Mar 11

مکہ محمد اور خُدائے مہتاب ایک حقیقی اسلامی نسب سے ایک حقیقی تحقیق

 

حصہ اول : حجرہ اسود

باب ۱

حجرہ اسود کی تاریخ

حجرہ اسود کے بیانات

         حجرہ اسود کے متعلق جو کہ مکہ میں واقع ہے کے بارے میں ایک مخصوص فضا موجود ہے اور کعبہ کے نواحی علاقوں میں یہ ایک بھید کی طرح چھپی ہوئی ہے اس کی ابتداء کا بھید پھیل چُکا ہے اور اس کے متعلق بہت ساری کہانیاں اور توہمات موجود ہیں برزخ کی روایات اور مادہ پرستی کی روایات کی طرح حجرہ اسود بھی سائنس اور منطق کے دور میں ایک عقیدہ بن چُکا ہے اس کا اثر پیچھے کالے جادو اور غیر مذہب کفر کے ساتھ ملتا ہے۔ ہزاروں لوگوں کا بہتا ہوا خون جو ایک متلاطم دریا کی طرح ہے وہ دُنیا کے لیے اللہ کے غضب اور قہر میں جلتا ہوا ایک نشان ہے آج کے اس باترتیب روشن خیال دور میں ابھی تک فوجی جہاد کی گفتگو کی چیخوں کی آوازیں آرہی ہیں جو اس بات کا اعلان کرتی ہیں کہ ‘‘ اللہ کے سوا کوئی خُدا نہیں اور محمد اُس کے رُسول ہیں ’’ اس بات سے کہیں پرے ہے کہ مارے جانے والوں پر رحم ہو، ایک خفیہ تلوار اپنی پوری جادوئی طاقت اور بربادی کی قوت کے ساتھ ایک گرد باد کی طرح لٹکتی ہوئی نظر آتی ہے ۔

   چُپ چاپ ساری دُنیا اس آنے والی موت کو دیکھتی ہے ؛ ااسلامی چکر کے بگاڑ میں حجرہ اسود تمام مہذب معاشرے کےاندر جو کُچھ اس کے راستے میں آرہا ہے اس کو نگلتا جا رہا ہے اور جہاد کی چیخ وپُکار میں یہ پوری دنیا کے اُن لوگوں کا خون بہا رہا ہے۔ جہنوں نے خُدائے مہتاب اللہ اور نبی محمد کے آگے گھٹنے ٹیکنے سے انکار کر دیا ہے۔

       حجرہ اسود کے بیان کا پُرانا ترین تفصیلی تصور مسلمان تاریخ دان ازاقی کی طرف سے آیا۔ الزبیر کی عملداری کے دوران ؛ اس نے ۶۸۳ سے ۶۸۴ عیسوی میں مکہ کے محاصرہ کے وقت ایک بیان دیا۔ بنو اُمیہ کے دور میں ، یزید کی فوج نے پاک شہر مکہ پر جلتے ہوئے تیروں سے شدید حملہ کیا۔ اُن تیروں میں سے ایک نے کعبہ کو جلا دیا اور یہ مکمل طور پر برباد ہوا۔ بعدازاں ، حجرہ اسود تین بڑے حصوں میں ٹوٹ گیا۔ (۱)بعد میں ایک ٹکڑے کو کاٹا گیا اور بہت سالوں کے لیے اسے بنو شائبہ نے رکھا۔ ایف ۔ ای پیٹرز اپنی کتاب حج میں، تاریخ دان ازاقی کی باتوں کو لکھتا ہے۔

ابن الزبیر نے اس کو آہنی ہاتھوں میں لیا، اس کو اُس نے اُوپر سے ختم کر دیا، جس کی حالت اب اُوپر سے صاف ہے اس پتھر (رکن) کی لمبائی ۲ ہاتھ ہے اور یہ کعبہ کی مضبوط دیوار کے ساتھ ہے۔‘‘ میں نے کسی سے سُنا کہ اس کا اندر کی طرف سے دیوار کی طرف والا حصہ، کُچھ کہتے ہیں کہ گلابی رنگ کا ہے، کُچھ کہتے ہیں سفید رنگ کا ’’۔ (۲)

           ابن الزبیر کے وقت کی ایک اور رویت میں کہا گیا کہ اس پتھر کی لمبائی تین ہاتھ تھی، دوسرے گواہ بھی بیان کرتے ہیں کہ اس کا رنگ سفید تھا ماسوائے بیرونی طرف سے باقی سب سفید ہے (۳) مسیحی لکھاری جان و مشقی، جو ابتدائی آٹھویں صدی کے دوران ایک مسلمان حکومت کے زیر تسلط علاقے میں رہتا تھا۔ اس نے ‘‘ سفید پتھر ’’ کے تاریخی بیان میں کہا ۔ جان بڑی روانی سے عربی بولنے والا شخص اور قرآن اور حدیث کے لیے بہت مشہور تھا۔ وہ اس بات پر ایمان رکھنا تھا کہ سفید پتھر افرات بت کا سربراہ تھا ، جس کو عرب والے پوجتے تھے اور اس کو خجیر (عظیم ) کہتے تھے۔

جان نے کہا، ‘‘ یہاں تک کہ آج بھی اس پر اُبھرے ہوئے حصے موجود ہیں جن کو بڑے احتیاط سے مشاہدہ کیا جاتا ہے ’’۔ (۴)

۹۳۰ صدی عیسوی کے دوران قرامتیوں نے مکہ پر چڑھ آئے پتھر کو اُٹھایا اور واپس العصا یا بحرین میں واپس لائے، وہاں اُنھوں نے اُس کو نصب کیا اس کے لیے ایک بڑے تاوان کی پیشکش بھی ہوئے لیکن اس کونظر انداز کر دیا گیا پھر ۲۱ سالوں کے بعد ، ایک تاریخ دان جیو وائی کے مطابق حجرہ اسود کو کوفے کی جامع مسجد میں اس پیغام کے ساتھ رکھا گیا : ‘‘ حکم سے ہم اس کو لائے اور حکم ہی سے ہم نے اس کو واپس رکھا ’’۔ (۵) سفید پتھر چرا لیا گیا جس کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا لیکن جب اس کو واپس کیا گیا تو یہ سات مختلف حصوں میں تھا۔

اسلام کے انسائیکلوپیڈیا میں ایک دلچسپ سوال کیا گیا : کیا قرامتیوں نے جان بوجھ کر اس سفید پتھر کو اس بات کو ظاہر کرنے کے لیے سات عدد میں تقسیم کیا کہ دورِحاضر میں سات امام ہو گئے؟ (۶)یہ دلیل ظاہر کرتی ہے کہ ایک عرصہ سے وہ اسلامی بھیس میں ایک روحانی فرقہ ہے جو اپنے آپ کو خود ہی لوٹتا ہے مزید برآں وہ سات اماموں کے عقیدے پر بھی یقین رکھتے تھے اور سات اراکین پر بھی ۔ (۷) ایک اور عقیدے کے مطابق قرامتیوں نے اس کو ایمان سے ہندسہ ایمانی بناتے ہوئے سات آسمانوں کا اسلامی آخرت کا عقیدہ بنا دیا۔ (۸)گردنِ باعئم کے مطابق ، محمدی تہواروں میں ۱۹۳۲ میں ایک افذضانی زائر نے اس کا ایک اور حصہ توڑ دیا اور بادشاہ ابنِ صعود کے دور میں فوراً اس حصے کو دوبارہ جوڑا گیا (۹)

        ستمبر ۱۸۵۳ عیسوی میں مشہور دریافت کا ، کیپٹن رچرڈ برٹن نے اپنا بھیس بدل کر دس منٹ تک حجرہ اسود کے پاس رہا۔ اُس کی اپنی کتاب ، ‘‘المدینہ اور المکہ کا زاتی مقامی دورہ ’’ وہ لکھتے ہیں اور مندرجہ ذیل گہرے مشاہدے کو بیان کرتے ہیں۔

     میں نے گہرائی میں اس کا مشاہدہ کیا ہے اور ذاتی طور پہ اس بات کے لیے قائل ہوں کہ یہ ایک چٹانی شہاب ثاقب کا حصہ تھا اور تقریباً تمام تر مسافر اس ایک نقطے پر متفق ہیں کہ یہ ایک آتش فشانی پتھر ہے علیبے اس کو معدنیاتی طور پر ایک آتش فشانی پہاڑ کا حصہ کہتے ہیں کجو کہ شفاف طور پر چمکتا ہے اور اس کے سیاہ پس منظر کے سبب سے اس کی ٹائلیں سُرخی مائل لگتی ہیں ۔ ایک ویلویٹ کی طرح ماسوائے اس کے ایک حصہ کے جو کہ سُرخ ہے برکھادت اس کے بارے میں سوچتے تھے کہ یہ ایک سفیدی مائل اور پیلے مواد سے بنا ہوا پتھر ہے (۱۰) برتن اس کے بارے میں ایک اور خلاصے کو بیان کرتے ہوئے جاری رکھتے ہیں :

کہ میرے نزدیک یہ عام شہاب ثاقب کا ایک پتھر ہے جس پر ایک موٹی چادر ہے یہ چمکیلی اور پالش کی ہوئی نظر آتی ہے ممبی کے ڈاکٹر ولس نے مجھے اس کی ملکیت کے بارے میں ایک خاص بات بتائی جس سے مجھے پتہ چلا کہ یہ سیاہ ہے اور اندر سے چمکیلا اور چمکتا ہوا سرمئی سفید اور یہ نِکل کے لوہے میں ملانے کے نتیجے میں نظر آتا ہے ۔ (۱۱)

بہت سارے جدید بیانات کا اضافہ اس حجرہ اسود میں شامل کیا گیا۔ گردانِ باوئم ۱۹۵۱ سے اس کے لیے ایک روایتی تجزیہ پیش کرتے ہیں :

حجرہ اسود مختلف طرح سے ایک لاوے اور شہاب ثاقب کے ٹکڑے کے طور پر بیان کیا گیا ہے اور اصل میں یہ ایک گہرے سُرخی مائل بھورا رنگ ہے اور مشرقی کونے میں تعمیر ہوا اور تقریباً زمین سے ۵ فٹ اُوپر ہے اب یہ تین بڑے اور سات چھوٹے حصوں کو اکٹھا کرکے سلور بینڈ سے باندھا گیا ہے اس کا ڈایا میٹر تقریباً ۱۲ انچ ہے ۔ (۱۲)

   اسلام کا انسائیکلو پیڈیا اس کے بارے میں مزید بیان کرتا ہے:

   یہ پتھر کعبہ کے جنوب مشرقی حصے میں ہے جو کہ تقریباً ۵۰ ۔۱ گز یا میٹر زمین سے اُوپر ہے یہ سیاہ رنگ کا ہے اور سُرخی مائل ہے اور اس کے حصے زرد ہیں جو کہ تقریباً ۱۱ انچ ۲۸ سینٹی میٹر چوڑے اور ۱۵ انچ اور ۳۸ سینٹی میٹر اُونچے ہیں اور ایک سلور میں باندھے گئے ہیں (۱۳)

