کیوں اِس بات پہ اصرار کیا جاتا ہے کہ قرآن آسمان سے نازل ہوا ہے ۔ تاہم تاریخی شواہد اور جغرافیائی دریافتوں نے اِس کے خلاف چیزیں تیار کر لی ہیں ۔ تاریخ سے یہ بات واضح ہے کہ محمد نے پرانے عقیدوں ، رسموں اور بائبل کی پہلے سے موجود کہانیوں سے اِس کو تیار کیا ہے۔

جیسے کہ اِس کتاب میں بیان ہوا ہے کہ محمد نے تمام تر ذرائع اپنے ہی ارد گرد سے لیے ہیں اُس کی ملاقات عربی بدعتوں اور مختلف ایمانداروں سے ہوئی۔ ( مسیحی ، یہودی اور خوفِ خُدا رکھنے والے ) اور یہ ملاقات اُس کے کارواں کے سفروں میں ہوئی۔ مختلف علاقوں میں گھومنے کے بعد اور ہر عقیدے کے ٹکڑے لینے کے بعد محمد نے اپنی پوری زندگی کے دوران قرآن کا اصل مواد جمع کیا ۔

حیرت انگیز طور پر حجرہ اسود کی پرستش کا عقیدہ اِن تمام تر رسموں میں حٰیران کُن ہے یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمان بُت پرستی کے خلاف سرگرم ہیں تو پھر وہ کیوں حجرہ اسود کو چومنے پر اصرار کرتے ہیں ؟ بائبل کی تعلیمات کے مطابق حجرہ اسود کی پرستش غلط ہے اور یہ بھی بُت پرستی ہے۔ یہ سنجیدہ تضاد محض اِس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ محمد نے عرب کی مادہ پرستی کی رسموں کو اختیار کیا اور پتھروں کی بدعت ابتدائی عرب سے آئی ۔ بُت پرستی کی اِس شکل کو اکثر ‘‘ پیترا آلوترے ’’ ( یعنی پتھروں کی پوجا کرنا ) کے نام سے پہچانا جاتا تھا اور اِس کی مشق بُہت ساری ثقافتیں پوری دنیا میں کرتی تھیں۔ پتھروں کی پرستش مادہ پرستی کی بڑی شکلوں میں سے ایک ہے ہر سال لاکھوں مسلمان مکہ کی زیارت کرتے ہیں یعنی اللہ کے گھر کی جِس کی نمائندگی حجرہ اسود کا بُت کرتا ہے ۔ مسلمان اِس شہادت کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں جو اِس حقیقت کو پیش کرتی ہے کہ اللہ کی پوجا محض اسلام سے پہلے کے پتھروں کی پوجا کی ایک فریبی شکل ہے جِس کو وحدانیت کے نام میں پیش کیا گیا۔ جب آپ پانچواں باب پڑھتے ہیں تو آپ کو شہادت ملتی ہے کہ اللہ ایک چاند دیوتا ہے جِس کو حجرہ اسود کا بُت پیش کرتا ہے۔

محمد نے یہودی تعلیمات اور رسومات کو اختیار کیا جب تک کہ اُنھوں نے نبوت کو رد کیا ۔ یہودیوں نے اِس بُت پرستی کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ جو اِس حصے میں محمد کے نئے مذہب سے آرہی تھی وہ سارے کے سارے عرب مادیت پرستی اور چاند دیوتا اللہ کی پرستش سے پہلے ہی خبردار تھے جو کہ اسلام نے اختیار کی۔ محمد نے یہودیوں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا جب اُنھوں نے اُس کے دعوے کو ماننے سے انکار کیا۔ محمد اور اُس کے اسلامی پیروکاروں نے بڑے تُصب کے ساتھ یہودیوں کی مخالفت کی۔ اِن اسلامی باتوں کے جواب میں جو کہ یہودیوں کے خلاف تھیں یہ بات منطقی طور پہ سامنے آتی ہے کہ یہودی مفکرین ، ربی جوزف تلیشکن نے بہت سارے حوالوں کے ساتھ اِس کو پیش کیا۔ یہودی ادب میں، ربی تلیشکن نے محمد کے ان پڑھ ہوتے ہوئے صحیفوں کے علم اور عورتوں کے لیے اُس کے خیالت پر لِکھا۔ ( نوٹ : ) محمد تلیشکن کا اُبھرتا ہوا مضمون تھا :

گہری محبت شدید مخالفت میں بدل گئی جب یہودیوں نے محمد کے خُدا کے نبی ہونے کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ مسیحیوں کے ساتھ ساتھ یہودی بھی یہ مان رکھتے تھے کہ محمد کے سچے پیغام کے اندر کُچھ بھی نیا نہیں تھا ۔ اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جو کُچھ نیا ہے وہ سچ نہیں تھا۔ مزید یہ کہ محمد کا عبرانی بائبل کا علم سطی ہے ۔ ۔ ۔ ( کہ مطابق ) سورۃ۳۸ : ۲۸ ، میں وہ فراعون کے بارے بیان کرتا ہے ۔( خروج کی کتاب سے ) ہامان سے پوچھتا ہے ( یہ آستر کی کتاب میں ہے ) کہ وہ بابل کو بُرج کھڑا کرے ایک قسط جو پیدائش سے شروع ہوتی ہے مزید یہ کہ یہودی اور یہ معاملہ مسیحیوں کے لیے بھی محمد کی ہدایت کے مطابق کہ نافرمان بیویوں کو پیٹا جائے متاثر کن نہیں تھا۔ ( سورۃ ۳۴ : ۴ ) ۔ ( ۵ )

ربی تلیشکن اس بات کے بارے میں بھی بیان کرتا ہے کہ کیسے اُس نے توریت کی تعلیم کو وصول کیا :

محمد نے بُہت طریقوں سے یہودیوں اور یہودیوں کے مذہب پر حملہ کیا ۔ ۔ ۔ اُس نے ابراہام کو یہودی کی بجائے مسلمان پیش کیا ؛ ‘‘ ابرہام نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ ہر باطل سے جُدا مسلمان تھے اور مُشرکوں سے نہ تھے۔ بے شک سب لوگوں سے ابراہیم کے زیادہ حقدار وہ تھے جو اُن کے پیرو ہوئے ۔ اور یہ نبی اور ایمان لانے والے اور ایمان لانے والوں کا والی اللہ ہے ۔’’ سورۃ ۶۸ ۔ ۶۷ : ۳ محمد یہودیوں پر اُن کی نبوتوں کے بارے میں الزام لگاتا ہے جو کہ بائبل سے لی گئی ہیں۔ خاص طور پہ وہ الزام لگاتا ہے کہ یہودی سچے توحیدی نہیں ہیں کیونکہ اُس نے دعوی ٰ کیا تھا کہ وہ عزرا نبی کی بطور دیوتا پاجا کرتے ہیں۔ ( سورۃ ۳۰ : ۹ ) ۔ ۔ ۔ سورۃ ۶۱ : ۲ میں مثال کے طور پہ محمد نے کہا ‘‘ بے شک ایمان لانے والے تیز یہودیوں اور نصرانیوں اور ستارہ پرستوں میں سے وہ کہ سچے دل سے اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائیں اور نیک کام کریں اِن کا ثواب اُن کے رب کے پاس ہے اور نہ اُنھیں کُچھ اندیشہ ہو اور نہ کُچھ غم ۔’’ پچھلے سالوں میں اسرائیل کے ساتھ ایک امن کا محاہدہ کرنے سے پہلے شام کے صدر انور سعادات نے اِس آیت کو مسلمانوں کے برتاؤ کے تعلق سے یہودیوں پر اِس آیت کو واضح کیا جب مِصر نے اسرائیلیوں کو شکست دی۔ ( ۶ )

تلیشکن عمر کا حوالہ دیتا ہے جِس نے اسلامی حکومت کے تحت اختیار کو سمجھایا :

مغرب میں ایک بہت مشہور عقیدہ ہے یہودی مسلمان شہریوں کے برابر دینا میں زندہ رہے جب تک کہ صحیونیوں نے یہودی مخالفت احساسات کو عرب کے درمیان واضح نہ کیا ۔ حقیقت میں اُن کے سوسالہ رویے کے دوران اسلام نے یہودیوں اور مسیحیوں کو حقارت کی نظر سے دیکھا اور اُنھیں دوسرے درجے کے شہری کے طور پہ رکھا۔ ( ۷ ) مزیدبرآں تلیشکن بیان کرتا :

اُن کا معیار خود کو غیر توحیدیوں کے مقابلے میں ابھی بھی برتر ہے وہ علاقہ جات جن کو مسلمان فوجوں نے فتح کیا۔ لوگوں کو یہ پیش کش کی گئی ۔ کہ یا تو دائرہ اسلام میں آجائیں یا پھر مر جائیں۔ یہودیوں اور مسیحیوں کو جن کا ذکر ہوا ہے کہ اُن کو اُن کے مذہب کی اجازت دی گئی اُن کی زندگیاں عمر کے قانون کے مطابق بسر ہوئی جہاں تک سیاہ لوگوں کا تعلق ہے تو اُن کے لیے جنوب میں جِم کرو کا قانون لاگو کیا گیا ۔ یہودیوں اور مسیحیوں کو کہا گیا کہ جب مسلمانوں کی خواہش ہے وہ اپنی نشستوں سے کھڑے ہو جائیں ۔ یہودی اور مسیحیوں کو منع کیا گیا کہ وہ کِسی اور مذہب میں داخل نہ ہوں اور اپنے مذہب کی تبلیغ نہ کریں ۔ یہاں تک کہ دھہمیوں کو کہا گیا کہ جب وہ اپنے مردوں کو دفن کریں تو اپنی آواز بلند نہ کریں ۔ ایک عملی ظلم کی حدیں نظر آتی ہیں۔ اُس کو اجازت دی گئی کہ وہ صرف گدوں کو چلا سکتے ہیں اور اُن کو منع کیا گیا کہ وہ گھوڑے اور خچر نہیں چلا سکتے ۔ ( ۸ )

تاریخ کے ریکارڈ کے مطابق اسلامی قوانین کو یہودیوں اور مسیحیوں کی ذلت کے لیے لاگو کیا گیا ، تلیشکن بیان کرتا ہے :

یہودی اور مسیحی عرصہ دراز سے تحقیری قانون کی زد میں رہے اُن کو اکثر اوقات وہ کُچھ پہننے کے لیے کہا جاتا جو وہ نہیں پہننا چاہتے وہ کُچھ جس کو پہن کر وہ احمق نظر آئیں ۸۰۷ ء میں ۔ ۔ ۔ عباثی خلیفہ ہارون الرشید نے قانون پاس کیا کہ یہودی ایک لمبی ٹوپی پہنے گئے اور پیلے رنگ کی بیلٹ پہنے گئے ۔ ۔ ۔ گیارھویں صدی میں بغداد میں یہودی عورتوں کو ایک پاؤں کالے رنگ کا اور دوسرا لال رنگ کا جوتا پہننا پڑتا تھا اور اُن کے گلے اور جوتے کے ساتھ ایک پیتل کی گھنٹی ہوتی تھی۔ ( ۹ )

یہ ذلت وسطی دور میں بھی جاری رہی تلیشکن لِکھتا ہے وسطی دور میں فاطمید خلیفہ حاکم نے مسیحیوں کو حکم دیا کہ وہ دو فُٹ لمبا صلیب بازوؤں کے ساتھ پہنے جبکہ یہودیوں کو پانچ پاوئنڈ وزنی گیند اپنی گردن کے گرد پہننی پڑتی تھی ۔ اس بات کی ‘‘ یادگاری ’’ کے لیے کہ اُن کے آباؤاجداد کبھی بچھڑے کے سر کی پوجا کرتے تھے ۔ ٍ ۱۹۴۸ ء میں یمن سے اُن کی روانگی تک تمام یہودی مردوزن کو یہ زور دیا جاتا تھا کہ وہ فقیروں والے کپڑے پہنے جو اس بات کی علامت تھی کہ وہ نچلے درجے کے دھہمی ہیں۔ ( ۱۰ )

جہاں کہیں اسلام نے حکومت کی وہاں یہودیوں اور مایحیوں کو آزادی اور انسانی اختیارات سے نچلے حصے میں رکھا گیا۔ ماضی میں اسلامی عقیدے نے ظالم قوانین بنائے اور اُن سب کے ساتھ تشدد کیا جہنوں نے محمد کو بطور نبی ماننے سے انکار کیا۔ اِس سیاست نے اُن تمام تر قوموں کو جہالت اور ذلت دی جہنوں نے جُھوٹے نبی محمد کی مخالفت کی  اور اُس کے مادہ پرست چاند دیوتا اللہ کی۔

اسلامی قوانین کی مخالفت کی وجہ سے محمد کے بارے میں سچائی بیان کرنے کی وجہ سے اُن پر تشدد ہوا۔ یہ کتاب ذاتی طور پہ یا ارادی طور پہ مسلمانوں کی مخالفت کے لیے مصنف کی نفرت نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم اور اُن کی شہنشاہی فِطرت کی عکاسی ہے ۔ یہ کتاب اِس لیے لکھی گئی کہ مسیحی اور غیر مسیحی دونوں اِس بات کو سکھیں کہ اسلام کی تاریخی جڑیں کیا ہیں اِس بات کی اُمید کی جاتی ہے کہ کوئی بھی مسلمان جو اِس کام کو پڑھے گا وہ خُون کے کفارے کی قُربانی کی جس کا ذکر توریت میں آیا ہے اور جواب ختم ہو چکا ہے اُس کی عزت کرے گا اور یسوع مسیح کو اپنے شخصی خُداوند اور نجات دہندہ کے طور پہ جانے گا ۔ یہ کتاب اِس بات کی شہادت بھی ہے کہ وہ سب جو یسوع مسیح میں حقیقی معافی کو کبھی نہیں مانتے تھے وہ توبہ کریں گئے اور زندہ خُدا یہواہ کی طرف پھر آئیں گئے۔ محمد نے بیان کیا تھا کہ موسیٰ کی پانچ کتابیں ہیں جو کہ پاک توریت کہلاتی ہیں ختم ہو چُکی ہیں۔ تاہم وہ یہ دیکھنے میں ناکام ہوا کہ خُون کی قُربانیاں آننے والے مسیحا کی تصویر پر تھیں جو کہ دُنیا کے گناہوں کو اُٹھانے کے لیے آئے گا ۔ توریت بیان کرتی ہے کہ خُون بہائے بغیر گناہ کی معافی نہیں ہے اور یہ بات ہر ایک شخص کے لیے مسلمان بدھ مت ، ہندو سیکلر لوگ، مسیحی وغیرہ کے لیے ہے کہ نجات صرف یسوع میں ہے نہ  کہ کِسی مذہب یا فلسفے کے اندر مذہب انسان کے جِسم کے کام پر بنیاد ہے جو بچا نہیں سکتا تاہم نجات یسوع میں ہے ۔ یسوع نے اپنی روح میں اپنے لوگوں کو اچھے کام کرنے کے قابل بنایا ہے جو کہ حقیقی مذہب ہے ۔

توریت معافی اور خُدا کے ساتھ ملاپ کے بارے میں کیا کہتی ہے؟ پاک توریت میں ( احبار ۱۱ : ۷ ) ، یہواہ پاک خُدا خُون کی قربانیوں کا مطالبہ کرتا ہے ۔ ساری توریت میں خُون کی قُربانی مسیحا کی پہلی آمد جو گناہ کی معافی کے لیے اُس کی موت کو پیش کرتی ہے کی ایک تصویر ہے ۔ یہواہ نے ہر شخص کو آزاد مرضی دی ہے کہ وہ اِس فضل کو حاصل کرے ۔ خُداراستبازی کے اندر ۱۰۰ فیصد کاملیت کا مطالبہ کرتا ہے۔ انسان کے اعمال اور کام راستبازی کے اِس معار کو کبھی پورا نہیں کر سکتے۔ جیسے کہ توریت میں لکھا ہے۔ ‘‘ دیکھ میں نے بدی میں صورت پکڑی اور میں گناہ کی حالت میں ماں کے پیٹ میں پڑا۔’’ اس وجہ سے خُداوند یسوع مسیح ہماری قُربانی بنا تاکہ اُس کے وسیلہ سے اُن تمام کے لیے جو معافی مانگے کامل راستباز ٹھہری۔ یعنی اپنے ذہنوں کو بدلیں اور اپنی زندگی کی سمتوں کو بدلیں اپنے گناہوں کے لیے ، اور اُسے بطور اپنے خُداوند اور نجات دہندہ کے وصول کریں۔

یسوع مسیح نے ہمارے گناہوں کے لیے صلیب پر ایک متبادل قُربانی کے لیے خُود کو پیش کیا اور ہم سب کو ابدی زندگی میں اُس کے نام سے بلائے جانے کے لیے جسم سمیت قبر سے زندہ ہوا۔ تمام ایمانداروں کے اندر وہ روح القدس کی صورت میں موجود ہے جہنوں نے اُسے قبول کیا۔ نجات خالصتاً یسوع سے ہے ایک منظم مذہب ، جماعت یا دوسرے انسان کے بنائے ہوئے مذہب سے نہیں ۔ اسلام کے مطابق محمد کی تعلیمات جو حدیث میں ہے تمام ماسوائے اُن کے جو جہاد کرتے ہیں سارے جہنم میں جائیں گئے ۔ یا اسلام کے برزخ کی جگہ اِس شہادت کے پیش نظر جو اس کتاب میں بیان کی گئی ہے قرآن کی فطرت مادی ہے اور اسلام مادیت پرستی سے نِکلا ہے ۔ مجھے خُداوند میں یہ اُمید ہے کہ وہ جو اِس نئی بیصرت کو پا چکے ہیں وہ مسیحیت کو خُداوند یسوع مسیح کے فضل سے نجات کے لیے حاصل کریں گئے۔

 

 

مخفف ڈی

اسلامی حکومت وسعت کا وقت

۵۷۰۔ محمد پیدا ہوا ( تقریباً تاریخ )

۵۹۸ ۔ محمد نے ایک دولت من بیوہ خدیجہ سے شادی کی تقریباً تاریخ ) ۶۱۰ ۔ محمد نے ایک متشدد روح کے ساتھ غارِ حرا میں ملاقات کے وسیلے اپنی پہلی وحی حاصل کی۔

۶۲۲۔ پہلی ہجرت ( مدینہ کے لیے ہجرت اور اسلامی سال کا پہلا کیلنڈر ) محمد نے اپنی جنگ کی دفاع کے لیے پہلی وحی حاصل کی نتیجتاً اسلام کی ترقی کے لیے حملہ کرنے کے جہاد کی وحی بھی شامل ہوئی۔

۶۲۴ ۔ بدر کی لڑائی بنی کفار کے یہودی مدینہ سے نکالے گئے ۔

۶۲۵ ۔ اُحد کی لڑائی ۔ بنی نادر کے یہودی مدینہ سے نکالے گئے۔

۶۲۷ ۔ جنگِ خندق محمد اور اُس کے پیروکاروں نے ۶۰۰ سے ۹۰۰ کے درمیان بنی قریضہ کے یہودی آدمیوں کو قتل کر دیا اور اُن کے خاندانوں کو غلاموں کے طور پہ بیچ دیا۔

۶۲۸ ۔ صُلح حدیبیہ کا واقعہ ہوا اور جنگِ خیبر لڑی گئی ۔

۶۳۰ ۔ مکہ کی فتح

۶۳۲ ۔ محمد کا آخری حج اُس کے مرگِ بستر پر محمد نے اپنے پیروکاروں کو پوری دنیا میں یہ کہہ کر جہاد کا حکم دیا ، ‘‘ میں تمہیں آدمیوں سے لڑائی کا حکم دیتا ہوں جب تک کہ وہ یہ نہ کہیں کوئی معبود نہیں ماسوائے اللہ کے ’’

۶۳۴ ۔ جنگِ تبوک

۶۳۷ ۔ شام اور یروشلم کی فتح

۶۳۹ ۔ خلیفہ عمر نے یروشلم کو فتح کیا اور پتھر کا گُنبد تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا ابتدائی یہودیوں کی ہیکل کو مسجد میں بدلنے پر بشپ سوفیرنس نے پاک جگہ کے لیے اِس منصوبے کو ‘‘ دانیل نبی کی طرف سے کہی گئی اِس بات سے تعبیر کیا کہ اِس میں مکرو چیز داخل ہوئی ۔

۶۴۲ ۔ مِصر کی فتح ارمینیا اور ایشیاء ماوئنر تک وسعت ۔

۶۴۷ ۔ شمالی افریقہ اور سائپرس کی فتح تک وُسعت

۶۷۲ ۔ روڈس کے جذیرے کی فتح

۶۷۴ ۔ ۶۷۸ اور ۷۱۷ سے ۷۱۸ مسیحی بیزن ٹائن جو کہ کونسٹنٹ ٹائمپل کا دارلحکومت تھا اُس کو دو اسلامی سلطنتوں میں بانٹ دیا گیا۔

۶۸۸ سے ۶۹۱ تخمینہ کیا ہوا وقت جب پہاڑ پر گُنبد کی تعمیر ہوئی مکمل ہو گیا ۔

۷۱۱ ۔ سپین کی فتح

۷۳۲ ۔ فرانس میں سیاحوں کی لڑائی چارلس مارٹل اور اُس کے ساتھی بادشاہوں نے ایک بڑی اسلامی فوج کو ایک لڑائی میں کُچل دیا ۔

۷۳۵ ۔ چارلس مارٹل نے دوسری دفعہ اسلامی قوت کو گیئول میں دھکیلا۔

۹۹۶ ۔ حاکم جو کہ اسلامی مہدی کی طرح ہے وہ مِصر کا خلیفہ بنا اور یروشلم میں دہشت گردی کی ۔

۹۹۷ سے ۱۰۳۰ ۔ غزنی حکومت کے تحت دو ملین لوگوں کو جدید پاکستان ، افغانستان ، ایران اور انڈیا کے علاقوں میں قتل کر دیا گیا ۔

۱۰۰۰ سے ۱۵۲۵ تاریخ دان کے ایس لال نے اندازہ لگایا کہ ۸۰ ملین شہری سپین کے وقت میں اسلام کے نام پر قتل کر دیے گئے۔

۱۰۳۲ سے ۱۰۳۳ چھ ہزار یہودی مراکو میں اور بہُت سارے گرینڈا میں ماردیئے گئے۔

۱۰۵۹ سے ۱۰۷۱ رابرٹ گئیس کارڈ نے جنوبی اٹلی میں نرمان شہنشاہت کو قائم کیا اور سسلی سے مسلمانوں کو نکالا۔

۱۰۴۰ ۔ مرکزی ایشیاء کے نوسیڈک قبائلی آدمیوں نے مشرقِ وسطیٰ میں ہجرت کی ۔

۱۰۵۵۔ سلجک وارلارڈ نے تُغرل بیگ کو بغداد میں سلطان مقرر کیا اور سُنی اسلام کو موثر بنانے کا دعویٰ کیا۔

۱۰۷۴ ۔ ترکوں نے آثیث بِن یُوک کی حکومت کو پاک سر زمینوں میں پھیلا دیا۔

۱۰۷۵ ۔ ترک دمشق کی طرف بھاگتے ہیں۔

۱۰۷۷ ۔ ترک یروشلم میں بنیاد ڈالتے ہیں ۔ ترک ترکی میں رم کی سلطنت کو پاتے ہیں۔

۱۰۸۵ ۔ سپین میں مسیحی فوجیں دوبارہ سابقہ تولیدو کی وِسیگوتک سلطنت کا اعلان کرتے ہیں۔

۱۰۹۲ ۔ ۱۰۹۸ سپین کے بُہت مشہور مسیحی حاکم روڈ ریگوڈیاز ڈیویور ( ایل سِڈ ) اسلامی پھیلتی ہوئی فوجوں کو خاطر خواں نقصان پہنچاتا ہے۔

۱۰۹۵ ۔ پوپ عربن دوم مقدس شہر کے لیے جنگ کا اعلان کرتا ہے اور بینزین ٹائن کی مسیحی سلطنت کے لیے مدد دیتا ہے ۔

۱۰۹۸ سے ۱۰۹۹ جہادی پاک سر زمین میں آتے ہیں پہلی لڑائی شروع ہوتی ہے اور سات لڑایئوں میں سے سب سے زیادہ کامیاب یروشلم دوبارہ مسلمانوں سے لے لیا جاتا ہے اور پانچ میں سے تین رہنما اِس جنگ میں بادشاہ کے بیٹے یعنی ‘‘ شہزادوں ’’ کی طرح جانے جاتے ہیں ۔

۱۱۰۷ ۔ ناروے کا بادشاہ سیگارڈ پاک سرزمین کے لیے جاتا ہے اور اُس کے ساتھ ۶۰ بحری جہاز اور ۵۰۰۰ جنگجو جاتے ہیں ۔

۱۱۱۰ ۔ بادشاہ سیگارڈ فلسطین پہنچتا ہے اور بالدون جو یروشلم کا بادشاہ تھا اُس سے ملتا ہے سیگارڈ بالدون کو مدد دیتا ہے تاکہ وہ سیڈن کو مسلمانوں سے آزاد کروائے۔

۱۱۲۸ ۔ ہیکلوں کے حکمران حکمرانوں کو کلیسیاء کی طرف سے پاک سر زمین کے تحفظ کے لیے سرکاری شناخت دی جاتی ہے ۔

۱۱۲۰ ۔ ہسپتالوں کے سربراہ زور پکڑتے ہیں اور بُہت ساری صلیبی جنگوں میں لڑتے ہیں۔

۱۱۴۶ سے ۱۱۴۸ دوسری لڑائی میں اڑیسہ کی ریاست سابقہ مسلمان فاتح جو ۱۱۴۰ میں تھا اُس سے حاصل کرنے میں ناکامی ہوتی ہے۔

۱۱۸۸ سے ۱۱۹۲ تیسری لڑائی پوپ گریگری سوم کی قیادت میں ہوتی ہے جو صلاح و الدین کے خلاف تھی اور ۱۱۸۷ میں ہیٹن میں صلاح و الدین کو فتح ہوئی جو اِس میں واضح شخصیات اُبھر کر سامنے آئیئں وہ بادشاہ رچرڈ تھا جو انگلینڈ کا شیر دل تھا فرانس کا بادشاہ فلپس شہنشاہ فریڈرک بار بوروسہ اِنھوں نے لیونٹ کے ساحل پر اُس سر زمین میں قلعہ بنایا۔

۱۲۰۱ سے ۱۲۰۴ چوتھی لڑائی کونسٹنٹ ٹائمپل کی طرف مُڑ گئی جِس کے نتیجے میں لاطینی شہنشاہت کا قیام ہوا ۔

۱۲۱۸ سے ۱۲۲۱ ۔ پانچویں چھٹی اور ساتویں لڑائی بنیادی طور پر مِصر کو مرکز بناتی تھی اور اِس میں زیادہ تر ناکامی ہوئی۔

۱۲۵۸ سے ۱۳۲۶ عثمان کی خلیج جو کہ زیادہ تر عثمانی حکومت کے لیے ترکی میں جانی جاتی ہے سامنے آئی۔

۱۳۰۱ عثمان ( بون بریکر ) نے بینزین ٹائن کی بڑی فوج کو جنوبی کونسٹنٹ ٹائمپل میں شکست دے کر بُہت شہرت حاصل کی۔

۱۳۸۹ کوسووہ کی لڑائی عثمان ترک مراد اول نے مسیحی سربوں کو شکست دی۔

۱۴۴۴ ورنا کی لڑائی ۳۰۰۰۰ کی ایک فوج نے محمود دوم سے شکست کھائی۔

۱۴۵۳ محمود دوم نے مشرقی مسیحی سلطنت کونسٹنٹ ٹائمپل کو اپنا دارلحکومت بنایا۔

۱۵۲۹ ترک ویانہ کے دروازوں تک آئے لیکن بھگا دیئے گئے ۔

۱۵۲۰ سے ۱۵۶۶ عثمانیہ حکومت کے تحت عظیم سلمان نے اسلام کے گھر کو ایک بار پھر ایک واحد وحدانی شہنشاہی خلافت میں اکٹھے کیا ۔

۱۶۸۳ ۔ ترکوں نے ویانہ کو دوبارہ لینے کی کوشش کی لیکن مقدس رومی شہنشاہت کے مغربی سپر پاور کے الحاق نے اور پالش لیتھونیا ، دولتِ مشترکہ ( پاک لیگ ) کو شکست دی ۔

۱۸۹۴ سے ۱۸۹۶ ترک مُسلمانوں نے ڈھائی لاکھ ارمینیاء کے مسیحیوں کو ذبح کیا ۔

۱۹۰۴ سے ۱۹۰۹ ایک دوسرے ۳۰۰۰۰ لوگ جو ارمینیاء میں تھے اُن کو ترکوں نے قتل کیا ۔

۱۹۱۵ مُسلمان ترکوں نے ایک زبردست منصوبہ سازی سے ایک میلین ارمینیوں کی ( جن میں زیادہ تر مسیحی تھے ) نسل کشی کی۔

۱۹۲۴ ۔ اسلامی عثمانی سلطنت میں سرکاری خلافت کا خاتمہ ہوا۔

۱۹۳۹ ۔ ہٹلر اپنے مشن کے تحت اُن تمام یہودیوں کو جن کی بنیاد اسلامی ترک کے نمونے پر تھی اُن کی خاموشی سے نسل کشی کر دی۔

 

باب بارہ

(۱) تھامس پیٹرک ہگیز ، ڈکشنری آف اسلام ( شکاگو : قاضی پبلیکیشنز انک ، ۱۹۹۴ء) ، ۲۴۳

(۲) تخفیف ۔ ، ۲۰۷

(۴) افاہیم قارش ، اسلامک امپریل ازم : ایک تاریخ (نیوہیون اینڈ لندن ۔ ہیل یونیورسٹی پریس ، ۲۰۷) ، ۵

(۵) ابن اضحاق، لائف ، ۱۳۰

(۶) تخفیف ۔ ، ۱۳۱

(۷) رابرٹ سپنسر ، دی ٹروتھ اباؤٹ محمد ۔ فاؤنڈر آف دی ورلڈ  موسٹ اِن ٹولرینٹ رلیجن واشنگٹن ڈی سی ری جینری پبلیکیشینز اِنک ۔ ، ۲۰۰۶ء) ، ۷۷

(۸) البخاری ، حدیث والیم ۔ ۱ ، نمبر ۲۵ : ۱۸

(۹) تخفیف ۔ ، ۳۹۲ : ۱۴۵

(۱۰) تخفیف ۔ ، ۲۶ : ۱۹

(۱۱) الطبری ، ہسٹری آف الطبری ، والیم ۔ ۹، ۸۲

(۱۲) تخفیف ۔ ، ۸۴

(۱۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۔ ۷ : ۱۰

(۱۴) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۴ ، نمبر ۳۴۵۳ ۔ ۵۴ : ۲۸۰

(۱۵) تخفیف ۔ ، ۲۸۱۳ : ۳۶

(۱۶) سپنسر ، ٹروتھ اباؤٹ محمد ، ۱۲۹

(۱۷) ابن اضحاق ، لائف ، ۴۶۴

(۱۸) کارش ، اسلامک امپیریل ازم ، ۱۵

(۱۹) ابن ورق ، میں کیوں مسلمان نہیں ( ایمرسٹ ، این وائی پرومیٹیس بُکس ، (۱۹۹۵ء) ، ۲۱۷

(۲۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۵ ، نمبر ۴۰۲۸ : ۱۴۰

(۲۱) سپنسر ، ٹروتھ اباؤٹ محمد ، ۱۱۱۔ ۱۲

(۲۲) تخفیف ، ۱۳۷ ۔ ۳۹

(۲۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۴ ، نمبر ۳۵۹۳ : ۳۲۳

(۲۴) سپنسر ، ٹروتھ اباؤٹ محمد ، ۱۵۹

(۲۵) تخفیف ۔ ، ۱۸۰

(۲۶) موڈی آدمز ، وہ مذہب جو امریکہ کی عزت لُوٹ رہا ہے ۔ (این ۔ پی : دی موڈی آدمز ایوینجلسٹک ایسوسی ایشن ، این ۔ ڈی ) ، ۱۰۱

(۲۷) این ۔ اے ۔ ، پردے کے پیچھے ، ۶۰ ۔ ۲

(۲۸) کارش اسلامک امپریل ازم ، ۲۵

(۲۹) تخفیف ۔ ، ۲۵ ۔ ۶

(۳۰) تخفیف ۔ ، ۴۹

(۳۱) تخفیف ۔ ، ۲۳

(۳۲) تخفیف ۔ ، ۱

(۳۳) روڈی سٹارک ، گوڈز بیٹلین : جہادوں کے معاملات (نیویارک ہارپر کولن پبلشرز ، ۲۰۰۹ء) ، ۲۹

(۳۴) تخفیف ۔ ، ۳۶ ۔ ۷

(۳۵) تخفیف ۔ ، ۳۸

(۳۶) تخفیف ۔ ، ۳۸ ۔ ۹

(۳۷) تخفیف ۔ ، ۴۰ ۔ ۴۴

(۳۸) تخفیف ۔ ، ۹۰

(۳۹) تخفیف ۔ ، ۹۱

(۴۰) تخفیف

(۴۱) تخفیف ۔ ، ۲۹

(۴۲) تخفیف ۔ ، ۴۸ ۔ ۵۱

(۴۳) تخفیف ۔ ، ۴۶

(۴۴) تھامس آس برج ، جہاد : مقدس سر زمین کے لیے جنگ کی ایک با اختیار تاریخ ( نیویارک : ہارپر کولن پبلشرز ، ۲۰۱۰ ء) ، ۲۱

(۴۵) سٹارک ، بیلٹین ، ۹۷

(۴۶) رابرٹ سپنسر ، سیاسی طور پر اسلام تک غلط راہنمائی (اور جہاد) ( واشنگٹن ڈی سی : ری جینری پبلیشنگ انک ، ۲۰۰۵ء) ، ۱۲۵

باب تیرہ

(۱) ایسبرج، کروسڈز ، ۴۰

(۲) سپنسر ، اسلام اینڈ کروسڈز ، ۱۴۷

(۳) جونتھن ریلی سمتھ ، دی آکسفورڈ ہسٹری آف دی کروسڈز (نیویارک آکسفورڈ یونیورسٹی پریس اِنک ۔ ، ۲۰۰۲ ) ۵ ، ۹

(۴) سٹارک، بیٹلین ، ۲۴۶ ۔ ۴۷

(۵) اِلسن سکوفیلیڈ اینڈ دی اینڈ ٹائمز : دی رلیجنس بیٹل بی ہاہنڈ دی ہیڈلائنز ( فورٹمائرز ، فلوریڈا فِش ہاؤس پبلشنگ ، ۲۰۰۷ء) ، ۴۰

    (جنوری ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی)  [http://www.beholdthebeast.com/abomination_of_desolation.htm](۶)

(۷) تخفیف

(۸) ایس برِچ ، کروسڈز ، ۱۷

(۹) سٹارک ، بیٹلین ، ۳ ۔ ۴

(۱۰) تخفیف ۔ ، ۱۰۹

(۱۱) تخفیف ۔ ، ۱۱۲ ۔ ۱۱۳

(۱۲) ایس برِچ ، کروسڈز ، ۴۷

(۱۳) تخفیف ۔ ، ۴۲

(۱۴) سٹارک ، بیٹلین ، ۱۲۷ ۔ ۳۶

(۱۵) تخفیف ۔ ، ۱۳۷

(۱۶) تخفیف ۔ ، ۱۵۲ ۔ ۵۳

(۱۷) تخفیف ۔ ، ۱۵۵ ۔ ۵۶

(۱۸) تخفیف ۔ ، ۱۶۴ ۔

(۱۹) تخفیف ۔ ، ۱۶۵ ۔ ۶۶

(۲۰) سُنوری سٹرلسن ، ہیمز کرنگلا :: ناروے کے بادشاہوں کی تاریخ ، ٹرانس سموئیل لیئنسگ (لندن ، ۱۸۴۴) ، (این ۔ پی ۔ : فارگوئن بُکس ، ۲۰۰۸ء) ، ۵۷۲ ۔ ۷۳(۲۱) تخفیف ۔ ، ۵۷۳

(۲۲) سٹارک ، بیٹلئین ، ۱۳۹

(۲۳) تخفیف ۔ ، ۱۷۴ ۔ ۷۵

(۲۴) تخفیف ۔ ، ۱۸۰ ۔ ۸۱

(۲۵) سپنسر ، اسلام اینڈ کروسڈز ، ۱۷۲

(۲۶) تخفیف ۔ ، ۱۷۳

(۲۷) سٹارک بیٹلئین ، ۱۹۴۔

(۲۸) تخفیف ۔ ، ۲۰۰

(۲۹) تخفیف ۔ ، ۶۴

(۳۰) تخفیف ۔ ، ۶۵

(۳۱) تخفیف ۔ ، ۵۷ ۔ ۸

(۳۲) تخفیف ۔ ، ۶۰

(۳۳) تخفیف ۔ ، ۵۸ ، ۶۱

(۳۴) سپنسر ، اسلام اینڈ کروسڈز، ۱۴۷۔۴۹

(۳۵) تخفیف ، ۱۶۰

(۳۶) کارش ، اسلامک امریل ازم ، ۸۹

(۳۷) تخفیف ۔ ، ۹۱

(۳۸) تخفیف ۔ ، ۹۲

(۳۹) سپنسر ، اسلام اینڈ کروسڈز ، ۱۵۳

(۴۰) کارش ، اسلامک امپریل ازم ، ۹۲

(۴۱) سپنسر ، اسلام اینڈ کروسڈز ، ۱۵۴

(۴۲) کارش ، اسلامک امپریل ازم ، ۹۲ ۔ ۳

(۴۳) سپنسر ، اسلام اینڈ کروسڈز، ۱۵۶ ۔ ۵۷

(۴۴) کارش ، اسلامک امپریل ازم ، ۹۳۔

(۴۵) تخفیف ۔ ، ۹۴ ۔ ۵

(۴۶) ورِک ، میں کیوں مسلمان نہیں ہوں ، ۲۳۸ (۴۷) کارش اسلامک امپریل ازم ، ۱۱۶ ۔ ۱۷

(۴۸) تخفیف ۔ ، ۱۱۶

(۴۹) ولید شُعبت ، دہشت گردی پر خُدا کی لڑائی : اسلام نبوت اور بائبل ( این ۔ پی ۔ : ٹاپ ایکسزکٹیف میڈیا ، ۲۱۰) ، ۱۷۱

(۵۰) پیٹر ہامود ، سوڈان میں آگ کے تلے ایمان ( نیولینڈ ، ساؤتھ افریقہ : فرنٹ لائن فیلوشِپ ، ۱۹۹۶ء) ، ۹۱

     (جنوری ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی )[http://www.politicalislam.com/tears/pages/tears-of-jihad/] (۵۱)

باب چودہ

(۱) البخاری ، حدیث والیم ۔ ۹ ، نمبر ۶۹۲۷ : ۲۴ ۔

(۲) تخفیف ۔ ، ۶۹۲۳ : ۲۵

(۳) تخفیف ۶۹۳۰ : ۵۷

(۴) تخفیف ۔ : ۶۹۲۱ : ۲۳

(۵) ہامونڈ ، آگ کے تلے ایمان ، ۹۴ ۔ ۵

(۶) آدمز ، وہ مذہب جو امریکہ کی عزت لوٹ رہا ہے ، ۱۰۲

(۷) برنارڈلوئیس ، تاریخ میں اسلام : تصورات لوگ اور قرونِ وسطیٰ میں واقعات ( شکاگو اور لاسال ، ۲ ، : اوپن کورٹ ، ۱۹۹۳ء) ، ۳۷۳

(۸) تخفیف ۔ ، ۳۶۱

(۹) ڈانیل پائپس دی رُشدی افیرز : دی ناول ، دی آیت اللہ اینڈ دی ویسٹ ( این ۔ وائے ۔ : کیریل پبلشنگ گروپ ، ۱۹۹۰ء) ، ۱۸۱

(۱۰) تخفیف ۔

(۱۱) تخفیف ۔ ، ۱۸۲ ۔ ۸۳

(۱۲) تخفیف ۔ ، ۲۱۸

[http://www.theblaze.com/stories/author-salman-rushdie-cancels-india-trip-over-threatsof- (۱۳)

    (جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی) violence-assassination-by-islamic-protesters/]

باب پندرہ

(۱) البخاری ۔ حدیث ۔ والیم ۔ ۱ ، نمبر ۶۳ : ۳۵ ۔ ۶

(۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۲ ، نمبر ۔ ۱۰۰۸ : ۴۷

(۳) البخاری ، حدیث ، والیم ، ۱ ، نمبر ۔ ۳۷۱ : ۱۳۸

(۴) تخفیف ۔ ، ۳۹۰ : ۱۴۴

(۵) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۔ ۷۲۳۶ : ۲۷۳ : والیم ۔ ۴ ، نمبر ۔ ۲۸۳۷ : ۴۵

(۶) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ نمبر ۔ ۵۱۵۱ : ۹۹ : والیم ۔ ۳ ، نمبر ۲۴۶۸ : ۲۵۷ (۷) این ۔ اے ۔ ، پرد کے پیچھے ، ۱۵۴

(۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۶۹۳ : ۲۳۲ ؛ والیم ۔ ۳ ، نمبر ۲۴۸۸ : ۲۶۷ ۔

(۹) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۷۰۳۸ : ۱۴۱

(۱۰) آدمز ، وہ مذہب جو امریکہ کی عزت لوٹ رہا ہے ، ۵۷ ۔

(۱۱) ورک ، میں مسلمان کیوں نہیں ہوں ، ۲۰۵

باب سولہ

(۱) شُعبت ، دہشت گردی پر خُدا کی لڑائی ، ۵۴

(۲) تخفیف ۔ ، ۵۶

(۳) تخفیف ۔ ، ۵۳

(۴) تخفیف

(۵) تخفیف

(۶) ہیکیز ، ڈکشنری آف اسلام ، ۳۹

(۷) شُعبت ، خُدا کی دہشت گردی پر جنگ ، ۹۳

(۸) یوئل ناتن ، مونوتھیزم ( این ۔ پی ۔ : این ۔ پی ۔ ، ۲۰۶) ۲۹

(۹) جان جوزف اُونز ، اینا لیٹیکل کی ٹو دی اولڈ ٹیسٹامنٹ ، والیم ۔ ۴ ، ( گرینڈ ریپرڈز : بیکر بُک ہاؤس ، ۱۹۸۹ء) ، ۷۹۴

(۱۰) فرانسس براؤن ، ایس ۔ آر ۔ ڈرائیور ، اینڈ چارلس اے ۔ برگز ، دی براؤن ڈرائیور برگز ہبریو اینڈ انگلش لیکسی کون (پی بوڈی ، ایم اے ہینڈرک سن پبلشرز ۔ اِنک ۔ ۲۰۱۰ء) ۔۹۶۲

(۱۱) کیری شرٹس ، بائبل نے لفظ ‘‘ لوسیفر ’’ کو ‘‘ستارے’’ میں بدل دیا جو ظاہر کرتا ہے کہ شیطان کی پوجا ہوتی ہے

[http://www.backyardprofessor.com/the_masonic_scholar/2010/03/biblechanging-

   ( جنوری ۲۰۱۲ء میں شائع ہوئی) the-word-lucifer-to-star-proof-that-masons-worship-the-devil.html]

(۱۲) گولیم ، محمد کی زندگی ، ۷۵۲ ۔

(۱۳) جوئیل رچرڈسن ، مخالفِ مسیح : اسلام کا انتظار کیا گیا مسیحا ( اینوم وکئیو ، ڈبلیو اے : خوشگوار کلام ۔ آڈیویشن آف وائن پریس پبلشنگ ، ۲۰۰۶ء) ، ۱۶۸

(۱۴) شُعبت ، دہشت گردی پر خُدا کی جنگ ، ۱۶۸

(۱۵) تخفیف ۔ ، ۲۲۶ ۔

(۱۶) تخفیف ۔ ، ۹۱ ۔

(۱۷) تخفیف ۔ ، ۳۰۰

(۱۸) تخفیف ۔ ، ۴۲۱

(۱۹) براؤن ، ڈرائیور ، برگز ؛ براؤن ۔ ڈرائیور ۔ برگز ہبریو ، ۹۱۰ ۔ ۱۱

(۲۰) شُعبت ، دہشت گردی پر خُدا کی جنگ ، ۲۵۵

(۲۱) گورڈن رابرٹسن ، دی سیٹ آف سیٹن : اینی انشنعٹ پرگامم،

[http://www.cbn.com/700club/features/ChurchHistory/Pergamon/EZ28_seat_of_satan_part_2

    ( جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی ) .aspx]

(۲۲) شُعبت ۔ دہشت گردی پر خُدا کی جنگ ، ۴۳۸

(۲۳) سِم اوزڈیمر ، کونٹرو ورسی اُوور ترکش مووی : بھیڑیوں کی وادی سے آگے

   (جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی) [http://Spiegel.de/international/0,1518,401565,00.html]

(۲۴) شُعبت ، دہشت گردی پر خُدا کی جنگ ، ۴۳۸ ۔ ۳۹

(۲۵) تخفیف ۴۴۱ ۔ ۴۲

(۲۶) جوئیل رچرڈسن ، ترکی کا اپنی فوج کو دوگنا کرنا۔

 [http://www.bibleprophecyblog.com/2011/07/turkey-to-double-size-of-its-army.html]

(جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی )

(۲۷) ہیلل فریڈکن اینڈ لوئیس لبی ، پاورپلے : ترکی کا ایران کے لیے نرسنگا ۔

[http://www.worldaffairsjournal.org/article/power-play-turkeys-bid-trump-iran]

(جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی)

(۲۸) تخفیف

(۲۹) پال کرول ، مکاشفہ ۱۳ اور ‘‘ حیوان کا نشان’’

       ( فروری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی ) [http://www.gci.org/bible/rev13/mark]

 (۳۰) شُعبت ، دہشت گردی پر خُدا کی جنگ ، ۳۷۷ ۔

(۳۱) تخفیف

(۳۲) تخفیف ۔ ، ۳۶۵

(۳۳) تخفیف ۔ ، ۳۷۸

نتیجہ

(۱) رابرٹ مورے ، پری اسلامک ریجنز آف اسلام ، لیکچر ، ایک گھنٹہ ( نیو پورزت ، پی اے : ٹروتھ سیکرز ، ۱۹۹۶ء ) ، ویڈیو کیسٹ ،

(۲) مورے ، گریٹ ڈیبیٹ ، دو گھنٹے

(۳) تخفیف

(۴) ماؤنٹ گومری واٹ ، محمد ایٹ مدینہ ( آکسفورڈ : کلیر رینڈن پریس ، ۱۹۵۶ء) ، ۳۰۹ ۔ ۱۵

(۵) جوزف تلشکن ، جیواش لٹئری ، (نیویارک : ولیم مورو اینڈ کمپنی ، اِنک ۔ ۱۹۹۱ء) ، ۱۶۱۔

(۶) تخفیف ۔ ۱۶۱ ۔ ۶۲

(۷) تخفیف ۔ ، ۱۶۲(۸) تخفیف

(۹) تخفیف ۔ ، ۱۶۳۔

 (۱۰) تخفیف۔

Aug 23

مکہ محمد اور خُدائے مہتاب ایک حقیقی اسلامی نسب سے ایک حقیقی تحقیق – گیارہ تک باب چھ

حصہ سوئم ۔ محمد

باب ۶

محمد کا جادومنتر

جادو منتر پر بائبل کا اظہار

محمد اور جادو منتر کے درمیان موازنے کی چھان بین کرتے ہوئے، بائبل کا ایک نمونہ پہلے قائم کرنا ضروری ہے۔ تہذیب کے شروع میں پیچھے غور کرتے ہوئے جادو منتر کو جادو کا فن خیال کیا جاتا رہا ہے۔ مائیکل ہارنر، نیویارک اکیڈیمی آف سائنس کے علم الانسان شعیہ کا بیان کرتا ہے: ( شمن (تلفظ شماں) ایک لفظ ہے جوئنگس زبان جو سائبریا کے لوگوں کی زبان ہے، اور علم الانسان کے ماہرین بڑے وسیع طور پر اختیار کیا ہے اُن آدمیوں کا حوالہ دینے کے لیے جع غیر مغربی ثقافت کی ایک عظیم روایت ہے جو واضح طور پر ایسی اصطلاحات جیسے ‘‘جادوگرنی’’ ‘‘جادو کا ماہر’’ ‘‘جادوگر’’،‘‘افسون گر’’(سیانا) ‘‘ساحر’’ ‘‘چھومنتر کرنے والا’’، (۱)

جادو انہی طریقوں میں سے استعمال ہوتا ہے جیسے جادوگرنیاں ، افسون گر، جادو گر وغیرہ جادو آشنا روحوں پر مکمل طورپر بھروسہ کرتا ہے۔ ان وجودوں کا بیان کرتا ہے:

راہنما روح ہے ۔۔۔ اکثر علم الانسان کے ادب میں دوسرے ناموں سے کہلاتی ہے، جیسے ‘‘ماتحت روح’’ سائبریا کے جادومنتر میں کام کرتی ہے اور میکسیکو اور گوئٹے مالا میں ‘‘نیگول’’۔ آسٹریلوی احب میں ‘‘ایک مددگار ہستی’’ کے طور پر حوالہ دیا جا سکتا ہے اور پوری ادب میں ‘‘آشنا’’۔ بعض اوقات راہنما روح صرف ‘‘دوست’’ یا ‘‘ساتھی’’ کہلاتی ہے۔ یہ جو بھی کہلاتی ہو ، یہ جادو کے فعل کرنے کے لیے ایک بنیادی ققت ہے۔ (۲)

 بائبل کی تعلیمات کسی جھوٹے نبی کے عمل کردہ پُراسرار (جادو) دوستیْ تعلق کی مذمت کرتی ہے۔ روائتی تعلیمات، ارواح کے وسیلے جھوٹے نشانات اور عجائب اور روحانی علم غیب سب منع ہیں۔

جب تو اس ملک میں جو خُداوند تیرا خُدا تجھ کو دیتا ہے پہنچ جائے تو وہاں کی قوموں کی طرح مکروہ کام کرنے نہ سیکھنا۔ تجھ میں ہر گز کوئی ایسا نہ ہو جو اپنے بیٹے یا بیٹی کو آگ میں چلوائے یا فالگیر یا شگون نکالنے والا یا افسون گر یا جادوگر ۔ یا منتری یا جنات کا آشنا یا رومال یا ساحر ہو کیونکہ وُہ سب جو ایسے کام کرتے ہیں خُداوند تیرا خُدا اُنکو تیرے سامنے سے نکالنے پر ہے۔’’( استثنا  ۱۲ ۔ ۹ : ۱۸ ) انسانی نسل بشمول کبالا کے عمل کے لیے یہ روک بطور ایک تنبیہہ ہے۔ افسونگری، علمِ نجوم ، ہاتھ کی لکیریں بنانا، طوطے سے پرچی نکلوانا، مردوں کی روحوں سے باتیں کرکے پیشنگوئی کرنا، ارواح پرستی وغیرہ ؛ جو ٹونے تشکیل دیتے ہیں ، چُھو منتر یا جادوگری کا عمل بناتے ہیں۔

اکثر بطور ایک کثیرالشکل ہستی، شیطان ‘‘نورانی فرشتے کا بھیس بدل لیتا ہے’’(۲۔کرنتھیوں ۱۱ : ۱۴) اپنی بد روحوں کے ساتھ گرائے گئے فرشتوں یا بدروحوں کو بھیج سکتا ہے ، وہ پاک فرشتوں کی نقل کرنے کے قابل ہیں اور انسانوں کو بیمار کر سکتے ہیں۔ رومی بادشاہت میں سفر کرنے کی اپنی صلاحیت کے ذریعے ، قدیم زمانے سے واقفیت رکھنا اور دوسری روحانی مافوقِ و الفطرت قوتیں ، وہ کسی انسانی صلاحیت سے آگے بڑھ جاتی ہیں۔ پس وہ بہتوں کو اپنی چالاک چال بازی سے دھوکہ دینے کے قابل ہیں۔ یہ بد روحیں چوروں کی مانند ہیں ‘‘چور نہیں آتا بلکہ چُرانے اور ہلاک کرنے کے لیے اور برباد کرنے کے لیے’’۔ (یوحنا  ۱:۴) اِن بدروحوں سے مشورہ لینا بطور ایک فرد آسانی الوبن سکتا ہے ناجائز اثرات سے کام نکال سکتا ہے ۔ اور ایک جھوٹ پر ایمان لانے کے لیے کسی کو بد روح کے اثر میں لایا جا سکتا ہے۔ شدید حالات میں وہ کسی وجود کے قبضے میں آسکتا ہے ۔

جادوگری کی ابتداء

علامتی طور پر جوڑ جوڑ الگ ہونا اور آسمانی سفر۔

دنیا سے مثالیں

اعلیٰ درجے کے جادوگر عالموں میں ایک مر گیا الیاڈ نے اپنے لمبے چوڑے کام شمینزم آرچیک ٹیکنیکس آف اسٹکیسی میں تبصرہ کیا:

خواب، بیماری، یا رسوم پرستی کی ابتداء مرکزی عنصر ہمیشہ ایک ہی ہے : موت اور کسی نو مرید کا تشبیہاً جی اُٹھنا ، مختلف طریقوں سے جسم کے کاٹنے میں ملوث ہوتے ہوئے کام کرنا ( جوڑ جوڑ الگ کرنا ، کچکچاہٹ ، پیٹ کا کھولنا وغیرہ) (۳)

وسطی آسٹریلیا کے وارمنگو کے درمیان، اس منظر کی تحریری شہادت دیکھی گئی ہے۔ ایک جادوگر نے جادوگری کی ابتداء میں اپنے تجربے کے متعلق اس قبیلے کی گواہی دی۔ دو روحیں جو پینٹی ڈیرز کہلاتی ہیں ۔ ایک آدمی کو دو دن تک شکار کیا ۔ انہوں نے اس کے باپ اور بھائی ہونے کا دعویٰ کیا۔ دوسری رات کے دوران، روحوں نے اُسے مار دیا۔ الیاڈ نے بیان جاری رکھا : ‘‘جب وہ مردہ لیٹا ہوا تھا انہوں نے اُسے کاٹ دیا اور اس کا اندر باہر نکال دیا، اُسے ایک نیا سیٹ بناتے ہوئے اور آخر کار ، انہوں نے اس کے جسم میں ایک چھوٹا سانپ رکھ دیا، جس نے اُسے ایک جادوگر کی قوتوں سے اُسے دوبارہ زندگی بخشی’’۔(۴)

الیاڈ ایک دوسری رسم پرستی کے عمل کو ڈیاک آف لوزنیو کے درمیان دوبارہ بیان کیا: ایک بوڑھے جادوگر نے ایک نو مرید کو پردوں سے ایک کمرے میں بند کر دیا۔ ‘‘اور جیسے وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہوں نے اس کا سر کاٹ کے کھول دیا، اس کا دماغ ننکال دیا، انہیں دھویا اور بحال کیا، اس کو صاف اور شفاف ذہن دینے کیے لیے بدروحوں کی پراسراریت اُسکے اندر داخل کرنے کے لیے اور بیماری کی پیچیدگیاں :۔۔۔۔۔۔(۵)

ایک برفانی جھونپری کے اسکیموں کی ابتداء کے متعلقہ الیاڈ نے اس مثال کا حوالہ دیا:

بوڑھا جادوگر اپنے شاگرد کی آنکھوں سے اُسکی ‘‘جان’’ نکالتا ہے، دماغ اور آنتیں نکالتا ہے، اس طرح روحیں ہو سکتا ہے جانتی ہوں کہ اُس کے لیے بہترین کیا ہے۔ اس ‘‘جان نکالنے’’ کے بعد اگلا جادو خود اس قابل ہو گیا کہ اپنے جسم سے اپنی جان نکالے اور خلا میں اور سمندر کی گہرائیوں میں پُراسرار لمبے سفر اختیار کرتا ہے۔ (۶)

الیاڈ نے تنصرہ کیا ، ‘‘آنتوں سے جان نکالنا واضح طور پر اندرونی اعضا کی تجدید ہے’’۔ (۷)دنیا کے ارد گرد سے ، یہ مثالیں محمد کی اپنی جادوئی جوڑ جوڑ الگ الگ کرنے کے تجربے کے لیے موازنہ کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیں۔

محمد کی ابتداء

تقریباً پانچ سال کی عمر میں محمد کو اپنے کئی خوفناک جادوئی تجربات میں پہلا تجربہ ہوا۔ اسلام کی تاریخ میں ، رابرٹ پائنے نے دوبارہ اس واقع کا بیان کیا:

وہ (محمد) حلیمہ کے بیٹیوں میں سے ایک کے ساتھ کھیت میں چہل قدمی کر رہا تھا جب وہ اچانک گِر گیا، روتے چلاتے ہوئے جب اُس نے زمین پر پاؤں پھیلا کر پیٹ کے بل رینگنا شروع کیا تو دو آدمیوں نے سفید کپڑوں میں ملبوس اس کے پیٹ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے کھول دیا اور اُسے بلاتے رہے۔ اس کا ساتھی کُچھ نہ کر سکا جو واقع ہو رہا تھا اور مدد کے لیے کہنے کے لیے واپس بھیڑ خانے بھاگا۔ حلیمہ اور اس کا خاوند بھاگتے ہوئے کھیت میں آئے کہ محمد کو ڈھونڈیں کہ زمین پر  ابھی تک رینگ رہا ہے یا نہیں، بلکہ کھڑا تھا، اسکے چہرے کا سارا خون خشک ہو گیا تھا۔ پوچھا گیا کہ کیا ہوا تھا، اُس نے دو فرشتوں کا بتایا جہنوں نے اس کا پیٹ کاٹ کر کھول دیا، کُچھ تلاش کرتے ہوئے ، اگرچہ وہ نہیں جانتا تھا کہ یہ کیا ہے۔ چرواہا خوف زدہ ہو گیا کہ وہ کس شیطان کے قبضے میں ہے۔(۸)

ایک مسلمان مورخ طبری نے مِلتا جُلتا ایک بیان دیا:

‘‘اے اللہ کے رسول ، تم نے بالکل یقین کے ساتھ پہلے کیسے جانا کہ ایک نبی ہو’’؟ ‘‘ابودھر’’ اس (محمد) نے جواب دیا، ‘‘دو فرشتے میرے پاس آئے جب میں مکہ کی کسی وادی میں کہیں تھا۔ اُن میں سے ایک زمین پر آیا، جبکہ دوسرا آسمان اور زمین کے درمیان رہا۔ اُن میں ایک نے دوسرے سے کہا ، کیا وہ یہ ہے؟ ۔۔۔۔ پھر ایک نے دوسرے سے کہا، اس کا سینہ چاک کرو۔ اس نے میرا سینہ چاک کیا اور پھر کہا، اُس کا دل نکال لے، یا اس کا دل کھول۔ اس نے میرا دل کھولا، اور اس میں سے شیطان کی گندی اور خون کا جما ہوا لوتھرا نکال دیا اور اُنہیں دُور پھینک دیا پھر اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہو ؛ اُس کی چھاتی صاف کر دے جب تُم اُسے چُھپا دو پھر اُسے سکائنہ بلایا گیا جو سفید بلی کی طرح کا چہرہ دکھائی دیتا تھا اور یہ میرے دل میں رکھا گیا۔ پھر اُن میں سے ایک نے دوسرے سے کہا ، اس کے سینے کو سی دو ۔ پس انہوں نے میرا سینہ سی دیا اور میرے کندھوں کے درمیان ایک چھاپ رکھ دی ۔۔۔۔ جبکہ یہ اس وقت پیش آیا جب میں اِسے بطور ایک تماشائی دیکھ رہا تھا ۔ ’’۔(۹)

ان بیانات کے اندر بہت سے جادوئی مقاصد موجود ہیں ۔ جس طرح پچھلے وقت وار منگو ابتداء کے ساتھ ظاہر ہوا، دو بد روحی ہستیاں محمد کے تجربہ میں ایجاد ہوئیں کہ وہ اچھی روحیں بنیں جادو منتر میں، موجود دوسرا موضوع خون کے منجمد ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ محمد کی وحیوں کے متعلقہ ، خون کا جمنا بائبلی نبوتی تعلیمات کی نسبت شیطانی تجربہ کی عکاسی کرتا ہے۔ بائبلی تحریر میں ، خون کا کردار صرف کفارے کی قُربانی کو ظاہر کرتا ہے جِس کی اسلامی عالم پر زور طریقے سے مخالفت کرتے ہیں۔ قُربانی کا یہ انکار پچھلے سبق میں زیرِ بحث آگیا ہے۔ محمد کی جادومنتر کی ابتداء میں زیادہ نمایاں موازنات میں ایک جوڑ جوڑ الگ الگ ہونے میں جسمانی اعضا کے دھونے میں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ الگ تھلگ تجربہ جادو منتر میں پُراسرار عملیات میں تحریری طور پر ثابت کیا گیا ہے اور حتیٰ کہ یو۔ایف۔او اغواہ کاریاں۔ قرآن میں ظاہر کرتے ہوئے لفظ شکائنہ کا چھ مرتبہ ذکر ہوا ہے۔ ان میں سے پانچ شکائنہ اُس امنْسلامتی کی یقین دہانی جو محمد پر یا اہل ایمان پر خُدا کی طرف سے اُتاری گئی؛ دوسرے واقع میں ( ۲: ۴۸ ) یہ ایک مادی چیز ہے جو اسرائیلیوں کے عہد کے صندوق میں تھی’’۔ (۱۰) اس کے عکس، عبرانی تفسیر کی بنیاد میں شکائنہ خُدا کی روح ہے۔ بائبلی تحریر میں ، ہو سکتا ہے پاک روح مختلف شکلوں میں ظاہر ہو جیسے بادل کبوتر یا آگ سی پھٹتی زبانیں۔

جادو منتر میں ، طاقتور راہنما روحیں بلیوں ، عقابوں ، ریچھوں وغیرہ کی شکلیں لتی ہیں۔ محمد کے تجربے میں کھینچی گئی تصویر میں ایک سفید بلی، ایک آشنا (بدروح) روح تھی۔ پر اسرار عملیات کے مظاہرے کے افارطِ خون کو ذہن میں رکھتے ہوئے، بلی غلطی سے امکان سے مبرا کے طور پر کسی بدروح کے کوئی شگون نکالنے سے مشابہت رکھتا ہے۔ بعد کی زندگی میں ، محمد نے بطور ایک جوان لڑکے کے اسی طرح کا دوسرا زخمی مقابلوں کا تجربہ کیا ۔حدیث میں ، ملک بن سعسا محمد کے رات کے سفر کا ایک واقعہ بیان کرتا ہے: نبی نے کہا: جب میں گھر میں جاگ اور نیند کے درمیان میں تھا، (ایک فرشتے نے مجھے پہچان لیا) جیسے ایک آدمی دو آدمیوں کے درمیان لیٹا ہوا ہو۔ ایک سونے کی ٹرے، حکمت اور ایمان سے بھری میرے پاس لائی گئی اور میرا جسم گلے سے نیچے دھر کے نچلے حصے تک کاٹ دیا گیا اور پھر میرا دھڑ زم زم کے پانی سے دھویا گیا ۔ اور میرا دل حکمت اور ایمان سے بھر دیا گیا ۔ ابراق، ایک سفید جانور گھوڑی سے چھوٹا اور ایک گدھے سے بڑا، میرے پاس لایا گیا اور میں جبرائیل کے ساتھ روانہ ہو گیا ۔

جب میں قریب ترین آسمان پر پہنچا تو جبرائیل نے دربان سے کہا: دروازہ کھول دو۔ ۔ ۔ (۱۱)

محمد اور جبرائیل نے گیٹ میں سفر جاری رکھا اور سات آسمانوں کے رات کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ تاہم یہ محمد ہی تھا کہ جس نے جبرائیل کی روح کو قبول کیا جیسے یہ اس سبق میں زیر بحث لایا جائیگا۔

طبری یہی واقعہ بتاتا ہے مگر دعویٰ کرتا ہے؛ ‘‘ دو فرشتے جبرائیل اور میکائیل اس کے پاس آئے’’۔ (۱۲) جیسے پہلے ذکر کیا گیا ہے برفبانی اسکیمو کے متعلقہ ، اندرونی اعضا کا دھویا جانا ابتداء میں تبدیلی لاتا ہے؛ نتیجتاً، روح کے سفر کرنے کی اجازت یا اور آسمان پر چڑھنا اور اُترنا۔ تجدیدی جادو، مائیکل ہارنر اس مظاہرہ کو بیان کرتا ہے: ایک عام آدمی اور ایک جادوگر شخص کے درمیان بڑا فرق یہ ہے کہ جادوگر سرگرمی سے اپنی راہنما روح استعمال کرتا ہے جب ضمیر کی ایک تبدیل شدہ حالت میں جادوگر اکثر اپنی راہنما روح کو دیکھتا اور مشورہ کرتا ہے، اس کے ساتھ جادوئی سفر کرتا ہے، جس نے اس کی مدد کی ۔۔۔۔(۱۳)

اکثر محمد نے کسی روح کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور باتیں کیں جس نے خود کو جبرائیل شناخت کروایا۔ بائبلی تعلیمات کے برعکس، نوشتوں کی متضاد بیانات میں تصدیق کی گئی ، جو کہتی ہے کہ کسی مقدس کی زندگی میں ایک یا دو دفعہ توریت اور نئے عہدنامے میں فرشتوں نے اس سے رابطہ کیا۔ جادو منتر کے برعکس زیادہ طاقتور روحوں کے ساتھ ملاقاتوں کی زیادہ تر تعداد بد روح گرفتہ شخص میں ہے۔ محمد نے بائبلی انبیاء اور مقدسین کی نسبت جادو منتر کے طریقے کی پیروی کی۔

پتھر کی پرستش اور جادو منتر

محمد نے قدیم عرب کے بڑے بُت پرست مراکز میں سے ایک میں پرورش پائی۔ اس بُت پرست پس منظر نے فطرتی طور پر بدروحی اثر کو قبول کرنے والا بنا دیا۔ محمد کے باپ کا نام چاند دیوتا اللہ کے نام پر تھا۔ اس نے اپنے باپ کے دیوتا کی پیروی جاری رکھی اس کے ساتھ ساتھ کالے پتھر (حجرہ اسود) کی بھی۔ محمد کے زمانے میں، عرب رسم ورواج کی پرستش میں لگے ہوئے تھے اور آسمانی مدد کے لیے متبرک پتھروں کو رگڑتے تھے۔ یہ جادوئی قسم کی مشق پوری دنیا کے کئی رہن سہن میں تحریری شہادت فراہم کی گئی ہے۔ ایک لمحہ کے لیے ، ایک امسِلک اسکیمو ابتداء بتائی گئی ہے۔‘‘ خُود کو ایک تنہا جگہ میں اکیلا کرنے کے لیے ۔۔۔ اور وہاں رگڑنے کے لیے اکھٹے دو پتھر جبکہ با معنی واقعہ کے انتظار کے لیے۔’’(۱۴) ایلاڈ نے بیان جاری رکھا:

پھر جھیل کا ریچھ یا گلیشئر کا جزیرہ باہر آئیگا، وہ تمہارا سارا گوشت ہڑپ کر جائیگا اور تمہیں ہڈیوں کا ایک ڈھانچہ بنا دے گا اور تُم مر جاؤ گے ۔ لیکن تم اپنا گوشت پھر حاصل کر لو گے، تم بیدار ہو گے اور تمہارے کپڑے تم پر حملہ کریں گے۔’’(۱۵)

پتھروں کو ساری گرمیاں اور حتیٰ کہ متواتر کئی گرمیوں میں پتھر رگڑنے کی شروعات عام تھی، جب تک وہ وقت نہ آجاتا جب کہ اپنی مدد گار روحوں کو حاصل کر لیتا۔۔۔’’(۱۶) بالکل اسی طرح ، نوجوان محمد نے ایسا ہی ایک کرتب اپنی خاص راہنما روح کو حاصل کرنے کے لیے کیا۔ اس کی ساری زندگی میں، اس نے چاند دیوتا کے کالے پتھر کو چُھواء اور اسکی تعظیم کی۔ بار بار محمد نے جادو منتر کے خاندان کی اُن نظام العمل کے مطابق پیروی کی۔

بدروح گرفتہ غار کی روح

ایک راہنما روح کے حصول کے لیے جادومنتر میں ایک دوسرا طریقہءکار محلِ وقوع بھی شامل ہوتا ہے۔ہارنر اسے مزید کھولتا ہے:

ایک رات کو ایک تنہا پگ ڈنڈی ہو سکتی ہے۔’’ (۱۷)

اعادہ کے طور پر، غار کو آسٹریلوی جادوگر، عمل کے ابتداء میں استعمال کرتے رہے ہیں، میلیکولا جادوگر، سمتھ ساؤنڈ اسکیمو، چلی کے ایروکینین جادوگر اور شمال امریکی اور ہندوستانی بھی۔ (۱۸) دنیا میں ہر طرف کئی دوسرے قبائل قدرشناسی کو بلانے کے لیے غاروں کو استعمال کرتے رہے ہیں۔ ہارنر مزید بیان کرتا ہے؛ شمالی امریکہ میں، اُمیدوار، پہاڑوں کی غاروں پر، یا تنہا جگہوں پر چلے جاتے ہیں اور قلبی توجہ کے ذریعے تلاش کرتے ہیں رویائیں حاصل کرنے کے لیے جو ایک جادوئی طرزِزندگی میں تنہا معلوم کی جا سکتی ہیں۔’’(۱۹)

مختلف واقعات پر، بائبلی انبیاء تنہا جگہوں پر چلے جاتے تھے، لیکن غار کے واقعات، بدروحوں کی دنیا سے درخواست کرنے اور اُن سے باتیں کرنے کے لیے جادوئی مشق میں زبردستی سے قائم رہے۔ اپنی راہنما روح سے تعلق قائم کرنے کی کوشش میں ، غاروں میں کئی دن گزارنے پر، محمد نے آخر کار اپنی پہلی وحی حاصل کر لی۔ محمد کی نوجوان بیوی عائشہ نے بیان کیا، حدیث میں یہ درج ہے:

اور پھر، گوشہ نشینی کی خواہش اسے عزیز ہو گئی۔ وہ اپنے خاندان سے ملنے اور کھانے پینے کا سامان لینے سے غارِ حرا میں کئیئ دن اور رات پرستش کے لیے اکیلا رہا کرتا تھا۔ پھر وہ (اپنی بیوی) خدیجہ سے اپنی خُوراک یعنی دوبارہ عقل لینے آتا جہاں تک کہ سچائی اس پر نازل ہوتی جبکہ وہ غارِ حرا میں ہوتا تھا۔ (۲۰)

عائشہ نے محمد کی پہلی وحی کا مشہور بیان جاری رکھا:

ایک فرشتہ اس کے پاس آیا اور اس کو پڑھنے کے لیے کہا۔ نبی نے شامل کیا: میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے مجھے (مضبوطی سے ) پکڑ لیا اور مجھے اتنی زور سے دبایا کہ میں اسے مزید برداشت نہ کر سکا۔ پھر اس نے مجھے آزاد کر دیا اور پھر مجھے پڑھنے کو کہا اور مزید میں نے جواب دیا: میں پڑھنا نہیں جانتا۔ اسی سبب سے اس نے مجھے دوبارہ پکڑا جہاں تک کہ میں اسے مزید برداشت نہ کر سکا پھر اس نے آزاد کر دیا اور دوبارہ مجھے پڑھنے کو کہا لیکن میں پھر جواب دیا: مجھے پڑھنا نہیں آتا  (یا میں کیا پڑھوں) ؟ تب اس نے مجھے تیسری مرتبہ پکڑا اور مجھے دبایا اور مجھے پھر آزاد کر دیا اور کہا : پڑھ اپنے آقا کے نام سے، جس نے انسان کو جمے ہوئے خون سے پیدا کیا۔ پڑھ اور تیرا آقا بہت فیاض ہے۔ (۹۶ : ۱ ، ۲ ، ۳ ) پھر اللہ کا رسول کانپتا ہوا واپس آگیا۔ وہ خدیجہ کے پاس آیا ۔۔۔ اور کہا: مجھے ڈھانپ دو ! مجھے ڈھانپ دو ! انہوں نے اُسے ڈھانپ دیا جہاں تک کہ اس کا خوف جاتا رہا۔(۲۱)

طبری، اسلامی مورخ، فرشتے کا محمد کو دبانے کے بارے عربی میں مستعمل دو مختلف اصطلاحات کا دعویٰ کرتا ہے۔ وہ تشریح کرتا ہے ‘‘ لفظ غُمہو (اس نے اسے تکلیف دی یا غمزدہ کردیا )’’ اور ‘‘غٹانی پچھلے بیان کا ( اس نے اُسے مضبوطی سے دبایا جہاں تک میرا تقریباً دم رک گیا )’’۔ (۲۲) طبرہ کے جدید ترجمے میں، جو لفظ انگریزی میں ترجمہ ہوا ہے’’۔ جبرائیل نے اس پر تشدد کیا’’۔ (۲۳) خُوف زدہ محمد نے فوراً اپنے آپ میں خیال کیا اُسے کسی جن (بدروح) نے گرفتار کر لیا ہے یا ممکنہ طور پر ،‘‘ کوئی شاعر یا کوئی دیوانہ ’’۔ (۲۴) محمد ایسے واقعات کے بعد بڑا خوف زدہ ہو گیا کہ اس نے اکثر کسی پہاڑ یا چٹان سے کود کر خُود کشی کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، رُوحی ہستی ہمیشہ اُسے روکنے کے لیے بیچ میں آ جاتی۔

وہ تشدد جس نے شروع میں اُسے ایذا دی ، جادوئی تجربہ میں بار بار رونما ہوا۔ جنوبی امریکہ کے جودوگروں کے درمیان ‘‘ ایک روح پُسو کا، اُمیدواروں پر ایک جنگ جُو کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔ آقا (روحی ہستی ) فوراً شاگرد کو ضرب لگانا شروع کرتی ہے یعنی (جادوئی اُمیدوار کو ) یہاں تک کہ وہ بے ہوش ہو کر زمین پر گِر جاتا ہے۔ جب وہ دوبارہ ہوش میں آتا ہے تو وہ مکمل طور پر درد ہوتا ہے۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ رُوح نے اس کو آسیب کر لیا ہے’’۔ (۲۵)

آخر کار، خواہ فوراً یا کُچھ دیر بعد، وہ روحیں جو کسی بھی عملی فن کی ہوں آخر کار خُود کو پر تشدد انداز میں ظاہر یا واضح کرتی ہیں۔ محمد کو اپنی راہنما روح کے ذریعے نمایاں طور پر اس بدعتی عقیدے کا تجربہ ہوا۔

روح کے ساتھ ایسے صدمے والے مقابلوں کے بعد فوراً محمد تسلی اور تسکین کی تلاش کرتا رہا اپنی بیوی خدیجہ سے۔ وہ اُسکی عمر میں بڑی کزن تھی اور اُسے بطور ایک سفر سیلزمین کرائے پر لیا اور مال فروخت کرنے کی صلاحتیوں سے متاثر تھی ۔ خدیجہ نے جب شادی کے لیے محمد کو مشورہ دیا تو وہ چالیس سال کی تھی اور محمد پچیس سال کی عمر کا تھا۔ جب محمد اپنے خُوف زدہ غار کے تجربے سے واپس آیا تو اُسے اُسکو کمبلوں سے ڈھانپنا پڑا، ایسے ہی جیسے کسی مریض کو جھٹکے کی علامتیں ہوتی ہیں۔ بائبل کے لحاظ سے اِسکو دیکھتے ہوئے، اگر غار کے اندر روح واقعی جبرائیل کی فطرت کو ظاہر کرتی ہے تو اُسے مخافظت کی ضمانت ہونی چاہیے تھی اور محمد کو تسلی ہونی چاہیے تھی، جیسے بائبل مقدس میں واضحِ طور پر ہے۔ (۲۶) دلچسپ بات کے طور پر، اسلامی ذرائع قبول کرتے ہیں کہ محمد نہیں جانتا تھا کہ غار میں کونسی روح تھی۔ یہ تین سال تک نہیں کہ محمد بعد میں جبرائیل فرشتے کے برابر اسکو روح سمجھتا رہا۔

دانی ایل نبی پر ظاہر ہونے والی جبرائیل کی شکل محمد کے تجربے سے اُلٹ موازنہ کرتی ہے: ‘‘اور میں نے اولائی میں سے آدمی کی آواز سُنی جس نے بلند آواز سے کہا کہ اے جبرائیل اس شخص کو اس رویا کے معنی سمجھا دے۔ چنانچہ وہ جہاں میں کھڑا تھا نزدیک آیا اور اس کے آنے سے میں ڈر گیا اور منُہ کے بل گِرا اس نے مجھ سے کہا اے آدم ذاد سمجھ لے کہ یہ رویا آخری زمانے کی بابت ہے۔ اور جب وہ مجھ سے باتیں کر رہا تھا میں گہری نیند میں منہ کے بل زمین پر پڑا تھا لیکن اس نے مجھے پکڑ کر سیدھا کھڑا کیا ( ۸: ۱۶۔۱۸) جبرائیل نے یسوع کی ماں مریم سے بھی ملاقات کی۔ مریم بڑی ڈر گئی اور حیران رہ گئی کہ کسی قِسم کا پیغام دینے والا یا شخصیت اُس کے سامنے ظاہر ہوئی ہے جبرائیل نے واضح طور پر کہا، ‘‘ نہ ڈر تجھ پر خُدا کا فضل ہوا ہے۔ (لوقا  ۱ : ۳۰ ) اسی طرح وہ زکریاہ پر جو یوحنا اصطباغی کا باپ تھا اس پر بھی ظاہر ہوا۔ ( یونانی میں بپتسمہ دینے وال نہ کہ بیپٹسٹ مشن ) ر مت، زکریاہ ، کیونکہ تیری دُعا سُن لی گئی ہے۔’’ (لوقا ۱ : ۱۳ )

بائبل کی تمام عبادات میں جبرائیل ، یہواہ کا پیغام رساں، فوراً خوف کم کرتا ہے اور پھر اطمینان دیتا ہے۔ واضح طور پر، غار میں، خیالی صورت جس نے تشدد سے محمد پر حملہ کیا اُسے بڑے خوف میں چھوڑ دیا اور حقیقی جبرائیل کی طرح انداز نہ تھا۔ محمد مکمل طور پر اس مکار ہستی کے ساتھ بہادرانہ مقابلہ کرنے سے صدمے میں تھا۔

اِس روح نے جبرائیل فرشتہ ہونے کا بہانہ کیا حالنکہ حقیقت میں وہ محمد کی ذاتی راہنما روح تھی اس شیطانی شرمناک حرکت نے بُت پرستی کی رسوم میں سرسری طور پر دِل بہلاتے ہوئے جادو کردیا جادوگری میں مرگی کے دورے:

محمد نے اکثر مرگی کی بیماریوں کا تجربہ کیا۔ جس کے سبب سے وہ ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جاتا اس علامات میں مندرجہ ذیل ہیں: زمین پر گِر پڑنا، شدید دردیں، کثرت سے پسینہ آنا کانپنا اور تھر تھرانا، اضطرابی، چہرے کا سُرخ ہو جانا اور بے خُودی کی طاقت میں گِر جانا۔ حدیث کے ایک بیان کے مطابق: ‘‘ اُسکو اتنا پسینہ آرہا تھا کہ پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح گِر رہے تھے حالنکہ وہ ایک ( ٹھنڈا ) سردیوں کا دن تھا ۔’’ (۲۷) بعض اوقات اُسکو وحی ایک آدمی یا کسی خواب کی صورت میں آتی۔ (۲۸) کوئی مِد مقابل ہونا ہو سکتا ہے ووگل سے ظاہر ہو۔ ‘‘ مستقبل کا جادوگر اُٹھتی جوانی کی خصوصیات ظاہر کرتا ہے؛ وہ واضح طور پر بے چین ہو جاتا اور بعض اوقات مرگی کی بیماریوں میں مغلوب ہو جاتا ہے، جن کی تشریح دیوتاؤں کے ساتھ ملاقاتیں تشریح کی جاتی ہیں ؛ (۲۹) شمالی امریکہ میں، ‘‘ ٹِلنگٹ کے دوران، اُمیدوار جادوگر کی آسیبی ایک بے خُودی سے ظاہر ہوتی ہے جو اُسکو سجدہ ریز کر دیتی ہے ۔’’(۳۰)