   یہ خاص گواہی دمشقی جون کی تائید کرتی ہے کیونکہ اُس نے اس کی شکل اور روایتی سائز کی مشاہبت مادہ پرست دیوی استعارات کے مجسمے کی طرح بتائی تھی ۔ میرثیا الائیڈ نے مذہبی انسائیکلو پیڈیا میں بیان کیا ہے :

کعبہ کی ایک اہم ترین چیز اس کی بیرونی طرف واقع مقام ہے یہ حجرہ اسود ہے جو کہ اس کے مشرقی کونے میں واقع ہے ۔ حقیقت میں گہرے سُرخ بھورے رنگ کا یہ پتھر، اب ایک کیثف چاندی رنگ کے بُکس میں ہے، اس سیاہ رنگ کے پتھر کی ابتداء کے بارے معلوم نہیں ممکن ہے یہ شہاب ثاقب سے ہوا (۱۴)

    یہ تمام تینوں جدید بیانات جو بیان کیے گئے ایک طرح کے ہیں۔ اس کے باوجود ، اس پتھر کی حقیقی سائنسی ابتداء کے بارے میں شک باقی ہے۔ کیا یہ ابتدائی سیلکون گلاس کے پھسلے ہوئے نکل اور لوہے لوہے سے بنا ہوا ہے جو ایک شہاب  ثاقب سے ٹوٹے ہوئے ستارے سے نکلا؟ ہو سکتا کہ ماہر جغرافیائی ٹیم ایک مکمل تفتیش کے ذریعے اس بھید کو حل کر سکے ۔ کیا اس بات کی کوئی سائنسی وضاحت ہے کہ کیوں یہ پتھر سفید سے سیاہ ہوا؟ یا ہو سکتا ہے کہ وہ اصلی سفید پتھر جس کی محمد تعظیم کرتا تھا وہ قرامتیوں نے چُرا لیا اور اُس کی جگہ موجود حجرہ اسود رکھ دیا ہو ۔مسللمان آج بھی بحث کرتے ہیں کہ پتھر سیاہ کیوں ہوا پتھر کے محصور کیے جانے میں کیا راز ہے؟ کیوں پتھر کا ایک چھوٹا حصہ ہی عوام پر ظاہر کیا جاتا ہے؟ کیا سیاہ پتھر میں سوراخ ماضی کی کسی جنسی زرخیزی کے ایمانی کام کو ظاہر کرتا ہے؟ یہ بھید توہم پرستی اور رازداری کے سبب چُھپے رہے۔

حجرہ اسود ہی صرف وہ پتھر نہیں تھا جس کو کعبہ میں قابلِ تعظیم سمجھا جاتا تھا۔ ٹھیک اُس کے عین سامنے کے کونے میں اور نیچے والی جگہ پر ، ایک اور سُرخی مائل پتھر جس کو ‘‘سہولت کا پتھر’’ (حجرہ سعادہ ) کہا جاتا تھا رکھا ہوا ہے ۔(۱۵) ایک اور پتھر بھی تھا جس کو

‘‘ اسٹیشن’’ یا ابرہام کے ‘‘کھڑے ہونے کی جگہ’’ کہا جاتا تھا اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پر معجزاتی طور پر اس کے پاؤں کے نشانات محفوظ ہیں۔ آخر میں ، کعبہ کے اندر تعظیم کا دوغلا کردار ہے جس طرح کہ ایلیڈ نے کہا:

حجر اسود اور دروازے کی بیرونی دیوار مُلتزان کے درمیان دوغلا کردار ہے جہاں پوجا کرنے والے اپنے بدن جُھکاتے تھے۔: براقا (برکت، قوت ) وصول کرنے کے لیے ۔ یہ پاک مکان کے ساتھ منسلک ہے۔(۱۶)

حجرہ اسود اور دوسری اسی طرح کی چیزوں کی تعظیم خُداؤں کی طرح کی جاتی تھی یہ تمام اسلام سے پہلے کے پتھر پاک پتھر کہلاتے تھے: لیکن حجرہ اسود کو کعبہ میں سب سے زیادہ تعظیم دی جاتی تھی۔

حجرہ اسود کی روایات

آدم سے لیکر طوفانِ نوح تک

   حجرہ اسود کی کہانی آدم کے جنت سے زمین تک اخراج سے شروع ہوئی۔ اس نے اپنے آپ کو بُدھا کی پہاڑی پر جو انڈیا میں واقع ہے پایا۔ روایات کے مطابق آدم نوے فٹ لمبا تھا ۔(۱۷) اس کے سر پر ستاروں کا ایک گلدستہ رکھا گیا تھا، جو کہ تقریباً آسمانوں تک ہی پہنچتا تھا جہاں سے وہ آیا تھا ۔(۱۸) وہ پہاڑ پر اس کوشش کے لیے کھڑا تھا کہ فرشتوں کو گاتے ہوئے سُنے۔ شام کے دوران ، فرشتے دیومیکر آدم سے ڈر جاتے تھے اور خُدا سے دُعا کرتے تھے کہ اُسے وہاں سے ہٹا دے۔ خُداوند نے اُن کی دُعاؤں کا جواب اس طرح دیا کہ آدم کا سائز زمین پر دوسرے رہنے والے جانوروں کی طرح کر دیا۔

    اس کے سائز کے کم ہونے کے نتیجے میں ، آدم مزید فرشتوں کے گیتوں کو نہیں سُنتا تھا اور اُس نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس بات سے وہ کس طرح قدر غمزدہ تھا۔ خُدا نے اس کو جواب دیا: ‘‘ اے آدم  ’’، تو ہمیشہ جفاکشی کرے گا، ‘‘ لیکن تو مجھ سے ملے گا ’’ (قرآن۸۴ : ۶ ) تب خُدا نے آدم کو ترغیب دی کہ اس کے ‘‘ الہی تخت’’ (حجرہ اسود ) کی زمیین پر تلاش کریں اس روایت سے یوں معلوم ہوا کہ اللہ کے مقام یا تجسیم کا نچوڑ حجرہ اسود میں ہے، خُدا صرف اسی میں بستا ہے یا اُس کا تخت اس پر لگا ہوا ہے۔ پھر آدم نے خُدا کے اس سُپرد کیے گئے اختیار کی پیروی کی اور جنوب مغرب میں جودی کے پہاڑ، جو کہ مسمانوں کے نزدیک اراراط کے پہاڑ کے مساوی ہے سفر کیا۔ جنوب میں سفر کرتے ہوئے، لُبنان کا پہاڑ اور اُولیوز کے پہاڑ سے سینا کے پہاڑ اور سُرخ ساحل سمندر تک سفر کیا ، پھر وہ حجاز کی خُشک وادی میں داخل ہوا ، ایک ایسی جگہ جو پہاڑوں سے بھرا ہوا تھا اور یہ پہاڑ چمکدار کالی چٹانوں سے بھرے تھے۔ فوراً اس نے محسوس کیا یہ جگہ ‘‘ زمین کی ناف ’’ ہے ‘‘ خُدا کے تخت کا مرکز ’’ ۔(۱۹)

   اس ریگستانی وادی میں ایک ہلکی بلندی پر، ایک تنبو یا چھتر کھڑا ہے جو کہ چار چھتریوں کے ستونوں کی طرح ہے اور اس پر ایک اوبی کی طرح کی ایک چھت ہے ۔الزبتھ الیک اور ہال الیک اپنی کتاب ، ‘‘ مکہ دی بلسڈ مدینہ دی ریڈینیٹ ’’ میں ، اس بیان کو جاری رکھتے ہیں :

        چھتر کے نیچے ، یہ اس قدر چمک دمک کے ساتھ ہے کہ یہ پوری وادی کو روشن کر رہی ہے۔ ایک سفید پتھر بعل کی طرح نیچے ہے جو کہ آدم کی روح کی علامت ہے۔ آدم اپنی ہی روح کی علامت پر چلتا رہا، اور پھر اُن پتھروں کے ساتھ جو جیرا کے پہاڑ سے لائے گئے، اُس نے کوشش کی زمین کو ہمیشہ کے لیے اپنی مضبوط کاریگری سے اس کی دیواروں میں باز رکھ لے۔(۲۰)

   یہ خاص رویت واضح طور پر بیان ہے کہ آدم نے زمین پر حجرہ اسود ڈھونڈ لیا ۔مسلمان تاریخ دان طبری کی روایت سے ۔(۸۳۹ سے ۹۲۳ صدی عیسوی ) وہ دعویٰ کرتا تھا کہ آدم جو حجرہ اسود لایا تھا وہ اپنی اصلی حالت میں وہ برف سے زیادہ سفید تھا ’’ (۲۱) مزید برآں ، وہ اپنے ساتھ موسیٰ کی چیزیں مُر اور لوبان بھی اُٹھائے ہوئے ہے ۔ تمام روایات یہ بتاتی ہیں کہ یہ صرف ایک پتھر پر زور نہیں دیتا بلکہ جنت کے ایک ‘‘ ہیرے یاقوت (روبی)’’ پر بھی زور دیتا ہے۔ (۲۲) آدم نے اُس ہیرے کو اپنے آنسو پونچھنے کے لیے استعمال کیا کیونکہ جنت کو چھوڑنے کے بعد اُس کے آنسو وہ ہزار سال تک نہ رُکے جب وہ جنت میں واپس نہیں گیا، جہاں ابلیس یعنی شیطان اُسے مزید پریشان نہ کر سکا ۔(۲۳) یہ بھی کہا گیا کہ آدم نے سفید پتھر کو مکہ کے نزدیک کیوبے کے پہاڑ پر بھی رکھا؛ اندھیری راتوں میں ، اُس نے آسمانوں کو روشن کر دیا جیسے چاند روتوں کو روشن کرتا ہے (۲۴) ایک لمبی زندگی کے بعد ، آدم مکہ میں فوت ہو گیا۔ اس کے بیٹے سیت نے اُسے ابو کیوبے کی غار کے نیچے دفن کیا۔ پھر شاندار پتھر اس چھتر سے لیا گیا اور آدم کی قبر پر رکھا گیا۔

طوفان کے دوران

نوح کے  دوران، پتھر ڈوب گیا اور آدم کی لاش پانی کی سطح پر تیرتی رہی جبکہ کشتی اپنے ارادے پر چلتی رہی تھی اور اس نے ڈوبے ہوئے پتھر پر سات چکر لگائے (۲۵) اس موقع پر، یہ شمال کی طرف سفر کیا اور آخر کار جودی کے پہاڑ پر رُکا۔ ایک اور روایت یہ بھی ہے کہ کیسے کشتی نے مکہ اور مدینہ کے مقدس شہر کے گرد ایک ہفتے کے لیے چکر لگایا ۔ اس وقت کے دوران، وہ گھر جو آدم نے بنایا تھا جو پتھر کے ساتھ تھا کیوبے کے پہاڑ پر اُٹھایا گیا اس لیے وہ نہیں ڈوبا یہاں تک کہ اس پس منظر میں بھی، پتھر کسی حد تک ڈوبا، جبکہ اس حقیقت کی وجہ سے اس طرح کی کہانی کہ پانی کو کہا گیا کہ بلند ہو یہ ۱۵ ہاتھ زمین کی سطح سے بلند ترین پہاڑ پر بلند ہوا (۲۶)