بائبل میں کُچھ واقعات جو انبیاء کے بے خودی میں گرنے یا گہری نیند میں گرنے کی طرف اشارہ ہیں؛ تاہم، اُنکے مزاج، کسی بدروح کی آسیبی اثر کے تحت پاگل آدمی کے نامناسب دیوانہ رویہ کو منعکس نہیں کرتے۔ محمد نے بے خود کی ایک بدعتی شکل کا تجربہ کیا ۔خیالی صورت کے ساتھ اُسکے سارے مقابلے کسی مستقبل کے جادو گر کے شروع ہونے کے انداز بالکل ملتے تھے اور اسکے آشنا روحی راہنمائی سے ملتے تھے۔

ایک جوان لڑکے سے لے کر محمد کو عرب کی بُت پرستی رسوم کی زبانی تعلیم دی گئی، مزید یہ کہ قدیم بابلی نجومی رسوم بنیاد تھی۔ محمد ایک ان پڑھ آدمی تھا ۔ اسی سبب سے وہ پاک نوشتہ خُود پڑھنے کے قابل نہ تھا جو اس کے وقت اور جگہ کے دوران دستیاب تھے ۔محمد نے پھیری لگانے والوں کے ذریعے مشہور کی گئی تشریحات اور قصے زبانی سُنائے جو مختلف بدعتوں اور مذاہب کے تھے۔ معاری روحیت کے لیے غیر معقول پتھری خیالات سے محمد کی زندگی میں ناقابلِ تردید طور پر بدعتی تعلق ظاہر ہوا۔

محمد کا جادو کا استعمال

اسلامی تاریخ میں جادو اور توہم پرستی پر ایمان اور عمل حتیٰ کہ آج تک رائج ہے۔ چند ممنوعات کی بجائے، قرآن ۲ : ۱۰۲ اور حدیث سے کُچھ بیانات کے باوجود محمد کی طرف سے جادو کی قانونی شکلیں ابھی تک اجازت ہے۔ قرآن سے بہت سے اقتباسات بطور جودو، سحر، افسون یا جادو منتر استعمال ہوئے۔ محمد نے سورہ الفاتحہ میں ایک جادو کی ابتداء پر توجہ دی ۔ (۳۱) بطور ایک ٹونہ بچھوؤں اور سانپوں کے کاٹنے سے زہریلی چیزوں کے علاج کے لیے، نبی نے اپنے حواریوں کو سورہ الفاتحہ کو استعمال کرنے کی اجازت دی۔ (۳۲) حتیٰ کہ اس نے اُن لوگوں سے پیسے لینے کی بھی اجازت دی جن کا وہ علاج کرتے۔ محمد نے اُن کو حکم دیا کہ جب وہ اُسے سابقہ غزوات کے لوٹ کے مال سے اُسے حصہ دیں۔ کوئی تحریری شہادت نہیں ملتیکہ کسی کا حقیقتاً علاج ہوا ہو۔ محمد ایک انتہائی وہمی حالت میں گرفتار ہو گیا؛ وہ غیر اقوامی عربی رسومات میں پکڑا گیا جو اس کی پوری زندگی برقرار رہا۔ اس نے بیان کیا، ‘‘ بُری نظر کا اثر ایک حقیقت ہے۔’’(۳۳) اگر کسی بُری نظر کا ڈر ہے ، تو اسے اپنے حواریوں کو چھو منتر استعمال کرنے کا حکم دینا چاہیے ۔ (۳۴) ایک دن نبی نے ایک لڑکی کو دیکھا جس کے چہرے پر کالے دھبے تھے اور کہا، ‘‘ وہ کسی بُری نظر کے زیر اثر ہے ، پس جادو ٹونے سے اس کا علاج کرو۔’’(۳۵)  مزید برآں، اس نے اعلان کیا ‘‘ ایک بڑا شگون ہو سکتا ہے تین میں ہو، کسی عورت، کسی گھوڑے یا کسی جانور میں ۔’’ (۳۶) نبی جادو سے خوف زدہ تھا۔ جادو کے حفاظت کے لیے دُعا، قرآن ۱۱۳ : ۴ ، محمد نے ھسبِ معمول استعمال کی ۔ اس آیت کے متعلقہ اس کے اپنے حاشیے میں پکتھل اس قسم کے جادو کو بیان کرتا ہے:بُرائی کو پھونکنے والی ( عورتوں ) سے جو گرہوں پر ہوتی ہے خبردار رہو، یہ عورتوں کے لیے عرب میں جادو کی ایک شکل بنی رہی کہ وہ کسی رسی میں گِرہ لگائیں اور کسی لعنت کے ساتھ اُن پر پھونکیں۔ ’’ (۳۷)

اس کی ایک خطرناک بیماری کے وقت نبی نے معاویدات کی تلاوت کی ۔ قرآن ۱۱۳ الفاتحہ اور ۱۱۴ نساء کا میل تھا۔ تلاوت کرتے ہوئے اس نے اپنے ہاتھ پھیلائے اور اپنے جِسم پر پھونکا۔ (۳۸) اگر کسی شخص کو بُرا خواب آئے اور وہ اُٹھ کھڑا ہو اپنے بائیں طرف تین دفعہ پھونکنے اور اللہ سے اُس بُرائی کی پناہ مانگے۔ (۳۹) عجیب طرح سے محمد نے انصاری خاندانوں میں سے ایک کو آدمیوں کا علاج کرنے کی اجازت دی جو قید میں تھے اور اُنکو بھی ‘‘ جادو سے کانوں کی درد میں مبتلا تھے ۔’’ (۴۰) نبی نے کہا : ‘‘ وہ جو ہر صُبح کھجور کی سات ٹکیاں کھا تاہے اُس دِن اس شخص پر زہر یا جادو اثر نہیں کریگا۔’’ (۴۱)

محمد نے ایک دفعہ یقین کیا کہ لا بدنامی ایک شخص نے اس پر جادو کر دیا؛ عائشہ اُسکی بیوی نے بیان کیا ، ‘‘ جادو نے رسول اللہ پر کام کیا اس طرح وہ سوچا کرتا تھا کہ اس نے اپنی بیویوں کے ساتھ جنسی تعلقات رکھے تھے جبکہ حقیقتاً نہیں تھے۔’’ (۴۲)

نبی نے کہا، ‘‘ کُچھ بڑے بول بولنے والی تقاریر جادو کی طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔’’ (۴۳ ) پھر اس نے شیخی بگھاری، ‘‘ کہ مجھے جادوئی بیان کی تقریر کی کُنجیاں دی گئیں۔’’ (۴۴) احادیث سے بہت سے ثبوت یہ ظاہر کرتے ہیں کہ محمد جادو سے خوف زدہ تھا لیکن اس نے اپنی طرح سے جادو اور منتر کی ترکیب نکالی ۔ ایک دفعہ پھر، محمد نے جادو گروں کی ساحروں کی اور شگون نکالنے والوں کی پیروی کی ۔ جادو اور منتر کی مذمت کرتے ہوئے یہودی پاک توریت کے انبیاء کی بائبلی رائے ہے، جو کہ یہوا کے الہام کے تحت لکھی گئی ۔ یہواہ کے انبیاء نے اسرائیلی نسلوں کو جادوگری، ٹونے، علمِ نجوم اور شیطانی جادو کے خلاف حکم اور نصیحت کی، جو کہ آج کبلا اور زہر کی تحریرات میں ملتی ہے۔ موسیٰ نے کبھی بھی ایسے ممنوع جادو نہ کئے؛ جو کہ توریت کے الٹ ہوں اُن کاموں کی یہواہ نے سختی سے منع کیا ہے کہ جو جادوگری کے کام کرے اور اُنکی نصیحت کرتے اُسے سنگسار کیا جائے۔ جادوگری اور اُس کے جوڑْ حصے اسرائیل کے یہواہ خُدا کے لیے مکروہ تھے جس نے اسرائیلی ، برگزیدہ قوم میں سے روحانی حرامکاری کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔

محمد کا علم الاعداد اور وہم پرستی

محمد طاق اعداد اور دہنی طرف کا بڑا قائل تھا۔ زندگی کا ہر پہلوان معیاروں سے باقاعدہ کیا جاتا تھا۔ جب کوئی اپنے پوشیدہ اعضاء  کو پتھروں سے دھوتے تو طاق اعداد استعمال کرے۔ (۴۵) کسی لاش کو تیار کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اِسے طاق عدد کے تحت غسل دیا جائے جبکہ عدد تین ، پانچ اور سات بولے جائیں ؛ تو یہ سب دائیں طرف سے کیا جائے۔ (۴۶) آیت کے ذریعے قرآن پر محمد کی انگلیوں کے نشانات ثبوت ہیں: ‘‘ سویرے سویرے اور دس راتوں سے اور جُفت اور طاق ’’(قرآن ۸۹ : ۱۔۳ ) احادیث کا دعویٰ ہے کہ نبی کھجوروں کی طاق تعداد کھایا کرتا تھا۔ (۴۷)

دوبارہ دہنی طرف کا وہم کا غلبہ غیر اقوام کی رسومات میں بڑی تعداد میں نمایاں ہے جبکہ کسی مسجد میں داخل ہوتے ہوئے ، دائیں پاؤں سے شروع کریں۔ ‘‘ نبی نے ہر شے دائیں سے شروع کرتا تھا ۔(اچھی چیزوں کے لیے ) جب کبھی یہ ممکن ہوتا تمام معاملات میں ، مثلاً وضو، کنگھی کرنا یا جوتے پہننا ’’۔ (۴۸) محمد کے کھانوں میں سے ایک بیان اُسکی توہم پرستی کا واضح بیان ہے: ‘‘ دودھ میں پانی ملا ہوا محمد کے پاس لایا گیا جبکہ ایک بُدو آپ کے دائیں جانب تھا اور ابوبکر آپ کے بائیں طرف اُس نے اُس میں سے تھوڑا سا پیا اور پھر بُدو کو دے دیا اور کہا: دایاں ، درست (پہلے)۔’’ (۴۹) ایک دوسرے واقع میں بیان کیا گیا : ‘‘ پس اللہ کے رُسول نے مجھ سے کہا : اے لڑکے ! اللہ کا ذکر کر اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ۔’’ (۵۰) اسی طرح کوئی غسل خانے کا کام دائیں ہاتھ سے نہیں کیا جا سکتا۔ (۵۱) اگر کوئی مسلمان چوری میں پکڑا جائے تو اس کا دہنا ہاتھ اس کے بازو سے کاٹا جائے جیسا کہ اسلامی شریعت میں ہے ۔ دہنا ہاتھ کاٹنے سے مسلمان کی ہتک ہوتی ہے۔ سخت اسلامی قانون کا تقاضا ہے کہ کوئی کھائے اور کوئی اپنے روزمرہ کے اکثر کام کرے جیسے محمد نے بیان کیا، دائیں ہاتھ سے کرے۔ وہ فرد اسلامی کمیونٹی سے ایک معاشرتی آوارہ بن جائیگا۔ محمد کی وحیوں کے آغاز سے اسلامی شریعت روایات پر بنی جس نے نئے عہد نامے کی فضل کی تعلیم کی مخالففت کی پس نجات ان کے نیکیوں کے تصورات کی بنیاد پر ہے اور قرآن اور احادیث میں کلیہ شدہ انسان کی بنائی روایات کے غریبوں کو خیرات دینے میں ہے(قرآن ۱۲ : ۶۷ ۔ ۶۸ )میں ایک دوسری توہم پرستی ظاہر ہوتی ہے : ‘‘ ایک دروازے سے نہ جاؤ، مختلف پھاٹکوں سے جاؤ۔۔۔ پکتھل اس عبارت کا یوں تبصرہ کرتا ہے: مشرق میں ایک غالب وہم یہ ہے کہ ایک بڑے خاندان کے ارکان سارے اکٹھے ظاہر نہ ہوں، کیونکہ بد قسمتی کا خطرہ ہے جو کہ دوسرے دلوں میں حسد سے آتی ہے۔ ’’ (۵۲)

بائبل مقدس آدمی کی فضول روایات اور توہم پرستی کو واضح طور پر رد کرتی ہے۔ مسلمان خارجی معمولی معاملات پر شدید طور پر زور دیتے ہیں جن کو یسوع مسیح نے مکمل طور پر رد کیا ہے۔ یسوع نے اپنے شاگردوں کو ایسے ذرہ سے خمیر (گناہوں) سے خبر دار رہنے کو کہا ہے جیسے آدمی کی بنبائی ہوئی روایات کی خارجی اشکال جو تالمود کی بنیادوں سے عمل میں لائی جاتی اور سکھائی جاتی جس پر فریسی پابند ہوتے اور بلاواسطہ صدوقی اثر اندازہوتے یسوع نے کہا : ‘‘ کیونکہ خُدا کے احکام کو ایک طرف رکھتے ہوئے تم انسانی روایات کو پکڑ ئے ہو ، جیسے رکابیوں اور پیالوں کو دھوتا اور کئی دوسری ایسی اشیاء جو کی جاتی ہیں (مرقس ۷ : ۸ ) محمد نے واضح طور پر کئی عربی اور یہودی روایات کو لیا جو کہ اسے غیر اقوامی ثقافت میں غالب تھی تاہم ، یسوع مسیح نے جیسے بطور ایک خُدا (خُدا کا بیٹا ) اور بطور ایک یہودی مرد ( ابنِ آدم ) نے آدمیوں کی اِن فضول روایات کا اعلان کیا جو خُدا سے غیر متعلقہ اور بے معنی ہیں۔ یسوع ہر ایک انسان کے دل پر نظر کرتا ہے۔ اس نے بیان کیا کہ کوئی باہر سے یا ظاہر طور پر پاک ظاہر ہو سکتا ہے، لیکن اندرونی طور پر ناپاک رہتا تھا ۔ اس لیے ایک پاک دِل نے صرف قابلِ قبول نذریں ہی پیدا کیں ، نہ کہ روایات کی خارجی طور طریقہ۔

شفائیہ غلطیاں

اگر محمد کو ایک بائبلی نبی فرض کر لیا جائے کہ کیوں شفائیہ نصیحت دی گئی جو قابلِ تعریف نہیں ہے؟ احادیث سے ایک بیان میں واضح ہے ۔ ‘‘ کُچھ لوگوں کے لیے مدینہ کی آبوہوا مناسب نہیں رہی، پس لوگوں نے اُن کو اپنے پیچھے آنے کا حکم دیا۔۔۔۔ اس کے اُونٹ اور اُن بچوں نے دودھ پیا اور ان کا پیشاب پینے اور وہ تو ان کا دودھ ۔۔۔۔۔ ہے۔’’(۵۳)

ایک با اصول آدمی سے سوال پوچھا گیا جو اس مندرجہ بالا کو شامل کرتا ہے؛ کوئی بھی مسلمان اس بے معنی غیر سائنسی نسخہ کو مانے گا ؟

ایک دفعہ محمد نے ایک شخص کو پیش کیا اُس کا طبی علاج کرنے کے لیے تاکہ اس کا خُون لیا جائے۔ (۵۴) خُود ساختہ نبی نے کسی آدمی کو کہا کہ شہد کھا لے وہ آدمی انتڑیوں کی خرابی میں مبتلا تھا؛ اس نے غریب آدمی کی حالت بدتر بنا دی۔ محمد نے صرف اُلٹ جواب دیا، ‘‘ آپ کے بھائی کی ایبڑومن نے جھوٹ بولا تھا۔’’ (۵۵) ایک دوسرے موقع پر اس ( محمد ) نے گلے کے غدود کے ورم کے علاج کے لیے ہندی دھونی دی۔(۵۶)

نمایاں طور پر ، محمد شفا دینے والا نہ تھا؛ پھر اس نے غیر اقوام کے توہمات میں ڈوبا ہوا جھوٹا نبی ثابت ہوا۔ حتیٰ کہ شفا کے لیے قدرتی طریقے استعمال کرتے ہوئے، وہ ایک بد قسمت ناکام شخص تھا۔ اسی طرح ، طبی سائنس، مجموعی طور پر اِن عملوں کی گہرائی دریافت کرنے کے لیے ؛ اِن طریقوں کو بطور فضول رد کر دیا۔ محمد نے خود کو امراض کے علاج کے لیے فن میں ایک نیم حکیم ظاہر کیا۔

غیر سائنسی بیانات

 ایک دفعہ نبی محمد نے کہا : ‘‘ یہ وجہ کہ بیٹا اپنی ماں سے مشابہت کیوں رکھتا ہے براہِراست اس حقیقت سے واقع ہوتا ہے اُس نے پسینے میں بھیگا ہوا خواب دیکھا تھا ۔( رات کو خارج ہوتا ) ۔(۵۷) اسی طرح ؛ اس نے دعویٰ کیا: ‘‘ جیسا کہ ایک بچہ ، اگر آدمی کا اخراج ِ عمل میں پہلے ہوتا ہے بہ نسبت عورت کے اخراج کے تو بچہ مرد سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے اور اگر عورت کا اخراج مرد سے پہلے ہو جاتا ہے تو پھر بچہ کی مشابہت عورت کی طرف زیادہ ہوتی ہے۔’’ (۵۸) نبی محمد نے ذکر کیا کہ اللہ چھینکیں مارنے کو محبت کرتا ہے، لیکن جمائیاں لینے سے نفرت کرتا ہے جو شیطان سے آتی ہے۔ ( ۵۹)

ایک سچا بائبلی نبی کبھی بھی ایسی بے معنی باتیں نہیں کہے جیسا کہ پچھلے پیراگراف میں ذکر ہوا ہے ۔ ایک روایت بیان کرتی ہے کہ کھانا کیسے اللہ کوعزت دیتا ہے جیسا محمد نے اسے استعمال کیا۔ (۶۰) اس طرح کی ایسی نامعقول بیانات محمد کی فطرت کی ذلت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ حدیث میں تحریر شدہ، یہ نا معقول باتیں بیان کی گئی ہیں:

جب جمعہ تھا نبی اُس منبر پر بیٹھا تھا۔ کجھور کاتنا جیسے نبی غالباً اپنے خظبات بیان کرنے کے لیے استعمال کیا کرتا تھا اتنا چیخا کہ جیسے کوئی چیز پھٹ گئی ہو ۔ نبی نیچے آیا اور اُسے گلے لگایا اور بچے کی طرف رونا شروع کر دیا چیخنے سے بعض رکھنے کے لیے اور پھر اس نے چلانا بند کر دیا۔

 یہ واقعات عربی کہانیاں اور قصوں سے بہت زیادہ مشابہت رکھنے کے لیے ظاہر ہوتے ہیں جو بائبلی معجزات سے مختلف ہیں۔ بائبل تمثیل عبارات استعمال کرتی ہے ؛ مندرجہ بالا بیان جو حدیث میں ہے اسلامی روایات کے مطابق لغوی معنوں میں لیا گیا ، اسی وجہ سے مظاہر پرستی کی شکل کی عکاسی ہے۔ خواہ کوئی بائبل مقدس پر ایمان رکھنے کا فیصلہ کرتا ہے یا جھوٹی کہانیوں اور اسلامی فرضی قصوں پر جو محمد نے ایجاد کیے، ایک موقع ہونا ضرور ہے جو کسی فرد نے بنایا ہو۔ محمد کے قرآن میں بے شمار ایسی جگہیں ہیں یہاں آدمی اور واقعات تناخ کے سلسلے سے باہر متقی ہے اور وسیع طور پر تاریخ کو مانا ہے ۔ اس کے برعکس، آثارِ قدیمہ نے حالیہ سالوں میں بائبل مقدس کو عزت دی ہے اور سائنسی ثبوت کا انبار لگایا ہے کہ یہودی الہام درست ہے بمقابلہ اعلیٰ تر نام نہاد تنقیدی سائنس کے۔

قرآن کے حوالے میں مسلمان بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص کو عربی جاننا ضروری ہے اس متن کو سمجھنے کے لیے اور بحث طلب معاملات سے کنارہ کشی کرنے کے لیے کسی بھی ترجمے وہ تھوڑا یقین کرتے ہیں؛ نقطہ سے ٹال مٹول کرتے ہوئے نقطہ بار بار دہرایا جاتا ہے ، وہ اکیلے ہی اپنی الگ  تشریح رکھتے ہیں ان کا یہ طریقہ کار آمنے سامنے سے بچاؤ کے لیے ہمیشہ سے رہا ہے۔ عربی بہانوں اور دعووں سے بھاگنے کے لیے اور یہ دعویٰ کرنا اسی کے اکیلے معنی ہیں کہ صرف اسی کے حقیقی معنی ہیں اور یہ کہ باقی تمام تراجم غلط ہیں ۔ حتیٰ کہ اگر عربی لغات کو بھی ان کو غلط ثابت کرنے کے لیے استعمال کی جائے، تو وہ دعویٰ کریں گے کہ یہ لغات ادھوری ہیں ۔ ایسی ریاکاریاں کسی بھی مخالفت یا قرآن کی تنقید کے متعلقہ سچائی سے کنارہ کشی کرنے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ گم نامی کے سائے میں چھُپتے ہوئے مسلمانوں کا طریقہ کار ، قرآن میں پائی جانے والی جھوٹی تعلیم اور غلطیوں کے متعلقہ کئی تمسخرانہ دعووں کو سہارا دیتے ہیں اور تردید کی بنیاد پر حقائق سے وہ بچتے ہیں ۔ مسلمان یہودی مسیحی بائبل مقدس پر بار بار حملے کرتے ہیں لیکن وہ کسی بھی ثبوت کی مخالفت کرتے ہیں جو قرآن کو غلط ثابت کرتا ہے اُن لوگوں کو قتل کرکے جو اس کے اختیار اور متن کی درستگی پر سوال کرنے کی جرات کرتے ہیں۔

محمد ایک ان پڑھ شخص تھا اور ایک خاص روح کے زیر اثر اُس نے زبانی طور پر ایک ایسی کتاب تفصیل سے پیش کی جو کہ منطقی اور سائنسی شواہد کے مطابق متضاد باتیں رکھتی ہے۔محمد محض ایک ان پڑھ آدمی تھا نہ ہی وہ کوئی لائق شخص تھا اور نہ ہی اُس کے اندر کوئی غیر معمولی خوبیا تھیں جو اُس کو روحانی طور پر کوئی برتری دیتی۔

بعدازاں ، اپنی شامیتی ملاقات میں اُس نے معجزانہ طور پر اپنی قیادت اور کرشمے کا مظاہرہ کیا۔محمد کِس خصوصیات کا مالک تھا؟ کِس بات نے اُسے عام بدو سے ایک بڑے لیڈر کے طور پہ آدمیوں میں بدل دیا ۔یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اُس کی روح ایک مددگار روح نہیں تھی جیسا کہ بائبل روح القدس کے بارے بتاتی ہے۔

محمد نے بہت سارے غلط بیان دیئے ہیں بائبل مقدس واضح طور پر سچے اور جھوٹے نبی کے درمیان فرق بتاتی ہے:

‘‘لیکن جو نبی گستاخ بن کر کوئی ایسی بات میرے نام سے کہے جس کے کہنے کا میں نے اُسکو حکم نہیں دیا یا اور معبودوں کے نام سے کُچھ کہے تو وہ نبی قتل کیا جائے اور اگر تو اپنے دل میں کہے کہ جو بات خُداوند نے نہیں کہی ہے اُسے ہم کیونکہ مہچانیں؟ تو پہچان یہ ہے کہ جب وہ نبی خُداوند کے نام سے کُچھ کہے اور اُس کے کہے کے مطابق کُچھ واقع یا پورا نہ ہو تو وہ بات خُداوند کی کہی ہوئی نہیں بلکہ نبی نے وہ بات خُود گستاخ  بن کر کہی ہے تو اُس سے خُوف نہ کرنا (استثنا ۱۸ : ۲۰۔ ۲۲)

صحیفوں کی تعلیمات کے مطابق محمد کو ایک جھوٹا نبی ہونا چاہیے اُس نے پاک توریت کی مخالفت کی اور اپنی شامانی عقائد کو اُبھارا۔

محمد کی تعلیمات سے پہلے اِس قِسم کی تعلیم پہلے ہی ترقی کر رہی تھی یونانی لوگوں نے پہلے ہی اُس کی نام نہاد وحی کی تحقیق سے پہلے اِس قسم کے کام کہے تھے اِس نے محض اُن اُلٹے سیدھے حقائق کو نشوونما دی اور اِن کو قرآن میں ڈال دیا۔ محمد کی ایک بچے کے بارے میں تعلیمات جو اُس کی ماں یا باپ کے حوالے سے ہے فرسودہ اور غیر سائنسی ہے۔ قرآن کی بہت ساری تعلیمات نام نہاد سائنسی مواد اور غلط یا گمراہ کرنے والی ہیں۔

مختلف قِسم کی بے ترتیب تاریخی اور سائنسی سچائیاں منطقی شک سے بہت پرے محمد کی جُھوٹی فطرت اور اسلامی ایمان کی جھوٹی فطرت کو پیش کرتی ہیں۔ ڈاکٹر رابرٹ مورے نے لِکھا ہے اور دعویٰ کیا ہےکہ سائنسی اعتبار سے قرآن کا مسترد ہونا متضاد ہے ۔ قرآن کی کوئی بھی سند نئے سائنسی حقائق کے ساتھ مستعند نہیں ہے۔

کوئی بھی شخص محمد کی وحیوں کے بارے میں کیا کہہ سکتا ہے۔چاند دیوتا اللہ کے نام سے مخاطب ہوتے ہوئے، اُس نے جُھوٹ کو بیان کیا ہے اور تقریباً دنیا کے پانچویں حصے کی آبادی کو اپنی حیوانی مشقوں سے دھو کر دیا ہے۔منطقی عدم موجودگی کی وجہ سے اس مسلم آبادی نے اندھے ایمان کے سبب سے اور انسانی روایات کے سبب سے اِس تعلیم کی بنیاد رکھی ہے ۔ وہ جھوٹے نبی محمد کی تیار کی ہوئی تعلیمات کو جو کہ شیطان اور اُس کے گرائے ہوئے فرشتوں کے لیے تیار کی گئی ہے کی پیروی کر رہے ہیں۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حصہ چہارم قرآن

باب ہفتم

کیا قرآن خُدا کا کلام ہے؟

بائبل کے لیے محمد کا خیال

اگرچہ محمد افسون گری سے پیسے کماتا تھا پھر بھی اُس نے مسیحیوں کے بارے شکایت کی کہ وہ بائبل کو بیچ کر پیسے کماتے ہیں۔ اُس کو بائبل کی جلد کے بارے خدشات تھے اپنے دور میں اُن مسیحیوں کے ساتھ جن کو وہ بائبل کے نام نہاد تاجر کہتا تھا اُن کے ساتھ اُس کو اختلاف تھا ۔محمد نے لوگوں میں اِس بات کا اعلان کیا کہ بائبل میں ابہام ہے۔پوری بائبل کی نقل اُس کا حدف تھا اور اُس نے اپنے وقت میں اِس کے پیراؤں میں اپنی مرضی سے تبدیلیاں کیں اور اِس کے لیے راہئبوں کو مینوں بلکہ سال سے زیادہ ایک جلد لینے کے لیے لگ جاتا۔محمد کی عقیدوں کے بارے میں رائے تھی کہ یہ محض رواتیں ہیں اور اِس کی تھوڑی سی عزت ہونی چاہیے خاص طور پہ توریت کے حوالے سے یہودی طوماروں کے بارے میں اُس نے اغلاط کی نشاندہی کی دریائے مردار کے طوماروں نے ان صحائف کی سچائی کو پیش کیا اور بیان کیا کہ اِن صحفیوں کی کِس قدر ماضی میں اور یہاں تک کہ موجودہ زمانے میں بھی عزت کی جاتی ہے یہواہ پاک خُدا کی توریت قرآن سے ۸۰۰ سال پہلے یا ممکن طور پر اس سے بھی پہلے لِکھی گئی۔ واضھ طور پہ درائے مُردار کے طومار اِس توریت کی سند کو پیش کرتے ہیں اور موسیٰ کی توریت کی تالیف کو بھی پیش کرتے ہیں اور یہ تالیف اُن مولفین سے ہوئی جو دریائے مردار کے طوماروں کی حقیقت اور توریت کی حفاظت کو جانتے تھے جو عبرانی کی میگنا کاٹا کے بڑے سیاق و سباق پر مبنی ہے اور جِس کو موسیٰ کے پیروکاروں نے استعمال کیا اِس موسوی سیاق و سباق کو یہودی لوگوں نے قبول کیا۔ اس بات پر غور کیا جانا چاہیے کہ صرف اختلاف رائے کو موسوی لوگوں نے بطور واول استعمال کیا اور سیاق و سباق کو بطور صوتی اثر کے اس کی نشاندہی کی۔

محمد نے دعویٰ کیا اور پاک توریت کے حقیقی تدراک کو زبانی ۔۔۔ غلط کہہ کر بُرا اثر ڈالا کیا یہواہ خُدا جِس نے داؤد بادشاہ سے اپنی الہویت کا اعلان کروایا ایک ایسے شخص کو نبی کہے گا جس نے اپنے دور میں صحیفوں کی مذاحمت کی؟ یسوع نے فرمایا کہ شریعت کا ایک بھی نکتہ یا شوشہ نہیں بدلے گا۔ واضح طور پر، محمد نے خُدا کے وعدوں پر مشتمل کلام کو ایک نسل سے لے کر آنے والی نسلوں تک رد کیا اِس کی بجائے محمد نے فیصلہ کیا کہ وہ خُداوند کو جھوٹا کہے اور خُدا کے صحیفوں کو بے ترتیب کر کے یہ بیان محمد کی حقیقی فطرت کو ظاہر کرتی ہے اور اس بات کو بھی کہ وہ خُدا کے کلام کی بے عزتی کرتا ہے۔ نتیجہ کے طور پر، محمد کے مطابق ، کہ کسی بھی نسل نے پاک توریت یا کلام کو محفوظ نہیں کیا جب تک کہ اُس کو محمد نے قرآن میں محفوظ نہیں کیا۔ اُس نے یہواہ پاک خُدا کی بے عزتی کی ہے۔ محمد نے ایک جھوٹے مذہب اور ایک جھوٹی کتاب یعنی قرآن کو تخلیق کیا وہ کتاب جِس نے صحیفوں کے مطالحہ میں مخالفت پیدا کی۔ اس بات نے محمد کو جھوٹا نبی بنایا کیونکہ اس نے یہواہ کے مکاشفات پر حملہ کیا۔

قرآن کی تالیف

صدیوں کے دوران اور اکسیویں صدی کی ترقی میں، مسلمان قرآن کی اصلیت کے بارے میں عجیب دعویٰ کرتے ہیں۔ کِسی بھی دوسری قابلِ ذکر تاریخی شہادت کے باوجود، یہ عقائد تقریباً تیرہ سو سالوں کے لیے نافز کر دیئے گئے۔ جدید سیاق و سباق کے مطالعہ سے اب یہ موجیں واپس جا چُکی ہیں کہ قرآن کے ارد گرد کے سارے عقائد جو اس کی ابتداء کے بارے میں ہیں وہ ختم کیے جائیں گے۔

مسلمانوں کا نظریہ

ایک مقبول ترین مسلمان نظریہ کے مطابق، قرآن جنت میں ‘‘محفوظ کی ہوئی لوحوں’’ سے لیا گیا ہے۔(قرآن ۸۵ : ۲۲ ) جو محمد تک پہنچا اور اُن کے ذریعہ سے آج کے دور میں قرآن کے ہم عصر لوگوں تک۔ اسلامی قدامت پسند لوگ یہ کہتے ہیں کہ سبقی صورت میں قرآن محمد کے اُوپر وحیوں کی صورت میں نازل ہوا اور اُس نے اُس کو لکھ لیا ۔ نتیجہ کے طور پر ، سال میں ایک بار جبرائیل فرشتہ سال میں ایک بار اُس کی معاونت کرنے کے لیے ظاہر ہوتا تھا کہ اُس کو مواد دے سکے۔ اگر قرآن اس وقت تحریری صورت میں نہیں لکھا گیا ، اور اسے محمد کی موت تک اتنی اہمیت نہ دی گئی۔ یہ بعد میں تالیف ہوا: تمام تر سورتیں ایک ترتیب کے ساتھ اکھٹی کی گئیں۔

پھر ، پہلے خلیفہ، ابوبکر صدیق، پہلی سرکاری نظرثانی کا حکم دیا۔ حضرت عثمان کی خلافت کے دور میں ، مختلف قسم کے امن میں خلل ڈالنے والے مسائل کو متن میں دیکھکا گیا ۔

حضرت عثمان نے ایک کمیٹی تشکیل دی، ‘‘ پھر حفصہ سے ایک جلد عثمان نے اُوبھارلی ، اور اُس کی بنیادوں پر ایک معیاری قانون کی کتاب اہل قریش کو لکھ کر دی گئی۔’’۔(۱) اس کے بعد، بہت ساری جلدیں اسلامی بادشاہت کے اہم مراکز پر دی گئیں، نتیجہ کے طور پر، قرآن کے تمام جدید نسخہ جات عثمان کے دور میں دوبارہ ٹھیک طور پر تیار کرکے دیئے گئے۔بغیر کسی نقص اور اس کی اصل میں ترمیم کیے ہوئے جو کہ قدیم اسلامی ایمان کے مطابق ہے

مفکرین کا خیال

  مسلمانوں کی اس حالت کی بنیاد قرآن کے متعلق اُن کی اپنی خوہش کے مطابق سوچ سے ہے۔ اس کی شہادت نہیں ملتی کہ محمد نے قرآن کو کسی خاص طریقہ سے لکھا۔ اُس کے پیغامات کا اعلان زبانی کلامی ہوا۔ نبی کے پیروکاروں نے زیادہ تر وحیوں کو زبانی یاد کر لیا۔ یہ لوگ اپنے متقدوں کے ساتھ ساتھ قاری کہلائے۔(تلاوت کرنے والے بعد میں راہنما ) (۲)

زید بن تھابت سے حدیث روایت ہے کہ انہوں نے حکم جاری کیا کہ تمام قرآن کو ایک کتاب میں اکٹھا کرو۔ اس کام کی بڑی وجہ یہ تھی کہ بہت سارے قاری ال یمامہ کی لڑائی میں مارے گئے تھے۔ اس زبانی ذکروں میں جو اُن قاریوں نے یاد کئے، اس بات کی ضرورت تھی کہ اس کو کھو جانے کے خطرے کے پیشِ نظر ریکارڈ میں محفوظ کر لیا جائے ایک حدیث بیان کرتی ہے۔

زید بن تھابت سے بیان ہے: ۔۔۔۔۔ عمر میرے پاس آیا اور کہا۔ بہت سارے قرآن ِ پاک کے قاری ال یمامہ کی لڑائی میں مارے گئے ہیں اور مجھے ڈر ہے کہ ایک دوسری لڑائی میں قرآن کے اور قاریوں کی اور اموات واقع نہ ہو جائیں اس سے قرآن کا ایک بڑا حصہ کھو جانے کا ڈر ہے۔ اس لیے ، میں یہ کہتا ہوں کہ آپ کے (ابوبکر ) کو قرآن اکٹھا کر لینا چاہیے۔(۳)

اس تاریخی گواہی سے ، کسی بھی شخص کو یہ جان لینے کی ضرورت ہے کہ ابتداء میں قرآن کا کوئی بھی مکمل نسخہ نہیں تھا، یہاں تک کہ محمد کے اپنے دور میں بھی نہیں اگر کوئی مکمل مواد پہلے موجود بھی تھا تو اس کو اکٹحا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اور اس کو ایک کتاب میں اکٹھا نہیں کیا گیا۔ ایک اور ذکر جو حدیث شریف سے ملتا ہے:

 زید بن تھابت کہتے ہیں کہ ابوبکر نے اُسے قرآن کے مواد کو اکٹھا کرنے کے لیے تحقیق کی ذمہ داری دی تاکہ اس کو کتاب میں جمع کیا جائے۔ پس میں نے قرآن کے لیے کجھور کے پتوں ، سفید پتھروں ، اور اُن لوگوں سے جہنوں نے اس کو دل میں رکھا تھا اُن سے اکٹھا کرنا شروع کیا جب تک کہ میں نے آخری آیت تلاش نہ کر لی۔ پھر قرآن کا مکمل نسخہ ابو بکر کی موت تک اس کے پاس ، پھر عمر فاروق کے پاس اور پھر عمر کی بیٹی حفصہ کے پاس پڑا رہا۔(۴)

یہ بات بھی ماجود ہے کہ قرآن کی آیات کے نوٹس، پتھروں ، کندھوں کی ہڈیوں، پسلی کی ہڈیوں، چمڑے کے ٹکڑوں ، لکڑی کے تختوں میں ملتے ہیں۔ اس شہادت سے یہ بات بہت وضح ہے کہ محمد نے نہ ہی قرآن کو تالیف کیا نہ ہی اُس کے پاس اس کی ابتدائی مکمل شکل تھی۔(۵) اگر محمد کے پاس قرآن کی پہلی مکمل شکل موجود تھی تو اِن تمام تر حصوں کو تلاش کرنے کی ضرورت نہ تھی۔

دوسری قرآنی اشاعتیں

بہت سارے مسلمان یہ تصور کرتے ہیں کہ قرآن کے ترجمہ کی موجودہ شکل ٹھیک ابتدائی قرآن سے لی گئی ہے تو سوال اُٹھتا ہے تو کونسی نام نہاد اصل یا ابتدائی شکل ہی درست قرآن ہے۔

سارے عرب میں اس کی اشاعت کی نجی اور عوامی اشاعتیں موجود ہیں ۔

محمد کی وفات کے بعد، جن مسلمانوں کیکے پاس مکمل قرآن تھا وہ انصاری مسلمان تھے۔ اُن میں سے ایک بھی قریش کے قبیلے سے نہیں تھا۔ محمد نے اعلان کیا تھا، کہ قرآن چار لوگوں سے سیکھا جائے، ‘‘ اُن کے نام عام طور پر یہ ہیں: ابن مسعود اُبے بن کعب، سلیم اور مُعودبن جعبل’’(۶) اُن میں سے دو بہت مقبول تھے یہ دو ابن مسعد اور اُبے بن کعب ہیں یہ دونوں قرآن کی اشاعتیں عثمان نے بھی پاس کیں۔ آرتھر جیفری نے اپنی کتاب ‘‘قرآن کی تاریخ کے مود ’’ میں قرآن کے مختلف ہونے پر بیان دیا ہے:

ہومز اور دمشق کے لوگ مِقداد بن ال اسود کے قرآن کی پیروی کرتے تھے۔ کوفہ کے رہنے والے جو ابن مسعود کے لوگ تھے، بسران کے رہنے والے ابو موسیٰ العشری کے لوگ تھے ، شام کے رہنے والے اُبیعی بن کعب (ابن الظہر، کمال ۱۱۱ ، ۸۶ )کے قرآن کو مانتے تھے یہاں ہمیں میٹروپولیٹنکی جلدوں کا آغاز بھی ملتا ہے، ہر بڑے سنٹر میں اُس کی بے شمار جلدیں تھیں یا شاید ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ان جلدوں کو مقامی شہرت بھی حاصل تھی۔(۷)

مدینہ، مکہ، بسرا، کوفہ اور دمشق کے اہم علاقوں میں بہت اختلاف پایا جاتا تھا۔ جب یہ تالیف ہوا تو زید ٹیکسٹ کو بعد میں چُھپا دیا گیا۔

جب عمر فوت ہوا ، تو یہ حفصہ کو ذاتی حفاظت کے لیے دے دیا گیا۔

اس کو عوامی یا سرکاری اجازت کے لیے نہ دیا گیا جام القرآن میں، گل کِرسٹ نے مزید زید ٹیکسٹ کے لیے شک کو ظاہر کیا۔

اس کی تحریر کے وقت میں زید جانتا تھا کہ اُس کے متن کو مکمل طور پر ہوئے متصور کئے گئے۔ اگر زید اور ابو بکر اُس بات کے لیے قائل تھے کہ اُن کا لکھا ہوا متن بغیر کسی سوال کے آخری لفظ تک مُستند ہے تو اِس کو عوامی پزیرآئی یقیناً دی جانی چاہیے۔(۸)

عثمان کی خلافت کے دور میں ، قرآن کی دیگر اشاعتیں مختلف علاقوں میں عام تھیں۔ زید کا تالیف کیا ہوا، عثمان کا نظرثانی کیا ہوا قرآن غیر معروضیت میں چُھپا دیا گیا جبکہ دوسرے مسنوں کو بھی مساوی سمجھا گیا۔ عثمان کی خلافت کے دوران، اِن مستنوں کے درمیان تضاد اُبھرا؛ ‘‘ مسلمان جرنل حُدیفہ ابن الیمن کی قیادت میں ایک وفد نے شمالی شام میں میں اپنی فوجوں کو شام عراق میں سے نکالا۔ (۹)نتیجہ کے طور پر ، مسلمانوں میں بحث ہو گی کہ کس قرآن کو استعمال کیا جائے گا۔ کوفہ عراق کے مسلمانوں کے لیے ابن مسعو کا متن معیاری رہا۔ حادثاتی طور پر، حدیفہ خوف سے بوکھلا گیا اور اس نے خلیفہ عثمان کو اطلاع دی۔(۱۰) اس ذکر میں ایک حدیث ہے۔

حدیفہ (عراق کے شمار کے لوگوں سے) قرآن کی مختلف تلاوتوں سے گھبرا گیا، اس لیے اس نے عثمان سے کہا اے مومنوں کے سردار ! اس قوم کو کتاب (قرآن) کے اختلاف سے بچا جیسا کہ پہلے یہودیوں اور مسیحیوں نے کہا ۔ پس عثمان نے حفصہ کو یہ کہتے ہوئے پیغام بھیجا۔ ہمیں قرآن کا نُسخہ بھیج تاکہ قرآن کے مواد کو مکمل جلدوں میں مکمل کریں اور اُسے تم کو واپس بھیجیں۔ اُنہوں نے ایسا کیا اور جب انہوں نے بہت ساری جلدیں تحریرکیں عثمان نے ہر مسلمان صُوبے کو ایک جلد بھیجی جس کو اُنہوں نے نقل کیا اور انہوں نے حکم دیا تمام دوسرا قرآنی مواد ، چاہیے یہ تحریری شکل میں ہی ہو اُس کی تمام جلدیں جلا دیں۔ (۱۱) اس طرح سے عثمان نے قرآن کی وہ تمام جلدیں جو مُحمد کے قریب ترین ساتھیوں یعنی قاریوں نے پیش کی تھیں جلا دی گئیں۔ اسلامی بادشاہت کے لیے اور اس کے استحکام کے لیے عثمان نے یہ سب کرنے میں بہت جلدیں کی۔ ممکن ہے کہ اس جلد بازی میں حقیقی قرآن کا ایک بڑا حصہ ختم ہو گیا ہو سیاسی اور جغرافیائی مقبولیت کے پیش نظر، مدینہ کے لوگوں نے اس کی حمایت کی۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوفہ کے لوگوں کو قرآنی مطالعہ کے مرکز کے طور پر زیادہ اہمیت حاصل ہے۔(۱۲) مندرجہ بالا حدیث جس کا ذکر کیا گیا بیان کرتی ہے کہ یہودی اور مسیحی لوگوں کے درمیان بھی متن میں مسئلہ تھا۔ شاید یہ واقعہ اتنا خاص نہیں، اس دور میں خاص طور پر عرب میں اس طرز کی بدعتیں تھیں۔

 آج، اسلام کے پیروکار مفکرین دعویٰ کرتے ہیں کہ صرف قرآن کے تلفظ کی ادائیگی میں اختلاف ہے اس وقت کو اعراب استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ یہ مکاری مکمل طور پر غلط ہے کیونکہ ابتدائی متنوں میں ایسا نہیں تھا۔

اس لئے ، تحریری متنوں میں، تلاوت کے تلفظ کے اختلاف کے حوالے سے کوئی شہادت نہیں ملتی۔ اسی طرح ، یہ سوال بہت واضھ ہے ، کیوں عثمان نے یہ تمام قرآنی نسخے تباہ کروائے؟ جواب یہ ہے کہ اُس کے متنوں میں واضح اختلاف موجود تھا۔ نتیجہ کے طور پر، تمام زمانوں اور نسلوں کے درمیان قرآن میں اختلاف اور شک رہنا تھا۔

ساری اسلامی کمیونٹی نے نتیجہ کے طور پر عثمان کے لیے رد عمل ظاہر کیا۔ ‘‘ عبادتیوں نے عثمان جو کہ خُدا کی تلوار کہلاتا تھا اس کے خلاف ردِ عمل دکھایا۔(۱۳)

گِل کرائسٹ ایک مثال پیش کرتا ہے:

عبداللہ ابن مسعود نے عثمان کے حکم کے خلاف ردِ عمل دکھایا اور ہمیں بھی اطلاع دی گئی ۔ عثمان نے مسلمانوں کے اندر اپنے لیے غم ق غصہ کو دیکھا اور وہ اس کی مخالفت میں بڑھ رہا تھا۔ اُس کی شکایات میں سے ایک شکایت یہ تھی کہ اس نے قرآن کے دوسرے نسخوں کو تباہ کیا ہے ۔‘‘اللہ کی کتاب نے نشان باقی نہ چھوڑے۔’’(ابن ابی داؤد، کتاب المساہف صحفہ ۳۶) انہوں نے واضح طور پر یہ نہیں کہا کہ یہ صحائف(نسخے) ہیں انہوں نے اس کے لیے لفظ قرآنی نسخے استعمال کیا جو عثمان کی حکومت سے پہلے تالیف کئے گئے تھے ، بللکہ یہ اللہ کی کتاب یعنی کتاب اللہ، اُن کا یہ زور اُس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن کے نسخے اُن کے لیے کس قدر اہمیت کے حامل ہیں۔(۱۴)

یقیناً حضرت عثمان کے فرمان کی تنقید میں برخلاف بولنے والا ابنِ مسعود تھا۔ وہ محمد کے ابتدائی ترین شاگردوں میں سے تھا جس نے براہِ راست محمد سے سیکھا اور محمد اُس شخص کی بطور قرآن کے ایک مفکر کے عزت کرتا تھا۔

زید کا ذکر نہیں آیا ، مگر ابنِ مسعود، ‘‘ابے ابنِ کعب اور دوسرے مفکرین کی نبی نے بہت زیادہ تعریف کی۔ ابنِ مسعود نے اپنی جِلد دینے سے انکار کر دیا، جب ‘‘ زید کی قرآنی جِلد’’اعلانِ تشہبہ کے لیے کوفہ میں آئی کہ یہ ایک معیاری قرآنی جِلد ہو گی، مسلمانوں کی ایک اکثریت نے ابھی بھی ابنِ مسعود کی قرآنی جِلد کی پیروی کی۔’’(۱۵) یہ ایک ایسا متضاد خیال پر مبنی دعویٰ نظر آیا ہے کہ اشارۃً دخل اندازی اور اِس جِلد کے اندر چھوت کو لایا ہے جو ابتدائی اسلامی معاشرے کے درمیان تضاد کو لایا۔

حفصہ، محمد کی بیویوں میں سے ایک تھی ، اُس کے پاس عثمان سے پہلے کے قرآن کی ایک جِلد تھی جو مدینہ کا گورنر تھا، اُس نے حفصہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس نسخہ کو اُس کے حوالے کرے۔ جیفری نے بیان کیا کہ مارون نے اِس جِلد کو مندرجہ ذیل بیان کے ساتھ خارج کر دیا:

جب  وہ انتقال کر گئی تو مارون اس کے جنازے پر معاون تھا اور اس کے نتیجتاً عبداللہ بن عمر سے جو حفصہ کا بھائی تھا اُس سے اس کتاب کے مطالبہ پر اصرار کیا۔ اور آخر کار اس نے اس قرآنی نسخہ کو اسے دے دیا اور اُس نے اُسے خوف کے ساتھ ضائع کر دیا، اس نے کہا ، کہ اگر یہ باہر گیا تو پھر مختلف قسم کے پڑھے جانے والے قرآن ہوں گے اور عثمان کی خواہش پر جبراً اُس کو رد کر دیا گیا تاکہ دوبارہ اس کا آغاز نہ ہو۔ (۱۶)

پھر جیفری نے بیان دیا:

یہ اس کہانی سے مختلف کہانی ہے جو ایجاد ہوئی اور یہ بہت واضح ہے کہ اس کتاب کے تعلق سے ہمارے پاس عثمان سے پہلے کے نسخے بھی ہیں جو شاہد عثمان کے قرآن سے مکٹلف ہیں۔(۱۷)

دوبارہ یہ بات بہت واضح ہے کہ عثمان کا قرآن حفصہ کا قرآن نہیں تھا جس کو مسلمان دعویٰ کرتے تھے کہ یہ سرکاری قرآن ہے تمام قسم کے سیاق و سباق اختلافات بے ہودہ شہادتیں ہیں۔ کیسے کوئی مسلمان یقین سے کہہ سکتا ہے کہ عثمان کا قرآن ہی اللہ کا نازل ہونے والا کلام ہے؟ واضح طور پر ، اس قرآنی نسخہ کے اندر کثرت کے ساتھ دخل اندازی کی گئی۔

یہ تمام مختلف قسم کے قرآنی نسخہ جات جو عرب میں تھے جِلا دیئے یا چُھپا دیئے گئے۔کُچھ آج بھی باقی ہیں لیکن اُن کو اسلامی مفکرین کی بدعات کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آرتھر جیفری بیان کرتا ہے کہ ان نسخہ جات کو جبراً روک دیا گیا۔

ایک دلچسپ موجودہ مثال جو مرحوم پروفیسر برجیسٹریسر نے کایرو کے آکری دورے میں واقع ہوئی۔ پروفیسر صاحب مِصر کی لائبریری میں ابتدائی تاریخ اور کتابوں کی تصاویر لینے میں دلچسپی رکھتے تھے جب میں نے اظہر لائبریری میں اُن کی توجہ دلائی جو کہ اس قسم کی چیزوں سے بھری ہوئی تھی تو اُن کو اُس کی فوٹو لینے کی اجازت نہیں ملی، اُن کو انکار کر دیا گیا۔ اُن کو کہا گیا کہ وہ مغربی مفکرین کو اس قسم کی کتابوں کے علم کو جاننے کی اجازت نہیں دیتے۔ (۱۸)

جبراً روک دینے کے عمل میں توسیع اس رویے کو پیش کرتی ہے کہ قرآن کے بارے میں کُچھ بتانے یا تحقیق کرنے میں وہ بے اعتقاد ہیں۔ کوئی بھی مسلمان یہ بات نہیں جانتا کہ اصلی قرآن میں اصل مواد کیا ہے۔ عثمان نے اپنے قرآن میں بھی توسیع کے لیے حکم جاری کیا اور تاہم اس کے قابل بھروسہ ہونے میں بھی شکوک و شہبات موجود ہیں۔ اس نے اس کو ادبی پیرائے میں لانے والے چار لوگوں کو لیا کہ وہ اس کی تجدید کریں، ترمیم کریں، اور قریش کی مقامی زبان کے مطابق اس کو دوبارہ لکھیں۔ ایک بار پھر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس میں تبدیلی کے مواقع زیادہ ہیں کیونکہ اس اصل نسخہ میں کہیں بھی اعراب تو پہلے ہی موجود نہیں ہیں۔ (۱۹) اس حقیقت کے پیشِ نظر عثمان کے دِنوں میں کوئی بھی قرآنی نسخہ باقی نہ بچا، اس لیے کوئی بھی مسلمان یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آج جو قرآن موجود ہے وہ اس تالیف کی من وعن نقل ہے یا محض ایک سادہ سی تجدید ہے۔

بار بار مسلمان یہ بات کہیں گے کہ محمد نے ایک مکمل ترتیب شدہ قرآن دیا ہے۔ لیکن کو بھی اس شہادت میں تضاد دیکھ سکتا ہے۔ کہ قرآن محض ایک بے ربط ٹکڑے ہیں اس کی تاریخی حالت مکمل طور پر واقعات اور شخصی کہانیوں میں اُلجھی ہوئی ہے جن میں کُچھ بائبل میں سے بھی لیا گیا ہے۔

واضھ طور پر، یہ اس عمارت کی بھی مدد کرے گا کہ سیاق و سباق کے لعلق میں قرآن کے اندر تاریخی ترتیب سے متعلق مسائل موجود ہیں جو واقعات اور کرداروں کا ذکر کرتے ہیں۔ اور یہ اس سے مختلف ہیں جن کا ذکر دریائے مُردار کے طوماروں اور صحیفوں میں موجود ہے۔

زید نے قرآنی آیات کے ٹکڑوں کو اکٹھا کیا، بعدازاں، عثمان کے زیر سایہ، ادبی پیرائے میں لانے والوں نے ان آیتوں کو ایک تجدید قرآن کی شکل میں بدل دیا۔ شاید عثمان کے بعد بھی اس کے سیاق و سباق میں بہت مداخلت ہوئی۔ اگرچہ اس بات کو ثابت کرنے کے کوئی ہاتھ سے لکھے تحریری ثبوت نہیں ملتے لیکن مسلمانوں نے اس مسئلے کا سامنا کیا واضح طور پر، محمد کی وحیاں غلط تھیں، یا اُن لوگوں نے جہنوں نے اُس کو تالیف کیا اس میں بھی غلطیاں تھیں ۔

یہ تمام حقائق اشارہ کرتے ہیں کہ متن کے اندر مداخلت کی گئی ہے۔ قرآن کو جلانے اور دوسرے متنوں کو زبردستی روک دینے سے یہ بات سامنے آتی ہے۔ کہ اِس کے متن کے مُستند میں آسانی سے شک کیا جاتا ہے۔ یہاں تک قرآن کے دُرست ہونے کی بات تو یہ ایک اندھے ایمان کا قانونی حقائق کے درمیان مقابلر ہے۔

قرآنی کی ابتدائی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں

اگر مسلمان مفکرین دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کی ابتدائی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریریں ہیں جو کہ عثمان کے ابتدائی سیاق و سباق سے ہیں۔ مغربی مفکرین نے اس مفروضے کو چیلنج کیا ہے۔ اس لکھی ہوئی تحریر کے تعلق سے ایک تجزیہ ضرور کیا جانا چاہیے۔ اسلام کے وجود میں آنے سے قبل، صرف ایک تحریر ہی تھی جس کو جازم تحریر کیا جاتا تھا۔ اس عرصہ سے قبل قرآن کا کوئے نسخہ موجود نہیں تھا۔

اختصار کے ساتھ یہ کہ کوئی بڑا حصہ یا مکمل کتاب موجود نہیں تھی ۔ آٹھویں صدی کے آخر میں (محمد کی موت کے ایک سو سال بعد) (۲۰) سب سے پہلے تحریر کو  فی رسم الخط میں ملتا ہے۔ رسم الخط کا آغاز ‘‘ عراق میں کوفہ سے ہوا۔ اس جگہ ابنِ مسعود کا قرآنی نسخہ اس وقت مشہور ۔ جب عثمان نے اس کو تباہ کرنے کا حکم دیا۔’’ (۲۱)

مزید یہ کہ نویں صدی سے پہلے اس بات کا ہر کسی کو علم ہو کہ کوفہ کے قرآن کا کسی کو بھی مکہ یا مدینہ میں پتہ بھی نہ تھا۔

مکمل طور پر کوئی بھی اس حصہ سے نہ آیایہاں تک کہ اس کی گواہی کا کوئی سرا موجود ہیں۔

مسلسل ، مسلمان دوخاص ہاتھ کی لکھی ہوئیتحریروں کا دعویٰ کرتے ہیں جو کہ عثمان کے ابتدائی قرآن سے لیے گئے ہیں۔ جیسے کہ پہلے بیان کیا گیا ہے کہ عثمان کا متن بنیادی طور پر حفصہ کی کتاب تھا، پھر بھی مارون نے اس متن کو تباہ کر دیا تمام تاریخٰ تفصیلات اُن کے عقیدے کے اندھے پن کی سچائی کو رد کرتی ہے مسلمان ابھی بھی اِس ایمان کے ساتھ جڑے ہوئے کہ اصلی ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریر یں ابھی بھی موجود ہے۔

مزید برآں ، ٹام کاپی اور سمر قند کی کتابوں کے بیانات بھی ارد گرد موجود ہیں۔ ماضی سے حال تک ، بہت سے لوگوں نے ان تحریروں کو لکھا یہ درحقیقت عثمان ہی کی لکھی ہوئی تحریریں ہیں۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس کے قتل کے وقت وہ قرآن پڑھ رہا تھا اور اِن کے اُوپر اس کا لہو لگ گیا۔

سمرقند کی کتابیں محفوظ ہیں۔۔۔ یہ جنوبی روس میں ازبکستان تاشقند کی سوویت حکومت کی لائبریری میں ہیں ۔ (۲۲) گِل کرائسٹ اس کتاب کے بارے بیان کرتے ہیں ۔ یہ واضح طور پر کوفی رسم الخط میں لکھی ہوئی ہے اور جِسے ہم نے دیکھا ہے ، یہ ایک مغربی مفکر کے بارےبات کرتا ہے کہ وہ یقین کرے کہ قرآن مدینہ میں لکھی ہوئی تحریر ہے اور اسی طرح یہ بھی یقین کرے کہ یہ تحریر خلیفہ عثمان کے زمانے میں لِکھی گئی۔ مدینہ میں لکھے جانے والا قرآن کوفی رسمِ الخط سے پہلے لکھا جانے والا قرآن ہے جو الھالی اور مشق رسمِ الخط میں بہت عشرے قبل لکھا گیا اور یہ ابتدائی مسلمان دنیا کے لیے سب سے پہلے کے تمام متنوں سے زیادہ نسب نما بن گیا اور کِسی بھی موقع پر، کوفہ کے علاوہ باقی عراقی صوبے میں نسلوں تک عثمان کی موت کے بعد  یہی قرآن استعمال ہوا ۔(۲۳)

ایک دوسرا ہاتھ سے لکھا ہوا قرآن استنبول ترکی میں ٹاپ کاپی عجائب گھر میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح سمر قند، ٹاپ کاپی کتاب کے لیے دعویٰ کیا گیا کہ یہ عثمان کا اصلی قرآن ہے دوبارہ، رسمِ الخط کا مسئلہ پیدا ہے جو کہ کوفی طرز میں ہے وہ تضاد بن گیا۔ اشاعت میں ، اس کتاب میں ‘‘سورتوں کے درمیان آرائش کے لیے بڑے تمغوں سے مزین ہے ۔’’ جو کہ ایک زیادہ پرانی تاریخ کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔(۲۴)

اسی کے مساوی، یہ ہاتھ سے لکھی ہوئی تحریرں ، یعنی سمر قنداور ٹاپ کاپی کے اُوپر خُون کے دھبوں کا کہا جاتا ہے جو کہ روایتی تعلیمات کی وجہ سے جو ایک کتاب میں لکھی ہے بالکل یقینی بات ہے۔ تاہم، زیادہ تر نمایاں مسئلہ رسم الخط کے طرزِ تحریر میں ہے۔ عثمان کے متن میں بعد کا طرزِ تحریر استعمال نہیں کیا گیا۔ وہ غیر اخلاقی ایمان جن کا مظاہرہ کیا گیا ہے وہ کیسے مسلمان معاشرے کو ثابت کرنے دیں گے کہ قرآن دُرست ہے ۔ یہ جھوٹ محض معصوم لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیال ہوتا ہے۔ تار یخی مفکرین کے ساتھ نہیں۔ اس شہادت سے ، قرآن کی بقا کی محمد کی وفات کی تاریخ سے ایک سو سال بعد کی ہیں۔ محمد اور پہلے قرآن کے درمیان وقت کا ایک بہت بڑا خلا نظر آتا ہے۔ اِن حقائق کے ظاہر ہونے کے بعد بھی ، مسلمانوں کا اس دعویٰ پر قائم رہنا کہ قرآن کی کامل ترسیل ہوئی یہ اُن کے اندھے ایمان کا معاملہ ہے اور اس کی بنیاد تاریخی دستاویز پر نہیں ہے۔

تنسیخ کا عقیدہ

 محمد کا چاند دیوتا، اللہ ، مکاشفات کے منسوخ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ قرآن ۲: ۱۰۶ بیان کرتا ہے۔

ہماری وہ وحیاں جو ہم نے منسوخ کیں یا بھلا دی گئیں ہم ان سے بہتر لائے ہیں۔ تم جانو کہ اللہ سب کُچھ کرنے کا لائق نہیں ہے،

یہ سورت مکمل طور پر قرآن کی ۸۵ : ۲۲ کے متضاد ہے جو کہ بیان کرتی ہے کہ یہ آسمان کے تختوں پر محفوظ ہے۔

مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ سب کُچھ جاننے والا ہے، انسانوں کے تمام تر واقعات کو جانتا ہے ۔ تاہم ، اللہ پیشن گوئی نہیں کر سکتا تھا کہ قرآن کے اصلی دعٰووں کا مستقبل کیا ہو گا۔ کیوں سب کُچھ جاننے والے دیوتا کو اپنے اصلی پیغامات میں تبدیلی کرنے کی ضرورت پیش آئی؟ اس لیے اللہ بائبل کے نبیوں کے اِلہ ہونے کے لیے ہم آہنگی نہیں رکھ سکتا۔ یہواہ خُدا مستقبل کو جاننے کے ساتھ ساتھ نبوتیں پوری کرتا ہے جب یہواہ انسان بن کر یسوع کی صورت میں آیا تو اُس نے اپنے کلام کے بارے کہا:‘‘ یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں ۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہر گز نہ ٹیلگا جب تک سب کُچھ پارا نہ ہو جائے۔’’(متی ۵ : ۱۷ ۔ ۱۸ ) محمد کے معاملے میں یہ کہ وہ خُدا کے کلام کے بالکل متضاد ہے۔

یہ بات بہت واضح رہی ہے کہ مُحمد نے وحیوں کو لکھوایا ہے اللہ نے نہیں البیت، جو اس کا قریب ترین ساتھی تھا اور وہ جو اس کے رابطے میں تھے ۔ اُن کو اس کے پیغامات پر شک تھا۔ قرآن میں وہ آیات تھیں جو اس کی نبوت کے پیغام کو آسودہ کرتی تھیں ۔ قرآن بیان کرتا ہے ۔ ۲۵: ۴ ۔ ۵ وہ جو ایمان نہیں لاتے کہتے ہیں۔

یہ کُچھ بھی نہیں ماسوائے جھوٹ کے جو اُس نے ایجاد کیا اور وہ کہتے ہیں پرانے آدمیوں کی کمزوریوں کو اس نے دن رات لکھوایا۔

یہ پیرایہ محمد کو آزمائش میں ڈالتا ہے ۔ یہ سوال تاریخ کی سچائی میں سے ہمیشہ چمکتا ہوا نظر آتا ہے ۔ کیا محمد ایک سچا نبی تھا؟ اگر ایسا ہے ، تو کیوں مسلمسل اپنے پیغامات کو بدلتا رہا؟ جیسے کہ چوتھے باب میں ذکر کیا گیا ہے ۔محمد جو مسلسل دباؤ کے نیچے تھا اور وہ تین دیویوں کی پوجا کرتا رہا وہ اپنے مکاشفاتی پیغام کو تبدیل کرتا ہے۔ اس بات سے وہ اپنی زیادہ خُداؤں کی پرستش کرنے کی مشق کو غیر قانونی اور کسی بھی جواب دہی سے بچنے کا دعویٰ کرتا ؟ اب دوبارہ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کیسے اس کے ذہن کو بدل دیتا تھا۔ دوبارہ ، محمد کی انگلیوں کے نشانات تمام قرآن میں گواہ ہیں جب ہم اسلامی متنوں کا غور سے مطالعہ کرتے ہیں تو بہت ساری منسوخ کی ہوئی آیات بھی ہمیں ملیں گئی رمضان کے روزے کے بارے بیان کرتے ہوئے ، محمد نے ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے اِسے منسوخ کیا کہ رمضان کے خاص وقت میں عورتوں کے پاس نہ جاؤ۔ یہ آیت محمد کے لیے مسئلہ بن گئی جب اس کے پیروکاروں نے اس کی نافرمانی کی ۔ محمد اُن کو سزا تو نہیں دے سکتا تھا پس اس نے اس آیت میں اس طرح سے ترمیم کرکے کہا۔ اور یہ ایک نئی آیت تھی ۔

یہ تمہارے لیے شرعی ہے کہ تم روزے کی رات کو اپنی بیویوں کے پاس جاؤ۔۔اللہ جانتا ہے کہ تم اپنے آپ کو دھو کر دے رہے ہو ۔ پس اُن کے ساتھ مباشرت کرو اور دیکھو اللہ نے یہ تمہارے لیے مخصوص کیا ہے۔(قرآن ۲ : ۱۸۷)

آسانی کے ساتھ ، محمد اپنے خاص موقع کی ضروریات کے لیے قرآن کو بدلتا رہا ۔ اکثر ، جب اس کو اپنے معاملات کے ساتھ نپٹنا ہوتا تو وہ تنسیخ کے معاملے کو استعمال کرتا ۔ ایک دفعہ جب محمد کی بیوی حفصہ چلی گئی، تو یہ ذکر کیا گیا کہ وہ مار یہ کو لائے جو کہ قبطی تھی جو کہ افریقہ کی قبطی مسیحی جگہ سے تھی ۔ تاکہ اس کے گھر میں بیوی ہو ۔ حفصہ آگ بگولا ہوئی، محمد نے اس کو یہ کہہ کر قائل کرنے کی کوشش کی۔ ‘‘میرے راز کو چُھپا لو ، میں ماریہ قبطی کو اپنے لیے حرام قرار دے دوں گا۔’’(۲۵)

حفصہ نے عائشہ کو بتایا ، جو کہ محمد کی بچی بیوی تھی ، اس نے اتنی زیادہ ناراضگی دکھائی کہ محمد نے حفصہ کو طلاق دے دی ۔ بعد میں محمد نے اپنا ذہن بدل دیا اور اللہ نے آسانی سے فرمایا۔

اے محمد ! کیوں تو نے اُن کو حرام قرار دیا جس کو اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے ۔ اپنی بیویوں کو خُوش کر؟ اور اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے اور اللہ نے اسے تمہارے لیے حلال قرار دیا ہے اور اللہ تمہارا محافظ ہے ، وہ جاننے والا اور عقلمند ہے۔(قرآن ۶۶: ۱ ۔ ۲)

جب محمد کا غصہ ختم ہوا تو اس نے سابقہ آیات کو منسوخ کیا۔ اس ماریہ کے ساتھ بھی جنسی تعلقات جاری رکھے اور یہاں تک کہ حفصہ سے بھی دوبارہ شادی کر لی۔(۲۶)

یہ محض چند مثال کے لیے پیرائے ہیں جن میں یہ پیش کیا گیا کہ کس طرح سے محمد نے تنسیخ کی مشق کو اپنے فائدے کے لیے جاری رکھا ۔ اس کی انگلیوں کی شہادتیں تمام تر قرآن میں ہیں ، جو اس ایمان کے لیے ہیں کہ سابقہ بات ہٹا کر اُس کی جگہ اس کے متضاد بات کی وحی آگئی۔

اس طرح کے بہت سارے پیرائے ملیں گے کہ آیا یہ وحیاں اللہ کی طرف سے ہیں یا محمد کی طرف سے ۔ مثال کے طور پر ، کیوں اللہ نبی کے روزمرہ کے فسادی اور فرسودہ معاملات میں دلچسپی لیتا ہے؟ قرآن ۳۳ باب ۵۳ آیت بیان کرتا ہے ۔

نبی کے گھر میں کھانے کے لیے داخل نہ ہو بلکہ خاص وقت کا انتظار کرو ، جب تک کہ تمہیں اجازت نہ ملے۔ لیکن اگر تم کو دعوت دی گئی ہو ، تو گھر میں داخل ہو جاؤ۔ اور جب تمہارا کھانا ختم ہو جائے ، تو چلے جاؤ۔ بات کرنے میں طوالت نہ کرو۔

یہ نبی کو غصہ دلانے کا سبب بنے گا اور وہ تم سے کہے گا کہ جاؤ۔

کوئی بھی شخص شک کر سکتا ہے کہ یہ آیات اللہ نے کہیں ہیں۔ ، یوں لگتا ہے کہ یہ محمد نے خُود کہیں ہیں۔

ان سوالات کے لیے مزید گواہی سورہ ایک میں قرآن کے الہیٰ مصنف ہونے کے لیے دیکھتے ہیں۔

اللہ کی تعریف ہو، دنیاؤں کے آقا کی ، محسن اور رحیم کی ۔ آخرت کے دن کے مالک کی ، صرف اُسی کی عبادت ہو ، اُسی سے مدد کے لیے کہو، ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔(قرآن ۱:۱ )

ایک دلچسپ بات جو عثمان کی اشاعت کو مشکوک بناتی ہے کہ ابن مسعود نے اِس پیرایہ کو اپنے قرآن میں نہیں ڈالا۔ اگر یہ اللہ نے کہا ہوتا، تو کیوں اس کا اندازہ اللہ کے سامنے دُعا کا ہوتا۔ دوبارہ (قرآن ۲۷ : ۹۱۔ ۹۲ ) اللہ اس طرح نہیں بول سکتا تھا: ‘‘ میں تم کو حکم دیتا ہوں کہ اُس زمین کے آقا کی خدمت کرو جس نے اس کو پاک کیا ہے اور جس سے تمام چیزیں تعلق رکھتی ہیں اور میں اُن کو حکم دیتا ہوں جو خُود کو پیش کرتے ہیں ۔’’

اگر اللہ بات کر رہا ہے تو اللہ اپنی پرستش کر رہا یا دوسرے دیوتا کی پرستش کرتا ہوا نظر آتا ہے۔ اسی طرح ، سورۃ ۱۱۲ اور ۱۱۳ اللہ کے لیے واضھ دُعائیں ہیں

عموماً، مسلمان مترجمین نے ‘‘ کہا ’’ کا لفظ اس سِرائے کے سامنے لکھ دیا لیکن یہ بھی اصل عربی میں ایک تنسیخ نظر آتی ہے نتیجے کے طور پہ مسلمان اپنی مقدس کتاب میں ترمیم کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تاکہ اِس کے اصلی مطلب کو ڈھانپ سکیں۔ اِن مثالوں کی بنیاد پر قرآن کبھی بھی اللہ کا کلام نہیں ہو سکتا۔

اِس جھوٹے مواد کے کلیے میں اِس قرآن کو لِکھا گیا اور اِس کی بقا کے مزید سہارے کے لیے محمد کے واحدنیت کے نظریے کو اُس کی شیطانی روح کی راہنمائی میں ساتھ ملا دیا گیا ۔ بائبل کے ایک نبی کے طور پر محمد کو رد کیا گیا اور اکثر یہودی محمد کو دباتے تھے نتیجے کے طور پہ محمد نے اپنے مذہبی طور طریقوں اور عقیدے کو بدل دیا ۔ ابتداء میں وہ یہودیوں کے یوم کیپر رازے کے طریقے کو مانتا تھا لیکن بعد م یں اِس کو تبدیل کرکے مادہ پرستوں کے طریقے کو اُوپر نیچے کرکے رمضان کے طریقے میں بدل دیا اِسی طرح اُس نے یروشلم کی طرف منہ کرکے دُعا کرنے کے طریقے کو مکہ کی طرف میں بدل دیا۔ بائبل کے اور پاک صحیفوں کے انبیاء کبھی بھی دوسروں کے متضاد دبوؤ سے مغلوب نہیں ہوئے اِس کے لیے اُنھیں خواہ کوئی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑی ہو یا شہیدوں کے طور پہ اُنھیں جان ہی کیوں نہ دینی پڑی ہو ۔ جبکہ دوسری طرف محمد نے روز پروز اپنے مذہب کو گھڑ لیا اور بدلتا گیا اور جب بہت زیادہ دباؤ ہوا تو اُس نے بار بار اپنے مذہب یا اشاعت کے لیے تنسیخ کا اُصول قائم کیا ۔

محمد کا قرآن اپنی خاصیت کے اعتبار سے بہت سے مذاہب کا مجموعہ ہے۔ مکہ میں بطور ایک بچے کے اُس نے کعبہ کے مادیت پرستی کے مذاہب کو سیکھا جن میں تقریباً سال میں ایک دن کے لحاظ سے ۳۶۰ سے زیادہ دیوتا تھے جن کی بنیاد علمِ و نجوم کی ابتدائی باتوں پر تھی بلاشبہ سب سے بڑا دیوتا چاند دیوتا اللہ تھا۔ اِن بدعتوں کے ساتھ ساتھ اس کی زندگی میں سے دوسرے مذاہب کی جِھلک بھی نظر آتی ہے جب وہ عرب کے اِرد گِرد کارواں کے ساتھ جاتا تھا۔ (۱) عرب کے بڑے مذاہب (۲) طالمود کے یہودی عقائد (۳) مِدراش اور ایپوکپرافیکل کام (۴) سیبرئین روایات (۵) زرتشت (۶) ہندوازم (۷) مسیحی قدیمی فرقے۔

اِن مسیحی قدیمی فرقوں میں سے ایک ایپو نیزم تھا اور ممکنا طور پر محمد کی زندگی کی روحانی ترقی میں اِس نے سب سے بڑا کردار ادا کیا اُس کی بیوی خدیجہ کا چحچا زاد بھائی جِس کا نام ورقا ابن نوفل تھا۔ ‘‘جو کہ مکہ کے ایبو نائٹ فرقے کا مسیحی بشپ تھا۔’’(۲۷) ایبونائٹ فرقے نے یسوع کی الہویت کا انکار کیا تھا جیسا کہ محمد نے بعد میں سیکھایا ایک جوان لڑکے سے محمد نے بہت سارے وسائل سے غلط عقائد کی تعلیمات سیکھی اُس کے ابتدائی عقائدی تجربات اُس کی خاص روح سے جُڑے ہوئے ہیں جِس میں اُس نے غارِ حِرا میں جبرائیل کا بہروپ بھی بھرا اور اِن تاریکی کی قوتوں کے ساتھ اُس نے رفتہ رفتہ میل کیا۔جبکہ ورقا نے جو کہ ایبو نائٹ بشپ تھا اُس کے جوان ذہن کو مزید خِطا کرنے والے عقیدے سے بھر دیا ۔حدیث اِس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ ورقا صحائف کے لیے بہت زیادہ مشہور تھا:

ورقا بن نوفل اپنے اسلام سے پہلے کے دور میں مسیحی ہو گیا اور عبرانی خطوط لکھتا تھا۔ اُس نے میں انجیل لکھی جیسے کہ اللہ اُس سے چاہتا تھا کہ وہ لکِھے (۲۸)

ورقا نے محمد کو بائبل مقدس کا ایک بے ترتیب مطالعہ بھی کرایا جو کہ اِس بات کی واضح شہادت ہے کہ اصل بائبل اور تاریخی بیانات کے مقاصد میں قرآن کے اندر کہانیاں بے جوڑ ہیں اور تاریخ کے ساتھ بیہودگی کو جوڑا گیا ہے بائبل کے بے شمار تجزیے توڑے مروڑے ہوئے نظر آتے ہیں ۔

اگر محمد کا قرآن حقیقی فرشتے جبرائیل نے دیا ہو تا تو بائبل کی کہانیاں اور کردار اُلٹے سیدھے نہ ہوتے اور تاریخی ترتیب غلط نہ ہوتی بار بار تنسیخ نہ ہوتی اور یہ تاریخی کمیوں سے بھری نہ ہوتی۔

نواں باب

اسلام میں ‘‘ قسمت ’’ اور برزخ یا مقامِ کفارہ ’’ کا تصور

اسلام میں قسمت کے ذریعہ نجات کے بہت سے راستے ہیں ۔ مسیحی الہیات دانوں کی تعلمات کے ساتھ مشابہت رکھتا ہے جیسا کہ اگسٹین، مارٹن لوتھر، اور جان کیلون اسلام کے پیرو قبل ِ اسلام عربی بدعتوں سے ہی عقیدہ تقدیر پر صاف صاف مانتے ہیں ۔ عقیدہ تقدیر بہت بڑا الہیاتی مضمون ہے۔

مسیحیت میں عقیدہ تقدیر  کا تصور

جب محمد اسلامی ایمان کا بانی بن گیا اُس نے بہت سی غلط تعلیمات اِرد گِرد کی مسیحی کلیسیاؤں میں پھیلائیں ۔ مسیحی لوگوں نے غیر اقوام کے تصورات کو اپنے مذہبی اور روایتی عوامل میں شامل کر لیا۔

 تاہم آج بھی یہودیوں کی روایتی کتابوں یعنی مکہتہ ، سفرو، سفری ، مِراش، بریتھا، توسیفتہ، تالمود باولی ، یروشلیمی تالمود، قبالہ ، ظہر ، طریم ، شُل کا ہان اروچ وغیرہ کی غلط تفاسیر آج بھی میل جول رکھتی ہیں اور بہت سی جدید مسیحی فرضی توہم پرستی، جھوٹی کہانیوں اور علمِ جنوم سے مطابقت رکھنے والی غلط تعلیمات سے گمراہ ہو رہے ہیں۔

مگر کُچھ مسیحی ایسی غلط تعلیمات اور توہم پرستیوں کی مبینہ طور پر مخالفت کرتے ہیں ۔ کیونکہ توہم پرستیاں اُن میں تقسیم کرتی ہیں کیونکہ کلیسیاء ایک بدن ہے۔ بائبل کی کسوٹی پر بھی اِن تعلیمات کو پرکھا جائے تو اِن الہیاتی چھوٹی چھوٹی باتوں پر سوال اُٹھتے ہیں۔ مگر جب کِسی خاص مضمون یعنی ‘‘ نجات کا عقیدہ ’’ پر بات چیت ہوتی ہے تو یہ عقیدہ مکمل طور پر ایسی باتوں اور تعلیمات کو رد کرتا ہے۔ جیسے کیلون کی تعلیم ‘‘ عقیدہ تقدیر ’’ کو خادموں نے مکمل طور پر رد کیا ہے ۔ اور اسکو حرام قرار دیا ہے۔ تاہم قسمت کے بارے میں صاف صاف بیان کرنا بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔

اس کتاب کا مقصد ایسی غلط اور جھوٹی تعلیمات بشمول عقیدہ تقدیر جو کلیسیاء پر اثر انداز ہوتی ہیں انکی عکاسی کرتا ہے ۔ بلی گراہم اپنی بشارتی عبادتوں میں ہمیشہ بیان کرتا تھا کہ ‘‘ خُدا رحیم اور پیار سے بھرا ہے۔’’ ایسا خُدا جو تقدیر کا لکھا ٹال نہیں سکتا وہ رحیم کیسے ہو سکتا ہے بشمول اللہ کے آکر نبی انسان قسمت ہی کی مرہونِ منت ہے ۔تو رحم کیسا ؟ مسیحی روایتی اصلاح کاری کے بہت سے علما، نے قسمت، مقدر اور ‘‘ عقیدہ تقدیر ’’ کی پذیرائی بہت کم کی بہ نسبت مسلمان،  فارسی، اور علمِ نجوم کے ماہریں کے ۔ اگر آپ آج بھی قسمت یا عقیدہ تقدیر ’’ پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ اِسلام سے قطعی مماثلت رکھتے ہیں۔ جو عقیدہ تقدیر کی پیروی کرتے ہیں اُن کا چھوٹا خُدا اور وہ خیال کرتے ہیں ہر ایک چیز کی تخلیق سے پہلے ہر چیز کا علِم ہے کیونکہ جو بچائے جا چکے ہیں انہیں اُن کے اعمال یا کاموں سے کُچھ فرق نہیں پڑتا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ نسلِ انسانی صِرف ایک ڈھونگ ہے دھوکا ہے ان کو پہلے سے لکھے ہوئے ‘‘ عقیدہ تقدیر ’’ پر عمل کرنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان محض ایک ‘‘ پتلی ’’ ہے جسکی ڈور کِسی اور کے ہاتھ میں ہے۔ عقلی طور پر اِس مضمون میں کوئی درمیان طرح موجود نہیں جسکا تعلق شخصی قسمت کے ساتھ ہو۔ سچا یہواہ خُدا ، پہلے سے طے شدہ ، ترتیب دیے ہوئے یقینی موقعوں پر کام کرتا ہوا تاریخ میں نضر آتا ہے۔ مگر اُس نے کبھی بھی کِسی انسان کے سر پر نہیں ٹھونسا کہ تو ابھی نجات پا۔ یہ خیال کہ کوئی نجات پاتا ہے تو یقیناً وہ علمِ سابق کے مطابق ہی پاتا ہے مگر اِس کا ہر گز مطلب نہیں اُس وقت خُدا نے ہی سارا دخل دیا تو اُس شخص نے نجات پائی ۔ علمِ سابق کے مطابق خُدا زمانوں میں مواقعوں کو پہلے ہی دیکھ چُکا ہے۔ عالملِ کل ہونے کی حیثیت سے خُدا ہر تخلیق سے پہلے جانتا ہے کہ کون اُسکے نجات کے منصوبہ کو قبول کرے اور کون رد کرے گا ۔ یسوع مسیح علِم سابق میں ظاہر ہو چکا تھا مگر مقررہ وقت پر وہ نسل انسانی پر دنیا کے نجات دہندہ کے طور پر لامحدود یہواہ خُدا کی حیثیت سے پیدا ہوا۔ یاد رہے کہ وقت مقررہ پر اصل میں بیٹا پیدا ہوا۔

یعنی مولودِ مقدس پیدا ہوا مگر ابدیت میں وہ بیٹا نہیں تھا جیسا نظر آتا ہے عِلم سابق کے مطابق اِس کو مقدسہ مریم کے بطن (رحم) میں ڈالا گیا بیٹے کے حق سے پہلے خُدا نے اپنے آپکو ‘‘ یہواہ ’’ کی حیثیت سے ظاہر کیا تھا ۔

مگر بعد میں یہواہ وقت پورا ہونے پر یسوع کی حیثیت سے پیدا ہوا ۔ جسکا مطلب ‘‘ یہواہ نجات دینے والا ’’ یا نجات دہندہ ہے ۔ ’’ کیونکہ کلام مقدس فرماتا ہے کہ ‘‘ کلمہ انسان کا بیٹا بن گیا جیسا کہ وہ خُدا کا بیٹا بھی ہے ۔’’ یہواہ خُدا نے کلمہ کو ظاہر کیا اُس نے اُسے بیٹا ہونے کا درجہ اُسکو دیا تاکہ وہ انسان پر  حکومت کرے ۔ یہواہ ہمیشہ سے قائم ہے اور قائم رہے گا بالکل اِسی طرح ‘‘ ایک لامحدود اندیکھا کلمہ جو روح ہے ۔’’ جس نے اپنے آپکو ظاہر کیا تین شخصیات ضم ہو کر ظاہر کیا یعنی باپ، بیٹا اور روح القدس یہ شخصی ظہور کو ضرب میں اس طرح سمجھا جا سکتا ہے ۔ یہواہ ‘‘ ایک ’’ ہے جو اپنی مجموعی حالت  میں اِس طرح سے ہے( ایک ضرب ایک ضرب ایک برابر ایک)جیسا عقیدہ تثلیث میں پڑھا جا چکا ہے وہ ایک ہی وقت میں ہر جگہ موجود ہے اور اپنی مخلوق اور تخلیقات سے منعکس ہوتا ہے۔ یہ وحدانیت کو ظاہر نہیں کرتا مگر تین شخصیات کی وحدانیت ہے جیسا عقیدہ تثلیث میں سکھایا گیا             (ایک جمع ایک جمع ایک برابر ایک )  وہ آج بھی ‘‘ ایک ان دیکھی روحانی شخصیت کی طرح  وجود رکھتا ہے۔ جس نے اپنے آپکو خُدا کے ثالوث کی شکل میں ظاہر کیا۔ اپنی ذات میں کرمات کے ساتھ ساتھ وہ بہت سی جگہوں میں ایک وقت میں خُدائے ثالوث کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے ۔ اِس کے برعکس ‘‘ تثلیث ’’ کی تعریف کہ انگریزی زبان میں اِس طرح سے ہے۔ ‘‘ تثلیث ’’ تینوں میں یغانگت ’’ جو تین ان دیکھی شخصیات کی عکاسی کرتی ہے۔ ابدیت میں عمل دخل رکھتی ہوئی، مگر وہ تینوں الگ الگ رکھتے ہیں اپنی اپنی شخصیات میں ، وہ ایک شخصیت نہیں لیکن ایک شخصیت کی طرح دیکھتے اور رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ‘‘ ٹریئون’’کا مطلب ‘‘ ایک میں تین ’’ ہے ایک ان دیکھی صورت یا شخصیت جو تین شخصیات میں ظاہر ہوئی ۔ مگر ایک میں سکونت کرتی ہیں ۔ ‘‘  پینتھیِسٹیک  عقیدہ ’’ کے متضاد یہواہ وقتِ تخلیق سے ہی کثرت میں ہے۔ فرشتے اور انسان تخلیق کئے گئے اور روحیں تخلیق کی گئیں یہ لامحدودیت کی ابتداء نہیں تھی۔ وہ کثرت میں نہیں تھے اور نہ ہی یہواہ کثرت میں تھا۔ ایک اہم نقطہ جو علمِ سابق کے ساتھ اور عقیدہ تقدیر کے ساتھ نسبت رکھتا ہے جیسا پہلے بیان کیا جا چکا ہے۔ علمِ سابق کبھی بھی مواقعوں میں دخل اندازی نہیں کرتا یہ تینوں اصلاحات ‘‘ علم سابق ’’ ‘‘ پہلے سے طے شدہ ’’ اور ‘‘ قسمت ’’ ساری یا ایک نہیں بلکہ الگ الگ ہیں ۔ تینوں اصلاحات اپنی اپنی جگہ پر بالکل درست ہیں اور ناقابل تحویل ہیں ۔ ان اصلاحات کی تفسیروتشریح علم التفسیر میں الگ الگ کی جاتی ہے۔ جب سے بائبل مقدس میں توبہ کے بارے میں تعلیم تب سے اُن اصلاحات کو بھی وہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر قسمت کا عمل دخل ہے یا صرف چند چُنے ہوئے لوگ ہی آسمان کی بادشاہی کے وارث ہوں گے توکیوں ہر ایک بشر کو توبہ کا حکم دیا گیا ہے۔ ایک یہودی ادارے میں ایک ربی نے بیان کیا کہ عقیدہ تقدیر عبرانی توبہ کے بالکل برعکس ہے۔ اس نے مزید کہا کہ اصلاح شدہ پروٹسنٹ کا قسمت کا تصور بھی یہودی تعلیمات کے جوہر کے خلاف ہے جب سے یہودیت شروع ہوئی ہے۔

اُس کے ساتھ ساتھ عبرانی لفظ ‘‘ عہد ’’ یا ‘‘ گواہی ’’ دو فریقین کے درمیان میں معاہدہ ہے نہ کہ ایک ہی فریق ہے۔ یہواہ سرپرست اعلیٰ اور کریم ہے انسان اُسکے فضل کو وصول کرنے والا ہے۔ بالکل بالکل ‘‘ آزاد مرضی ’’ ہی صرف ایک ایسا وسیلہ ہے جِس سے انسان کی زندگی میں خُدا اپنے فضل کو کام کرنے دیتا ہے۔

جب یہودیت میں پھوٹ پڑی تو بہت سے فرقے ہونے کی وجہ سے اُن کی اکثریت نے ‘‘ قسمت ’’ جیسے عقائد کو اپنا لیا مثال کے طور پر یہودیوں کا ‘‘ اسینی ’’ فرقہ جو ایک بدعت ہے۔ انہوں نے اس ‘‘ عقیدہ تقدیر ’’ کو اپنایا۔ اور ایک عقیدہ وقوع میں آیا ۔ ‘‘ باپ آسمان اور ماں زمین ’’ یعنی آسمان باپ ’’ اور ‘‘ زمین ماں ’’  کی حیثیت سے جاننے لگے جس میں غناسائی تعلیم نظر آتی ہے جو مقدس توریت کی تعلیم کے بالکل برعکس ہے۔

‘‘ قسمت کا تصور ’’ عبرانی تعلیمات کا جوہر نہیں ہو سکتا۔ اگر توبہ صرف ایک دیا ہوا کردار جو انسان ‘‘ پتلی تماشا ’’ کے لیے انجام دیا گیا تو فرض کیا جا سکتا ہے کہ قادرِمطلق خُدا ایک دھوکہ رچا رہا ہے تو ‘‘ آزاد مرضی ’’ دینا ایک جھوٹا دعویٰ ہے اور یہ تو بالکل یہواہ خُدا کو ‘‘ چاند دیوتا ’’ کے مساوی بنا دیتا ۔ خُدا ڈرامہ نویس نہیں ہے اور نہ ہی وہ اداکار اور نہ ہی جنسی کج روی کرنے والا ہے کہ گمراہ کرنے والا ٹھہرے ۔

اگر سچا  ‘‘ ادونا کی یہواہ ’’ عدالت کرنے والا، انصاف کرنے والا، مسیحا اور عادل اور محبت سے بھرا ہے تو کیا وہ بنی نوع انسان کی اکثریت کو توبہ کا حیقیقی موقعہ دیے بغیر ابدی موت میں داخل کر سکتا ہے۔ عقیدہ قسمت یا تقدیر حقیقی یہودیت اور مسیحیت میں کہیں بھی اِسکی جگہ نہیں ملتی۔ عقیدہ تقدیر ایک پرسرار بدعت ہے اور یہ غیر اقوام کا شیوہ ہے۔ چوتھی اور پانچویں صدی میں قسمت کا عقیدہ ‘‘ پیلا گین ’’ کی بدعتی تعلیم کے خلاف بنایا گیا تھا۔ ‘‘ پیلا گیس ’’جو ایک الہیات دان تھا ایمان رکھتا تھا کہ تمام انسان پیدائشی غرض سے ‘‘ بے گناہ ’’ پیدا ہوتے ہیں اور وہ اِس قابل ہوتے ہیں کہ وہ بھلے یا برے کا چناؤ کریں ۔ اور اس امر میں خُدا کے کسی قسم کے فضل کی ضرورت نہیں۔ دونوں عقائد یعنی ‘‘ قسمت اور بے گناہ پیدائش ’’ مکمل طور پر غلط اور بدعت ہیں۔

مشہور مسیحی الہیات دان اگسٹین بڑے مضبوط طریقہ سے ‘‘ پیلا گین ’’ کے عقیدہ کی نفی کرتا ہے اور اِسکی جگہ قسمت کا ایک زبردست عقیدہ اسکے عقیدہ کے عوض دیتا ہے ۔ ۴۳۱ میں اغسٹین کی موت کے ایک سال بعد افسس کی کونسل نے با اختیار طور پر ‘‘ پیلا گین ’’ کے عقیدہ کو رد کر دیا۔ (۱) کلیسیاء نے حتمی دلائل کے ساتھ پیلا گین عقیدہ کی تردید کی۔ تاہم کلیسیاء نے تھوڑی مخالفت کے باوجود اگسٹین کے عقیدہ تقدیر کو صدیوں تک ‘‘ کلیسیائی مذہبی حکومت ’’ میں قائم رکھا۔ اگسٹین ایک قبول کرنے والا الہیات دان تھا۔ مگر وہ انسان ہوتے ہوئے حساس بھی تھا۔ کُچھ تبدیلیاں بھی اس کے عقیدہ میں بعد کے سالوں میں مسیحی الہیات دانوں نے کیں۔ دو اصلاحات ‘‘ سائنرگِزم ’’ (نجات میں انسان کی آزاد مرضی ) اور ‘‘ مونرگِزم ’’ کے عقائد عقیدہ تقدیر کی نسبت سے مسیحی الہیات میں کثرت سے رائج رہے۔ اس میں ‘‘ راسخ العتقادی ’’اور بدعت دونوں طرح کا عنصر پایا جاتا ہے۔ سائنرگزم بشمول پیلاگین ازم میں دو واضح بدعتی تعلیمات ہیں ‘‘ موروثی   گناہ کو رد کرتے ہیں ’’اور انسان کی رسائی کو اونچا اور بلندوبالا کرتے ہیں ’’ نیم پیلاگین ازم جو ایمان رکھتے ہیں کہ ( موروثی طور پر گناہ گار انسان تبدیل ہو گیا اور خُدا سے مفت نجات پا سکتا ہے۔) یہ دونوں بدعتی تعلیمات ہیں۔ (۲) سائنر گزم کی راسخ العتقادو شکل جیمس آرمینیس ( ۱۶۰۹ ۔ ۱۵۶۰ ) نے مرتب کی۔ اور اس اِس کو آرمینینازم کا نام دیا۔ آرمینین کی الہیات ‘‘ قصے اور حقائق ’’ راجر اِی آلس لکھتا ہے کہ

جیکب آرمینیس کو کلیسیائی تاریخ میں ایک ڈچ پادری اور الہیات دان کی حیثیت سے یاد رکھا جاتا ہے جس نے بہت سا کام لکھا۔ اس نے سائنر گِزم یعنی ( نجات میں انسان اور خُدا کا آپس میں ساتھ چلنے پر ایمان ) کو مونر گزم یعنی ( نجات میں مکمل طور پر خُدا ہی دخل اندوزی کرتا ہے ۔ ) کے دفاع میں تین بڑے والیم لِکھے جبکہ مونر گِزم مکمل طور پر انسان کی شمولیت کو نجات میں سے رد کرتے ہیں

آرمینیس کلیسیائی تاریخ میں پہلا حتمی سائنرگذٹ نہیں تھا،۔ تمام یونانی کلیسیائی بزرگ اور کیتھولک الہیات دان بھی کسی نہ کسی طرح کے سائنرگِزٹس تھے۔ (۳)

ابتدائی مسیحی کلیسیاء کی قیادت کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ مسیح کے رسولوں کے عقائد کی کڑی کو مِلانے والے تھے۔ آلس ابتدائی سائنرگذٹ کی سرگرمیوں کو جاری رکھتا ہے۔ جو درج ذیل ہیں ۔ فلپ میلان کتھن (۱۴۹۷۔۱۵۶۰)

مارٹن لوتھر جو ‘‘جرمن’’ میں اصلاح کار تھا ۔

میلان کتھن کے اثر لوتھریت پر تھا۔ بہت سے لوتھریت کے پیروکار پورے یورپ میں سائنر گذسٹ کے نجات کے تصور کی تائید کرتے ہیں ۔ غیر مشروط ‘‘عقیدہ قسمت’’ اور فضل کی قوت کی مزاحمت کرتے ہیں۔ آرمینین کی الہیات کے بھی اس بات کا پہلی دفعہ دعویٰ ‘‘متحدہ ریاست ’’(جو آجکل نیدر لینڈ کے نام سے جانا جاتا ) میں کیا تھا مگر بعد میں انہوں نے اِس کو انگلینڈ اور امریکہ کی گلیوں میں پھیلایا اور میتھوڈسٹ پر جان ویزلی کا بہت زیادہ اثر پڑا اور بہت سے ابتدائی میتھوڈسٹ ‘‘ جن کو جنرل میتھوڈسٹ کے نام سے بھی جانا ہے۔’’ آرمینائی تھے ۔ جیسا آج بھی ہیں۔ (۴)

 مزید یہ کہ بہت سے پینتیکاسٹل، اصلاح کار چرچز آف کرائسٹ، میتھوڈسٹ کی شاخیں بشمول ‘‘ پاکیزہ موومنٹ ’’ اور بہت سے بیپٹسٹ آرمینائی عقیدہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ (۵)

مگر اس کے برعکس مونرگزم کا عقیدہ ہے کہ صرف خُدا ہی نجات کے معاملہ میں دخل اندازی کرتا اور انسان اور خُدا کے درمیان نجات پانے کے عمل میں باہمی تعلق نہیں ہے۔

اگسٹین، کیلون، لوتھر اور کیتھولک کے مفکر مونر گزم کی ہی تائید کرتے ہیں ۔ (۶)

اصلاح کاری کے عرصہ میں مارٹن لوتھر‘‘  عقیدہ تقدیر ’’کے بارے کُشتی کی۔ اُس نے ‘‘آکھم ’’کے عہدہ کو قبول کیا جنکا ایمان ہے کہ ‘‘ایک شخص کی قسمت خُدا کے عِلم سابق سے تعلق رکھتی ہے کہ کیا کُچھ مستقبل میں اُسکی زندگی میں ہونے والا ہے۔’’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مارٹن لوتھر کو کلیسیاء میں کُشتی الہیات میں تبدیلیاں لانے کی ضرورت تھی۔ وہ حرفِ آخر نہیں تھا۔ مگر بعد میں لوتھر نے بھی ‘‘ آکھم ’’ کی آزاد مرضی کو تبدیل کر لیا اور اگسٹین کی الہیات کو اپنا لیا ۔ لوتھر اگسٹین کار ہب رہنے کے دوران ‘‘ پہلے سے طے شدہ ’’ اور ‘‘ عقیدہ تقدیر ’’ کی الہیات سے زیادہ متاثر تھا۔

نیوکلئیس جو اصلاح کار ہے اسکی الہیات کی جڑیں بھی اگصٹین کی الہیات سے ملتی تھیں۔ جسکی جڑیں مِینی چین کی فلاسفی اور فارسی عِلم فلکیات عقیدہ قسمت کی بدعتی تعلیم میں تھیں۔ اگسٹین نے ابتدائی ‘‘ میِنی چین ’’ فلاسفی کے ساتھ اپنی بائبلی الہیات کو شامل کر لیا اور ایک دوغلی الہیات وقوع میں آئی۔ ایک دوسرے مشہور اصلاح کار جان کیلون نے تاکیدی طور پر اگسٹین کے ‘‘ عقیدہ تقدیر ’’ دوہرے ایمان کو اپنایا۔ کیلون کی حیثیت کو فریڈ کلو سٹر نے اپنی کتاب ‘‘ کیلون کا عقیدہ تقدیر ’’میں ذکر کیا ہے۔ ہم قسمت کو خُدا کا حتمی فرمان کہتے ہیں کیونکہ اُس نے وہ سب کُچھ جو وہ ہر انسان کے ساتھ کرنا چاہتا ہے کیا۔

کیونکہ سب کو ایک جیسی حالت میں پیدا نہیں کیا گیا۔ علاوہ ازیں ابدی زندگی کُچھ لوگوں کے لیے پہلے سے طے شدہ ہے۔ اور ابدی دوزخ کی آگ دوسروں کے لیے ہے چنانچہ جیسے ایک شخص ایک یا دوسری آخرت کے لیے تخلیق کیا گیا ہم اُسے قسمت کی لکھی ہوئی موت یا زندگی کہتے ہیں۔ (۷)

یہ اگسٹین ہی تھا جِس نے قسمت اور تقدیر کے عقیدہ کو مسیحیت میں فروغ دیا اور اس وقت سے دوسری کلیسیائی قیادت نے بھی اُسی کی پیروی کی ۔ اگسٹین اپنے قسمت کے عقیدہی کے بارے اتنا سرگرم تھا کہ دعویٰ کرتا تھا کہ جتنے بچے ‘‘بپتسمہ’’ بچپن میں نہیں لیتے، جہنم کے لیے طے کر دیے گئے ہیں ۔جان کیلون نے اِسی بات کی تائید کی اور دلائل دیے کہ اگر کوئی معصوم بچہ بپتسمہ نہیں لیتا خُدا اُس بچے کو ‘‘قسمت’’یعنی ‘‘طےشدہ’’ طریقے سے نہیں بچاتا ہے۔ اُس کے برعکس داؤد بادشاہ کے لڑکے کے مرنے کے بعد وہ پورے ایمان سے اُسکو دوبارہ مِلنے کی اُمید کرتا ہے کہ اِس زندگی کے بعد وہ آگے بھی موجود ہو گا۔

تاریخی ثبوت اور شہادتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ جان کیلون کو جینوا کا پوپ مانا جاتا تھا کیونکہ اسکا قِسمت کے بارے تصور بنیادی طور پر رومن کیتھولک کے سکالر اگسٹین اور اسکے جھوٹے عقیدہ کے نظام کے ساتھ مماثلت رکھتا تھا اگسٹین نے ( مینی چین ) کے قسمت کے تصور کو لیا جسکی جڑیں بابلی عِلم فللکیات میں پیوست تھیں۔ اگرچہ اگسٹین نے ستاروں کے عِلم کو رد کیا اور عِلم نجوم کی مکمل تردید کی مگر وہ قسمت کے عقیدہ پر ثابت قدم رہا۔

اسلام اور اگسٹین کی الہیات میں ‘‘انسان’’ابدیت کی شطرنج میں ایک مہرہ ہے ۔اس طرح خُدا جو انسان سے توبہ کی توقع کرتا اور کہتا ہے ہے خُود ہی دھوکے باز منصوبہ ساتھ نظر آتا ہے ۔ عقلی آراء بھی یہی کہتی ہیں کہ ہر ایک چیز لکھی ہوئی پہلے سے طے شدہ ہے اور اس ڈراما کو لکھنے والا خُود یہواہ ہے۔
انسان کُچھ بھی نہیں ہے صرف ایک کہانی کے کردار ہیں اور طے کردہ پُتلیاں ہیں جنکی ہر ایک حرکت پہلے سے طے شدہ ہے۔ توبہ کرنا صرف تعمیر کرنا ہے اور اپنے آپکو فریب دیتا ہے۔

اور اِس سمجھ کے مطابق تو توبہ بالکل بے سود ہے۔ توبہ کے بعد بھی انسان بے بس ہے اُس کا کوئی نہیں ہے کیونکہ وہ ایک پتلی ہے وہ رضاکارانہ کردار نبھا رہا ہے اصل میں اُسکی اپنی کوئی مرضی نہیں ہے روحانیت کے مطابق زندگی کی قسمت کا دارمدار ستاروں میں ہے اور ہر چیز کا انحصار قِسمت پر ہی ہے کیونکہ انسان جو ایک پتلی تماشہ اور اُسکے پیدا ہونے سے پہلے ہی ہر چیز سیکھی جاتی ہے ۔ اس سبب سے ہر انسان قسِمت کے پھندہ میں پھنسا ہوا ہے۔ اِس طرح ہر شخص شخصی طور پر پہلے سے طے شدہ قسمت پر کردار ادا کرتا ہے۔ جیسے‘‘  نئی عمر کے روحانی  ’’ لوگ کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آپکو خُدا کی قسم دے کر کہتے کہ ہم کائنات میں ستاروں کی حرکات و سکنات کے مطابق کام کرتے ہیں ۔

اس کا یہ مطلب ہوا کہ خُدا ہی تمام گناہوں کے سرزد ہونے کا مرتکب ٹھہرتا ہے۔ یہ عقیدہ  ‘‘پینتھی ازم ’’یعنی ( کائنات کو خُدا ماننے والے ) کے ساتھ پوری مماثلت رکھتا ہے ۔

اس قسمت والی کائنات میں ہر شخص ایک ڈرامہ کرنے والا ہے جو ہر قِسم کی آزاد مرضی کی تردید کرتا ہے۔ اس حقیقت کے تصور کو قبول کرتے ہوئے ہر شخص گناہ کرکے معزرت کر سکتا اور کہہ سکتا ہے اوہ یہ تو پہلے سے لکھا ہوا تھا اِس لیے ہونا ہی تھا یہ میری مرضی سے نہیں ہوا تھا۔ جیسے آدم نے حوا پر الزام لگایا اور حوا نے شیطان پر بالکل اِسی طرح شیطان بھی خُدا پر سارا کیا کرایا ٹھونس سکتا تھا اور اس زمین پر ظلم برپا ہونے کا ذمہ دار خُدا کو ٹھہراتا ۔

یہ ساری بات اس طرح بنتی کہ خُدا تمام بدیوں اور بد کرداریوں کا گروہ ہے ۔

تاہم مسلمان ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو حقیقی آزاد مرضی نہیں دی مگر دوسری طرف آرمینیس اِس کا حاصل یہ نکالتا ہے کہ ہر عقیدہ جو کہتا ہے کہ انسان کی گراوٹ پہلے سے طے شدہ تھی، کلامِ مقدسین اِس کی تردید کرتا ہے کیونکہ اس طرح خُدا ہی گناہ کا لکھاری اور مصنف ٹھہرتا ہے۔ (۸)

پھر اِس تمام پروٹسٹنٹ اصلاح کاری جو کیلون کی تعلیم پر قائم ہے کیا کیا جائے اُسکی سیدھی سیدھی کڑی اسلام کے ساتھ ملتی ہے۔ یہ بھی رومن کیتھولک کے اگسٹین کی پڑھائی ہوئی قسمت کی بالکل وہی کڑی ہے جسکی تائید مارٹن لوٹھر نے کی اور پھر جان کیلون نے جس نے پروٹسٹنٹ کلیسیاؤں میں اِسی عقیدہ قسمت کو مزید پروان چڑھایا۔

یہ عقیدہ بائبل کے خُدا کے ساتھ کِسی قسم کا کوئی باہمی تعلق ظاہر نہیں کرتا۔

یسوع مسیح نے اپنے فضل کو جاری کرکے ہر شخص کو شخصی زندگی بخشی تاکہ وہ اپنی آزاد مرضی سے کفارہ پر ایمان لا کر گناہوں کی معافی حاصل کرکے ابدی زندگی کا وارث بنے ۔ اگر ہر شخص کی حیثیت پہلے سے طے شدہ تھی تو یسوع مسیح کیوں انسان کے لیے صلیب پر مرا اور کیوں وہ سب کا نجات دہندہ بنا ۔

اگر یہ صرف ڈرامہ ہی ہے تو خُدا تو بالکل دیوانہ ہے جو صرف اپنی مرضی ہی چلاتا اور انسان کی مرضی کو قبول نہیں کرتا۔ اس طرح خُدا تو قیصِر روم ہی کی طرح لگتا ہے۔ جو اپنی ہی من مرضی کرتا تھا۔ یہواہ خُدا اِس طرح کی باتیں جو خلافِ عقل اور محض دھوکہ دہی ہے نہیں کرتا۔ اُس نے انسان کو حقیقی آزاد مرضی بخشی ہے۔ خُدا کے فضل کے تحت جو کوئی اُسکی حقیقی قربانی کو قبول کرتا ہے ابدی زندگی کا وارث ٹھہتا ہے۔

اگسٹین کا عقیدہ تقدیر، کیلون، اور دوسرے کلیسیائی قائدین مکمل طور پر ‘‘خُدا کی محبت ’’ سے مطابقت نہیں رکھتے۔ ایک آزاد مرضی جو خُدا کے فضل سے حاصل ہوئی خُدا کا نسلِ انسانی کے لیے بہت بڑا تحفہ گردانی جاتی ہے۔ عقیدہ تقدیر اِس کو مکمل طور پر منسوخ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ بشارت کی ضرورت کا جواز ہی ختم ہو جاتا ہے۔ کیونکہ ہر شخص کی جگہ جنت یا دوزخ کا تعلق تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔

افسوس ناک بات یہ ہے کہ بہت سے مسیحی لیڈر کلام مقدس کی تابعداری کی بجائے اپنے مال، عزت اور دولت کی حفاظت زیادہ کرتے ہیں۔ مگر جب اُنکا سامنا جھوٹی تعلیمات کے ساتھ ہوتا ہے تو وہ سادہ دِلی سے جواب دیتے ہیں کہ ہماری قیادت اِس بات کی تائید کرتی ہے ۔ اس طرح وہ خُدا کی بجائے آدمیوں کی سُنتے اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور وہ نازیبا طور پر روایات کی پیروی کرتے ہیں۔ جیسا مسلمان فلکیات کے جھوٹے دیوتا اللہ کی پیروی اندھا دھند کر رہے ہیں۔

مشہور کلیسیاء راہبر جان ویزلی اور جان سمتھ نے ایک بائبلی تصور پیش کیا۔ ویزلی کی الہیات کی بنیاد ‘‘فضل کی مزاحمت’’ کے اصول پر تھی۔ جِسکا مطلب یہ تھا کہ ‘‘نجات حاصل کرنے کے لیے توبہ کے لیے پہلے سے قائلیت ہونے کی ضرورت’’ ویزلی نے ہمیشہ شِدت پسند الہیات عقیدہ تقدیر کو کلام ِ مقدسین کی روشنی میں غلط ثابت کیا۔

اسکے تقاضہ اُس کے مشہور وعظ ‘‘۱۲۸ ۔ مفت فضل’’ظاہر ہوتا ہے جو اُس جو اُس نے برسٹول (۱۷۴۰) میں تبلیغ کیا۔ ویزلی قائلیت کے ساتھ تبلیغ کرتا ہے کہ اِن حوالہ جات کی تفسیر صاف صاف اِس طرح بھی ہے جس طرح تمام نیا عہدنامہ کا طریقہ ہے یعنی چند حوالہ جات اِس طور سے ہیں۔ ‘‘جِس کے واسطے مسیح موا اسکو تو اپنے کھانے سے ہلاک نہ کر۔’’(رومیوں ۱۴: ۱۵ )یہاں واضح ثبوت ملتا ہے کہ مسیح موا ہے نہ صرف اُن کے لیے جو بچائے گئے بلکہ اُن کے لیے بھی جو ہلاک ہونے والے ہں۔ وہ دنیا کا ‘‘نجات دہندہ’’ ہے (یوحنا ۱۴ : ۴۲ ) وہ ‘‘ دنیا کے گناہوں کی خاطر خُدا کا برہ ہے۔’’(یوحنا ۱ : ۲۹ )

‘‘ اور وہی ہمارے گناہوں کا کفارہ ہے اورنہ صرف ہمارے ہی گناہوں کا بلکہ تمام دنیا کے گناہوں کا بھی۔’’ ( ۱۔ یوحنا ۲ : ۲ ) ‘‘ کیونکہ ہم محنت اور جانفشانی کرتے ہیں کہ ہماری اُمید اُس زندہ خُدا پر لگی ہوئی ہے جو سب آدمیوں کا خاص کر ایمانداروں کا منجی ہے ۔ ’’ ( ۱۔تیمتھیس ۴ : ۱۰ )

‘‘ جس نے اپنے آپکو سب کے فدیہ میں دے دیا۔۔۔۔’’( ۱۔ تیمتھیس ۲: ۶ ) ‘‘ اُس نے ہر ایک آدمی کے لیے موت کا مزہ چکھے۔’’ ( عبرانیوں ۲ : ۹ ) (۹)

ویزلی ایمان رکھتا تھا کہ ہر شخص اپنے طور پر خُدا کے جاری کردہ فضل کے نیچے آسکتا ہے اور اپنی آزاد مرضی کو استعمال کرکے قبول کرنے کی صورت میں نجات اور رد کرنے کی صورت میں ابدی موت حاصل کر سکتا ہے۔

آرمینائی لوگوں کے خلاف ایک بات مشہور ہے وہ کہتے ہیں کہ آدم کے گناہ کی وجہ سے تمام نسلِ انسانی گناہ کے نیچے نہیں آسکتی ہے۔ آرمینیس اپنے آپکو اپنے کاموں (اعمال) سے ہی بالکل صاف بنا سکتا ہے۔

لوگوں کا مناظرہ:۔

اس بیان میں انسان کی آزاد مرضی سے بھلا کام (نیکی) نہ صرف زخمی کرتا، بگاڑتا اور کمزور اور ناتواں کرتا ہے بلکہ یہ انسان کو قید کرکے برباد اور داغ لگاتا ہے۔ اور اُسکی قوت بے سود ہونے کے علاوہ خُدا کے فضل کو بھی جھٹلاتی ہے۔ لیکن اِسکی قوت نہیں ہے خُدا کے فضل کی الہیی قوت ہی سب کُچھ ہے۔ (۱۰)

آرمینیس و ثوق سے کہتا ہے کہ انسان گناہ کے بندھن میں جھکڑا ہوا ہے وہ اپنے آپکو کِسی صورت میں نہیں بچا سکتا اگر خُدا کا فضل اسکی طرف سے جاری نہ ہو۔

ویزلی اِس بات کو اس طرح سے دیکھتے ہیں کہ انسان اپنے کاموں سے حتیٰ الوسع نجات کی سیڑھیاں چڑھتا ہے ۔ ویزلی اور آرمینیس راسخ العتقادی کی مکمل پابندی کرتے ہیں اُن کا ایمان ہے کہ بنی نوع انسان مکمل طور پر گناہ کے بندھن میں بندھا ہوا اور صرف خُدا کے فضل سے ہی نجات پا سکتا ہے۔ اِن کا کہنا ہے کہ نجات کا انعام کوئی شخص کما نہیں سکتا بلکہ صرف حاصلِ (وصول) کر سکتا ہے۔

آلس کہتا ہے کہ رُوح القدس دِلوں اور ذہنوں پر کام کرتا اور لوگوں کو خُدا کے بارے کُچھ جان کاری دیتا یعنی خُدا کی برکات اور رحمتوں کے بارے بتاتا اور انہیں توبہ کے لیے بلاتا ہے۔ آرمینیس کی سخت تعلیم خُدا کے فضل کی مزاحمت کرتی ہےجو کیلون کے پیروکار بھی مانتے ہیں۔ مگر آرمینیس اِسکی وضاحت فرق طریقہ سے کرتا ہے توبہ سے پہلے فضل سادہ طریقے سے قائل کرتا، بلاتا، چمکاتا اور خُدا کے فضل کے قابل بناتا ہے جو زندگی تبدیل ہونے سے پہلے توبہ اور ایمان کو ممکن کرتا ہے۔ کیلون کے پیروکار اِسکی وضاحت اِس طرح سے کرتے ہیں کہ یہ اٹل اور کارگر اُس شخص کے لیے ہوتا ہے جو توبہ کرے اور نجات پر ایمان رکھے۔ آرمینیس اِس طرح کہتا ہے کہ لوگ ہمیشہ خُدا کے فضل کی مزاحمت کرتے ہیں۔ جیسا کلامِ مقدس تنبیہ کرتا ہے۔ ( اعمال ۷ : ۵۱ ) لیکن ‘‘توبہ سے پہلے فضل ’’کے بغیر وہ فطری عمل کے مطابق سخت اور سنگدل ہونے اور خُدا کی مرضی کو تکفیر گناہ کے غلام ہونے کی وجہ سے کرتے ہیں۔ (۱۱)

کیلون کے مطابق خُدا انکو جنکو بغیر کِسی طرفداری کے نجات کے لیے چنتا ہے شخصی طور پر انکی مرضی کو تبدیل کرتا ہے۔ یہ کِس طرح کا تعلق ہے؟ بائبل مقدس کا خُدا کیا اپنی مخلوق کے ساتھ ایسا ہو سکتا ہے وہ جو خواہش کرتا ہے کہ اُسکا اپنی مخلوق کے ساتھ حقیقی تعلق ہو ۔ نہ کہ ایسا تعلق جیسے کِسی غلام یا پتلہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ آرمینیس اپنے خالق کے نجات کے کاموں کو اُسکی محبت کے عجائبات، رحم عدالت ، انصاف اور شخصی تعلقات سے محسوس کرتا ہے۔

پہلے سے مقرر کردہ قسمت کا احاطہ کرتے ہوئے اِسکا نظارہ عقلی طور پر خُدا کی مداخلت کے لیے دعا کے لیے ارادہ کرنا اور معجزات اور نجات کے لیے دُعا کرنا بے جا اور فضول ہو گا۔ کون خُدا کے متعین کئے ہوئے کو ناکام کر سکتا ہے؟ کیوں منادی کی جاتی ہے؟ حقیقت میں انسانیت کا مقصد کیا ہے اگر ہر چیز پہلے سے متعین ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جو اصلاح کار مسیحی شاخوں کو اسلام سے ملاتے ہیں۔ آٍعمینائی الیات میں دلائلی جھوٹ پائے جاتے ہیں۔

کُچھ الہیات دان یہ بحث کرتے ہیں کہ خُدا چند چُنے ہوئے اور پہلے سے متعین لوگوں پر ہی نجات ٹپکا سکتا ہے۔ ایک طرح سے یہ دلیل دُرست بھی ہے تاہم وہ جو آرمینائی الہیات کی پیروی کرنے والے کہتے ہیں کہ صرف خُدا ہی نجات دے سکتا اور یہ یک طرفہ ہے اور یہ پہلے سے طے شدہ فضل کی بدولت ملتی ہے۔ مگر یہ بات ذہن میں رہے کہ فضل دعاؤں کے وسیلہ سے آتا ہے یہ دُعا مقدسین کر سکتے ہیں یا پھر وہ لوگ جو نجات پانے سے پہلے خُدا کے سامنے نالش کرتے اور اُنکی رُوحانی آنکھیں کُھلی ہیں وہ کر سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ یہ خُدا کے بنائے ہوئے وہ ہتھیار ہیں جو شخصی طور پر قائلیت رکھتے اور روح القدس کی قائلیت اُنکے اندر ہو اور وہ خُدا کے کلام کے وسیلہ فیصلہ کن حالت پر پہنچے ہوں۔ یہ لوگ زبردستی خُدا کی طرف راغب نہیں ہوئے۔ مگر خُدا کی بے پناہ محبت جو تمام نسلِ انسانی کے لیے ہے، انکو مسیح کے پاس لے آئی۔ (یوحنا ۳ : ۱۶ ) ہر انسان کی اپنی آزاد مرضی ہے وہ اپنی مرضی سے انکو قبول یا رد کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم اگر خُدا نے ہر چیز کو پہلے سے مقرر کر دیا ہے اور صرف خُدا چند خاص لوگوں کا ہی چناؤ کرتا ہے تو انسان کا ارادہ تو بے کار ہو گا۔ اور اِس طرح غیر ایمانداروں کے لیے دُعا کرنا بے سود اور بے فائدہ ہو گا۔ یہواہ خُدا کی یہ پاک مرضی ہے کہ ایماندار تمام غیر ایماندروں کے لیے شفاعت کریں۔ خُدا کی تحریک سے پولس رُسول لکھتا ہے۔

‘‘ یہ ہمارے منجی خُدا کے نزدیک عمدہ اور پسندیدہ ہے وہ جانتا ہے کہ سب آدمینجات پائیں اور خُدا کی پہچان تک پہنچیں ۔’’ ( ۱۔ تیمتھیس ۲ : ۳ ۔ ۴ )

پطرس اس بارے کہتا ہے کہ خُداوند اپنے وعدہ میں دیر نہیں کرتا جیسی دیر بعض لوگ سمجھتے ہیں بلکہ تمہارے بارے میں تحمل کرتا ہے اس لیے کہ کِسی کی ہلاکت نہیں چاہتا بلکہ یہ چاہتا ہے کہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔( ۲۔ پطرس ۳ : ۹ ) یہ بالکل صاف ہے کہ خُدا ‘‘چاہتا’’ ہے کہ ‘‘تمام’’ لوگ نجات پائیں۔ شاگردوں نے ایک دفعہ یسوع مسیح سے کہا ہم کیسے دُعا کریں ؟

یسوع مسیح نے فرمایا جب تم دُعا کرو تو کہو ‘‘ اے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے ، تیرا نام پاک مانا جائے تیری بادشاہی آئے تیری مرضی جیسی آسمان پر پوری ہوتی زمین پر بھی ہو’’ (لوقا ۱۱: ۲ ) عقلی طور پر آکر دیکھا جائے تو ایک ایماندار خُدا کی مرضی پوری ہونے کے لیے دُعا کر رہا ہے۔ اور اُسکی مرضی یہ ہے کہ تمام نسلِ انسانی ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے۔ صرف اُس کے کلام پر ایمان لانے کے وسیلہ سے ۔ خُدا جھوٹا اور دھوکے باز نہیں ہے۔

اُسکی مرضی بائبل مقدس کی تعلیم سے واضح نظر آتی ہے کہ اُسکی خواہش ہے کہ تمام بنی نوع انسان نجات پائے۔ جان سمتھ وہ اینگلیکن پادری تھا جس نے بپٹسٹ کلیسیائی بنیاد رکھی۔ اور اُس تعلیم کو ‘‘ عام کفارہ ’’کہا۔ ویزلی اور سمتھ کی تعلیمات کی جڑیں اتنی مضبوط بائبلی بنیادوں پر تھیں کہ محبت بھرے خُدا کے لیے ایک گھر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ جبکہ دوسری بدعتی تعلیمات کہتی ہیں کہ خُدا قہر اور عذاب سے بھرا ہوا ہے اور اُس نے نسلِ انسانی کی بہت بڑی تعداد دوزخ کی ابدی آگ کے لیے پیدا کی اور وہ کِسی قسم کی تبدیلی اپنی مرضی سے اس میں نہیں لا سکتے ۔ انسان کا چناؤ خُدا کی دی گئی آزاد مرضی سے فضل کے ذریعے ہوتا ہے اور اُسکا اپنا ایمان اُسکی منزل کا تعین کرتا ہے۔ اس طرح خُداوند یہواہ خُدا کی عدالت بھی اُسی چناؤ پر منحصر ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ انسانوں کی اکثریت اِس رسائی کو رد کرتے ہیں ۔ اور خُود ہی چند لوگوں کا تعین کرتے ہیں کہ وہ نجات پائیں اور خُود اِس بڑی نجات سے غافل اور عاری ہو جاتے ہیں ۔ بائبل مقدس تصدیق کرتی ہے کہ یہ خُدا کی مرضی نہیں ہے کہ کِسی فردِ بشر کی ہلاکت ہو بلکہ سب کی توبہ تک نوبت پہنچے۔ عقیدہ قسمت کو بائبل مقدس میں واضح طور پر رد کیا گیا ہے مگر یہ آج بھی مسیحی کلیسیاؤں میں رائج ہے۔ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ ویزلی اور سمتھ کی تعلیمات غیر قسمتی خُدا کی تصویر کو پیش کرتی تھیں یقینی طور پر وہ نہ صرف مسیحی الہیات دان ہی تھے جو انسان کی آزاد مرضی کے حق میں تھے بلکہ ان کی تعلیم کی جڑیں یہودی پختہ ایمان میں تھیں جو آج تک بھی مروج ہے کہ تو بہ کے بغیر نجات نا ممکن ہے۔ پہلی صدی کے ابتداء کی ایماندار یہودی نو مرید مسیحی کِسی قسم کی قسمت کی تعلیم کو نا قابلِ قبول سمجھتے تھے۔

‘‘ عقیدہ قسمت ’’ کے لحاظ سے ویزلی اور سمتھ دوسرے تمام اصلاح کاروں سے معزز نظر آتے ہیں جہنوں نے تحقیر آمیز مستند عقیدہ قسمت کو آگسٹین کے تصورات سے حاصل کیا۔ یہ کِسی مصنف کا اپنا ارادہ نہیں کہ کلیسیائی روایت اس طرح سے ہو کیونکہ اُن کی بہت سی تعلیماتی تصحیح جو بہت ہی ضروری تھی انہوں نے بڑے دلیرانہ انداز میں کلیسیائی تاریخ میں نبھایا۔

تاہم جب کِسی عقیدہ یا مسئلہ کا تعلق نجات کے ساتھ ہو تو کوئی بھی سادگی سے غلطی نہیں کر سکتا۔ مسیحیت کو نجات کے اندرونی تصور کے بارے متحد ہونے کی ضرورت ہے تاکہ اسلام کی جھوٹی مستند تعلیم کا سامنا کر سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اِن الہیات دانوں میں سے بہت سے الہیات دانوں کے تصورات اسلام کے تصورات سے ملتے جلتے ہیں جبکہ یہ بات طے ہے کہ اسلام مخالفِ مسیح نطام ہے دنیا کے لیے کوڑا ہے۔

لوتھر، کیلون، وائٹ فیلڈ اور ویزلی تمام اِس بات کو مانتے ہیں کہ اسلام کی جابرانہ حکومت کلیسیاء کے لیے حقیقی خطرہ تھا۔

اسلام اور مسیحیت میں ‘‘ عقیدہ قسمت ’’ کا تقابلی جائزہ

مسلمانوں کے عقیدہ قسمت کی جڑیں عربوں کی بدعتی تعلیمات میں ہیں ۔ ‘‘ کعبہ ’’ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں بتایا گیا ہے ہر سال بعد ایک بُت کی حیثیت سے پوجا جاتا ہے۔ کیونکہ ستاروں کا تعلق مقدر (قسمت) کے ساتھ ہے یہ قابلِ ذکر ہے کہ اللہ کی تین بیٹیوں میں سے ایک ‘‘مانت’’ کو قسمت کی دیوی کہا جاتا ہے۔ یہ ستاروں کی بدعت بابل میں پروان چڑھی اور ان کو بائبل مقدس کے صحائف نے مکمل طور پر رد کیا ہے اسلام کی تعلیم کے مطابق، ہر شخص کی پیدائش پر ایک فرشتہ اسکی منزل کا تعین کرتا ہے۔ حدیث بیان کرتی ہے کہ اللہ نے ایک فرشتہ کو حکم دیا کہ چار چیزیں لکھ ! نئے پیدا ہونیوالے انسان کے بارے یعنی اس کے ‘‘ کام ’’ ‘‘ اس کا روز گار ’’ ‘‘ اُسکی موت کا دن ’’اور اس کے علاوہ یہ بھی لکھ کہ وہ بابرکت ہو گا یا ‘‘ بے چارہ’’ ہو گا۔ پھر اس کے جسم میں روح پھونک۔ اس طرح جو شخص اچھے کام کرتا ہے اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک پردہ ہے اور تب جو کُچھ اس کے بارے لکھا گیا ہے کہ وہ کیا فیصلے کریگا اور اُسکا رویہ کیسا ہو گا اور اُسکے ستارے بدی کریں گے یا بدی کے کام کریں گے اور اس طرح وہ جہنم کا وارث ہو گا ۔ اور تب یہ بھی لکھا گیا کہ اس کے فیصلے اور رویے اور اس کے ستارے اچھے کام کریں گے اور اس طرح وہ جنت کا وارث ہو گا۔ (۱۲)

یہ پیراگراف ‘‘پہلے سے طے شدہ ’’ ‘‘قسمت’’ کے بارے واضح تعلیم دیتا ہے۔ اور ایک اور دوسری حدیث سے محمد کا پیغام واضح نظر آتا ہے۔ نبی نے کہا: اے آدم تو نے اپنی اولاد کو جنت میں سے باہر نکالا۔ آدم نے کہا تم موسیٰ ہو جس کو اللہ نے اپنے پیغام اور اپنے ساتھ براہِراست بات کرنے کے لیے چُنا۔ تم مجھ پر الزام اُس بات کے لیے لگاتے ہو جو میرے لیے پہلے ہی طے تھی اور میرے پیدا ہونے سے پہلے ہی طے ہو چکی تھی؟ اِس طرح موسیٰ پر غالب آیا۔(۱۳)

حیران کن بات یہ ہے کہ اللہ نے دنیا کے پہلے انسان آدم کو بغیر چناؤ اور اُسکی مرضی کے گناہ گار ٹھہرا دیا۔ بغیر راستبازی اور فرماں برداری کے اُسکو گناہ گار ٹھہرایا۔ پہلے سے مقررکرنا، انسان کو گناہ گار ٹھہرانے میں اللہ کا حکم شامل ہے۔ اِس طرح اللہ ایک (شیطان) اور نا اہل اور بدکار دیوتا کی ضرورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ دنیا میں گناہ لانے کا سبب اُنکو جہنم میں پہنچانے کا فیصلہ انسان کی مرضی کے بغیر اللہ ہی نے کہا۔محمد کے ایک پیروکار نے اِس عقیدہ کے تعلق سے سوال کیا ۔ایک حدیث میں ہے کہ ‘‘ اے اللہ کے رسول ! لوگ کیوں اچھے کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں؟ نبی نے کہا ! ہر شخص اس طرح کے کام کرکے اُسکی منزل کا تعین کرتے ہیں ۔ جیسا وہ خُود بناتا ہے۔(۱۴)

اِس طرح محمد کی تعلیم سے واضح ہوتا ہے کہ اچھے کام کرکے انسان جنت حاصل کر سکتا ہے اُسکے اپنے عقیدہ (قسمت) کی نفی ہو جاتی ہے۔ اِس طرح کی نامناسب اور نا مطابقت کو مسلمان خُود بھی قبول نہیں کریں گے۔ اسلام کے مذہب میں جنت میں داخل ہونے کا راستہ صرف اُسکی نیکیاں ہیں۔ تاہم اسلامی عقیدہ قسمت میں ہر شخص کے موجود ہونے سے پہلے اسکو جنت یا دوزخ سونپ دی گئی ہے۔ عقیدہ قسمت انسان کے ہر طرح کے اچے نیک کاموں کی تردید کرتا ہے اسلام اور اگسٹین کی بدعتی تعلیم (عقیدہ قسمت) دونوں بائبل مقدس کی حقیقی تعلیمات ( یعنی خُدا کی خوبصورت فطرت اور کردار) کے خلاف ہیں۔ اگر خُدا نے انسان کو آزاد مرضی نہیں بخشی تو وہ دھوکےباز اور نظر انداز کرنے والا خُدا ، اللہ کے مساوی جانا اور سمجھا جائیگا۔

یہواہ نے حکم دیا ! میرے فضل سے توبہ کرو۔ ہر شخص اپنی حقیقی مرضی کو استعمال کرکے خُدا کے فضل کا حق دار ہو سکتا ہے اور اِسی سے اُسکی آخری منزل کا تعین کیا جائیگا۔

ہر شخص روحانی اعتبار سے عمل پیرا ہو کر نجات کی خوشبری پا سکتا ہے۔ کوئی مرد یا عورت فیاضی کے ساتھ اپنی نجات کو اپنے اچے کاموں سے حاصل نہیں کر سکتا اور نہ ہی کوئی اپنی مرضی سے اپنے آپکو بچا سکتا۔ یسوع مسیح کا کفارہ ، رُوحانی فرماں برداری کا تقاضہ کرتا ہے نہ کہ شریعت اور جسم کے کام کی ۔

توہم قرآن اور حدیث میں بے شمار حوالہ جات عقیدہ قسمت کے تعلق سے شامل ہیں۔ جیسا لکھا ہے کہ ‘‘ جسکو اللہ نے گناہ دے دیا وہ اپنی مرضی سے یا کوشش سے اللہ کی مخالفت نہیں کر سکتا۔ وہ اپنے دِلوں کو صاف نہیں کر سکتے۔ اور ان کے لئے آخرت میں دہشت ناک فرمان ہے۔ (قرآن ۵ : ۴۱ )

اسلامی تحاریر میں عقیدہ قسمت کے تصور میں ابدی منزل کی بنیاد کافرانہ بدعت کی کوشش ہے۔ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ تاروں جیسی بدعت یعنی کعبہ ، محمد کی فلکیات کے کافرانہ مذہب کی ترقی میں پیش ہے۔

اسلام میں جہنم کے برزخ کا تصور

اسلام میں برزخ کا تصور بالکل ابتدائی رومن کیتھولک جیسا ہے۔ اسلام نے برزخ کا نظام رائج کیا ۔ کہ کِس طرح برزخی نظام سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔

پروٹسٹنٹ بائبل اور ابتدائی کلیسیائی قیادت کِسی قسم کی برزخ کے ذریعہ نجات کی تائید نہیں کرتے۔ رومن کیتھولک کلیسیاء ، اپنے بڑے گرجا گھروں کی تعمیر کے لیے اور کلرجی کے لیے بے حد آمدنی کو ترتیب سے اکٹھا کرتے ہیں ۔ اس جھوٹ تعلیم کو پھیلا کر کہ برزخ میں اِسکا اجر غلہ گودام اور بہت بڑی دولت کی صورت میں ہوگا۔ مارٹن لوتھر پروٹسٹنٹ قائدانہ تھا۔ ا‘س نے اس خلافں فطرت روایت کے خلاف آواز بلند کی اور یویوں کے لیے پیسہ اکٹھا کرنے کی روایت کو نا منظور کیا۔ ہر کوئی شخص اپنی دِل جوئی سے پوپ کی اجازت سے اپنے لیے برزخ یا ‘‘دوزخ ’’خریدسکتا ہے۔ یہ بات حیران کن ہے کہ اگر کسی نے خُون بھی کیا ہے تو وہ (معافی نامہ ) بخشش کو خرید سکتا ہے مگر اُسکی قیمت ٹھیک دینی پڑے گی۔ پوپ گریگری اول نے پانچ سال اِن الہیات کا تجزیہ کرنے کے بعد برزخ کے عقیدہ کا باقاعدہ اعلان کیا۔ نائن کی کونسل سے پہلے ابتداء کی کلیسیاء کی قیادت نے بائبل کے متن سے متعلق عقیدوں کو مذہبی حکومت نے نظر انداز کیا اور اِس غلط عقیدوں کو رائج کیا۔ اسکا مقصد صرف یہی تھا کہ لوگوں کو روحانی طور پر ورملہ کرانکی محنت سے کی گئی کمائی کو یادگار بڑے بڑے گرجاؤں کی تعمیر اور فضول آرائشوں والی زندگی گزارنے کے لیے استعمال کیا جائے۔

پہلی صدی میں اور بھی بہت سی غلط (بدعتی) تعلیمات رائج کی گئیں۔ مگر وقت کے عظیم مسیحی الہیات دانوں نے اِن کو شکست دی۔ تاہم بہت سی بدعات چرچ (کلیسیاء) میں شامل ہو گئیں اور بہت سہ محمد کے وقت سے یعنی قریباً چار سو سالوں سے بھی شامل کی گئیں۔

مگر محمد نے بدعات اپنے نئے مذہب میں شامل کر لی۔ یسوع مسیح کے عظیم کفارہ کی تکمیل کے ضد میں کلیسیائی بدعات نے ‘‘بخشش’’ یا ‘‘معافی ناموں’’ کو ایک غیر بائبلی عقیدہ کے طور پر قبول کر لیا اور اسکا مقصد یہ ہوتا کہ اگر کوئی بھی اِس ‘‘معافی’’ یا ‘‘بخشش’’ قیمتاً خریدے تو برزخ میں اُس کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔ ‘‘یسوع مسیح کو دنیا کے گناہوں کی معافی کے لیے اپنی قربانی اور خُون بہانے اور جی اُٹھنے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ یسوع مسیح کی بے عزتی کرنے کے مترادف ہے کہ اُسکی سخت دُکھ کی حالت میں قربانین اور صلیب پر موت بے فائدہ ہے۔ کیونکہ اگر کوئی بہت اچھے کام کرے یا ادا کرنے کے لیے کِسی کے پاس کافی دولت ہو اور وہ بیعانہ کے طور پر کیتھولک کو پیسہ جمع کروائے تاکہ آئندہ زندگی میں کام آئے ۔ پوپ صاحب کے جاری کردہ معافی نامے ہی اگر نجات دے سکتے ہیں تو یسوع کی صلیب اور مردوں میں سے جی اُٹھنے کی تو کوئی ضرورت نہیں۔

بائبل مقدس صاف اور واضع تعلیم دیتی ہے کہ جب ایک مسیحی ایماندار مرتا ہے تو وہ فوراً مسیح کے ساتھ ہوتا ہے۔ (۲۔ کرنتھیوں ۵: ۶ ۔ ۸ ) جب سے یسوع مسیح نے ایک ہی دفعہ تمام بنی نوع انسان کے لیے اُسکے گناہوں کی قیمت ادا کر دی گئی ہے وہ جاری ہے اور جاری رہے گی۔ شخصی گناہوں کی معافی کے لیے اور برزخ میں رہائشیں کے لیے کِسی قسم کی ضرورت نہیں ہے کہ فردوس میں جانے کے لیے کوئی بیعانہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ بات واضع طور پر مسیح کو رشوت دینے اور اُسکو زخمی کرنے میں بھر پور کردار ادا کرتی ہے۔

اسلام میں سکھایا جاتا ہے کہ ہر گناہ کی سزا ملے گی۔ جب سے اسلام میں خُون کی قربانی کو بے اثر قرار دیا گیا ہے عام لوگ دوزخ میں وقت گزار رہے ہیں تاکہ اُنکا کفارہ ہو سکے۔ اگر وہ خُوش قسمت ہیں تو شاید وہ بچ سکتے اور جنت میں جا سکتے ہیں۔

اگرچہ یہ متقی پریزگار مسلمان ہی کیوں نہ ہو اور اُس نے اپنی ساری زندگی میں صرف ایک ہی گناہ نہ کیا گیا ہو اُسکی قیمت دوزخ میں ضرور گزراننی پڑے گی تاکہ اللہ کا قانون پورا ہو سکے۔ اگر اُس نے اللہ کی اعلانیہ نافرمانی کی تو بھی اُسے ضرور ہمیشہ کی آگ میں سزا پڑے گی۔

حدیث اِس طرح قانین میں سے ایک کو یوں بیان کرتی ہے۔ نبی نے کہا : یہ دو اشخاص سزاوار ہوں گے ایک جس نے مٹی کو پیشاب کے ساتھ گیلا کیا اور دوسرا وہ جس نے ‘‘غیبت’’ یا بدگوئی کی اِن میں سے ایک بھی نہیں بچے گا۔(۱۵) ہر شخص اپنے گناہ کی سزا پانے کے بعد معافی حاصل کرے گا۔ محمد نے ‘‘بُدھا’’ مذہب کے بانی زوروآسٹریان کے تصور (دوزخ کا پُل یاد کرنا) کے تصور کو چرایا ہے اور اُس میں اپنی تعلیم یعنی برزخ کے عقیدہ کو شامل کیا ہے کہ ہر شخص پہلے جہنم میں جائے گا پھر برزخ میں جائے گا۔

ایک حدیث اس طرح بیان کرتی ہے کہ :۔ جہنم کے اندر (یعنی پُل کے اوپر) ایک خاردار پودا ‘‘ال ساڈان ’’نام کا ہو گا جو لوگوں کو انکے کاموں اور اعمالوں کے مطابق پٹک لے گا ۔ کُچھ لوگ جہنم میں اپنے (بدی) کے کاموں کے سبب ٹھہرے رہیں گے اور برباد کیے جائیں گے اور کُچھ ان کانٹوں کی وجہ سے کاٹ دیے اور جہنم میں گرائے جائیں گے اور کُچھ سزاوار ہوں گے مگر سزا کے بعد حفاظت سے بچ  جائیں گے۔ جب اللہ لوگوں کے درمیان اپنی عدالت ختم کر چکے گا پھر وہ ہر کِسی کو دوزخ میں سے اپنے رحم سے باہر نکالے گا۔ تب وہ فرشتوں کو حکم دے گا کہ اُن لوگوں کو دوزخ کی آگ سے باہر نکالو جہنوں نے اللہ کے علاوہ کِسی کی پرستش نہیں کی اور اللہ اُنکے ساتھ رحمدل ہو گا جو دنیا میں آزمائے گئے مگر اللہ کے سوا کِسی کی پرستش نہیں کی۔(۱۶)قرآن اور حدیث مسلمان کے علاوہ نجات کو ر د کرتی ہے۔ (۱۷) اگر کوئی شخص مسلمان ہو تو وہ اپنا ختنہ لازمی کروائے اور اللہ ایک ہے اور لاشریک ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں ہونے کا اعلان کرے۔ اور اِس طرح عورت صرف اعلان کرے کہ اللہ ایک ہے اور واحد معبود ہے اور محمد اللہ کے آخری نبی اور آخری رُسول ہونے کا اقرار کرے مرد اور وعرت دونوں کے لیے ہی اُصول ہے اور اُن کے اعمال بھی نجات میں کردار ادا کریں گے۔ اسلام وہ جدید مذہب ہے جو توبہ کے بعد کاموں (اچھے اعمال) پر محط نجات پر یقین رکھتا ہے۔ مسلمانوں کی اپنی تحاریر بیان کرتی ہیں کہ اُن کو ایک لمحہ یا فوراً نجات نہیں مل سکتی۔ عورتوں کی قِسمت اس معاملہ میں زیادہ ہی خراب ہے کیونکہ اللہ نے عورتوں کو کثرت سے جہنم کے لیے پہلے سے چُنا ہے ۔ تاہم کوئی مسلمان براہِ راست جنت میں نہیں جا سکتا جب تک جنگ کی حالت (جہاد) میں نہ مرے یا کِسی بے دین شخص کو نہ قتل کرے۔

حدیث بیان کرتی ہے کہ دوزخ کی حتمی سزا کیسی ہو گی؟

‘‘ میں نے نبی کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ رُوزِ حشر کے دن ایک آدمی کو جہنم میں اِس طرح سزا دی جائے گی اُس آدمی کے پاؤں کے محراب میں دو کوئلے سلگائے جائں گے اور اِس سے اُسکا دماغ اُبل جائے گا بالکل تانبے کے برتن کی طرح یا جس طرح صُراحی جس میں پانی گرم کیا جاتا اُس طرح گرم ہو گا۔ (۱۸)

ہر مسلمان سختی سے جہنم میں سزا پائیگا۔ سزا پانے والے مرد اور عورت کے دماغ جو اُبالے گئے وہ پھٹ جائیں گے جب تک وہ سلُگتے کوئلوں پر کھڑا رہے گا یا کھڑی رہے گی ۔ پارسا اور پریزگار لوگوں کے لیے اِن شدید باتوں کے امتحان میں سے گزرے گا جو ان کا انتظار کر رہا ہے ۔ اگر کوئی اِس سزا سے بچنا چاہتا ہے وہ صرف ژخصی طور پر جہاد کرے۔

میدانِجنگ میں دھاوا (حملہ) بولنے سے پہلے اور مالِ غنیمت اکٹھا کرنے اور قانون پر حملہ سے پہلے محمد نے کج روی سے ایک کہانی گھڑی اور اُسکی تشہیر جنگلی چال کو سوچی سمجھی بنا پر کی۔ اُس نے اپنے جنگی ساتھیوں کے ساتھ فوراً جنت میں داخلہ کو وعدہ کیا کہ جو کوئی بھی جنگ کے دوران مرے گا جنت میں جائیگا۔

نہ صرف وہ مختصراً جنت میں بغیر جہنم میں جائے پہنچ جائیں گے بلکہ اُس کے ساتھ ساتھ اُنکو کُچھ مختلف حواسی خواہشات کی تکمیل بھی فراہم کی جائیگی۔ مثلاً اُن کو جنگل ، سمندر اور اجرامِ فلکی کی حیسنائیں (پریا) اُنکے ساتھ مباشرت کے لیے فراہم کی جائیں گئیں۔ شراب پینے کا موقع فراہم کیا جائیگا اور بہت سی بخششیں عطا کی جائیں گیں ۔

یہ بات آج کل کی اسلامی حالت، بہت سے خُود کش بم پھاڑنے والے خواہشمند مسلمانوں کی عکاسی کرتی ہے۔ ایک مکمل احمق اور پاگل آدمی کی قیادت میں بہت سے مسلمان اس بادشاہی کو صرف جہاد کرکے داخل ہو سکتے ہیں۔ اُنکی فرماں برداری، حکومت یا اُنکی شہریت کی تابعداری میں نہیں بلکہ اُنکی تابعداری ہر قیمت پر اسلام کی آواز پر جنگ کو فتح کرنے پر ہے۔

جو قرآن کو سنجیدگی سے پڑھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ یہ ایک اللہ کی اندرونی پراسرار بادشاہی کی تابعداری ہے۔ اگرچہ ایک پیار کرنے والے مسلمان کے ساتھ کُچھ بھی ہو اُسے جہاد کے عقیدہ پر ایمان رکھنا ضروری ہونا چاہیے۔

مگر حقیقت میں جو اعتدال پسند لوگ ہیں اگرچہ وہ قرآن سے ناواقف بھی ہوں اس طرح کے احکامات کو نہیں مانتے۔ اس طرح ان کے بہت بہتر یہی ہے وہ اللہ کی اِس تعلیم سے دست بردار ہوں اور زندہ خُدا یسوع مسیح کی پیروی کریں اس طرح وہ جہاد کے بغیر ہی دوزخ سے بچ سکتے ہیں۔بد قسمتی سے ان کی ہی تحاریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان اپنے تمام گناہوں کا حساب دوزخ میں ادا کریں گے۔ جہنم میں سب سے چھوٹی سزا، انکو پتھر کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر کھڑا ہونا پڑے گا جب تک اُنکے سروں سے خُون جاری نہیں ہو جاتا اور وہ پھٹ نہیں جائیں گے۔ صرف جہاد کرنے والے ہی جہنم کی سزا سے بچ سکیں گے ۔ اکثریت نہ جتائے ہوئے تشدد کو لا محدود اسلامی جہنم میں برداشت کریں گے۔ ایک دفعہ مسلمان اکثریت کا تسلط قائم ہو جائے۔ مقامی طور پر شریعت لاگو کر دیتے ہیں۔ اور کئی دفعہ یہ قانون ملک کا قانون بن جاتا ہے۔ تاہم یہ کتاب مسلمانوں کی تکفیر کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی بلکہ کلیسیاء کو زبردست چنوتی دیتی ہے۔ اور مختلف قسم کے معاشروں اور حکومتوں جو دنیا کہیں بھی ہیں انکو مسلمانوں کے ارادوں سے، جو اللہ کی خاطر مختلف ملکوں کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔ آگاہی دیتی ہے۔ اِس لمحہ مسلمان دنیا میں ہزاروں لوگوں کا قتل کر رہے ہیں۔ ہندو، بُدھا اور یہودی بھی اسی طرح کی بد قسمتی کا شکار ہیں اور تمام دنیا کو بھی اسی چنوتی کا سامنا ہے۔

اڈولف ہٹلر کی طرح مسلمان بھی مکمل جہاد کرکے جھوٹے چاند دیوتا اللہ کے لیے دنیا کو فتح کرنا چاہتے ہیں۔ اب ایک لفظ ‘‘خلافت’’ کو ہی لے لیجئے اسکا مطلب ایک خُود سرا نہ اور جابرانہ دنیاوی حکومت جو ہر قسم کی آزادی کا گلہ گھونٹتی ہے۔

چھٹا حصہ‘‘ اسلام میں عورتوں کا تصور’’

باب دہم

مرد عورت سے زیادہ قابل تعظیم

بیوی کو مارنے کا اللہ کی طرف سے اختیار

انسانی حقوق کے پیشِ نظر عورت کی نسبت سے بائبلی نقطہ نظر اسلام کے عقیدوں سے اختلاف رکھتا ہے۔ نیا عہد نامہ میں اِس طرح بیان ہے کہ :۔

‘‘اے شوہرو اپنی بیویو سے محبت رکھو۔ جیسے مسیح نے بھی کلیسیاء سے محبت کرککککے اپنے آپکو اسکے واسطے موت کے حوالہ کر دیا۔’’ ‘‘اسی طرح شوہروں کو لازم ہے کہ وہ اپنی بیویوں سے اپنے بدن کی مانند محبت رکھیں جو اپنی بیوی سے محبت رکھتا ہے وہ اپنے آ سے محبت رکھتا ہے۔’’ ‘‘بہرحال تم میں سے بھی ہر ایک اپنی بیوی سے اپنی مانند محبت رکھے اور بیوی اِس بات کا خیال رکھے کہ اپنے شوہر سے ڈرتی رہے۔’’(افسیوں ۶ : ۲۵، ۲۸ ، ۳۳ )بائبل مقدس شوہرو کو تنبیہ کرتی ہے کہ اپنی بیویوں سے ‘‘کرختی’ یا ‘‘کڑواہٹ’’ نہ دکھائیں (کلسیوں ۳ : ۱۹)

قرآن بائبل کے اِس فرمان کے متضاد بیان دیتا ہے کہ ‘‘ مرد عورتوں پر دسترس رکھیں کیونکہ اللہ نے مرد کو عورت پر سبقت دی ہے۔ اگر بیوی بغاوت کرے تو انکی نحمت کے لیے اُنکے بستر الگ کردو اور انہیں تازیانہ کوڑے سے مارو۔(قرآن ۴ : ۳۴ ) اور کوڑے کے ہتھیار کے لیے کھونٹی یا چھڑی بھی استعمال ہو سکتی ہے۔ محمد کے رشتہ داروں میں ایک شخص بنام الزبیر ابن العوام کی چار بیویاں تھیں اُن کو وہ چھڑی سے حسبِ معمول مارتا تھا کہ چھڑی ٹوٹ جاتی تھیں۔ اس شخص کو محمد نے بہت زیادہ عزت بخشی اور کہا تم جنت کے دس عظیم لوگوں میں سے ایک ہو۔ عُمر نے اُسکو خلیفہ بنا دیا۔ (۱)

جب سے محمد نے بیویوں کو مارنے کی گنجائش دی اور قرآن میں مسلمانوں کو اس بات کی پیروی کرنے کی تنبیہ کی گئی ہے۔

کُچھ مسلمان مرد تو تازیانہ کوڑا اور مارنے کی ضرورت کو اتنا محسوس نہیں کرتے مگر کُچھ اور راستے اختیار کرتے ہیں۔ قرآن ایوب کی کہانی جو بائبل مقدس میں، بیوی کو مارنے کی نسبت سے مروڑ کر پیش کرتا ہے۔ قرآن ۳۸ : ۴۴ بیان کرتا ہے کہ ‘‘اور’’ (یہ اسکو کہا گیا تھا )اپنے ہاتھ میں چھڑی لے کر اس کے ساتھ سخت ضرب لگاؤ اور اپنی قسم کو نہ توڑو ‘‘ جیسا قرآن میں کہا گیا ہے ۔ یہ ایوب کی مصیبت کے وقت سے ہے اُس نے اپنی بیوی کو چھڑی سے مار کر قابو میں کیا تھا جب اُس نے اُس پر تہمت لگائی تھی۔’’

اودھم مچانے والے محمد نے ذاتی تفسیروں کو قرآن میں توریت کے ساتھ مِلا دیا مسلمان سمجھتے تھے کہ محمد کے پاس خاص مکاشفہ اور الہی اختیار ہے کہ وہ مقدس صحائف کو تبدیل کر سکتا ہے اور اُسکے اصل مفہوم اور معنی کو تبدیل کر دیا اور الزام یہودیوں پر لگاتے ہیں کہ انہوں نے توریت کو تبدیل کر دیا۔

حقیقت میں محمد وہ شخص تھا جس نے دست اندازی کرکے اصل الہی کلام کو تبدیل کر دیا۔ عجیبوغریب عالم ومفکر بائبل مقدس کے نسخہ جات کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں کہ اُسکی تحقیر کر سکیں۔ جِس طرح مسلمان کرتے ہیں۔

‘‘ بحیرہ مُردار کے طوماروں کے ملنے بعد ظاہر ہو’’ کیا کہیہودیوں نے آج تک بائبل کی فہرست کو بھی تبدیل نہیں کیا اور اُسکی حفاظت کی ہے۔

کُھلی اور صاف سچائی یہ ہے کہ محمد کوئی علِم الہی کا ماہر نہیں تھا بلکہ ایک ان پڑھ شخص تھا۔ وہ جھوٹے نبیوں کو پسند کرتا تھا تاکہ اپنی پسند کی تعلیم کو بیچ میں ڈال کر اپنے اندھے پیروکاروں کو ورغلا سکے۔ اور جھوٹ کی خُوب بڑائی ہو۔

‘‘عورتوں کی مزید گراوٹ اور پستی’’

جیسا قرآن میں مرقوم ہے کہ اللہ عورت کو صرف زمین خیال کرتا ہے: ‘‘تمہاری عورتیں ہیں وہ ہل چلانے کی جگہ ہے اور تم جس طرح تمہاری مرضی ہے اپنی زمین میں ہل چلاؤ۔’’(قرآن ۲: ۲۲۳) حدیث میں محمد کے بے شمار بیانات عورتوں کے بارے ہیں۔ ایک حدیث اسطرح کہتی ہے کہ ‘‘اللہ کے رسول نے کہا کہ بدی کی فال یا شگون تین چیزوں میں ہو سکتی ہے۔ عورت میں ، گھوڑے میں یا ایک جانور میں ’’۔(۲)

محمد کی پسندیدہ بیویوں میں سے ایک ‘‘عائشہ’’ نے اُس کو اُسکی حقیر رائے عورتوں کو بارے لاجواب کر دیا۔ عائشہ بیان کرتی ہے کہ وہ کون سی چیزیں ہیں جو نماز کو منسوخ کر دیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نماز کتے سے، گدھے سے اور ایک عورت کے نمازی کے سامنے سے گزر جانے سے ٹوٹ جائے گی۔’’ میں نے کہا تم نے ہمیں ‘‘کتے’’ بنا دیا ۔(۳)

آگے چل کر ہم محمد کی حقیر رائے عورتوں کے بارے احادیث میں جانیں گے بے شمار موقعوں پر نبی نے عورت کو جانوروں کے برابر قرار دیا۔مثلاً کتا ، گائے، گدھا وغیرہ۔ مزید یہ کہ محمد کے چاند دیوتا اللہ نے پہلے ہی ظاہر کیا ہوا ہے کہ وہ بھروسہ کے لائق نہیں بلکہ اُسکی بساط مرد سے آدھی تصور کی جائے گی۔ سورہ ۲: ۲۸۲ بیان کرتی ہے کہ :‘‘گواہی کے لیے تم دو آدمیوں کو بلاؤ اگر دو آدمی موقعہ پر نہ مِل سکیں تب ایک آدمی گواہی دے انس دو عورتیں گواہی دیں ۔۔۔۔۔’’ابو سعید الخدری بیان کرتا ہے کہ محمد کے خیالات مندرجہ بالا سورہ سے تعلق رکھتے ہیں۔

محمد نے کہا کہ کیا عورت کی گواہی مرد کی نسبت آدھی مانی جائے؟ عورت نے کہا ! ہاں محمد نے کہا یہ عورت کی قلت کی وجہ سے ہے۔(۴)

ایک اور حدیث اس بیان کو اور واضح طور پر بیان کرتی ہے۔‘‘ اور تم اپنے درمیان سے اپنے دو آمیوں کو بلاؤاگر دو آدمی دستیاب نہ ہوں تب ایک آدمی اور دو عورتیں گواہی کے لیے بلانا۔ اس طرح ان دو عورتوں میں سے ایک غلطی کرے تو دوسری عورت اُس کو دُرست کرے۔(۵) جب محمد نے یہ خبر سُنی کہ فارص کے لوگوں نے خسرو کی بیٹی کو اپنی ملکہ بنا لیا ہے اُس نے کہا وہ قوم جسکی ملکہ عورت ہو وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتی۔(۶)

یہ کُند ذہنی اور گھٹیا خیالات عورت کی قیادت کے بارے میں بائبل مقدس کی پرانی تاریخ سے مخالفت رکھتے ہیں، نہ تو دنیا نے اور نہ ہی بائبل نے کبھی بھی عورت کی قیادت کو ممنوع نہیں کیا۔ یہ اٹل حقیقت ہے کہ اسرائیل کی ابتدائی تارخ میں دبورہ نام عورت ایک قاضی اور نبیہ کی حیثیت سے مقرر کی گئی۔ اس کے بعد وہ اسرائیل کی چیف کمانڈر بن گئی اور وہ کنعانیوں پر غالب آئی۔ (قضاۃ ۴ : ۱ ۔ ۷) بہت سی عورتوں نے طاقور کامیابی کا مظاہرہ کیا اور اپنے آپکو پوری تاریخ میں منوایا ہے۔

‘‘ ہیٹ شٹ سپ’’تھٹموس اول کی بیٹی اور ٹھٹموس دوم کی بیوی نے اکیس سال تک مِصر کی سلطنت پر حکومت کی۔‘‘ عہد عتیق کی دنیا کےلوگ’’نامی کتاب کے ایڈیٹروں نے اُسکے بیان سے باہر حکومت کا بیان کیا ہے۔

مِصر نے دو عشروں کو اِس بیوہ ملکہ کی حکومت کے دوران خوشحالی اور امن کے ساتھ مزے سے زندگی بسر کی۔ اُس نے ‘‘کارنک’’ میں ‘‘تھیبن’’ کے علاقہ میں ہیکل سمیت دو مینار جنکی اُونچائی ۹۷ فٹ ہے سخت پتھر کے ایک ہی ٹکٹہ سے بنائے۔(۷)

اگر محمد سچا نبی ہوتا تو کیوں اِس طرح کی جھوٹی افواہ اُڑاتا کہ عورت کی قیادت ناقص ہے؟۔

برطانیہ کی قدیم تاریخ سے ایک اور زبردست عورت کی قیادت کی مثال دی جا سکتی ہے۔ ایک نامور مللکہ بہت مشہور ہو گئی کہ اُسکی تصویر برطانیہ کے سِکوں پر کندہ کی گئی جو آج تک بھی ہے۔ ملکہ بودکیہ کو برطانوی زبان میں وکٹوریہ کہا جانے لگا۔ جو پراسٹگس بادشاہ کی بیوی تھی۔ اپنے خاوند کی وفات کے بعد ظالم رومی حاکم دسیانس برطانیہ کو اچانک ہتھیا لیا۔اُس نے برطانیہ جگہوں کو تباہ وبرباد کیا، عمارتوں کو تہس نہس کیا اور اُنکے شہروں کو لوٹا اور ملکہ بودیکیہ کی بیٹیوں کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسکو کوڑے لگوائے۔ طیش میں آئی ملکہ نے ۱،۲۰،۰۰۰ گُمراہوں کو رومیوں کے خلاف سِلسلہ وار جلوس اکٹھے کئے اور فتح پر فتح پائی۔ اسکے بعد اُس نے بہت طاقتور چارگروہوں کو جو جنگ جُو تھے اکٹھا کیا جو برطانیہ میں سے اڑھائی لاکھ سے زائد تھے ۔ملکہ کی قیادت میں ابتدائی جنگوں میں برطانوی لوگوں نے ۸۰،۰۰۰ ہزار رومیوں کو قتل کیا اور بعداز ۴۰،۰۰۰ کو لندن میں مارا۔(۸) محمد کا عورت کے بارے اظہار کرنا بہت تنگ نظر اور ہنسی آمیز ہے۔‘‘دبورہ’’ ہٹ شپ سٹ’’ اور ‘‘بودیکیہ’’صرف چند مثالیں ہیں جو محمد کے خیالات کو تاریخ کی روشنی میں غلط ثابت کرتی ہیں۔

‘‘دوزخ میں زیادہ تعداد میں عورتیں ’’

محمد کی عورتوں کے بارے گھٹیا رائے انکی عدالت اور منزل کے بارے بھی اتنی ہی گھٹیا ہے۔ حدیث بیان کرتی ہے۔

نبی نے کہا: ‘‘میں نے جنت کو دیکھا اور میں نے اپنا ہاتھ پھل توڑنے کے لیے ہاتھ پھلائے اور اسکو لیا تم اُسکو تک کھا سکتے ہو جب تک دنیا قائم ہے اور میں نے جہنم کو بھی دیکھا اور میں نے آج تک ایسا خطرناک اور خوفناک نظارہ نہیں دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ جہنم میں زیادہ تر عورتیں تھیں ۔ لوگوں نے پوچھا! اے اللہ کے رسول ! یہ کیونکر ہو گا۔ نبی نے کہا وہ اپنے خاوندوں اور ساتھیوں کے ساتھ غیر تابعدار تھیں اور انہوں نے اچے اعمال نہیں کیے۔ اگر تم کِسی (عورت) کے ساتھ خیرخواہ ہو اور پوری زندگی رہو اور وہ تم میں کوئی چیزیں دیکھتی تب وہ کہتی ہے کہ میں نے تم میں کوئی اچھی چیزنہیں دیکھی۔(۹)

محمد کی ذاتی زندگی عورتوں سے رنگی ہوئی تھی مگر پھر بھی وہ عورتوں کے خلاف تھا۔ اور اس نے انکی ابدیت کے بارے بھی نبوت کی ایک دوسری حدیث میں مزید کہا گیا ہے کہ ۔ایک دفعہ اللہ کے رسول نماز کی جگہ پر گیا اور اُس نے عیدالضحیٰ یا عید الفطر کی نماز ادا کی ۔ تب وہ ایک عورت کے پاس سے گزرا اور کہا ۔ اے عورت سخاوت کر !کیونکہ میں نے دیکھا ہے کہ دوزخ میں زیادہ تر سکونت کرنے والی عورتیں ہی ہوں گی۔ انہوں نے پاچھا ایسا کیونکر ہو گا۔ اے اللہ کے رسول؟ اس نے کہا کہ تم اکثر اوقات اپنے خاوندوں کی تابعداری نہیں کرتی۔

میں تم سے گھٹیا اور قلیل کو مذہب میں کہیں نہیں دیکھا۔ خبردار رہنا کیونکہ ایک سمجھدار آدمی بھی تمہاری غلامی میں آسکتا ہے۔ عورت نے کہا !