ابرہام کے وقت میں

ایلک اور ایلک روایتی ایمان کے خلاصے کو شاندار طریقے سے پیش کرتے ہیں کہ کیسے ابرہام نے ابتدائی کعبہ کی جگہ کو دریافت کیا ۔

   جب اسماعیل واپس آیا، ابرہام نے بڑی سمجھ کے لیے اپنے بیٹے کی مدد لی : خُدا کے گھر کو بنانے کے لیے ۔ایک مشتعل ہوا ایک ٹیلے کے گرد چلی اور ایک بادل جس کی شکل ۲ سِروں والے اژدہے کی طرح تھی۔ ابرہام اور اسماعیل نے زمین کو کھودا اور ریت کے نیچے اُنہوں نے آدم کی قبر کے ابتدائی آثار پائے۔ ایک پتھر جس پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : ‘‘ میں باکا (مکہ کی وادی) کا خُدا ہوں ۔ اور میں نے ترس اور محبت کو اپنے دو ناموں کے طور پر خلق کیا ہے’’۔ (۲۷)

   اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہ الوہیت جس کا اُوپر ذکر ہوا ہے وہ محض ایک علاقے کے ‘‘ اعلیٰ دیوتا ’’ کی ہے اور اس کا تعلق عبرانیوں کے قادرِ مطلق خُدا سے نہیں ، جس کا ذکر آگے مزید چوتھے باب میں کیا جائے گا۔

   اس رُکی ہوئی تعمیر میں اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ مشرقی کونے کے لیے اُنھیں ایک منفرد پتھر کی ضرورت ہے جس کے سبب سے پوجا کرنے والا جانے کہ اُس جگہ کا طواف یہاں سے شروع کیا جائے۔ اس طرح سے اس درخواست پر ایسا پتھر لانے کے لیے اسماعیل نے معجزاتی طور پر ابو کیوبے کی پہاڑی سے یہ مقدس قیمتی پتھر لایا جو کہ آدم کی موت کے وقت سے وہاں دفن تھا۔ ‘‘ اس آسمانی پتھر کی روشنی سے ایک بار پھر مکہ کا سارا علاقہ روشن ہو گیا۔ ’’(۲۸)

        یہاں اس آسمانی پتھر کے بارے میں کہ وہ کس طرح سے ابرہام کے پاس لایا گیا دو روایتں ہیں ایک جو اس نظریے کو پیش کرتی ہے کہ کیسے جبرائیل فرشتہ آسمان سے اس پتھر کو لایا ، ایک دوسری کہانی اس بات کو بتاتی ہے کہ کیسے یہ پتھر ابو کیوبے سے لایا گیا یہ دونوں عقائد اسلامی زبانی کہانیوں میں ملتے جُلتے ہیں ۔

        ابتدائی ایک قریب مشرقی مفکر ایف ۔ ای پیٹرز نے اپنی کتاب یہودیت ، مسیحیت اور اسلام میں : شاندار پیرائے اور اُنکی تشریح بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ سپینی صوفی ماسٹر یون العربی سے مشابہ ہے ( ۱۲۴۰ سی۔ ای ) :

  یہ کہا جاتا ہے کہ ابو کیوبے کا پہاڑ زور دار طریقے سے ہلا اور اس سے حجرہ اسود ٹوٹا اور اُس وقت یہ سفید نیلم تھا اور جبرائیل اس کو ایک باغ میں سے لایا اور اس میں چھپا دیا اور یہ طوفان کے وقت سے ابرہام کے دور تک ابو کیوبے کی پہاڑی میں چھپا دیا گیا (۲۹)

کیوں یہ پتھر سیاہ ہو گیا؟

پتھر کے رنگ میں تبدیلی کی بہت ساری وجوہات وضاحت کے لیے بیان کی جاتی ہے۔ بہت عام تاثر یہ ہے کہ یہ ‘‘حیض میں مبتلا عورت کے چُھو جانے کی وجہ سے ہوا’(۳۰)پیٹرز نے اس کی تصدیق کی کہ یہ صوفی ابن العربی نے بیان کیا ہے۔

    حجرہ اسود اس رُوح کے بارے بیان کرتا ہے یہ ایک حیض میں مبتلا عورت کے چھُونے سے سیاہ ہو گیا  (۳۱) ایک دوسری مختلف روایات بیان کرتی ہے، یہ ایک حیض میں مبتلا عورت کے چھونے اور گندے لوگوں کے اس کے اُوپر چڑھنے اور اس کو رگڈنے کے سبب سے سیاہ ہو گیا (۳۲)

           ایک تیسری تشریح کی اُس بات پر ہے کہ یہ تبدیلی انسان کی اس کائنات میں ذات کے سبب ہے ۔نتیجتاً، اس بات پر یقین کیا جاتا ہے کہ یہ پتھر انسانوں کے گناہوں کے سبب سے سیاہ ہوا(۳۳) ایک اور مختلف خیال ہمیں سکھاتا ہے کہ اس پتھر کے سیاہ ہونے کا مطلب ہے کہ اس کے اُوپر روشنی نہیں ہے اور یہ ایک مکمل علامت ہے ‘‘ خُدا کے لیے روحانی طور پر غربت کی (فقر) ۔۔۔ اور خُدا کا خالی ہوجانا ’’۔ (۳۴) یا ضروری ہے کہ اپنی ذات کو مارنا ۔ یہ روایت صوفی ازم یا بُت مت کے ذرائع سے آئی ہے

مادہ پرستی کی روایات

یہ روایات بعد میں اسلام کے ابتدائی سالوں میں عقائد اور کہانیوں کی بنیاد پر ڈھانپ دی گئی قرآن اور حدیث ان کہانیوں کے بارے میں بہت کم بتاتا ہے اگرچہ ان روایتوں نے نسل در نسل اسلامی ایمان کی زبانی تعلیمات کے بارے میں اہم کردار ادا کیا شاہد یہ بہت زیادہ واضع تفسیروں سے جیسا کہ اس پتھر کی پوجا کے بارے میں مادہ پرستوں کی ہے اُس سے بچنے کے لیے ایجاد کیا گیا ۔

    ابنِ صاد یہ ایمان رکھتے ہیں کہ سفید پتھر ابو کیوبے کی پہاڑی سے محمد کی پہلی وحی سے چار سال پہلے نیچے لایا گیا ۔ ایک اور گواہی جو الفقہی سے آئی اس کے مطابق یہ قریش کے قبیلے کی مکہ کی پہلی دوبارہ تعمیر کے وقت آیا، ‘‘ ممکنہ طور پر کیوبے کے وقت ’’(۳۵)

     یہ بات بالکل واضح لگتی ہے کہ حجرہ اسود کعبہ کی دوبارہ تعمیر میں مادہ پرستوں نے شامل کیا پیٹرز نے بیان دیا:

    مکہ کے متبرک مقامی بتوں کا اکھٹے کیا جانا قریش کے پہلے حاکم امر ابن لوہے کے دور میں ہوا اور جہاں تک ابوکیوبے کے مذہبی دیوتاؤں کا حصہ تھا (۳۶)

       ان مادہ پرست ابتدائی لوگوں کی ابتداء بھی جغرافیہ دانوں اور تاریخ دانوں نے رقم کی اور آنے والے ابواب میں اس کے بارے میں بھی بات ہو گی۔ اس کے مقابلے میں عقائدی بیانات میں قرآن حدیث یا سیکلر ذرائع کے بیانات نہیں ہیں یہ محض پرانی روایات ہیں ۔

محمد کی الوداعی زیارت

مکہ سے ایک لمبی غیر حاضری کے بعد محمد مقدس شہر میں اپنے آخری حج کے لیے آیا ابن عباس میں حدیث کے مطابق بیان ہے، ‘‘مشرکوں کےایک گروپ نےاس خبر کو پھیلا دیا کہ لوگوں کا ایک گروہ اُن کی طرف آرہا ہے اور وہ یثرب کے بخار سے کمزور پڑ گئے ’’(۳۷)  ان حالات میں ، نبی نے اپنے ساتھیوں کو حکم کیا کہ ایسا ہی کریں جیسا اُس نے کیا اُس نے سب سے پہلے کعبہ کے کونے کا بوسہ لیا جہاں پہ حجرہ اسود نصب تھا اور پھر اُس حصے کے پہلے تین چکر لگائے اس بات کا مظاہرہ کرنے کے لیے کہ وہ سفر سے کمزور یا بیمار نہیں ہیں پھر اُنھوں نے اپنے چکروں کا عمل چار طوافوں سے جاری رکھا (۳۸)

       شہادتاً عبداللہ بن امر کی حدیث کے مطابق محمد نے ہمیشہ اسی طریقے سے حج اور عمرہ دونوں کے لیے چکر لگانے کی مشق کی محمد نے صفا اور ماروا کی پہاڑیوں کے درمیان بھی طواف کیا (۳۹) یہ دونوں روایات مکہ کے اندر اسلام سے پہلے بھی کی جاتی تھیں اور یہ شدت پسند مادہ پرست کرتے تھے بعض دفعہ محمد اُونٹ کی سواری کی روایت کے مطابق بھی اسے ادا کرتے تھے ہر دفعہ ہی وہ حجرہ اسود کے کونے کو عبور کرتے وہ اس کی طرف جُھکے ہوئے سر سے اشارہ کرتے اور فرماتے تھے : ‘‘اللہ اکبر ’’ (۴۰) اُن کی چھڑی کے استعمال کا اشارہ یہ بھی بیان کرتا کہ اُس نے کعبہ میں ۳۶۰ بتوں کو برباد کر دیا ہے ۔ محمد کھڑا ہوا اور اُن کی طرف اسی چھڑی سے اشارہ کیا اور کہا ‘‘ سچ آ چکا ہے اور جھوٹ جا چُکا ہے ’’ (قرآن ۸۸ : ۱۷ )

  پھر اُنھوں نے اُن کو ایک ایک کرکے برباد کر دیا (۴۱) یہ پتھر کے بُت واضح طور پر اس بدعت کو پیش کرتے تھے کہ سال کے ہر دن کے لیے ایک دیوتا کو شامل کیا جائے۔

      محمد کے ایک قریب ترین ساتھی عمر بن الخطاب نے بوسہ لے کر اور چُھو کر حجرہ اسود کا بغور جائزہ لیا اور چونک گیا  ابیث بن رابعہ اپنی حدیث میں عمر بن خطاب کی اس بات کو زناکاری کی ایک شکل کے طور پر بیان کرتے ہیں : بے شک میں جانتا ہوں کہ تم ایک پتھر ہو نہ ہی کوئی فائدہ پہنچا سکتے ہو اور نہ ہی کوئی نقصان ۔ کیا میں نے اللہ کے رُسول کو چومتے ہوئے نہیں دیککھا میں تمہیں نہیں چوموں گا۔ (۴۲)