اے اللہ کے رسول ! کیا ہمارے مذہب میں ہم بہت گھٹیا اور کم تر ہیں اس نے کہا کہ یہ کمزوری یا گھٹیا پن تمہاری ضرورت ہے۔

یہ درست نہیں کہ عورت اپنے حیض کے دنوں میں نماز پڑھ سکتی اور نہ روزہ رکھ سکتی ہے؟ عورت نے تصدیقی طور پر جواب دیا کہ یہ گھٹیا پن تمہارے ہی مذہب میں ہے۔ (۱۰)

محمد کا اعتقاد عورت کے جسم کے قدرتی عمل پر ہے جسکا اقرار اُسکے ایمان پر ہوتا ہے۔ اسکا اپنا ذاتی رویہ اُسکی اپنی بیویو اور عورتوں کے لیے سخت ہے، عام طور پر مسلمان رد کی گئی عورتوں کا معیار جانوروں کے برابر ہے۔(جس مٹی پر ہل چلایا گیا) محمد اپنے الفاظوں میں کہتا ہے، اُس نے نبوت کی کہ دوزخ کے عذاب میں خاص طور پر عورتوں کا بڑا حصہ ہے، اور اُس سے مائیں بھی نہیں بچ سکتیں۔

کیا کوئی بھی عقل مند عورت ایسے نبی کی پیروکار ہو گی جس نے عورتوں کے بارے میں اِس طرح کے خیالات دیے۔ اگر آپ کے لیے دوزخ مقرر ہے تو ایسے مذہب کا کیا فائدہ ہو گا۔ کوئی بھی عورت اپنے آپ کو ذہنی اور جسمانی طور پر دلیل ہونے کے لیے اور اپنے نصیب کی تحقیر کے لیے کیسے دے سکتی ہے۔ ایک دفعہ جو بھی اسلامی کارکن نظام میں پھنس جاتی ہے تو وہ عورت ایک نشانی کے طور پر ظاہر کرتی ہے۔ جس طرح ماہرِ نفسیات سٹاک بالم سینڑ روم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ایک روایت بیان کی جاتی ہے کیسے یرغمالی اُنکے قید کرنے والوں کی جانب ہمدردی کی توقع کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ اُن کا دفاع کرنا۔اُن میں سے بہت سارے جو سُلجھانے کے لیے دام میں گرفتار کئے ہیں اور وہ زبان مذہب کے طور پر خلافِ عقل کے احساس سے مِلا کر پیش کرتے ہیں۔اُن میں ایسے نبی اور گرو کہلاتے ہیں۔

جنت کی حوریں

جس طرح محمد مقدس جنگ میں یا مالِ غنیمت کی لوٹ مار میں مصروف تھا اُسے جننیات کا خیال رکھتے ہوئے وعدے کے ساتھ نفسیاتی جنت کی اُن لوگوں کے لیے فریاد کی جو جنگ میں مر گئے تھے یا اُن کے لیے جو مستحکم طور پر اُنکے نبی کی عقیدت میں کھڑے تھے۔ اُس جنت میں حوروں کی عجمی (فارسی) داستان شامل ہے۔قرآن مجید چار دفعہ بیان کیا گیا ہے۔(القرآن ۵۲: ۲۰ ، ۵۶ : ۲۲، ۵۵، ۷۲، ۴۴ : ۵۴ ) لغوی مطلب یہ ہے کہ آنکھوں کے ساتھ کالے اور گورے فرق دیکھنا ہے۔ ( الحریان )۔ (۱۱)وہ دوسری قرآنی سورتوں کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ اگرچہ یہ ہو گا اور ہم اُن میں کِسی ایک خوبصورت حور (صنفِ نازک ) کے ساتھ محبت بھری نظروں کُھلے طور پر نکاح کریں گے ۔اور وہ پاکدامن ہونگی اور اُنھیں کِسی بھی مرد نے پہلے کبھی چھوا نہیں ہو گا یہ حوریں نگہبانی کے طور پر پیولن (بڑے خیمہ ) میں رہیں گئیں اور اُس میں سبز کُوشن (گدے) اور خوبصورت قالین بچھے ہونگے۔ (قرآن ۴۴ : ۵۴، ۵۵ : ۵۶۔۷۶)

منطقی طور پر، زیادہ تر عورتیں دوزخ کے لیے مقرر ہیں، محمد نے عورتوں کی جنت کے لیے ایک رستہ نکالا اُن کے مردوں کو رفع کرکے، اگرچہ اُس نے آسمانی حوروں کی عجمی روایات (داستان) کا اُدھار لیا۔ (ممکن طور پر اس لفظ کا تعلق علم صرف کے متعلق ہے انگریزی میں اسکا مطلب کسبی، لونڈی، یا فاحشہ ہے) اس کے بعد یہ حوریں خاص طور پر مسلمان مردوں کے لیے ہمیشہ کی جنسی تسکین کے لیے پیدا کی گئی ہیں ۔حدیث پیولن (بڑے خیمے) کے بارے میں وہاں پر حوروں کی موجودگی کا بیان کرتی ہے،

اللہ کے رسول نے فرمایا: جنت میں واحد موتی کے سوراخ کے لیے یہ بڑا خیمہ بنایا گیا ہے، یہ ساٹھ میل چوڑا ہے، اس کے ہر کونے میں جہاں پر بیویاں موجود ہیں وہ دوسرے کونوں کو نہیں دیکھیں گئیں۔ اور مومن اُن میں سیر کریں گے اور اُن سے لطف اندوز ہونگے۔(۱۲)

جبکہ کُچھ احادیث میں کوئی معیاد مقرر نہیں ہے، اور دوسری جگہوں میں بیویوں (حوروں) کی تعداد دو ہیں۔(۱۳)

احادیث میں حوروں کے متعلق وضاحت سے بیان کیا گیا ہے۔ ان میں ہر ایک بہت خوبصورت ہو گی، خالص اور صاف و شفاف اُن کی ہڈیوں کا گودا اُنکی ٹانگوں سے گوشت میں صاف نظر آئے گا وہ کبھی بھی بیمار نہیں ہونگی۔ اُن کی ناک سے کبھی بھی ناک، اور اُن کے منہ سے کبھی بھی بھوک نہیں نہیں بہے گا اور اُنکے پیسنے سے کستوری کی خوشبو آئے گی۔ (۱۴)

دوسری روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ اُنہیں کبھی بھی نیند اور نہ کبھی وہ حاملہ ہونگی۔ مسلمان مولوی ، مفکر اور جہاد لڑنے والے زندگی کے آخر میں اس قسم کی جنسی تسکین کو پورا کرنے کی سوچوں کے وہم میں مبتلا ہیں۔ اُن میں سے مِصر کا ایک مشہور مولوی عبدالحمید کِشک ، اپنی تھیالوجی نوجوانوں کے متعلق بڑی تفصیل سے بیان کرتا ہے قرآن مجید میں بیان ہے ، کہ مسلمان وہ جو جنت میں جائیں گے وہ ابدی عمارت سے لظف اندوز ہونگے اور نوجوان لڑکے کانوں میں بالیاں اور گلے میں ہار اور خوبصورت کپڑوں میں ملبوس ہونگے۔(۱۵)ایک بہت ہی مشہور عزت مآب مذہبی سکول، اِل اظہر یونیورسٹی خفیف سی اختلاف ِ رائے دیتی ہے ۔ وہ برقرار ہیں کہ جنت میں لوگ عمارتوں میں ہونگے، لیکن صرف اِس لیے کہ وہ طویل ہیں لیکن وہ دائمی نہیں ہیں۔ دوسرے ماہرین جنت میں اس بنیادی ستون سے ممکن طور پر جھگڑا کرتے ہیں۔ (۱۶)

مسلمان اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ الکوحل کی عمارت، حرامکاری زناکاری، اور ہم جنسی، اس زمین پر حرام ہیں۔ لیکن جب وہ ایک دفعہ جنت میں  جائینگے۔ تب اُن کو اس قسم کی عادات، اور ہستی کی اجازت ہو گی۔محمد کی تعلیمات اور اُسکے چاند دیوتا، اللہ یہودیوں کی توریت سے مکمل طور پر مخالفت کرتے ہیں۔ اور نئے عہدنامے میں مسیحیوں کی پاکیزگی کے قوانین کی بھی مخالفت کرتے ہیں۔ ظاہری طور پر محمد کی وحی کی ابتداء خُداوند یہواہ کی بجائے کِسی دوسرے ذرائع سے ہے۔ بائبل میں جنت کا تصور مسلمانوں کی جنت کے تصور سے مختلف بیان کیا جاتا ہے، اسلامی تقلید پسن، توریت، زبور، انجیل کو آسمانی کتابوں کے طور پر قبول کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں ۔مناسب طور پر جبکہ قرآن مختلف ہے، یہ کہ بائبل اس پر سبقت لے گئی ۔

یسوع نے مذہبی راہنما کے طور پر فرمایا کیونکہ قیامت میں بیاہ شادی نہ ہو گی بلکہ لوگ آسمان پر فرشتوں کی مانند ہونگے (متی ۲۲ : ۳۰ ) یہ آیت بہت واضح دلائل دیتی ہے کہ جی اُٹھنے کے  بعد اُنکے جلالی بدن ہونگے اُن میں کوئی بھی جنسی جزبات نہیں ہونگے اور یہ ظاہری کرنی ہے کہ وہاں پر کوئی حوروں کے ساتھ جنسی تعلقات کی وجہ نہیں ہو گی یا نہ ہی نوجوان جسم سے فرحت پائیں گے۔ ایک دفعہ پھر محمد یسوع کی تعلیمات کی تردید کرتا ہے اور اپنے ذاتی تصورات کو مقدس توریت اور نئےعہد نامہ کے خیمہ کے خلاف متبادل قرار دیتا ہے۔ وہ فطرتی اور جسمانی ذہن رکھنے والا آدمی ہے، محمد کا راستہ اپنی تعلیمات کی صداقت کی اپیل کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور باقی وہ بہت زشیادہ مشکوک اور بے ترتیب نظر آتا ہے۔ محمد کی اپنی ذاتی عبادت کے مطابق کہ زمین پر عورتیں جسم میں مائیں بھی اور بہنیں بھی شامل ہیں اُن کے پاس جہنم سے بچنے کے لیے حقیقی طور پر کوئی بھی موقع نہیں ہے۔محمد کے ہٹ دھرم تصور کے شمار میں عورتوں کا بیان اور جونوروں اور دُھول کے برابر ہے؛ وہ اعلان کرتا ہے کہ اُس کے پاس ملاح کی کمی ہے اور عورتوں کی ذاتی طور پر عزت، اور نسوانی طبعیت عام ہے۔

ذاتی طور پر عزت ، اور نسوانی طبعیت عام ہے۔

مسلمان عورت کے لیے یہ انتخاب کرنے کا موقع ہے کہ وہ یسوع کی پیروی کرے یا اللہ کے محمد کی یہ ظاہری تقرری بالکل واضح دکھائی دیتی ہے، کیا یہ ایک عاقل عورت کے لیے اُن کے مقدر میں دوزخ کے عذاب کا انتخاب یقینی ہو گا؟ مسلمان عورت اپنی نجات کے لیے یسوع مسیح کی طرف رُجوع کر سکتی ہے۔ بائبل مقدس اعلان کرتی ہے کہ ‘‘کیونکہ جو کوئی خُداوند کا نام لے گا وہ نجات پائے گا۔’’ (رومیوں ۱۳ : ۱۰)تاہم ایک عورت کے لیے اس اسلامی مسئلے کو تبدیل کرنا ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ اور اُن دھمکیوں کی وجہ سے جو اُس کو جلد ہی ملنے والی ہیں ، اُسے تشدد، عبادت کو مسخ کرنا اپنے خاندان سے جلاوطنی کو برداشت کرنا پڑے گا اور اکثر یہی واقعات ہوتے ہیں۔ یہ مسیحی معاشرے کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ ایسی عورتوں کے لیے ذرائع مہیا کرے کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق یسوع مسیح کی پیرووی کریں اور اپنی زندگیوں کو بغیر کِسی خوف کے گزاریں۔

محمد عصمت فروشی کو جائز قرار دیتا ہے

محمد نے اپنے مرد مومنین کو اجازت دی ہے کہ وہ اپنی پسند کی عورتوں سے عارضی طور پر جنسی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

پردے کے پیچھے ایک گمنام مصنف اسلام میں ایسے جنسی تعلقات کے اقرار نامے کے طریقے کو بے نقاب کرتا ہے:

محمد کے فرمان کے مطابق اس کے لیے کُچھ پیسے دیے جاتے ہیں یا کپڑے جس طرح محمد نے اپنے مومنین سے کہا، تب وہ اُس عورت کو ناپاک کر سکتا ہے ، اور بغیر کوئی حق ادا کیے ہوئے اُسے چھوڑ سکتا ہے۔ تو حرامکاری اور بد کاری کے درمیان کیا فرق ہے؟

کیا محمد اس عارضی شادی کو لطف اندوز ہونے کا نام دے کر اس مسئلے کو حل کر سکتا ہے۔؟ (۱۷)

یقیناً اسی وقت کے دوران، محمد نے اپنے پیروکاروں کے لیے عصمت فوشی کو قانونی قرار دیا۔ ایک اور حدیث میں لکھا ہے: عبداللہ سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ جنگ میں اللہ کی رُسول کی قیادت میں شامل تھے۔ ہمارے ساتھ ہماری بیویاں نہیں تھیں ۔ اس لیے ہم نے کہا کہ : کیا ہمیں نامرد بننا ہو گا؟ انہوں نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا ۔ تب انہوں نے ہمیں اس بات کی اجازت دے دی تاکہ ہم عورتوں کے ساتھ عارضی نکاح کریں اور اُن سے زبانی کلامی اقرار کریں: تم جو ایمان رکھتے ہو ! ان اچھی چیزوں کو ناجائز مت بناؤ۔ جو اللہ نے آپ کے لیے جائز ٹھہرائیں ہیں لیکن حد سے مت گزرو۔ ( ۵ : ۸۷ )۔ (۱۸)

بہت ساری دوسری روایات بھی ہیں۔ جس میں محمد نے عصمت فروشی کو جائز قرار دیا ۔ عام طور پر چاند دیوتا ، یعنی اللہ فرضی طور پر محمد کے اس فیصلے پر اُسکے ساتھ ہے۔ عام طور پر یہ اس طرح کے نکاح (اقرار نامے ) تین دن ختم ہونے کے بعد با مختصر طور پر اُن کے بعد یہ عارضی شادیاں خود بخود ختم ہو جاتی ہیں (ٹوٹ جاتی ہیں) کسی بھی رسمی طلاق کے قاعدے کے بغیر ۔(۱۹)

باب گیارہ

اسلام میں شادی

محمد کی بیویاں ، رشتہ دار عورتیں ، اورلونڈیاں ،غلام

اُسکی دورانِ زندگی میں محمد نے کئی بیویوں سے شادیاں کیں ۔مختلف مفکرین نے اُسکی بیویوں کے شمار کا اندازہ لگایا ۔ غالباً چودوہ یا سولہ دفعہ اُس نے شادی کی اور مزید اُسکے کہ اُس کی بہت ساری رشتہدار عورتیں ، لونڈیاں، غلام لڑکیا بھی شامل تھیں ۔

یہ اہم نکتہ ہے کہ محمد اللہ کی ساری شریعت میں سرفراز ہوا۔ قرآن مجید میں بیویوں کی تعداد مقرر ہے زیادہ سے زیادہ ایک آدمی چار بیویاں کر سکتا ہے؛

عورتوں کی شادیاں ، جو آپ کو اچھی لگتی ہیں ۔ وہ دو یا تین یا چار ہوں، اور اگر خوفزدہ ہیں اور آپ لوگ ان سب کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش نہیں آسکتے تو تب صرف ایک کریں ، یا پھر (لونڈی) تو آپ صحیح طور پر حقدار ہیں۔ (قرآن ۴ : ۳)

محمد کی موت کے وقت ، اُسکی نو بیویاں تھیں اور دو لونڈیاں تھیں۔(۱) مسلمان اس بات سے معذرت خواہ ہیں کہ اُس نئ یہ کہہ کر قانون کو (شریعت) کو توڑا ہے اور وہ بڑی سادگی سے عرب کے قبیلوں میں اپنے آپ کو شامل کرنے کی رہا تھا، انہوں نے اس کو اجازت دی کہ وہ اللہ کی شریعت کو بڑھائے۔ محمد کی شہوت پرستی اُس پر غالب آگئی اور قرآن مجید کے لیے نا معقول طور پر یہ ضروری نہیں تھا کہ وہ نبی ہو۔

اُس وقت محمد کی بہت ساری بیویوں کی بجائے ایک ہی ہوتی۔ اُس نے باطل کی معیاد کو توڑ دیا تھا۔ بائبل اس بات کا اعلان کرتی ہے ‘‘لیکن حرامکاری کے اندیشہ سے ہر مرد اپنی بیوی اور ہر عورت اپنا شوہر رکھے۔’’ (کرنتھیوں ۷ : ۲ )

بائبل اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ ایک آدمی صرف ایک بیوی رکھے جس طرح وہ پیدائش کی آرزو کرتا ہے۔

مقدس توریت میں کہ خُداوند یہواہ نے لوگوں کو اجازت دی ، کہ اُنکے باغی پن اور گناہ آلودہ فطرت کی وجہ سے اُنکے لیے یہ بہتر ہے کہ وہ ایک بیوی رکھیں۔ اس اِس سے اسکی مراد یہ نہیں تھی کہ کائنات کا مرد یا عورت بہت ساری بیویاں یا شوہر رکھیں۔ یہ ایک مرد کے لیے معمولی بات ہے کہ وہ بہت ساری بیویوں کی بجائے ایک ہی بیوی رکھے۔ اگرچہ بہت زیادہ امیر ہونے کی بدولت وہ عورتیں جو بہت زیادہ شادیوں کی بجائے جن کا شوہر زندہ ہو ایک ہی وقت میں وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہیں یہ آدم کے شہنشاہ دومننیس کے دورِ حکومت کے دوران یہ رواج تھا ۔ نیا عہد نامہ شادی کے اِس منصوبے کو واضح اور صحیح طور پر بناتا ہے۔ دنیا کی پیدائش کے وقت ، آدم اور حوا ایک جسم تھے۔ نئے عہد نامے میں مرد اور عورتوں کو شادیاں کرنے سے منع کیا گیا ہے، نہ ہی مرد اور نہ ہی عورت کو یہ اجازت ہے کہ اُنکی زندہ بیوی یا شوہر ہو تو وہ دوسری شادی کرے۔ یسوع نے بار بار ایک ہی بیوی رکھنے کا بارے میں کہا ہے۔ اگرچہ اسکی خواہش آدم اور حوا کی پیدائش ہی کے وقت سے تھی۔

کیا آپ نے نہیں پڑھا؟ کہ وہ جو ابتداء سے مرد اورعورت پیدا کیے گئے تھے ۔ اس وجہ سے یہ کیا گیا کہ مرد اپنے ماں باپ کو چھوڑے گا اور اپنی بیوی کے ساتھ رہےئ گا ۔ اور وہ ایک بدن ہونگے۔ پس وہ دو نہیں بلکہ ایک جسم ہیں ۔ اِس لیے جِسے خُدا نے جوڑا اُسے آدمی جُدا نہ کرے۔(متی ۱۹ : ۴ ۔ ۶ )

یہواہ نے ابتداء سے ایک وقت میں ہر مرد کے لیے ایک بیوی بنائی ہے ۔یہواہ نے آدم اور حوا کو پہلا شادی کا ادارہ بنایا اور اُسکی معاشرے کی بناوٹ یہ نہیں تھی کہ مرد اور عورت بہت ساری شادیاں کرکے ایک خاندان میں اکٹھے رہیں۔ پرانے عہد نامہ مردوں کی بہت ساری مثالیں دیتا ہے جہنوں نے شادی کے واضح منصوبے کو بگاڑا ہے جیسے ابراہام ، داؤد ، سلیمان بیویوں کے درمیان حسد کی بہت ساری مثالیں ہیں۔ جو اکثر ان مرد اور عورتوں کی بہت زیادہ شادیاں اُن خاندانوں میں ناراضگی کا سبب بنی ہیں۔ ایک مرد اور ایک عورت ایک ہی بار شادی کرتے ہیں اور وہ یہواہ کی شریعت سے جوڑے ہوئے ہیں ۔ نئے عہد نامے کے عقائد کے مطابق اُسکے علاوہ ہر چیز گناہ ہے۔

ہر آدمی جس میں ابراہام بھی شامل ہے جو اس مسئلے سے تجاوز کر چکا ہے کہ یہ ایک ہدایات ہے کہ کائنات کے لیے ضروری ہے کہ پاک خُدا کی مرضی کے لحاظ سے سب نکاح کریں ۔(شادی)

یہواہ پاک کا یہ حکم نامہ ہے اس لحاظ سے اُسکی مرضی بھی ہے اِس لیے بنی نوع انسان نے ہمیشہ سے اُسکی پیروی نہیں کی ۔ ‘‘اسکی جائز مرضی ہے کہ بنی نوع انسان کوخود رائے کی اجازت دی جائے ۔ اور نافرمانی کی وجہ سے ہر ایک دِل کے لیے کائنات کی پیدائش سے ہی قانون لکھے گئے ہیں اور اُسے دوسرے حکم جو اُسے زبانی موسیٰ کے ذریعے دیے اکثر اُنہیں توڑ دیا گیا ۔ اسکے ساتھ تورح کی ۶۱۴ عبارتوں کو بگاڑ دیا گیا جو موسیٰ نے اسرائیل کو دی تھیں۔ یہواہ نے انسان کو آزاد مرضی کی قابلیت دی ہے کہ وہ تابعداری یا غیر تابعداری اپنی مرضی سے کرے ۔ کِسی بھی صدارت میں بلکہ حکم نامہ یا خُود رائے کا اجازت نامہ یہواہ نے اپنے ذاتی اقدار سے بنی نوع انسان کو اُن کی آزاد مرضی سے کام کرنے کی اجازت دی ہے اُسکے ساتھ نافرمانی کی سزا بھی رکھی ہے، اگرچہ بنی نوع انسان کی فطرت گناہ آلودہ اور صحبت اور شادی ناپاک ہے۔

ایک دوسری مثال ہو سکتا ہے کہ یہ سلیمان کی زندگی سے کُچھ اکٹھا کرے وہ اس بات کو تسلیم کرنا ہے کہ اُسکی یہ بہت ساری شادیاں اُسکا ایک خالص چھچھوراپن تھا؛ دوسرے لفظوں میں یہ گناہ تھا کیونکہ یہ خالص خاندانی منصوبے کے معاملے میں ایک شادی کے ادارے مخالفت تھی، اسی طرح محمد نے بھی لگاتار اس ادارے کو خراب کیا کیونکہ اُسکی بہت ساری شادیاں تھیں اور دوسری عوروتں کے ساتھ تعلقات تھے، اکثر اوقات اُسکی بیویاں اُسکے خلاف سازش کرتی تھیں۔

اُسکی لگاتار ناراضگی کی وجہ یہی تھی ، قلعے کی دیوار پر چڑھنے کے برابر نتیجہ نکلا کہ اُس کی بیویوں کے درمیان سخت جھگڑا ہوا۔ تاہم ابتدائی طور پر یہ اِسکے رشتوں میں کمزوری کا نتیجہ تھا اور جو اُن کو اُسکی اپنی گناہ آلودہ رغبت کی وجہ غصہ دلاتا تھا۔ شیطانیت کا قبضہ اور اپنا حُخم چلانا، قرآنِ مجید اور احادیث میں خلاصہ پیدا کرتا ہے۔

اسلام میں عورتوں سے بد سلوکی

جب ایک عورت کِسی مسلمان سے شادی کرتی ہے ہو سکتا ہے اسلامی مُلک اپنے مقام کے بارے میں پوچھتی ہو ۔ اسلامی دستور کے حوالے سے دوبارہ شادی کرنا، ایک عورت کو اپنے سارے جسم کو مونڈنا پڑتا ہے سوائے اس کے بولوں کے ، ہو سکتا ہے کہ اُسے اپنے سِلائیٹروس کو منڈھوانے کے لیے پوچھنا پڑے یہ اسلامی ثقافت کے دستور کے مطابق جوا تھا لڑکیوں کو اس سنت کو پورا کرنے کے لیے مجبور کیا جاتا ہے اس کی رپورٹ ریڈرز ڈجسٹ پیش کی گئی ہے کہ وہ افریقہ میں ایک نوجوان ماڈل تھی اُسے مجبور کیا گیا کہ وہ اپنے سِلائیٹروس کو کاٹے اسلامی شریعت کے مطابق ایک نوجوان لڑکے ہونے کے ناطے اسے پرانے زنگ آلودے اُسترے کے ساتھ یہ کرنا پڑا۔ اس افسردہ رواج کے پیچھے کیا وجہ ہے ، سادہ طور پر یہ کہ مردوں کو اپنی اسلامی بیویوں کے اوپر پورا کنٹرول ہے۔(اُنکی جائیداد ) اِس لیے وہ کِسی دوسرے مرد کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کی ہوشیاری نہیں کرتی۔ مرد کا کنٹرول یہ ایک وطن پرستانہ موضوع ہے۔ حالنکہ مذہب میں ایسا کُچھ نہیں ہے، لیکن مزید برآں یہ کہ اُن پر حکومت کرتا ہے۔

اگر ایک عورت جو دوسری ثقافت کی ہے مسلمان سے شادی کرے اور وہ اسلامی مُلک میں اپنے مقام کو قائم رکھنے سے رضا مند ہوئی ہہے اُس کے لیے اُس مرد کو چھوڑنا بہت مشکل ہوتا ہے جس وقت مرد اُسے رد کرتا ہے یا طلاق دیتا ہے۔ وہ اُس کے ساتھ اُس کی خُوشی میں اُس مرد کی جاگیر بن جاتی ہے۔ اگر بچے ہو جاتے ہیں تو بیویوں کو حکومت کی طرف سے قانون کی طور پر شہریت مِل جاتی ہے۔ بغیر سوچے سمجھے کوئی بھی عورت یا اُس کے شوہر کے بچے، شوہر اُس پر حکم چلاتا ہے اور وہ واجب الوجود شکستہی دِل کے تحت سارے خاندان کو کنٹرول کرتا ہے، ثقافت کے مطابق ایک مرد کا اپنی بیوی سے رویہ ڈرامائی طور پر شادی کے بعد بہت ساری صورتوں میں تبدیلیاں لاتا ہے اسلام کے حقیقی اصول کے مطابق وہ شادی سے پہلے کی باتوں کو ترک کر دیتا ہے،اور بُری طرح سے عورت کو حیراساں کرتا ہے ۔ اسلام میں عورتوں سے اس طرح کی بدسلوکی کی مزید خبر گیری تاریخ میں ظاہر کرتی ہے کہ مسلمان اُن عورتوں کو قید میں کریں گے یا مار دیں گے وہ جو دوبارہ شادی کرکے جنسی تعلقات بناتی ہیں۔ اگر کِسی عورت کی عزت لوٹ لی جاتی ہے تو مسلمان عام طور پر مرد کو مجرم ٹھہرانے کی بجائے عورت پر الزام لگاتے ہیں۔ بہت سارے ملکوں میں جو اسلامی شریعت کے تحت ہیں ۔ ایک عورت جس کی عزت لوٹ لی جاتی ہے اُسکو اکثر قید کر دیا جاتا ہے۔ ۱۹۹۹ء کی سی این این رپورٹ کے مطابق تین یا چار عورتوں کو قید کر دیا گیا۔ اِس لیے کہ وہ عصمت دری کا شکار تھیں۔ اِس لیے وہ اسلامی قانون کے تحت وہ دو گنا تشدد کا شکار ہو جاتی ہیں اس لحاظ سے عورتیں دوسرے درجے کی انسان ہیں وہ جانوروں کے پاؤں کی دُھول کے ، اور حتیٰ کے اپنی جاگیر کے برابر ہیں ۔ عورتوں کے انسانی حقوق، دبائے اور نظر انداز کیے جا سکتے ہیں؛ اس قسم کے عمل اور ایک بڑی لعنت ہے اور مرد جو اپنے آپ کو بڑا وطن پرستار سمجھتا ہے بڑی نا انصافی کرتا ہے ۔

اگر عورت کی اسلامی مُلک میں عزت لوٹ لی جائے اور یہ کِسی ایک پر اتفاقاً ظاہر کرتا ہے کہ کوئی بھی خاندان کا مرد نمائندہ اُس جوان لڑکی کو تلاش کرے گا جسکی عزت لاٹی گئی ہو اور اُسے قتل کرنے کا حکم دے گا۔ وہ اُس حکم کو اپنے خاندان کی عزت کی بحالی سمجھتا ہے اور اسلامی معاشرے کے اندر اُن کے نام کی عزت ہو۔ لوگ اکثر مرد کے اس قتل کو پیرو کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

متحدہ ریاستوں میں بہت سارے عزت پر قتل کے واقعات وقوع پذیر ہوئے ہیں۔ اُس وقت جب اس کتاب کی پہلی اشاعت ہوئی اس وجہ سے مسلمان آبادی میں اضافہ ہوا۔ زبردستی سے مسلمانوں نے اُن ملکوں میں اضافہ کیا ۔ شادی سے پہلے عورتیں کِسی بھی جنسی فعل میں پکڑی جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ وہ اگر زبردستی کا بھی شکار ہوئی ہوں قید کر دی جاتی ہیں۔ عورتیں نزدیکی طور پر ہمیشہ ہی مرتکب ہوئی ہیں۔ جبکہ مرد نہیں۔ اسلامی معاشرے میں مرد کو عزت دی جاتی ہے۔

اُس وقت تک عورتیں اپنی کم عزت پر ندامت محسوس کرتی رہے گی جب تک اُنکی تعلیمات قرآن اور محمد کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔ عورتوں کے لیے اُس طرح کے بے رحمی کے قانون یہ دنیا کے معاشرے میں کُھلم کُھلا الزام ہے اور یہ اس بات کو وحشیانہ رویے کے طور پر ظاہر کرنا ہے۔

طنزیہ طور پر یہ ایک گمراہ کر دینے والی عقل ہے، مسلمان عزت کے طور پر قتل کرنا اور قید میں ڈالنے کو اپنے آپ کو انصاف کا دعویدار بناتے ہیں، تعجبسے ، عورتوں پر آرٹیکل لکھے گے۔ وہ جو اسلام پر ایمان رکھتیں ہیں ۔ وہ جو اس قسم کے عمل کی تعریف کتیں ہیں۔ تاہم بہت ساری عورتیں جو نفسیاتی طور پر لطف اندوز ہوتیں ہیں ، یا برداشت کرتی ہیں۔ لعنت اور قہقے میں ہونے کے باوجود بھی اُنکی اپنے گھر میں ہی تعلیم و ترتیب کی جاتی ہے ۔ زندگی گزارنے کے اس طریقے کی صورت میں اُن کے ذہنوں کو صاف کر دیا جاتا ہے۔

جس طرح تُرکی کی حکومت اور اُن کے ثقافت اسلامی قبضے میں ہے، عورتیں دوبارہ ظلم کی رغبت بنی ہونی ہیں ایک آرٹیکل میں ‘‘ ترکی میں عورتوں کے قتل کی تعداد ’’ سکائی رائٹس ، اور ڈائیورین جانز کی رپورٹ،

  حال ہی ترکیمیں  ایک خبروں کی رپورٹ نے  استنبول کی گلیوں میں عورتوں کے قتل پر مرکزی نگاہ کی ہے، چار بچوں کی ماں دن دہاڑے کشادہ گلی میں بندوق سے مارا گیا ۔ اگرچہ اُسکا شوہر گرفتار ہو گیا تھا۔

خبروں کی رپورٹ کی شہہ سُرخی یہ تھی کہ ‘‘ایک عورت کا ایک اور فعل ’’ کیونکہ ایسے ماجرے سرِ عام روانہ ہو رہے تھے، تُرکی کی انصاف کرنے والی منسٹری کے تحت کہ ان سات سالوں میں عورتوں کے قتل کا شمار چھلانگ لگا کر ۱۴۰۰ فیصد ہو چکا ہے۔ ۲۰۰۲ ء میں ۶۶ عورتوں کا قتل ہوا ۔

۲۰۰۹ ء کے پہلے سات مہنوں میں ۹۵۳ ء پر ان کی تعدادقائم رہی۔

اخبار کا پہلا صححفے کو اِس سُری نے چونکا دیا۔ یک دوسرے خبار نے حکومتِ ترکی کے طور پر بیان کیا ہے، استنبول کی گلیوں میں دِل کو ہلا دینے والے دستبرداری کے واقعات ہوئے ہیں ۔(۲)

چونکا دینے والی زبردستی کی نئی شماریات حال ہی میں ناروے سے چلائی گئی اور دوسرے بد نام کرنے والے ملکوں سے بھی یہی خبر آئی۔

پولیس رپورٹ کی شماریات کے مطابق ۲۰۰۲ سے ۲۰۱۰ سالوں کے درمیان ‘‘سارے’’ ۸۳ اوسلو میں زبردستی جنسی حملوں کے تشدد کیس حل ہوئے ہیں ناروے نے غیر ممغربی مسلمان مہاجروں کو مرتکب کیا گیا تھا۔

۲۰۱۰ اور ۲۰۱۱ کے درمیان اوسلو میں زبردستی حملوں کی تعداد دوگنی ہو گی ہے ۔ ہوٹلوں میں ایسے واقعات اُنکے مہمانوں کو خبردار کروا  دیتے ہیں اور ایذا رسانی کی چین کی طرح خبردیتے ہیں۔(۳) ناروے کے سرکاری ٹیلی وثن نے ایک زبردستی جنسی تشدد کی شکار کا انٹر ویو کیا ۔ جس نے بتایا کہ زبردستی جنسی تشدد کرنے والے نے اُس عورت کو کہا کہ اُسکا مذہب اُسے اجازت دیتا ہے کہ وہ اُس عورت سے زبردستی جنسی تشدد کرے۔ اسلام کے مطابق ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی نظروں میں بے قصور ہو۔ جبکہ عورتیں ورغلانے والی تسلیم کی جاتی ہیں۔ اور مرد اُسکو شرمندگی خیال کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے نفس پر قابو نہ پانے کی کمی سے جبراً تاوان نہیں دیتے۔ اگر شریعی ثقافت میں ایک عورت زبردستی ہوتی تھی ۔ تو اُس پر الزام بدکار یا زناکار ہونے کا لگایا جاتا ہو گا اور اُس کو مارنے کے لیے یا قتل کرنے کے لیے قید میں ڈال دیا جاتا تھا۔ یہ کام مشرقی قوموں میں داخل ہو چکا ہے۔

۲۰۱۰ میں عزت کے نام پر یو کے میں ہونے والے ۴۷ ۔۔۔ حصہ سے اوپر ہیں۔ پچھلے سال میں زیادہ تر ۳ ہزار کا شمار کیا گیا ۔ یہ یورپ کے مسلمانوں میں یہ کام بہت بڑھ چُکا ہے ۔

سنجیدہ تصادم لا بدی طور پر وقوع پذیر ہونگے۔ مسیحی اور مسلمان ثقافت کے درمیان یہ تصادم ایک دفعہ پھر گرم ہوتے ہیں۔

طلاق کی شریعت

قرآن نے یہ مسلمان مردوں کے لیے آسانی رکھی ہے وہ اپنی بیویوں کو کِسی بھی وجہ کا انتخاب کرکے  طلاق دے سکتے ہیں ۔ قرآن کی ایک سورۃ میں لکھا ہے۔ ‘‘ اور اگر تم ایک بیوی کو دوسرے کے لیے تبدیل کرنا چاہتے ہو اور اگر اُن میں ایک بدلےپیسے دینا چاہتے ہو۔ (تاہم یہ اچھا ہے) تو اُسکے بدلےمیں کُچھ نہ لو۔’’ (قرآن ۴ :۲۰) یہ صرف طلاق کی شرط ہے تو دوسرا ایک کوئی قیمتی تحفہ یا پیسے واپس نہیں لے سکتا ۔ اسلامی شریعت میں ایک عورت کو اپنے شوہر کو طلاق دینا  یہ منع ہے۔ حقیقت میں ہو سکتا ہے اُسے طلاق دینے کی اجازت ہو، لیکن سراسر اُسے اس صورت کو تسلیم کرنے کی قوت نہیں ہے۔ البتہ ایک مرد اپنے خاندان کو اکٹھا رکھنے کے لیے آخری دفعہ کہہ دے اور اُسکے پاس تمام موضوع کو اور تمام مسائل کو کنٹرول کرنے کا پورا اختیار ہوتا ہے اسی طرح اگر وہ فٰصلہ کرتا ہے کہ اُسے دوسسری بیوی چاہیے ، ہو سکتا ہے کہ اُس نے معاملہ اپنی بیوی یا بیویوں کے ساتھ بیان کیا ہو ، لیکن جو کُچھ بھی ہو وہ نہیں کہتا ۔ اُس وقت ایک مرد کے پاس بلا شرکت طلاق کے طریقہ عمل کے تمام مسائل کا حق ہوتا ہے ۔مسلمان مرد اکثر اپنی بوڑھی بیویوں کو جوان بیویاں بدلنے کے لیے طلاق کا انتخاب رتے ہیں۔ اس چال کے ذریعے سے وہ اپنی بیویوں کی تعداد کو قائم رکھنے کے لیے جسکی معیاد قرآنِ مجید میں چار ٹھہرائی ہے قابل ہو جاتے ہیں۔ مسلمان مرد کو صرف ‘‘ میں تجھے طلاق دیتا ہوں ’’تین دفعہ کہنے کی ضرورت ہے اور طلاق ہو جاتی ہے مسلمان عورتوں کے پاس اسلامی قانون کے تحت کوئی بھی جابراًسیکورٹی نہیں ہوتی۔ ایک دم سے ہو سکتا ہے ۔ پہلی بیوی اپنے خاندان کی زندگی کو خوبصورتی بنائے ۔ اُسکا شوہر ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی فرصت میں یہ فیصلہ کرے اُسکی جگہ ایک جوان بیوی کو تبدیل کرنے کا جو بہت خوبصورت عورت ہو۔ عورتوں کے ساتھ بہت گھٹیا سلوک کیا جاتا ہے۔ جیسے حیوان، وُصول، یا جاگیر اس کے فرق میں کلامِ مقدس مسیحی عورت کی بہت طرفدار ی کرتا ہے۔ یسوع مسیح نے طلاق کو روکنکے کے لیے بہت سخت الفاظ بولے۔ یسوع نے کہا ‘‘انہوں نے اُس سے کہا پھر موسیٰ نے کیوں حکم دیا کہ طلاق نامہ دے کر چھوڑ دی جائے؟ اُس نے اُن سے کہا کہ موسیٰ نے تمہاری سخت دلی کے سبب سے تم کو اپنی بیویوں کو چھوڑ دینے کی اجازتے دی مگر ابتداء سے نہ تھا اور میں تم سے کہتا ہوں کہ جو کوئی اپنی بیوی کو حرامکاری کے سیوا اور سبب سے چھوڑ دے اوردوسری سے بیاہ کرے وہ زنا کرتا ہے اور جو کوئی چھوڑی ہوئی بیاہ کرے وہ بھی زنا کرتا ہے ۔ (متی ۱۹ : ۶ ۔ ۹)

محمد کی تعلیمات یسوع کے کلام کو مکمل طور پر رد کرتی ہے۔ شریعت کے تحت ، صرف زندہ رہنے یہودی ایمان میں طلاق کے بارے میں واقعات وقوع ہوتے ہیں اپنے شادی شدہ ساتھی کے زنا کرنے کے لیے سونپا یہ عام ہے ، عبرانیوں مین زنا کاری کی وسعت عام ہے اور عام طور پر جسمانی جنسی تعلقات حد سے گزر چُکے ہیں۔ پرانے معاہدے کی طرح نیا عہد مرد یا عورت کو طلاق اشتعال دیتا ہے۔

اگر میاں اور بیوی موجودہ طور پر زندگی گزارنے میں مشکل ہو تو وہ ایک دوسرے کو طلاق دے سکتے ہیں۔ بعض اوقات اسلام ایسے سے طلاق کے لیے اختلاف کرتا ہے جو اپنی بیوی کو تبدیل کرنے کی خواہش کرتا ہے؛ اکثر یہ کہ وہ اپنی بوڑھی بیوی کی جگہ نوجوان بیوی کو لے آتا ہے۔ اسلامی شریعت کے تحت ، ‘‘لعنت اور بدکاری ہمیشہ طلاق کے لیے اشتعال انگیز رہی ہے۔ مسلمان عورت کے پاس اُسے اپنے دِل اور ذہن کی کوئی سیکورٹی نہیں ۔’’ایک مرد کے لیے لوگوں اس بات کو دہرانا بہت سادہ اور آسان ہے۔‘‘ میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔’’ ‘‘میں تجھے طلاق دیتا ہوں ۔’’ ‘‘میں تجھے طلاق دیتا ہوں ’’۔ ایک دفعہ ان بیانات کو دہرا دیا جائے تو طلاق واجب ہو جاتی ہے ۔ اس فیصلے میں عورت کُچھ نہیں کہہ سکتی۔محمد نے خود اس بات کا بیان کیا ہے کہ ‘‘ ایک عورت ایک مرد کی غلام یا قیدی ہے۔’’(۴)

مزید برآں؛ چاند دیوتا اُسے صُلحٰ کی اس تحریک کے لیے مخالفت کرتا ہے قرآن مجید کے ان فرض کیے گئے الفاظوں کے ذرائع سے قرآن ۲: ۲۳۰ ‘‘ اور اگر اُس نے اُس کو طلاق دے دی ہے۔

(تین دفعہ) تو وہ شریعی طور پر اُسکی بیوی نہیں ہے اُسکے بعد وہ کِسی دوسرے سے شادی کر سکتی ہئ ۔’’ محمد دوسری احادیث میں تفصیل سے بیان کرتا ہے۔اُس نے سیکھا کہ طلاق یافتہ عورت اس بات کا دوسری شادی سے پہلے کا یقین کر لے کہ وہ مرد کے پاس صُلح کے بعد دوبارہ جا سکتی ہے یہ نامکلم تعلیم توریت کی تعلیم سے بہت مختلف ہے۔ کہ ایک دفعہ دوبارہ شادی کے بعد مرد یا عورت اپنے پہلے شوہر یا بیوی کے پاس دوبارہ واپس نہیں جا سکتے ۔محمد اپنی کم علمی کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک دفعہ پھر وہ اپنے صحیفے کے علم سے اُسکی مطابقت کرتا ہے ۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محمد کیسے یہودی اور مسیحی صحیفوں کو غلطیوں سے بھرا ہوا کہتا ہے۔ جبکہ وہ اپنے صحیفے کی خُود تصدیق نہیں کر سکتا؟ محمد ایک ان پڑھ شخص تھا وہ دوسروں کے خیالات کو سُن کر اُن پر تکیہ تھا۔ کوئی بھی پڑھا لکھا شخص ایسے آدمی پر کیوں تکیہ کرے گا جو وہ لگاتار توریت کی تردید کر رہا ہے !

یہ بالکل واضح ہے محمد خود کا دعویدار نبی تھا۔ وہ ایک پاگل اور نفسیاتی شخص تھا جو صرف شریعت کے متعلق تھوڑا سا جانتا تھا اور وہ جو اُسکی پیروی کرتے تھے احمق تھے۔ اور یہ ایسی دستکاری کے لیے آسان نشانہ تھا۔

محمد کی جنسی شہوت

محمد اپنی بہو سے شادی کرتا ہے

اسلامی تاریخ کے مطابق ، زید زینب کی کہانی بہت زیادہ مشہور تھی۔ زید محمد کا منہ بولا بیٹا تھا۔محمد کے بیٹوں میں سے اسلام میں پہلا منہ بولا بیٹا تھا۔ جب وہ شادی کے قابل ہو گیا تو محمد نے اُسکی کزن زینب سے اُسکی شادی کر دی ۔ زینب اعلیٰ درجے کی عورت تھی اور زید رہا کردہ غلام تھا۔ زینب نے نوجوان زید کے ساتھ شادی کرنے کی محمد کی اُس تجویز کو رد کر دیا تھا ۔معقول طور پر محمد پر اِس مسئلے کے لیے ایک نئی وحی نازل ہوئی اور یہ کہ زینب ایماندار خاتون بن گئی تھی جب اللہ اور اُسے پیغمبر نے اس تعلقات کا فیصلہ کیا۔(اُن کے لیے) کہ اُنہیں دعویٰ کرنا چاہیے ۔ کوئی بھی اُنکے تعلقات کے بارے میں کُچھ کہے تو وہ اللہ سے اور اُس کے پیغمبر سے باغی ہے دراصل وہ اس غلطی کو عیاں کرتا ہے (قرآن ۳۳ : ۳۶) اس نئی وحی کی وجہ سے زینب کو زید کے ساتھ زبردستی کرنی پڑی ۔ اِس کے بعد محمد اپنے منہ بولے بیٹے زید کے گھر گیا تو اُس نے اُس واقعہ کو دیکھا کہ زینب اپنے رات کے پہننے والے کپڑوں میں ملبوس اپنے جسم کے جنسی حواس کو صاف کر رہی ہے۔ اور اُس کی خوبصورتی نے اُسکو فریفتہ کر دیا۔ ڈاکٹر ماکھیل اسکو لگا تار شمار کرتا ہے کہ زینب نے اُسے اندر آنے کے لیے کہا تو محمد نے منع کیا اور وہ اُونچی آواز سے یہ کہتا ہوا چلا گیا کہ ‘‘کہ اللہ کی تعریف ہو جو دِلوں کو تبدیل کرتا ہے۔ جب زید گھر آیا تو زینب نے اُسے محمد کی آمد کا بتایا اور یہ بھی بتایا کہ اُسے کیا کہا تھا؟ زید محمد کے گھر گیا اور اُس سے پوچھا ‘‘ کیا مجھے زینب کو طلاق دینی ہو گی۔’’؟ ‘‘ کہ وہ آپکی بیوی کے طور پر مقرر ہو۔’’ محمد نے جواب دیا اُسکے بعد زینب نے محمد سے شوہر کے طور پر برتاؤ کیا۔ زید غصے ہوا اور اُس نے اُسکی عزت نہ کی اور اُسے اپنی بیوی کے طور پر اور زیادہ نہ رکھ سکا، اِس لیے اُس نے اُسے طلاق دے دی۔(۵) محمد دونوں طرف سے مشکل میں پڑ گیا تھا۔ اُس کی شہوت پرستی نے زینب کو حرص کا نشانہ بنایا۔ تاہم اُسکی اُس کے ساتھ منگنی ناجائز تھی ۔ اچانک محمد کو اپنے خاندان کی روح ملی وہ جبرائیل اس پیغام کی پیروی کرتا ہے :

اور جب تو اُس سے کہنا وہ جو جسکی اللہ طرفداری کرتا ہے اور تو کِسی جلدی سے کہتا اور اُس عطا کرنے والے کی طرفداری کو بیان کرتا کہ وہ اور اُسکی بیوی اللہ سے ڈرتے رہیں اور تو کہنا کہ جن کا ذہن بند ہے اور جِسکو اللہ روشن کرتا ہے ۔ اور تو کہنا ساری مخلوق اللہ سے ڈرتی ہے اور اللہ ہی سب سے بہتر ہے۔ اور تو کہنا کہ اُسے ڈرنا چاہیے۔ اِس لیے جب زید زینب کو طلاق دینے کے لیے کُچھ ضروری کام سر انجام دے رہا تھا۔ اُس نے کہا کہ ہم نے اِسے آپ سے شادی کے لیے دے دیا ہے۔ اِس سے پہلے یہ کہ ایمانداروں کے لیے اُن کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کی عزت کرنے میں کوئی گناہ نہیں ہے ۔ لیکن بعد میں انہوں نے طلاق دینے کے لیے کُچھ ضروری کام سرانجام دیا اللہ کے حکموں کو پورا کرنا ضروری ہے۔(قرآن ۳۳ : ۳۷)

کِس طرح ممکن ہو سکتا ہے یہ کہ محمد پر بروقت زینب سے نسبت رکھنے اور اُسکے ساتھ اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وحی کا نزول ہو۔ جب اُسکی بیوی عائشہ نے اِس نئی شادی کے متعلق سُنا۔ اُس نے فرمایا ‘‘کہ میں آپ اللہ کو دیکھتی ہوں جو جلدی سے آپکی خواہش کو پورا کرتا ہے۔’’(۶) حتیٰ کہ عائشہ محمد کی نیت پر مشکوک رویے کا اظہار کرتی تھی ۔

محمد نے موسیٰ کی شریعت کے دس حکموں کو توڑ دیا تھا ‘‘ تو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا’’(خروج ۲۰: ۱۷)

یہ واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ محمد کی یہ وحی صرف اپنی طرف سے تھی، یا یہ شیطانی روحوں سے راہنمائی لیتا تھا۔

داؤد بادشاہ کا بھی بالکل شہوت پرستی کا ایسا ہی تجربہ تھا جب اُس نے دوسرے آدمی کی بیوی سے شہوت کی ایک دِن جب داؤد اپنے بالاخانہ کھڑا تھا ۔ واقعہ دیکھنے کو یہ مِلا کہ ایک عورت جس کا نام بتسبع تھا ۔ وہ اپنے گھر کی چھت پر نہا رہی تھی؛ اُس نے اپنے ہوائے نفسیس سے اور پر جوش طریقے سے اُسکی آرزو کی اُس نے ممکن طور پر جس طرح باز کو چمڑے کی چڑیا دکھا بُلاتے ہیں جب وہ دور ہوتا ہے اُس نے بھی بتسبع کو اپنے گھر میں اُسی طرح بُلایا اور اُسکے ساتھ بدکاری کی وہ حتی اوریاہ کی بیوی تھی۔ جو اُسکے شاہی سپاسالاروں میں سے ایک تھا داؤد کے شمار کردہ گناہ پر ناتن نبی نے روح القدس کی راہنمائی سے براہ راست اُسکا سامنا کیا اور داؤد نے اپنی غلطی کو مانا اور بڑے دُکھ کے ساتھ اُسکی پیشمانی ظاہر کی۔ (سموئیل ۱۲:۱۳ )

محمد کے رویے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اگر اُسکے گناہوں کے لیے اس پر ملامت کی گئی تھی، یا اگر کِسی کو بھی اُس کی حکمرانی پر شک تھا ۔ محمد نے اُن کو قتل کر دیا ہو گا اور وپ ذرا بھی پیشمان نہ ہوا ہو گا ! محمد وہ آدمی تھا جس نے ہو سکتا ہے کبھی بھی اپنی تحمل مزاجی پر دُرستی نہ ہوئی ہو ۔ جیسے کبھی بھی یہودیوں ، مسیحیوں ، یا مسلمانوں نے تنبیہنہیں کی ۔ اُس نے کسی کو مارنے کے ذریعے سے اپنی بحث کو اپنایا ، جس کِسی نے بھی محمد کو حاکم ہونے کے طور پر اُسکی حکمرانی پر سوال اُٹھایا  یہ اُس کی بیوی عائشہ کے لیے بڑی حیران کن بات تھی، اُسکی محمد کے ساتھ بحث پر اُسکو نہیں مارا گیا تھا۔

اگر یہ یہاں پر داؤد کی زندگی کے درمیان بڑا فرق دیکھائی دیتا ہے وہ بعد میں بھی اپنے گناہوں پر کبھی پیشمان نہیں ہوا بلکہ مادہ طور پر وہ اس بات کا دعویٰ کر دیتا تھا ۔ کہ اُس پر اللہ کی طرف سے نئی وحی نازل ہوئی ہے اُس کے اِس وحشیانہ رویے کو معاف کر دیا ہےایک تو یہ حیرانکن بات ہے کہ کیا محمد کی گناہ آلودہ زندگی پر روح حکم چلاتی ہے ۔ یہ اپنے خُود کے ایجاد کردہ الہیٰ مکاشفے کا دعویدار تھا، کیا محمد اپنی فطرت کو اپنی روح کے ذرائع سے ذلیل کر سکتا تھا، وہ جبرائیل کی راہنمائی کا جھوٹا دعویٰ کرتا تھا۔ بائبل کے الہام یہواہ اِسکو واضح کرنا ہے کہ وہ ضرور سزا پائے گا وہ ایسے ظالمانہ رویے کی سرزنش کرتا ہے۔ حتیٰ کہ داؤد اگرچہ اسرائیل کا مسٰح کردہ بادشاہ بھی تھا۔ لیکن پھر بھی خُدا نے اُسکی سرزنش کی ۔ تو محمد نے اپنی درستگی کیوں نہیں کی تھی۔ یا کیوں نہیں اپنی روح کو اس طرح کی راہنمائی کرنے سے ملامت کی تھی ؟ ظاہر ہے کہ محمد کی انگلیوں کے نشان اور اُس کے خاندان کی شیطانی روح، قرآن کے صحیفوں پر اس کی لازوال مہر ہے کیا محمد ایک پیڈو فیلی تھا ۔

سب سے بڑا محمد کی بدکاری کا ثبوت اسکی چھے سال لڑکی کے ساتھ شادی کو ثابت کرتا ہے اُسکا نام عائشہ تھا۔ محمد کی عمر ۵۳ سال کے قریب تھی۔ جب اُسے دُلہن بچی کے ساتھ اپنی منگنی کی بعد میں ۹ سال کی عمت میں عائشہ کو پورے طور پر محمد کی شادی میں دے دیا گیا۔ اس کے شمار میں حدیث بیان کرتی ہے:

عائشہ سے روایت ہے۔۔۔۔ میری ماں اُم رومان میرے پاس اُس وقت آئی جب میں اپنی سہلیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی جُھوم رہی تھی اُس نے مجھے پکڑا اور میں اُس کے پاس گئی یہ جانے بغیر کہ وہ مجھ سے کیا چاہتی ہے کہ میں کروں۔ اُس نے ہاتھ سے پکڑا اور مجھے گھر کے دروازے میں کھڑا کر دیا۔ اُس وقت میرا سانس پُھولا ہوا تھا ۔ اور جب میرا سانس بحال ہوا اُس نے تھوڑا سا پانی لیا اور میرے چہرے کو صاف کیا اور میرے سر کو بھی ملا۔ تب وہ مجھے گھر میں لے گئی، غیر متوقع طور پر اللہ کے رُسول دوپہر سے پہلے میرے پاس آئے اور میری ماں نے مجھے اُس کے حوالے کر دیا اور اُس وقت میں ۹ سال کی ایک لڑکی تھی۔(۷)

بلوغت کی عمر سے پہلے ہی، ایک چھوٹے بچے کے ساتھ پیغمبرِ محمد ہم بستری کرتا ہے۔ یہ اُسکی چھوٹی عمر کی زندہ دِل تصویر ہے۔ جو ایک حدیث میں بیان کی گئی ہے:

میں محمد کی موجودگی میں گڑیا سے کھیلا کرتی تھی اور میری سہلیاں بھی میرے ساتھ کھیلا کرتیں تھیں۔ جب اللہ کے رُسول میری قیام کی جگہ میں داخل ہوتے یا استعمال کرتے، وہ اپنے آپ کو چھپا لیتی تھیں۔لیکن نبی اُن کو بلاتے تھے کہ وہ میرے ساتھ کھیلیں وہ گڑیا کے ساتھ یا ایسی ہی تصویروں کے ساتھ کھیلنے سے منع کرتا تھا ۔ لیکن عائشہ کو اس سے کھلینے کی اجازت تھی، اُس وقت وہ چھوٹی لڑکی تھی۔ ابھی تک وہ بلوغت کی عمت میں نہیں پہنچی تھی ۔(۸)

آپ تصور کریں کہ پیغمبرِ محمد ۵۳ سال میں ایک معصوم بچی کے ساتھ جنسی ملاپ کر رہا تھا جو ابھی اپنی گڑیا سے کھلیتی تھی محمد  نے دوسرے م ذہبی عبادت کے راہنماؤں کو بھی اس صف بندی میں شامل کیا جو اس طرح کے جنسی میلاپ سے جُڑے ہوئے۔جن کی مشقیں بائبل مقدس میں نہیں کی جاتی۔ یہ حیران کُن بات ہے دنیا کے تمام مرد مسلمان محمد کی صدیوں سے عزت اور اطاعت کرتے ہیں، بہت سارے مُلکوں میں بوڑھے مسلمان مرد اکثر قانونی طور پر ابھی بلوغت میں پہنچنے سے پہلے جوان لڑکیوں سے شادیاں کرتے ہیں۔ اسلامی شریعت جوان لڑکیوں کو اس طرح سے شادی کرنے کی اجازت دیتی ہیں ۔(۹)جِسکی بنیاد اُن کا اپنا گناہ آلودہ کردار کا نمونہ ہے۔ جسکو یہ مرد نو عمر بچیوں کے ساتھ دُکھ دینے کو چُنتے ہیں اور اُن کو ذہنی طور پر اُنکی زندگی میں خوفزدہ کرتے ہیں۔

انگلینڈ میں مسلمانوں کی آبادی بہت بڑا اس بات سے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ کہ طلاق کا قانون اُن لوگوں کے لیے ہے۔ جو اسلامی ایمان کے پیروکار ہیں۔باقی سوال یہ رہ جاتا ہے کہ کیا دوسرے قانون آگے چل کر اسلامی انصاف کی اس تعلیم کی صورت کو بدل دیں گے اور اس قسم کے جنسی ملاپ سے احتراز کریں گے؟ کیا پیڈوفلیا بھی مسلمانوں کو اجازت دے گا۔کیا وہ اپنے شریعی قانونصوبوں میں رائج کریں گے کہ مسلمان آبادی کے لیے یہی مطلب ہے؟ کیا سیاست مسلمانوں کے اس وہم کے عوامل کو بند یا دُرست کرے گی، کہ وہ اپنی عام شریعی وراثت کے ماتحت ہوں گے؟ محمد کی بچی سے شادی کو اسلامی طور پر قبول کرنا، اسکی اپنی مرضی سے متفق ہونے کی بنیاد عرب کے قبیلے بدوؤں میں پائے جاتی ہے۔ اس طرح کے دائرے کی شکل دونوں طرف سے مشکل پیدا کرتی ہے۔ اس وقت عرب کے بہت سے قبیلوں کے راہنماؤں کی جوان بیٹیاں اور بہنیں تھیں ، تو محمد نے اُن میں ایک کے ساتھ شادی کیوں نہیں کی تھی؟ جو بالکل واضح ثبوت دیتا ہے۔

محمد کی اُن سے آزاد زبردستی جنسی خواہش اُسے شریک کرتی ہے پیڈوفیلیا میں زیادہ تر نفس پروری بدل جائے۔

حقیقی طور پر کِسی بھی موجودہ عدالت کا قانون، محمد کی غلطی کو پیڈوفیلی کے طور پر بیان کرے گا، محمد کا عورتوں کی مذمت کے متعلق محمد کا بیان رد نہیں کیا جا سکتا ۔

جبکہ بائبل مقدس نے عورتوں کو مردوں کے برابر حقوق دیے ہیں۔ لیکن قرآن اس بات کو رد کرتا ہے، اُن کے رُتبے کو جانوروں، یا زمین کی وصول کے برابر درجہ دیتا ہے۔ محمد کا سماج کے مخالف رویہ عورتوں کے حق کے متعلق انصاف سے محرومی کا ایک نمونہ ہے اور خاص طور پر نوجوان لڑکیوں کے متعلق۔ اُسکا بیان عورتوں کو مارنے کی معافی کا ثبوت ہے، اُسکو نفسی ایذارسائی کی درجہ بندی کرنی چاہیے۔ یہ صرف عورتوں کے لیے نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بلکہ اُن کے لیے بھی جو اُسکی غلط تعلیمات میں پھنسے ہوئے ہیں۔

محمد ایک بدکار اور ظالم آدمی تھا۔ اُس نے تلوار کے ذریعے سے تھوڑے سے انسانی حقوق کی خاطر جبراً مذہب کو پھیلایا تھا ۔ خاص طور پر عورتوں کے لیے۔

 

مخفف سی

قرآن کے لیے ازروئےمتن مواد

محمد کی موت ( ۶۳۲ ء )

کوئی بھی مکمل قرآن محمد کی موت کے ۱۵۰ سال تک نہ تھا ۔ ( دیکھیئے نیچے ٹاپ کاپی

اُبوبکر ( پہلا خلیفہ )

اُس نے زیدبنطابت کو قرآن کی سورتیں کھجور کے پتوں کے حصوں ، سفید پتھروں ، چمڑے ٹکڑوں ، چھوٹے بورڈوں کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر جو کُچھ لِکھا ہوا ہے اُن کے ذریعے، جو کُچھ کندھے کی ہڈیوں پر لکھا ہے اُن کے ذریعے ، پسلیوں کی ہڈیوں کے ذریعے اور مختلف دوسرے وسائل سے اکٹھا کرنے کے لیے کہا۔

عثمان ( ۶۵۰ ء )

اُس نے چار دوبارہ سے آراستہ کرنے والے لوگوں کو حکم دیا کہ اِس کی تجدید کریں ، ترمیم کریں اور قرآن کے متن کو اصلی قریش کے متن الخط میں لکھیں پھر اُس نے اِس متن کو پورے عرب  میں تقسیم کر دیا اور جتنے بھی پہلے متن موجود تھے اُن کو برباد کر دیا۔

ٹاپ کاپی اور سمر قند کے نسخہ جات

مسلمان دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ نسخہ جات عثمان کے ابتدائی نسخے ہیں۔ یہ بات نا ممکن نظر آتی ہے ۔ کیونکہ اِن کا متن کوفی رسم الخط میں لِکھا گیا ہے جو کہ عثمان کی موت کے ۱۰۰ سال بعد تک استعمال نہیں ہوتا تھا۔ کوئی بھی مکمل قرآن کا متن محمد کی موت کے ۱۵۰ سو سال بعد تک موجود نہیں تھا ۔ تمام تر نسخہ جات شہادتوں کے ساتھ اور قرآن کے ترجمے کی تاریخ کے ساتھ کوئی بھی مُسلمان یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ کونسی سورۃ کو محمد نے خود بیان کیا ہے۔

مختلف متن عثمان نے بین کر دیئے( برباد کر دئیے یا چھپا دیئے۔

ابتدائی تعلیمات

۔  ۔ ابن مسعود ( جس کی محمد بُہت زیادہ تعریف کرتا تھا کہ یہ سب سے زیادہ اچھا قرآن پڑھتا ہے )

۔  ۔ ابن کعب ( اِس کی بھی نبی بُہت زیادہ تعریف کرتا تھا کہ یہ بھی بُہت اچھا پڑھتا ہے )

 ۔  ۔ حفصہ ( نبی کی بیوی : اِس کے متن کو مروان نے اُس کی موت کے بعد برباد کر دیا)

۔  ۔ عائشہ ( نبی کی ایک دوسری بیوی )

 ۔ ۔ علی

۔  ۔ ابن عباس

۔  ۔ ابو موسیٰ

۔  ۔ انس بی ملک

۔  ۔ عمر

۔  ۔ زید بی طابت

۔   ۔ ابن از ۔ زبیر

۔  ۔ابن امر

۔  ۔ سالم

۔  ۔ اُمہ سلمیٰ

۔  ۔ عبید عمر

ثانوی تعلیمات

۔  ۔ الہ اسود

۔  ۔ انکمہ

۔  ۔ حیتن

۔  ۔ سید بی خیبر

۔  ۔ طلحہ

۔  ۔ مجاہد

۔  ۔ عطا بی ابی رابعہ

۔  ۔الر بی بی خطائم

المیش

۔  ۔ جعفر از سعاد

۔  ۔ الحارث بی سعود

۔  ۔ بُہت ساری بے نام تعلیمات

باب ششم

(۱) مائیکل ورنر دی وے آف دی شامین ( این ۔ وائے ۔ ، ہارپر اینڈ روپبلشرز ، ۱۹۸۰ء ) ، ۲۵ ۔

(۲) تخفیف ۔ ، ۵۴ ۔

(۳) مریسیا الائیڈ ، شامانیزم: آرکیک ٹیکنیکسآف آکیسٹیسی ، ٹرانس ۔ بیلاڈآر۔ٹراسک (این ۔ پی۔ ، پرنسٹن یونیورسٹی پریس ، ۱۹۶۴ء ) ۔ ۵۶ ۔

(۴) ایف جے گیلن اینڈ بالا دی وِن سپنسر ، نیٹیف ٹرائبس آف سنٹرل آسٹریلیاء ، لندن ، این ۔ پی ۔ ، ۱۸۹۹ء ) ۔۴۸۴ ؛ کورٹِڈاِن مریشیاء الائیڈ شامانیزم ، ۵۷۔

(۵) اِیچ۔لنگ روتھ ، دی نیٹیف آف ساراوِک اینڈ برٹش نارتھ بورنیو بیسڈ چیفلی آن دی ماس ۔ آف دی لیٹ ہیوج بروک لاء ، والیم ۔ ۱ (لندن : این ۔ پی ۔ : این ۔ ڈی۔) کورڈیڈاِن الائیڈ ، شامانیزم ، ۵۷۔

(۶)نُڈرسُموسن، انٹیلیکچول کلچر آف دی اِیگلولِک ایسکیموس، ٹرانس ولیم وارسڈ (کوپن ہیگن : این ۔ پی ۔ ، ۱۹۳۰ء) ۱۱۲ ۔ ۱۳ : کورڈیڈاِن الائیڈ ، شامانیزم ،۵۷۔

(۷) الائیڈ ، شامانیزم ، ۶۰ ۔ (۸) رابرٹ پین ، ہسٹری آف اسلام ( این ۔ وائے ۔ : ڈور سیٹ پریس ، ۱۹۹۰ء) ، ۱۰۔۱۱ ۔

(۹) الطبری ، ہسٹری ، والیم ۶ : ۷۵ ۔

(۱۰) تخفیف

(۱۱) البخاری ، حدیث والیم۔۴، نمبر۔ ۳۲۰۷ : ۱۸۵؛ والیم ۔ ۹ ، نمبر ۲۳۷ ۔ ۷۵۱۷ ، والیم ۔ ۲ ، نمبر ۶۳ ۔ ۲۶۲ : ۱۶۳۶ ؛ والیم ۱ ، نمبر ۔ ۳۴۹ : ۱۳۰

(۱۲) الطبری ، تاریخ ، والیم ۔ ۶ : ۷۸

(۱۳) ہارنر ، وے آف دی شامان ، ۵۵

(۱۴) الائیڈ ، شامانیزم ، ۵۸ ۔ ۵۹

(۱۵) ولیم تُھل بِٹزر ‘‘ لی میجی شین اسوسمیکس ، لرز کونسیپشن دیو مونڈی ، دی ، لامے، ایت

دی لاوئیے، ‘‘ جے ایس اے ، ۲۲ (۱۹۳۰) : ۷۸ : دی ہدُن پریٹس آف گرین لینڈ ( اینگاکُٹ ) ’’۔ ورہنڈلیجن دئیس ۳۶ انٹرنیشنل امریکنیصٹنکونگیس ، پی ٹی ۲ (۱۹۰۸ء) : ۴۵۴؛ کوٹڑ اِن الائیڈ ، شامانیزم ، ۵۸ ۔ ۹ (۱۶) تھل بٹزر ، ‘‘ دی ہتھن پریسٹیس ، ۴۵۴ ؛ کوٹڈ اِن الائیڈ، شامانیزم ، ۵۹

(۱۷) ہارنر ، وے آف دی شامان ، ۵۱

(۱۸) الائیڈ ، شامانیزم ، ۵۱

(۱۹) تخفیف۔، ۱۰۱

(۲۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۱ نمبر ۳ : ۵

(۲۱) تخفیف

(۲۲) الطبری ، ہسٹری ، والیم ۔ ۶ : ۶۹

(۲۳) تخفیف

(۲۴) تخفیف ۔ ، ۷۲

(۲۵) میتھیو سٹرلنگ ، ‘‘ جیو اور شامانیزم، ’’ پروسیڈنگز آف دی امریکن فِلور سوفیکل سوسائٹی ، ۵۷ (۱۹۳۳ء) : ۱۳۷ ۔ ۴۵ ؛ کوٹڈ اِن الائیڈ ، شامانیزم ، ۸۴

(۲۶) ڈاکٹر لابل مِکھیل ، اسلام محمد اور قرآن : دستاویزی تجزیات (این ۔ بی : این ۔ پی ، ۱۹۹۶ء) ، ۱۴ (۲۷) البخاری ، حدیث ، والیم ۳ ، نمبر ۔ ۲۶۶۱ : ۳۳۶۔

(۲۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۲ ، ۳ : ۴ ۔ ۵

(۲۹) کے ایف کرجالائنین، ڈائی رلیجن ڈر جوگرہ  ولکر ، والیم ۔ ۳ ، (این ۔ پی ، این ، پی ۔ ، ۱۹۲۱ ۔ ۲۷ ) ، ۲۴۸؛ کوٹڈ اِن الائیڈ ، شامانیزم ، ۱۵

(۳۰) جان آر ۔ سوانٹن ، سوشل کنڈیشن ، بی لیف ، اینڈ لِنگوسِٹک ریلشن شِپ آف دی لِنجٹ

انڈین ، ‘‘ آر بی ای ڈبلیو، ۲۶ ( ۱۹۰۸ء) : ۴۶۶ ؛ کوٹڈ اِن الائیڈ، شامانیزم ، ۵۵

(۳۱) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ، ۵۷۴ : ۲۳۲

(۳۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۵۷۴۱ ۔ ۲۳۱، ۵۷۳۷ : ۲۲۹ ۔۳۰ والیم ۳ ، نمبر ۲۲۷۶ : ۱۷۵ ، والیم ۶ ، نمبر ۵۰۰۷ : ۲۸۶

(۳۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۷۴۰ : ۲۳۰ ، ۵۹۴۴ : ۲۸۶

(۳۴) تخفیف ۔ ، ۵۷۳۸ : ۲۳۰

(۳۵) تخفیف ۔ ، ۵۷۳۹ : ۲۳۰

(۳۶) تخفیف ۔ ، ۵۷۵۳ : ۲۳۴ ، ۵۷۷۲ : ۲۴۰ ،

(۳۷) ٹرانس محمد ماماڈیوک پکتھل ، شاندار قرآن کے معانی ، (این وائی اور ٹرانٹو : نیو امریکن لائبریری ، این ڈی۔ ) ۴۵۵

(۳۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۔ ۵۷۳۵ : ۲۲۸ ۔ ۲۹ ، ۵۷۴۸ : ۲۳۲ ، ۵۷۵۱ : ۲۳۳ ؛ والیم ۶ ، نمبر ۵۰۱۶ ۔ ۰۷ : ۲۸۹ والیم ۔ ۵ ، نمبر ۴۴۳۹ : ۳۰۰ ۔

(۳۹) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۷۴۷ : ۲۳۲ ، والیم ۔ ۴ ، ۳۲۹۲ : ۲۱۰ ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۶۹۹۵ : ۵۵ ، ۷۰۰۵ : ۵۸ ۔ ۵۹ ، ۷۰۴۴ : ۷۱

(۴۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۷۲۱ : ۲۲۵

(۴۱) تخفیف ۔ ، ۵۴۴۵ : ۱۴۰ ۔ ۴ ، ۵۷۶۹ : ۲۴۰ ، ۵۷۷۹ : ۲۴۲

(۴۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۷۶۳ : ۲۳۷ ، ۳۹ ۔ ۲۳۸ ۔ ۵۷۶۵ ؛ والیم ۔ ۸ ، نمبر ۔ ۶۰۶۳ : ۲۹ ، ۶۳۹۱ : ۱۳۷؛ والیم ۴ ، نمبر ۳۲۶۸ : ۲۰۴

(۴۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۷۶۷ : ۲۳۹

(۴۴) البخاری ، حدیث ، والیم ۲ ، نمبر ۱۲۴۵ ۔ ۶۳ : ۱۲۷ ۔ ۳۰

(۴۵) البخاری حدیث ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۱۶۲ : ۷۲

(۴۶) البخاری ، حدیث ، وال؛والیم ۔ ۲ ، نمبر ۱۲۴۵ ۔ ۶۳ : ۱۲۷ ۔ ۳۰

(۴۷) تخفیف ۔ ، ۹۵۳ : ۲۹

(۴۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۱ ، نمبر ۴۲۶ : ۱۵۵ ، ۱۶۸ : ۷۴ ؛ والیم ۷ نمبر ۔ ۵۸۵۴ : ۲۶۵ ، ۵۸۶۶ : ۲۶۶

(۴۹) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۵۸۹ : ۱۹۴ ؛ والیم ۳ ، نمبر ۲۳۵۲ : ۲۱۱

(۵۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۔ ۵۳۷۶ : ۱۲۰

(۵۱) تخفیف ، ۵۶۳۰ : ۱۹۷ ۔

(۵۲) پکتھل ، قرآن ، ۱۷۹

(۵۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۔ ۵۶۸۶ : ۲۱۶ ، ۵۷۲۷ : ۲۲۶ ؛ والیم ۔ ۴ ، نمبر ۳۰۱۸

(۵۴) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۳ ، نمبر ۔ ۲۱۰۳ : ۱۱۸ ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۲۸۳ : ۱۰۶

(۵۵) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۷۱۶ : ۲۲۳ ۔ ۲۴

(۵۶) تخفیف ، ۵۷۱۸ : ۲۲۴

(۵۷) البخاری ، حدیث ، والیم ، ۱ ، نمبر ۱۳۰ : ۶۲

(۵۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۵ ، نمبر ۳۹۳۸ : ۱۱۰ (۵۹) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۸ ، نمبر ۶۲۲۳ : ۸۱ ، ۶۲۲۶ : ۸۲ ؛ والیم ۔ ۴ ، نمبر ۔ ۳۲۸۹ : ۲۰۹

(۶۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۴ ، نمبر ۳۵۷۹ : ۳۱۹

(۶۱) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۳ ، نمبر ۲۰۹۵ : ۱۱۵ ؛ والیم ۔ ۴ ، نمبر ۳۵۸۳ ۔ ۸۵ ، ۳۲۱ ۔ ۲۲

باب ہفتم

(۱) آرتھر جیفری ، قرآن کے متن کی تاریخ کے لیے مواد : پرانی شریعت (لیڈن : ای ۔ جے ۔ بُرل ، ۱۹۳۷) ، ۵

(۲) تخفیف ۔ ، ۶

(۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۹ ، نمبر ۷۱۹۱ : ۱۱۹ ۔ ۲۰

(۴) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۶ ، نمبر ۔ ۴۹۸۶ : ۲۷۹ ۔ ۸۰

(۵) نیومین ، مسجد ، اسلام اور قرآن ( ہٹ فیلڈ ، پی اے انٹرڈسپلزی بائبلی ریسرچ انسٹیٹیوٹ ، ۱۹۹۶ء) ، ۶ ۔

(۶) تخفیف ۔ ، ۳۱۲

(۷) جیفری ، میٹریل ، ۷ ۔ ۸

(۸) جیفری گِلر کرائسٹ ، جامعتہ القرآن : کوڈی فیکشین آف دی قرآن ٹیکسٹ ،

  (فروری ۲۰۱۲ کو شائع ہوئی۔) [http://www.answering-islam.org/Gilchrist/Jam/index.html]

(۹) تخفیف

(۱۰) تخفیف

(۱۱) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۶ ، نمبر ۴۹۸۷ : ۲۸۰

(۱۲) جیفری ،  میٹریلز ، ۸

(۱۳) تخفیف

(۱۴) گلکرائسٹ ، جامع القرآن ، باب ۲ : ۲

(۱۵) تخفیف ، باب ۳ : ۲

(۱۶) جیفری ، میٹریلز ، ۲۱۳

(۱۷) تخفیف

(۱۸) تخفیف ، ۱۰

(۱۹) گِلکرائسٹ ، جامع القرآن ، باب ۲ :  ۷

(۲۰) تخفیف ، باب ۷ :

(۲۱) تخفیف

(۲۲) تخفیف ۔ ، باب  ۷ : ۵

(۲۳) تخفیف ۔ ، باب   ۷ : ۵

(۲۴) تخفیف

(۲۵) عبداللہ عبدالفادی ، کیا قرآن بے خطا ہے ؟ (ویلاج ، آسٹریا : لائٹ آف لائف ، این ڈی ) ۳۲۳ ۔  ۳۳

(۲۶) تخفیف ۔ ، ۳۳۳

(۲۷) میکھیل ، اسلام محمد اور قرآن ،  ۸

(۲۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۱ ، نمبر ۳ : ۵ ۔۶

باب  ہشتم

(۱) البخاری ، حدیث والیم ۳ ، نمبر ۲۰۰۴ : ۸۱ ؛ والیم ۵ ، نمبر ۳۹۴۳  : ۱۱۲ ؛ والیم ۔ ۴ ، نمبر  ۳۳۹۷ : ۲۵۶ ۔

(۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۳ ، نمبر ۔ ۲۰۰۵ :  ۸۱

(۳) ریورنڈ ۔ ڈبلیو ۔ سینٹ کلیرٹِس ڈال ، دی اورجنل سورسز آف دی قرآن ( لنڈن : سوسائٹی فار پروموٹنگ کرسچن نالج ، ۱۹۱۱ ء) ،  ۶۰

(۴)البخاری ، حدیث ، والیم ۳  نمبر ۱۸۹۳ : ۴۶ ، ۲۰۰۰  ۔ ۳ : ۸۱ ؛ والیم ۔ ۵ ، نمبر ۔  ۳۸۳۱ : ۶۵

(۵) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۲ ، نمر ۹۷۱ : ۳۵

(۶) تخفیف ۔ ، ۹۵۵ ۔  ۳۰ ، ۹۶۵ : ۳۲ ، ۹۶۸ : ۳۳ ، ۹۷۶ : ۳۶ ، ۹۸۳ ۔۵ : ۳۹

(۷) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۸ ، نمبر ۶۷۰۸ : ۲۳۵

(۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۵ ، نمبر ۴۱۵۷ ۔ ۸ : ۱۹۷ ؛ والیم : ۵ نمبر ۔  ۴۲۵۵۲ : ۲۲۶ ۔

باب نہم

 

(۱) مِلرڈ جے ، ارِ کسن، کرسچن تھیالوجی ( گرینڈ ریپڈز : بیکر بُک ہاوس کو ۔ ۔ ، ۱۹۸۸ ء) ، ۹۱۱

(۲) راجر ای اولسن ، ارمینیا کی الہیات : روایات اور حقائق (ڈاونرز گرو ، آئی ایل : انٹر  ورسٹی پریس ، ۲۰۰۶ ) ، ۱۷ ۔ ۱۸

(۳) تخفیف ۔ ، ۱۳

(۴) تخفیف ۔ ، ۱۴

(۵) تخفیف

(۶) تخفیف ، ۱۹

(۷) فریڈ ایچ کلوسٹر ، کیلونز ڈاکرین آف پری ڈیسٹینیشن  (گرینڈ ریپڈز : بیکر بُک ہاوس کو ۔ ، ۱۹۷۷ ء) ، ۲۵

(۸) جیکب آرمینیس ، ‘‘ ایگزیمینشن آف ڈاکٹر پرکنزپمفلٹ اون پری ڈیسٹینیشن  ورکس ، ۳ : ۲۸۱

(۹) جان وسیلے ، سرمن ون ۔ ہنڈرڈ ٹونٹی ایٹ : فری گریس ، وسیلے سنٹر اون لائن ، ۱۸۷۲ ایڈ :    ،