        محمد کے کُچھ قریب ترین ساتھیوں نے اُس کی بہت ساری رسُومات کے متبادل رسومات ظاہر کی اس حقیقت کے باوجود اُنھوں نے محض فرمانبرداری کی اور اختیار کو اپنے پیارے نبی کے لیے ملتوی کر دیا۔ محمد محض مادہ پرستی کی تمام تر باتوں سے بچ نکلا محض ایک نیا عقیدہ ایجاد کرکے مثال کے طور پہ اُس نے اعلان کیا کہ خُدا نے مسلمانوں کو حج اور جہاد دیا ہے تاکہ وہ کافروں سے لڑیں۔(۴۳)

حجرہ اسود کی زیارتیں

آرتھوڈیکس عمل

  پرانی مشق حجرہ اسود کے لیے روایتی مشق کے معاملے میں یہ بہت سارے حصے کی روایت تھی جو کہ محمد کے وقت سے لا تبدیل ہو گی جب بھی اس کے قریب سے گزر جاتا تو پتھر کو بوسہ دیا جاتا لیکن اگر اجتماع کے باعث نا ممکن ہوتا تو اسے ہاتھ سے چُھو لیا جاتا تھا یہ چُھونا چہرے کے لیے بدل گیا ’’۔ (۴۴) جیسے کہ پہلے بھی بیان کیا گیا کہ اس کے مدِ مقابِل ایک دوسرا پتھر ‘‘ یمنی کونے ’’ پر رکھا گیا جس کو ‘‘ بڑی خوشی کا پتھر ’’ کہا جاتا تھا پھر بھی یہ پتھر محض چُھونے کے لیے تھا اور اُس کا بوسہ نہیں لیا جاتا تھا اور یہ بات اس چیز ی علامت تھی کہ حجرہ اسود زیادہ برتری رکھتا ہے ۔

بدووں کے خلاف ِمعمول کام

  مادہ پرستوں کے کھلے حج کو مکمل طور پر نابود کر دیا گیا بہت سارے بدووں پجاری اسلام سے پہلے کی رسومات کو حج کے ذریعے ادا کرتے رہے مندرجہ ذیل بیان ان عجیب روایات کو تفصیل سے بیان کرتا ہے ۔

  ابنِ جبار نامی ایک مسافر نے گیارہ سو بیاسی سی ۔ ای کی ایک تحریری تاریخی حج رپورٹ کو مہیا کیا اس اُمید پر کہ وہ اپنی روحانی ضروریات کو پورا کریں گئے ہزاروں یمنی مکہ میں حج کی رسم ادا کرنے کے لیے آئے یہ بدو پختہ یقین رکھتے تھے کہ اُن کے ملک کی زرخیزی کا انحصار براکا ( برکت کی قوت پر ہے جو کعبہ اور حجرہ اسود سے لے جائیں گئے۔ نتیجتاًوہ اللہ کے لیےایک منافع بخش تاجر بنے (۴۵) ابن جبار نے بیان کیا:

     جب اُنھوں نے مقدس کعبہ کا طواف کیا اُنھوں نے اپنے آپ کو بچوں کی طرح ایک اچھی ماں کے سامنے گرا دیا وہ اُس کی قُربت میں پناہ ڈھونڈتے تھے۔ اُنھوں نے اس کے پردوں سے خُود کو جُوڑا اور اپنے ہوتھوں کو اس سے پیوست کیا اور اُنھوں نے اُس کو حاضر و ناظر جان کر آنسووں کے ساتھ نمازیں ادا کیں لیکن جتنی جیسے ہی وہ قصبے میں پہنچے تو اُن کے درمیان کوئی بھی اس قابل نہ تھا کہ حجرہ اسود کا طواف کر سکتا یا اُسے چھو سکتا۔ اُن میں سے ۳۰ یا ۴۰ اتنی سختی کے ساتھ جکڑے گئے جیسے زنجیروں کے ساتھ اور جب وہ کعبہ کے دروازے پر پہنچے تو یہ زنجیر ایک ٹھوکر کھانے کے ساتھ ٹُوٹ گئی۔ (۴۶)

      تقریباً ۷۰۰ سالوں کے بعد ۱۹۰۹ میں ایک اور مُشاہد جس کا نام بیتِنونی تھا وہ بدووں کی اس رسم کے بارے میں مزید بیان کرتا ہے:

     بدووں کی عورتیں آدمیوں کی پشتوں کو مضبوطی سے پکڑ لیتی اور جب وہ حجرہ اسود تک پہنچتے تو وہ سب اس کو چھوتے اور اُس کا بوسہ لیتے تھے ۔ خاوند بیوی کا پتھر کے پیچھے سر ہلاتا تھا اور اس طرح سے ظاہری طور پر اُس کا حج ہو جاتا تھا اور اسی وقت میں وہ اُس کے لیے روتا بھی تھا : ‘‘ کیا تم نے حج کر لیا ہے اوہ حجا ؟ ’’ وہ جواب دیتی تھی : ‘‘ ہاں میں نے کر لیا ہا میں نے کر لیا ’’۔ پھر وہ حجرہ اسود تک واپس آتی اور یہ کہتی ‘‘ میں نے حج ادا کر لیا ہے وہ اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھاتی اور یہ کہنا جاری رکھتی کہ تم مجھے قبول کرو یہ نہ کرو میں نے حج ادا کر لیا ہے وہ اپنا سر آسمان کی طرف اُٹھاتی اور یہ کہنا جاری رکھتی کہ تم مجھے قبول کرو یا نہ کرو میں نے حج کر لیا اگر تم نے مجھے قبول نہیں کیا تو تم مجھے قبول کو مجھے قبول کرنا ہو گا (۴۷)

 جہاں تک حجرہ اسود کا تعلق ہے جو کہ اکثر شادمانی کا پتھر یعنی (الحجر الصاد ) کا تعلق ہے یہ دونوں پرانی مشق اور بدووں کی رسومات سے اپنی جڑوں کو ملاتے ہیں جو کہ عرب میں اسلام سے پہلے تھیں،

اگلا باب ابتدائی پتھر کی بدعتوں کی تفتیش تعلق رکھتا ہے جو کہ سارے ابتدائی عرب میں واقع تھے یہ مطالعہ اسلامی حج کی جڑوں کو سمجھنے کے لیے زبردست ہے۔

 

باب ۲

اسلام سے پہلے کی متبرک پتھروں کی بدعتیں

ابتدائی دنیا کے پتھر

صرف اسلام سے پہلے عرب والے وہ لوگ نہیں تھے جہنوں نے پتھروں کی پوجا کی ۔ اس بات کی وافر شہادت پُر اثر تشبہیات کے ساتھ ملتی ہے کہ ابتدائی دنیا اور عرب کی رسومات کے درمیان پتھروں کی پوجا کی بدعتیں موجود تھیں ۔ یہاں تک اسلام کے اندر بُتوں کی پرستش یا تعظیم کرنے کا تعلق ہے تو اس معاملہ میں تھوڑا سا ذہن ہر روز دے کر کوئی بھی اس مذہب سے بے شمار مثالیں دے سکتا اور اس طرح کی باتوں کا تقابلی جائزہ لے سکتا ہے۔ مندرجہ ذیل حصہ پتھروں کی پرستش کی بدعتوں کا بین الاقوامی تصور پیش کرے گا۔   

مقدس پتھروں کی تعریفیں

مقدس پتھروں کی تعلیم تمام دنیا میں انسان کی پیدائش ہی سے کی جاتی رہی ہے ۔ وہ قربانیوں، جادوئی تصورات اور الہیات کا کاروبار کرتا رہا خاص قسم کے پتھر تھے ۔

  جو انسان نے اپنی خاص رسومات کے لیے بنائے یا کھڑے کیے یہ یادگاروں کے طور پر ستونوں یا قطاروں کے طور پر کھڑے کئے گئے، اور کائناتی آغاز سے ہی ان کو مختلف نام دیئے گئے۔ ایلیڈ نے اس قسم کے پتھروں کے بار میں بیان کیا۔

استادہ، ماقبل تاریخ کے دور کا پتھر (یہ لمبے، سیدھے کھڑے رہنے والے یادگار پتھر تھے ) ماقبل تاریخ کا سیدھے نصب کیئے۔ پتھروں کا دائرہ (کھڑے پتھروں کا دائرہ): کلاں سنگی دور کی قبر جس میں دو عمومی پتھروں پر ایک لیٹواں پتھر ٹکا ہوا ہوتا ہے ( یہ میز کی طرح یا لمبا پتھر، جو سیدھا لیٹا ہوا فقی پتھروں کا سلسلہ تھا ) اور پتھروں کے ٹیلے ( پتھروں کے ڈھیر ) (۱)

مزیدبرآں، خاص شکل یا خصوصیات کے ساتھ، قدرتی چٹانوں کو مقدس اہمیت کے نام دئیے گئے۔ جو چھوٹے طرح کے پتھر ہوتے اُنہیں گھر میں بدعت کے نشانوں کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا اور ان کو جادوئی حفاظت کے طور پر جسم پر اُٹھایا یا باندھا جاتا تھا۔ وہ پتھر جو اتنے چھوٹے ہوتے کہ اُن کو کوئی بھی شخص ہر روز اُٹھا سکتا وہ تعویذوں کے طور پر استعمال کئے جاتے (۲)

   اور مزید خاص طور پر؛ اُن کو ستاروں سے ، شہابِ ثاقب سے گرے ہوئے پتھر جان کر اکثر یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ بھلائی یا بُرائی کے لیے آسمانوں سے آئے ہیں۔( ۳ ) یہ مکاشفاتی پتھر تھے جو گرج کے ساتھ زمین پر گرائے گئے تھے۔ اس بات پر ایمان رکھا جاتا تھا کہ نرسنگے کی آواز سے پانی پر تیر سکتے تھے یا جیسے ہی بُرے اعمال کا نام پُکارا جاتا تو یہ زمین کے نیچے ڈوب جاتے تھے۔ مزید برآں، کُچھ لوگ یہ بھی تصور کرتے تھے کہ یہ پتھر خاص الوہیت کے سبب سے وجود میں آئے ہیں، اس لیے ان کو مزاروں کے طور پر ہیکلوں میں یا عزت و احترام کی جگہوں میں جس جگہ یہ دریافت ہوئے رکھا جانا چاہیے (۴)

شمالی اور جنوبی امریکی انڈین کے پتھر

مقدس پتھروں اور چٹانوں کی امریکی انڈیا کے لوگوں نے اپنی رُوحِ جان کے ساتھ بہت زیادہ عزت کی۔ جنوبی امریکی انڈیا کی ابتدائی سے ایکوڈور کے فرعوں نے جوالا مُکھی کے لیے انسانی قربانیاں چڑھائیں اور انڈس کے پتھر کے ہندوستانیوں نے اس پتھر کی عام پوجا کی ( ۵ ) آئرلینڈ کی جھیل ٹی ٹی کا جو یولیونیا۔ پیرو میں ہے دیا پتھر کے دیوتا دریافت ہوئے۔ اس جگہ پر ہندوستانی لوگوں نے سورج کے مندر میں سیاہ پتھر کی پوجا کی ۔ وہ اس بات پر ایمان رکھتے تھے کہ اور یگانو جو انسانوں کی دیوی ماں ہے، وہ آئی اور سیارے وینس سے اپنے ساتھ پتھر لائی (۶) مزید برآں، واریو جو اورنیوکو کی بڑی طاقت تھا :( ۷ )اس کی بطور ایک پتھر پرستش کی جاتی تھی۔

   اسی طرح، شمالی امریکی ہندوستانیوں نے پتھروں کی پوجا کی مشق کی اور ایلیڈ بیان کرتا ہے:

   ڈکوٹا نے پُرانے پتھروں کو سجایا اور رنگ کیا اور اُن کے لیے دُعا کی اور اُن کے لیے کُتوں کی قُربانیاں چڑھائیں۔ شمالی امریکا کے بڑے انڈین قبائل نے کینڈا کی مِسانی جھیل کے پانیوں کو عبور کرنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔ کیوں کہ وہ تصور کرتے تھے کہ اس میں حقیقتاً روحیں آباد ہیں۔ جنوب کی جانب بھی، امریکہ میں یہ یقین رکھا جاتا ہے کہ دیوتا وہاں شخصی طور پر سکونت کرتے ہیں جو پتھروں کی شکل میں ہیں ‘‘ ٹیکساس کیوا میں چھوٹے پتھر کے دیوتا تھے جن کی عبادت وہ سورج کے ناچ کے دوران کرتے تھے۔ نیو میکسکو ٹاؤ میں ایک مقدس پہاڑ جس کا نام ‘‘ پتھر آدم ’’ تھا اس کے قدموں میں تعظیم کی جاتی تھی جو دو جنگ کے دیوتاؤں کو پیش کرتا تھا۔ امریکن انڈیا بستی پبلو میں لوگ ایمان رکھتے تھے کہ شکاریوں کی خوش بختی کا انحصار اُن پتھروں کی ملکیت کے سبب سے بنے جو متجسس شکل کے ہیں ( ۸ ) امریکی انڈین پتھروں کی بدعتیں جو اس پہرایہ میں بیان کی گئیں ہیں ٹھیک اسلام سے پہلے کے پتھروں کی پوجا کی روایات کی مثال پیش کرتی تھیں۔

ابتدائی یونان اور ایشیا مائز کے پتھر

مزید برآں انڈین پتھروں کی بدعتیں ، یونانیوں اور وہ مزید بدعتیں جو مشرک میں تھیں اُن کی بھی روایات موجود ہیں۔ ان پتھر کی بدعتوں کی چند مثالیں مندرجہ ذیل عبارت میں تصدیق کے لیے پیش ہیں۔

رومیوں کا اِنسیلیا

      یہ مادہ شہابِ ثاقب کے لوہے کا مواد تھا جو تقریباً ۷۰۰ بی۔ سی ۔ ای نُوما پمفلیہ کے دورِ حکومت میں تھا۔ سِبلین کی کتابیں نبوت کرتی ہیں کہ اس پتھر کا کھو جانا روم کے گِرنے کا متعارف کرانا تھا ( ۹ )

اُپلو کا پتھر

یہ پتھر ابتدائی یونانیوں کا بہت مقبول مقدس پتھر تھا ۔ یہ سیاہ رنگ کا، مخروطی شکل کا ، بھاری بھر کم پتھر تھا اور یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ شہابِ ثاقب کا ہے اس کو ڈیلفی کی ناف تصور کیا جاتا تھا۔ شاعر یائنڈر ( ۵۲۲۔ ۴۳۸ بی ۔سی ۔ ای ) ایمان رکھتا تھا کہ ‘‘ ڈیلفی کی یہ ناف ٹھیک زمین کے درمیان میں موجود ہے ’’ ( ۱۰ ) یہ تعلق بالکل ٹھیک طور پر اسلامی تصور سے ہے کہ کعبہ زمین پر مرکزی پرستش کا مقام ہے رابراٹ شِیروکس، نے اپنی کتاب ماسٹرز آف دی ورلڈ میں ایولو کے اس پتھر کے بارے میں بیان کیا ہے:

ہیلنیس ، پرائم کا بیٹا اور ایک مشہور یونانی پیشن گوئی کرنے والا، پتھر کی مدد سے مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرتا تھا۔ اور یہ پتھر اُس کو ایولو نے دی تھی۔ دیوتاؤں سے پیشن گوئی حاصل کرنے کے لیے ، وہ پتھر کو اپنے سر پر ہلاتا تھا اور منتر پڑھتا تھا ۔ پتھر پھر عجیب، مرجھاتی آواز میں بولتا تھا اور مستقبل کا اعلان کرتا تھا۔ (۱۱)

افسس میں ڈیانا کا پتھر

 روائتی طور پر، دیوی کے مجسمہ اور مندر کے پتھروں کے بارے یہ یقین رکھا جاتا تھا کہ یہ آسمان سے گرائے گئے ہیں۔ ڈیانا۔ آرٹرمِس کی طرف مُنہ کرکے پاجا کی جاتی تھی اور یہ غیر یقینی ہے کہ آیا وہ سیارے وینس یا چاند سے آئی تھیھ۔ ڈیانا کو ایولو کی بہن بھی سمجھا جاتا تھا۔ ‘‘ مصریوں کے گیئون اور بعل ییول ، جزیرہ آدم کے پتھر اور ہر میز کے پتھر (۱۲)

سیبلی کے پتھر

اُس پتھر کا مواد لوہے پر مشتمل ہے جس کے بارے یہ ایمان رکھا جاتا تھا کہ یہ شہابِ ثاقب کا ہے اور اس کا تعلق فریجسنیا کی سیبلی دیوی سے ہے۔ ایلیڈ نے اس پتھر کا ایک تاریخی بیان پیش کیا ہے:

 یہ روم میں ۲۰۴ بی ۔ سی ۔ ای میں پہنچا جب روم کو ہینی بال کی طرف سے دھمکیاں دی جا رہی تھیں۔ سیبلی کتابیؓ، جن کو شہابِ ثاقب کے دیکھے جانے کے بعد پرکھا گیا، اور یہ پیشن گوئی کی گئی کہ غیر ملکی فوج اٹلی سے نکالی جا سکتی ہے اگر سیبلی کی علامت ایک شہابِ ثاقب روم میں لایا جائے اور اس طرح ہینی بال کو شکست ہوئی ۔ رومی لوگوں نے اس دیوی کا شکریہ اس طرح ادا کیا کہ اُس نے اُس کے لیے ایک مندر بنوایا اور ہر سال اس کی یاد میں تہوار منانے کے لیے اِدھر آیا کرتے تھے ۔(۱۳)

امیہ کا شام میں پتھر

    یہ پتھر مخروطیشکل اور سیاہ رنگ کا تھا۔ فنیقی لوگ اس کی پوجا کرتے تھے۔ لیکن اس کی الوہیت کی شناخت کو بے یقینی کے ساتھ پیش کیا جاتا تھا ۔ اس کے بعد، امیہ کے عربی کاہن امیہ کے اس پتھر کو مزار کی شکل دی، سردار کاہن ایلیگابس اس کو روم لے گیا جب وہ شہنشاہ بنا۔

مقدس پہاڑ اور بڑے بڑے پتھر

   جیسے کے پیچھے بیان کیا جا چکا ہے کہ ہندوستانی پتھروں کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ یہ مُشق اُن کے لیے مخص بلا شرکت غیر مقامی نہیں تھی، سیکنڈیویا ، کے لوگ بھی اِن خاص پہاڑوں اور بڑے پتھروں کی پوجا کرتے تھے۔

             مسیحت سے پہلے کے مجسم سازوں کی شمالی سیکنڈیویا میں تحقیق اور کولاپینیسولا پر تحریر کے دوران لکھا گیا کہ : ۵۰۱ میں سویڈن، ۲۲۹ میں ناروے، ۸۰ سے ۹۰ میں فن لینڈ اور تقریباً ۱۰ میں مغربی روس میں وائٹ سی تھا۔ ’’( ۱۴ ) نمونے کے طور پر ایلیڈ سویڈن میں مختلف بدعتی مقاموں کی ایک فہرست پیش کرتا ہے۔

   ۱۴۹ چوٹیاں اور پہاڑ، ۱۰۸ ڈھلوان دار چٹانیں، غار، سوتے، چشمے، جھیلیں، ۳۰ جزیرے اور چٹانی جزیرے، پینی سولز، چراگاہیں اور ویرانے، لیکن بہت سارے پتھروں یا چٹانوں کی پرستش پر مشتمل تھے۔ جو کہ تقریباً ۲۲۰ ہیں ۔ اس گروہ میں، ۱۰۲ مثالیں قدرتی طور پر ظاہر ہونے والے پتھروں کی ہیں۔ الوہیت کے غیر تراشے بُت، صرف ۲ ایسے ہیں جن میں ناقابل تردید انسانی مداخلت کی صورتیں موجود ہیں۔ عام طور پر ان میں بھاری اکثریت گھِسے ہوئے پتھروں کی ہے۔ (۱۵)

  ‘‘ کُچھ معاملات میں، پرستش کا تعلق، لکڑی کے تنوں، مجسم سازی سے رہا ہے ’’(۱۶) بارسنگھے کی قُربانیوں کی روایات کو بیان کرتے ہوئے جو جسم کے پیچھے کی جاتی تھیں، ایلیڑ نے ۱۶۷۱ میں سویڈن سے تفصیلی رپورٹ پیش کی:

اس کے بعد مجسم ساز قُربان گاہ تک پہنچے انہوں نے اپنی ٹوپی اُتاری، گہرے طور پر جُھکے اور قُربان گاہ کو خون سے داغدار لیا اور موٹے تازے جانور سے ریڑھ کی ہڈی، کھوپڑی اور سپنگوں کا ایک بڑا ڈھیرالوہیت کو پیش کیا گیا، جیسے کہ سینگوں کا پتھر کے پیچھے ڈھیر لگایا گیا (۱۷)

 فن لینڈ میں، ایک بیان دیا گیا۔ ‘‘ ایک چھوٹا پتھر دیوتا جو اُٹھایا جا سکتا تھا وہ مالک کہلایا اس دیوتا کو ہاتھ میں اُٹھا کر مجسمہ ساز اپنی دُعاؤں کو بڑی عقیدت اور ضروریات کی فہرستوں کے ساتھ پیش کرتے تھے ’’ (۱۸) اس بات کو بُرا تصور کیا جاتا تھا اگر کوئی اپنے ہاتھ نہیں اُٹھا سکتا تھا ۔ پجاری اپنی خواہشات کو بار بار دہراتا تھا ۔ ‘‘ جب تک پتھر اس کے ہوتھ میں ہوتا تو وہ اتنا ہلکا ہوتا کہ وہ اپنے ہاتھ اُوپر اُٹھا سکتا تھا ’’(۱۹)