.; [http://Wesley.nnu.edu/John-Wesley/the-sermons-of-john-wesley-1872-

        ( اکتوبر ۲۰۱۱ ء کو شائع ہوئی ) edition/sermons-128-free-grace/]

(۱۰) جیکب آرمینیس ، پبلک ڈِسپوٹیشن ، ’’ ورکس ، ۲ : ۱۹۲

(۱۱) اولُسن ، آرمینین تھیالوجی ، ۳۵

(۱۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۴ ، نمبر ۔ ۳۲۰۸ : ۱۸۷ ۔

(۱۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۷۵۱۵ : ۲۳۶

(۱۴) تخفیف ۔ ، ۷۵۵۱ : ۲۵۳

(۱۵) البخاری ، حدیث ، والیم ۱ ، نمبر ۲۱۶ : ۸۷ (۱۶) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۷۴۳۷ : ۲۰۴ ۔ ۶

(۱۷) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۸ ، نمبر ۔ ۶۵۲۸ ۔ ۳۰ ؛ والیم ۔ ۹ نمبر ۷۴۳۹ : ۲۰۷ ۔ ۹

(۱۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۸ ۔ نمبر ۔ ۶۵۶۱ ۔ ۴ : ۱۸۸

باب دھم

(۱) این ۔ اے ۔ ، پردے کے پیچھے ، ( این ۔ پی ۔ : این ۔ پی ۔ ، این ۔ ذی ) ، ۷۹

(۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۔ ۵۷۵۳ : ۲۳۴

(۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۔ ۵۱۱ : ۱۷۹ ۔

(۴) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۳ ، نمبر ۔ ۲۶۵۸ : ۳۳۱ ۔

(۵) تخفیف ۔ ۔ ۲۶۶۷ : ۳۴۰ ۔

(۶) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۷۰۹۹ : ۸۹ ؛ والیم ۔ ۵ ، نمبر ۔ ۴۴۲۵ : ۲۹۶

(۷) ایلفریڈ جے ہارتھ ، جیرالڈ ایل میٹنیگلی ، اینڈ ایڈون ایم ہماچی ، ایڈز ۔ ، پیپلز آف دی اولڈ ٹیسٹامنٹ ورلڈ ( گرانڈ ریپرڈ : بیکر بُک ہاؤس کو  ؛ ۱۹۹۴ء) ، ۲۷۳

(۸) جارج ایف جو وِٹ ، دی ڈرامہ آف دی لاس ڈیسائپلز ( لندن : کواننٹ پبلشنگ کو ۔ ، ۱۹۷۰ء) ، ۱۵۱ ۔ ۱۵۴

(۹) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۲ ، نمبر ۔ ۱۰۵۲ : ۶۴ ؛ والیم ۔ ۷ ، نمبر ۵۱۹۷ ۔ ۹۸ : ۵۱۔۲ ۔

(۱۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۱ ، نمبر ۳۰۴ : ۱۱۱ ۔ ۱۲ ؛ والیم ۲ ، نمبر ۔ ۱۴۶۲ : ۲۰۲ ۔

(۱۱) جین آئڈل مین سِمتھ اینڈ وُونے یزبیک ہداد ، اسلامی موت اور جی اُٹھنے کا تصور ( البانی : سٹیٹ یونیورسٹی آف دی نیویارک پریس ، ۱۹۸۱ء) ، ۱۶۴ ۔ ۱۲

(۱۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۶ ، نمبر ۴۸۷۹ : ۲۱۸ ؛ والیم ۴ ، نمبر ۔ ۳۲۴۳ : ۱۹۷

(۱۳) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۴ ، نمبر ۳۲۴۵ ۔ ۴۶ : ۱۹۷ ۔ ۱۹۸ ۔

(۱۴) تخفیف ۔ ، ۳۲۴۶ : ۱۹۸

(۱۵) جودت مِلر ، خُدا کے ۹۹ نام : قرونِ وسطیٰ کے ایک فوجی کی طرف سے رپورٹ ( این ۔ وائے ۔ : سائمن اینڈ شُوسٹر اِنک ۔ ، ۱۹۹۶ء) ، ۲۶۔

(۱۶) تخفیف ۔

(۱۷) این ۔ اے ۔ ، پردے کے پیچھے ، ۸۴ ۔ ۵ (۱۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۔ ۵۰۷۵ : ۴ ۔ ۵

(۱۹) تخفیف ۔ ، ۵۱۱۹ : ۱۹

باب گیارہ

(۱) الفائدی کیا قرآن بے خطا ہے ؟ ، ۳۴۲

(۲) ڈورین جونز ، ترکی میں خواتین کے قتل کی بڑھتی ہوئی شرح

[http://www.voanews.com/english/news/europe/Turkeys-Murder-Rate-of-Women-

         (جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہوئی ) Skyrockets-117093538.html]

(۳)

[http://conservativepapers.com/news/2011/11/10/oslo-rape-wave-so-bad-hotels-pass-outkeychain-

                     (جنوری ۲۰۱۲ کو شائع ہوئی۔ ) alarms/]

(۴) این ۔ اے ۔ ، پردے کے پیچھے ، ۱۱۸ ۔

(۵)  میکھیل ، اسلام محمد اور قرآن ، ۲۷

(۶) تخفیف ۔ ، ۲۹

(۷) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۵ ، نمبر ۳۸۹۴ : ۸۸۔۹

(۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۸ ، نمبر ۔ ۶۱۳۰ : ۴۹

  (۹) این اے ۔ ، پردے کے پیچھے ، ۸۱ ۔ ۳

Mar 11

مکہ محمد اور خُدائے مہتاب ایک حقیقی اسلامی نسب سے ایک حقیقی تحقیق – باب ایک سے پانچ تک

 

عنوانات کی فہرست

دیباچہ

لسانی حاشیہ جات

تعارف

اسلام کی بڑھتی ہوئی لہر

حج

مکالمے کا تجزیہ

حصہ اول۔ حجرہ اسود

باب اول  ۔حجرہ اسود کی تاریخ

حجرہ اسود کا بیان

حجرہ اسود کی روایات

محمد کی الوداعی زیارت

حجرہ اسود کی زیارتیں

باب دوم ۔مقدس پتھروں کے بارے اسلام سے پہلے کی بدعتیں

قدیم دنیا کے پتھر

کبعہ اور ابتدائی عرب کے مزار

پتھر، بُت اور تصویریں

ابتدائی عرب کی بتوں اور پتھروں کی پوجا

باب سوم ۔ محمد کی مادہ پرستی

محمد کا مادہ پرستی کے لیے روکنا

الہ کی بیٹیاں : مِناہ ، اُلیعات اور الہ اُعضا

ابتدائی مُلایت

محمد کا الہ اُعضا کو قُربانیاں چڑھانے کے لیے جھڑکنا

محمد کی گناہ آلودہ فطرت

شیطانی آیات

باب چہارم۔ حجرہ اسود کے تجزیات

حجرہ اسود بطور ایک مقدس قربان گاہ

کونے کے سرے کے پتھر کی قیاس آرائی

الیعات بطور حجرہ اسود

الہ اُعضا بطور حجرہ اسود

اللہ بطور حجرہ اسود

حصہ دوم۔خُدائے مہتاب اللہ

باب پنجم۔ اللہ ‘‘ خُدائے مہتاب ’’ اور الرحمٰن

لفظ ‘‘ اللہ ’’ کا جائزہ

اللہ بطور عرب والا خُدائے مہتاب

الرحمٰن

حصہ سوئم۔ محمد

باب ششم ۔ محمد بطور عامل

عاملیت کے لیے بائبل کا نقطہ نظر

عاملیت کا آغاز

محمد کا جادو کو استعمال کرنا

محمد کا علم واعداد اور توہمات کو استعمال کرنا

شفاء دینے کی غلطیاں

غیر سائنسی بیانات

حصہ چہارم۔ قرآن

باب ہفتم ۔ کیا قرآن خُدا کا کلام ہے

محمد کا بائبل کے لیے بیان

قرآن کی تکمیل

قرآن کے دوسرے ورژنز

قرآن کے ابدائی دستی نسخہ جات

تنسیخ کا عقیدہ

قرآن کا ذریعہ

حصہ پنجم۔ اسلام کا نجات کا تصًور

باب ہشتم۔ کفارے کے لیے قُربانی کا لہو

ابتدائی قُربانیاں

ابراہام کی قُربانی

یومِکفارہ ( یومِ کیپر )

موسیٰ اور گائے کی قُربانی

اللہ ، بال اور یہواہ میں موازنہ

باب نہم ۔اسلامی منزل سے پہلے اور برزخ میں اُترے کا تصًور

منزل پر پہنچنے سے پہلے کا مسیحی تصًور

منزل پر پہنچنے کے اسلامی تسًور کا مسیحی تصًور کے ساتھ مقابلہ

اسلام میں دوزخ کا تصور

حصہ ششم ۔ خواتین کا اسلامی تصور

باب دہم۔ آدمیوں کو عورتوں پر برتری

بیوی کی پیٹائی اللہ کی طرف سے اختیار دیا گیا

خواتین کی مزید ذلت

دوزخ میں جانے والے لوگوں میں زیادہ خواتین ہیں

جنت کی آسمانی حوریں

محمد کی طرف سے جسم فروشی قانونی ہے

باب گیارھواں  ۔ اسلام میں شادی

محمد کی بیویاں، حرمیں اور لونڈیاں

خواتین کی اسلامی تزلیل

طلاق کے قوانین

محمد کی جنسی حِرص

حصہ ہفتم ۔ جہاد

باب بارھواں  ۔ابتدائی اسلامی شہنشاہیت

مقدس جنگ کی تعریف

یہودیوں اور مسیحیوں کے خلاف جہاد

تاریخ میں اسلامی فتوعات

باب تیرھواں۔جہادوں کا نتیجہ

جہاد۔ عقیدوں کے مقابلے میں اس کی تعریف

سلطنتی جہاد ۔ وُسعت اور وقتی ڈھانچہ

موجودہ تاریخی دہرایا جانے والا طریقہ کار جہاد اور بائبل کا ‘‘حیوان’’

چودھواں باب۔ مرتدوں کے خلاف جہاد

مرتدی کی تعریف

سُلمان رُشدی کا معاملہ

رُشدی اور اُس کا ناول ، ‘‘ شیطانی آیات ’’

باب پندرھواں ۔ غُربت کا جہاد

محمد ( ایک نسلی غلام تاجر )

تاریخ میں اسلامی غلامی

مسیحت غلام ہونے کی ممانعت کرتی ہے

باب سولہ ۔ مخالفِ مسیح کا جہاد ( مہدی )

اسلامی مہدی کی تعریف

مہدی اور مخالفِ مسیح ساتھ ساتھ

مخالفِ مسیح کی دُنیاوی سلطنت

نتیجہ

کتابیات

الف۔ خُدائے مہتاب کی ہیکل میں سے عربی تاریخ کی فہرست

ب۔ اس حقیقت کی مدد کے لیے شواہد کہ اللہ خُدائے مہتاب ہے

ج۔ قرآن کے لیے اقتباسی مواد ، مختلف اقتباسات کہ عثمان نے مختلف قرآنوں پر پابندی لگادی

د۔ اسلامی شہنشاہیت کی وُسعت کی حد بندی

نوٹ

دیباچہ

                  یہ موجودہ ۲۰۱۲ کی الیکٹرونک کتاب میرے ابتدائی کام پر مبنی ہے ۔ ایک یہودی مسیحی اسلامی ایمان کی دستاویز۔ یہ اشاعت نئے مواد اور ۲۰۰۰ اور ۲۰۰۲ کے اشاعتی ورژنز میں سے اپ ڈیٹ کی گئی ہے ۔ دنیا میں اسلام کے مسلسل واقعات اور مسیحی مشن کے مسلسل ربط کی وجہ سے میں نے فیصلہ کیا کہ اس دستی تحریر کو الیکٹرونک کتاب کی شکل میں شائع کروں تاکہ یہ پھیلتی ہوئی دنیا کے سامعن تک پہنچ سکے۔ اصلی مواد اس کی ابتدائی تاریخ میں موجود ہے اور اس میں کُچھ تبدیلیوں کی ضرورت ہے اپنی پہلی اشاعت میں اس کی کاپی رائٹ کی ترجیح میں ستمبر ۱۱، ۲۰۰۱ کے واقعات شامل تھے۔ اس میں میں نے پوری دنیا میں اسلام کے بڑھتے ہوئے جہاد کو خاص طور پہ واضح کیا تھا اس موجودہ تجدید میں نیا مواد اسلام کے جہاد کی شہنشاہیت جنگ اور مخالفِ مسیح اور اسلامی مہدی کے درمیان موازنوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔

                  اس کتاب کا بنیادی کام محمد کے ان دعووں کو مرکز بنانا ہے کہ وہ خُدا کا الہیٰ پیغمبر ہے یہ مکمل تفتیش بنیادی طور پہ محمد اور اُس کی زندگی کے گواہوں پر مبنی ہے اس مکالے میں میں نے ابتدائی کلیسیاء کے شاگردوں کے اُصول کو اپناتے ہوئے اس بات کو پرکھا ہے کہ کیا آیا محمد بائبل کی تعلیم کے مطابق سچا یا جھوٹا نبی تھا ۔

                  یوحنا رُسول نے اِس بات کو جاننے کے لیے ابتدائی چرچ کو یہ بات بتائی ‘‘ اے عزیزو! ہر ایک روح کا یقین نہ کرو بلکہ روحوں کو آزماؤکہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں ’’۔ (۱۔یوحنا۱:۴)بائبل کے اس حوالے سے اور اس طرح کے اور بہت سے دوسرے حوالوں سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ روحوں کو پرکھنا ضروری ہے آیا کسی شخص کے اندر ایک نبی ، اُستاد یا ایک مبلغ کی روح موجود ہے یا وہ مخالفِ مسیح کی روح رکھتا ہے ۔ ابتدائی مسیحیوں کے زمانے سے ، روحوں کو پرکھنے کا ایک سخت معیار تھا جس کو قائم رکھا گیا اور عظیم بشپ پولی کارپ نے یوحنا رُسول کے ان اُصولوں کو اپنایا ۔ پولی کارپ نے عظیم مذاہب کا علم رکھنے والے مفکر بشپ آرنیئس کو پڑھایا ۔

                  یہ مشہور مقدس آرنیئس تھے جہنوں نے روحانی اقتباسات کی جلدوں کے ذریعے سے پرکھا کہ اُس کے دور کے کونسے روحانی جھوٹے نبی ہیں اُس کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے میں نے موازنے کے اُنہی طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے اسلامی عقیدے کے خیموں کو پرکھا ہے میں نے بڑے احتیاط کے ساتھ قرآن کے اور اسلامی حسیث کے مطالعہ کو مرکز بنایا ہے بہت سارے اس بات سے باخبر نہیں ہیں کہ حدیث کو ‘‘ ایک نو جلدوں پر مشتمل نبی پاک اور اُس کے خاندان ، دوستوں اور دوسرے عینی شایدوں کے الفاظ اور اعمال کا مجموعہ ) ایک با اختیار اور مستند کتاب سمجھا جاتا ہے جیسے کہ قرآن اس کے ساتھ ساتھ میں نے ابتدائی مسلمانوں کی تاریخوں اور آب بیتیوں کو سیکلر تاریخوں کو جغرافیائی دریافتوں کو اور بے شمار مسیحی وسائل کی بھی تحقیق کی ہے۔

                   بہت سارے حقائق جو پیش کیے گئے ہیں وہ سخت بھی نظر آتے ہیں لیکن ان کی بیناد ہیں اسلام کے عقیدے کے لیے اُن کی اپنی بنیادیں ہیں پھر بھی میں تمام مسلمانوں کے لیے پورے خُلوص کے ساتھ دلچسپی رکھتا ہوں جو ابھی تک مسیحی ایمان کے اور نجات کی گارنٹی کی حقیقت کو نہیں سمجھ پائے۔ پوری دنیا میں مسمانوں کی ایک بڑھی ہوئی تعداد کو اُن کے لیے ایک سچے خُدا کو سمجھنے کے لیے ایک چیلنج اور ایک موقعے کے طور پر اس کتاب کو لینا ہے ۔ یہ کتاب کوشش کرتی ہے کہ وہ مناسب مسیحی الہیات کے علات کے ذریعے ایماندار کو ایک بہتر اور سچے ایماندار کے طور پہ اسلام کے دل میں اُتارے۔

                   تعریفی کلمات میں میں اپنے او آر یو کے ہونہار پروفیسر کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جہنوں نے مجھے کلیسیائی تاریخ ، تفسیر اور بے شمار ابتدائی مشرقی زبانوں جن کے نام یہ ہیں : کوپٹِک ، یوگریٹک اور ابتدائی عبرانی کے بارے میں سکھایا ۔ دوسرے مشہور مفکرین نے بھی مفید بصیرت کے ساتھ اس میں حصہ ڈالا ۔ مثال کے طور پر ڈاکٹر رابرٹ مورے نے اپنے تعمیری الفاظ سے اس کتاب کو اور اس کے تحقیقی مواد کو جو اسلامی ایمان سے متعلقہ دستاویزی مواد پر مشتمل ہے سراہا زبردست مواد جو کہ مخالفِ مسیح اور مہدی کے متعلق تھا وہ گہری بصیرت رکھنے والے مفکرین جوئیل رچرڈسن اور سابقہ مسلمان ولید شُبد نے مہیا کیا ایک خاص شُکر گزاری ڈاکٹر جوزف بتراگوں کے لیے جہنوں نے لسانی اور جغرافیائی معلومات میں حصہ ڈالا اُن کی مفکرانہ عقیدت کے سبب سے اس کتاب کے پہلے اشاعتی مرحلے کی تکمیل کا کام پورا ہوا مزید براں اُن کے تاریخی تجزیات جو یسوع مسیح کے بارے میں تھے اور اُن کے شجرہ نسب کے بارے وہ گراں قدر ہے آخر میں میں جینی ہیچ کا شکریہ ادا کرتا ہوں اُن کی شاندار نصیت اور اشاعتی کام کے لیے جو اس تیسری اشاعت کی تکمیل اور اس کی اپ ڈیٹ کے حوالے سے ہوا ۔

لسانی حاشیہ جات

                  اسلام اور یہودی مسیحی الہیات کے درمیان منطقی مسلے کے لیے بنیادی اختلافات کا تعلق ابتدائی زبانوں کے ساتھ بھی تھا اس طرح سے خاص اختلافات کا تعلق ابتدائی زبانوں کے ساتھ بھی تھا اس طرح سے خاص اختلاف جو خُدا کے نام کے تعلق سے تھا اور اُس اختلاف کے بارے بھی جو بائبل کے خُدا اور تمام دوسرے دیوتاؤں کے درمیان ہے ۔یہ بہت ضروری ہے کہ ہم سچے خُدا کے نام کے بارے میں جانے پرانے عہدنامے میں مقدس نام بطور یہواہ دیا گیا ہے ورنہ اِس سے پہلے خُدا کا نام جہاد حرفی نام ہی جانا جاتا تھا دس احکام میں اس کا اعلان کیا : ‘‘ خُداوند تیرا خُدا جو تجھے ملکِ مِصر سے اور غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں ’’۔ ( خروج ۲: ۲۰ ) تیسرے حکم میں یہ کہا گیا کہ اُس کا نام بے فائدہ نہیں لینا مزید براں نئے عہد نامے میں فرمایا  جاتا ہے ‘‘ اور کسی دوسرے کے وسیلہ سے نجات نہیں کیونکہ آسمان کے تلے آدمیوں کو کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں ’’۔ ( اعمال ۱۲ : ۴ ) اس واضح بیان کے ساتھ کہ اُسی خُدا کے پاک نام کو عزت دینی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہر شخص کو ضرور اُس کے نام کو جاننے کے لیے کوشش کرنی ہے میں نے ابتدائی ٹھیک عبرانی حروف ا بجد کے نام جو یہودی خُدا کے لیے تھے جیسے کہ یا ہو استعمال کیے جس کو ابتدائی  صحیح عبرانی جغرافیائی مواد کے مطابق یہواہ کہا جاتا تھا جرمنی میں ڈبلیو کی آواز وی کی طرح ادا کی جاتی ہے یہواہ یاہو کے لیے انگریزی زبان میں ڈبلیو کی ایک غلط آواز ہے جغرافیائی طور پر یہودی لوگ دونوں ہجوں کو قبول کرتے ہیں ۔

                   یسوع کا صحیح نام صحیح آواز کی شکل میں پیش کیا گیا حقیقی عبرانی یا یونانی یہودی مسیحا کے نام کے حروف دُرست ہیں۔ عبرانی میں کونسونٹس کے اندر واوُل استعمال کیے گئے ہیں اور اس سے عبرانی میں یشوع کو نجات یا نجات دہندہ کے معنی میں پیش کیا گیا ہے تاہم بہت سارے پرانے ربی مفکرین اس خاص تبدیلی کے ساتھ اتفاق نہیں کرتے ۔مثال کے طور پہ خُداوند کے ژخصی نام کے ساتھ اکثر ترجمے میں یشوع، یسوع، یوشوع اور دیگر مختلف طرح سے بھی پیش کیا جاتا ہے۔

                  لیکن ان سب اختلافات کے باوجود اس کے معنی میں فرق نہیں آتا کُچھ مفکرین ہو سکتا ہے اپنی عقائدی پرکھ کی وجہ سے اس کے تلفظ میں بضد ہو لیکن نجات کے معنوں میں اس میں کوئی تبدیلی نہیں۔ مثال کے طور پہ پطرس کا نام اور انگریزی میں اس کو مختصراً پیٹی، یونانی پطروس، سپینش میں پیدرو وغیرہ کہا جاتا ہے اور یہ سب کُچھ مختلف زبانوں اور ثقافت کی وجہ سے ہے۔ ایک مشہور یہودی مفکر ڈیوڈ فلسر نے اپنی ایک وسیع تحقیق میں یہودیت کی پہلی صدی میں بیان کرتے ہوئے اس بات کی دلیل دی کہ یسوع کے گلیلی شاگرد لفظ کے آخر میں این کی بجائے ( آ) استعمال کرتے تھے اس لیے جب وہ یسوع کا نام لیتے تھے تو وہ یشوع استعمال کرتے تھے نتیجے کے طور پہ یہ تلفظ یُشوع یا یشوع ہو گیا دوسرے مفکرین بیان کرتے ہیں کہ نئے عہد نامے کے لکھاریوں نے یونانی سگما ( ایس ) عبرانی شِن کے ترجمے کے لیے استعمال کیا اس لیے یونانی اور عبرانی میں اس کا تلفظ ایک دوسرے کے مساوی نہ ہوا۔ تاہم میں اس بات پہ ایمان رکھتا ہوں کہ تلفظ کی آوازیں یشوع کے بالکل قریب ہے اور اس کتاب میں یہی نام استعمال ہوا ہے۔

                  مختلف زبانوں کے اختلافات کی وجہ سے جہاں پہ آواز میں فرق آیا لیکن معنی کے ساتھ کوئی مسئلہ نہ رہا یا کا اصلی معنی ‘‘ میں ہوں’’ ہے جو عبرانی میں استعمال ہوا ہے یہ پاک نام موسیٰ کو اسرائیلیوں تک پہنچانے کے لیے دیا گیا اسی وجہ سے میں نے یا کو استعمال کے لیے منتخب کیا ہے تاکہ یشوع اور یہواہ کے الفاظ قائم رہیں۔ عبرانی میں یہواہ کے اندر ایچ خاموش ہے جیسے یشوع کے اندر یہ بھی عبرانی سے لیا گیا ہے اور یونانی میں ترجمہ ہوا ہے۔

                  عبرانی میں یُوڈ لفظ کی وائے سے آواز نکلتی ہے میں اس بات پہ یقین رکھتا ہوں کہ یونانی آواز یُوٹا جب عبرانی لفظ میں منتقل ہوتی ہے تو یُوٹا کے یونانی لفظ کے لیے عبرانی لفظ یُوڈ استعمال ہوتا ہے اور فلسطین کی یہی عبرانی زبان تھی۔ یہودی ذہنیت کے مطابق شاگردوں کے لیے لفظ یُشوع عبرانی بائبل سے لفظ یسوع جو کہ یونانی میں ہے استعمال ہوا۔ پہلی صدی عیسوی میں وہ خُداوند کو عبرانی کے اسی لفظ یسوع کے مطابق پُکارتے تھے جب کہ اسرائیلی آبادی یہودی ذہنیت کے مطابق اس کو استعمال کرتے تھے ۔

                  نتیجتاً یونانی لفظ کی ابتداء میں عبرانی آواز استعمال کی گئی اور یُوٹا آواز کو واضح وائے کے ساتھ استعمال کیا بہتر سمجھ کی بنیادوں پر یعنی بائبل کی سُوچ کی بنیادوں پر اس کو یہودی ذہن کے ڈھانچے پر ادا کیا گیا جب وہ یونانی زبان میں بولتے تو ضروری تھا کہ اس کی آواز میں خاص کُونسنٹ آواز شامل ہوتی چھٹی صدی میں پیٹرس رمس نے ‘‘ جے ’’ کو انگریزی زبان میں استعمال کیا یہاں تک کہ لاطینی اور جرمن زبان میں بھی ‘‘ جے ’’ کے لیے وائے کی آواز استعمال ہوتی تھی بجائے جی کے۔نتیجتاً یہ کہا جا سکتا ہے کہ صوتی اعتبار سے یشوع یا یسوع صحیح تلفظ ہے جیسزز کی بجائے۔

   مزیدبرآں خُدا کا نام شخصی طور پر نہیں لیا گیا یہ محض ایک صفاتی طرح ہے یہاں تک کہ یہ ایک جرمنی لفظ ‘‘گوٹ ’’ سے اخذ کیا گیا ہے جو کہ ایک شیطانی الوہیت یا ابتدائی جرمنی میں الہیات سے اخذ ہے میں اُمید کرتا ہوں کہ یہ کتاب اس محاورے کو سمجھنے کے لیے ہماری مدد کرے گی کہ یہ یہودی لفظ کو شخصی طور پر ٹھیک طور پر استعمال کرنے میں ہمیں بصیرت دے، جو کہ اس بات کو جانتا ہے کہ یشوع کا لفظ بحیثیت یہواہ بچانے والے کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے کلیسیاء کی یہ ایک لازمی ضرورت ہے کہ وہ اس بات کو ابتدائی یہودی مسیحی پس منظر کے طور پر یاد کرے۔

  جب میں یہودی مسیحیت کا لفظ استعمال کرتا ہوں تو میں اُن شرعی مسیحیوں کی بات نہیں کرتا جن کی بنیاد طالمود، ظہر، قبالہ، یا رسپونسہ پر نہیں یہ یہودی کتابیں زیادہ تر قرآن کی طرح ہیں اور حدیث بھی اُس پرانے عہدنامے یا نئے عہد نامہ کی طرح نہیں ہیں۔ حقیقی یہودی مسیحیت کو پرانے عہد نامے اور نئے عہد نامے کی بنیاد پر تعمیر ہونا چاہیے کوئی بھی دوسری کتاب ماسوائے بائبل کے الہام سے متاثر نہیں ہے کیونکہ یہی واحد کتاب ہے جو یہواہ کے وعدوں پر مشتمل ہے اسی یہواہ نے خود کو بحیثیت یسوع مسیح کے ظاہر کیا۔

اُس کے قُربانی کے کفارے جو کہ بحیثیت تمام دُنیا کے گناہوں کی معافی کے لیے پیش کیا گیا ۔ اُس نے خود اُن کے خُدا یہواہ کے طور پہ جو کہ یسوع نجات دہندہ مسیح ہے پیش کیا۔

نتیجتاً بہت سے ابتدائی بائبل کے ترجمے جو مشنریوں نے استعمال کیے اُس میں صوتی نام یسوع استعمال کیا گیا۔ جب اس کو جاپانی اور کورین زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ اسی طرح جون اور چالز ویزے نے بھی ابتدائی تلفظ میں نجات دہندہ کے نام کے لیے لفظ یسوع کو اپنے بہت سارے گیتوں میں استعمال کیا اور ہو بہو یہی آواز پرانی ربانی تحریروں سے ملتی جُلتی ہے۔ بشپی بائبل ، عظیم بائبل اور ابتدائی اے بی بائبل نے ۱۶۱۱ میں لفظ یسوع کے لیے جو ترجمہ استعمال ہوا اُس میں لفظ جے انگریزی زبان میں استعمال نہیں کیا گیا۔

  یہ ترجمہ زبان دانی اور صوتی اعتبار سے سمجھنے کے لیے قابلِ اصلاح ہے اس اشاعت میں میں نے روائتی نام یسوع کو اس بات کے لیے استعمال کیا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر جانا جاتا ہے۔ یہواہ کی اصلاح بھی استعمال کی گئی ہے۔ جب اسلامی لفظ اللہ کے ساتھ یہودی مسیحی اُلوہیت کو متقابلاً استعمال کیا گیا ہے یہ ضروری ہے کہ وضاحت اور ترجمے کی اصلاح کے لیے ابتدائی صوتی لفظ استعمال کیا جائے بہت ساری کلیسیاؤں نے اپنی کم علمی کی وجہ سے اللہ کے لفظ کو یہواہ کے طور پر ایمان میں سمجھوتے کے طور پر استعمال کر لیا ہے۔ اس کتاب میں کنگ جمیز کے ورثن کو باقی ثانوی باتوں کے حوالے کے طور پہ استعمال کیا گیا ہے۔

تعارف

اسلام کی بڑھتی ہوئی لہر

     بہت سے اعدادوشمار کے وسیلے اسلام دنیا کا سب سے تیزی سے بڑھنے والا مذہب تصور کیا جاتا ہے (۱) تاہم، مسیحت میں نئے تبدیل ہونے والوں کی تعداد زیادہ ہے اسلام کے تیزی سے بڑھنے کی بنیادی وجہ زیادہ شرح پیدائش ہے تقریباً ۸۔۱ہر سال جبکہ باقی دنیا کا شرح پیدائش ۱۲۔۱ بلین مسلامن بڑھتے ہیں، تاہم، دنیا میں ہر پانچواں شخص مسلمان ہے۔ ۲۰۱۱ میں ، بہت سے اعدادوشمار کے مطابق اگلے عشرے میں مسلمان دنیا کا ایک تہائی ہوں گے۔ مسلمان آج تیزی سے دنیا کے بہت سارے حصوں میں بشارت کا کام کر رہے ہیں، وہ مغربی یورپ اور شمالی امریکہ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی قوم بن رہے ہیں کیونکہ انہوں نے پوری دنیا میں حکومت کرنے کے منصوبوں کو جاری کیا ہے۔ یورپ میں ، مسمان برطانیہ کو یورپ کے لیے اہم سمجھتے ہیں برطانیہ کو جیتنے کے لیے لندن سب سے زیادہ اہم ہے۔ ۱۹۸۸ میں ایک اسلامی کانفرس میں ایک خُطاب کرنے والے سے کہا جب تک ہم اسلام کے لیے لندن کو جیتنے میں ناکام ہوں گے ہم ساری مغربی دنیا کو جیتنے میں ناکام ہوں گے (۳) اعدادوشمار کے مطابق، اُن کا مشن کامیاب ہو چکا ہے اپنی کتاب اُسلامک ان ویژن میں، ڈاکٹر رابرٹ مورے ۱۹۹۱۔ ۱۹۹۲ کے حقائق بتاتے ہیں۔

     انگلینڈ میں صورتِ حال حیران کن ہے۔ اب انگلینڈ میں مسحی مبشروں سے زیادہ عرب کے مسمان ہیں۔ ان کو عرب کی تیل کی دولت کے وسائل سے فنڈز دیئے جا رہے ہیں ۔ مسمان بند انگلینڈ چرچز خرید رہے ہیں اور ان کو مسجدوں میں تبدیل کر رہے ہیں یہاں تللک کہ کُچھ مسمان دعویٰ کرتے ہیں کہ انگلینڈ پہلا مسمان یورپی مُلک ہو گا ( ۴ )

     ڈاکٹر مورے اس بات کا بھی ذکر کرتے ہیں کہ کیسے انگلش پارلیمنٹ نے دباؤ ڈالا ہے کہ مسمانوں کو اُن کے اسلامی قانون کی پیروی کرنے دی جائے، بجائے اس کے کہ طلاق کے معاملہ میں وہ عام انگلش قانون کی پیروی کریں۔ اسی طرح ، فرانس اور جرمنی میں لاکھوں مسمان اس وقت رہتے ہیں (۵) مغربی دنیا پر قبضہ کرنے میں اپنے منصوبوں کو پورا کرنے کے لیے، مسلمانوں کی دُنیا کو فتح کرنے کی حد بندی کا شیڈول عمل میں ہے۔

اسلام کی صداقت کی تحقیق میں، کسی کو بھی بنیادی روایئتوں جن میں پیغمبر، جس کا نام محمد ہے اس کو بھی شامل کرنا ہو گا۔ اس تحقیق میں ، ایک جامع منطقی خلاصہ، جغرافیائی صورتِ حال، تاریخی پہلووں اور اُلہیاتی موازنوں کو بھی استعمال کرنا ہو گا اس بات کا جائزہ لینے کے لیے کہ آیا محمد ایک سچ نبی ہے یا جھوٹا اختصار کے ساتھ ، یہ اسلامی جڑیں ان کی صبح کی رسم میں سامنے آتی ہیں۔

حج

تماممسمانوں کو اپنی زندگی میں کم از کم ایک دفعہ پاک شہر مکہ کی زیارت کرنی ہوتی ہے یہ سفر حج کہلاتا ہے۔ (بہت بڑی زیارت ) جو کہ اسلام کے ‘‘پانچ ستونوں ’’ میں سے ایک ہے۔ اس کی ادائگی کے لیے بہت سارے دن درکار ہیں۔ حج اُن روایات کی ترتیب پر مشتمل اظہار ہے جو مکہ کی بڑی مسجد اور شہر کے گردونواح ادا کی جاتی ہیں اسلامی کیلنڈر کے مطابق، حج صرف رمضان کے مقدس مہنے میں ادا کیا جاتا ہے جو ہر سال دس دن پہلے آتا ہے۔

جامع اسلام کے انسائیکلوپیڈیا میں (۱۹۸۹)، حج کے دوران زیارت کرنے والوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ دو میلین پوجا کرنے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ (۶) ۲۰۱۰ میں یہ تعداد ۲۵ میلین  تک بڑھ گئی۔   اس بڑی تعداد کے سب سے ، زائیرین کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بہت سارے زائیرین ایک ہی وقت میں ان اسلامی رسومات کو ادا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ مثال کے طور پر، خانہ کعبہ کا طوائف اکثر بہت زیادہ زائیرین کو عظیم مسجد سے باہر نکال دیتا؛

مکہ میں پہنچنے پر، زائیرین کا خیال آمد کا طوائف  کرنا ہوتا، اس میں اُن کو کعبہ کے گرد سات چکر لگانا تھا۔ اس کو پاک گھر کہا گیا اور اندائی گھر بھی یہ بڑے اُبھرے ہوئے پتھر کی شکل کا ہے جس کو نقش و نگار کا کام کیے ہوئے سیاہ رنگ کے کپڑے سے ڈھانکا ہوتا ہے ۔ یہ مکہ کی بہت بڑی مسجد کے مرکز میں واقع ہے۔ کبعہ کے گھروں کے جنوب مشرقی کونے میں حجرہ اسود ہے (۸) روائیت کے مطابق، ہر زائر نے کوشش کرنی ہے اور اُس کالے پتھر کا بوسہ لینا ہے۔ تاہم، بہت بڑے ہجوم کے سب، بہت سارے زائرین چلتے چلتے اُس پتھر کی طرف محض اشارہ کر دیتے ہیں (۹) کعبہ کا طوائف حج کے اس سارے محل میں سب سے زیادہ مقدس رسم تصور کی جاتی ہے۔

مقالے کا جائزہ

یہ کتاب سات بڑے حصوں میں تقسیم کی گئی ہے ۔ اسلامی جڑوں کو ٹھوس بنیادی تعمیر دینے کے لیے پہلے دو حصوں میں ایک لمبے تکنیکی تجزیہ کی ضرورت تھی۔ یہ تحقیقات نتائج کے لیے بطور معاونت استعمال ہوئی ہیں تاکہ محمد اور اس کے مذہب کو سمجھیں ۔

حجرہ اسود

یقیناً جو اس بات کے مشتاق ہیں، وہ ضرور دریافت کریں گے کہ حجرہ اسود کیا ہے یا یہ کس چیز کی نمائندگی کرتا ہے؟ مسمانوں، مسیحوں اور آثارِقدیمہ کے ماہرین سب کی اس مقدس پتھر کے بارے میں مختلف تفاسیر ہوں گی۔ اس مقالے کا کام ان نقطوں کو تلاش کرنا اور کُچھ بظاہر معقول مفروضات بیان کرنا ہے۔

   یہ مواد خاص طور پر چمکیلے حجرہ اسود سے متعلق ہے اور یہ پہلے حصہ سے بھرا ہوا ہے۔ اور پھر چار ابواب میں تقسیم ہوا ہے۔ پہلا باب محمد سے لے کر حجرہ اسود ابتدائی مسلمانوں کی روایات محمد کی اپنی زیارت اور اس زیارت کے بعد مختلف زیارتوں کے بارے بیان کرتا ہے دوسرا باب عرب کے ابتدائی مختلف پتھروں کے بارے میں بیان کرتا ہے جن کے بارے میں یہ یقین کیا جاتا تھا کہ یہ مجسم دیوتے اور دیوائی ہیں اِس پتھر کی ابتدائ کا ایک وسیع تجزیہ اس بات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے ہے جس کے بارے میں اسلامی حجرہ اسود پر ایمان اور بدعت سے جُڑا ہوا ہے۔ تیسرے باب میں محمد کی مادہ پرستی سے روک تھام کے بارے میں دو مثالیں شامل ہیں؛ پہلی مثال دیوی الا اُعضا کے لیے اُس کی قُربانیاں اور نامنہاد شیطانی آیات محمد کو دو دفعہ اُس کے ساتھیوں نے نئے مذہب میں ابتدائی مادہ پرستی کے کاموں کو شامل کرنے کا کہا کیا جبکہ اِن میں سے بہت سارے اختلافات جو کہ محمد کے دوسرے ہم عصروں نے جو اسلام سے پہلے ایمان رکھتے تھے اُٹھائے ۔

چوتھے باب میں حجرہ اسود سے متعلق بہت سارے مقاصد کو شامل کیا گیا ہےاس بات کو ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ کیا ہے اور اصل میں کِس چیز کو پیش کرتا ہے اس حقیقت سے متعلق کہ ابتدائی عرب والے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور دیوتاؤں پر ایمان رکھتے تھے اور اسی ماحول میں رہتے تھے ۔ اسلام کے بارے میں ایک وسیع نقطہ نظر کا جاری حج کے اندر لیا گیا ہے۔ جن کو مزید چھوٹے حصوں میں دیکھا گیا : ٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍٍ( الف)پتھر کے مسلمانوں کی تشریح جو بائبل کے پتھر کی ہوئی ( کونے کے سرے کا پتھر جس کو معماروں نے رد کیا ۔ ۱۔پطرس ۲: ۶۔۷ ) (ب) دمشق کے یوحنا کی گواہی، جو کہ سفید پتھر پر ایمان رکھتا تھا ۔ قرامتی فرقے کے لوگ جو کہ ایک روحانی مسلمان فرقہ تھا جو کہ اُپروڈائٹ مجسم کا سردار تھا اور دیوی الات کے برابر تھا وہ بھی ممکنہ طور پر محمد کو اسی پتھروں کی طرح عزت دیتا تھا: (ج) ایک لمبا تجزیہ کہ دیوی الات ایک ممکنہ الوہیت کی اُمیدار تھی۔ (د) اسی طرح ، دیوی الااُمنہ بھی دیوی الات کی طرح اللہ کی بیٹی سمجھی جاتی تھی۔ اسی طرح دیوتا اللہ کو بھی حجرہ اسود کا مجسمہ تصور کیا جاتا ہے۔

خُدائے مہتاب اللہ اور الرحمٰن کی بدعت

دوسرے حصے میں دیوتا اللہ کی ابتداء کے بارے میں مختلف تحقیق کو تفصیل میں دیکھا گیا ہے پہلا قدم اس بات کی تلاش کرتا ہے کہ دیوتا ایل کی لسانی جڑوں کا تعلق لفظ اللہ کے ساتھ ہے۔ کیونکہ وہ دونوں ایک جیسی لسانی بنیادوں پر تعلق رکھتے ہیں دوسرا اس بحث میں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ آیا اللہ ایک شخصی نام ہے یا محض دیوتا کی جیسی اصلاح ہے۔ اگر اللہ ایک شخصی نام ہے، تو پھر یہ بائبل کے خُدا کے نام سے مختلف کیوں ہے یعنی یہواہ سے؟ آخر میں ایک مطالعہ جو مختلف چاند کے خُداؤں کے بارے میں ہے جو پورے عرب میں تھے، جن کی بنیاد ماہرین آثارِ قدیمہ کے شواہد پر ہے۔ جہنوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ اللہ ہی ہے۔

       ایک اور وسیع مطالعہ جو اس حصہ میں موجود ہے وہ اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ محمد نے اسلام سے پہلے کی ایک بدعت الرحمٰن کو نئی اسلامی سوچ میں شامل کر دیا مزیدبرآں تاریخی شواہد اس الوہیت کے بھید کو بھی عیاں کرتی ہے۔

جس کو الرحمٰن سے جوڑا گیا ہے ( جس کا ترجمہ ترس سے بھرا یا رحم سے بھرا کے ساتھ کیا گیا ہے ) اور اس کو نئے مذہب کے ساتھ جوڑا گیا۔ محمد نے بڑی خُوبی کے ساتھ خود کو اس مُسلمان کے ساتھ جوڑا ہے جو اُس دور کے رحمانہ نبیوں کے ہم عصروں میں سے ایک تھا۔

محمد

تیسرے حصہ میں محمد کے کردار کو ایک روحانی رہنما کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور اس کے ساتھ اس کے روحانی طرز کے ابتدائی تجربات کو جو عاملیت میں سے ہیں ۔ محمد کے غار کے اندر روحوں کے ساتھ خوف ناک اور اشتعال آمنے سامنے، بعدازاں بے شمار بدروحوں سے ملاقاتیں، مرتی کے دور، جادوگری اور علم الاعداد کی مشقیں، یہ سب اس بات کی صداقت میں اضافہ کرتی ہیں کہ محمد عاملیت یا شمانیت کی مشق کرتا تھا دوسرے موضوعات اُس کی توہم پرستی اور بے ڈھنگی باتوں کو پیش کرتے ہیں ۔

قرآن

   چوتھا حصہ بزاتِ خود اس بات کے دعویٰ سے متعلق ہے جو مسلمان اس بات کے لیے کرتے ہیں کہ جدید قرآن مُستند ہے۔ تاریخی وضاحتوں کے ساتھ اس بات کا جائزہ لیا گیا ہے کہ آیا موجودہ قرآن وہی قرآن ہے جو ابتدائی اسلام نے پیش کیا ‘‘ تنسیخ کے عقیدے ’’کی پرکھ سے شکوک و شبہات اُٹھتے ہیں۔ پرکھ کی یہ تکنیک اُس بات کے تضاد پیش کرتی ہے کہ موجودہ قرآن کی آیات تبدیل کی گئی ہیں۔

اسلام میں نجات کا تصور

  پانچواں حصہ میں فیصلہ کیا اسلامی عقیدے میں نجات کا تصور ہے ۔ اہم موضوعات جیسے خون کی قُربانی کا کفارہ، جری طور پر پہلے سے طے کردہ نجات، اسلام کا ارواح کی روحانی تطہر کا نظریہ ۔

اسلام میں عورتوں کا تصور

چھٹا دفع ہمیں عورتوں کی تزلیل کے متضاد نظریات اور عملی کاموں کو دیکھا گیا ہے ۔

اسلام کی اپنی مقدس تحریروں میں سے مثالیں دی گئی ہیں۔ یہ ضرب المثال مغربی قاریوں کے لیے اکثر بہت ہی دھچکا دینے والی ہیں۔

جہاد

ساتواں حصہ مکمل طور پر جہاد کے تصور کے سروے کو پیش کرتا ہے۔ اس حصہ میں ایمان نہ لانے والوں کمزوروں ، تاریخی شہنشاہی جہادوں، جہادوں ، اسلامی غلامی کی تجارتوں کو زیر بحث لایا گیا ہے  ۔ مزیدبرآں، موجودہ اسلامی جہاد کی تحریکوں اور بائبل کی نبوت سے متعلقا تجزیاتی تعلقات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

 

حصہ اول : حجرہ اسود

باب ۱

حجرہ اسود کی تاریخ

حجرہ اسود کے بیانات

         حجرہ اسود کے متعلق جو کہ مکہ میں واقع ہے کے بارے میں ایک مخصوص فضا موجود ہے اور کعبہ کے نواحی علاقوں میں یہ ایک بھید کی طرح چھپی ہوئی ہے اس کی ابتداء کا بھید پھیل چُکا ہے اور اس کے متعلق بہت ساری کہانیاں اور توہمات موجود ہیں برزخ کی روایات اور مادہ پرستی کی روایات کی طرح حجرہ اسود بھی سائنس اور منطق کے دور میں ایک عقیدہ بن چُکا ہے اس کا اثر پیچھے کالے جادو اور غیر مذہب کفر کے ساتھ ملتا ہے۔ ہزاروں لوگوں کا بہتا ہوا خون جو ایک متلاطم دریا کی طرح ہے وہ دُنیا کے لیے اللہ کے غضب اور قہر میں جلتا ہوا ایک نشان ہے آج کے اس باترتیب روشن خیال دور میں ابھی تک فوجی جہاد کی گفتگو کی چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں جو اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ ‘‘ اللہ کے سوا کوئی خُدا نہیں اور محمد اُس کے رُسول ہیں ’’ اس بات سے کہیں پرے ہے کہ مارے جانے والوں پر رحم ہو، ایک خفیہ تلوار اپنی پوری جادوئی طاقت اور بربادی کی قوت کے ساتھ ایک گرد باد کی طرح لٹکتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

   چُپ چاپ ساری دُنیا اس آنے والی موت کو دیکھتی ہے ؛ ااسلامی چکر کے بگاڑ میں حجرہ اسود تمام مہذب معاشرے کےاندر جو کُچھ اس کے راستے میں آرہا ہے اس کو نگلتا جا رہا ہے اور جہاد کی چیخ وپُکار میں یہ پوری دنیا کے اُن لوگوں کا خون بہا رہا ہے۔ جہنوں نے خُدائے مہتاب اللہ اور نبی محمد کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے۔

       حجرہ اسود کے بیان کا پُرانا ترین تفصیلی تصور مسلمان تاریخ دان ازاقی کی طرف سے آیا۔ الزبیر کی عملداری کے دوران ؛ اس نے ۶۸۳ سے ۶۸۴ عیسوی میں مکہ کے محاصرہ کے وقت ایک بیان دیا۔ بنو اُمیہ کے دور میں ، یزید کی فوج نے پاک شہر مکہ پر جلتے ہوئے تیروں سے شدید حملہ کیا۔ اُن تیروں میں سے ایک نے کعبہ کو جلا دیا اور یہ مکمل طور پر برباد ہوا۔ بعدازاں ، حجرہ اسود تین بڑے حصوں میں ٹوٹ گیا۔ (۱)بعد میں ایک ٹکڑے کو کاٹا گیا اور بہت سالوں کے لیے اسے بنو شائبہ نے رکھا۔ ایف ۔ ای پیٹرز اپنی کتاب حج میں، تاریخ دان ازاقی کی باتوں کو لکھتا ہے۔

ابن الزبیر نے اس کو آہنی ہاتھوں میں لیا، اس کو اُس نے اُوپر سے ختم کر دیا، جس کی حالت اب اُوپر سے صاف ہے اس پتھر (رکن) کی لمبائی ۲ ہاتھ ہے اور یہ کعبہ کی مضبوط دیوار کے ساتھ ہے۔‘‘ میں نے کسی سے سُنا کہ اس کا اندر کی طرف سے دیوار کی طرف والا حصہ، کُچھ کہتے ہیں کہ گلابی رنگ کا ہے، کُچھ کہتے ہیں سفید رنگ کا ’’۔ (۲)

           ابن الزبیر کے وقت کی ایک اور رویت میں کہا گیا کہ اس پتھر کی لمبائی تین ہاتھ تھی، دوسرے گواہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس کا رنگ سفید تھا ماسوائے بیرونی طرف سے باقی سب سفید ہے (۳) مسیحی لکھاری جان و مشقی، جو ابتدائی آٹھویں صدی کے دوران ایک مسلمان حکومت کے زیر تسلط علاقے میں رہتا تھا۔ اس نے ‘‘ سفید پتھر ’’ کے تاریخی بیان میں کہا ۔ جان بڑی روانی سے عربی بولنے والا شخص اور قرآن اور حدیث کے لیے بہت مشہور تھا۔ وہ اس بات پر ایمان رکھنا تھا کہ سفید پتھر افرات بت کا سربراہ تھا ، جس کو عرب والے پوجتے تھے اور اس کو خجیر (عظیم ) کہتے تھے۔

جان نے کہا، ‘‘ یہاں تک کہ آج بھی اس پر اُبھرے ہوئے حصے موجود ہیں جن کو بڑے احتیاط سے مشاہدہ کیا جاتا ہے ’’۔ (۴)

۹۳۰ صدی عیسوی کے دوران قرامتیوں نے مکہ پر چڑھ آئے پتھر کو اُٹھایا اور واپس العصا یا بحرین میں واپس لائے، وہاں اُنھوں نے اُس کو نصب کیا اس کے لیے ایک بڑے تاوان کی پیشکش بھی ہوئے لیکن اس کونظر انداز کر دیا گیا پھر ۲۱ سالوں کے بعد ، ایک تاریخ دان جیو وائی کے مطابق حجرہ اسود کو کوفے کی جامع مسجد میں اس پیغام کے ساتھ رکھا گیا : ‘‘ حکم سے ہم اس کو لائے اور حکم ہی سے ہم نے اس کو واپس رکھا ’’۔ (۵) سفید پتھر چرا لیا گیا جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا لیکن جب اس کو واپس کیا گیا تو یہ سات مختلف حصوں میں تھا۔

اسلام کے انسائیکلوپیڈیا میں ایک دلچسپ سوال کیا گیا : کیا قرامتیوں نے جان بوجھ کر اس سفید پتھر کو اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے سات عدد میں تقسیم کیا کہ دورِحاضر میں سات امام ہو گئے؟ (۶)یہ دلیل ظاہر کرتی ہے کہ ایک عرصہ سے وہ اسلامی بھیس میں ایک روحانی فرقہ ہے جو اپنے آپ کو خود ہی لوٹتا ہے مزید برآں وہ سات اماموں کے عقیدے پر بھی یقین رکھتے تھے اور سات اراکین پر بھی ۔ (۷) ایک اور عقیدے کے مطابق قرامتیوں نے اس کو ایمان سے ہندسہ ایمانی بناتے ہوئے سات آسمانوں کا اسلامی آخرت کا عقیدہ بنا دیا۔ (۸)گردنِ باعئم کے مطابق ، محمدی تہواروں میں ۱۹۳۲ میں ایک افذضانی زائر نے اس کا ایک اور حصہ توڑ دیا اور بادشاہ ابنِ صعود کے دور میں فوراً اس حصے کو دوبارہ جوڑا گیا (۹)

        ستمبر ۱۸۵۳ عیسوی میں مشہور دریافت کا ، کیپٹن رچرڈ برٹن نے اپنا بھیس بدل کر دس منٹ تک حجرہ اسود کے پاس رہا۔ اُس کی اپنی کتاب ، ‘‘المدینہ اور المکہ کا زاتی مقامی دورہ ’’ وہ لکھتے ہیں اور مندرجہ ذیل گہرے مشاہدے کو بیان کرتے ہیں۔

     میں نے گہرائی میں اس کا مشاہدہ کیا ہے اور ذاتی طور پہ اس بات کے لیے قائل ہوں کہ یہ ایک چٹانی شہاب ثاقب کا حصہ تھا اور تقریباً تمام تر مسافر اس ایک نقطے پر متفق ہیں کہ یہ ایک آتش فشانی پتھر ہے علیبے اس کو معدنیاتی طور پر ایک آتش فشانی پہاڑ کا حصہ کہتے ہیں کجو کہ شفاف طور پر چمکتا ہے اور اس کے سیاہ پس منظر کے سبب سے اس کی ٹائلیں سُرخی مائل لگتی ہیں ۔ ایک ویلویٹ کی طرح ماسوائے اس کے ایک حصہ کے جو کہ سُرخ ہے برکھادت اس کے بارے میں سوچتے تھے کہ یہ ایک سفیدی مائل اور پیلے مواد سے بنا ہوا پتھر ہے (۱۰) برتن اس کے بارے میں ایک اور خلاصے کو بیان کرتے ہوئے جاری رکھتے ہیں :

کہ میرے نزدیک یہ عام شہاب ثاقب کا ایک پتھر ہے جس پر ایک موٹی چادر ہے یہ چمکیلی اور پالش کی ہوئی نظر آتی ہے ممبی کے ڈاکٹر ولس نے مجھے اس کی ملکیت کے بارے میں ایک خاص بات بتائی جس سے مجھے پتہ چلا کہ یہ سیاہ ہے اور اندر سے چمکیلا اور چمکتا ہوا سرمئی سفید اور یہ نِکل کے لوہے میں ملانے کے نتیجے میں نظر آتا ہے ۔ (۱۱)

بہت سارے جدید بیانات کا اضافہ اس حجرہ اسود میں شامل کیا گیا۔ گردانِ باوئم ۱۹۵۱ سے اس کے لیے ایک روایتی تجزیہ پیش کرتے ہیں :

حجرہ اسود مختلف طرح سے ایک لاوے اور شہاب ثاقب کے ٹکڑے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اصل میں یہ ایک گہرے سُرخی مائل بھورا رنگ ہے اور مشرقی کونے میں تعمیر ہوا اور تقریباً زمین سے ۵ فٹ اُوپر ہے اب یہ تین بڑے اور سات چھوٹے حصوں کو اکٹھا کرکے سلور بینڈ سے باندھا گیا ہے اس کا ڈایا میٹر تقریباً ۱۲ انچ ہے ۔ (۱۲)

   اسلام کا انسائیکلو پیڈیا اس کے بارے میں مزید بیان کرتا ہے:

   یہ پتھر کعبہ کے جنوب مشرقی حصے میں ہے جو کہ تقریباً ۵۰ ۔۱ گز یا میٹر زمین سے اُوپر ہے یہ سیاہ رنگ کا ہے اور سُرخی مائل ہے اور اس کے حصے زرد ہیں جو کہ تقریباً ۱۱ انچ ۲۸ سینٹی میٹر چوڑے اور ۱۵ انچ اور ۳۸ سینٹی میٹر اُونچے ہیں اور ایک سلور میں باندھے گئے ہیں (۱۳)

   یہ خاص گواہی دمشقی جون کی تائید کرتی ہے کیونکہ اُس نے اس کی شکل اور روایتی سائز کی مشاہبت مادہ پرست دیوی استعارات کے مجسمے کی طرح بتائی تھی ۔ میرثیا الائیڈ نے مذہبی انسائیکلو پیڈیا میں بیان کیا ہے :

کعبہ کی ایک اہم ترین چیز اس کی بیرونی طرف واقع مقام ہے یہ حجرہ اسود ہے جو کہ اس کے مشرقی کونے میں واقع ہے ۔ حقیقت میں گہرے سُرخ بھورے رنگ کا یہ پتھر، اب ایک کیثف چاندی رنگ کے بُکس میں ہے، اس سیاہ رنگ کے پتھر کی ابتداء کے بارے معلوم نہیں ممکن ہے یہ شہاب ثاقب سے ہوا (۱۴)

    یہ تمام تینوں جدید بیانات جو بیان کیے گئے ایک طرح کے ہیں۔ اس کے باوجود ، اس پتھر کی حقیقی سائنسی ابتداء کے بارے میں شک باقی ہے۔ کیا یہ ابتدائی سیلکون گلاس کے پھسلے ہوئے نکل اور لوہے لوہے سے بنا ہوا ہے جو ایک شہاب  ثاقب سے ٹوٹے ہوئے ستارے سے نکلا؟ ہو سکتا کہ ماہر جغرافیائی ٹیم ایک مکمل تفتیش کے ذریعے اس بھید کو حل کر سکے ۔ کیا اس بات کی کوئی سائنسی وضاحت ہے کہ کیوں یہ پتھر سفید سے سیاہ ہوا؟ یا ہو سکتا ہے کہ وہ اصلی سفید پتھر جس کی محمد تعظیم کرتا تھا وہ قرامتیوں نے چُرا لیا اور اُس کی جگہ موجود حجرہ اسود رکھ دیا ہو ۔مسللمان آج بھی بحث کرتے ہیں کہ پتھر سیاہ کیوں ہوا پتھر کے محصور کیے جانے میں کیا راز ہے؟ کیوں پتھر کا ایک چھوٹا حصہ ہی عوام پر ظاہر کیا جاتا ہے؟ کیا سیاہ پتھر میں سوراخ ماضی کی کسی جنسی زرخیزی کے ایمانی کام کو ظاہر کرتا ہے؟ یہ بھید توہم پرستی اور رازداری کے سبب چُھپے رہے۔

حجرہ اسود ہی صرف وہ پتھر نہیں تھا جس کو کعبہ میں قابلِ تعظیم سمجھا جاتا تھا۔ ٹھیک اُس کے عین سامنے کے کونے میں اور نیچے والی جگہ پر ، ایک اور سُرخی مائل پتھر جس کو ‘‘سہولت کا پتھر’’ (حجرہ سعادہ ) کہا جاتا تھا رکھا ہوا ہے ۔(۱۵) ایک اور پتھر بھی تھا جس کو

‘‘ اسٹیشن’’ یا ابرہام کے ‘‘کھڑے ہونے کی جگہ’’ کہا جاتا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر معجزاتی طور پر اس کے پاؤں کے نشانات محفوظ ہیں۔ آخر میں ، کعبہ کے اندر تعظیم کا دوغلا کردار ہے جس طرح کہ ایلیڈ نے کہا:

حجر اسود اور دروازے کی بیرونی دیوار مُلتزان کے درمیان دوغلا کردار ہے جہاں پوجا کرنے والے اپنے بدن جُھکاتے تھے۔: براقا (برکت، قوت ) وصول کرنے کے لیے ۔ یہ پاک مکان کے ساتھ منسلک ہے۔(۱۶)

حجرہ اسود اور دوسری اسی طرح کی چیزوں کی تعظیم خُداؤں کی طرح کی جاتی تھی یہ تمام اسلام سے پہلے کے پتھر پاک پتھر کہلاتے تھے: لیکن حجرہ اسود کو کعبہ میں سب سے زیادہ تعظیم دی جاتی تھی۔

حجرہ اسود کی روایات

آدم سے لیکر طوفانِ نوح تک

   حجرہ اسود کی کہانی آدم کے جنت سے زمین تک اخراج سے شروع ہوئی۔ اس نے اپنے آپ کو بُدھا کی پہاڑی پر جو انڈیا میں واقع ہے پایا۔ روایات کے مطابق آدم نوے فٹ لمبا تھا ۔(۱۷) اس کے سر پر ستاروں کا ایک گلدستہ رکھا گیا تھا، جو کہ تقریباً آسمانوں تک ہی پہنچتا تھا جہاں سے وہ آیا تھا ۔(۱۸) وہ پہاڑ پر اس کوشش کے لیے کھڑا تھا کہ فرشتوں کو گاتے ہوئے سُنے۔ شام کے دوران ، فرشتے دیومیکر آدم سے ڈر جاتے تھے اور خُدا سے دُعا کرتے تھے کہ اُسے وہاں سے ہٹا دے۔ خُداوند نے اُن کی دُعاؤں کا جواب اس طرح دیا کہ آدم کا سائز زمین پر دوسرے رہنے والے جانوروں کی طرح کر دیا۔

    اس کے سائز کے کم ہونے کے نتیجے میں ، آدم مزید فرشتوں کے گیتوں کو نہیں سُنتا تھا اور اُس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس بات سے وہ کس طرح قدر غمزدہ تھا۔ خُدا نے اس کو جواب دیا: ‘‘ اے آدم  ’’، تو ہمیشہ جفاکشی کرے گا، ‘‘ لیکن تو مجھ سے ملے گا ’’ (قرآن۸۴ : ۶ ) تب خُدا نے آدم کو ترغیب دی کہ اس کے ‘‘ الہی تخت’’ (حجرہ اسود ) کی زمیین پر تلاش کریں اس روایت سے یوں معلوم ہوا کہ اللہ کے مقام یا تجسیم کا نچوڑ حجرہ اسود میں ہے، خُدا صرف اسی میں بستا ہے یا اُس کا تخت اس پر لگا ہوا ہے۔ پھر آدم نے خُدا کے اس سُپرد کیے گئے اختیار کی پیروی کی اور جنوب مغرب میں جودی کے پہاڑ، جو کہ مسمانوں کے نزدیک اراراط کے پہاڑ کے مساوی ہے سفر کیا۔ جنوب میں سفر کرتے ہوئے، لُبنان کا پہاڑ اور اُولیوز کے پہاڑ سے سینا کے پہاڑ اور سُرخ ساحل سمندر تک سفر کیا ، پھر وہ حجاز کی خُشک وادی میں داخل ہوا ، ایک ایسی جگہ جو پہاڑوں سے بھرا ہوا تھا اور یہ پہاڑ چمکدار کالی چٹانوں سے بھرے تھے۔ فوراً اس نے محسوس کیا یہ جگہ ‘‘ زمین کی ناف ’’ ہے ‘‘ خُدا کے تخت کا مرکز ’’ ۔(۱۹)

   اس ریگستانی وادی میں ایک ہلکی بلندی پر، ایک تنبو یا چھتر کھڑا ہے جو کہ چار چھتریوں کے ستونوں کی طرح ہے اور اس پر ایک اوبی کی طرح کی ایک چھت ہے ۔الزبتھ الیک اور ہال الیک اپنی کتاب ، ‘‘ مکہ دی بلسڈ مدینہ دی ریڈینیٹ ’’ میں ، اس بیان کو جاری رکھتے ہیں :

        چھتر کے نیچے ، یہ اس قدر چمک دمک کے ساتھ ہے کہ یہ پوری وادی کو روشن کر رہی ہے۔ ایک سفید پتھر بعل کی طرح نیچے ہے جو کہ آدم کی روح کی علامت ہے۔ آدم اپنی ہی روح کی علامت پر چلتا رہا، اور پھر اُن پتھروں کے ساتھ جو جیرا کے پہاڑ سے لائے گئے، اُس نے کوشش کی زمین کو ہمیشہ کے لیے اپنی مضبوط کاریگری سے اس کی دیواروں میں باز رکھ لے۔(۲۰)

   یہ خاص رویت واضح طور پر بیان ہے کہ آدم نے زمین پر حجرہ اسود ڈھونڈ لیا ۔مسلمان تاریخ دان طبری کی روایت سے ۔(۸۳۹ سے ۹۲۳ صدی عیسوی ) وہ دعویٰ کرتا تھا کہ آدم جو حجرہ اسود لایا تھا وہ اپنی اصلی حالت میں وہ برف سے زیادہ سفید تھا ’’ (۲۱) مزید برآں ، وہ اپنے ساتھ موسیٰ کی چیزیں مُر اور لوبان بھی اُٹھائے ہوئے ہے ۔ تمام روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ صرف ایک پتھر پر زور نہیں دیتا بلکہ جنت کے ایک ‘‘ ہیرے یاقوت (روبی)’’ پر بھی زور دیتا ہے۔ (۲۲) آدم نے اُس ہیرے کو اپنے آنسو پونچھنے کے لیے استعمال کیا کیونکہ جنت کو چھوڑنے کے بعد اُس کے آنسو وہ ہزار سال تک نہ رُکے جب وہ جنت میں واپس نہیں گیا، جہاں ابلیس یعنی شیطان اُسے مزید پریشان نہ کر سکا ۔(۲۳) یہ بھی کہا گیا کہ آدم نے سفید پتھر کو مکہ کے نزدیک کیوبے کے پہاڑ پر بھی رکھا؛ اندھیری راتوں میں ، اُس نے آسمانوں کو روشن کر دیا جیسے چاند روتوں کو روشن کرتا ہے (۲۴) ایک لمبی زندگی کے بعد ، آدم مکہ میں فوت ہو گیا۔ اس کے بیٹے سیت نے اُسے ابو کیوبے کی غار کے نیچے دفن کیا۔ پھر شاندار پتھر اس چھتر سے لیا گیا اور آدم کی قبر پر رکھا گیا۔

طوفان کے دوران

نوح کے  دوران، پتھر ڈوب گیا اور آدم کی لاش پانی کی سطح پر تیرتی رہی جبکہ کشتی اپنے ارادے پر چلتی رہی تھی اور اس نے ڈوبے ہوئے پتھر پر سات چکر لگائے (۲۵) اس موقع پر، یہ شمال کی طرف سفر کیا اور آخر کار جودی کے پہاڑ پر رُکا۔ ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ کیسے کشتی نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہر کے گرد ایک ہفتے کے لیے چکر لگایا ۔ اس وقت کے دوران، وہ گھر جو آدم نے بنایا تھا جو پتھر کے ساتھ تھا کیوبے کے پہاڑ پر اُٹھایا گیا اس لیے وہ نہیں ڈوبا یہاں تک کہ اس پس منظر میں بھی، پتھر کسی حد تک ڈوبا، جبکہ اس حقیقت کی وجہ سے اس طرح کی کہانی کہ پانی کو کہا گیا کہ بلند ہو یہ ۱۵ ہاتھ زمین کی سطح سے بلند ترین پہاڑ پر بلند ہوا (۲۶)

ابرہام کے وقت میں

ایلک اور ایلک روایتی ایمان کے خلاصے کو شاندار طریقے سے پیش کرتے ہیں کہ کیسے ابرہام نے ابتدائی کعبہ کی جگہ کو دریافت کیا ۔

   جب اسماعیل واپس آیا، ابرہام نے بڑی سمجھ کے لیے اپنے بیٹے کی مدد لی : خُدا کے گھر کو بنانے کے لیے ۔ایک مشتعل ہوا ایک ٹیلے کے گرد چلی اور ایک بادل جس کی شکل ۲ سِروں والے اژدہے کی طرح تھی۔ ابرہام اور اسماعیل نے زمین کو کھودا اور ریت کے نیچے اُنہوں نے آدم کی قبر کے ابتدائی آثار پائے۔ ایک پتھر جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : ‘‘ میں باکا (مکہ کی وادی) کا خُدا ہوں ۔ اور میں نے ترس اور محبت کو اپنے دو ناموں کے طور پر خلق کیا ہے’’۔ (۲۷)

   اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ الوہیت جس کا اُوپر ذکر ہوا ہے وہ محض ایک علاقے کے ‘‘ اعلیٰ دیوتا ’’ کی ہے اور اس کا تعلق عبرانیوں کے قادرِ مطلق خُدا سے نہیں ، جس کا ذکر آگے مزید چوتھے باب میں کیا جائے گا۔

   اس رُکی ہوئی تعمیر میں اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ مشرقی کونے کے لیے اُنھیں ایک منفرد پتھر کی ضرورت ہے جس کے سبب سے پوجا کرنے والا جانے کہ اُس جگہ کا طواف یہاں سے شروع کیا جائے۔ اس طرح سے اس درخواست پر ایسا پتھر لانے کے لیے اسماعیل نے معجزاتی طور پر ابو کیوبے کی پہاڑی سے یہ مقدس قیمتی پتھر لایا جو کہ آدم کی موت کے وقت سے وہاں دفن تھا۔ ‘‘ اس آسمانی پتھر کی روشنی سے ایک بار پھر مکہ کا سارا علاقہ روشن ہو گیا۔ ’’(۲۸)

        یہاں اس آسمانی پتھر کے بارے میں کہ وہ کس طرح سے ابرہام کے پاس لایا گیا دو روایتں ہیں ایک جو اس نظریے کو پیش کرتی ہے کہ کیسے جبرائیل فرشتہ آسمان سے اس پتھر کو لایا ، ایک دوسری کہانی اس بات کو بتاتی ہے کہ کیسے یہ پتھر ابو کیوبے سے لایا گیا یہ دونوں عقائد اسلامی زبانی کہانیوں میں ملتے جُلتے ہیں ۔

        ابتدائی ایک قریب مشرقی مفکر ایف ۔ ای پیٹرز نے اپنی کتاب یہودیت ، مسیحیت اور اسلام میں : شاندار پیرائے اور اُنکی تشریح بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ سپینی صوفی ماسٹر یون العربی سے مشابہ ہے ( ۱۲۴۰ سی۔ ای ) :

  یہ کہا جاتا ہے کہ ابو کیوبے کا پہاڑ زور دار طریقے سے ہلا اور اس سے حجرہ اسود ٹوٹا اور اُس وقت یہ سفید نیلم تھا اور جبرائیل اس کو ایک باغ میں سے لایا اور اس میں چھپا دیا اور یہ طوفان کے وقت سے ابرہام کے دور تک ابو کیوبے کی پہاڑی میں چھپا دیا گیا (۲۹)

کیوں یہ پتھر سیاہ ہو گیا؟

پتھر کے رنگ میں تبدیلی کی بہت ساری وجوہات وضاحت کے لیے بیان کی جاتی ہے۔ بہت عام تاثر یہ ہے کہ یہ ‘‘حیض میں مبتلا عورت کے چُھو جانے کی وجہ سے ہوا’(۳۰)پیٹرز نے اس کی تصدیق کی کہ یہ صوفی ابن العربی نے بیان کیا ہے۔

    حجرہ اسود اس رُوح کے بارے بیان کرتا ہے یہ ایک حیض میں مبتلا عورت کے چھُونے سے سیاہ ہو گیا  (۳۱) ایک دوسری مختلف روایات بیان کرتی ہے، یہ ایک حیض میں مبتلا عورت کے چھونے اور گندے لوگوں کے اس کے اُوپر چڑھنے اور اس کو رگڈنے کے سبب سے سیاہ ہو گیا (۳۲)

           ایک تیسری تشریح کی اُس بات پر ہے کہ یہ تبدیلی انسان کی اس کائنات میں ذات کے سبب ہے ۔نتیجتاً، اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ پتھر انسانوں کے گناہوں کے سبب سے سیاہ ہوا(۳۳) ایک اور مختلف خیال ہمیں سکھاتا ہے کہ اس پتھر کے سیاہ ہونے کا مطلب ہے کہ اس کے اُوپر روشنی نہیں ہے اور یہ ایک مکمل علامت ہے ‘‘ خُدا کے لیے روحانی طور پر غربت کی (فقر) ۔۔۔ اور خُدا کا خالی ہوجانا ’’۔ (۳۴) یا ضروری ہے کہ اپنی ذات کو مارنا ۔ یہ روایت صوفی ازم یا بُت مت کے ذرائع سے آئی ہے

مادہ پرستی کی روایات

یہ روایات بعد میں اسلام کے ابتدائی سالوں میں عقائد اور کہانیوں کی بنیاد پر ڈھانپ دی گئی قرآن اور حدیث ان کہانیوں کے بارے میں بہت کم بتاتا ہے اگرچہ ان روایتوں نے نسل در نسل اسلامی ایمان کی زبانی تعلیمات کے بارے میں اہم کردار ادا کیا شاہد یہ بہت زیادہ واضع تفسیروں سے جیسا کہ اس پتھر کی پوجا کے بارے میں مادہ پرستوں کی ہے اُس سے بچنے کے لیے ایجاد کیا گیا ۔

    ابنِ صاد یہ ایمان رکھتے ہیں کہ سفید پتھر ابو کیوبے کی پہاڑی سے محمد کی پہلی وحی سے چار سال پہلے نیچے لایا گیا ۔ ایک اور گواہی جو الفقہی سے آئی اس کے مطابق یہ قریش کے قبیلے کی مکہ کی پہلی دوبارہ تعمیر کے وقت آیا، ‘‘ ممکنہ طور پر کیوبے کے وقت ’’(۳۵)

     یہ بات بالکل واضح لگتی ہے کہ حجرہ اسود کعبہ کی دوبارہ تعمیر میں مادہ پرستوں نے شامل کیا پیٹرز نے بیان دیا:

    مکہ کے متبرک مقامی بتوں کا اکھٹے کیا جانا قریش کے پہلے حاکم امر ابن لوہے کے دور میں ہوا اور جہاں تک ابوکیوبے کے مذہبی دیوتاؤں کا حصہ تھا (۳۶)

       ان مادہ پرست ابتدائی لوگوں کی ابتداء بھی جغرافیہ دانوں اور تاریخ دانوں نے رقم کی اور آنے والے ابواب میں اس کے بارے میں بھی بات ہو گی۔ اس کے مقابلے میں عقائدی بیانات میں قرآن حدیث یا سیکلر ذرائع کے بیانات نہیں ہیں یہ محض پرانی روایات ہیں ۔

محمد کی الوداعی زیارت

مکہ سے ایک لمبی غیر حاضری کے بعد محمد مقدس شہر میں اپنے آخری حج کے لیے آیا ابن عباس میں حدیث کے مطابق بیان ہے، ‘‘مشرکوں کےایک گروپ نےاس خبر کو پھیلا دیا کہ لوگوں کا ایک گروہ اُن کی طرف آرہا ہے اور وہ یثرب کے بخار سے کمزور پڑ گئے ’’(۳۷)  ان حالات میں ، نبی نے اپنے ساتھیوں کو حکم کیا کہ ایسا ہی کریں جیسا اُس نے کیا اُس نے سب سے پہلے کعبہ کے کونے کا بوسہ لیا جہاں پہ حجرہ اسود نصب تھا اور پھر اُس حصے کے پہلے تین چکر لگائے اس بات کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہ وہ سفر سے کمزور یا بیمار نہیں ہیں پھر اُنھوں نے اپنے چکروں کا عمل چار طوافوں سے جاری رکھا (۳۸)

       شہادتاً عبداللہ بن امر کی حدیث کے مطابق محمد نے ہمیشہ اسی طریقے سے حج اور عمرہ دونوں کے لیے چکر لگانے کی مشق کی محمد نے صفا اور ماروا کی پہاڑیوں کے درمیان بھی طواف کیا (۳۹) یہ دونوں روایات مکہ کے اندر اسلام سے پہلے بھی کی جاتی تھیں اور یہ شدت پسند مادہ پرست کرتے تھے بعض دفعہ محمد اُونٹ کی سواری کی روایت کے مطابق بھی اسے ادا کرتے تھے ہر دفعہ ہی وہ حجرہ اسود کے کونے کو عبور کرتے وہ اس کی طرف جُھکے ہوئے سر سے اشارہ کرتے اور فرماتے تھے : ‘‘اللہ اکبر ’’ (۴۰) اُن کی چھڑی کے استعمال کا اشارہ یہ بھی بیان کرتا کہ اُس نے کعبہ میں ۳۶۰ بتوں کو برباد کر دیا ہے ۔ محمد کھڑا ہوا اور اُن کی طرف اسی چھڑی سے اشارہ کیا اور کہا ‘‘ سچ آ چکا ہے اور جھوٹ جا چُکا ہے ’’ (قرآن ۸۸ : ۱۷ )

  پھر اُنھوں نے اُن کو ایک ایک کرکے برباد کر دیا (۴۱) یہ پتھر کے بُت واضح طور پر اس بدعت کو پیش کرتے تھے کہ سال کے ہر دن کے لیے ایک دیوتا کو شامل کیا جائے۔

      محمد کے ایک قریب ترین ساتھی عمر بن الخطاب نے بوسہ لے کر اور چُھو کر حجرہ اسود کا بغور جائزہ لیا اور چونک گیا  ابیث بن رابعہ اپنی حدیث میں عمر بن خطاب کی اس بات کو زناکاری کی ایک شکل کے طور پر بیان کرتے ہیں : بے شک میں جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی کوئی نقصان ۔ کیا میں نے اللہ کے رُسول کو چومتے ہوئے نہیں دیککھا میں تمہیں نہیں چوموں گا۔ (۴۲)

        محمد کے کُچھ قریب ترین ساتھیوں نے اُس کی بہت ساری رسُومات کے متبادل رسومات ظاہر کی اس حقیقت کے باوجود اُنھوں نے محض فرمانبرداری کی اور اختیار کو اپنے پیارے نبی کے لیے ملتوی کر دیا۔ محمد محض مادہ پرستی کی تمام تر باتوں سے بچ نکلا محض ایک نیا عقیدہ ایجاد کرکے مثال کے طور پہ اُس نے اعلان کیا کہ خُدا نے مسلمانوں کو حج اور جہاد دیا ہے تاکہ وہ کافروں سے لڑیں۔(۴۳)

حجرہ اسود کی زیارتیں

آرتھوڈیکس عمل

  پرانی مشق حجرہ اسود کے لیے روایتی مشق کے معاملے میں یہ بہت سارے حصے کی روایت تھی جو کہ محمد کے وقت سے لا تبدیل ہو گی جب بھی اس کے قریب سے گزر جاتا تو پتھر کو بوسہ دیا جاتا لیکن اگر اجتماع کے باعث نا ممکن ہوتا تو اسے ہاتھ سے چُھو لیا جاتا تھا یہ چُھونا چہرے کے لیے بدل گیا ’’۔ (۴۴) جیسے کہ پہلے بھی بیان کیا گیا کہ اس کے مدِ مقابِل ایک دوسرا پتھر ‘‘ یمنی کونے ’’ پر رکھا گیا جس کو ‘‘ بڑی خوشی کا پتھر ’’ کہا جاتا تھا پھر بھی یہ پتھر محض چُھونے کے لیے تھا اور اُس کا بوسہ نہیں لیا جاتا تھا اور یہ بات اس چیز ی علامت تھی کہ حجرہ اسود زیادہ برتری رکھتا ہے ۔

بدووں کے خلاف ِمعمول کام

  مادہ پرستوں کے کھلے حج کو مکمل طور پر نابود کر دیا گیا بہت سارے بدووں پجاری اسلام سے پہلے کی رسومات کو حج کے ذریعے ادا کرتے رہے مندرجہ ذیل بیان ان عجیب روایات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے ۔

  ابنِ جبار نامی ایک مسافر نے گیارہ سو بیاسی سی ۔ ای کی ایک تحریری تاریخی حج رپورٹ کو مہیا کیا اس اُمید پر کہ وہ اپنی روحانی ضروریات کو پورا کریں گئے ہزاروں یمنی مکہ میں حج کی رسم ادا کرنے کے لیے آئے یہ بدو پختہ یقین رکھتے تھے کہ اُن کے ملک کی زرخیزی کا انحصار براکا ( برکت کی قوت پر ہے جو کعبہ اور حجرہ اسود سے لے جائیں گئے۔ نتیجتاًوہ اللہ کے لیےایک منافع بخش تاجر بنے (۴۵) ابن جبار نے بیان کیا:

     جب اُنھوں نے مقدس کعبہ کا طواف کیا اُنھوں نے اپنے آپ کو بچوں کی طرح ایک اچھی ماں کے سامنے گرا دیا وہ اُس کی قُربت میں پناہ ڈھونڈتے تھے۔ اُنھوں نے اس کے پردوں سے خُود کو جُوڑا اور اپنے ہوتھوں کو اس سے پیوست کیا اور اُنھوں نے اُس کو حاضر و ناظر جان کر آنسووں کے ساتھ نمازیں ادا کیں لیکن جتنی جیسے ہی وہ قصبے میں پہنچے تو اُن کے درمیان کوئی بھی اس قابل نہ تھا کہ حجرہ اسود کا طواف کر سکتا یا اُسے چھو سکتا۔ اُن میں سے ۳۰ یا ۴۰ اتنی سختی کے ساتھ جکڑے گئے جیسے زنجیروں کے ساتھ اور جب وہ کعبہ کے دروازے پر پہنچے تو یہ زنجیر ایک ٹھوکر کھانے کے ساتھ ٹُوٹ گئی۔ (۴۶)