سیکنڈینیویا کے بہت سے پہاڑ مقناطیسی، سیاہ، چمکدار، آہنی ہیں جو اپنی وسعت میں کُچھ حد تک آکسیجن کی آمزیش کا عمل کرتے ہیں، اس کے دو پول ہیں جو اس کو قدرتی مقناطیسی عمل کے قابل بناتے ہیں۔ ایسے سلسلے کی فہرست میں جو بہت مشہور جگہیں ہیں اُن میں ڈینی مورا سویڈن، شمالی لیک واٹر، ٹابرگ، اسی جھیل کا جنوبی حصہ، اور یو ٹو، فن لینڈ ’’ (۲۰)    جیسے کہ پہلے بیان کیا گیا ہے، اسلامی روایت کی رپورٹیں کہ آدم زمین کی ناف سے دریافت ہوا اس ساری قدرتی دنیا کے درمیان جو کہ چمکدار سیاہ پہاڑی سلسلے سے گری ہوئی ہے یہ بات بغیر کسی شک کے مکہ کے پہاڑی سلسلے سے تعلق رکھتی ہے۔

   ‘‘زمین کی ناف ’’ کا تصور یا اس کے مرکز کی کہانی جہاں ہر چیز اس کے گرد گھومتی ہے یہ مذاہب کی تاریخ کا ایک خاص خلاصہ ہے مثال کے طور پہ ایپولو کے پتھر کے لیے مزار کے بارے میں یہ بات سمجھی جاتی تھی کہ یہ یونانیوں کے لیے کائنات کا مرکز ہے استعارراتی طور پر بہت سارے دوسرے لوگ بھی پوری دنیا میں اپنے مزاروں کو کائنات کے مرکز تصور کرتے ہیں۔ قرآنِ مجید میں سورہ ۴۲ اُس کی ۷ آیت کو مکہ والے ‘‘ اُمل کرہ ’’ کہتے تھے جس کا مطلب ہے ‘‘ مرکز کی ماں ’’ یا شہروں کہ ماں ’’ مسلمان تاریخ دان اس پیرائے کی تشریح یہ کرتے ہیں کہ مکہ زمین کا مرکز ہے اور مکہ کے سارے علاقے کا حصہ یعنی ‘‘ مکہ کی ناف ’’ (۲۱)

  محمد کے بارے میں یہ شہادت انس بن ملک کی حدیث میں سے ملتی ہے کہ وہ پتھروں کی پرستش کرتا تھا :

   اُحد کا پہاڑ اللہ کے رسول کی نظر میں آیا تو اُنھوں نے فرمایا، ‘‘ یہ پہاڑ ہے جو ہم سے پیار کرتا ہے اور ہم اس سے پیار کرتے ہیں ۔

 اے اللہ ابرہام نے مکہ کو پاک کیا ہے اور میں مکہ اور مدینہ کے درمیان دو پہاڑوں کو پاک کرتا ہوں ’’۔(۲۲)

     یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ محمد حجرہ اسود کے ساتھ ساتھ اور کعبہ میں پتھروں کی پرستش بھی کرتا تھا اور عرب میں دوسرے پتھروں کی بدعات کا مطالعہ بھی موجود تھا جس کا گہرا اثر محمد کی زندگی پر تھا۔

کعبہ اور ابتدائی عرب کے مزار

عرب کے ابتدائی وقتوں میں بے شمار کعبہ موجود تھے اس کے ساتھ ساتھ بہت سارے مندر یا مزار بھی تھے اور ان کو تواگت کہا جاتا تھا یہ تمام مقدس عمارتیں ان کا ایک خاص محافظ ہوتا تھا اور ان کے مجسموں کو ہدیے اور قربانیاں پیش کیں جاتی تھیں اور مزید ان کے گرد طواف بھی کیا جاتا تھا ۔( ۲۳ ) مثال کے طور پر ہیمار دیوتا کا ایک مندر ثنا میں تھا جس کو ریاپ کہتے تھے اس کے اندر بڑی ذمہداری کے ساتھ قُربانیاں اور ہدیے چڑھائے جاتے تھے ‘‘ ایک رپورٹ کے مطابق وہ اس کے وسیلہ سے ایک عہد کی بات چیت کو بھی وُصول کیا کرتے تھے ’’۔(۲۴) ثنا کے اسی علاقے میں ایبرا العشرم نے ایک مسیحی گرجہ گھر بھی تعمیر کروایا جس کو الکالس کہا گیا یہ سینگِ مر مر اور اعلیٰ ترین معیار کی لکڑی کے ساتھ بڑے خوبصورت طریقے سے تعمیر کیا گیا ’’ (۲۵) گرجے میں پرستش نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ محض شہادت تھی کہ عرب میں اسلام سے پہلے مسیحیت آچکی تھی ۔

مکہ کے کعبہ کی پرستش اسلامی دنیا کی باقی تمام عمارات سے زیادہ کی جاتی ہے حج کے دوران حاجی اس کے ذریعے اپنے ایمان کی شہادت دیتے ہیں اپنے جسموں کو اس کی دیوار کے ساتھ جُھکاتے ہیں تاکہ اُن کو اِس پاک ڈھانچے کے وسیلہ سے براکا (زوردار برکت) ملے۔(۲۶)

مکہ میں کعبہ کی یہ متبرک فطرت مزید اس بات کا یقین دلاتی ہے کہ رُسول اکرم کے ۳۵ سالہ دور میں اس کی تجدید کا مظاہرہ ہوا اور بعد کے ۱۵ سالوں میں اسی پر مذہبی لڑائی بھی ہوئی۔

  اُنھیں اس کے پراجیکٹ کی تعمیر کے لیے کسی قابل شخص کی ضرورت تھی اور خوش قسمتی سے اُنھیں ایک قطبی ترکھان مِل گیا جو مکہ میں یہ کام کر سکے اس طرح اس ماہر ترکھان کی مدد سے اُنھوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اس کے سارے ڈھانچے کو گرائیں اور اسے دوبارہ تعمیر کریں۔ ابووہاب جو کہ محمد کے باپ کے ماموں تھے اُنھوں نے کعبہ میں پتھر لا کر اس کی ابتداء کی ۔ اچانک ہی اُن کے ہاتھ سے نکلتے ہی یہ اپنی اصل شکل میں آگیا ابووہاب اب اس کو ایک مقدس جگہ کے طور پہ یاد کرتے ہیں اور اُنھوں نے خبردار کیا ‘‘ اے قریش والوں اس کے اندر کوئی حرام کی کمائی یا کوئی کرائے پر لائی ہوئی کسبی یا سُود خوری کی رقم اور نہ ہی کوئی بُرا کام اور تشدد اس عمارت میں کرنا ’’ (۲۷) اچانک لوگ تذبذب کا شکار ہو گئے اور مندر کو گرانے سے ڈرے اور اس کی ہیبت سے باہر نکلے اس پیش خیمہ کے باوجود مسلمان تاریخ دان ابن اضحاق کے مطابق محمد کی زندگی ایک ایسے شخص کی زندگی تھی جو نہ ڈر تھا:

     الولید بن المغیرہ نے کہا ‘‘ میں تباہ کاری شروع کروں گا ’’ اُس نے کدال اُٹھایا اور یہ کہتے ہوئے اُوپر چڑھ گیا ، اوہ خُدایا مت ڈر اوہ خُدایا ہم وہ کرنے کا ارادہ کرتے ہیں جو بہترین ہے’’۔ پھر اُس نے کونوں سے اُس حصے کو تباہ کر دیا اُس رات لوگوں نے دیکھا اور کہا کہ اگر اسے کوئی نقصان پہنچا تو ہم اس کا باقی حصہ برباد نہیں کریں گئے اور اسے دوبارہ بحال کر دیں گئے لیکن اگر اُسے کُچھ نہ ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ دیوتا نہ خوش نہیں ہے اور ہم اسے گرا دیں گئے۔ صبح کے وقت الولید دوبارہ اپنے کام پر آیا اور اُنھوں نے اس کو ابرہام کی بنیادوں تک گرا دیا وہ سبز پتھر جو اُونٹ کی کہان کی طرح تھے اُن کو اکٹھے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیا اور خُدا کے لیے ایک نسوانی شکل اختیار کرتے ہوئے جو کہ اصل عربی میں استعمال ہوئی اور جس کو کعبہ میں لاگو کیا گیا اُس کا نام لے کر خطاب کیا گیا اِس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ محمد کے زمانے کے دوران کیسے شہریوں کی زندگی میں ہر روز پتھر کی بدعت کو تعظیم دی جاتی تھی۔

بیت ایل بُت اور مجسمے

عرب کے رہنے والے ابتدائی لوگوں نے اس پرستش کو جہاں کہیں بھی وہ مختلف علاقوں میں گئے جاری رکھا وہ اکثر اپنے خُداؤں کو ساتھ اُٹھا لے جاتے اور اپنے ستانوں میں مزاروں میں اسے نسب کر لیتے عموماً پتھروں درختوں اور ستاروں کی پوجا کی جاتی تھی اور اِن کے اندر متحرک روحیں بستی تھیں (۲۹) جیسا کہ یونانی اور لاطینی مصنفین نے عرب کی ثقافت کے ساتھ تعلق قائم کیا تو وہ پتھروں کی بدعت کے دور دور پھیلے ہوئے تصور کے ساتھ اچانک ملے اُن کے لیے یہ بات بڑی عجیب تھی کہ لوگ پتھروں کی پوجا کرتے ہیں۔ ‘‘ آیا کہ یہ مکمل طور پر غیر متشکل ہیں یا یہ اُس طرح کے ہیں جس طرح کسی بھی پتھر کی ابتدائی شکل ہوتی ہے’’۔ (۳۰) مسلمان تاریخ دان ابن القالبسی کے مطابق :

   مکہ کے ہر خاندان کے گھر میں پرستش کے لیے ایک بُت ہوتا تھا جب کبھی اُن میں سے کوئی گھر سے باہر کسی سفر کے لیے جاتا تھا تو گھر چھوڑنے سے پہلے اُس کا آخری کام اُس بُت کو اِس اُمید پر چُھونا تھا کہ اُن کا سفر مبارک ہو گا؛ اور اُس کی واپسی پر پہلا کام جو وہ کرتا تھا دوبارہ اس بُت کو شکر گزاری کے طور پر چُھونا تھا کہ وہ مبارکل طور پر واپس لوٹا (۳۱)

   اسی طرح ایک اور مسلمان تاریخ دان ابن الاضحاق بھی اِسی طرح کا بیان دیتے ہیں وہ اپنے بیان میں صرف چُھونے کی بجائے اس بُت کو رگڑنے کا ذکر کرتے ہیں (۳۲)