      تقریباً ۷۰۰ سالوں کے بعد ۱۹۰۹ میں ایک اور مُشاہد جس کا نام بیتِنونی تھا وہ بدووں کی اس رسم کے بارے میں مزید بیان کرتا ہے:

     بدووں کی عورتیں آدمیوں کی پشتوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتی اور جب وہ حجرہ اسود تک پہنچتے تو وہ سب اس کو چھوتے اور اُس کا بوسہ لیتے تھے ۔ خاوند بیوی کا پتھر کے پیچھے سر ہلاتا تھا اور اس طرح سے ظاہری طور پر اُس کا حج ہو جاتا تھا اور اسی وقت میں وہ اُس کے لیے روتا بھی تھا : ‘‘ کیا تم نے حج کر لیا ہے اوہ حجا ؟ ’’ وہ جواب دیتی تھی : ‘‘ ہاں میں نے کر لیا ہا میں نے کر لیا ’’۔ پھر وہ حجرہ اسود تک واپس آتی اور یہ کہتی ‘‘ میں نے حج ادا کر لیا ہے وہ اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھاتی اور یہ کہنا جاری رکھتی کہ تم مجھے قبول کرو یہ نہ کرو میں نے حج ادا کر لیا ہے وہ اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھاتی اور یہ کہنا جاری رکھتی کہ تم مجھے قبول کرو یا نہ کرو میں نے حج کر لیا اگر تم نے مجھے قبول نہیں کیا تو تم مجھے قبول کو مجھے قبول کرنا ہو گا (۴۷)

 جہاں تک حجرہ اسود کا تعلق ہے جو کہ اکثر شادمانی کا پتھر یعنی (الحجر الصاد ) کا تعلق ہے یہ دونوں پرانی مشق اور بدووں کی رسومات سے اپنی جڑوں کو ملاتے ہیں جو کہ عرب میں اسلام سے پہلے تھیں،

اگلا باب ابتدائی پتھر کی بدعتوں کی تفتیش تعلق رکھتا ہے جو کہ سارے ابتدائی عرب میں واقع تھے یہ مطالعہ اسلامی حج کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے زبردست ہے۔

باب ۲

اسلام سے پہلے کی متبرک پتھروں کی بدعتیں

ابتدائی دنیا کے پتھر

صرف اسلام سے پہلے عرب والے وہ لوگ نہیں تھے جہنوں نے پتھروں کی پوجا کی ۔ اس بات کی وافر شہادت پُر اثر تشبہیات کے ساتھ ملتی ہے کہ ابتدائی دنیا اور عرب کی رسومات کے درمیان پتھروں کی پوجا کی بدعتیں موجود تھیں ۔ یہاں تک اسلام کے اندر بُتوں کی پرستش یا تعظیم کرنے کا تعلق ہے تو اس معاملہ میں تھوڑا سا ذہن ہر روز دے کر کوئی بھی اس مذہب سے بے شمار مثالیں دے سکتا اور اس طرح کی باتوں کا تقابلی جائزہ لے سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل حصہ پتھروں کی پرستش کی بدعتوں کا بین الاقوامی تصور پیش کرے گا۔

مقدس پتھروں کی تعریفیں

مقدس پتھروں کی تعلیم تمام دنیا میں انسان کی پیدائش ہی سے کی جاتی رہی ہے ۔ وہ قربانیوں، جادوئی تصورات اور الہیات کا کاروبار کرتا رہا خاص قسم کے پتھر تھے ۔

  جو انسان نے اپنی خاص رسومات کے لیے بنائے یا کھڑے کیے یہ یادگاروں کے طور پر ستونوں یا قطاروں کے طور پر کھڑے کئے گئے، اور کائناتی آغاز سے ہی ان کو مختلف نام دیئے گئے۔ ایلیڈ نے اس قسم کے پتھروں کے بار میں بیان کیا۔

استادہ، ماقبل تاریخ کے دور کا پتھر (یہ لمبے، سیدھے کھڑے رہنے والے یادگار پتھر تھے ) ماقبل تاریخ کا سیدھے نصب کیئے۔ پتھروں کا دائرہ (کھڑے پتھروں کا دائرہ): کلاں سنگی دور کی قبر جس میں دو عمومی پتھروں پر ایک لیٹواں پتھر ٹکا ہوا ہوتا ہے ( یہ میز کی طرح یا لمبا پتھر، جو سیدھا لیٹا ہوا فقی پتھروں کا سلسلہ تھا ) اور پتھروں کے ٹیلے ( پتھروں کے ڈھیر ) (۱)

مزیدبرآں، خاص شکل یا خصوصیات کے ساتھ، قدرتی چٹانوں کو مقدس اہمیت کے نام دئیے گئے۔ جو چھوٹے طرح کے پتھر ہوتے اُنہیں گھر میں بدعت کے نشانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور ان کو جادوئی حفاظت کے طور پر جسم پر اُٹھایا یا باندھا جاتا تھا۔ وہ پتھر جو اتنے چھوٹے ہوتے کہ اُن کو کوئی بھی شخص ہر روز اُٹھا سکتا وہ تعویذوں کے طور پر استعمال کئے جاتے (۲)

   اور مزید خاص طور پر؛ اُن کو ستاروں سے ، شہابِ ثاقب سے گرے ہوئے پتھر جان کر اکثر یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ بھلائی یا بُرائی کے لیے آسمانوں سے آئے ہیں۔( ۳ ) یہ مکاشفاتی پتھر تھے جو گرج کے ساتھ زمین پر گرائے گئے تھے۔ اس بات پر ایمان رکھا جاتا تھا کہ نرسنگے کی آواز سے پانی پر تیر سکتے تھے یا جیسے ہی بُرے اعمال کا نام پُکارا جاتا تو یہ زمین کے نیچے ڈوب جاتے تھے۔ مزید برآں، کُچھ لوگ یہ بھی تصور کرتے تھے کہ یہ پتھر خاص الوہیت کے سبب سے وجود میں آئے ہیں، اس لیے ان کو مزاروں کے طور پر ہیکلوں میں یا عزت و احترام کی جگہوں میں جس جگہ یہ دریافت ہوئے رکھا جانا چاہیے (۴)

شمالی اور جنوبی امریکی انڈین کے پتھر

مقدس پتھروں اور چٹانوں کی امریکی انڈیا کے لوگوں نے اپنی رُوحِ جان کے ساتھ بہت زیادہ عزت کی۔ جنوبی امریکی انڈیا کی ابتدائی سے ایکوڈور کے فرعوں نے جوالا مُکھی کے لیے انسانی قربانیاں چڑھائیں اور انڈس کے پتھر کے ہندوستانیوں نے اس پتھر کی عام پوجا کی ( ۵ ) آئرلینڈ کی جھیل ٹی ٹی کا جو یولیونیا۔ پیرو میں ہے دیا پتھر کے دیوتا دریافت ہوئے۔ اس جگہ پر ہندوستانی لوگوں نے سورج کے مندر میں سیاہ پتھر کی پوجا کی ۔ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اور یگانو جو انسانوں کی دیوی ماں ہے، وہ آئی اور سیارے وینس سے اپنے ساتھ پتھر لائی (۶) مزید برآں، واریو جو اورنیوکو کی بڑی طاقت تھا :( ۷ )اس کی بطور ایک پتھر پرستش کی جاتی تھی۔

   اسی طرح، شمالی امریکی ہندوستانیوں نے پتھروں کی پوجا کی مشق کی اور ایلیڈ بیان کرتا ہے:

   ڈکوٹا نے پُرانے پتھروں کو سجایا اور رنگ کیا اور اُن کے لیے دُعا کی اور اُن کے لیے کُتوں کی قُربانیاں چڑھائیں۔ شمالی امریکا کے بڑے انڈین قبائل نے کینڈا کی مِسانی جھیل کے پانیوں کو عبور کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ وہ تصور کرتے تھے کہ اس میں حقیقتاً روحیں آباد ہیں۔ جنوب کی جانب بھی، امریکہ میں یہ یقین رکھا جاتا ہے کہ دیوتا وہاں شخصی طور پر سکونت کرتے ہیں جو پتھروں کی شکل میں ہیں ‘‘ ٹیکساس کیوا میں چھوٹے پتھر کے دیوتا تھے جن کی عبادت وہ سورج کے ناچ کے دوران کرتے تھے۔ نیو میکسکو ٹاؤ میں ایک مقدس پہاڑ جس کا نام ‘‘ پتھر آدم ’’ تھا اس کے قدموں میں تعظیم کی جاتی تھی جو دو جنگ کے دیوتاؤں کو پیش کرتا تھا۔ امریکن انڈیا بستی پبلو میں لوگ ایمان رکھتے تھے کہ شکاریوں کی خوش بختی کا انحصار اُن پتھروں کی ملکیت کے سبب سے بنے جو متجسس شکل کے ہیں ( ۸ ) امریکی انڈین پتھروں کی بدعتیں جو اس پہرایہ میں بیان کی گئیں ہیں ٹھیک اسلام سے پہلے کے پتھروں کی پوجا کی روایات کی مثال پیش کرتی تھیں۔

ابتدائی یونان اور ایشیا مائز کے پتھر

مزید برآں انڈین پتھروں کی بدعتیں ، یونانیوں اور وہ مزید بدعتیں جو مشرک میں تھیں اُن کی بھی روایات موجود ہیں۔ ان پتھر کی بدعتوں کی چند مثالیں مندرجہ ذیل عبارت میں تصدیق کے لیے پیش ہیں۔

رومیوں کا اِنسیلیا

      یہ مادہ شہابِ ثاقب کے لوہے کا مواد تھا جو تقریباً ۷۰۰ بی۔ سی ۔ ای نُوما پمفلیہ کے دورِ حکومت میں تھا۔ سِبلین کی کتابیں نبوت کرتی ہیں کہ اس پتھر کا کھو جانا روم کے گِرنے کا متعارف کرانا تھا ( ۹ )

اُپلو کا پتھر

یہ پتھر ابتدائی یونانیوں کا بہت مقبول مقدس پتھر تھا ۔ یہ سیاہ رنگ کا، مخروطی شکل کا ، بھاری بھر کم پتھر تھا اور یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ شہابِ ثاقب کا ہے اس کو ڈیلفی کی ناف تصور کیا جاتا تھا۔ شاعر یائنڈر ( ۵۲۲۔ ۴۳۸ بی ۔سی ۔ ای ) ایمان رکھتا تھا کہ ‘‘ ڈیلفی کی یہ ناف ٹھیک زمین کے درمیان میں موجود ہے ’’ ( ۱۰ ) یہ تعلق بالکل ٹھیک طور پر اسلامی تصور سے ہے کہ کعبہ زمین پر مرکزی پرستش کا مقام ہے رابراٹ شِیروکس، نے اپنی کتاب ماسٹرز آف دی ورلڈ میں ایولو کے اس پتھر کے بارے میں بیان کیا ہے:

ہیلنیس ، پرائم کا بیٹا اور ایک مشہور یونانی پیشن گوئی کرنے والا، پتھر کی مدد سے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرتا تھا۔ اور یہ پتھر اُس کو ایولو نے دی تھی۔ دیوتاؤں سے پیشن گوئی حاصل کرنے کے لیے ، وہ پتھر کو اپنے سر پر ہلاتا تھا اور منتر پڑھتا تھا ۔ پتھر پھر عجیب، مرجھاتی آواز میں بولتا تھا اور مستقبل کا اعلان کرتا تھا۔ (۱۱)

افسس میں ڈیانا کا پتھر

 روائتی طور پر، دیوی کے مجسمہ اور مندر کے پتھروں کے بارے یہ یقین رکھا جاتا تھا کہ یہ آسمان سے گرائے گئے ہیں۔ ڈیانا۔ آرٹرمِس کی طرف مُنہ کرکے پاجا کی جاتی تھی اور یہ غیر یقینی ہے کہ آیا وہ سیارے وینس یا چاند سے آئی تھیھ۔ ڈیانا کو ایولو کی بہن بھی سمجھا جاتا تھا۔ ‘‘ مصریوں کے گیئون اور بعل ییول ، جزیرہ آدم کے پتھر اور ہر میز کے پتھر (۱۲)

سیبلی کے پتھر

اُس پتھر کا مواد لوہے پر مشتمل ہے جس کے بارے یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ شہابِ ثاقب کا ہے اور اس کا تعلق فریجسنیا کی سیبلی دیوی سے ہے۔ ایلیڈ نے اس پتھر کا ایک تاریخی بیان پیش کیا ہے:

 یہ روم میں ۲۰۴ بی ۔ سی ۔ ای میں پہنچا جب روم کو ہینی بال کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ سیبلی کتابیؓ، جن کو شہابِ ثاقب کے دیکھے جانے کے بعد پرکھا گیا، اور یہ پیشن گوئی کی گئی کہ غیر ملکی فوج اٹلی سے نکالی جا سکتی ہے اگر سیبلی کی علامت ایک شہابِ ثاقب روم میں لایا جائے اور اس طرح ہینی بال کو شکست ہوئی ۔ رومی لوگوں نے اس دیوی کا شکریہ اس طرح ادا کیا کہ اُس نے اُس کے لیے ایک مندر بنوایا اور ہر سال اس کی یاد میں تہوار منانے کے لیے اِدھر آیا کرتے تھے ۔(۱۳)

امیہ کا شام میں پتھر

    یہ پتھر مخروطیشکل اور سیاہ رنگ کا تھا۔ فنیقی لوگ اس کی پوجا کرتے تھے۔ لیکن اس کی الوہیت کی شناخت کو بے یقینی کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا ۔ اس کے بعد، امیہ کے عربی کاہن امیہ کے اس پتھر کو مزار کی شکل دی، سردار کاہن ایلیگابس اس کو روم لے گیا جب وہ شہنشاہ بنا۔

مقدس پہاڑ اور بڑے بڑے پتھر

   جیسے کے پیچھے بیان کیا جا چکا ہے کہ ہندوستانی پتھروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ یہ مُشق اُن کے لیے مخص بلا شرکت غیر مقامی نہیں تھی، سیکنڈیویا ، کے لوگ بھی اِن خاص پہاڑوں اور بڑے پتھروں کی پوجا کرتے تھے۔

             مسیحت سے پہلے کے مجسم سازوں کی شمالی سیکنڈیویا میں تحقیق اور کولاپینیسولا پر تحریر کے دوران لکھا گیا کہ : ۵۰۱ میں سویڈن، ۲۲۹ میں ناروے، ۸۰ سے ۹۰ میں فن لینڈ اور تقریباً ۱۰ میں مغربی روس میں وائٹ سی تھا۔ ’’( ۱۴ ) نمونے کے طور پر ایلیڈ سویڈن میں مختلف بدعتی مقاموں کی ایک فہرست پیش کرتا ہے۔

   ۱۴۹ چوٹیاں اور پہاڑ، ۱۰۸ ڈھلوان دار چٹانیں، غار، سوتے، چشمے، جھیلیں، ۳۰ جزیرے اور چٹانی جزیرے، پینی سولز، چراگاہیں اور ویرانے، لیکن بہت سارے پتھروں یا چٹانوں کی پرستش پر مشتمل تھے۔ جو کہ تقریباً ۲۲۰ ہیں ۔ اس گروہ میں، ۱۰۲ مثالیں قدرتی طور پر ظاہر ہونے والے پتھروں کی ہیں۔ الوہیت کے غیر تراشے بُت، صرف ۲ ایسے ہیں جن میں ناقابل تردید انسانی مداخلت کی صورتیں موجود ہیں۔ عام طور پر ان میں بھاری اکثریت گھِسے ہوئے پتھروں کی ہے۔ (۱۵)

  ‘‘ کُچھ معاملات میں، پرستش کا تعلق، لکڑی کے تنوں، مجسم سازی سے رہا ہے ’’(۱۶) بارسنگھے کی قُربانیوں کی روایات کو بیان کرتے ہوئے جو جسم کے پیچھے کی جاتی تھیں، ایلیڑ نے ۱۶۷۱ میں سویڈن سے تفصیلی رپورٹ پیش کی:

اس کے بعد مجسم ساز قُربان گاہ تک پہنچے انہوں نے اپنی ٹوپی اُتاری، گہرے طور پر جُھکے اور قُربان گاہ کو خون سے داغدار لیا اور موٹے تازے جانور سے ریڑھ کی ہڈی، کھوپڑی اور سپنگوں کا ایک بڑا ڈھیرالوہیت کو پیش کیا گیا، جیسے کہ سینگوں کا پتھر کے پیچھے ڈھیر لگایا گیا (۱۷)

 فن لینڈ میں، ایک بیان دیا گیا۔ ‘‘ ایک چھوٹا پتھر دیوتا جو اُٹھایا جا سکتا تھا وہ مالک کہلایا اس دیوتا کو ہاتھ میں اُٹھا کر مجسمہ ساز اپنی دُعاؤں کو بڑی عقیدت اور ضروریات کی فہرستوں کے ساتھ پیش کرتے تھے ’’ (۱۸) اس بات کو بُرا تصور کیا جاتا تھا اگر کوئی اپنے ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا تھا ۔ پجاری اپنی خواہشات کو بار بار دہراتا تھا ۔ ‘‘ جب تک پتھر اس کے ہوتھ میں ہوتا تو وہ اتنا ہلکا ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھ اُوپر اُٹھا سکتا تھا ’’(۱۹)

سیکنڈینیویا کے بہت سے پہاڑ مقناطیسی، سیاہ، چمکدار، آہنی ہیں جو اپنی وسعت میں کُچھ حد تک آکسیجن کی آمزیش کا عمل کرتے ہیں، اس کے دو پول ہیں جو اس کو قدرتی مقناطیسی عمل کے قابل بناتے ہیں۔ ایسے سلسلے کی فہرست میں جو بہت مشہور جگہیں ہیں اُن میں ڈینی مورا سویڈن، شمالی لیک واٹر، ٹابرگ، اسی جھیل کا جنوبی حصہ، اور یو ٹو، فن لینڈ ’’ (۲۰)    جیسے کہ پہلے بیان کیا گیا ہے، اسلامی روایت کی رپورٹیں کہ آدم زمین کی ناف سے دریافت ہوا اس ساری قدرتی دنیا کے درمیان جو کہ چمکدار سیاہ پہاڑی سلسلے سے گری ہوئی ہے یہ بات بغیر کسی شک کے مکہ کے پہاڑی سلسلے سے تعلق رکھتی ہے۔

   ‘‘زمین کی ناف ’’ کا تصور یا اس کے مرکز کی کہانی جہاں ہر چیز اس کے گرد گھومتی ہے یہ مذاہب کی تاریخ کا ایک خاص خلاصہ ہے مثال کے طور پہ ایپولو کے پتھر کے لیے مزار کے بارے میں یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ یہ یونانیوں کے لیے کائنات کا مرکز ہے استعارراتی طور پر بہت سارے دوسرے لوگ بھی پوری دنیا میں اپنے مزاروں کو کائنات کے مرکز تصور کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں سورہ ۴۲ اُس کی ۷ آیت کو مکہ والے ‘‘ اُمل کرہ ’’ کہتے تھے جس کا مطلب ہے ‘‘ مرکز کی ماں ’’ یا شہروں کہ ماں ’’ مسلمان تاریخ دان اس پیرائے کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ مکہ زمین کا مرکز ہے اور مکہ کے سارے علاقے کا حصہ یعنی ‘‘ مکہ کی ناف ’’ (۲۱)

  محمد کے بارے میں یہ شہادت انس بن ملک کی حدیث میں سے ملتی ہے کہ وہ پتھروں کی پرستش کرتا تھا :

   اُحد کا پہاڑ اللہ کے رسول کی نظر میں آیا تو اُنھوں نے فرمایا، ‘‘ یہ پہاڑ ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں ۔

 اے اللہ ابرہام نے مکہ کو پاک کیا ہے اور میں مکہ اور مدینہ کے درمیان دو پہاڑوں کو پاک کرتا ہوں ’’۔(۲۲)

     یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ محمد حجرہ اسود کے ساتھ ساتھ اور کعبہ میں پتھروں کی پرستش بھی کرتا تھا اور عرب میں دوسرے پتھروں کی بدعات کا مطالعہ بھی موجود تھا جس کا گہرا اثر محمد کی زندگی پر تھا۔

کعبہ اور ابتدائی عرب کے مزار

عرب کے ابتدائی وقتوں میں بے شمار کعبہ موجود تھے اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے مندر یا مزار بھی تھے اور ان کو تواگت کہا جاتا تھا یہ تمام مقدس عمارتیں ان کا ایک خاص محافظ ہوتا تھا اور ان کے مجسموں کو ہدیے اور قربانیاں پیش کیں جاتی تھیں اور مزید ان کے گرد طواف بھی کیا جاتا تھا ۔( ۲۳ ) مثال کے طور پر ہیمار دیوتا کا ایک مندر ثنا میں تھا جس کو ریاپ کہتے تھے اس کے اندر بڑی ذمہداری کے ساتھ قُربانیاں اور ہدیے چڑھائے جاتے تھے ‘‘ ایک رپورٹ کے مطابق وہ اس کے وسیلہ سے ایک عہد کی بات چیت کو بھی وُصول کیا کرتے تھے ’’۔(۲۴) ثنا کے اسی علاقے میں ایبرا العشرم نے ایک مسیحی گرجہ گھر بھی تعمیر کروایا جس کو الکالس کہا گیا یہ سینگِ مر مر اور اعلیٰ ترین معیار کی لکڑی کے ساتھ بڑے خوبصورت طریقے سے تعمیر کیا گیا ’’ (۲۵) گرجے میں پرستش نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ محض شہادت تھی کہ عرب میں اسلام سے پہلے مسیحیت آچکی تھی ۔

مکہ کے کعبہ کی پرستش اسلامی دنیا کی باقی تمام عمارات سے زیادہ کی جاتی ہے حج کے دوران حاجی اس کے ذریعے اپنے ایمان کی شہادت دیتے ہیں اپنے جسموں کو اس کی دیوار کے ساتھ جُھکاتے ہیں تاکہ اُن کو اِس پاک ڈھانچے کے وسیلہ سے براکا (زوردار برکت) ملے۔(۲۶)

مکہ میں کعبہ کی یہ متبرک فطرت مزید اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ رُسول اکرم کے ۳۵ سالہ دور میں اس کی تجدید کا مظاہرہ ہوا اور بعد کے ۱۵ سالوں میں اسی پر مذہبی لڑائی بھی ہوئی۔

  اُنھیں اس کے پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کسی قابل شخص کی ضرورت تھی اور خوش قسمتی سے اُنھیں ایک قطبی ترکھان مِل گیا جو مکہ میں یہ کام کر سکے اس طرح اس ماہر ترکھان کی مدد سے اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے سارے ڈھانچے کو گرائیں اور اسے دوبارہ تعمیر کریں۔ ابووہاب جو کہ محمد کے باپ کے ماموں تھے اُنھوں نے کعبہ میں پتھر لا کر اس کی ابتداء کی ۔ اچانک ہی اُن کے ہاتھ سے نکلتے ہی یہ اپنی اصل شکل میں آگیا ابووہاب اب اس کو ایک مقدس جگہ کے طور پہ یاد کرتے ہیں اور اُنھوں نے خبردار کیا ‘‘ اے قریش والوں اس کے اندر کوئی حرام کی کمائی یا کوئی کرائے پر لائی ہوئی کسبی یا سُود خوری کی رقم اور نہ ہی کوئی بُرا کام اور تشدد اس عمارت میں کرنا ’’ (۲۷) اچانک لوگ تذبذب کا شکار ہو گئے اور مندر کو گرانے سے ڈرے اور اس کی ہیبت سے باہر نکلے اس پیش خیمہ کے باوجود مسلمان تاریخ دان ابن اضحاق کے مطابق محمد کی زندگی ایک ایسے شخص کی زندگی تھی جو نہ ڈر تھا:

     الولید بن المغیرہ نے کہا ‘‘ میں تباہ کاری شروع کروں گا ’’ اُس نے کدال اُٹھایا اور یہ کہتے ہوئے اُوپر چڑھ گیا ، اوہ خُدایا مت ڈر اوہ خُدایا ہم وہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو بہترین ہے’’۔ پھر اُس نے کونوں سے اُس حصے کو تباہ کر دیا اُس رات لوگوں نے دیکھا اور کہا کہ اگر اسے کوئی نقصان پہنچا تو ہم اس کا باقی حصہ برباد نہیں کریں گئے اور اسے دوبارہ بحال کر دیں گئے لیکن اگر اُسے کُچھ نہ ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ دیوتا نہ خوش نہیں ہے اور ہم اسے گرا دیں گئے۔ صبح کے وقت الولید دوبارہ اپنے کام پر آیا اور اُنھوں نے اس کو ابرہام کی بنیادوں تک گرا دیا وہ سبز پتھر جو اُونٹ کی کہان کی طرح تھے اُن کو اکٹھے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور خُدا کے لیے ایک نسوانی شکل اختیار کرتے ہوئے جو کہ اصل عربی میں استعمال ہوئی اور جس کو کعبہ میں لاگو کیا گیا اُس کا نام لے کر خطاب کیا گیا اِس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ محمد کے زمانے کے دوران کیسے شہریوں کی زندگی میں ہر روز پتھر کی بدعت کو تعظیم دی جاتی تھی۔

بیت ایل بُت اور مجسمے

عرب کے رہنے والے ابتدائی لوگوں نے اس پرستش کو جہاں کہیں بھی وہ مختلف علاقوں میں گئے جاری رکھا وہ اکثر اپنے خُداؤں کو ساتھ اُٹھا لے جاتے اور اپنے ستانوں میں مزاروں میں اسے نسب کر لیتے عموماً پتھروں درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی اور اِن کے اندر متحرک روحیں بستی تھیں (۲۹) جیسا کہ یونانی اور لاطینی مصنفین نے عرب کی ثقافت کے ساتھ تعلق قائم کیا تو وہ پتھروں کی بدعت کے دور دور پھیلے ہوئے تصور کے ساتھ اچانک ملے اُن کے لیے یہ بات بڑی عجیب تھی کہ لوگ پتھروں کی پوجا کرتے ہیں۔ ‘‘ آیا کہ یہ مکمل طور پر غیر متشکل ہیں یا یہ اُس طرح کے ہیں جس طرح کسی بھی پتھر کی ابتدائی شکل ہوتی ہے’’۔ (۳۰) مسلمان تاریخ دان ابن القالبسی کے مطابق :

   مکہ کے ہر خاندان کے گھر میں پرستش کے لیے ایک بُت ہوتا تھا جب کبھی اُن میں سے کوئی گھر سے باہر کسی سفر کے لیے جاتا تھا تو گھر چھوڑنے سے پہلے اُس کا آخری کام اُس بُت کو اِس اُمید پر چُھونا تھا کہ اُن کا سفر مبارک ہو گا؛ اور اُس کی واپسی پر پہلا کام جو وہ کرتا تھا دوبارہ اس بُت کو شکر گزاری کے طور پر چُھونا تھا کہ وہ مبارکل طور پر واپس لوٹا (۳۱)

   اسی طرح ایک اور مسلمان تاریخ دان ابن الاضحاق بھی اِسی طرح کا بیان دیتے ہیں وہ اپنے بیان میں صرف چُھونے کی بجائے اس بُت کو رگڑنے کا ذکر کرتے ہیں (۳۲)

   محمد نے حجرہ اسود کی روایت میں اِن رسومات کو جاری رکھا جب محمد نے چھڑی کے ساتھ پتھر کو چھوہا اور خُوشی سے کہا ‘‘ اللہ اکبر ’’ وہ اس بات پر ایمان رکھتا تھا کہ اس بُت کے اندر الوہیت ہے اس طرح سے وہ ایک عام عربی ذہنی ڈھانچے کی عکاسی کرتا تھا۔ اسلامی الہیات کے حوالے سے بہت ساری مثالیں اور تضادات اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں مثال کے طور پر کیوں محمد اور اُس کے پیروکار واضح طور پر چاپلوسی اور ادب وآداب کے لیے بتوں سے باتیں کرتے تھے جب کہ دوسروں کو بُت پرستی سے روکتے تھے؟ اسی طرح سے مقدس اور پاک اشیاء کو ان پتھروں کے ساتھ اس حقیقت کے ساتھ جوڑا جاتا تھا کہ کوئی بھی حیض میں مبتلا خاتون ان پاک چیزوں یا پتھروں کو چھو نہیں سکتی تھی (۳۳) اور اس کی مخالفت میں حج کی اسلامی روایت میں اس کو نجس قرار دیا جاتا تھا ابن القالبی نے ابتدائی عرب والوں کی رسومات کے متعلق یہ بیان دیا:

    کہ عرب والے بتوں کی پوجا کے لیے بہت زیادہ جذباتی تھے اُن میں سے کُچھ اپنے آپ کو اُن مندروں کے درمیان میں لے جاتے تھے اور وہ اُن کی پوجا کے مرکز تھے جب کہ دوسرے کسی بھی بُت کو جو اُن کو تقدیس کے لیے دیا جاتا تھا اُس کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتے تھے وہ ژخص جو اپنے لیے اس مندر کو تعمیر کرنے کے قابل نہ ہوتا یا اس بُت کو لینے کے قابل نہ ہوتا تو وہ کسی بھی دوسرے مندر کے سامنے بُت کو کھڑا کر لیتا جس کو وہ ترجیح دیتا تھا اور پھر اسی طرح وہ اُس کے گرد طواف کرتا جیسے کہ وہ پاک گھر گرد طواف کر سکتا تھا عرب والے اِن بتوں کو بیت ایلز (انسب) کہتے تھے جب کبھی یہ پتھر کسی جیتی جاگتی شکل کی صورت میں ہوتا تھا تو اِس کو بُت (انسب) ابو تصور (اوتھن) اُن کا طواف کا یہ عمل سرکم روٹیسن (دیوار) کہلاتا ہے (۳۴)

  مزید برآں یہ بُت اکثر لکڑی سونے یا چاندی کے بنے ہوتے تھے؛ اور مورتیں اکثر پتھر کی بنی ہوئی ہوئی ہوتی یا ایک پتھر کو بطور بُت طواف کے ذریعے پرستش میں لیا جاتا تھا (۳۵) قالبی مزید ان رسومات کو بیان کرتے ہوئے ذکر کرتا ہے:

     جب کبھی ایک مسافر کسی جگہ یا مقام (ایک ایسی جگہ جو رات گزارنے کے لیے ہوتی) پر رُکتا تو وہ اپنے لیے چار پتھروں کو چُنتا تھا ان میں سے سب سے اعلیٰپتھر کو چُن کر اپنے خُدا کے طور پہ رکھ لیتا اور باقی تین کو اپنے کھانا پکانے کے برتن کی معاونت کے لیے اپنی روانگی پر وہ اِن کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اگلے مقاموں پر بھی یہی کُچھ کرتا ہے عرب والے ان بتوں بیت الز (انسب) اور پتھروں کے آگے قُربانیاں بھی گزارنتے تھے باوجود اس کے کہ وہ کعبہ کی شان اور برتری کو بھی چاہتے تھے جس کی زیارت وہ حج کے طور پہ کرتے تھے اُنھوں نے اپنے سفروں کے دوران جو کُچھ کیا ہوتا تھا وہی کُچھ وہ کعبہ میں آکے کرتے کیونکہ اُن کی اِس کے ساتھ عقیدت تھی وہ بھیڑ جو وہ پیش کرتے تھے اور ان بتوں اور بیت الز (انسب) کے سامنے قُربان کرتے تھے اُن کو وہ ذبحہے کہتے تھے اور وہ جگہ جس پر وہ یہ قُربانیاں یا ہدیئے قُربان کرتے تھے اُن کو وہ مذبحے کہتے(۳۶)

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدس بیت ایل دوہرے مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے پہلے نمبر پر یہ مجموعی طور پر خاص الوہیت کو پیش کرتا ہے جو بھی مردوزن اس کو انفرادی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد رکھتا ہے دوسرے نمبر پر یہ ایک مقدس مذبحے کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جو اس کو مذبحے کے طور پر قُربانیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے اسلامی مفکرین اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حجرہ اسود بلاشبہ مقدس قُربان گاہ کے طور پر پوجا جاتا ہے اور برکات کے لیے اس کو پُکارا جاتا ہے تاہم اس کے اُوپر جانوروں کی قُربانیاں حج کے وقت میں گزارنی نہیں جاتیں۔

ابتدائی عرب کی بتوں اور بیت ایل کی پوجا

بہت ساری اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد حج کے ادا کرنے کی روایات سارے ابتدائی عرب میں موجود ہیں ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں : بتوں اور بیت ایل ( انسب ) کے مختلف ہدیوں اور قُربانیوں جو پتھروں کے لیے، طوافوں کے ذریعے اور اسی طرح کی مقدس ثٹانوں کے مزاروں کی رسموں کے ذریعے ادا کی جاتی تھیں۔

     تبالہ میں جو کہ مکہ سے سات روتوں کا سفر ہے اس جگہ پر دھو القلاش کا بُت پڑا ہے یہ سلیکہ کی ایک معدنی شکل کی پہاڑی کا تراشہ ہوا ٹکڑا تھا اور اس کی مشابہت ایسے تھی جیسے اس کے سر پر کوئی تاج ہوتا ہے یہودہ کے سائل کے نزدیک یا اس علاقہ میں ایک اور بُت تھا جو سعد کہلاتا تھا یہ ایک لمبی ثٹان کہلاتا تھا ایک اور قبیلہ جس کا نام دھوز تھا اُنکا ایک اپنا بُت تھا جس کو اُنھوں نے مزار میں رکھا ہوا تھا اور اسے وہ دھوایل کفن کہتے تھے ( اس کی دو ہتھلیاں تھیں )۔ ( ۳۷ ) ‘‘ کِسی آزد قبیلے کا بھی ایک بُت تھا جس کو دھوایل شرع ( دُوس راس ) کہتے تھے۔ (۳۸) یہ نباتین کا بھی ایک بڑا دیوتا تھا ‘‘ اس کی سب سے بڑی تقدیس پیترا میں تھی جہاں ایک بڑا سیاہ رنگ کا پتھر جو کہ ایک شاندار مندر میں تھا پوجا کے لیے وقف کیا ہوا تھا ۔ ’’ ( ۳۹)

ابن الا قالبی نے ایک دوسرے بُت کے بارے میں بیان کیا :

 تئیں قبیلے کے پاس ایک بُت تھا جس کو الفالس کہتے تھے یہ ایک سُرخ رنگ کا تھا اس کی شکل اُن کے پہاڑ کے مرکز آجا میں ایک انسان کی سی تھی جو کہ سیاہ تھا وہ اُس کی پوجا کرتے تھے اس کو ہدیے چڑھاتے تھے اور اس کے سامنے اپنی قُربانیاں ذبح کرتے تھے ( ۴۰)

   مزید شام کی پہاڑیوں کے جنوب میں قُادہ، لکھم، جُودھم، امیلہ اور گتفان کا بھی ایک بُت تھا جس کو الُااوکیسر کہتے تھے وہ اکثر زیارت کے لیے جاتے تھے اور اس بُت کے مزار پر اپنی آمد پر اپنے سر منڈلاتے تھے۔ ایک شخص جس کا نام ذوہیب تھا اُس نے کہا، ‘‘ مجھے الاوکیس کے بیتایل کی قسم جس پر سر منڈوائے جاتے ہیں ’’ ( ۴۱ ) اس بات پر غور کیجیے کہ کیسے یہ دیوتا اُوکیسر ایک بُت کے طور پہ پیش کیا جاتا تھا اور بیت ایل ( انسب ) ایک دوسرا دیوتا تھا یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ پتھر کی شکل زیادہ اہم نہیں تھی ۔ اناز کا بھی ایک بُت تھا جو سوایر تھا جس کو وہ طواف کے لیے استعمال کرتے تھے ایک مسافر جعفر اس بُت کے قریب آیا اور اُس نے اپنا بیان دیا :

سائر کے گرد میرے جوان اُونٹ قُربانی کا خون دیکھ کر چونک گئے اور زیارت کے دُوران اس کے نزدیک خوفزدہ اور بےحس و حرکت اور خاموش کھڑے رہے اس کی غیبی آواز کے انتظار میں ۔ ( ۴۲ )

ابن الاقالبی سے روایت ہے کہ مسافر بدووں نے بہت زیادہ بیت ایلز بنائے جو کہ در حقیقت ابتدائی تباہکاریوں کے ذریعے سے اکٹھے ہوئے پتھروں سے تھے اُن کو گاڑا گیا اُن کے لیے قُربانیاں چڑھائی گئیں اور بطور بلوتا اُن کا طواف کیا گیا انہی پتھروںکے بارے میں وحی کی بنیاد پر دمشق کا یوحنا اپنے بیان کو درست کرتا ہے کہ حجرہ اسود درحقیقت ایفروٹائیڈ کے بُت کا مجسمہ تھا۔

  مندرجہ بالا اقوال کی فہرست ابن الا قالبی کے تاریخی بیانات سے آتی ہے جن کا تعلق عرب مادی ثقافت میں پھیلی ہوئی پتھر کے متعلق بدعتوں سے

ہے :

غنی ہر شام اپنے بیت ایل کے گرد طواف کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں بیت ایلز سے عہد لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوان لڑکے اپنے بیت ایل کے گرد طواف کریں گئے جب تک کہ اُن کے بال سُرمی رنگ کے نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔میں اپنی اُونٹینیوں کے آگے آگے چلوں گا اور میرے بیت ایلز میرے پیچھے ہونگے؛ کیا میرے لوگوں کے خُدا میرے پیچھے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے اپنے بیت ایلز اور پردوں کی قسم کھائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ! آلات اور مقدس بیت ایلوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ میں اور میرا گھوڑا میرا علاقہ میرے بیت ایلز کی طرح خون کی قُربانی سے ملا جائے گا

( ۴۳ )

یہ تمام تاریخی اقوال اس بات کی واضح شہادت پیش کرتے ہیں کہ کیسے ابتدائی عرب میں بتوں کی پوجا کا رُجحان تھا۔

  ایک دوسرے سند جو بتوں کی پوجا یا بدعتوں کے بارے میں عرب کے معاشرے میں موجود تھی کہ وہ اپنے بچوں کے نام اپنے خاندان کے نام ان بتوں کے ناموں پہ رکھتے تھے ۔

مثال کے طور پہ موزینے کے پاس ایک بُت تھا جس کا نام نوہم تھا اور اُس نے اپنے بچوں کا نام اُس بُت کی عزت میں عبد نوہم رکھا اُن کے پاس نوہم کا ایک محافظ بُت بھی تھا جس کا نام کزئی ابن عبد نوہم تھا (۴۴)

 اور یہ بہت اہم بات نظر آتی ہے کہ محمد کے اپنے گھرانے میں قریش کا نام کعبہ کے محافظ کا نام تھا جو کہ اُس کے آباؤ اجداد کے ناموں میں سے مناف نام کا سورج کا دیوتا تھا اور دوسرا نام العضا تھا جو کہ اللہ کی بیٹیوں میں سے ایک ہے خاص طور پہ مزے کی بات یہ ہے کہ محمد کے اپنے باپ کا نام عبداللہ تھا جس کا مطلب ہے ( اللہ کا غلام ) ( ۴۵ )

کیوں اُنھوں نے اپنے نام ان دیوتاؤں کے نام پر رکھے واضح طور پہ یہ ایک مذہب تھا جو ان پتھر کے بتوں کو عزت دیتا تھا ۔

مزید برآں یہ محض ایک تفاق تھا کہ محمد کے باپ نے اسلامی الہیات کا نام اسے دیا یا اللہ محض ۳۶۰ یا اس سے زیادہ بتوں میں سے ایک بُت تھا جو اسلام سے پہلے کعبہ میں موجود تھا۔

باب ۲

اسلام سے پہلے کی متبرک پتھروں کی بدعتیں

ابتدائی دنیا کے پتھر

صرف اسلام سے پہلے عرب والے وہ لوگ نہیں تھے جہنوں نے پتھروں کی پوجا کی ۔ اس بات کی وافر شہادت پُر اثر تشبہیات کے ساتھ ملتی ہے کہ ابتدائی دنیا اور عرب کی رسومات کے درمیان پتھروں کی پوجا کی بدعتیں موجود تھیں ۔ یہاں تک اسلام کے اندر بُتوں کی پرستش یا تعظیم کرنے کا تعلق ہے تو اس معاملہ میں تھوڑا سا ذہن ہر روز دے کر کوئی بھی اس مذہب سے بے شمار مثالیں دے سکتا اور اس طرح کی باتوں کا تقابلی جائزہ لے سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل حصہ پتھروں کی پرستش کی بدعتوں کا بین الاقوامی تصور پیش کرے گا۔

مقدس پتھروں کی تعریفیں

مقدس پتھروں کی تعلیم تمام دنیا میں انسان کی پیدائش ہی سے کی جاتی رہی ہے ۔ وہ قربانیوں، جادوئی تصورات اور الہیات کا کاروبار کرتا رہا خاص قسم کے پتھر تھے ۔

  جو انسان نے اپنی خاص رسومات کے لیے بنائے یا کھڑے کیے یہ یادگاروں کے طور پر ستونوں یا قطاروں کے طور پر کھڑے کئے گئے، اور کائناتی آغاز سے ہی ان کو مختلف نام دیئے گئے۔ ایلیڈ نے اس قسم کے پتھروں کے بار میں بیان کیا۔

استادہ، ماقبل تاریخ کے دور کا پتھر (یہ لمبے، سیدھے کھڑے رہنے والے یادگار پتھر تھے ) ماقبل تاریخ کا سیدھے نصب کیئے۔ پتھروں کا دائرہ (کھڑے پتھروں کا دائرہ): کلاں سنگی دور کی قبر جس میں دو عمومی پتھروں پر ایک لیٹواں پتھر ٹکا ہوا ہوتا ہے ( یہ میز کی طرح یا لمبا پتھر، جو سیدھا لیٹا ہوا فقی پتھروں کا سلسلہ تھا ) اور پتھروں کے ٹیلے ( پتھروں کے ڈھیر ) (۱)

مزیدبرآں، خاص شکل یا خصوصیات کے ساتھ، قدرتی چٹانوں کو مقدس اہمیت کے نام دئیے گئے۔ جو چھوٹے طرح کے پتھر ہوتے اُنہیں گھر میں بدعت کے نشانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور ان کو جادوئی حفاظت کے طور پر جسم پر اُٹھایا یا باندھا جاتا تھا۔ وہ پتھر جو اتنے چھوٹے ہوتے کہ اُن کو کوئی بھی شخص ہر روز اُٹھا سکتا وہ تعویذوں کے طور پر استعمال کئے جاتے (۲)

   اور مزید خاص طور پر؛ اُن کو ستاروں سے ، شہابِ ثاقب سے گرے ہوئے پتھر جان کر اکثر یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ بھلائی یا بُرائی کے لیے آسمانوں سے آئے ہیں۔( ۳ ) یہ مکاشفاتی پتھر تھے جو گرج کے ساتھ زمین پر گرائے گئے تھے۔ اس بات پر ایمان رکھا جاتا تھا کہ نرسنگے کی آواز سے پانی پر تیر سکتے تھے یا جیسے ہی بُرے اعمال کا نام پُکارا جاتا تو یہ زمین کے نیچے ڈوب جاتے تھے۔ مزید برآں، کُچھ لوگ یہ بھی تصور کرتے تھے کہ یہ پتھر خاص الوہیت کے سبب سے وجود میں آئے ہیں، اس لیے ان کو مزاروں کے طور پر ہیکلوں میں یا عزت و احترام کی جگہوں میں جس جگہ یہ دریافت ہوئے رکھا جانا چاہیے (۴)

شمالی اور جنوبی امریکی انڈین کے پتھر

مقدس پتھروں اور چٹانوں کی امریکی انڈیا کے لوگوں نے اپنی رُوحِ جان کے ساتھ بہت زیادہ عزت کی۔ جنوبی امریکی انڈیا کی ابتدائی سے ایکوڈور کے فرعوں نے جوالا مُکھی کے لیے انسانی قربانیاں چڑھائیں اور انڈس کے پتھر کے ہندوستانیوں نے اس پتھر کی عام پوجا کی ( ۵ ) آئرلینڈ کی جھیل ٹی ٹی کا جو یولیونیا۔ پیرو میں ہے دیا پتھر کے دیوتا دریافت ہوئے۔ اس جگہ پر ہندوستانی لوگوں نے سورج کے مندر میں سیاہ پتھر کی پوجا کی ۔ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اور یگانو جو انسانوں کی دیوی ماں ہے، وہ آئی اور سیارے وینس سے اپنے ساتھ پتھر لائی (۶) مزید برآں، واریو جو اورنیوکو کی بڑی طاقت تھا :( ۷ )اس کی بطور ایک پتھر پرستش کی جاتی تھی۔

   اسی طرح، شمالی امریکی ہندوستانیوں نے پتھروں کی پوجا کی مشق کی اور ایلیڈ بیان کرتا ہے:

   ڈکوٹا نے پُرانے پتھروں کو سجایا اور رنگ کیا اور اُن کے لیے دُعا کی اور اُن کے لیے کُتوں کی قُربانیاں چڑھائیں۔ شمالی امریکا کے بڑے انڈین قبائل نے کینڈا کی مِسانی جھیل کے پانیوں کو عبور کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ وہ تصور کرتے تھے کہ اس میں حقیقتاً روحیں آباد ہیں۔ جنوب کی جانب بھی، امریکہ میں یہ یقین رکھا جاتا ہے کہ دیوتا وہاں شخصی طور پر سکونت کرتے ہیں جو پتھروں کی شکل میں ہیں ‘‘ ٹیکساس کیوا میں چھوٹے پتھر کے دیوتا تھے جن کی عبادت وہ سورج کے ناچ کے دوران کرتے تھے۔ نیو میکسکو ٹاؤ میں ایک مقدس پہاڑ جس کا نام ‘‘ پتھر آدم ’’ تھا اس کے قدموں میں تعظیم کی جاتی تھی جو دو جنگ کے دیوتاؤں کو پیش کرتا تھا۔ امریکن انڈیا بستی پبلو میں لوگ ایمان رکھتے تھے کہ شکاریوں کی خوش بختی کا انحصار اُن پتھروں کی ملکیت کے سبب سے بنے جو متجسس شکل کے ہیں ( ۸ ) امریکی انڈین پتھروں کی بدعتیں جو اس پہرایہ میں بیان کی گئیں ہیں ٹھیک اسلام سے پہلے کے پتھروں کی پوجا کی روایات کی مثال پیش کرتی تھیں۔

ابتدائی یونان اور ایشیا مائز کے پتھر

مزید برآں انڈین پتھروں کی بدعتیں ، یونانیوں اور وہ مزید بدعتیں جو مشرک میں تھیں اُن کی بھی روایات موجود ہیں۔ ان پتھر کی بدعتوں کی چند مثالیں مندرجہ ذیل عبارت میں تصدیق کے لیے پیش ہیں۔

رومیوں کا اِنسیلیا

      یہ مادہ شہابِ ثاقب کے لوہے کا مواد تھا جو تقریباً ۷۰۰ بی۔ سی ۔ ای نُوما پمفلیہ کے دورِ حکومت میں تھا۔ سِبلین کی کتابیں نبوت کرتی ہیں کہ اس پتھر کا کھو جانا روم کے گِرنے کا متعارف کرانا تھا ( ۹ )

اُپلو کا پتھر

یہ پتھر ابتدائی یونانیوں کا بہت مقبول مقدس پتھر تھا ۔ یہ سیاہ رنگ کا، مخروطی شکل کا ، بھاری بھر کم پتھر تھا اور یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ شہابِ ثاقب کا ہے اس کو ڈیلفی کی ناف تصور کیا جاتا تھا۔ شاعر یائنڈر ( ۵۲۲۔ ۴۳۸ بی ۔سی ۔ ای ) ایمان رکھتا تھا کہ ‘‘ ڈیلفی کی یہ ناف ٹھیک زمین کے درمیان میں موجود ہے ’’ ( ۱۰ ) یہ تعلق بالکل ٹھیک طور پر اسلامی تصور سے ہے کہ کعبہ زمین پر مرکزی پرستش کا مقام ہے رابراٹ شِیروکس، نے اپنی کتاب ماسٹرز آف دی ورلڈ میں ایولو کے اس پتھر کے بارے میں بیان کیا ہے:

ہیلنیس ، پرائم کا بیٹا اور ایک مشہور یونانی پیشن گوئی کرنے والا، پتھر کی مدد سے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرتا تھا۔ اور یہ پتھر اُس کو ایولو نے دی تھی۔ دیوتاؤں سے پیشن گوئی حاصل کرنے کے لیے ، وہ پتھر کو اپنے سر پر ہلاتا تھا اور منتر پڑھتا تھا ۔ پتھر پھر عجیب، مرجھاتی آواز میں بولتا تھا اور مستقبل کا اعلان کرتا تھا۔ (۱۱)

افسس میں ڈیانا کا پتھر

 روائتی طور پر، دیوی کے مجسمہ اور مندر کے پتھروں کے بارے یہ یقین رکھا جاتا تھا کہ یہ آسمان سے گرائے گئے ہیں۔ ڈیانا۔ آرٹرمِس کی طرف مُنہ کرکے پاجا کی جاتی تھی اور یہ غیر یقینی ہے کہ آیا وہ سیارے وینس یا چاند سے آئی تھیھ۔ ڈیانا کو ایولو کی بہن بھی سمجھا جاتا تھا۔ ‘‘ مصریوں کے گیئون اور بعل ییول ، جزیرہ آدم کے پتھر اور ہر میز کے پتھر (۱۲)

سیبلی کے پتھر

اُس پتھر کا مواد لوہے پر مشتمل ہے جس کے بارے یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ شہابِ ثاقب کا ہے اور اس کا تعلق فریجسنیا کی سیبلی دیوی سے ہے۔ ایلیڈ نے اس پتھر کا ایک تاریخی بیان پیش کیا ہے:

 یہ روم میں ۲۰۴ بی ۔ سی ۔ ای میں پہنچا جب روم کو ہینی بال کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ سیبلی کتابیؓ، جن کو شہابِ ثاقب کے دیکھے جانے کے بعد پرکھا گیا، اور یہ پیشن گوئی کی گئی کہ غیر ملکی فوج اٹلی سے نکالی جا سکتی ہے اگر سیبلی کی علامت ایک شہابِ ثاقب روم میں لایا جائے اور اس طرح ہینی بال کو شکست ہوئی ۔ رومی لوگوں نے اس دیوی کا شکریہ اس طرح ادا کیا کہ اُس نے اُس کے لیے ایک مندر بنوایا اور ہر سال اس کی یاد میں تہوار منانے کے لیے اِدھر آیا کرتے تھے ۔(۱۳)

امیہ کا شام میں پتھر

    یہ پتھر مخروطیشکل اور سیاہ رنگ کا تھا۔ فنیقی لوگ اس کی پوجا کرتے تھے۔ لیکن اس کی الوہیت کی شناخت کو بے یقینی کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا ۔ اس کے بعد، امیہ کے عربی کاہن امیہ کے اس پتھر کو مزار کی شکل دی، سردار کاہن ایلیگابس اس کو روم لے گیا جب وہ شہنشاہ بنا۔

مقدس پہاڑ اور بڑے بڑے پتھر

   جیسے کے پیچھے بیان کیا جا چکا ہے کہ ہندوستانی پتھروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ یہ مُشق اُن کے لیے مخص بلا شرکت غیر مقامی نہیں تھی، سیکنڈیویا ، کے لوگ بھی اِن خاص پہاڑوں اور بڑے پتھروں کی پوجا کرتے تھے۔

             مسیحت سے پہلے کے مجسم سازوں کی شمالی سیکنڈیویا میں تحقیق اور کولاپینیسولا پر تحریر کے دوران لکھا گیا کہ : ۵۰۱ میں سویڈن، ۲۲۹ میں ناروے، ۸۰ سے ۹۰ میں فن لینڈ اور تقریباً ۱۰ میں مغربی روس میں وائٹ سی تھا۔ ’’( ۱۴ ) نمونے کے طور پر ایلیڈ سویڈن میں مختلف بدعتی مقاموں کی ایک فہرست پیش کرتا ہے۔

   ۱۴۹ چوٹیاں اور پہاڑ، ۱۰۸ ڈھلوان دار چٹانیں، غار، سوتے، چشمے، جھیلیں، ۳۰ جزیرے اور چٹانی جزیرے، پینی سولز، چراگاہیں اور ویرانے، لیکن بہت سارے پتھروں یا چٹانوں کی پرستش پر مشتمل تھے۔ جو کہ تقریباً ۲۲۰ ہیں ۔ اس گروہ میں، ۱۰۲ مثالیں قدرتی طور پر ظاہر ہونے والے پتھروں کی ہیں۔ الوہیت کے غیر تراشے بُت، صرف ۲ ایسے ہیں جن میں ناقابل تردید انسانی مداخلت کی صورتیں موجود ہیں۔ عام طور پر ان میں بھاری اکثریت گھِسے ہوئے پتھروں کی ہے۔ (۱۵)

  ‘‘ کُچھ معاملات میں، پرستش کا تعلق، لکڑی کے تنوں، مجسم سازی سے رہا ہے ’’(۱۶) بارسنگھے کی قُربانیوں کی روایات کو بیان کرتے ہوئے جو جسم کے پیچھے کی جاتی تھیں، ایلیڑ نے ۱۶۷۱ میں سویڈن سے تفصیلی رپورٹ پیش کی:

اس کے بعد مجسم ساز قُربان گاہ تک پہنچے انہوں نے اپنی ٹوپی اُتاری، گہرے طور پر جُھکے اور قُربان گاہ کو خون سے داغدار لیا اور موٹے تازے جانور سے ریڑھ کی ہڈی، کھوپڑی اور سپنگوں کا ایک بڑا ڈھیرالوہیت کو پیش کیا گیا، جیسے کہ سینگوں کا پتھر کے پیچھے ڈھیر لگایا گیا (۱۷)

 فن لینڈ میں، ایک بیان دیا گیا۔ ‘‘ ایک چھوٹا پتھر دیوتا جو اُٹھایا جا سکتا تھا وہ مالک کہلایا اس دیوتا کو ہاتھ میں اُٹھا کر مجسمہ ساز اپنی دُعاؤں کو بڑی عقیدت اور ضروریات کی فہرستوں کے ساتھ پیش کرتے تھے ’’ (۱۸) اس بات کو بُرا تصور کیا جاتا تھا اگر کوئی اپنے ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا تھا ۔ پجاری اپنی خواہشات کو بار بار دہراتا تھا ۔ ‘‘ جب تک پتھر اس کے ہوتھ میں ہوتا تو وہ اتنا ہلکا ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھ اُوپر اُٹھا سکتا تھا ’’(۱۹)

سیکنڈینیویا کے بہت سے پہاڑ مقناطیسی، سیاہ، چمکدار، آہنی ہیں جو اپنی وسعت میں کُچھ حد تک آکسیجن کی آمزیش کا عمل کرتے ہیں، اس کے دو پول ہیں جو اس کو قدرتی مقناطیسی عمل کے قابل بناتے ہیں۔ ایسے سلسلے کی فہرست میں جو بہت مشہور جگہیں ہیں اُن میں ڈینی مورا سویڈن، شمالی لیک واٹر، ٹابرگ، اسی جھیل کا جنوبی حصہ، اور یو ٹو، فن لینڈ ’’ (۲۰)    جیسے کہ پہلے بیان کیا گیا ہے، اسلامی روایت کی رپورٹیں کہ آدم زمین کی ناف سے دریافت ہوا اس ساری قدرتی دنیا کے درمیان جو کہ چمکدار سیاہ پہاڑی سلسلے سے گری ہوئی ہے یہ بات بغیر کسی شک کے مکہ کے پہاڑی سلسلے سے تعلق رکھتی ہے۔

   ‘‘زمین کی ناف ’’ کا تصور یا اس کے مرکز کی کہانی جہاں ہر چیز اس کے گرد گھومتی ہے یہ مذاہب کی تاریخ کا ایک خاص خلاصہ ہے مثال کے طور پہ ایپولو کے پتھر کے لیے مزار کے بارے میں یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ یہ یونانیوں کے لیے کائنات کا مرکز ہے استعارراتی طور پر بہت سارے دوسرے لوگ بھی پوری دنیا میں اپنے مزاروں کو کائنات کے مرکز تصور کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں سورہ ۴۲ اُس کی ۷ آیت کو مکہ والے ‘‘ اُمل کرہ ’’ کہتے تھے جس کا مطلب ہے ‘‘ مرکز کی ماں ’’ یا شہروں کہ ماں ’’ مسلمان تاریخ دان اس پیرائے کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ مکہ زمین کا مرکز ہے اور مکہ کے سارے علاقے کا حصہ یعنی ‘‘ مکہ کی ناف ’’ (۲۱)

  محمد کے بارے میں یہ شہادت انس بن ملک کی حدیث میں سے ملتی ہے کہ وہ پتھروں کی پرستش کرتا تھا :

   اُحد کا پہاڑ اللہ کے رسول کی نظر میں آیا تو اُنھوں نے فرمایا، ‘‘ یہ پہاڑ ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں ۔

 اے اللہ ابرہام نے مکہ کو پاک کیا ہے اور میں مکہ اور مدینہ کے درمیان دو پہاڑوں کو پاک کرتا ہوں ’’۔(۲۲)

     یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ محمد حجرہ اسود کے ساتھ ساتھ اور کعبہ میں پتھروں کی پرستش بھی کرتا تھا اور عرب میں دوسرے پتھروں کی بدعات کا مطالعہ بھی موجود تھا جس کا گہرا اثر محمد کی زندگی پر تھا۔

کعبہ اور ابتدائی عرب کے مزار

عرب کے ابتدائی وقتوں میں بے شمار کعبہ موجود تھے اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے مندر یا مزار بھی تھے اور ان کو تواگت کہا جاتا تھا یہ تمام مقدس عمارتیں ان کا ایک خاص محافظ ہوتا تھا اور ان کے مجسموں کو ہدیے اور قربانیاں پیش کیں جاتی تھیں اور مزید ان کے گرد طواف بھی کیا جاتا تھا ۔( ۲۳ ) مثال کے طور پر ہیمار دیوتا کا ایک مندر ثنا میں تھا جس کو ریاپ کہتے تھے اس کے اندر بڑی ذمہداری کے ساتھ قُربانیاں اور ہدیے چڑھائے جاتے تھے ‘‘ ایک رپورٹ کے مطابق وہ اس کے وسیلہ سے ایک عہد کی بات چیت کو بھی وُصول کیا کرتے تھے ’’۔(۲۴) ثنا کے اسی علاقے میں ایبرا العشرم نے ایک مسیحی گرجہ گھر بھی تعمیر کروایا جس کو الکالس کہا گیا یہ سینگِ مر مر اور اعلیٰ ترین معیار کی لکڑی کے ساتھ بڑے خوبصورت طریقے سے تعمیر کیا گیا ’’ (۲۵) گرجے میں پرستش نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ محض شہادت تھی کہ عرب میں اسلام سے پہلے مسیحیت آچکی تھی ۔

مکہ کے کعبہ کی پرستش اسلامی دنیا کی باقی تمام عمارات سے زیادہ کی جاتی ہے حج کے دوران حاجی اس کے ذریعے اپنے ایمان کی شہادت دیتے ہیں اپنے جسموں کو اس کی دیوار کے ساتھ جُھکاتے ہیں تاکہ اُن کو اِس پاک ڈھانچے کے وسیلہ سے براکا (زوردار برکت) ملے۔(۲۶)

مکہ میں کعبہ کی یہ متبرک فطرت مزید اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ رُسول اکرم کے ۳۵ سالہ دور میں اس کی تجدید کا مظاہرہ ہوا اور بعد کے ۱۵ سالوں میں اسی پر مذہبی لڑائی بھی ہوئی۔

  اُنھیں اس کے پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کسی قابل شخص کی ضرورت تھی اور خوش قسمتی سے اُنھیں ایک قطبی ترکھان مِل گیا جو مکہ میں یہ کام کر سکے اس طرح اس ماہر ترکھان کی مدد سے اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے سارے ڈھانچے کو گرائیں اور اسے دوبارہ تعمیر کریں۔ ابووہاب جو کہ محمد کے باپ کے ماموں تھے اُنھوں نے کعبہ میں پتھر لا کر اس کی ابتداء کی ۔ اچانک ہی اُن کے ہاتھ سے نکلتے ہی یہ اپنی اصل شکل میں آگیا ابووہاب اب اس کو ایک مقدس جگہ کے طور پہ یاد کرتے ہیں اور اُنھوں نے خبردار کیا ‘‘ اے قریش والوں اس کے اندر کوئی حرام کی کمائی یا کوئی کرائے پر لائی ہوئی کسبی یا سُود خوری کی رقم اور نہ ہی کوئی بُرا کام اور تشدد اس عمارت میں کرنا ’’ (۲۷) اچانک لوگ تذبذب کا شکار ہو گئے اور مندر کو گرانے سے ڈرے اور اس کی ہیبت سے باہر نکلے اس پیش خیمہ کے باوجود مسلمان تاریخ دان ابن اضحاق کے مطابق محمد کی زندگی ایک ایسے شخص کی زندگی تھی جو نہ ڈر تھا:

     الولید بن المغیرہ نے کہا ‘‘ میں تباہ کاری شروع کروں گا ’’ اُس نے کدال اُٹھایا اور یہ کہتے ہوئے اُوپر چڑھ گیا ، اوہ خُدایا مت ڈر اوہ خُدایا ہم وہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو بہترین ہے’’۔ پھر اُس نے کونوں سے اُس حصے کو تباہ کر دیا اُس رات لوگوں نے دیکھا اور کہا کہ اگر اسے کوئی نقصان پہنچا تو ہم اس کا باقی حصہ برباد نہیں کریں گئے اور اسے دوبارہ بحال کر دیں گئے لیکن اگر اُسے کُچھ نہ ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ دیوتا نہ خوش نہیں ہے اور ہم اسے گرا دیں گئے۔ صبح کے وقت الولید دوبارہ اپنے کام پر آیا اور اُنھوں نے اس کو ابرہام کی بنیادوں تک گرا دیا وہ سبز پتھر جو اُونٹ کی کہان کی طرح تھے اُن کو اکٹھے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور خُدا کے لیے ایک نسوانی شکل اختیار کرتے ہوئے جو کہ اصل عربی میں استعمال ہوئی اور جس کو کعبہ میں لاگو کیا گیا اُس کا نام لے کر خطاب کیا گیا اِس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ محمد کے زمانے کے دوران کیسے شہریوں کی زندگی میں ہر روز پتھر کی بدعت کو تعظیم دی جاتی تھی۔

بیت ایل بُت اور مجسمے

عرب کے رہنے والے ابتدائی لوگوں نے اس پرستش کو جہاں کہیں بھی وہ مختلف علاقوں میں گئے جاری رکھا وہ اکثر اپنے خُداؤں کو ساتھ اُٹھا لے جاتے اور اپنے ستانوں میں مزاروں میں اسے نسب کر لیتے عموماً پتھروں درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی اور اِن کے اندر متحرک روحیں بستی تھیں (۲۹) جیسا کہ یونانی اور لاطینی مصنفین نے عرب کی ثقافت کے ساتھ تعلق قائم کیا تو وہ پتھروں کی بدعت کے دور دور پھیلے ہوئے تصور کے ساتھ اچانک ملے اُن کے لیے یہ بات بڑی عجیب تھی کہ لوگ پتھروں کی پوجا کرتے ہیں۔ ‘‘ آیا کہ یہ مکمل طور پر غیر متشکل ہیں یا یہ اُس طرح کے ہیں جس طرح کسی بھی پتھر کی ابتدائی شکل ہوتی ہے’’۔ (۳۰) مسلمان تاریخ دان ابن القالبسی کے مطابق :

   مکہ کے ہر خاندان کے گھر میں پرستش کے لیے ایک بُت ہوتا تھا جب کبھی اُن میں سے کوئی گھر سے باہر کسی سفر کے لیے جاتا تھا تو گھر چھوڑنے سے پہلے اُس کا آخری کام اُس بُت کو اِس اُمید پر چُھونا تھا کہ اُن کا سفر مبارک ہو گا؛ اور اُس کی واپسی پر پہلا کام جو وہ کرتا تھا دوبارہ اس بُت کو شکر گزاری کے طور پر چُھونا تھا کہ وہ مبارکل طور پر واپس لوٹا (۳۱)

   اسی طرح ایک اور مسلمان تاریخ دان ابن الاضحاق بھی اِسی طرح کا بیان دیتے ہیں وہ اپنے بیان میں صرف چُھونے کی بجائے اس بُت کو رگڑنے کا ذکر کرتے ہیں (۳۲)

   محمد نے حجرہ اسود کی روایت میں اِن رسومات کو جاری رکھا جب محمد نے چھڑی کے ساتھ پتھر کو چھوہا اور خُوشی سے کہا ‘‘ اللہ اکبر ’’ وہ اس بات پر ایمان رکھتا تھا کہ اس بُت کے اندر الوہیت ہے اس طرح سے وہ ایک عام عربی ذہنی ڈھانچے کی عکاسی کرتا تھا۔ اسلامی الہیات کے حوالے سے بہت ساری مثالیں اور تضادات اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں مثال کے طور پر کیوں محمد اور اُس کے پیروکار واضح طور پر چاپلوسی اور ادب وآداب کے لیے بتوں سے باتیں کرتے تھے جب کہ دوسروں کو بُت پرستی سے روکتے تھے؟ اسی طرح سے مقدس اور پاک اشیاء کو ان پتھروں کے ساتھ اس حقیقت کے ساتھ جوڑا جاتا تھا کہ کوئی بھی حیض میں مبتلا خاتون ان پاک چیزوں یا پتھروں کو چھو نہیں سکتی تھی (۳۳) اور اس کی مخالفت میں حج کی اسلامی روایت میں اس کو نجس قرار دیا جاتا تھا ابن القالبی نے ابتدائی عرب والوں کی رسومات کے متعلق یہ بیان دیا:

    کہ عرب والے بتوں کی پوجا کے لیے بہت زیادہ جذباتی تھے اُن میں سے کُچھ اپنے آپ کو اُن مندروں کے درمیان میں لے جاتے تھے اور وہ اُن کی پوجا کے مرکز تھے جب کہ دوسرے کسی بھی بُت کو جو اُن کو تقدیس کے لیے دیا جاتا تھا اُس کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتے تھے وہ ژخص جو اپنے لیے اس مندر کو تعمیر کرنے کے قابل نہ ہوتا یا اس بُت کو لینے کے قابل نہ ہوتا تو وہ کسی بھی دوسرے مندر کے سامنے بُت کو کھڑا کر لیتا جس کو وہ ترجیح دیتا تھا اور پھر اسی طرح وہ اُس کے گرد طواف کرتا جیسے کہ وہ پاک گھر گرد طواف کر سکتا تھا عرب والے اِن بتوں کو بیت ایلز (انسب) کہتے تھے جب کبھی یہ پتھر کسی جیتی جاگتی شکل کی صورت میں ہوتا تھا تو اِس کو بُت (انسب) ابو تصور (اوتھن) اُن کا طواف کا یہ عمل سرکم روٹیسن (دیوار) کہلاتا ہے (۳۴)

  مزید برآں یہ بُت اکثر لکڑی سونے یا چاندی کے بنے ہوتے تھے؛ اور مورتیں اکثر پتھر کی بنی ہوئی ہوئی ہوتی یا ایک پتھر کو بطور بُت طواف کے ذریعے پرستش میں لیا جاتا تھا (۳۵) قالبی مزید ان رسومات کو بیان کرتے ہوئے ذکر کرتا ہے:

     جب کبھی ایک مسافر کسی جگہ یا مقام (ایک ایسی جگہ جو رات گزارنے کے لیے ہوتی) پر رُکتا تو وہ اپنے لیے چار پتھروں کو چُنتا تھا ان میں سے سب سے اعلیٰپتھر کو چُن کر اپنے خُدا کے طور پہ رکھ لیتا اور باقی تین کو اپنے کھانا پکانے کے برتن کی معاونت کے لیے اپنی روانگی پر وہ اِن کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اگلے مقاموں پر بھی یہی کُچھ کرتا ہے عرب والے ان بتوں بیت الز (انسب) اور پتھروں کے آگے قُربانیاں بھی گزارنتے تھے باوجود اس کے کہ وہ کعبہ کی شان اور برتری کو بھی چاہتے تھے جس کی زیارت وہ حج کے طور پہ کرتے تھے اُنھوں نے اپنے سفروں کے دوران جو کُچھ کیا ہوتا تھا وہی کُچھ وہ کعبہ میں آکے کرتے کیونکہ اُن کی اِس کے ساتھ عقیدت تھی وہ بھیڑ جو وہ پیش کرتے تھے اور ان بتوں اور بیت الز (انسب) کے سامنے قُربان کرتے تھے اُن کو وہ ذبحہے کہتے تھے اور وہ جگہ جس پر وہ یہ قُربانیاں یا ہدیئے قُربان کرتے تھے اُن کو وہ مذبحے کہتے(۳۶)

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدس بیت ایل دوہرے مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے پہلے نمبر پر یہ مجموعی طور پر خاص الوہیت کو پیش کرتا ہے جو بھی مردوزن اس کو انفرادی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد رکھتا ہے دوسرے نمبر پر یہ ایک مقدس مذبحے کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جو اس کو مذبحے کے طور پر قُربانیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے اسلامی مفکرین اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حجرہ اسود بلاشبہ مقدس قُربان گاہ کے طور پر پوجا جاتا ہے اور برکات کے لیے اس کو پُکارا جاتا ہے تاہم اس کے اُوپر جانوروں کی قُربانیاں حج کے وقت میں گزارنی نہیں جاتیں۔

ابتدائی عرب کی بتوں اور بیت ایل کی پوجا

بہت ساری اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد حج کے ادا کرنے کی روایات سارے ابتدائی عرب میں موجود ہیں ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں : بتوں اور بیت ایل ( انسب ) کے مختلف ہدیوں اور قُربانیوں جو پتھروں کے لیے، طوافوں کے ذریعے اور اسی طرح کی مقدس ثٹانوں کے مزاروں کی رسموں کے ذریعے ادا کی جاتی تھیں۔

     تبالہ میں جو کہ مکہ سے سات روتوں کا سفر ہے اس جگہ پر دھو القلاش کا بُت پڑا ہے یہ سلیکہ کی ایک معدنی شکل کی پہاڑی کا تراشہ ہوا ٹکڑا تھا اور اس کی مشابہت ایسے تھی جیسے اس کے سر پر کوئی تاج ہوتا ہے یہودہ کے سائل کے نزدیک یا اس علاقہ میں ایک اور بُت تھا جو سعد کہلاتا تھا یہ ایک لمبی ثٹان کہلاتا تھا ایک اور قبیلہ جس کا نام دھوز تھا اُنکا ایک اپنا بُت تھا جس کو اُنھوں نے مزار میں رکھا ہوا تھا اور اسے وہ دھوایل کفن کہتے تھے ( اس کی دو ہتھلیاں تھیں )۔ ( ۳۷ ) ‘‘ کِسی آزد قبیلے کا بھی ایک بُت تھا جس کو دھوایل شرع ( دُوس راس ) کہتے تھے۔ (۳۸) یہ نباتین کا بھی ایک بڑا دیوتا تھا ‘‘ اس کی سب سے بڑی تقدیس پیترا میں تھی جہاں ایک بڑا سیاہ رنگ کا پتھر جو کہ ایک شاندار مندر میں تھا پوجا کے لیے وقف کیا ہوا تھا ۔ ’’ ( ۳۹)

ابن الا قالبی نے ایک دوسرے بُت کے بارے میں بیان کیا :

 تئیں قبیلے کے پاس ایک بُت تھا جس کو الفالس کہتے تھے یہ ایک سُرخ رنگ کا تھا اس کی شکل اُن کے پہاڑ کے مرکز آجا میں ایک انسان کی سی تھی جو کہ سیاہ تھا وہ اُس کی پوجا کرتے تھے اس کو ہدیے چڑھاتے تھے اور اس کے سامنے اپنی قُربانیاں ذبح کرتے تھے ( ۴۰)

   مزید شام کی پہاڑیوں کے جنوب میں قُادہ، لکھم، جُودھم، امیلہ اور گتفان کا بھی ایک بُت تھا جس کو الُااوکیسر کہتے تھے وہ اکثر زیارت کے لیے جاتے تھے اور اس بُت کے مزار پر اپنی آمد پر اپنے سر منڈلاتے تھے۔ ایک شخص جس کا نام ذوہیب تھا اُس نے کہا، ‘‘ مجھے الاوکیس کے بیتایل کی قسم جس پر سر منڈوائے جاتے ہیں ’’ ( ۴۱ ) اس بات پر غور کیجیے کہ کیسے یہ دیوتا اُوکیسر ایک بُت کے طور پہ پیش کیا جاتا تھا اور بیت ایل ( انسب ) ایک دوسرا دیوتا تھا یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ پتھر کی شکل زیادہ اہم نہیں تھی ۔ اناز کا بھی ایک بُت تھا جو سوایر تھا جس کو وہ طواف کے لیے استعمال کرتے تھے ایک مسافر جعفر اس بُت کے قریب آیا اور اُس نے اپنا بیان دیا :

سائر کے گرد میرے جوان اُونٹ قُربانی کا خون دیکھ کر چونک گئے اور زیارت کے دُوران اس کے نزدیک خوفزدہ اور بےحس و حرکت اور خاموش کھڑے رہے اس کی غیبی آواز کے انتظار میں ۔ ( ۴۲ )

ابن الاقالبی سے روایت ہے کہ مسافر بدووں نے بہت زیادہ بیت ایلز بنائے جو کہ در حقیقت ابتدائی تباہکاریوں کے ذریعے سے اکٹھے ہوئے پتھروں سے تھے اُن کو گاڑا گیا اُن کے لیے قُربانیاں چڑھائی گئیں اور بطور بلوتا اُن کا طواف کیا گیا انہی پتھروںکے بارے میں وحی کی بنیاد پر دمشق کا یوحنا اپنے بیان کو درست کرتا ہے کہ حجرہ اسود درحقیقت ایفروٹائیڈ کے بُت کا مجسمہ تھا۔

  مندرجہ بالا اقوال کی فہرست ابن الا قالبی کے تاریخی بیانات سے آتی ہے جن کا تعلق عرب مادی ثقافت میں پھیلی ہوئی پتھر کے متعلق بدعتوں سے

ہے :

غنی ہر شام اپنے بیت ایل کے گرد طواف کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں بیت ایلز سے عہد لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوان لڑکے اپنے بیت ایل کے گرد طواف کریں گئے جب تک کہ اُن کے بال سُرمی رنگ کے نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔میں اپنی اُونٹینیوں کے آگے آگے چلوں گا اور میرے بیت ایلز میرے پیچھے ہونگے؛ کیا میرے لوگوں کے خُدا میرے پیچھے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے اپنے بیت ایلز اور پردوں کی قسم کھائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ! آلات اور مقدس بیت ایلوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ میں اور میرا گھوڑا میرا علاقہ میرے بیت ایلز کی طرح خون کی قُربانی سے ملا جائے گا

( ۴۳ )

یہ تمام تاریخی اقوال اس بات کی واضح شہادت پیش کرتے ہیں کہ کیسے ابتدائی عرب میں بتوں کی پوجا کا رُجحان تھا۔

  ایک دوسرے سند جو بتوں کی پوجا یا بدعتوں کے بارے میں عرب کے معاشرے میں موجود تھی کہ وہ اپنے بچوں کے نام اپنے خاندان کے نام ان بتوں کے ناموں پہ رکھتے تھے ۔

مثال کے طور پہ موزینے کے پاس ایک بُت تھا جس کا نام نوہم تھا اور اُس نے اپنے بچوں کا نام اُس بُت کی عزت میں عبد نوہم رکھا اُن کے پاس نوہم کا ایک محافظ بُت بھی تھا جس کا نام کزئی ابن عبد نوہم تھا (۴۴)

 اور یہ بہت اہم بات نظر آتی ہے کہ محمد کے اپنے گھرانے میں قریش کا نام کعبہ کے محافظ کا نام تھا جو کہ اُس کے آباؤ اجداد کے ناموں میں سے مناف نام کا سورج کا دیوتا تھا اور دوسرا نام العضا تھا جو کہ اللہ کی بیٹیوں میں سے ایک ہے خاص طور پہ مزے کی بات یہ ہے کہ محمد کے اپنے باپ کا نام عبداللہ تھا جس کا مطلب ہے ( اللہ کا غلام ) ( ۴۵ )

کیوں اُنھوں نے اپنے نام ان دیوتاؤں کے نام پر رکھے واضح طور پہ یہ ایک مذہب تھا جو ان پتھر کے بتوں کو عزت دیتا تھا ۔

مزید برآں یہ محض ایک تفاق تھا کہ محمد کے باپ نے اسلامی الہیات کا نام اسے دیا یا اللہ محض ۳۶۰ یا اس سے زیادہ بتوں میں سے ایک بُت تھا جو اسلام سے پہلے کعبہ میں موجود تھا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

باب سوم

مادہ پرستی کے لیے محمد کی ممانعت

اللہ کی بیٹییاں : مِنا ، ال لات اور ال عُضا

مِنا ( منات )

مِنا ( مِنات ) ایک بُت تھا جِس کو تمام اہل عرب بہت قدیم سے پُوجا کرتے تھے ؛ وہ اکثر اپنے بچوں کے نام عبدمِنا اور زید مِنا اس کو عزت دینے کے لیے رکھتے تھے دیوی مِنا کے سب سے زیادہ عقیدت پر زور دینے والے لوگ مُشلل کے علاقہ میں رہتے تھے جو کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان کو دات میں تھا ابن ِال قالبی سے روایت ہے:

خاص طور پر اُوذ اور خضراز والے مدینہ اور مکہ کے باسیوں کی طرح مِنا کو پوجا کے لیے استعمال کرتے تھے اُس کے آگے قُربانیاں چڑھاتے تھے اور اُس کے سامنے اپنے ہدیے لاتے تھے ۔ (۱)

    مزید برآں ابنِ ال قالبی بیان کرتے ہیں کہ محمد کا اپنا قبیلہ قُریش خود بھی اپنے بڑے دیوتاؤں میں سے ایک یعنی مِنا کی پوجا کرتا تھا ۔ ( ۲ ) ابنِ الاقالبی اِسی بیان کو جاری رکھتے ہیں:

حجکے آخر پر ، جب وہ گھر واپس لوٹنے کے قریب تھے تو اُنھوں نے اُس جگہ پر جہاں مَنا کو گاڑھا گیا تھا اپنے سروں کو منڈوایا اور وہاں کُچھ دیر ٹھہرے اُن کا حج اُس وقت تک پورا نہیں ہوتا جب تک کہ وہ مِنا کا دورہ نہیں کرتے تھے ۔(۳)

    اِسی کی بنیاد پر ایک حدیث میں محمد نے اِس روایت کو جاری رکھا اِس کے بعد عمرہ ( مختصر حج ) وہ مکہ میں آیا اور اپنا سر منڈوایا۔

  عام طور پر مِنا کو قسمت کی دیوی مانا جاتا ہے بطور                                                                                ۔۔۔تاریکی کے چاند کے بہت ساری قربان گاہیں اِس کے لیے وقف ہیں جن کو تعمیر کے سامان پتھروں اور دوسری چیزوں سے تعمیر کیا جاتا ہے اور اکثر اِن پر مینڈھے اور بیل وغیرہ کو ذبح کیا جاتا ہے اور یہ قُربانیاں ابتدائی چاندوں یعنی پہلی رات کے چاندوں کے ساتھ ادا کی جاتی ہیں ۔ (۴)یہ چیز اس بات کی علامت ہے کہ جانور چاند دیوتا قُربانی کے لیے پیش کیے گئے ہیں ۔