   محمد نے حجرہ اسود کی روایت میں اِن رسومات کو جاری رکھا جب محمد نے چھڑی کے ساتھ پتھر کو چھوہا اور خُوشی سے کہا ‘‘ اللہ اکبر ’’ وہ اس بات پر ایمان رکھتا تھا کہ اس بُت کے اندر الوہیت ہے اس طرح سے وہ ایک عام عربی ذہنی ڈھانچے کی عکاسی کرتا تھا۔ اسلامی الہیات کے حوالے سے بہت ساری مثالیں اور تضادات اپنے آپ کو ظاہر کرتے ہیں مثال کے طور پر کیوں محمد اور اُس کے پیروکار واضح طور پر چاپلوسی اور ادب وآداب کے لیے بتوں سے باتیں کرتے تھے جب کہ دوسروں کو بُت پرستی سے روکتے تھے؟ اسی طرح سے مقدس اور پاک اشیاء کو ان پتھروں کے ساتھ اس حقیقت کے ساتھ جوڑا جاتا تھا کہ کوئی بھی حیض میں مبتلا خاتون ان پاک چیزوں یا پتھروں کو چھو نہیں سکتی تھی (۳۳) اور اس کی مخالفت میں حج کی اسلامی روایت میں اس کو نجس قرار دیا جاتا تھا ابن القالبی نے ابتدائی عرب والوں کی رسومات کے متعلق یہ بیان دیا:

    کہ عرب والے بتوں کی پوجا کے لیے بہت زیادہ جذباتی تھے اُن میں سے کُچھ اپنے آپ کو اُن مندروں کے درمیان میں لے جاتے تھے اور وہ اُن کی پوجا کے مرکز تھے جب کہ دوسرے کسی بھی بُت کو جو اُن کو تقدیس کے لیے دیا جاتا تھا اُس کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کرتے تھے وہ ژخص جو اپنے لیے اس مندر کو تعمیر کرنے کے قابل نہ ہوتا یا اس بُت کو لینے کے قابل نہ ہوتا تو وہ کسی بھی دوسرے مندر کے سامنے بُت کو کھڑا کر لیتا جس کو وہ ترجیح دیتا تھا اور پھر اسی طرح وہ اُس کے گرد طواف کرتا جیسے کہ وہ پاک گھر گرد طواف کر سکتا تھا عرب والے اِن بتوں کو بیت ایلز (انسب) کہتے تھے جب کبھی یہ پتھر کسی جیتی جاگتی شکل کی صورت میں ہوتا تھا تو اِس کو بُت (انسب) ابو تصور (اوتھن) اُن کا طواف کا یہ عمل سرکم روٹیسن (دیوار) کہلاتا ہے (۳۴)

  مزید برآں یہ بُت اکثر لکڑی سونے یا چاندی کے بنے ہوتے تھے؛ اور مورتیں اکثر پتھر کی بنی ہوئی ہوئی ہوتی یا ایک پتھر کو بطور بُت طواف کے ذریعے پرستش میں لیا جاتا تھا (۳۵) قالبی مزید ان رسومات کو بیان کرتے ہوئے ذکر کرتا ہے:

     جب کبھی ایک مسافر کسی جگہ یا مقام (ایک ایسی جگہ جو رات گزارنے کے لیے ہوتی) پر رُکتا تو وہ اپنے لیے چار پتھروں کو چُنتا تھا ان میں سے سب سے اعلیٰپتھر کو چُن کر اپنے خُدا کے طور پہ رکھ لیتا اور باقی تین کو اپنے کھانا پکانے کے برتن کی معاونت کے لیے اپنی روانگی پر وہ اِن کو پیچھے چھوڑ دیتا ہے اور اگلے مقاموں پر بھی یہی کُچھ کرتا ہے عرب والے ان بتوں بیت الز (انسب) اور پتھروں کے آگے قُربانیاں بھی گزارنتے تھے باوجود اس کے کہ وہ کعبہ کی شان اور برتری کو بھی چاہتے تھے جس کی زیارت وہ حج کے طور پہ کرتے تھے اُنھوں نے اپنے سفروں کے دوران جو کُچھ کیا ہوتا تھا وہی کُچھ وہ کعبہ میں آکے کرتے کیونکہ اُن کی اِس کے ساتھ عقیدت تھی وہ بھیڑ جو وہ پیش کرتے تھے اور ان بتوں اور بیت الز (انسب) کے سامنے قُربان کرتے تھے اُن کو وہ ذبحہے کہتے تھے اور وہ جگہ جس پر وہ یہ قُربانیاں یا ہدیئے قُربان کرتے تھے اُن کو وہ مذبحے کہتے(۳۶)

اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ مقدس بیت ایل دوہرے مقصد کے لیے استعمال کیے جاتے تھے پہلے نمبر پر یہ مجموعی طور پر خاص الوہیت کو پیش کرتا ہے جو بھی مردوزن اس کو انفرادی طور پر اپنی دعاؤں میں یاد رکھتا ہے دوسرے نمبر پر یہ ایک مقدس مذبحے کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے جو اس کو مذبحے کے طور پر قُربانیوں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ بہت سارے اسلامی مفکرین اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ حجرہ اسود بلاشبہ مقدس قُربان گاہ کے طور پر پوجا جاتا ہے اور برکات کے لیے اس کو پُکارا جاتا ہے تاہم اس کے اُوپر جانوروں کی قُربانیاں حج کے وقت میں گزارنی نہیں جاتیں۔

ابتدائی عرب کی بتوں اور بیت ایل کی پوجا

بہت ساری اسلام سے پہلے اور اسلام کے بعد حج کے ادا کرنے کی روایات سارے ابتدائی عرب میں موجود ہیں ان میں مندرجہ ذیل شامل ہیں : بتوں اور بیت ایل ( انسب ) کے مختلف ہدیوں اور قُربانیوں جو پتھروں کے لیے، طوافوں کے ذریعے اور اسی طرح کی مقدس ثٹانوں کے مزاروں کی رسموں کے ذریعے ادا کی جاتی تھیں۔

     تبالہ میں جو کہ مکہ سے سات روتوں کا سفر ہے اس جگہ پر دھو القلاش کا بُت پڑا ہے یہ سلیکہ کی ایک معدنی شکل کی پہاڑی کا تراشہ ہوا ٹکڑا تھا اور اس کی مشابہت ایسے تھی جیسے اس کے سر پر کوئی تاج ہوتا ہے یہودہ کے سائل کے نزدیک یا اس علاقہ میں ایک اور بُت تھا جو سعد کہلاتا تھا یہ ایک لمبی ثٹان کہلاتا تھا ایک اور قبیلہ جس کا نام دھوز تھا اُنکا ایک اپنا بُت تھا جس کو اُنھوں نے مزار میں رکھا ہوا تھا اور اسے وہ دھوایل کفن کہتے تھے ( اس کی دو ہتھلیاں تھیں )۔ ( ۳۷ ) ‘‘ کِسی آزد قبیلے کا بھی ایک بُت تھا جس کو دھوایل شرع ( دُوس راس ) کہتے تھے۔ (۳۸) یہ نباتین کا بھی ایک بڑا دیوتا تھا ‘‘ اس کی سب سے بڑی تقدیس پیترا میں تھی جہاں ایک بڑا سیاہ رنگ کا پتھر جو کہ ایک شاندار مندر میں تھا پوجا کے لیے وقف کیا ہوا تھا ۔ ’’ ( ۳۹)

ابن الا قالبی نے ایک دوسرے بُت کے بارے میں بیان کیا :

 تئیں قبیلے کے پاس ایک بُت تھا جس کو الفالس کہتے تھے یہ ایک سُرخ رنگ کا تھا اس کی شکل اُن کے پہاڑ کے مرکز آجا میں ایک انسان کی سی تھی جو کہ سیاہ تھا وہ اُس کی پوجا کرتے تھے اس کو ہدیے چڑھاتے تھے اور اس کے سامنے اپنی قُربانیاں ذبح کرتے تھے ( ۴۰)

   مزید شام کی پہاڑیوں کے جنوب میں قُادہ، لکھم، جُودھم، امیلہ اور گتفان کا بھی ایک بُت تھا جس کو الُااوکیسر کہتے تھے وہ اکثر زیارت کے لیے جاتے تھے اور اس بُت کے مزار پر اپنی آمد پر اپنے سر منڈلاتے تھے۔ ایک شخص جس کا نام ذوہیب تھا اُس نے کہا، ‘‘ مجھے الاوکیس کے بیتایل کی قسم جس پر سر منڈوائے جاتے ہیں ’’ ( ۴۱ ) اس بات پر غور کیجیے کہ کیسے یہ دیوتا اُوکیسر ایک بُت کے طور پہ پیش کیا جاتا تھا اور بیت ایل ( انسب ) ایک دوسرا دیوتا تھا یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ پتھر کی شکل زیادہ اہم نہیں تھی ۔ اناز کا بھی ایک بُت تھا جو سوایر تھا جس کو وہ طواف کے لیے استعمال کرتے تھے ایک مسافر جعفر اس بُت کے قریب آیا اور اُس نے اپنا بیان دیا :

سائر کے گرد میرے جوان اُونٹ قُربانی کا خون دیکھ کر چونک گئے اور زیارت کے دُوران اس کے نزدیک خوفزدہ اور بےحس و حرکت اور خاموش کھڑے رہے اس کی غیبی آواز کے انتظار میں ۔ ( ۴۲ )

ابن الاقالبی سے روایت ہے کہ مسافر بدووں نے بہت زیادہ بیت ایلز بنائے جو کہ در حقیقت ابتدائی تباہکاریوں کے ذریعے سے اکٹھے ہوئے پتھروں سے تھے اُن کو گاڑا گیا اُن کے لیے قُربانیاں چڑھائی گئیں اور بطور بلوتا اُن کا طواف کیا گیا انہی پتھروںکے بارے میں وحی کی بنیاد پر دمشق کا یوحنا اپنے بیان کو درست کرتا ہے کہ حجرہ اسود درحقیقت ایفروٹائیڈ کے بُت کا مجسمہ تھا۔

  مندرجہ بالا اقوال کی فہرست ابن الا قالبی کے تاریخی بیانات سے آتی ہے جن کا تعلق عرب مادی ثقافت میں پھیلی ہوئی پتھر کے متعلق بدعتوں سے

ہے :

غنی ہر شام اپنے بیت ایل کے گرد طواف کرے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور میں بیت ایلز سے عہد لوں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جوان لڑکے اپنے بیت ایل کے گرد طواف کریں گئے جب تک کہ اُن کے بال سُرمی رنگ کے نہ ہو جائیں ۔۔۔۔۔۔۔میں اپنی اُونٹینیوں کے آگے آگے چلوں گا اور میرے بیت ایلز میرے پیچھے ہونگے؛ کیا میرے لوگوں کے خُدا میرے پیچھے ہونگے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں نے اپنے بیت ایلز اور پردوں کی قسم کھائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ! آلات اور مقدس بیت ایلوں کی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جب کہ میں اور میرا گھوڑا میرا علاقہ میرے بیت ایلز کی طرح خون کی قُربانی سے ملا جائے گا

( ۴۳ )

یہ تمام تاریخی اقوال اس بات کی واضح شہادت پیش کرتے ہیں کہ کیسے ابتدائی عرب میں بتوں کی پوجا کا رُجحان تھا۔

  ایک دوسرے سند جو بتوں کی پوجا یا بدعتوں کے بارے میں عرب کے معاشرے میں موجود تھی کہ وہ اپنے بچوں کے نام اپنے خاندان کے نام ان بتوں کے ناموں پہ رکھتے تھے ۔