   یہ تمام قسمت کے حوالے سے ہر طرف پھیلے ہوئے تصورات محمد کی نفسیات کے ساتھ جوڑے جاتے ہیں جو کہ براہ راست اسلام سے پہلے کی مادیت پرستی سے آئے ہیں ۔ خاص طور پر دیوی مِنات کی بقا کے بارے میں جو کہ اِس بات کی گواہی ہے کہ یہ ابتدائی عرب میں لوگوں کے ذہنوں کے اندر قسمت کی دیوی تھی۔ قسمت یا مقدر کے متعلق ایک بنیادی عقیدہ اسلامی الہیات کے ایمانی نظام کی جڑ کے طور پہ موجود ہے۔

آل لات

ابن ال قالبی کے بیان کے مطابق اللہ کی بیٹیوں میں ایک اور نام نہاد بیٹی ہے:

پھر اُنھوں نے آلات کو اپنی دیوی کے طور پر اختیار کیا ۔ آلات طائف میں گاڑھی گئی اور مِنا سے زیادہ جدید ہے یہ ایک مربعی شکل کا پتھر تھا جِس کو یہودی استعمال کرتے تھے ۔ جِس کو یہودی اپنا سازوسامان تیار کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے اِس دیوی پر تھا کف کے رہنے والے بنو اعتاب ابنِ مالک کا قبضہ تھا جِس نے اِس کے گھر کیتعمیر کروائی تھی اہل قریش بھی تمام عرب والوں کی طرح ال لات کی پوجا کرنا چاہتے تھے اُنھوں نے بھی اپنے بچوں کے نام اِس کے نام پر رکھے وہ اُن کو زید آلات اور طیم آلات کہتے تھے یہ دیوی آج مکہ ۔۔۔۔ زمانے میں الاطائف کی مسجد کے مینار کے بائیں ہاتھ کھڑی ہے وہ ایک بُت ہے جس کے لیے خُدا نے ذکر کیا ‘‘جب اُس نے یہ کہا کیا تو نے ال لات اور اُعضا کو دیکھا ہے ’’ ؟ (۵)

ال ُعضا

   یہ یقین کیا جاتا ہے کہ عرب والوں کے لیے ال لات یا مِنا سے زیادہ جدید ال عُضا ہے اور عرب والوں نے ال ُعضا کے نام پر بھی اپنے بچوں کے نام رکھے ابن ال قالبی نے ال عُضا کے بدعت کو بیان کیا :

   اِس کا بُت نخلتاً شامہ کی وادی میں جو کہ حوُرد کہلاتی ہے میں واقع ہے جو کہ الاگھمیر کے ساتھ ساتھ مکہ کی سیدھی سڑک سے الاایراغ کی طرف جاتی ہے جو کہ دھت ایرک کے اُوپر اور الابوُستان سے نومیل دور ہے اِس کے اُوپر اس کا ایک گھر بنایا گیا ہے جس کو بُھس کہا جاتا ہے جس پر لوگ اپنی غائبی گفتگو کو وصول کرتے ہیں۔ عرب والوں کے ساتھ ساتھ قریش والے بھی اِس کے ناموں پر اپنے بچوں کے نام عبدل عُضا  رکھتے تھے ۔

مزید برآں ال ُعضا قریش کا سب سے بڑا بُت تھا وہ اِس بت کو سفر کا خُدا کہتے تھے اِس کو تھفے چڑھاتے تھے اور قُربانیوں کے ذریعے اِس کی خوشنودی حاصل کرتے تھے ۔ دوسرے عرب والوں کے ساتھ ساتھ قریش والے بھی جو مکہ میں آباد تھے وہ کسی دوسرے بُت کو ال عُضاسے زیادہ قُربانی نہیں دیتے تھے اِس کے بعد وہ ال لات اور مِنا کی پوجا کرتے تھے تاہم ال عُضانے قریش والوں سے اپنی زیادتوں اور قُربانیوں کی وجہ سے بہت عزت پائی اسی بات کی وجہ سے میں ایمان رکھتا ہوں کہ وہ اس بُت کے زیادہ قریب تھے ۔ (۶)

  پہلے بھی جیسے بیان کیا گیا ہے کہ محمد کے اپنے آباؤ اجداد میں سے جو قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے اُنھوں نے اپنا نام عبدل عُضارکھا یہ اُسی خُدا کی پوجا کرنے کے زیرِ اثر تھا ۔

ابتدائی موحدین

بہت ساری مختلف صورتوں میں قرآن نے ( حینف ) کی اصطلاح کو استعمال کیا جس کا ترجمہ ( مومن ) یا ( مسلمان ) ہے بیان کرتا ہے ، ‘‘ ابراہام نہ ہی یہودی تھا نہ ہی مسیحی بلکہ ایک مومن تھا اور اللہ کی مرضی کے سامنے جُھکتا تھا ( جو کہ اسلام ہے ) اور اُس نے اِن بتوں کو اللہ کے ساتھ نہیں جوڑا ۔ ’’

 ( قرآن ۳:۶۷ ) پیٹرز ایک خاص تعریف جس کی بنیاد اسلامی الہیاتی پر ہے پیش کرتا ہے۔

  مسلمان مفکرین نے حینف کا لفْط لیا اور اسی سے اسم مصدر حنیفہ کو دو طرح سے پیش کیا: پہلے اسلام کی تاریخ کے لیے مترادف کے طور پہ پیش کیا جِس کے مطابق یہ مذہب محمد پر نازل ہوا اور مسمانوں نے اس پر عمل کیا اور دوسرے نمبر پر اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کا مطلب ہے کہ یہ قدرتی موحدین کی شکل ہے جس کا آغاز ابراہام نے بحیثیت سردار کیا اگرچہ پورے طور پر نہیں اور بعد از اِس اسلامی روایت کو یاد کیا گیا اور مکہ میں ایسے موحدین نے اسلام سے پہلے بھی اس وحی کا فائدہ اُٹھایا۔ (۷)

   محمد کی نبوت کے بلاوے سے قبل بہت سارے حنیف موجود تھے ایک مسلمان تاریخ دان ابنِ اضحاق محمد کی زندگی میں بیان کرتے ہیں جس کا تعلق ان ابتدائی موحدین کے ساتھ ہے: ایک دن جب روزے کے دن اہل قریش کا اکٹھ ہوا اُن بتوں کی پوجا اور طواف کے لیے جن کے آگے وہ ہدیے چڑھاتے اور قُربانیاں دیتے تھے اور اس کو وہ اپنی سالانہ عید کے طور پہ بھی مناتے تھے تو چار آدمی خاموشی کے ساتھ اُن سے الگ ہو گئے اور اِس بات پر متفق ہو گئے کہ اُنھوں نے اپنی ایک علیدہ کونسل بنانی ہے ۔ (۸)

  اِن چار آدمیوں کے نام یہ ہیں ۔ (۱ ) ورقا بن نوفل ۔( ۲) عبید اللہ بِن حبیش ( ۳ ) عثمان بن الا حویرک اور ( ۴ ) زید بن امر ابن ال اضحاق اِس بیان کو جاری رکھتے ہیں : ان لوگوں کی رائے تھی کہ اہل قریش نے اپنے باپ ابراہام کے مذہب کو بگاڑ دیا ہے اور وہ پتھر جو وہ اُٹھائے پھرتے ہیں نہ تو اِن کی سُن سکتے ہیں نہ اِن کو دیکھتے ہیں نہ اِن کو ضرر پہنچا سکتے ہیں اور نہ اِن کی مدد کر سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو ضرور ایک مذہب جانو ، اُنھوں نے کہا تمہارے پاس کُچھ بھی نہیں پس وہ زمین پر پھیل گئے اور ابراہام کے مذہب کو حنیفہ کے طور پہ استعمال کیا ۔ (۹)

جب سے اہل قریش کعبہ کے رکھوالے بنے کیا تب سے حجرہ اسود کو ترجیح دی گئی ؟ اس گواہی کا دینا کافی مشکل ہے کیونکہ اُس وقت میں کعبہ کے اندر ۳۶۰ سے زاید بُت موجود تھے جب کہ یہ چار مرد ہر قسم کی بُت پرستی کی ممانعت کرتے تھے ۔

بہت سارے سوالات اُٹھنے چاہیے کیوں بُت پرستی کی تمام شکلیں ختم نہیں کی گئی ؟ کیوں حجرہ اسود کو گھر کی حیثیت دی گئی ؟ کیا حجرہ اسود ماضی کے دوسرے بتوں کے ساتھ پوجا جاتا تھا ؟ اس آخری سوال کا جواب واضح طور پر ہاں میں ہے پھر کیوں اسلامی معاشرے نے آج بھی مادہ پرستی کی اس روایت کو کہ وہ حجرہ اسود کو پوجنا جاری رکھا ہوا ہے ؟

   یہ پہلا حنیف جس کا تزکرہ اُوپر کیا گیا یعنی ورقا بِن نوفل یہ محمد کی پہلی بیوی خدیجہ کا چچا زاد تھا وہ ایک بوڑھا آدمی تھا اس نے خود کو مسحیت کے ساتھ جُوڑے رکھا اور اس کے صحائف کا پورے طور پر مطالعہ کرتا تھا ۔ (۱۰)عائشہ جو کہ محمد کی ایک اور بیوی تھی اُس نے بیان کیا :

  ‘‘ ورقا جو کہ اسلام کے پہلے کے دور میں ایک مسیحی بنا اور اُس نے اپنی تحریریں عبرانی حروف میں لکھی اُس نے اناجیل کو عبرانی میں لکھا جتنا زیادہ وہ اللہ کی مرضی سے لکھ سکتا تھا ’’۔ (۱۱)

    عائشہ نے ایک اور حدیث میں ایک اور بیان دیا ۔ ورقا جو کہ اسلام سے پہلے کے دور میں مسیحی ہوا اُس نے اناجیل کو عربی میں لکھا ۔۔۔۔’’۔ (۱۲)

ان احادیث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ وہ بائبل کے عربی مترجمین میں سے ایک تھا ۔ ابنِ اضحاق دوسرے حینف کا بیان بتاتے ہیں ۔

   عبید اللہ نے اسلام کے آنے تک تحقیق جاری رکھی ؛ پھر وہ حبشہ مسمانوں کے ساتھ اپنی بیوی کو لیکر جو کہ ایک مسمان تھی ہجرت کر گیا اُس کا نام اُمہ حبیبہ بن اُبو سفیان تھا جب وہ وہاں آیا تو اُس نے مسحیت کو قبول کیا ، اسلام سے الگ ہوا اور حبشہ میں ایک مسیحی کے طور پہ مر گیا ۔ محمد بن جعفر بن الذبیر نے مجھے بتایا کہ جب وہ ایک مسحیی بنا تو جب عبیداللہ نبی کے ساتھیوں کے قریب سے گذرا جو کہتے تھے ‘‘ ہم واضح طور پہ دیکھتے ہیں لیکن تمہاری آنکھیں صرف آدھی کُھلی ہیں ’’ ہم دیکھتے ہیں کہ تم پھر بھی دیکھنے کی کوشش کر رہے ہو ۔ ’’ اُس نے لفظ ثاثہ استعمال کیا کیونکہ جب ایک کتے کا بچہ اپنی آنکھیں دیکھنے کے لیے کھولنے کی کوشش کرتا ہے تو اُس کو صرف آدھا نظر آتا ہے دوسرا لفظ فقہ ہے جس کا مطلب آنکھیں کھولنا ہے اُس کی موت کے بعد رُسول نے اُس کی بیوی اُمہ حبیبہ سے شادی کر لی۔ (۱۳)

ایک تیسرا حنیف عثمان تھا جو کہ بیذانتن کے حکمران کے پاس سفر کے لیے گیا وہ ایک مسیحی بن گیا اور اُس کو وہاں ایک اعلیٰ عہدہ ملا ۔ اضحاق چوتھے حینف زید کی زندگی کے بارے میں جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے:

  زید بن امر ویسے ہی رہا جیسے وہ تھا : اُس نے نہ تو یہودیت کو قبول کیا اور نہ ہی مسیحت کو اُس نے اپنے لوگوں کے مذہب سے منع کیا اور بتوں ، جانوروں  کی پوجا اور بتوں کے آگے خون بہانے اور ہدیے دینے سے پرہیز کیا اُس شیر خوار بیٹیوں کو مارنے سے منع کیا اور اُنھیں کہا کہ وہ ابراہام کے خُدا کی پوجا کرتا ہے اور اُس نے اپنے لوگوں کے کاموں کو کھلے عام منع کیا ۔۔۔ اب زید سادہ طور پہ یہودیت اور مسیحیت کو مانتا تھا لیکن وہ اِن کے ساتھ مطمین نہیں تھا ۔ وہ ایک دفعہ مکہ کی تعمیر میں آیا لیکن جب وہ لکھم کے ملک میں آیا تو اُس پر حملہ کیا گیا اور اُسے مار دیا گیا ۔ (۱۴)

  یہ بات قابلِ فہم ہے کہ کیوں زید نے مسیحت یا یہودیت کو قبول نہیں کیا کیونکہ ساتویں صدی عیسوی میں دونوں مذاہب کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا تھا کہ وہ اپنی اصلی تعلیم سے پھر گئے ہیں۔

  اِن حینفوں کے علاوہ جن چار کا پہلے تزکرہ ہو چکا ہے دوسرے حینف بھی تھے مثال کے طور پہ اُبو عامر قابلِ ذکر ہیں وہ ایک ‘‘ راہب ’’ کہلاتے تھے اور تارک الدنیا زندگی کی مشق کرتے تھے ۔ یہ بات بھی سمجھی گئی ہے کہ وہ ایک مسیحی زہد تھے ، لیکن بعض بیانات اُن کو ‘‘ حنیفہ ’’ کے ساتھ ملاتے ہیں جن کا عقیدہ یہودی رسم ورواج کے قریب تھا ۔ (۱۵)

ایک دن جیسا کہ تاریخ دان ابنِ اضحاق کے ریکارڈ کے مطابق ابو امر پیغمبر محمد کے ساتھ آمنے سامنے ملے ابو امر رُسول کے پاس مدینہ آئے اور اُن سے اُس مذہب کے بارے میں پوچھا جو وہ لائے تھے ۔ ‘‘ حنفہ ’’ ابراہام کا مذہب محمد نے جواب دیا ۔ ‘‘ یہی ہے جس کی پیروی کرتا ہوں ’’۔ ( ابو امر نے کہا ) ‘‘ تم نہیں کرتے ۔’’ ہاں میں کرتا ہوں لیکن تم محمد نے حنیفہ میں اُن چیزوں کو متعارف کروایا ہے جو اس کا حصہ نہیں ہے ۔ ’’ میں نے ایسا نہیں کیا ’’۔

 ( محمد نے جواب دیا ) ‘‘ میں اسے صاف اور خالص لایا ہوں ۔ ’’ (۱۶)

  وہ ‘‘ چیزیں جو اس کے ساتھ تعلق نہیں رکھتیں ۔’’ یہ چیزیں ان تصورات سے لی گئی ہیں جن کا تعلق مادہ پرست رسومات اور روایات سے ہے جن کو محمد نے اپنے نئے مذہب میں شامل کیا تمام حینفوں نے اس اسلام سے پہلے کے کاموں کو مذہب میں شامل کرنے کی وجہ سے مشکل محسوس کی ۔ اس بات کی بھی شہادت مختلف تاریخ دانوں سے ملتی ہے کہ محمد کے یہودیت اور مسیحیت کے ساتھ ذاتی قریبی تعلقات تھے ۔ مزید برآں اُس کی زیادہ تر بیویاں اور حرمائیں مسیحی تھیں یا اُن کے شخصی تعلقات مسیحیوں کے ساتھ تھے ۔

مزید یہ کہ بہت ساری کلیسائیں اور یہودی گروہ عرب میں رہتے تھے دونوں بڑی اہمیت کے حامل تھے اور بِلا شبہ اُس وقت میں محمد کا آمنا سامنا اِن گروپوں کے ساتھ ہوتا تھا جب وہ کاروان کے ساتھ سفر کرتا تھا ابو امر نے محمد کے نئے مذہب کے لیے ایک دُرست جائزہ پیش کیا ، جس کے مطابق اُس نے ابراہام کے ایمان کے اندر اضافی پہلوؤں کو شامل کیا یہ مذہب چھ بنیادی ذرائع سے بنا جن میں ۱۔ مسیحیت  کی مختلف شکلیں تھیں ۲۔ باطنیت ۳۔ ہر قسم کی یہودیت ۴۔ عرب کے قصے کہانیاں اور روایتیں  ۵۔ سائبین مشقیں اور ۶ ۔ فارسی زرتشی (۱۷)

   محمد نے ال عُضا کو قُربانیاں چڑھانے سے منع کیا ۔

زید بن امر چوتھے حنیف نے جوان محمد کے خلاف اُس کی سخت ممانعت کے لیے تنقید کی ۔ یہ بیان زید بن حارث کے اختیار پر مبنی ہے پیٹرز نے محمد کے ابتدائی مادہ پرست ہونے کی مندرجہ ذیل مثال حدیث سے دی ہے نبی نے بتوں میں سے ایک کے لیے قُربانی چڑھائی ( نسب مِن الانسب ) ؛ پھر اُس نے اِس کو بُھونہ اور پھر اسے لے آیا پھر زید ابن امر ابن نفل ہمیں وادی کے اُوپر والے حصے میں ملے یہ مکہ کے گرم دِنوں میں سے ایک تھا جب ہم ایک دوسرے کے ساتھ ملے تو ہم نے اُس دور کے بربریت کے زمانے کے مطابق سلام دُعا لی ۔ ( علیک سلیک لی ) جو کہ اِن ام سُحبان تھا ۔ نبی نے کہا ،

‘‘ میں کیوں تمہیں دیکھتا ہوں اے ابن امریکہ لوگ تجھ سے نفرت کرتے ہیں ؟ ’’ ‘‘ اُس نے کہا کہ میرے نفرت کیے جانے کی کوئی وجہ نہیں ہے ۔ لیکن میں نے دیکھا ہے کہ وہ لوگ خُدا کی ذات کے ساتھ دوسرے الہوں کو جوڑتے ہیں اور میں ایسا کرنے سے بعض آتا ہوں میں چاہتا ہوں کہ وہ ابراہام کے مذہب کی پیروی کریں ۔۔۔’’ نبی نے کہا ‘‘ کیا تم کُچھ کھانا پسند کرو گے ؟ ’’اُس نے کہا ‘‘ ہاں ’’ پھر نبی نے اُس کے سامنے اُس ‘‘ جانور کا گوشت ’’ رکھ دیا ۔ اُس ( زید ابنِ امر ) نے کہا : ‘‘ محمد تو نے کِس کے لیے قُربان کیا ہے ؟ ’’ اُس نے کہا ، ‘‘ بتوں میں سے ایک کے لیے ’’ ۔

    مندرجہ ذیل واقعہ جو اُوپر بیان کیا گیا اِس میں یہ ریکارڈ کیا گیا کہ زید نے شدید طور پر محمد کی بُت پرستی کی ممانعت کی مندرجہ ذیل میں اُس نے یہ جواب دیا:

‘‘ میں اُن میں سے نہیں ہوں جو خُدا کے علاوہ اور کِسی بُت کی قُربانیاں چڑھاتے ہیں ۔’’ (۱۸)

اس کے برعکس ابنِ قالبی نے بیان دیا : ‘‘ ہمیں بتایا گیا کہ خُدا کے رسُول نے ایک بار یہ ذکر کیا جو کہ ال عُضا کے بارے میں تھا، میں نے ال عُضاکے لیے سفید بھیڑ پیش کی جب کہ میں اپنے مذہب کے لوگوں کا پیروکار ہوں ۔ ’’(۱۹)

بہت سارے مفکرین ایمان رکھتے تھے کہ قرآن مادہ پرستی کی قُربانی کو غلط کہتا ہے سورہ نمبر ۹۶ ، سے ۸ آیت تک ‘‘ کیا اُس نے تمہیں ایک یتیم کے طور پہ نہیں پایا اور تمہیں پناہ نہیں دی کیا اُس نے تمہیں قصور وار نہیں پایا اور تمہاری ہدایت کی ؟ کیا اُس نے تمہیں ضرورت مند نہیں پایا اور تمہاری حاجت رفع کی ۔

محمد کی گناہ آلودہ فطرت

بہت سارے مسلمان اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ محمد نے کبھی غلطی یا گناہ کیا ہے ۔ اسلام کے غلط تصور کے لیے حدیث مکمل طور پر اُس کے گناہگار ہونے کی تصدیق کرتی ہے یہاں تک کہ اُس کے نبوت کے سالوں کے دوران بھی واضح طور پر حدیث اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ اپنی گناہ آلودہ فطرت کی وجہ سے وہ ایک کامل آدمی نہیں تھا

مثال کے طور پہ اُس کی بیوی عائشہ سے روایت ہے :

نبی نے کہا ۔۔۔ اے اللہ میرے دل کو برف اور اُولوں کے پانی سےدھو اور میرے دل کو تمام گناہ سے صاف کر جس طرح سے  کپڑا گندگی سے صاف کیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دیا جتنا مشرق اور مغرب کے درمیان فاصلہ ہے ۔(۲۰)

ابو موسیٰ مزید محمد کی گناہگار فطرت کو ثابت کرتے ہوئے کہتے ہیں : نبی نے پُکار کر اللہ سے دُعا کی جو کہ مندرجہ ذیل دُعا ہے ۔۔۔ اوہ میرے خُدا میرے گناہ اور میری جہالت کو معاف فرما اور میرے عملوں کے درمیان جو میری راستبازی کے لیے حدیں کھڑی کرتی ہیں دُور کر اور وہ کر جو میرے لیے بھلا ہے۔ اے اللہ میری غلطیاں معاف فرما جو میں نے جان بوجھ کر یا اپنی جہالت کی وجہ سے کی یا میں نے اپنی سنجیدگی سے کی ہیں میں اپنی اُن تمام غلطیوں کا اعتراف کرتا ہوں جو میں نے کیں اے اللہ میرے ماضی کے اور مستقبل کے گناہوں کو معاف فرما جو میں نے کھلے عام یا چُھپ کر کیے ہیں ۔(۲۱)

  ایک اور مشکل مرحلہ جو محمد کو بے شمار دفعہ پیش آیا وہ خُود کشی کرنے کی کوششیں تھیں بہت دفعہ وہ اپنی روح میں رنجیدہ ہوا اور اُس نے خیال کیا کہ وہ بد روحوں کے قبضے میں ہے اور اُس نے کوشش کی کہ اپنے آپ کو پہاڑ سے گرا لے لیکن اپنی قسمت کے مطابق وہ کُچھ مافوقالفطرت قوتوں کے سبب جو اُس کو غار میں ملتی تھی اور جس کو وہ جبرائیل کے طور پر پیش کرتی تھیں اُنھوں نے اُس کو منع کیا ۔ (۲۲)

  یہ بات غور کرنے کے لیے بڑی دلچسپ ہے کہ محمد نے بعد میں خُود کشی کرنے کو ایک بڑا گناہ کہا جو براہ راست جہنم میں لے جاتا ہے حدیث اس ایمان کی تصدیق کرتی ہے جو کہ جنداب کے بیان کے ذریعے نظر آتا ہے : نبی نے کہا ، ‘‘ ایک آدمی ذخموں سے چُور تھا اور اُس نے خُود کشی کرنے کی کوشش کی ، پس اللہ نے کہا : ، ‘‘ میرا غلام جلدی سے موت کا سبب بنا پس میں اِس کے لیے جنت کے دروازے بند کر دوں گا ۔’’(۲۳)

  جس طرح بیان کیا گیا کہ خُود کشی کرنا گناہ ہے اور کسی بھی شخص کو یہ عمل جنت میں جانے سے روکنے کا نتیجہ ہو سکتا ہے پانچ ارکان کا ٹھیک طرح سے ادا کیا جانا بھی اسلام میں ایک سنجیدہ معاملہ ہے محمد بذاتِ خود بھی کُچھ وقتوں پر اس کی مشق بھول گیا اُس نے سادہ طور پر اسی بھلکڑ پن میں دو اراکین کو ادا کیا اور پھر اُس نے کہا ‘‘ جب تم میں سے کوئی نمازوں کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو شیطان آتا ہے اور اُسے شک میں ڈالتا ہے جب تک کہ وہ یہ بُھول نہ جائے کہ اُس نے کتنے ارکان نماز پڑھ لی ہے ۔ ’’ (۲۴)

شیطانی آیات

محمد نے اکثر شیطان کو اپنی غلطیوں یا گاہوں کے لیے مسئلہ پیدا کرنے والا کہا ہے اِس بیان کے لیے ایک جامع مثال نام نہاد ‘‘ شیطانی آیات ’’ متسفر کی جاتی ہیں جو رسُول محمد نے بیان کی بہت ساری کتابیں اور آرٹیکل اِس متضادمضمون کے لیے وقف کیے گئے ہیں ایک لمبے عرصے کے لیے رسُول یہ چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کے ساتھ میل جول رکھے وہ ناخوش ہوتا جب اُس کے پیغام کا انکار کیا جاتا تھا وہ اپنے دل میں خُدا کی طرف سے ( اللہ یا شیطان ) ایک نئی وحی پاتا جو اُس کے لوگوں کو دوبارہ اکٹھا کرتی اس نئی وحی کے ساتھ وہ خواہش کرتا تھا کہ اِس کا کوئی من پسند نتیجہ نکلے ۔ اس کے بعد جلد ہی اُس کا خُدا

( اللہ یا شیطان ) اُس الیی نبوت کو ظاہر کرتا تھا: ستارے کے ساتھ ہی جیسے ہی آپ کا دوست آپکے ساتھ بدی نہیں کرتا اور نہ ہی آپ کو دھوکہ دیتا ہے اور نہ ہی اپنی خواہش سے بات کرتا ہے اس طرح سے مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں : ‘‘ کیا آپ نے ال لات، ال ُعضا اور مِنات جو کہ تیسری دیوی ہے اور دیگر دیویوں کے بارے میں سوچا ہے ’’؟ شیطان نے اُس کو متاثر کیا کیونکہ وہ اپنے اندر لفظوں کے ساتھ جدوجہد کر رہا تھا ‘‘ یہ اُس کے بڑے بڑے جھنڈوں کی طرح گاڑھے ہوئے الفاظ تھے ۔ ’’ ایک متبادل ترجمے میں ہم پڑھتے ہیں کہ اُس نے اِن دیویوں کی کی خواہش کی ۔ (۲۵)یہ جھنڈوں کی دیویوں کی طرح گاڑھا گیا تھا جن کو بلند ترین جگہوں پر لہرایا گیا ۔ ایک دلچسپ قصہ جو کہ ایلسی لیچنڈرزدار نے بنایا کہ یہ گرانق زرخیزی کی دیویوں کے طور پر استعمال ہوتے تھے اور یہ مکہ کے علاقہ میں بنجر جگہوں پر نصب کیے جاتے تھے اور زم زم کے کنوے کی کعبہ کے اندر ایک قُدرتی پاک پانی کے طور پر پوجا کی جاتی تھی ۔ (۲۶)

جب اہل قریش نے اس نئے مکاشفے کے بارے میں سُنا تو وہ اِس معاملے میں بہت زیادہ خوش ہوئے کہ محمد نے اُن کے دیوتاؤں کےبارے میں کُچھ کہا اِس کے بعد اہل قریش محمد اور اُس کے روحانی ساتھیوں کے گروہ میں شامل ہو گئے اور اللہ کی تین بیٹیوں کی شفاعت کے ذریعے اللہ تک پہنچنا چاہا ۔ مسلمان نبوی کے ساتھ تھے کیونکہ وہ نبی کے اندر غلطی یا گناہ کے لیے شک میں نہیں تھے ۔ (۲۷)

    اِس طرح سے قرآن نے محمد کو ایک نبی یا ایک پیغمبر کے طور پر پیش کیا اور وہ اسلامی ایمان کی ایک آخری روحانی اختیار بن گیا ابن ِقالبی اہل قریش کے دُعا کے کلیے کو بیان کرتا ہے جِس کو اُس نے عام طور پر بیان کیا ہے :

 قریش کعبہ کے گرد طواف نہیں کرتے تھے اور کہتے کہ ‘‘ ال لات، ال عُضا اور مِنا تین دیویاں ہیں ۔ اس طرح سے وہ خواتین کو شفایات کے وسیلے کے طور پہ سر بلند کرتے تھے ۔’’ وہ بھی ‘‘ اللہ کی بیٹیاں کہلاتی تھیں۔’’ اور اُن کے بارے تصور کیا جاتا تھا کہ وہ خُدا کے سامنے شفاعت کرتیں ہیں ۔ (۲۸)

 حبشہ میں محمد کے پیروکارو کے درمیان یہ خبر پھیل گئی جِس نے دوسروں کو بھی متاثر کیا کہ جبرائیل رسُول پر ظاہر ہوئے اور سوال کیا : ‘‘ محمد تو نے کیا کِیا ہے ؟ تو نے لوگوں کو وہ کُچھ پڑھ کے سُنایا ہے جو میں خُدا کی طرف سے نہیں لایا کیا تو نے وہ کُچھ کیا ہے جو میں نے تم سے نہیں کہا ۔ ‘‘ رُسول پریشان ہو گیا جو کُچھ اُس نے کیا اور کانپےنے لگا خُدا نے نبی کے اِس بے چین ہونے کو دیکھا اور نئی وحی دی ۔

‘‘ ہم نے نبی یا رسُول تمہارے سامنے نہیں بھیجا بلکہ شیطان نے اپنی خواہش اُس میں ڈالی ہے لیکن خُدا اِس کو لے گا جو شیطان نے تجویز کیا ہے پھر خُدا اپنی آیات قائم کرے گا کیونکہ خُدا جاننے والا اور حکم والا ہے ۔’’(۲۹)

خُدا نے پھر سابقہ وحی کو کینسل کرکے نئی آیت کو رکھا :

  کیا تمہارے آدمی اور اُن کی عورتیں نہیں اور بِلا شبہ اِن کے درمیان تقسیم غلط ہے ( بہت زیادہ بے انصافی ہے ) ؛ وہ کُچھ نہیں ہیں بلکہ اُن کے والدوں نے محض اُنھیں نام دیئے ہیں۔ ( قرآن  ۲۳ ۔ ۲۱ : ۵۳ )(۳۰)

  محمد کے اِس نئی وحی کے ساتھ ہی اہل قریش نے اعلان کیا : ‘‘ محمد نے جو کُچھ کہا اُس کی توبہ کی ہے اللہ کے ساتھ دیویوں کی اُس صورتِ حال کے لیے اُس نے اس میں ترمیم کی ہے اور کُچھ اور لے کر آیا ہے۔ ’’

اس پھِر جانے کے نتیجے میں اُن لوگوں نے اپنے تعلقات رسُول اور اُس کے پیروکاروں کے ساتھ لڑائی میں بدل دیئے۔ (۳۱)

ماآنٹ گو مری واُٹ نے اِن ‘‘ شیطانی آیات ’’ کی حقیقت کے بارے میں دو نقاط پیش کیے ہیں : پہلے نمبر پر ، ایک وقت میں محمد نے اِن شیطانی آیات کو قرآن کا حصہ بنا کر لوگوں میں اِس کی تلاوت کی اور یہ ناقابلِ فہم کہانی جو بعد میں مسلمانوں نے ایجاد کی یا اس کو بعد میں غیر مسلمانوں نے بھی دہرایا دوسرے نمبر پہ اِس کے کُچھ عرصہ بعد محمد نے اعلان کیا کہ یہ آیتیں قرآن کا حقیقی حصہ نہیں ہیں ۔ ابتدائی اشاعتیں اِس بات کی بیان نہیں کرتیں کہ کتنی دیر یہ اُس کا حصہ رہیں غالباً یہ ہفتوں اور مہینوں اُس کا حصہ رہی ہونگی ۔(۳۲)

حال ہی میں مسلمان مفکر ایم ایم اعشان نے واٹ کی اس گفتگو پر اختلاف پیش کیا اور اپنی دلیل پیش کی کہ پانچ یا چھ سال کے عرصے کے طوقف سے اِس کا جواب دیا اور اِس کے لیے بنیادی وجہ بتاتے ہوئے اُس نے دعویٰ کیا کہ یہ کہانی غلط ہو سکتی ہے ۔ کیونکہ محمد کا تعلق اِس سے بہت پہلے عرصے سے ہے ۔ (۳۳)

اس خیال کے لیے منطق کمزور رہا ہے : پہلے نمبر پر محمد لازمی طور پر اپنے اُن ساتھیوں سے ملتا رہا جو اِس بات پہ ایمان رکھتے تھے کہ اُس میں غلطی نہیں ہو سکتی دوسرے نمبر پر محمد کی زندگی کی تاریخ کے بارے میں کسی کے لیے بھی پورے طور پہ بیان کرنا یہاں تک کہ بڑے بڑے مسلمان مفکرین بھی اس میں مشکل پاتے ہیں۔ اس لیے واٹ کا نظریہ بہت مناسب ہے واٹ ‘‘ شیطانی آیات ’’ کی سچائی کے بارے میں ایک تیسری حقیقت کو شامل کرتا ہے اُس نے بیان کیا کہ تین دیویوں لات ال ُعضا اور مِنا کی مکہ کے قریب مندروں میں بڑے پیمانے پر پوجا کی جاتی تھی۔

ایک چوتھی وجہ کو واٹ کی اس فہرست میں شامل کیا گیا ہے تا کہ اِن آیات کے اختیار کو قبول کیا جائے جدید قرآن کی اشاعتوں میں لفظ  ‘‘گرانِک ’’کو دو فرشتوں کے طور پہ لیا گیا ہے ۔ ( قرآن ۲۷۔ ۲۶ : ۵۳ ) اور ناموإ کے سوا کُچھ نہیں ہے ( قرآن  ۲۳ : ۵۳ ) یہ تعریفیں ایک دوسرے سے مختلف نظر آتی ہیں اور اصل آیات کے لیے مزید شک پیدا کرتی ہیں ۔

   اس سارے باب کے دوران محمد کی انسانی کمزوری کی تصدیق کی گئی اور گواہی دی گئی ہے حینفوں نے اکثر اُس کے ابتدائی دور میں اُس کی مادیت پرستی کی روایات اور خیالات کو ملامت کیا ہے جبکہ اسی دوران اُس میں مسیحی اور یہودی عقائد کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے مزید برآں حدیث اِس حقیقت کے لیے کافی گواہی دیتی ہے کہ محمد اکثر گناہ اور غلطیاں کرتا تھا اور اپنی انسانی گناہ آلودہ فطرت کو تسلیم بھی کرتا تھا کیا اُس نے اپنی حجرہ اسود کی روایت کو ماننے ممیں غلطی کی جس کے لیے حینفوں نے اُس کی مخالفت کی ؟ حج کے تعلق سے دوسری مادیت پرستی کی روایتیں بھی ابتدائی عرب والوں کی زندگی میں شامل تھیں اور یہ تاریخی شواہد سے ملتا ہے کہ ایسے ہی تھا کیسے کوئی بھی شخص محمد کے رویے کو بیان کر سکتا تھا؟

   اگرچہ وہ بُت پرستی کی مشق کر رہا تھا رسُول کے ساتھی اس بات پہ ایمان رکھتے تھے کہ محمد ‘‘ اللہ کی بیٹیوں ’’ کی ممانعت کرتا اور اُن سے شفاعت کے لیے منع کرتا تھا اس طرح جیسا کہ پہلے باب میں بتایا گیا ہے کہ اُس کے ساتھیوں میں سے ایک رسُول نے کہا ‘‘ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ۔۔۔ کیا میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسُول نے تمہیں چوما میں تمہیں نہیں چوموں گا ’’۔ (۳۴)

  عمر واضح طور پہ اِن پتھروں کی بدعتوں کے لیے جو کہ پرانے زمانے کے عرب میں عام تھیں کافی مشہور تھا بُت پرستی کے اس مذہب کو ماننے کی بجائے وہ محض نبی کی مصومیت پر یقین رکھتا تھا ۔ تحریری طور پر یہ شواہد بھی ملتے ہیں کہ محمد اور اُس کے پیروکاروں نے حقیقی توحید میں پتھروں کی پوجا اور پرستش کو بھی شامل کیا بُت پرستی کرنا مکمل طور پہ یہواہ پاک خُدا کے قانون کے خلاف اور پاک توریت اور نئے عہد نامے کے مطابق نا فرمانی ہے۔

 

 

 

 

باب چہارم

حجرہ اسود کا تجزیہ

 ساری اسلامی تاریخ کے دوران حجرہ اسود کو عزت دی جاتی رہی ہے اِس کی پوجاکی جاتی رہی ہے جب کہ چند لوگ جانتے ہیں کہ حجرہ اسود کِس چیز کو پیش کرتا ہے ۔ یہ باب بہت ساری سابقہ باتوں کی تحقیق کرے گا جو اس بھید کے نتیجے کے لیے وضاحت ہے۔

حجرہ اسود بطور ایک مقدس قربان گاہ

 اسلامی انسائیکلوپیڈیا حجرہ اسود کے کام کو بطور ایک مقدس قُربان گاہ اور ایک ایسی قُربان گاہ کے طور پہ پیش کرتا ہے جو ابراہام اور یعقوب نے بنائی ۔ (۱) اِس بات کے بیان میں اگر یہ مقابلہ ایک قانونی حیثیت رکھتا ہے تو پتھر کے مذبحوں کو جو ابتدائی دنیا میں تھے اُن کی ضرور پڑتال ہونی چاہیے۔

یونانی بدعات

 یونانی مصنف تھیو فراسٹس ( جو کہ چوتھی صدی قبل از مسیح تھا ) وہ انفاردی مذہب کی عزت کرتا تھا ‘‘ کیونکہ وہ یہ سمجھتا تھا کہ جو کوئی پہلے ہی ان پتھروں کو سڑک کے ایک طرف تیل ملتا یا اُن پر تیل انڈیلتا ہے یہ اُس کا حق ہے ’’ اِن کی شکل عمودی ستونوں کی طرح ہوتی تھی جن کے سرے پر کوئی سر یا پتھروں کا ایک ڈھیر لگا دیا جاتا تھا اور اِس کو ‘‘ حرمز ’’ کہتے تھے یہ نام حرمز کے دیوتا کے برابر تھا ، جِس کا مطلب پتھر تھا ۔ ایلیڈ بیان کرتا ہے : ‘‘ کہ یہ پتھر بطور ایک دیوتا ہے اور دیوتا میں ہی پتھر ہے ’’ اسی طرح حرمز کو بھی ‘‘ سڑکوں کے اطراف کا دیوتا ’’ تسلیم کیا جاتا تھا ’’۔ (۲)

مزید برآں یونانی معاشرےکے اور بھی بے شمار دیوتا تھے جو کہ غیر تراشے اور تراشے ہوئے پتھروں کو پیش کرتے تھے تراشے ہوئے پتھروں میں سے ایک اپلو ، آگو سیو کہلاتا تھا جو کہ سڑک دیوتا تھا عام طور پر گلی میں گھر یا دروازے کے سامنے کھڑا ہوا ملتا تھا ۔ اِن میں سے بہت سارے پتھر تیل سے مسخ کیے جاتے تھے ، اِن پر ربِنوں سے ڈیکوریشن کی جاتی تھی اور بطور مذبحے ان کی شناخت ہوتی تھی ۔ (۳)

یونانی بدعات

عبرانی مقدس مذبحوں کے تصورات ابتدائی یونان سے مختلف تھے ۔ یونانیوں کو پتھروں کو مسحٰ کرنے کی رسم عبرانیوں کی رسم سے ملتی جُلتی تھی لیکن اُن کے استعمال کے مطلب میں فرق تھا ۔ عبرانی اِن پتھروں کو اِس بات کے تصور کے لیے مسحٰ کرتے تھے کہ یہ ایک پاک جگہ ہے جبکہ یونانی اصل میں یہ ایمان رکھتے تھے کہ ہر پتھر کے اندر ایک دیوتا جِسم اختیار کرتا ہے ۔ عرب والے بھی یونانیوں کی طرح اسی ایمان کو مانتے تھے لیکن اُنھوں نے پتھروں کو مسحٰ کرنے کی مشق نہ کی ۔ عبرانی زبان میں مقدس پتھر یا پتھروں کے ستونوں کو میٹس سیوا کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے سیدھا کھڑا ہونا جب یعقوب کی بیوی راخل فوت ہوئی تو اُس نے اُس کی قبر پر ایک پتھر گاڑھا ( پیدائش۳۵:۲۰) یہ سیدھا سیدھا یادگاری کے مقصد کو بیان کرتا ہے ۔

 پتھر کا ستون بھی ایک یادگار پہلو ہے جیسے کہ یعقوب اور ارامیوں کے درمیان معاہدہ ہوا ۔ ( پیدائش ۳۱:۴۳) (۴)

 ابراہام نے ایک مقدس مذبحہ پاک جگہ کی یادگاری کے لیے بنایا جہاں خُدا اُس پر ظاہر ہوا ( پیدائش  ۸۔۷ :۱۲ ؛ ۱۸ : ۱۳ اور ۲۳ : ۲۶ ) یعقوب نے اپنے باپ کی راویت کی پیروی کی اُس نے خواب میں آسمان سے ایک سیڑھی کے ذریعے فرشتوں کو اُترتے اور چڑھتے دیکھا : ‘‘ یقیناً خُدا اُس جگہ پر ہے اور مجھے اِس بات کی خبر نہ تھی ’’ ( پیدائش ۱۶ : ۲۸ ) یعقوب نے خوفزدہ ہو کر کہا یہ کسی بھیانک جگہ ہے یہ خُدا کے گھر کے اور آسمان کے آستانے کے سوا کُچھ نہیں ہو سکتی ’’ اگلی صبح اُس نے اُس پتھر کو جسے اُس نے سرہانے کے طور پر استعمال کیا تھا اُسے پِلر کے طور پر گاڑھا اور اُس پر تیل انڈیلا اور اُس نے اُس جگہ کا نام بیت ایل رکھا

‘‘ خُدا کا گھر ’’ ( پیدائش ۱۶ : ۲۸ ) اور یہ بات بڑی غور طلب ہے کہ یعقوب نے ہمیشہ یہ کہا کہ یہ کیسی پاک ‘‘ جگہ ’’ ہے یہ نہیں کہا کہ یہ پاک پتھر ہے وہ پتھر محض یادگاری کے طور پہ تھا کہ جگہ کہاں ہے جہاں پہ خُدا ظاہر ہوا ہے اِس کے لیے پتھر مرکز نہیں ہے ۔ حجرہ اسود کی پرستش کی روایات کی پرستش اور بائبل کی پتھروں کو یادگاری کے طور پہ استعمال کرنے کی نسبت میں بڑا متضاد ہے ۔ اسلام سے پہلے عرب والے اِس بات پہ ایمان رکھتے تھے کہ پتھر کے اندر الوہیت ہے اور یہی بات اسلامی حج کے دوران بھی ہوئی محمد نے پتھروں کا بوسہ لیا اور اُنھیں چوما تاکہ وہ اِن خُداؤں کی برکت اور قوت کو وصول کرے ۔ محمد نے کبھی یہ نہیں کہا کہ حجرہ اسود ایک مقدس مذبحہ ہے جیسے کہ یعقوب یا ابراہام نے کہا پتھر کی بحیثیت ایک مذبحے کے تھیوری بعد میں اسلامی علم الہیات میں نشوونما پا گئی اور اُنھوں نے ابتدائی یہودی اور مسیحی مفکرین والا کلیہ استعمال کیا تاریخی شواہد سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ واضح طور پر محمد کا دوسرے عرب والوں کی طرح مقدس پتھر پر ایمان لانے کا عقیدہ ہے ۔

کونے کے سرے کے پتھر کے مفروضے

حجرہ اسود کو بہت سارے مسمانوں نے ‘‘ گھر کے کونے کے سرے کا پتھر ’’اور ‘‘ زمین پر خُدا کا دہنا ہاتھ ’’ تصور کیا ۔ (۵)مسلمان مفکر مولانا علی نے اپنی کتاب اسلام کا مذہب میں بیان کیا :

محجرہ اسود اصل میں کعبہ کے کونے کے سرے کا پتھر ہے جو کہ محض ایک نشان کے طور پر کھڑا ہے اور ابراہام کی نسل کے اُس حصے کے طور پر ہے جِس کے لیے اسرائیلیوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ خُدا کی بادشاہی کے کونے کے سرے کا پتھر بنے گا ۔ ‘‘ جِس پتھر کو معماروں نے رد کیا وہی کونے کے سرے کا پتھر ہو گیا ’’۔ ( زبور ۲۲ : ۱۱۸ ) ۔۔۔ اسماعیل نے اس کو رد کیا ۔ (۶)

علی نے نئے عہد نامے میں سے دولہے کی تمثیل کی مثال دیتے ہوئے جاری رکھا : ‘‘ اِس لیے میں تم سے کہتا ہوں کہ خُدا کی بادشاہی تم سے لے لی جائیگی اور اُس قوم کو  جو اُس کے پھل  لائے دے دی جائے گی ) ( متی ۴۳ : ۲۱ ) وہ ایمان رکھتا تھا کہ لفظ ‘‘ قوم ’’ عرب کے لوگوں کے بارے بات کرتی ہے ۔ علی نے اپنے بیان کی معاونت کے لیے ۔ دانیل ۴۵ : ۲ کا بھی حوالہ دیا ۔ پُوری دنیا میں صرف ایک ہی ایسا پتھر ہے جو ‘‘ بغیر ہاتھ لگائے کاٹا گیا ’’ جو کونے کے سرے کا پتھر ہوا جس کی اہمیت پوری دنیا میں قائم ہے۔ (۷) علی نے اسلامی تھیالوجی کے معیار کو دانیل کی کتاب کا حوالہ دیکر توڑ دیا کیونکہ مسلمان صرف توریت ، زبور اور اناجیل کو با اختیار مانتے ہیں۔

  تاریخی اعتبار سے کونے کے سرے کا پتھر کیا تھا ۔ یہ ایک پتھر تھا جو سلیمان کی ہیکل کی تعمیر میں رد کر دیا گیا ۔ کونے کے سرے کے پتھروں کو اکثر عمارت کی بنیادوں کی تعمیر میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ ابتدائی زلزلے اور سردیوں کے بادل کے لیے یہ بات درکار ہے کہ ‘‘ مضبوط بنیادوں کے لیے رکھے گئے پتھر جو چٹانوں سے لیے گئے اور کونے کے سرے کے طور پہ استعمال ہوئے ۔ ’’ ( یسعیاہ ۲۶ : ۲۸ ) ؛ یرمیاں ۲۶ : ۵۱ ؛ ۱۔پطرس ۶ : ۲ ) پتھروں کی دیواریں بناتے ہوئے ، ‘‘ ایک بڑا منصوبہ ایک چھوٹے زاویے کی تعمیر میں پورا ہوتا ہے ۔ یہ زاویے میں جوڑا جاتا ہے اور یہ پتھر تعمیر میں استعمال کیا جاتا ہے۔ ’’ (۸)

سلیمان کی ہیکل کی تعمیر میں ایک بڑے سائز کا کونے کے سرے کا پتھر درکار تھا اِس طرح سے مکہ کا حجرہ اسود اپنے چھوٹے ہونے اور وزن میں کم ہونے کی وجہ سے کونے کے سرے کا پتھر تصور نہیں کیا جا سکتا ۔ اِن پتھروں کی شکل کے بارے میں یا کاٹے جانے کے بارے میں تصور یہ کیا جاتا ہے کہ یہ سلیمان اور اخی اب کے دور میں متضاد طور پر موجود تھے ۔ حجرہ اسود کا بحیثیت ایک ہاتھ کے بغیر کاٹے ہوئے پتھر کا تصور جس کا تعلق سلیمان کی ہیکل سے ہے اِس کے ممکنات کی نفی کرتا ہے کونے کے سرے کے پتھر کی صیحح نشاندہی بائبل کے بہت سارے پیراآں میں دی گئی ہے جو کہ یسوع کی بات کرتے ہیں یعنی مسیح کی جِس کو ایمان لانے والے ایمانداروں نے رد کیا ۔ (۹)

ال لات بطور حجرہ اسود

ابتدائی تاریخ دانوں اور جدید ماہر آثارِ قدیمہ نے اِس بات کو تصدیق کیا ہے کہ آلات بھی مادہ پرست لوگوں کی دیوی تھی جِس کو مکہ کے حجرہ اسود کے طور پر بھی پیش کیا گیا ۔

دمشقی جان اور ہیروڈوٹس کی طرف سے گواہی

مسیحی راہب اور علم الہہیات کا ماہر دمشقی جان اسلامی زیر اثر قوم میں رہتا تھا ۔ اُس خاندان نے دمشق کے مُسلمان منظمین کے طور پہ خدمت کی جس کے نتیجے میں جان نے اسلامی لوگوں کی رسومات زبان اور مذہب کو سیکھا اپنے کام میں ۷۴۳ عیسوی میں جان نے اِس نئے مذہب اسلام کے خلاف ایک دہنی تحریر نامہ شامل کیا ۔ (۱۰)جان تصوروں اور تصویروں کا دفاع کرنے والا ایک شخص تھا اور محمد اور اُس کے پیروکاروں کے لیے ایک شدید نفرت رکھتا تھا ۔ جان نے لکھا: وہ مزید ہمیں بُت پرست کہتے ہیں کیونکہ ہم نے صلیب کی پوجا کی اور اُنھوں نے اُس سے نفرت کی اور ہم نے اُنھیں جواب دیا : تو پھر تم کیسے اپنے عقیدے کے خلاف کعبہ میں ایک بُت کا بوسہ لیتے اور اُسے قبول کرتے ہو ؟ ’’ (۱۱)

جان محمد کے مذہب کے کاموں کے واضح تضاد کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔ یہ ایک عام علم تھا کہ محمد نے کبھی بھی تصورات میں سے یا صلیب کو گھر میں استعمال نہیں کیا ۔ (۱۲) ریاکارانہ طور پر اُس نے پتھر کا بوسہ لیا اور اُس پر ماتھا ٹیکا اور اپنے پیروکاروں سے بھی توقع کی کہ وہ ایسا ہی کریں اُس نے اور اُس کے شاگردوں نے پتھر سے باتیں کی جان اپنے نظریات کو بیان کرتے ہوئے جاری کرتا ہے :

وہ پتھر جس سے وہ باتیں کرتے اور جس کی وہ پوجا کرتے تھے اُس کو وہ خیبر کہہ کر بُلاتے تھے ۔ یہاں تک کہ موجودہ دور میں میں ہمیں ایسے لوگ ملتے ہیں جو اِس کام کا مظاہرہ واضح طور پہ کرتے ہیں۔ (۱۳)

  جب یہ بات ظاہر ہوئی تو جان نے دیکھا کہ ایسا کرنے والے پہلے پہل اُس کے بیان کو دُرست مانتے تھے جب تک کہ عرب میں ابتدائی بتوں اور مقدس ہیکلوں کو برباد نہیں کیا گیا تھا یوحنا عربوں کی بدعات کے بارے میں بیان کرتا ہے ۔ وہ بُت پرستی میں ملوث تھے اور صبح کے ستارے اور ایفروڈائیٹ کی پرستش کرتے تھے جِس کا مطلب اُن کی اپنی زبان میں بہت بڑا تھا ۔ ہیراکلئیس کے دور میں یہ بہت بڑے بُت تھے۔ (۱۴)

عربی خیبر یا کیبی رن کے الفاظ ان کی عظمت کے سائز کی پہچان تھی۔ محمد جب اس پتھر کو چُھوتا تو وہ یاد کرتا اور اُس کے منہ سے نکلتا ‘‘ اللہ اکبر ’’۔

ہیرو ڈوٹس ایک عظیم یونانی تاریخ دان اور سیاہ ہے وہ ۴۹۰ اور ۴۸۰ قبل از مسیح کے دوران پیدا ہوا وہ یوحنا کے بیان کی تصدیق کرتا ہے اُس نے آسمانی ایفروڈائیٹ  جو کہ یونان کا دیوتا تھا اُس کو عربی دیوی ال لات کے برابر کہا ۔ (۱۵) ہیرو ڈوٹس نے لکھا:

مندرجہ ذیل فارص کی رسومات ہیں جس کو میں اپنے ذاتی علم سے بیان کر سکتا ہوں ۔۔۔ اُن کے نظام میں ذی اس آسمانوں کا ایک مکمل دائرہ ہے اور وہ اُس کے لیے پہاڑوں کی چوٹیوں پر سے قُربانی دیتے تھے وہ سُورج ، چاند اور زمین ، آگ ، پانی اور ہواؤں جو کہ اُن کے حقیقی دیوتا تھے اُن کی بھی پوجا کرتے تھے ؛ بعد میں اُنھوں اُسوریوں اور عربوں سے ایفروڈائیٹ کے لیے اُسوری نام مائلیٹا ہے ، عربی میں ال لات ہے اور فارسی میں میسٹرا ہے ۔ (۱۶)

ہیروڈوٹس کی گواہی کی بنیاد پر یہ الا آلات کی دیوی ایک بہت بڑی دیوی بن گئی۔

سُورج کی دیوی ال لات

ال لات کے بہت سارے نام تھے ، اور زیادہ تر ان میں سے عستارات کے ساتھ ( جس کو یسیرت بھی کہا جاتا تھا ) اور عشیرا بھی کہا جاتا تھا اِس حصے کا مرکز اس بات کو ظاہر کرنا ہے کہ ممکنہ طور پر الا آلات سورج کی دیوی تھی اور چاند دیوتا کی بیٹی تھی بلا شبہ ، اگر دمشقی جان ٹھیک کہتا تھا تو حجرہ اسود ال لات کی دیوی کا گھر تھا جو کہ اللہ سے شفاعت کرتا تھا جو کہ مکہ ک‘‘ا بڑا دیوتا ’’تھا۔

نیبیتیا ( پیترا )

بہت سارے آثارں قدیمہ کے ماہرین نے الا آلات کو سورج کی دیوی کے برابر تصور کیا ہے جو کہ ابتدائی زمانے میں تقریباً مشرق میں پھیلی ہوئی تھی۔ نیبیتیا میں ہلال چاند ‘‘ اشارا کا وہ ’’ کہلاتا تھا اور سورج کی دیوی چاند دیوتا کی بیٹی تھی اور وہ ‘‘ مندر کی وہ ’’ کہلاتی تھی نظامِ شمسی کی تجسیم میں سے ایک ال لات یا لات یعنی دیوی ماں جو کہ یونانیوں سے اُدھار لی گئی تھی اُس کو لاٹو کہتے تھے۔ (۱۷)

عرب اور اُس کے قریبی علاقے ابتدائی ۱۹۷۰ءکے دوران لیپنس کی عرب عستارات کی پوجا کرتے تھے اور اس خاص بدعت کی تصدیق کی جا چُکی ہے ‘‘ جو کہ بہت سارے جنوبی عرب کے لوگوں شمالی عرب کے لوگوں اور دو یا تین تولو مودی شخصی ناموں نے بھی کی ہے ’’۔ (۱۸) یہ بہت ساری دریافتیں ۱۹۸۶ ءاور ۱۹۹۲ ء کے درمیان سڈنی کی یونیورسٹی کے آثارِ قدیمہ کے ماہرین نے کی ہیں ۔ اِن کی دریافت اور تحریر اسلامی دور سے پہلے کے حصوں اور جگہوں کے بارے میں ہے جو کہ جنوبی یردن کے علاقے میں ہے اور وہاں ۲۰۰۰ شمالی عربیوں سے زیادہ لوگ پائے گئے۔ ان کے نقشے کھینچے گئے تصویریں لی گئی اور ریکارڈ بنایا گیا اِن کے درمیان میں دوشارس اور ال لات کی دیویوں کے لیے دُعائیں ہوتی ہیں ۔ (۱۹)

لیپنسکی میں ابتدائی عرب کی دیوی عستارات بابل میں اور یوگرت میں بھی ال لات کو مانا جاتا ہے۔ اُس کا کردار اور اُس کی قسم تحریروں میں بیان نہیں کی گئی۔ لیکن وہ اکثر چاند کی دیوی کے طور پہ بیان کی گئی جس کو شمسی دیوی مانا گیا اگرچہ یہ برائے راست ثابت نہیں ہو سکتا پرانے عربی لوگوں کی حقیقت میں تین بڑی دیویاں ہیں ستارے کی دیوی چاند کی دیوی اور سورج کی دیوی اور یہ سب مختلف ناموں سے جانی جاتی ہیں۔ (۲۰)

عرب کے سیبئین فرقے کے لوگوں نے بھی اس چاند کی دیوی ، سورج کی دیوی اور ستارے کی دیویوں کی پرستش کی۔ اِن سیبئین لوگوں نے ایتھوپیا کو بھی دریافت کیا۔ (۲۱)

کیتبان کی بادشاہی عرب کے جنوبی ساحل میں واقع ہے یہاں بھی عستارات کی کو کہ ایک بڑا دیوتا یادیوی ہے اور جس کا پرسنل نام آم ہے جس کا ترجمہ انکل ہے اِس سلطنت کے ساتھ ایک علاقہ دیتارت کہلاتا ہے اور یہ بھی عستارات کا علاقہ ہے اور اُسی کے لیے وقف ہے ۔ مااِن اور اوُسان کی سلطنت میں اِس دیوتا کی پوجا چاند دیوتا واد کے ساتھ ہوتی ہے مااِن کی سلطنت میں عطارت کا بھی ایک مہینہ ہے جس کا نام دیتارت ہے جس کا ترجمہ ہے ‘‘ عطارت کا ایک ’’ (۲۲)

بابل

شواہد یہ ملے ہیں کہ ال لات کی اصلی شکل ابتدائی بابل سے بنی اور ایک ارامی شخص نے اس کو طیما میں پایا جو کہ جنوبی عرب میں ہے جِس کا ذکر ‘‘ طیما کے تین خُداوں ’’ میں ہوتا ہے : سالم ذی محرم ، سِن گالا اور اعشیرا۔ سِن گالا کو عام طور پر سُورج دیوتا کے طور پہ جانا جاتا تھا جِس کا ترجمہ ہے ‘‘ بڑا گناہ ’’ اس کی تاریخ پندرویں صدی سے ہے بادشاہ نیبونی دس نے طیما میں اپنی جنگ کے دوران قیام کیا اور یہ غالباً ۵۵۳ سے لیکر ۵۴۴ قبل از مسیح کا دور ہے وہ چاند دیوتا یعنی سِن کا ایک وقف شدہ پُجاری تھا یہ ایک بابلی چاند دیوتا ہے جس کو اعشیرا بھی کہا جاتا تھا اور یہ ایک شمسی دیوی بھی کہلاتی تھی ۔ (۲۳) لیپنسکی نے مزید شواہد کا اضافہ کیا:

زیادہ پرانی بابلی تحریریں یہ بات دکھاتی ہیں تاہم یہ عستارات عشراتیم یا عسیراتم کہلاتی ہیں۔

جو کہ دوسرے ہزار سالہ دور قبل از مسیح میں تھے یہ بھی نظامِ شمسی کا دیوتا تھا جِس کا نام عُمورو تھا ۔ جس کا کردار واضحِ طور پر مختلف تھا اور اُس کے تحریری ذرائع بھی ملتے ہیں ۔ (۲۴)

لیپنسکی اس کے حاشیے کو بھی مزید اس کی وحدانیت کے تصور میں شامل کرتا ہے: اس کا نتیجہ اس حقیقت سے زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے کہ عمرو باری کم کہلاتا ہے جِس کا مطلب ‘‘ چمکنا ’’ہے عمرو کی باری کم کی ایک خُوبی جب اس کے نام کو دیکھا جاتا ہے تو یہ بھی ہونی چاہیے اور اِس کی یہ خُوبی کتیبان یعنی چاند دیوتا کے ساتھ جو تمنا سے ہے ملتی جُلتی ہے ۔ (۲۵)

عستارات عام طور پر ‘‘ عورت کے قدم ’’ کو کہتے ہیں عشاراطم ، بیلطسری ، گوبارہ اور گِھسان گو عیدنا یہ تینوں خطبات اس کے کردار کی خُوبیاں ہیں کیونکہ یہ ایک خانہ بدوش دیوی ہے ۔ (۲۶) دوسرے اسلام سے پہلے کے دیوتا یا دیویاں مِنا اور الا اُعضا اور الا آلات کی پوجا کی جاتی تھی اور تقریباً مشرق قریب کے سارے کِسان اور چرقاہے اِن کی پوجا کرتے تھے ۔(۲۷) وہ بطور ایک پرانے ترین دیوتا کی فہرست میں ظاہر ہوئی ۔ لیپنسکی نے اس کے ابتدائی ماضی کی زبان کے لیے بھی مدد دیتا ہے۔ جس کے مطابق عشرات الا اِمی ، یعنی ‘‘ عستارات میری ماں ہے ’’ یہ نام اُس کے شگون کے لیے ہے یعنی اُتلو ۔اماں ۔مُو سمس اُمی اور پرانی عقائدی زبان میں اُمی سمس ہے یعنی ‘‘ سمس میری ماں ہے ۔’’ (۲۸)

دیوی کا لفظ بعد میں عقائدین رسم الخط میں شمالی فلسطین میں تا انکا کے مقام پر دریافت ہوا۔ پندرھویں صدی قبل از مسیح کی تاریخ میں یہ تختیوں پر لکھا ہوا ہے جہاں اُس جگہ کے شہزادے کا نام عبدی اسرتی یا عبدی اسراتی یعنی عستارات کا نوکر لکھا ہوا ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ چودھویں صدی قبلاز مسیح تک اس کی پوجا کی جاتی رہی ہے۔ لیپنسکی اس کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے: تاانکا رسم الخط کا ذکر ایک اومان کے طور پر ہوا ہے جس کا مطلب ایک خُدا کے عہدے کا تاثر ہے ۔۔۔ سورج دیوتا پر عام طور پر یقین کیا جاتا تھا کہ یہ وحی لاتا ہے اور عستارات کے بارے میں تاانکا میں مشہور تھا کا یہ سورج کی دیوی ہے سورج دیوتا در حقیقت فلسطین میں نسوانی دیوی کے دور میں متصور کی جاتی تھی۔ محض ایک یوگرت ہے۔ (۲۹)

یوگرت

کنعان کے ابتدائی عقیدوں میں عستارات کا عقیدہ جانا پہچانا تھا وہ ذاتی طور پر ایل کے نام سے جانی جاتی تھی یعنی یوگرت کا ایک سب سے بڑا دیوتا ۔(۳۰) ایلیڈ نے اِسے مندرجہ ذیل پیرائے میں بیان کیا ۔ ایل نے اپنی دو بیویوں عشرہ اور عنات کو حاملہ کیا اور اُس سے صبح اور شام کے ستارے نے جنم لیا ۔ عشرہ خود کو ایل کے ہم پلا کہتی ہے جس کا مطلب ہے دیوتاآں کی ماں اُس نے آگے مزید ۷۰ الہی بیٹوں کو پیدا کیا ہے ماسوائے بعل کے تمام دوسرے دیوتا پہلے جوڑے ایل عشرہ سے نازل ہوئے۔ (۳۱) عستارات ( عشرہ ) شاپسو کے نام سے بھی ابتدائی یوگرت میں جانی جاتی ہے ۔ یہ واحد دو نسوانی یوگرت کی دیویاں ہیں جن کو رعباتو کہا جاتا ہے ۔ مزید برآں عستارات اور شاپسو دونوں سورج کی دیویاں تصور کی جاتی ہیں۔ عستارات کو چاند کے دیوتا یارا کے ہم پلا گیا جاتا ہے۔ (۳۲) ایک اور یوگراتی پیرائے کے مطابق ایک نظم مشہور ہے اس نظم کا عنوان رحیم خُداؤں طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کی نظم ہے۔ اس نظم میں عستارات کا مقابلہ شاپسو کے ساتھ کیا گیا ہے۔ (۳۳) عستارتا ( عشرہ ) اور شاپسو کو واضح طور پہ شراب اور بئیر کی خواہش ہوتی تھی۔ ایک پیرائے میں اُس کی ایک دیوی بہن نے اُس پر شراب اور بئیر الڈیلنے کے لیے کہا جو اُس کے سامنے بعل کے بدن کی متلاشی تھی۔ اور اِس پیرائے کے الفاظ یہ ہیں ‘‘ میرے سامنے چمکتی ہوئی شراب انڈیلو اور اپنے ہاں سے بئیر انڈیلو اور میں بعل کی تلاش کروں گی۔ ’’ (۳۴) مندرجہ بالا حصے میں گرائمر کے لحاظ سے لیپنسکی ایک مشکل علم کو سمجھتے ہوئے عستارتیعنی بائبل میں بیان کیا گیا ایک دیوتا اشارہ اور اسلامی دیوتا یعنی ال لات کے بارے میں بیان کیا ہے۔ اصل متن میں یہ سوالیہ شکل میں ہے عبرانی اور ارامی تحریر کی درمیانی شکل ہے ملائی ہوئی شکل یہ بہت حد تک ممکن ہے کہ بئیر کے لیے استعمال کیا گیا لفظ جُوس کی طرح کے لفظ جِس کی عبرانی کی جڑیں اور ایتھوپیا کی زبان کی جڑیں ایک جیسی ہیں اور عقائدین لفظ بلالو بھی اسی طرح کی اصطلاح میں پیش کیا گیا ہے۔ (۳۵)

عربی رسم الخط میں اگر لات کے لفظ کا جائزہ لیا جائے تو عربیوں کی طرف سے یہ رائے بھی ملتی ہے کہ اس لفظ کی جڑیں بھی جو کہ کھانے کے ساتھ ملتی ہیں۔ (۳۶) ایک عقائدین ٹیکس اس بات کا ریکارڈ مہیا کرتا ہے کہ شمسی دیوتا شراب یا بئیر کو بخارات کی صورت میں اس پیش کیے گئے ہدیے کو لے لیتا تھا (۳۷) ان سارے عقائد میں ایک بڑا لفظ سورج کی دیوی لات کے لیے اُس لفظ کا استعمال کیا جانا ہے جِس کے مطابق وہ ایک ہل کیے ہوئے جو کے ساتھ تعلق رکھتی ہے۔

بائبل کے بیان کے مطابق عستارات ‘‘ حسد کے بُت ’’ کے طور پہ جو کہ یروشلم کی ہیکل کے باہر گاڑھا گیا تھا حزقیایل ۵:۸؛ ۲۔ سلاطین ۵ ۔ ۳ : ۲۱ ؛ ۱۳، ۷ ۔ ۴ : ۲۳ ) ۔ (۳۸) ایک غیرت کا چڑھاوا، یعنی ایضا کے دسویں حصے کے برابر جو کا آٹا غیرت کے چڑھاوے کے طور پر گناہ کے لیے کاہن کے پاس لائے اور یہ پاک توریت کے مطابق ایک ہدیے کے طور پہ پیش کیا جائے۔ (گنتی ۱۵ : ۵ ) ابن الا قالبی جو کہ ایک یہودی تھے جو کہ آٹے کے بارے میں تافل سیوک کے طور پر بیان کرتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ بعد میں اس کا نام طائف کی چٹان جو کہ ال لات کی علامت تھا پڑ گیا اِس کا تزکرہ اُنھوں نے آلات کے باب میں ایک چٹان کے طور پہ کیا ہے جِس سے یہودی جو کا آٹا اور دلیہ تیار کرتے تھے ۔ اِن تمام تر تشبیہات سے پتہ چلتا ہے۔ ‘‘ کہ یہ عبرانی رسم سے ملتی جُلتی رسم کا نتیجہ ہے یعنی غیرت کی قُربانی کے لفظ اُسی پاک جگہ سے لیے گئے جس کو بعد میں الا آلات کی علامت کے طور پہ استعمال کیا گیا۔ ’’ (۳۹)

نتیجتاً ال لات کو سارے عرب میں پتھروں اور بتوں کے طور پہ مختلف شکلوں اور سائزوں میں پیش کیا گیا جس نے مکہ کے حجرہ اسود کو ایک ممکنہ خُدا کی علامت کے طور پہ استعمال کیا۔

اِن تمام تر مخصوص تعلقات کے باوجود ایک خاص مقام باقی نظر آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ محمد نے طائف میں ال لات کی بدعت کو برباد کیا ۔ نبی کے حکم پر الا مُغیرا ال لات کے بُت کے پاس گئے اور اِس کو برباد کیا ۔ (۴۰) واضح طور پہ محمد اِس پتھر کو اپنے دیوتا اللہ کے دشمن خُدا کے طور پہ تسلیم کرتا تھا اور نتیجتاً اُس نے اس کو ختم کیا ۔ اِس واقع کو تسلیم کرتے ہوئے الآلات کی وحدانیت کو حجرہ اسود کے تصور کے ساتھ ذضرور رد کیا جانا چاہیے۔

ال عُضا بطور حجرہ اسود

جب سے آلات ( یسیرت ) ( ایفروڈائیٹ ) نے بطور حجرہ اسود حکومت کی تو ایک اور وجہ دریافت ہوئی ۔ جِس کے مطابق آثارِ قدیمہ اور تاریخ نے الا اُعضا کی دیوی کو بھی ایفروڈائیٹ کے برابر قرار دیا۔ نظریاتی طور پر دمشقی جان نے اپنے عقیدے کو دُرست کیا کہ ْھجرہ اسود ایفروڈائیٹ کا سربراہ ہے عربی ساحل اتیما کے مقام پر عرب کی ایفروڈائیٹ ال عُضا مقدس مجسمہ موجود ہے۔ (۴۱) اسی طرح قدیم نباتیہ میں الا اُعضا بطور ایک ایفروڈائیٹ بھی تصور کی جاتی ہے۔ (۴۲) نباتیوں کے درمیان ال عُضا ایک مقبول ترین دیوی تھی۔ وہ اکثر ایک مضبوط پتھر کے استعمال کی جاتی رہی ہے اور اِس کے بارے میں مقدس تحریر ‘‘ یہ ال عُضاہے اور خُدا کا گھر ہے ’’۔ (۴۴) میصابُت یعنی بتوں کی آنکھ اکثر تراشی جاتی تھی ۔ بتوں کی آنکھ کے تراشے جانے کی ابتدائی تاریخوں کا تعلق پہلی صدی عیسوی کے وسعت سے ہے اور چوتھی صدی عیسوی کے وسعت سے بھی ۔ (۴۵) نباتیہ میں ایک اور مشکل بالیوں کے ساتھ اِن کی آراہئش اور ناک اور دو آنکھوں کے ساتھ اِن کی دریافتیں بھی سامنے آئیں ممکنہ طور پہ نباتی لوگوں نے مِصر میں سے اس کو اختیار کیا جہاں ایفروڈائیٹ کا ایک بڑا بدعتی مجسمہ موجود تھا اور جس کو وسیع طور پر بنایا گیا تھا ۔ (۴۶)

ال عُضا ایفروڈائیٹ ‘‘ محبت اور خوبصورتی کی دیوی تھی اور یہ عورتوں کے زیور کے پیش کیے جانے کے لیے بہت ہی مناسب تھے۔ ’’ (۴۷) عرب میں اس کی بالیوں کی بقاء کے شواہد مسلمان تاریخ دان ابنِ اضحاق نے بھی دیئے ہیں۔ کاب ملک الا انصاری نے فرمایا ہم ال لات اور اُعضا اور وُود کو رد کرتے ہیں ۔ ہم اُن کے گلے کے ہاروں اور بالیوں کو رد کرتے ہیں ۔’’ (۴۸)

تاریخی ذرائع سے یہ پہلے بھی بیان کیا جا چُکا ہے کہ محمد اور اُس کا قُریش قبیلہ الا اُعضا ( ایفروڈائیٹ ) کی مکہ میں پوجا کرتا تھا ۔

اس طرح سے کیا حجرہ اسود اس دیوی کے لیے وقف کیا گیا تھا ؟ اس کی شناخت میں جواب یہ نظر آتا تھا کہ ال لات کے لیے محمد نے خُود حکم دیا کہ اُسے برباد کیا جائے ۔ رُسول نے خالد کو بھیجا کہ ال عُضا کے بُت جس کی نخلا عبادت کرتے تھے برباد کر دیا جائے۔ ابنِ اضحاق نے اس کی شناخت کو اس مندر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ قریش کے نانا اور مندر کے قبیلے اس کی پوجا کرتے تھے ۔ (۴۹) پھر بھی ابنِ قالبی نے اس کو نسوانی شیطان کے طور پر بیان کیا شاہد اس نتیجے کے ساتھ دو  اور ممکنہ خیالات بھی ملے ہوئے ہیں جب مکہ پر دوبارہ قبضہ ہوا تو نبی نے خالد کو نخلا کی وادی میں بھیجا اور اِس بدعت کو برباد کیا ابن الا قالبی نے اس واقعے کو بیان کیا ہے:

 محمد نے خالد کو حکم دیا ‘‘ نخلا کی وادی میں جاؤ وہاں تم تین درخت پاؤگئے پہلے درخت کو کاٹنا ’’ خالد گیا اور اُسے کاٹ دیا اپنی واپسی پر جب خالد نے خبر دی تو نبی نے پوچھا ‘‘ کیا تم نے وہاں کُچھ دیکھا ؟ ’’ خالد نے جواب دیا اور کہا ‘‘ نہیں ’’ نبی نے اُسے حکم دیا واپس جاؤ اور دوسرے درخت کو کاٹو وہ گیا اور اُسے کاٹا اپنی واپسی پہ اُس نے دوبارہ رپورٹ دی نبی نے اُس سے دوسری دفعہ پوچھا ، ‘‘ کیا تم نے وہاں کُچھ دیکھا ؟ ’’ خالد نے جواب دیا ‘‘ نہیں ’’ اس پر نبی نے اُسے دوبارہ حکم دیا کہ واپس جاؤ اور تیسرا درخت کاٹو جب خالد اُس جگہ پر آیا تو اُس نے دیکھا کہ ایک حبشی خاتون بکھرے ہوئے بالوں اور اپنے کندھوں پر بازو رکھے ہوئے اور اپنے دانتوں کو پیستے ہوئے موجود ہے اُس کے پیچھے دبایا الاسلامی کھڑی ہے جو اُس وقت ال عُضامحافظ تھی ۔۔۔ اُس عورت کی طرف مُڑتے ہوئے خالد نے اُسے موت کے گھاٹ اُتارا اور دیکھو وہ جل کر خاک ہو گئی پھر اُس نے اُس درخت کو گرایا اور اُس محافظ دبایا کو مارا اُس کے بعد وہ نبی کے پاس واپس گیا اور رپورٹ دی اِسی پر نبی نے کہا ، ‘‘ وہ ال عُضا تھی ، لیکن اب وہ اور مزید نہیں رہی ۔ عربوں کے لیے وہ مزید نہیں ہو گی اس لیے اُس کی دوبارہ پوجا نہیں کی جائے گی ۔ ’’ (۵۰)

 جب سے محمد نے نخلا میں ال عُضاکی بدعت کو برباد کیا تو یہ بات شکر و شبے کے ساتھ جاری رہی کہ مکہ میں اسی دیوی کی پوجا کی جاتی ہے یہ بات مزید شہادت بن گئی کہ محمد اللہ کے دشمنوں کی زمین میں گھڑ سواری کر رہا تھا ۔ دمشقی جان کی گواہی کے باوجود اور بے شمار آثارِ قدیمہ اور زباندانی کے رابطوں کے باوجود کوئی بھی شخص منطقی طور پر اس نتیجے پر پہنچ جاتا ہے کہ ال لات اور ال عُضا دونوں حجرہ اسود کی نمائندگی کرتی ہے۔

اللہ بطور حجرہ اسود

 سارے عرب کے اندر یہ تمام بڑے بڑے دیوتا خاص چٹان اور کُچھ مقدس مندروں اور مزاروں کے طور پر پیش کیے جاتے رہے ہیں ۔ ابنِ اضحاق بیان کرتے ہیں کہ ایک شہادت جو محمد کی خدمت کے دوران مندر کی دوبارہ تعمیر میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے :

مجھے قریش والوں نے بتایا کہ شام کی تحریر کے کونے میں یہ بات پائی گئی اور وہ اِس کو نا سمجھ سکے جب تک کہ ایک یہودی نے نہ پڑھا یہ لکھا ہوا تھا : ‘‘ میں اللہ بکا کا خُدا ہوں میں نے اسے اُس دن پیدا کیا جب میں نے آسمان اور زمین پیدا کی اور سورج اور چاند کو تشکیل دیا اور میں نے اس کو سات برگزیدہ فرشتوں سے گھیرا یہ کھڑا رہے گا جب کہ اِس کے دو پہاڑ ہونگے یہ اپنے لوگوں کو دودھ اور پانی سے برکت دے گا ’’ اور مجھے بتایا گیا کہ وہاں ایک مقام لکھا ہوا ملا ، ‘‘ خُدا کا گھر ہے اور اس کے وسائل تین طرف سے آتے ہیں۔ ’’ (۵۱)

اللہ کو مکہ میں کعبہ کا بڑا دیوتا ’’ مانا گیا اور اس کو حجرہ اسود کے طور پہ پیش کیا گیا بعد میں جِس کی ۳۶۰ دیوتاؤں کے درمیان پوجا کی گئی ۔ اور نتیجہ یہ نکلا کہ محمد نے دوسرے تمام دیوتاؤں کو اللہ کا مخالف جانا اور اللہ اُس کا پسندیدہ ہوا۔ مزید برآں محمد کے باپ کا نام عبدالہ ہوا جس کا مطلب ہے ‘‘ اللہ کا غلام ’’ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اُس کے خاندان میں باقی تمام دیوتاؤں پر اِس کو اپنے خاندانی دیوتا کے طور پہ اختیار کیا۔ اپنی خدمت کے دوران تمام بُت پتھروں اور مورتوں کو باہر نکال دیا گیا ماسوائے حجرہ اسود کے یہ بات تصدیق کرتی ہے کہ بلاشبہ حجرہ اسود مقامی مکہ والوں کے لیے بڑا دیوتا اللہ کہلایا جب محمد پتھر کو چُھوتا تھا تو اعلان کرتا تھا ‘‘ اللہ اکبر ’’

وہ اِس کے مجسم ہونے کی الوہیت کا اعلان کرتا تھا ۔

کوئی شواہد موجود نہیں کہ اُس نے اُس کے مطلب یہ رسموں کو جو عرب کے پتھر کی بدعات کے بارے میں تھی رہنے دیا تاہم یہ پورے طور پہ نہ ہو سکا کیونکہ حجرہ اسود ایک قُربان گاہ یا علامت کے طور پہ پیش کیا یہ واضح ہے کہ محمد نے مادیت پرستی کے پتھروں کی پوجا کرنے کی روایات کو برقرار رکھا ؟ اگر محمد نے عرب کی بُت پرستی کی شدت کے خلاف اسرار کیا ہے تو کیوں اُس نے بُت پرستی کی ایسی ہی رسموں کو ختم نہیں کیا اس بات کے ہم اثر جو شواہد ملتے ہیں وہ اس حقیقت کو پیش کرتے ہیں کہ محمد نے جان بوجھ کر نیتاً پتھر کے دیوتا اللہ کے مقابلے میں اُس کے تمام دشمن بدعتی پتھروں کو برباد کر دیا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

حصہ دوئم اللہ چاند دیوتا

پانچوا ں باب

اللہ ‘‘ چاند دیوتا ’’ اور الرحمان

‘‘ اللہ ’’ کے لفظ کا تجزیہ

مسلمان اس بات کا دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ ایک شخصی نام ہے جو دوسرے کسی بھی نام سے مختلف ہے وہ یہ بھی ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ وہی دیوتا ہے جِس کی پوجا ابراہام اور اُس کی نسلیں کرتی تھیں اس بات کی تفتیش میں کہ مسلمان اس ایمان کا اعلان کرتے ہیں اللہ کے نام کا جائزہ لینا ضروری ہے خاص طور پہ اس لفظ کی زبان اور تاریخ سے ۔

اللہ ( الہ ۔ لہ ) مکہ کا ‘‘ بڑا خُدا ’’

مغربی مفکر ماؤنٹ گومری واٹ دعویٰ کرتے ہیں کہ لفظ اللہ آل الہ سے ترمیم کیا ہوا ہے جِس کا مطلب ہے ‘‘ دیوتا ’’ خاص دیوتا ’’ یا بہت ‘‘ بڑا دیوتا ’’۔ اسلام سے پہلے عرب والے اللہ کو بطور مکہ میں کعبہ کے سب سے بڑے دیوتا کے طور پہ پوجتے تھے جیسے کہ طائف میں الہ لات کو سب سے بڑے دیوتا کے طور پر پوجتے تھے اس وجہ سے واٹ نے کہا ، ‘‘ اگر اللہ کا لفظ بھی اُسی خُدا کے لیے استعمال کیا گیا ہے جِس کو یہودی اور مسیحی تسلیم کرتے تھے تو پھر ایک بہت بڑی پریشانی کا موقع ہے ۔’’ (۱)

بہت ساری مثالیں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے موجود ہیں کہ اللہ بنیادی طور پر ایک مقامی ‘‘ بڑا دیوتا ’’ تھا قرآن بیان کرتا ہے۔ اب اگر وہ کشتی پر سفر کرتے تو وہ اللہ کو پُکارتے اُس کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے لیکن جب وہ خشکی پر اُتر آتے تو دیکھو وہ دوسروں کی پوجا بھی کرتے تھے ۔ ؎

( قرآن ۶۵ : ۲۹ )

مزید برآں

جب تکلیف آدمیوں کو چُھوتی تھی تو وہ اپنے خُداوند کی طرف توبہ کے لیے روتے ہوئے رُجوع لاتے لیکن جب وہ اُن کو اپنے رحم کی لذت عطا کرتا تو اُن میں سے بعض اپنے دوسرے دیوتاؤں کی پوجا کے لیے چلے جاتے ۔ ( قرآن ۳۳ : ۳۰ )

یہ بیان کہ وہ ‘‘ اُس کے ساتھ مخلصانہ عقیدت رکھتے تھے ’’ یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ اُن کے پاس اللہ کے مقابلے کے لیے دوسرے دیوتا بھی تھے ۔ (۲)

ان دیوتاؤں میں تین کا ہم نے پہلے جائزہ لیا جن کے نام الہ لات ، الہ عُضا اور مِنا ہیں۔

اِسی طرح مکہ کے ۳۶۰ سے زیادہ بتوں کے درمیان ہُبل بھی سب سے بڑا دیوتا تصور کیا جاتا تھا ۔ محمد کے اپنے دادا عبدالمطلب ہُبل کے پاس کھڑے ہوتے تھے اور اُس کو سب سے بڑا مقدس دیوتا جانتے تھے جب وہ اللہ کے سامنے دُعا کر رہے ہوتے۔ (۳) یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ کِس طرح سے اسلام سے پہلے مکہ میں مادہ پرست اللہ کے لیے بطور ایک مقامی ‘‘ بڑے دیوتا ’’ کے تصور کرتے تھے اُس نے کائنات میں کسی بڑے دیوتا کے طور پہ پہچان نہیں رکھی تھی قرآن کی ابتدائی صورتیں جو ممانعت کے لیے شامل ہوئیں جن کو شیطانی آیات کہا جاتا ہے وہ یہ ظاہر کرتی ہیں کہ محمد خُود اللہ کی بطور وحدانیت عزت کرتا تھا لیکن یہ بعد کی سورتوں میں میں موجود نہیں تھا کہ اللہ ہی بطور ایک بڑے دیوتا کے پوجا جاتا۔ (۴)

ایف۔ ای پیٹرز نے اللہ کی اصلیت کے لیے ایک اندازہ پیش کیا ہے :

اللہ کی بطور ایک دیوتا کے اصطلاح کی بدعت جنوبی شام اور شمالی عرب میں جانی جاتی تھی اور مکہ میں واضح طور پہ اس کو مرکزی اہمیت حاصل تھی جہاں کعبہ کی عمارت بغیر کسی شکوشبے کے اُس کا گھر تھا ۔۔۔ اللہ محض مکہ کا دیوتا نہیں تھا بلکہ وسیع طور پر وہ ایک ‘‘ بڑے دیوتا ’’ کے طور پر پوجا جاتا تھا یعنی چیف اور مکہ کے رہنے والے سردار کے طور پر۔ (۵)

اِس کتاب میں، کہ کیا اللہ خُدا کے لیے ایک دوسرا نام ہے ؟ رابرٹ مورے نے اِس کے استدال کی یہ لائن کھینچی ہے:

قرآن یہ بیان نہیں کرتا کہ اللہ کون ہے کہ محمد ایک مادہ پرست تھا عرب والے پہلے ہی جانتے تھے کہ وہ کون تھا وہ دُرست تھا اللہ کعبہ میں پوجے جانے والے بتوں میں سے مادہ پرستوں کا ایک بُت تھا۔ (۶)

کیا اللہ کا بائبل سے کوئی تعلق ہے؟

مسلمان مفکرین اکثر اللہ کے بائبل کے ساتھ تعلق میں مختلف آراء رکھتے ہیں بدقسمتی سے بہت سارے مسیحی اور یہودی رہنما پورے طور پر اللہ کی الوہیت کو نہیں سمجھتے جب وہ بائبل کے صحیفوں کے ساتھ اس کے تعلق کو جوڑتے ہیں ۔ یہ حصہ اس سوال کے جواب میں آپکے ہر غلط تصور کو صاف کر دے گ ا ۔

اللہ بطور ایک شخصی نام

اسلامی مفکرین اور مومنوں کی ایک اکثریت اس خیال کو تھامے ہوئے ہے کہ اللہ ایک شخصی نام ہے یہ وجہ ہو سکتا ہے کہ ایک مسلمان لھاری مولانا علی نے بیان کی ہو، جس نے بیان کیا :

 اللہ ایک خاص یا شخصی نام ہے ایک الہی ہستی جو تمام ناموں سے مختلف ہے جو اسما الصفات یا ناموں کی خصوصیات کہلاتی ہے بطور خاصیت یہ اپنے اندر کوئی خوبی نہیں رکھتی لیکن بطور نام یہ اپنے اندر بہت ساری خوبیاں رکھتا ہے جو کہ الگ طور پر صفاتی ناموں پر مشتمل ہے یہ کسی دوسرے لفظ سے نہیں نکالا گیا اور نا ہی اِس کا تعلق لفظ اِلہ سے ہے جس کا مطلب ( دیوتا یا پرستش کی کوئی چیز ہے ) بعض دفعہ یہ کہا گیا کہ اللہ الہ لہ کی ایک شکل ہے لیکن یہ ایک غلطی ہے۔ (۷)

مسلمان جو اس بات پہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ ایک شخصی نام ہے تو اُن کو بائبل کو پورے طور پر رد کرنا چاہیے کیونکہ ایک بھی لفظ اللہ کے نام سے بائبل میں نہیں مسلمان علی کی اسی بات کو پکڑے ہوئے ہیں یا پھر اُن کو یہ دعویٰ کرنا چاہیے کہ بائبل کے نام غلط ہیں یا اُن کو بائبل کے پیراؤں میں کسی ایک میں اللہ کے نام کو دریافت کرنا چاہیے۔ اللہ کے نام کے لیے ایل یا یہواہ کا نام بائبل میں واحد وسیلہ ہے۔

رابرٹ مورے اس بات کی حالت کے لیے جو کہ ایک مسلمان سفیر نے دعویٰ ککررتے ہوئے پیش کی ۔ کہ اللہ عبرانی لفظ ہیلویاہ کے برابر ہے تاہم یہ عبرانی لفظ جمع کا سیغہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک اکیلا لفظ ہے اور اس عبرانی لفظ کا مطلب یہواہ کی تعریف ہے یہ سفیر اس پیرائے میں جس میں یسوع نے ارامی زبان میں ایلی ایلی کہا یہ کہتا ہے کہ وہ حقیقت میں اللہ اللہ ہے درحقیقت نئے عہد نامے میں یہاں ایک ارامی محاورہ حوالے کے طور پہ بیان کیا گیا ہے ۔ جو زبور ۲۲ کی پہلی آیت سے لیا گیا ہے اور عبرانی خُدا کو پُکارا گیا ہے۔ (۸)

زباندانی میں یہ غیر منطقی کوشش بائبل کے ساتھ اللہ کی ہم آہنگی کو قائم کرنے میں کمزور ہے۔

مزید برآں اکیلا لفظ اللہ عبرانی زبان کی اصل میں ‘‘ درخت ’’ کے معنوں میں یا خاص طور پر ‘‘ بلوط کے درخت ’’ کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ ( یشوع ) ۲۶ : ۲۴ ) ۔(۹) تاہم یہ مقابلے کے الفاظ دُور دُور ہیں اگر مسلمان مفکرین اللہ کو ایک درخت سے تشبہہ دیتے ہیں تو یہ بھی بُت پرستی میں وحدانیت کی ایک شکل ہو گی اور یہ بات اور زیادہ مسائل پیدا کرے گی کہ ابتدائی عرب والے درخت کی پوجا کی گواہی پیش کرتے ہیں کُچھ مسلمان اس نتیجے پر بھی پہنچے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں کہ اُنھیں ضرور اس مسئلے کے حل تک پہنچنا چاہیے ۔ اِس طرح سے وہ سادہ طور پہ اعلان کرتے ہیں کہ خُدا کے لیے یہواہ کے نام کو شخصی طور پر تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کیا اس دعویٰ کو سچ ثابت کیا جا سکتا ہے؟ یقیناً نہیں پرانے اسلامی لوگ تو توریت اور زبور کو با اختیار کتابیں مانتے ہیں اور اِن کتابوں میں یہواہ ہی کا نام ہو گا اور اِن کے لیے اللہ کا ن ام نہیں ہے۔

دوسرے مسلمان یہ بھی کہتے ہیں کہ پرانا عہد نامہ گُم ہو گیا ہے اور یہ خُود ساختہ کتاب ہے۔ درائے مردار کے طوماروں نے ثابت کیا ہے کہ پرانے عہد نامے کے صحیفے پورے طور پر دُرست ہیں۔ ان طوماروں نے ۲۰۰۰ اور ۲۰۰ سال کی آثارِ قدیمہ کی تاریخ کو دُرست ثابت کیا ہے مزید یہ کہ یہ قابِل بھروسہ بائبل کا ترجمہ مکمل ہے اور یہودی معاشرے کا قانون ہے اور یہ قرآن کے دیئے جانے سے سینکڑوں سال پہلے سے ہے ۔

منطقی طور پر یہ بات غلط ہے کہ اللہ کی جگہ یہواہ کا نام آیا ہے یہاں تک کہ دو دیوتاؤں کی تعریفوں کے اندر بھی تضاد ہے یہواہ خُدا خُود اپنا وجود رکھتا ہے اور خُود کو ظاہر کرتا آیا ہے ۔ جب کہ اللہ محض ایک مجسمے کے جانا جا سکتا ہے وہ جو اس بات پہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ ایک شخصی نام ہے اُن کو بائبل کے یہواہ کے ساتھ اس کو جوڑنے میں نا ممکنہ حد تک کوشش کرنی پڑے گی۔

اللہ بطور ایک غیر شخصی نام

وہ جو اس عقیدے پہ ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ محض ایک غیر شخصی نام یا خطاب ہے تو اُن کے لیے ایک بہتر موقع ہے کہ وہ بائبل اور قرآن کے درمیان فرق دیکھ سکیں اس اختلاف کے لیے الہیاتی تعمیر کا اس حصے میں مظاہرہ کیا گیا اگر اِل ایک نسلی اصطلاح کے طور پہ استعمال ہوئے ہے تو اللہ کے لیے زباندانی کی جِڑ کو عبرانی اصظلاح ایل جو کہ خُدا کے لیے استعمال ہوا اُس کے ساتھ مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ عبرانی نسلوں کے خُدا کو کنعان کی سر زمین ہی سے اس نام کی اصطلاح دی گئی ہے اور یہ نام یوگریٹک زبان میں بھی بطور ایل ہی آیا ہے اور ایل کنعان بطور اُن کے شخصی دیوتا کے نام کے طور پہ استعمال ہوا ہے جس کاتعلق ابراہام کے خُدا کے ساتھ ہے جِس کو ایل ایلون کہا گیا ہے یعنی ‘‘ خُدا سب سے زیادہ بڑا ’’ ( پیدائش ۱۹ : ۱۴ ) تاہم خُدا کے لیے شخصی نام یہواہ ہی رہا ہے ۔ ( پیدائش ۱ : ۱۲ ؛ ۱ : ۱۵ ؛ ۱ : ۱۸ وغیرہ ) اور یہ بطور ابراہام کے خُدا کے ظاہر ہوا اور یہی نام موسیٰ کے لیے اور عبرانی نبیوں کے لیے ظاہر ہوا ۔

یہاں تک ایل کا تعلق ہے تو یہ بائبل میں قائم رہا ہے اور اکثر ناموں کے ساتھ جوڑا گیا ہے جیسے بیت ایل ( بیت ۔ ایل ) ‘‘ خُدا کا گھر ’’ اس لفظ کو انگریزی لفظ ‘‘ خُدا ’’ کےساتھ بھی جوڑا جاتا ہے جو کہ جرمن مادہ پرست بنیاد سے لیا گیا ہے اس لفظ کو بھی ایک زبانی نام کے طور پہ اختیار کیا گیا ہے اور یہ خُدا کے لیے شخصی نام نہیں ہے اور اس کو بھی ضرور واضح کیا جانا چاہیے کہ ایل یا خُدا زباندانی کی اصطلاحیں ہیں جبکہ یہواہ واحد شخصی نام ہے جو پاک توریت میں ظاہر ہوا۔

کیا مسلمانوں نے ایل کو شخصی یا غیر شخصی طور پر اپنے خُداؤں کے لیا ہے اور وہ یقین کرتے ہیں کہ ابراہام ، ہاجرہ اور اسماعیل اس کے تصور کو لیکر مکہ میں آئے اُنھوں نے خُدا پر ایمان کی اُلجھن یعنی ایل کو ذاتی یا غیر ذاتی طور پر خراب کرنے میں مادیت پرستی کو اختیار کیا جِس کو بعد میں مکہ میں قائم کیا ۔کیا اللہ محض ایک مجسماتی قوت یا ایک شخصیت ہے ؟ دونوں صورتوں میں اس کی منطقی صورتِ حالوں کو پیش کرنا نا ممکن ہے ۔

 اس لفظ اللہ کے لیے اس کی تعریف کے حوالے سے تین نمایاں مسائل ہیں : پہلے نمبر پر بہت سارے مسلمان اُس کو اپنے دیوتا کے شخصی الہ ہونے کا نسلی دعویٰ نہیں کریں گئے

دوسرے نمبر پر وہ اسی بات کو محسوس کرتے ہیں کہ اللہ کے ساتھ اُن کے شخصی خُدا ہونے کا دعویٰ محض اُن کی غیر شخصی نام کی تعلق داری ہے ۔ تیسرے نمبر پہ کہ ابراہام اور اُس کے خاندان نے مکہ کا سفر کیا یہ ایک نیا وحدانی ایمان ہے اور یہ محض اللہ کے خُدا ہونے کو ثابت کرنے کی بنیاد پر ہے۔

 اگر ہم پہلے حصے میں یہاں اللہ کو ایک غیر شخصی طاقت کے طور پہ دیکھا گیا ہے تو وہاں اسلامی الہیاتی نظریات کے خُدا کی فطرت ساکن شکل کی ہے اور یہ انسانی تصور سے پرےہے۔

اور یہ اس بات کو بھی پورے طور پہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خُدا کی شخصیت کو نہیں جانتے اور نہ ہی اُسے دیکھتے ہیں اور نہ ہی اُسے چھوتے ہیں اور نہ ہی اُس کے ساتھ کوئی شخصی تعلق ہے اور وہ انسان سے بہت پرے ہے اُس کے فرشتے ہی اُس کے اور انسان کے درمیان ایک پُل ہیں اور وہ اُن کے متعلق بھی بہت کم جانتے ہیں بہت سارے مسلمان کہیں گئے کہ اللہ کی کوئی بناوٹ نہیں ہے اُس کو وصول نہیں کیا جا سکتا اور وہ ناقابلِ جامع ہے ۔

اسلامی مفکرین اس متضاد مسئلے کے لیے بٹے ہوئے ہیں ۔ وہ جو یہ کہتے ہیں کہ وہ غیر شخصی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ ‘‘ مکمل الہ ’’ ہے اور ایک روح نہیں ہے اگر اللہ ایک شخص نہیں یا ایک روح نہیں تو پھر وہ کیا ہے ؟ کیا اللہ ایک غیر شخصی قوت ہے ؟ کیا اُس کی کُچھ صفات ہیں ؟ اگر ایسا ہے تو صرف ایک شخصی خدا ہی کی محبت اور معافی جسی خوبیاں ہو سکتیں ہیں ۔ کیا خُدا ترس کھانے والا اور رحیم ہے اگر وہ ایسا ہے تو پھر وہ ایک ساکن خیال یا قوت کس طرح ہے ۔

مسلمان مفکرین بیان کرتے ہیں کہ اللہ بطور ایک قسمت کے لِکھاری کے ہے اور اُس کا احترام بطور جھوٹوں کے سب سے زیادہ کیا جاتا ہے۔ ( سورہ ۵۴ : ۳ ) اس آیت میں عربی لفظ مُکارا کا مطلب ہے جُھوٹا ، دھوکہ دینے والا اور فریبی ۔ مسلمان یہودی شرعیت سے دیکھتے ہیں کہ یہواہ نے برائی کو پیدا کیا ۔( یسعیاہ ۷ : ۳۹ ) اسی سے وہ یہ اغز کرتے ہیں کہ یہواہ بھی اللہ کی طرح مُکارا ہے وہ اس بات سے اس چیز کو مدد دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ صحیفوں  میں جب سے یہواہ نے ابلیس کو پیدا کیا تو اُس نے برائی کو پیدا کیا یہ وجہ غیر منطقی ہے ۔ مسلمان یہ وجہ پیش کرتے ہیں کہ اگر یہواہ نے اُسے پیدا کیا ہے تو اُس کی تخلیق بھی اُس کی پہچان ہونی چاہیے یہ وحدانیت رکھنے والا خُدا نہیں جِس کو یہودی یا مسیحی خُدا کہتے ہیں۔ صحیفے اِس بات کو بیان کرتے ہیں کہ یہواہ نے ابلیس کو پیدا کیا تاکہ گناہگاروں کو سزا دے نہ کہ اُس کو غیر راست باز مُکارا کے طور پہ پیدا کیا اگرچہ مسلمان خُدا کو توحید کے ماننے والے کے طور پہ دعویٰ کرتے ہیں لیکن اُن کے بہت سے تصورات ایسے نہیں ہیں کیونکہ وہ ہندو ایمان کی طرح قسمت کے ہونے پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ ہندو بھی عظیم برہمن کو اچھائی اور برائی دونوں صفات رکھنے والا دیوتا مانتے ہیں۔ اللہ انسانوں پر اپنی رومی اور یونانی دیوتاؤں کی فطرت کے طور پر ظاہر ہوتا ہے اللہ کی صفات پاک یہواہ کی صفات کا عکس نہیں ہیں جِس طرح اُس نے اپنے آپ کو پاک توریت میں ظاہر کیا ہے۔

کوئی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ مسلمانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کیا ہے اِس کے باوجود نوے مختلف فرقے ہیں جو اسلامی ایمان رکھتے ہیں ۔ ہر گروہ مختلف عقیدے رکھتا ہے اور اِن کی تقسیم کے درمیان گرما گرم بحثیں ہوتی ہیں جن میں اللہ کی تعریفوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

یہاں تک تعلق دوسرے مسئلے کا ہے جِس کا تعلق اللہ کی اصطلاح سے ہے تو وہ اِس کو اپنے ذاتی دیوتا کے طور پہ اپنے تصور سے مانتے ہیں۔ اِس نظریے کے حِسا سے یہ ایک سنجیدہ الہیاتی لاگو کرنے کا مسئلہ ہے جو کہ مادہ پرستی کی الوہیت سے اختیار کیا گیا ہے مثال کے طور پہ ‘‘ بڑے دیوتا ’’ ایل کی پوجا کرنا یہ مادہ پرست کنعانیوں سے تھا جو بُت پرستی کے طور پر اِسے شخصی دیوتا تسلیم کرتے تھے جیسا کہ نیچے دیکھا گیا ہے کہ یوگریٹک ایل دیوتا جو کہ عربی زبان کے اِل سے لیا گیا ہے اِس کی تمام عرب میں بطور دوسرے شخصی چاند دیوتا کے پوجا کی جاتی تھی۔

ایک تیسرا بڑا مسئلہ تاریخی اور بائبل کے بیانات کی وظاحت میں اُٹھتا ہے۔ پاک طومار اسماعیل کے آباواجداد کے بارے میں بیان کرتے ہیں کہ یہ حویلہ سے شور کے علاقے سے تھے جو کہ مصر کے بارڈر کے پاس تھا جب آپ شور کو جاتے ہیں (پیدائش ۲۵:۱۸) یہ زمین سینا کی پہاڑی سے جنوب مغربی کونے میں دُور واقع تھی جو کہ ساحل سمندر اور پھر مِصر کی طرف جاتی تھی اِس کا حدوددربع مکہ سے بہت فاصلے پر تھا خاص طور پہ اُس وقت جب کوئی یہ تصور کرے کہ یہ زمین صحرا میں ہے اور یہ سفر کے لیے ایک بڑا مشکل مرحلہ ہے۔ عرب کے لوگوں کی حقیقی اصل نسل بدوؤں سے آئی تھی جو کہ سارے عرب میں اسماعیل کی پپپیدائش سے بہت پہلے رہتے تھے اور براہ راست کوئی بھی ایسے تاریخی شواہد نہیں ملتے جِس سے اسرائیلیوں اور عرب کے لوگوں کے درمیان خون کے ایک ہونے کی وجہ مِل سکے۔ صحیفے کے مطابق اُس کی نسل شعیر کے ملک کی پہاڑی میں بستی تھی۔ (پیدائش ۳۸:۸)

قرآن کے باہر کوئی بھی ایسے شواہد نہیں ملتے کہ ابراہام یا اسماعیل نے مکہ کے علاقے کی طرف ہجرت کی یہاں تک کہ اگر ابراہام اِس زمین میں گیا تو اُس کے دیوتا ایل نے اِس کو نسلی طور پر لیا ورنہ وہ ایک کنعانی مادیت پرست دیوتا کی پوجا کریں گئے۔ ابراہام کو شخصی نام یہواہ دیا گیا تاکہ کسی بھی مادیت پرست دیوتا کے تعلق سے بچے ایل کا لفظ دیوتا کے لیے نسلی طور پر برتا گیا اور اِس کی صفات کے سبب سے اِس کو ایل ایلون یا ایل شیڈائی کی خصوصیات بھی دی گئی۔ مکہ کے رہنے والے اور اِس کے اِرد گِرد کے لوگوں نے اِس نام ایل کو اختیار کیا یا دوسرے نمبر پر اِس شخصی نام کو اپنے دیوتاؤں کے حوالے سے استعمال کیا خاص طور پر چاند دیوتا کے بھیس میں یہ مشق یہودیوں اور مسیحیوں کے عقیدے کے لیے استعمال ہوتی تھی جیسا کہ پاک صحیفوں میں ظاہر ہوا ہے۔

اللہ بطور عرب والوں کے چاند دیوتا کے طور پر

سارے ابتدائی قریب مشرق میں چاند دیوتا کی بہت سارے ناموں سے پوجا کی جاتی تھی (۱) سمیرین (نانا)، جو کہ چیف دیوتا این لِلہ کا بیٹا تھا۔ (۲) عقائدین (گناہ)؛  (۳) بابلیوں کے ایمان کے دیوتاؤں کا ابتدائی باپ (۴) انو ، آسمانو کا دیوتا اور تمام دیوتاؤں کا سردار اور (۵) یوگرت مزید برآں خاص نام جو کہ مختلف نسلوں نے دیئے۔ (۱) نمراسُس جِس کا مطلب ہے ‘‘چمکتا طلوع’’۔ (۲) ‘‘ اُور کا خُدا ’’ اور (۳) ‘‘ اِرگیشریگل کا خُداوند ’’ جو کہ اُور میں چاند دیوتا کے لیے مندر کا ایک نام تھا۔ (۱۰)

نتیجتاً چاند دیوتا کی عرب میں بڑے اعلیٰ پیمانے پر پوجا ہوتی تھی اور اِسی کے ساتھ اِرد گرد کے علاقہ جات میں بھی صرف مکہ کا مشرقی حصہ گناہ کا صحرا تھا ، سینہ کا صحرا تھا اور چاند دیوتا کے بعد ہی ممکنہ طور پر اِس کا نام کوہِ سینا پڑا جو کہ سفر کرنے والے بدوؤں نے رکھا ۔ (۱۱)

غالباً بائبل کا ذکر بیان کرتا ہے کہ سینہ کا پہاڑ حُورب کے نام سے ہے۔ اِس لیے یہواہ خُدا کو اِس چاند دیوتا کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا۔ پرانے عہد نامے کے مطابق سختی سے چاند دیوتا کی بدعت کی ممانعت کی گئی ہے۔ (استثنا ۴:۱۹؛ ۱۷:۳؛ ۲۔سلاطین ۲۱:۳؛ ۳:۵ ؛ ۲۳:۵، یرمیاہ ۸:۲ ؛ ۱۹:۱۳ ، صفنیاہ ۱:۵ ) (۱۲) رابرٹ مورے اپنی تحریر چاند دیوتا اللہ : مشرقیِ وسطیٰ کے آثارِ قدیمہ میں بیان کرتے ہیں کہ فلسطین کے علاقہ حُضور میں ۱۹۵۰ ء کی دہائی میں ایک مندر تھا :

چاند دیوتا کے دو بُت ملیں ہیں اُن میں سے ہر ایک ایک آدمی کا مجسمہ ہے جو تخت پر بیٹھا ہوا ہے اور اُس کی چھاتی پر چاند کُھودا ہوا ہے وہاں کے لوگ واضح کرتے ہیں کہ یہ چاند دیوتا کے بُت ہیں بہت سارے چھوٹے مجسمے بھی ملے ہیں جِن کی شناخت چاند دیوتا کی بیٹیوں کے طور پہ ہوتی ہے۔ (۱۳)

بیان کیے گئے باب میں دیوی ال لات بطور ایک سُورج کی دیوی کی مُرید بیان کی گئی ہے لیکن مزید یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ وہ اپنی بہنوں ال عُضا اور مِنا ککے ساتھ چاند دیوتا اور سُورج دیوی کی بیٹیاں بھی ہیں یا شاید ہو سکتا ہے کہ ال لات در حقیقت سُورج دیوی تھی بعض اوقات اِن دیوتاؤں کا اُن کے علاقے کے حِساب سے دوہرا کردار بھی ہوتا تھا مزید یہ کہ حُضور کے علاقہ میں اللہ کی اِن تینوں بیٹیوں کے لیے چھُٹکارے کے باؤلز بھی ہیں یہ بات بڑی خاص ہے کہ مورے کے بیان کے مطابق تینوں بیٹیاں ال لات ، ال عُضا اور مِنا اکھٹی چاند دیوتا کے ساتھ اپنے سروں پر چاند کے نشان کے ساتھ پیش کی گئی۔(۱۴)

جیسے کہ پہلے ذکر ہوا ہے کہ نوبونی دس جو باب کا ٓخری بادشاہ تھا اُس نے چاند دیوتا کے لیے طیما میں جو کہ شمالی عرب میں ہے اُس کے لیے بڑی بدعت کی جگہ تیار کی تھی۔ یہ شہادتیں بھی ملی ہیں کہ جنوبی عرب میں چاند دیوتا کا بھی قبضہ تھا ایلئیڈ بیان کرتا ہے:

ہر شخص اپنے ہی خُدا کی پُوجا کرتا تھا واد (مِناؤں کا خُدا تھا) اُم کتابئین کا خُدا تھا ، سِن ( حیدراماؤتھس کا خُدا تھا) اور ایلمکا (سائبین کا خُدا تھا) جنوبی عرب میں مندروں کے درمیان دو مندر بہت مشہور تھے۔ ۱۔ حُوریدا کا مندر جو کہ حیدرماؤت میں ہے اور یہ مندر سِن کے لیے وقف ہے جو کہ مقامی چاند کا خُدا ہے اور دوسرا عوام کا مندر ہے (اِسے حرم بِلکس بھی کہتے ہیں یہ مارب میں واقع ہے اور ایلمکا کے لیے وقف ہوا ہے اور یہ سائبین کا چاند دیوتا ہے۔(۱۵)

جب کہ ‘‘ایلمکا’’ کا نام ‘‘اِل مُکا’’ ترجمہ کیا گیا ہے جِس کا مطلب ہے پانی کا دیوتا اور اِس کا تعلق سُورج کی دیوی شام سے تھا۔ (۱۶) اگرچہ جِیکس ریکمین نے اپنی کتاب ‘‘لیپینتھان دی اہل عربیہ دُو صد پری اسلامیکا’’ میں دعویٰ کیا ہے کہ دوسرا دیوتا بحیثیت سُورج کا دیوتا تصور کیا جاتا ہے۔ وہ اِس بات سے بھی متفق ہے کہ بہت سارے مفکرین پہلے دیوتا ایلمکا کا احترام بحیثیت ایک مرد چاند دیوتا کے کرتے تھے۔ (۱۷)

جنوبی عرب میں چاند دیوتا کے لیے تصور کیا جاتا ہے ۔ ایلمکا کا احترام بھی اِس علاقے میں چاند کے خُدا کے طور پہ کیا جاتا تھا۔ عرب کی لسانی تاریخ میں ‘‘اِل’’ یا ‘‘الہ’’ بطور چاند کے محاورے کے ہے۔ (۱۸)

دوسرے کو شار کے نام سے بھی پُوجا جاتا تھا۔ ڈیوڈ ایف گراف نے اپنی تحریر ‘‘ایکمینڈ کے وقتوں کے دوران عرب والے ’’ میں بیان کیا ہے شار کا نام بذاتِ خود چاند دیوتا سِن کے عہدے سے نکالا گیا ہے۔ ثانوی طور پر  ۱۱ ۔ تھہری ۔۔ ال ۔۔ شار۔(۱۹) ریکمین شیران کو بھی چاند دیوتا کے ساتھ ملاتا ہے۔ (۲۰)

یہ خاص دیوتا جِس کی شمال عرب میں پوجا ہوتی تھی اور وہ شارا کا ‘‘وہ’’ کہلاتا تھا۔ (۲۱) چاند دیوتا سِن اور دوسرا دیوتا شمالی عرب میں پوجے جاتے تھے جنوبی عرب اور اِس کے دور دراز علاقوں میں جو کہ نتیجتاً مکہ کی جگہ تھی اور جغرافیہ طور پر ایک تکونی مرکز تھا اِس بیان سے یہ بات نظر آتی ہے کہ اللہ آل الہ کا مساوی ہے اِس طرح سے اِس کا تعلق عرب کے چاند دیوتا کے ساتھ ملانا آسان ہے۔

مورے اِس تعلق کا ایک بڑا اچھا خلاصہ پیش کرتا ہے:

کیا یہ حیرانی کی بات نہیں کہ ہلال کو اسلام کی علامت کے طور پہ پیش کیا جاتا ہے؟ اور یہی ہلال اِن کی مسجدوں اور میناروں پر نظر آتا ہے؟ اور یہی ہلال اسلامی قوموں کے جھنڈوں پر نظر آتا ہے اور مسلمان روضہ بھی آسمان پر مہنے کے ہلال کے دوران رکھتے ہیں ؟ (۲۲)

کُچھ مسلمان قرونِ وسطیٰ تک اپنی مسجدوں کے اُوپر ہلال کی علامت کو نہیں رکھتے تھے۔ (۲۳) اگر اب ایسا ہوا ہے تو یہ کیوں شروع کیا گیا ؟ کیا یہ محض اتفاق تھا؟ وہ لوگ جو مافوق والفطرت  دنیا پر یقین رکھتے ہیں اُن کے لیے جو اب واضح ہے ۔ نئے عید نامے میں اِس طرح سے واضاحت ہوتی ہے۔

‘‘ خُدا کے سب ہتھیار لو تاکہ تُم ابلیس کے منصوبوں کے مقابلہ میں قائم رہ سکو۔ کیونکہ ہمیں خُون اور گوشت سے کُشتی نہیں کرنا ہے بلکہ حکومت والوں اور شرارت کی اُن روحانی فوجوں سے جو آسمانی مقاموں میں ہیں۔ اس واسطے تم خُدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ بُرے دِن میں مقابلہ کر سکو اور کاموں کو انجام دیکر قائم رہ سکو۔’’(افسیوں ۱۳ ۔ ۱۱ : ۶ )

لوگ یا قومیں اِن آسمانی بُری تاثیروں سے اکثر انداز ہوتی ہیں۔ زور آور دیوتا بطور ایک فریبی اور مُکار شیطانی دیوتا کے اُن سب پر جو اُس کے قبضے میں ہے ۔ حکومت کرتا ہے اسلام سے پہلے کی جڑیں ابتدائی چاند دیوتا کی بدعت اور بابلی عِلم فلکیات سے جنم لیتی ہیں جِس نے بہت سوں کو نفرت اور فریب کا شکار بنایا ہے اِس شیطانیت کے اسلامی پھل بربریت اور جنگ و جدل کی صورت میں چودہ سو سال تک ظاہر ہوتے رہے ہیں۔

   اسلام کی اِس فطرت کے سبب سے اسلام کے لیے نجات کا ذکر مندرجہ ذیل صورت میں ہے، ‘‘ دیکھو وہ جو ایمان نہیں لائے وہ جو صحیفوں میں ہے اور بُت پرست ہیں وہ آگ میں جائیں گئے۔ وہ بد ترین مخلوق ہیں۔ ’’(قرآن ۹۶:۶ ) اِسی طرح سے اوہ تُم جو ایمان لائے ہو تم یہودیوں اور عیسایئوں کو اپنے دوست نہ بنانا دیکھو اللہ غلط کام کرنے والے قبیلے کی راہنمائی نہیں کرے گا۔’’ (قرآن ۵:۵۱)

دوبارہ سورہ ۵:۶۹ میں یہ حکم آیا ہے کہ اللہ کو بطور اپنے بڑے دیوتا کے پُوجو۔

  دیکھو وہ جو ایمان لائے اور وہ جو یہودی اور سائبین اور مسیحی ہیں اُن میں سے جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور آخر تک قائم رہے اور ٹھیک کام کرتا رہے تو اُن کے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ ہی اُن کے لیے کوئی پریشانی ہے۔

نجات کے لیے اللہ پر ایمان لانے کے لیے جو بات درکار ہے کہ وہ پہلے پرانے عہدنامہ اور نئے عہد نامہ کو سمجھے اللہ ایک مادیت پرستی کا چاند دیوتا ہے جِس کی اصلیت آثارِ قدیمہ کے مطابق ابتدائی عرب کی پوجا کے ساتھ اللہ کی درختوں کے درمیان پوجا کی جاتی تھی جِن کو مقدس مزاروں کے طور پہ استعمال کیا جاتا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُن میں اکثر سخت درخت جسے اوک کا درخت جس کا عبرانی زبان میں ترجمہ اللہ کیا گیا ہے یعنی بدعتی پرستش کو بائبل میں منع کیا گیا ہے درحقیقت مادیت پرستی کی روایتوں کے مطابق وہ لوگ دن میں پانچ بار جُھکتے تھے ۔ اور وہ آسمانی کے سامنے خُود کو جُھکاتے تھے اور یہی روایتیں محمد کی نمازوں میں ہونے والی مشق کی جڑیں تھیں لیکن ایسی پوجا کو یہواہ پاک خُدا نے منع کیا ہے اور اِس کو بُت پرستی کے شیطانی اثرات کہا گیا ہے ۔ جیسے جیسے ابانوں نے ترقی کی تو لفظ اور گرائمر وقتوں کے ساتھ آپس میں شامل ہوئیں ابتدائی عبراننی زبان ابراہام کی زبان تھی جو بابل سے آیا اسماعیل اور عیسو کی نسلوں نے عرب کی آبادیوں میں شادیاں کیں اور اِسی طرح سے زبانیں دوسری زبانوں میں شامل ہوئیں۔ ایک دوسرا تصور جو آل لہ کے مطلب کے بارے میں ہے ۔ وہ بھی دُرست نہیں ہے کیونکہ بعد میں اُس کی جکڑیں خاص دیوتا کے ساتھ ملائی گئیں۔ چالدین عبرانی ایل یا اِل دو پہلے حروف ہیں جو کہ لفظ ایلوہیم یزراعیل میں موجود ہے اور اِنھی کو ہو سکتا ہے مثالوں کے طور پہ رکھا گیا ہو تاہم اِس معاملے میں ‘‘آل’’ بلاواسطہ طور پہ اللہ کے طور پہ استعمال ہوا ہے۔ اور ‘‘دی ڈیفینٹ آرٹیکل’’ کے طور پہ عربی زبان میں استعمال کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہ سکتا ہے کہ لفظ حالہ عربی زبان میں ہلال کے لیے استعمال ہوا ہو اور یہ ابتادئی عرب کے بدوؤں لوگوں نے ابتادئی عبرانی گرائمر کے ڈاھانچے سے اختیار کیا ہے ۔

مثال کے طور پہ عبرانی میں ایچ کا حرف ڈیفینٹ آرٹیکل کے لیے استعمال ہو گا اور بعد میں عربی میں یہ آل میں بدل دیا گیا جِس طرح کہ دی ڈیفینٹ آرٹیکل کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اب جِس طرح کہ یہ کہا جاتا ہے اگر عبرانی زبان کی ابتادئی شکل کے مطابق لفظ آہالہ ہلال کے معنی میں آتا ہے تو عربی زبان میں اِس کی حالت ترقی پزیری سے پہلے کی ہے اور ڈیفینٹ آرٹیکل کے بغیر اے اللہ کا مطلب ایک ہلالی چاند ہے ۔ یہ اللہ کے نام کو واضح کرے گا اور ممِصر اور عرب کے بہت سارے چاند دیوتا کو پیش کرتے ہیں۔

 اِس طرح سے اللہ ہلال چاند کے لیے استعمال ہوتا ہے اور اِسی لیے بہت سارے اسلامی قوموں کے جھنڈے پر علامت کے طور پر اِس نام کی جڑیں مزاروں اور آثارِ قدیمہ کی پُوجا کے طور پہ استعمال ہوا ہے اِس طرح سے اللہ عبرانی میں سخت لکڑی یا اوک کے درخت کے لیے استعمال ہوا ہے اور پھر آخر کار اِسی طرح کا لفظ چاند دیوتا کے اللہ کے لیے جِس کی پوجا درختوں کے جُھنڈوں کے درمیان ہوتی تھی اِس طرح سے عبرانی کا آہالہ اور عربی کے آہالہ میں ایک قریبی تعلق ہو سکتا ہے یہواہ نے آثارِقدیمہ کے جھنڈوں کی پرستش کو منع کیا اور توریت میں آہالہ یا اللہ کی شناخت کروائی۔ آثارِ قدیمہ اِس ساری معلومات میں ایک اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور اِن کے متغیرات اور تعلقات میں تعلق قائم کر سکتا ہے ۔ یہ بات بہت واضح ہے کہ عربی زبان نے تمام زبانوں کی طرح ترقی کی ہے اور نہ ہی اِس کی جڑیں آدم کی اصلی زبان کے ساتھ ملتی ہیں جیسے کہ بہت سارے مسلمان اِس کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ مسلمان جو عربی زبان کو انسانی ابتداء کی زبان کہتے ہیں وہ سائنسی مواد کا انکار کرتے ہیں ۔

مزاید برآں وہ بائبل کے ابتدائی بابلی ذکر کا بھی انکار کرتے ہیں جِس کے مطابق لوگوں کی زبانوں میں اختلاف ہو گیا ۔

 اسلام اور مسیحیت دونوں متضاد مذاہب ہیں اگر ایک کو قبول کیا جائے تو دوسرا فوراً رد ہو جائے گا ۔ اسلامی تعلمات کو حقیقی بائبل کی مسیحی معلومات میں شامل نہیں کیا جا سکتا تھا ۔ مسلمان مادیت پرستی کے چاند دیوتا کی پوجا کرتے ہیں اُن کے مذہب کی جڑیں یہودیوں کے خُداوند سے نہیں ملتیں بہت سارے مسلمان ابھی بھی یسوع کے خُدا ہونے کا انکار کرتے ہیں اور یسوع کے مجسم ہونے کے واقعے کا بھی کُچھ نام نہاد بدلے ہوئے مسلمان سادہ طور پر یسوع کو ایک اور نبی کے طور پہ قبول کرتے ہیں اور اُس کو تخلیق کے خُداوند کے طور پر قبول نہیں کرتے ایک اور افواہ جو زبانی پھیلی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ یسوع نے لوگوں کو خُود کو خُدا ہونے کا کہہ کر دھوکہ دیا جب وہ واپس آئے گا تو یسوع ضرور اللہ سے اپنے جھوٹے ہونے اور لوگوں کی غلط راہنمائی کے لیے معافی مانگے گا ۔ وہ اِس خیال سے نفرت کرتے ہیں کہ اگر ایک سچا مسیحی یسوع کو یہواہ خُدا کہتا ہے یہودی ذہنیت کے مطابق یوحنا رُسول نے بیان دیا کہ ہر آدمی یا روح یسوع کے جِسم اختیار کرنے کا انکار کرتی ہے وہ مخالفِ مسیح کی روح ہے ۔ یسوع یہواہ ، بچانے والا خُدا ہے۔ سوائے یہودی مسیحی کے ، خُدا کی روح کا کوئی بندہ نہیں کہہ سکتا کہ یسوع یہواہ نہیں (یعنی خُدا ) ۔ پینٹی کوست کے دن ۳۰۰۰ ایماندار یہودی یسوع کے نام پر بُلائے گئے کہ انہیں نجات دی جائے اور سارے ایک خُدا کو ماننے والے تھے۔ وہ کسی دوسرے دیوتا یا پیر بابے کو نہیں مانتے تھے کیونکہ یہ جھوٹے خُدا سمجھے جاتے تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یسوع نے اشارہ کیا ہے یہواہ بچاتا ہے ۔ جو کوئی انکار کرتا ہے کہ یسوع جسم میں حقیقتاً یہواہ تھا خُدا نہیں ہے ! یہ محمد بتاتا ہے جو کہ مخالفِ مسیح کی ایک قسِم کا نبی ہے۔

الرحمٰن

قرآن میں ایک کو نکال کر ساری سورتوں کے آغاز میں ایک کلام کا اضافہ کیا گیا ہے : ‘‘اللہ کے نام سے ، جو بڑا مہربان اور رحم کرنیوالا ہے’’۔ (۲۴) یہ مقولے قرآن کی ایک کتاب میں تالیف کرنے کے بعد شامل کیے گئے۔ عربی کے مترادفات (ہم قیمت الفاظ) رحم کرنیوالا (الرحمان اور ہمدرد (الرحیم) کسی دیوتا کیلیے حوالہ جات تھے جن کی پُوجا محمد کی پیدائش سے بہت پہلے کی جاتی تھی۔ الرحمٰن دیوتا کو اسلامی چاند دیوتا اللہ مذہب میں ملا دیا گیا اور پورے قرآن میں ثبوت دیے گئے۔

مسلمان دلیل دیتے ہیں کہ چاند دیوتا کا عقیدہ دوم ہڈھراموت(یمن) کے شمال میں موجود نہ تھی۔ قیاس کے طور پر جادوئی عمل نے مکہ کے مذہب میں سرایت نہ کی۔ (۲۵) تاہم اِسکو پچھلے حصہ میں پہلے ہی جھوٹا ثابت کیا جا چُکا ہے۔ یقیناً عقیدہ دوم کی جنوبی عرب سے شمالی عرب تک پرستش ہوتی تھی۔ اُسی طرح ، الرحمٰن ( الرحیم) کا عقیدہ جنوبی عرب میں اور اس کے ساتھ ساتھ وسطی عرب الیمامہ میں یہودی اثر کے ذریعے بنایا گیا۔

چوتھی اور پانچویں صدیوں سی۔ای سے کندہ کاریاں جنوبی عرب سے ملی ہیں ‘‘رحمانی’’ عقیدہ کا ثبوت دے رہی ہیں۔ اِس کو قرآن میں ‘‘حنیفہ’’ کی اصطلاح میں برابر تقسیم کیا گیا ہے۔ (۲۶) ایک یہودی بادشاہ بنام دہُو نوواس نے یمن میں ‘‘چھٹی صدی کے نصف’’ کے دوران حکومت کی ۔ وہ سارے مشرقِ قریب میں کئی زبانوں میں بڑے مشہور رہے جیسے : یونانی ، شامی ( ارامی) اور مختلف عربی لہجے ۔ اُسکی شہرت کی وجہ حبشی مسیحیوں کی انتہائی ایذا رسانی تھی جو جنوبی عرب میں ہوئی۔ وہ اکثر ‘‘ ہمائریٹوں کی مسیحی کتاب میں بطور مسروق مار ڈالنے والا مشہور رہا۔’’ وہ جھوٹے وعدوں سے مسیحیوں کو حوالے کرنے کے لیے چال چلتا ؛ کہ اگر وہ ‘‘کسی رحم کرنیوالے’’ (رحمٰن) کی قسم کھائیں تو انہیں نقصان نہیں پہنچایا جائیگا۔ پھر بھی ، یونہی وہ خُود کو ترک کرتے، وہ اُنہیں قتل کر دیتا۔ (۲۷)

قرآن میں دیوتا کے نام کی اِرتقاء اور آخری تالیف کے متعلقہ اپنی دریافتوں کو بیان کرتا ہے:

۔ ۔ ۔ ۔پہلیْ ابتدائی مکی سورتوں میں محمد تقریباً مستقل طور پر اللہ دیوتا کے طور پر نہیں بلکہ کسی دوسرے کا حوالہ دیتا ہے، جیسے ہم نے دیکھا ہے، بطور مالک یا ، کیونکہ اکثر بولنے والا ہوتا ہے آپکا مالک۔ یہ محفوظ شدہ ایجاد کے طور پر کسی نئے دیوتا کا نام نہیں ہے، کوئی دیوتا جسکی موجودگی مکہ میں ہے، سابقہ کے طور پر وہ گمنام ہے؛ بلکہ یہ ایک لقب ہے کسی آشنا کے لیے ایک حوالہ ۔ محمد کا آقا کونہ ہے؟

بعض اوقات اپنی تبلیغ کے آغاز کے بعد، شاید دو سال بعد، محمد الرحیم کا نام استعمال کرنا شروع کرتا ہے، ‘‘ رحیم شخصی’’، اس کے خُدا کے لیے اور نمایاں طور پر سورت ۵۶، ۶۸، ۷۸ ، ۸۹ اور ۹۳ میں مالک اور رحمٰن ساتھ ساتھ استعمال ہوئے ہیں ، اللہ کے ذکر کے ساتھ نہیں۔ مالک ، کے برعکس رحمٰن ایک نام ہے، ہمیشہ حرفِ تنکیر کے ساتھ استعمال ہوا ہے اور قرآن میں خُدا کے کئی دوسرے القاب جو کام میں لائے گئے بالکل مختلف ہیں۔ اور یہ ایک تاریخ کے ساتھ ایک نام ہے، وہ تاریخ جسکا مکہ کے ساتھ تعلق نہیں، وہاں اسلام سے پیشتر ‘‘الرحمٰن کا مذہب غیر مصدقہ رہتا ہے۔ جہاں رحمٰن کی پرستش یمن میں تھی اور حتیٰ کہ مزید دلچسپ ، کیونکہ اس کا براہِراست محمد سے تعلق ہے ، عرب کا مرکزی علاقہ جو الیمامہ کے نام سے مشہور ہے۔ (۲۸)

پیٹرز نے زور دیا ہے کہ کیسے پچاس سے زیادہ دفعہ الرحمٰن کا لقب ‘‘نام نہاد دوسرے مکی عرصے کی سورتوں میں اور اکثر حقیقت کے لیے واضح حوالہ جو اہل مکہ نے اس کا نام عجیب پایا’’۔ یا ناقابلِ قبول اس سورت ۲۱ : ۳۶ ، ۲۵ : ۶۰ اور ۱۳ : ۳۰ کا بطور ثبوت حوالہ دیا ۔ پیٹرز نے دعویٰ کیا ، ‘‘ ہو سکتا ہے کہ کسی کا خیال ہو کہ محمد کا رحمٰن اور اُن کا اپنا اللہ دو امتیازی دیوتا تھے ، جیسے اُن کے وہ رہے ہوں ’’۔ (۲۹) پیٹرز اسلام کے دیوتا کی نشونما کو بیان کرنا جاری رکھتا ہے:

ہم سورت ۱۷ میں ایک صلح کی شروعات کو دیکھ سکتے ہیں یا ؛ مزید درست طور پر ، محمد کے حصے میں ایک مراعات ہونے کے لیے کیا ظاہر ہوتا ہے، مذہبی نماز میں میں ایک مسلئہ کے فیصلہ کرنے کے سیاقوسباق میں : ‘‘اللہ کی نماز پڑھ یا الرحمٰن کی نماز پڑھ ، جس کو بھی تم پکارو، اس کے لیے بڑے خوبصورت نام رکھنا ۔۔۔ ’’ اس کے بعد، یہاں الرحمٰن کا کوئی مزید ذکر نہیں ، نہیں ، کسی بھی قیمت پر نہیں ، جیسے دیوتا کا عجیب نام ہے ۔ اس کے بعد سے وہ نام مکہ کے اللہ کے نام سے مشہور ہو گیا اور رحمٰن کو اسکی خوبیوں سے کم کر دیا گیا۔ قرآن کی ہر سورت کو بچانے کے لیے اس کے شروع میں یہ کلمہ متبرک سمجھ کر محفوظ کر لیا گیا : ‘‘ شروع اللہ کے نام سے ، جو بڑا مہربان (الرحمٰن) ہمدرد (الرحیم) رحم کرنیوالا ہے ’’۔ (۳۰) درحقیقت، حدیث اور قرآن دونوں نے محمد کے الہامی عمل کو مسلسل قائم رکھا پس اوپر بیان کردہ عمل جو دو دیوتاؤں کا ایک کلام میں ملا دینا ہے۔ اپنے قافلے کے دوروں کے دوران محمد نے الرحمٰن کا یہ نیا مذہب اور اسکی تعلیمات سیکھیں۔

ابنِ اسحاق نے ذکر کیا تھا کہ الیمامہ میں ایک شخص کو الرحمٰن کہا جاتا تھا۔(موسلما) لوگوں کو تعلیم دے رہا تھا ۔ (۳۱) محمد اس مقرر کردہ نبی کا ایک نیک بچہ تھا ۔ اس نے اخلاقی قوانین کا مجموعہ سکھایا کہ شراب کے ذائقے سے پرہیز کرے۔ ہر دیگر مہنے میں روزہ رکھنا ، شادی میں وفاداری ‘‘ایک بیٹے کی پیدائش کے بعد’’ اور دن میں تین مرتبہ رسمی نمازیں پڑھنا۔ وہ مجموعی طور پر یوم الآخرت میں جسم کے جی اُٹھنے روزِ عدالت اور الیمامہ میں حجر پر خانہ کعبہ کا اقرار پر زور دیا۔’’(۳۲) مزیدبرآں ، موسائلما اور محمد دونوں نے عربی سیرز کے طریقے کی غیر دلچسپ شاعری میں وقت ضائع کیا اور اُن دونوں نے ‘‘جن یا شیطان سے کسی تعلق کا انکار کیا’’۔ موسائلما کا ایمان تھا کہ ‘‘وہ’’ ‘‘خُدا کا ایک رسول ہے’’، اور اس کی وحیاں اوپر سے آتی ہیں، وہ وسیلہ جو یا تو الرحمٰن سے پہچانا جاتا ہے یا واضح طور پر وہ جو آسمان سے آتا ہے’’۔ (۳۳)

دونوں نبیوں کی تعلیمات کے درمیان واضح مشابہات کی وجہ سے سوال پوچھنا چاہیے، کون کس سے چیزیں استعمال کرتا تھا؟ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ ‘‘موسائلما بڑا جھوٹا’’ تھا یا ‘‘جھوٹا نبی تھا’’۔ جس نے محمد سے چُرایا خاص طور پر طریقہ کار کے معاملات میں۔ (۳۴) مسلمانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اسود یمن سے تھا اور موسائلمامہ سے تھا اور طلحہ اسد ملک میں اُس نے نبی کی بیماری کے دوران خُود کے لیے نبوت کا دعویٰ کرنے کی کوشش کی۔ (۳۵) اس مسئلے کو واضح کرتے ہوئے پیٹرز ایک مزید منطقی خیال دیتا ہے:

یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ موسائلما نے شروع سے الرحمٰن ادھار لیا اور خاص طور پر کامیاب مکہ کا محمد اور پھر بنو حنیفہ کو فرضی اللہ کے گرد جمع کرنے میں کامیاب ہو گیا ۔ یہ قبول کرنا زیادہ آسان ہے کہ الرحمٰن کی الیمامہ میں ایک اصلی اور طویل عرصے کی تعلیم تھی، جدید ریاض کے گِردا گِرد ایک مذہب جو ہو سکتا ہے محمد نے بھی بنایا ہو۔ (۳۶)

الرحمٰن یا الریحیم مذہب کی یمن میں بہت تعلیم دی گئی، محمد کے پیدا ہونے سے دو سو سال قبل۔ مزید برآں ، یہ قبول کرنے کے لیے یہ واجب ہو گا کہ یہ مذہب پہلے قائم تھا ، الیمامہ میں اس کا مرکز تھا اور دور دور تک پھیلتا رہا۔ قابلِ منظور ثبوت کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ محمد ظاہر ہونے والے ثقافتی اور مذہبی مقاصد استعمال کرتا تھا۔

سارے ثبوت متواتر بڑے نتیجہ خیز ہیں کہ محمد نے مذہب اسلام کے اصولات ایجاد نہ کیے ۔ اس نے واضح طور پر پہلے سے موجود عربی بُت پرست رسومات کو دوسرے قائم شدہ عقائد میں ملا کر ایک نیا مذہب بنا دیا۔ لاپرواہی سے آج مسلمان اندھے طریقے سے بغیر غور کیے ایسے دھوکے کو نظر انداز کر رہے ہیں ، بجائے اسکے کہ بڑے اچھے آثاِ قدیمہ کے اور تاریخی حقائق کی تحریری شہادت کے۔ بہت سے مسیحی اور یہودیوں کا ایمان ہے کہ اللہ یا اس کے دوسرے فرضی اللہ، الرحمٰن (رحم کرنیوالا) اور یہواہ ایک اور وہی ہیں ۔ اس سبق میں شامل ذریعہ کے مواد پر غور کرتے ہوئے، کوئی ایک اس قسم کی گول مول بات کو منطقی نہیں بنا سکتا ۔ اللہ ستاروں کی یعنی نجومی رسم ورواج کی بُت پرست طریقے سے نکلا ہے اور دیوتاؤں کی پرستش کے درمیان چاند دیوتا کو مرکز بنایا گیا۔ کسی جگہ بھی تاریخی تجزیاتی طور پر ثبوت کا ذکر نہیں نام اللہ یہودیوں اور مسیحیوں کے یہودی خُدا کی طرف اشارہ کرے۔

مسیحیوں اور یہودیوں کے درمیان اور حالیہ ہلچل کا رضحان رہا ہے کہ اسلامی کمیونٹی کو اطمینان دیا جائے۔ اس نئی تحریک کو ‘‘کراسلام’’ کا نام دیا گیا ہے اور مسحیت اور اسلام کو ملانے کی ایک کوشش ہے۔ اس تحریک کی بنیاد نائجیریا میں رکھی گئی ہے اور عالمی طور پر پھیل گئی ہے۔ ییل یونیورسٹی کی ایک کانفرس جو جولائی ۲۰۰۸ میں ہوئی اسلام کو قبول کرنے اور اطاعت کی ایک بہت اعلیٰ مثال کا آغاز ہے؛ ۳۰۰ نمایاں مسیحی رہنماؤں نے ایک خط پر ‘‘ہمارے اور تمہارے درمیان ایک مشترکہ کلمہ’’ پر دستخط کیے۔ یہ خط ‘‘رحم کرنیوالے’’ کے نام لکھا گیا، جو اللہ کی طرح کے ہی دیوتا کی طرف اشارہ ہے۔ یہ انجیل کے خادم کیسے دھوکا کھا سکتے ہیں جب ایسی اہمیت کے واقعات پیش آتے ہیں؟ مزیدبرآں قرآن بار بار مسیح کی الوہیت کا انکار کرتا ہے۔ دوبارہ یہ رہنما کیسے ان حقائق کو نظر انداز کر سکتے ہیں اور ادھم مچانے والا خُدائی انکار کر سکتے ہیں؟ حتیٰ کہ انہوں نے حقیقت کی غلط تشریح کی کہ خط میں جب محمد کا بطور خُدا کا نبی حوالہ دیا گیا کوبڑا ‘‘پی’’ استعمال کیا گیا جو اشارہ کرتا ہے کہ وہ دوسرے تمام نبیوں سے اعلیٰ تر ہے۔ یہ استعمال اسلامی وسیلہ مواد میں استعمال نہیں کیا گیا بلکہ حقیقتاً خط کے بڑے حصے میں ان کلیسیائی رہنمائی کی طرف سے کوئی بہانہ نہیں کیا جا سکتا جب قطعی طور پر خُدا کا انکار کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اس قسم کی استعمال کی گئی زبان سے گمراہ ہو گئے یا دھوکہ کھا گئے ہیں تو اُنہیں اس حقیقت کو پہچاننا چاہیے اور اپنی غلطی کا اقرار کرنا چاہیے۔ بہت سی ویب سائیٹس اس خط کے دستخط کنندگان کو دکھاتی ہیں ۔ مصنف کی یہ خواہش نہیں کلیسیا کے اندر خانہ جنگی پیدا کرے بلکہ جب نجات کے بارے ایسے قابلِ غورواقعاتن ہوتے ہیں تو ضرورت مسئلہ زیرِ بحث ہونا چاہیے۔ یہ کلیسیائیں آمنے سامنے آنے کے لیے وسیع برتری ہے، ایک لمحہ کے لیے ، کیا پولس رسُول نے ایک دفعہ پطرس کو ایسا نہیں ڈانٹا ٹھا جب پاک اور ناپاک کے متعلقہ مسئلہ تھا؟ فوراً مسئلہ ٹھیک کر لیا گیا ، پس یہ کہ ابتدائی کلیسیاء میں مزید ابتری نہ پائی گئی۔ اسی طرح ، اس سے پہلے کئی گمراہ ہوں کلیسیا میں یہ اہم مسئلہ بیان کرنا چاہیے۔

 

 مخفف اے

چاند دیوتا کے مندروں کی عرب کے قافلوں کے راہوں پر جگہوں کی فہرست۔

گناہ کا صحرا ۔ ایک ایسا علاقہ جو چاند دیوتا کے گناہ کے لیے وقف ہونے کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اُعور ۔ ابتدائی مندروں میں سے ایک جو چاند دیوتا کے لیے وقف ہوا۔

حاران ۔ چاند دیوتا کے لیے ایک  کھدائی کیا ہوا مندر۔

لمیا۔ بابل کا آخری بادشاہ نیبونی ڈس ( ۵۵۵ ۔۵۳۵ ) نے چاند دیوتا کے لیے اِس شہر کو تعمیر کیا ۔

مکہ۔ کعبہ کے اندر ۳۶۰ بُت نسب تھے اللہ چاند دیوتا تھا اور مندر کے سب سے بڑے دیوتا کے طور پہ جانا جاتا تھا۔

مارب ۔ الیمکا کا مندر سائبین چاند دیوتا کا مندر ۔

ہوریدہ ۔ گناہ کے چاند دیوتا کا مندر جو ۱۹۴۴ء میں جی کیٹن تھامسن نے کھدوایا۔

مِصر ۔ بُہت ساری جگہیں اعسترہ کے لیے وقف تھیں جو کہ گناہ کے چاند دیوتا کی بیٹی تصور کی جاتی تھی ۔

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

مخفف بی

وہ حقائق جو اِس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ اللہ چاند دیوتا ہیں

۔   ۔ قمری کیلنڈر کا استعمال بطور اسلامی معیار کے استعمال ہونا ۔

۔  ۔ ہلال چاند کا زیادہ تر مسجدوں کے اُوپر موجود ہونا ۔

۔  ۔ بڑے مذہبی تہوار رمضان کا چاند کے حساب سے شروع ہونا اور چاند کے حِساب سے ختم ہونا، جیسا کہ اسلام کے وقتوں سے پہلے ہوتا تھا ۔

۔  ۔ چاند کے مندروں کی جغرافیائی دریافتیں اور عرب کے قافلوں کے راستوں پر اِس کا ملنا۔

۔  ۔ اسلام کے بڑے مندر ( کعبہ)  کا چاند دیوتاؤں کے ساتھ مخصوص ہونا خاص طور پہ دیوتا اللہ کا ( یعنی چاند دیوتا )

۔  ۔ اللہ چاند دیوتا اللہ کی بیٹیاں ( الات ، الُعضا اور مینا ) بنیادی طور پر محمد سے پوجا کی جاتی تھی۔

۔   ۔ بے شمار زباندانی کے تعلقات جو عرب کے مختلف چاند دیوتاؤں سے ملتے جُلتے ہیں۔

 

 

نوٹس

تعارف

 ۱ ۔ میری پیٹ فِشر اور رابرٹ لیوسٹر ، لیونگ ریلیجنز ( اینگل وڈکلپس : ( پرینسٹس ہال ، ۱۹۹۱ ) ، ۲۹۱ ۔

۲۔ سائٹ لکھنی ہے ( مئی ۲۰۱۱ سے شروع ہوئی )

۳۔ رابرٹ سی ڈیگلس ، ‘‘ چیلنج آف دی مُسل ورلڈ ’’ورلڈ ایونجلیزم ۱۵ ، نمبر ۵۵ ( نومبر سے دسمبر ۱۹۸۸ ) : ۱۵

۴۔ رابرٹ ایمورے دی اسلامک اِنویشن : کنفرنیٹک دی ورلڈز فاسٹس گرائنگ ریلجن ( یوجن ، اُعر : ہاروس ہاؤس پبلشرز ، ۱۹۹۲ ) ، ۵ ۔

۵۔ تخفیف ۵ ۔ ۶ ۶۔ سرل گلاسی ، اسلام کا جامع انسائیکلوپیڈیا ( نیویارک : ہارپر اینڈ روپبلشرز ۱۹۸۹ ) ، ۳۱۳

۷۔ تخفیف ۔ ، ۳۸۵

۸۔ تخفیف ۔ ، ۳۱۳

تخفیف ۔ ، ۲۱۴

باب اول

۱۔ گلاسی انسائیکلوپپیڈیا آف اسلام ، ۲۱۴۔

۲۔ ابوالولید محمد الہ ازرقی، ‘‘ اخبار مکہ ’’ فردیند وُسٹن فیلڈ ڈائی خرومینک ڈرستت مکہ والیم نمبر ۱ لِپزگ ( ۱۸۵۸) : ریپ ۔ ( ہِلڈرشم : جارج اُومز ، ۱۹۸۱ ) ، ۱۴۰ سے ۱۴۴ ؛ ایف ای پیٹرز کے بیان میں ، حج : مسلمانوں کا مکہ اور پاک جگہوں میں زیارت کرنا ۔ ( پِنسٹن : یونیورسٹی پریس ، ۱۹۹۴ ) ۶۳۔

۳۔ تخفیف

۴۔ دمشق کا یوحنا ، ‘‘ آن ہیرسیس ’’ دمشق کے مقدس یوحنا میں : تحریریں ، والیم ۳۷ ، دی فادر آف دی چرچ : ایک نیا ترجمہ ، ٹرانس ۔فریڈرک ایچ چیز رائے جوزف ڈیفری ایتھ ایل ۔ ( نیویارک : فادرز آف دی چرچ۔ ، ۱۹۵۸ ) ، ۱۵۷

۵۔ گلاسی ، انسائیکلوپیڈیا آف اسلام ۷۷۔

۶۔ تخفیف ۔ ، ۳۲۳

۷۔ تخفیف۔ ، ۳۲۲

۸۔ صیححالبخاری، حدیث : ( نبی محمد کی کہی ہوئی اور کی ہوئی روایات جو اُس کے ساتھیوں نے بیان کی ( ۱۹۴ سے ۲۵۶ )

ہجری ۔ ( ۸۱۰ سے ۸۷۰ ) عیسوی ۔ ، والیم ۹ ٹرانس ۔ محمود متراجی ( بیروت : دارلحفکر ، ۱۹۹۳ ) ، والیم ۱ ، نمبر ۳۴۹ : ۱۳۰ سے ۱۳۱

۹۔ جی ۔ ای ۔ ون گرون بوم، محمڈن فیسٹیول ( نیویارک ہنسری شمعون ۔ ، ۱۹۵۱ ) ، ۲۳ ۱۰۔ رچرڈ ایف برٹن ، مکہ کے لیے اور مدینہ کے لیے زیارت کا شخصی بیان ، والیم ۲ ، ایسبل برٹن ( نیویارک : ڈوور پبلیکیشنز۔ : ۱۹۶۴ ) ، ۱۶۹۔

۱۱۔ تخفیف ۔ ، ۳۲۶

۱۲ ۔ گرونے بوم ، فیسٹیول ۲۳

۱۳۔ گلاسی ، انسائیکلوپیڈیا آف اسلام ، ۲۱۴

۱۴۔ میریسیا الییڈیا، ایڈ ۔  ۔ ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ( نیویارک میکمیلن پبلیشنگ ، سی او ، ۔ ۱۹۸۷ ) ، ۸ : ۲۲۵

۱۵ ۔ گلاسی انسائیکلوپیڈیا آف اسلام ، ۲۱۴

۱۶ ۔ الیسڈیا ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۸ : ۲۲۵

۱۷۔ البخاری ، حدیث ، والیم ۸ ، نمبر ۶۲۲۷ : ۸۳ اور والیم ۴ نمبر ۳۳۲۶ : ۲۲۱

۱۸۔ الیضبات ایلک اور پال ایلک ، ایڈز، مکہ دی بلِسڈ مدینہ دی ریڈینٹ ( نیویارک : کراؤن پبلشرز ۱۹۶۳ )، ۱۶

۱۹۔ تخفیف ۱۶ ۔ ۱۷

۲۰ ۔ تخفیف ، ۱۷

۲۱۔ الطبری ، طبری کی تاریخ ، احسان یا، شاطر اور مترجم فرانز روسنتھل ، والیم ۱، عام تعارف اور طوفانِ نوح کی تخلیق سے ( البینی : سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک پریس ، ۱۹۸۹ ) ۳۰۳

۲۲۔ تخفیف ، ۲۹۳

۲۳۔ تخفیف ، ۳۰۳

۲۴۔ ایف ای پیٹرز ، یہودیت ، مسیحیت اور اسلام : شاندار پیرائے اور اُن کی تغیر ( پرنسٹن : پرنسٹن یونیورسٹی پریس ۱۹۹۰ ) ۹۰۸

ایلک اینڈ ایلک ، مکہ دی بلسڈ ، ۱۸۔

(۲۶) الطبری، طبری کی تاریخ

(۲۷) ایلک اینڈ ایلک، مکہ دی بلسڈ ، ۲۲

(۲۸) تخفیف

(۲۹) پیٹرز؛ کلاسیکل ٹیکٹس ، ۹۰۹

(۳۰) تخفیف

(۳۱) تخفیف ۔ ، ۹۱۰

(۳۲) تخفیف ۹۰۸

(۳۳) ایلسڈ ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ۸ : ۲۲۵

(۳۴) گلاسی، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۷۷

(۳۵) پیٹرز ، حج ، ۱۴ (۳۶) تخفیف ، ۱۵

(۳۷) البخاری ، حدیث ، والیم ۲ ، نمبر ۱۶۱۶ : ۲۵۳

(۳۸) تخفیف ۔ ، ۱۶۰۵  : ۲۵۴

(۳۹) تخفیف ۔ ، ۱۶۱۶ ؛ ۲۵۶

(۴۰) تخفیف ۔ ، ۱۶۰۷ : ۲۵۴، ۱۶۱۲ ۔ ۱۳ : ۲۵۵، ۱۶۳۲ : ۲۶۱،

(۴۱) ایف ۔ای پیٹرز،محمد اور اسلام کی ابتداء (البانی : سٹیٹ یونورسٹی آف نیویارک پریس ؛ ۱۹۹۴)، ۲۳۶۔

(۴۲) البخاری، حدیث والیم ۲، نمبر ۱۵۹۷ : ۲۵۱

(۴۳) گرونےبوم،فیسٹیول ، ۴۴

(۴۴) تخفیف۔ ، ۲۹

(۴۵) تخفیف ، ۔۴۲ ۔۴۳

(۴۶) تخفیف، ۔ ۴۳

(۴۷) تخفیف ۔ ، ۴۴

باب دوم

(۱) ایلیڈ ، انسدائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۱۴:۵۰

(۲) تخفیف

(۳) تخفیف۔ ، ۴۵

(۴) رابرٹ کھاراکس، ماسٹرز آف دی ورلڈ، ٹرانس، لوول بلئر (نیویارک: برکلے پبلشنگ کورپ۔ ، ۱۹۷۴ ) ، ۵۵

(۵) ایلیڈ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ۱۴:۵۳

(۶) کھاراکس ، ماسٹرز، ۵۵

(۷) ایلیڈ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن، ۱۴:۵۳

(۸) تخفیف

(۹) کھاراکس، ماسٹرز، ۵۶

(۱۰) ایلیسڈ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۱۴:۱۵

(۱۱) کھاراکس ، ملسٹرز، ۵۶

(۱۲) تخفیف

(۱۳) ایلسڈ ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۱۴:۴۶

(۱۴) تخفیف۔، ۱۴:۵۲

(۱۵)تخفیف

(۱۶) تخفیف

(۱۷) تخفیف

(۱۸) تخفیف

(۱۹) تخفیف

(۲۰) کھاراکس، ماسٹرز، ۵۷

(۲۱) ایلک اینڈ ایلک، مکہ دی بلسڈ ، ۲۱۱

(۲۲) البخاری ، حدیث، والیم ۹ ، نمبر ۷۳۳۳ : ۶۸

(۲۳) پیٹرز، اوریجنز ، ۱۶

(۲۴) حشام ابن القالبی، بتوں کی کتاب ال صنام کا ایک ترجمہ، ترجمہ، نبی امین فارس ( پرنسٹن : پرنسٹن یونیورسٹی پریس ۱۹۵۲) ۱۰ ۔ ۱۱

(۲۵) تخفیف۔ ، ۴۰

(۲۶) گرونے بوم، فیسیول ، ۲۳

(۲۷) ابن اضحاق، محمد کی زندگی : اضحاق کی سیرتِ رسول اللہ کا ایک ترجمہ ، ترجمہ : گئیول می ( کراچی ، پاکستان : آکسفورڈ یونیورسٹی پریس ، ۱۹۶۷ ) ، ۸۴

(۲۸) تخفیف ۔ ، ۸۵

(۲۹) پیٹرز ، اوریجنز ، ۱۲ ، ۲۷۰

(۳۰) پیٹرز، حج، ۲۱

(۳۱) ابن القالبی ، آئیڈلز، ۲۸(۳۲) پیرز ، اوریجنز ، ۱۵

(۳۳) القالبی ، آٹیٹلز ، ۲۷

(۳۴) تخفیف ۔ ، ۲۸

(۳۵) تخفیف ۔ ، ۴۶

(۳۶) تخفیف ۔ ، ۲۸ ۔ ۲۹

(۳۷) تخفیف ۲۹ ۔ ۳۲

(۳۸) تخفیف

(۳۹) تخفیف ۔ ۳۳

(۴۰) تخفیف ۔ ، ۵۱

(۴۱) تخفیف ، ۔ ۳۳، ۴۲

(۴۲) تخفیف ۔ ، ۳۵ ۔ ۳۶

(۴۳) تخفیف ۔ ، ۳۶ ۔ ۳۷

(۴۴) تخفیف ۔ ، ۳۴

(۴۵) الطبری ، الطبری کی تاریخ ، ایڈ۔ احسان یار شاطر ، ترجمہ ڈبلیو مونٹ گومری واٹ اینڈ ایم وی میکڈونلڈ ، والیم ۔ ۶ ، مکہ میں (البانی : سٹیٹ یونیورسٹی آف نیویارک پریس ، ۱۹۸۸) ، ایکس ایکس ایکس ۹، ۴۴

باب سوم

(۱) ابن القالبی ، آیڈلز ، ۱۲

(۲) تخفیف ۔ ، ۱۳

(۳) تخفیف ۔ ، ۳۱

(۴) ایلک اور ایلک ، مکہ دی بلسڈ ، ۳۱ (۵) ابن القالبی ، آئیڈلز ، ۱۴

(۶) تخفیف ، ۱۶ ، ۲۲۔۲۳

(۷) پیٹرز ، اوریجنز ، ۱۲۲

(۸) ابنِاضحاق ، لائف ، ۹۸ ۔ ۹۹

(۹) تخفیف ، ۹۹

(۱۰) تخفیف

(۱۱) البخاری ، حدیث ، والیم : ، نمبر ۳ : ۵ ۔ ۶

(۱۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۹ ، نمبر ۶۹۸۲ : ۴۹ ۔ ۵۰

(۱۳) ابن اضحاق ، لائف ، ۹۹

(۱۴) تخفیف ۔ ، ۹۹ ، ۱۰۳

(۱۵) پیٹرز ، اوریجنز ، ۱۲۳

(۱۶) ابناضحاق ، لائف ، ۲۷۸

(۱۷) مورے، اسلامک اِنویشن، ۱۴۷ ۔ ۱۵۱

(۱۸) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۷ ، نمبر ۵۴۹۹ : ۱۶۱

(۱۹) ابن القالبی ، آئیڈلز ، ۱۶ ۔ ۱۷

(۲۰) البخاری ، حدیث ، والیم ۸ ، نمبر ۶۳۶۸ ، ۶۳۷۵ ، ۶۳۷۷ : ۱۳۰ ، ۱۳۲ ۔ ۳۳ ؛  والیم ۔ ۱ ، نمبر ۷۴۴ : ۲۴۶

(۲۱) البخاری ، حدیث ، والیم ۸ ، نمبر ۶۳۹۸ ۔ ۹۹ : ۱۳۰ ۔ ۴۰ (۲۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۔ ۹ ، نمبر ۔ ۶۹۸۲ : ۵۰

(۲۳) البخاری ، حدیث والیم ۔ ۲ ، نمبر ۱۳۶۳ ۔ ۶۵ : ۱۶۲

(۲۴) تخفیف ، ۱۲۲۸ ۔ ۲۹ ، ۱۲۳۲ :  ۱۱۷ ۔ ۱۹

(۲۵) الطبری ، تاریخ ، والیم ۶ : ۱۰۸

(۲۶) اِلسی لِچڈن سٹر، قرآنی مسائل سے متعلقاً ایک تحریر، اسرائیل کی بنیاد پر ایک مطالعہ ۵ ( ۱۹۷۵ ) : ۶۰

(۲۷) الطبری ، تاریخ ، والیم ۶ ، ۱۰۸ ۔ ۰۹

(۲۸) القالبی ، آئیڈلز ، ۱۷

(۲۹) ابناضحاق ، لائف ، ۱۶۶ ۔ ۱۶۷

(۳۲) مونٹگومری واٹ ، مکہ میں محمد ( آکسفورڈ کلیرنڈن پریس، ۱۹۵۳) ۱۰۳

(۳۳) ایم ۔ ایم ۔احسان ، ‘‘ سٹینکورسزاینڈدیاورنیٹلیسٹس : نام نہاد شیطانی آیات کے مستند ہونے پر تحریر ، ہمدرد اسلامکس ۵ ؛ نمبر ۔ ۱ ( ۱۹۸۲) : ۲۷ ۔ ۳۶

(۳۴) البخاری ، حدیث والیم ، ۲ ، نمبر ۱۵۹۷ : ۲۵۱

باب چہارم

(۱) گکاسی ، انسائیکلوپیڈیا آف اسلام ، ۷۷

(۲) ایلسڈ ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۱۴: ۵۰

(۳) تخفیف ، ۱۴: ۵۱ (۴) تخفیف ، ۱۴: ۵۰

(۵) تخفیف ، ۸ : ۲۲۵

(۶) مولانا محمد علی ، دی ریلجن آف اسلام ، اسلام کے ذرائع ، اصول اور عمل پر ایک جامع بحث ( لاہور ، پاکستان : احمدیہ انجمن اشاعتِ اسلام، ۱۹۸۳ ) ، ۵۲۰

(۷) تخفیف

(۸) جیفری ڈبلیو بروملی، ایڈ۔، دی انٹرنیشنل سٹینڈرڈ بائبل انسائیکلوپیڈیا والیم ۔ ۱ ، ( گرینڈ ریپڈز : ولیم بی ۔ ایرڈمینز پبلشنگ کو۔ ، ۱۹۷۹ ) ۷۷۱۔

(۹) میرل سی۔ٹینی ، دی زونڈروین پکٹوریل انسائیکلوپیڈیا آف دی بائبل ، والیم ۔ ۱ ، (گرینڈریپڈز وین کروپ ، ۱۹۷۶ ) ۹۷۹۔

(۱۰) پیٹرز ، کلاسیکل ٹیکٹس ، ۲۴۹

(۱۱) دمشقی یوحنا ، اون ہیرسِس ، ۱۵۶

(۱۲) البخاری ، حدیث ، والیم ۷ ، نمبر ۵۹۵۲ : ۲۸۷

(۱۳) دمشقی یوحنا ۔ اون ہیرسیس ، ۱۵۷

(۱۴) تخفیف ، ۱۵۳

(۱۵) تخفیف

(۱۶) ہیروڈوٹس، تواریخ ، ۱ : ۱۳۱

(۱۷) ایلک اینڈ ایلک ، مکہ دی بلسڈ ، ۳۱ ۔ ۳

(۱۸) ایڈورڈ لِپنسکی ، ابتدائی عرب میں ، بابل میں اور یوگرٹ میں عستارات دیوی اُس کے چاند دیوتا اور سورج دیوتا کے ساتھ تعلقات ، اور ئینتلیہ لوینینسیاپیریوڈیکا این۔ وی (۱۹۷۱) : ۱۰۱

(۱۹) ڈبلیو جے جوبلنگ، ڈیزرٹ ڈی ایٹیز : سم نیو ایپی گرافک ایوڈینس فار دی ڈی ایٹیز وشریز اور الاٹ فرام دی ایکابا مان ایریا آف ساوتھرن جورڈن، ‘‘ رلیجنس ٹریڈیشن ۷ ۔ ۹ ( ۱۹۸۶ ) : ۲۶

(۲۰) تخفیف ۔ ، ۲۶ ۔ ۷

(۲۱) ایلسڈ ، انسائیکلوپیڈیا آف رلیجن ، ۱ : ۳۶۴

(۲۲) لِیپنسکی ، عستارت ، ۱۰۲

(۲۳) تخفیف ۔ ، ۱۰۳

(۲۴) تخفیف

(۲۵) تخفیف

(۲۶) تخفیف ، ۱۰۴

(۲۷) جوبلنگ ، ‘‘ ڈیزرٹ ڈی ایٹیز، ’’ ۳۳

(۲۸) لِپنسکی ، ستعارت،’’ ۱۰۴

(۲۹) تخفیف ۔ ، ۱۰۵

(۳۰) تخفیف ۔ ، ۱۱۶

(۳۱) مِرسیا ایلسڈ مذہبی تصور کی ایک تاریخ ، ٹرانس۔ ولارڈ آر ٹراسک ، والیم ۱ ، فرام دی سٹون ایج ٹو دی الوسنین مائسٹریز ( شکاگو : یونیورسٹی آف شکاگو پریس ، ۱۹۷۸) ، ۱۵۱۔

(۳۲) لِپنسکی ، ‘‘عستارات ’’۱۱۶ ۔ ۷

(۳۳) تخفیف

(۳۴) تخفیف۔ ، ۱۱۸

(۳۵) تخفیف

(۳۶) جوبلنگ ، ‘‘ ڈیزرٹ ڈی ایٹیز ’’ ۳۳

(۳۷) لِپنسکی ‘‘ عستارت’’، ۱۱۹

(۳۸) جوبلنگ ، ‘‘ ڈیزرٹ ڈی