مثال کے طور پہ موزینے کے پاس ایک بُت تھا جس کا نام نوہم تھا اور اُس نے اپنے بچوں کا نام اُس بُت کی عزت میں عبد نوہم رکھا اُن کے پاس نوہم کا ایک محافظ بُت بھی تھا جس کا نام کزئی ابن عبد نوہم تھا (۴۴)

 اور یہ بہت اہم بات نظر آتی ہے کہ محمد کے اپنے گھرانے میں قریش کا نام کعبہ کے محافظ کا نام تھا جو کہ اُس کے آباؤ اجداد کے ناموں میں سے مناف نام کا سورج کا دیوتا تھا اور دوسرا نام العضا تھا جو کہ اللہ کی بیٹیوں میں سے ایک ہے خاص طور پہ مزے کی بات یہ ہے کہ محمد کے اپنے باپ کا نام عبداللہ تھا جس کا مطلب ہے ( اللہ کا غلام ) ( ۴۵ )

کیوں اُنھوں نے اپنے نام ان دیوتاؤں کے نام پر رکھے واضح طور پہ یہ ایک مذہب تھا جو ان پتھر کے بتوں کو عزت دیتا تھا ۔

مزید برآں یہ محض ایک تفاق تھا کہ محمد کے باپ نے اسلامی الہیات کا نام اسے دیا یا اللہ محض ۳۶۰ یا اس سے زیادہ بتوں میں سے ایک بُت تھا جو اسلام سے پہلے کعبہ میں موجود تھا۔

 

Sep 10

Newly Released Ebook!

http://www.bigfaithministries.com

A shocking, riveting, intriguing re-discovery of history, culture, philosophy and the emerging of a key individual that became the instrument to catapult the Islamic religion. The impact of ancient Arabian folklore with its stone and astral cults, shamanism, various Judaic traditions, heretical sects within Christianity, and prevalent moon-god veneration, all rolled together in the mind of Muhammad, who carved out a kind of salad religion, taking bits and pieces and countering with his own ‘amendable bible,’ the Qur’an. His unique approach to religious policy, women’s rights, sexuality and gaining adherents are all candidly revealed. His militant, religious movement to achieve global domination is traced from its beginnings, through the Crusades period, all the way to its impact on current world views. Islam’s positioning in the fulfillment of Biblical prophecy is shown to be a stark reality on the End Time clock.

Amazon – Kindle, Barnes & Noble – Nook, Sony, Apple ibooks ($4.99)

 

May 22

Turkey Stakes Claim in America With $100 Million Mega-Mosque

 

 

Tue, May 21, 2013

A drawing of Turkey's $100 million mega-mosque complex being built in Maryland.

The Islamist government of Turkey is building a 15-acre, $100 million mega-mosque in Lanham, Maryland. Prime Minister Erdogan visited the site on May 15 in a ceremony that was attended by the leaders of two groups linked to the U.S. Muslim Brotherhood.

The state of Maryland was officially represented at the event by its Secretary of State John McDonough.

The event was also attended by the leaders of two U.S. Muslim Brotherhood entities.

The mega-mosque is called the Turkish American Culture and Civilization Center and, according to the Muslim Link,  it “will likely become the largest and most striking examples of Islamic architecture in the western hemisphere” when it is finished in 2014. The Muslim Link explicitly says it is “a project of the government of Turkey.”

On May 15, Prime Minister Erdogan spoke to hundreds of people at the construction site and said he’d come back for the opening ceremony next year. He warned the audience that there are groups promoting “Islamophobia,” branding potential critics as paranoid bigots. Erdogan recently said that “Islamophobia” and Zionism are equivalent to fascism and anti-Semitism, saying they are a “crime against humanity.”

On this trip to the U.S., Erdogan brought the father of one of the Islamists killed while on a Turkish flotilla which was trying to break Israel’s weapons blockade on Gaza. Gaza is controlled by Hamas, which is a designated terrorist organization by the U.S. State Department. Erdogan reportedly wanted to him to meet President Obama. (In the end, the father met with Secretary of State John Kerry.)

The leaders of two U.S. Muslim Brotherhood entities in attendance included Naeem Baig, is the president of the Islamic Circle of North America (ICNA). A 1991 U.S. Muslim Brotherhood memo lists ICNA as one of “our organizations and the organizations of our friends.” The memo says its “work in America is “a kind of grand jihad in eliminating and destroying the Western civilization from within.” The memo even refers to meetings with ICNA where there was talk about a merger.

ICNA is also linked to the Pakistani Islamist group Jamaat-e-Islami and its conferences feature radical speakers. A former ICNA president was recently indicted for horrific war crimes committed during Bangladesh’s 1971 succession from Pakistan – the torture and murder or 18 political opponents.

The second official from a U.S. Muslim Brotherhood entity that attended the event was Mohamed Magid, president of the Islamic Society of North America (ISNA). ISNA and several of its components are listed as U.S. Muslim Brotherhood fronts in the same 1991 Brotherhood memo. ISNA was also an unindicted co-conspirator in the Holy Land Foundation case, dubbed the largest Islamic terror-funding trial in the history of the U.S.  Federal prosecutors in the case also listed ISNA as a U.S. Muslim Brotherhood entity.

The Turkish government has been quietly spreading its influence in the U.S., but Erdogan’s public invovlement in the building of this center takes Turkey’s “outreach” in America out of the realm of the subtle.

The Clarion Project recently reported on the growing ties between the Turkish government and Native American tribes. With Congress’ help, thousands of Turkish contractors and their families may be flooding into America’s heartland and settling in semi-autonomous zones of the Native Americans, well out of the reach of American authorities.

The Clarion Project also reported on the Turkish Fethullah Gulen school network in America, which is currently under FBI investigation. The network is the largest charter school network in America.  It is the same network that has been a critical component in Turkey’s on-going transformation from a secular democracy into an Islamic state.

Erdogan and his Islamist government calls Hamas a “resistance” group, despite the fact that Hamas specifically targets Israeli civilians with suicide bombings and rocket attacks. Not surprisingly, Hamas leader Khaled Mashaal is a big admirer of Erdogan

Since taking office in 2003, Erdogan has been implementing his Islamist agenda, slowly but steadily changing Turkey from a secular democracy to an Islamist state: College admissions have been changed to favor religious students, the military has been gutted of its secular generals (with one in five generals currently in prison on dubious charges) and women have been routed out of top government jobs. Honor killings in Turkey increased 1,400 percent between 2002 and 2009. Persecution of artists and journalists has become commonplace as opponents are charged with “crimes” like “denigrating Islam” and “denigrading the state.”

According to the Muslim Link, the new center will have five buildings, including a mosque “constructed using sixteenth century Ottoman architecture that can hold 750 worshipers.” 

The Turkish American Culture and Civilization Center will be the largest Islamic site in the Western Hemisphere. The fact that it is being built by the government of Turkey represents the next step in Erdogan’s desire to increase the Islamist influence in America.

Ryan Mauro is the ClarionProject.org’s National Security Analyst, a fellow with the Clarion Project and is frequently interviewed on Fox News.

Jan 31

THE ANTICHRIST WORLD EMPIRE

As recorded in biblical prophecies, the titles of the future Antichrist describe the kingdoms he will rule over. He is called the king of Babylon, the Assyrian, the Prince of Tyre (Lebanon), and Pharoah of Egypt. Prophecy is precise in geography. Christ was prophesied to come out of Egypt, Bethlehem and Nazareth. And true to divine providence, Jesus was born in Bethlehem, fled to Egypt during Herod’s murder spree, and grew up in Nazareth.

Ten-Nation Islamic Confederacy

Shoebat gives an excellent summary of the nations to be controlled by the Antichrist/Mahdi:

Much of the Book of Isaiah is devoted to the final clash between the Messiah and the Antichrist. Yet when we actually look at the specific nations that so many of the “prophetic oracles” or “burdens” are directed against, they are all Muslim nations. Consider the nations that are emphasized: Babylon—Isaiah 13; Assyria and the Philistines (Palestinians)—Isaiah 14; Moab—Isaiah 15; Damascus—Isaiah 17; Cush (Sudan and Somaliland)—Isaiah 18; Egypt—Isaiah 19; Egypt and Cush—Isaiah 20; Babylon (Iraq and Arabia) and Edom (Arabia)—Isaiah 21; Tyre (Lebanon)—Isaiah 23.[15]

This aligns with a ten-nation Islamic confederacy, “And the ten horns which thou sawest are ten kings, which have received no kingdom as yet; but receive power as kings one hour with the beast” (Rev. 17:12). These ten rulers will unify as an ally with the beast. Shoebat writes:

In 2002, a plan for the reestablishment of the Caliphate was written by Abu Qanit al-Sharif al-Hasani of the Guiding Helper Foundation. The plan was entitled, “The Plan for the Return of The Caliphate.” According to this plan, a ten member council of “Assistant Caliphs” would assist the Caliph in his rule. These assistants, or council members, are similar to Ministers in many of today’s governments.[16]

Other Islamic groups and movements share the same vision and are working toward the goal of a worldwide empire centered in the Middle East and expanding outward to the entire globe. Out of these kingdoms, Assyria appears prominent in the Last Days’ war with Israel. The Lord of hosts declares, “I will break the Assyrian in my land, and upon my mountains tread him under foot” (Isa. 14:25).

The Seven Heads

The End Times beast/kingdom was witnessed by the apostle John:

So he carried me away in the spirit into the wilderness (deserted place):  and I saw a woman sit upon a scarlet colored beast, full of names of blasphemy, having seven heads and ten horns. . . . And here is the mind that hath wisdom. The seven heads are seven mountains (kingdoms), on which the woman sitteth. And there are seven kings:  five are fallen, and one is, and the other is not yet come; and when he cometh, he must continue a short space. And the beast that was, and is not, even he is the eighth, and is of the seven, and goeth into perdition (Rev. 17:3, 9-11).

In proper hermeneutical studies, the word mountain should be translated as ‘kingdom’ in this context as well as many other prophetic passages. Again, Shoebat’s excellent perspective from a Middle Eastern point of view, gives an insightful reading of these verses:

First, we see that at the time that it was written, five of the empires had already fallen. This is seen in the phrase, “five have fallen.” These empires are:

1. The Egyptian Empire

2. The Assyrian Empire

3. The Babylonian Empire

4. The Persian Empire

5. The Greek Empire

After these five, the angel tells John that one mountain (empire) “is.” At the time that John wrote the Book of Revelation, this was the Roman Empire. It ruled the Middle East,  Northern Africa and much of Europe.

6. The Roman Empire[17]

So, the mystery kingdom is the seventh. During the Apostle John’s life the seventh empire did not yet exist. The final eighth empire will be a revived seventh empire. Each successive kingdom absorbed the former and expanded its domains further outward. The Roman Empire of John’s day was powerful but was overtaken by the Islamic Ottoman Empire centuries later and thus fulfills all qualifications as empire Number 7. This Islamic empire collapsed (was wounded) but will be revived as a superpower in the Last Days as empire Number 8. All these empires took over Jerusalem in line with the Jerusalem-centric hermeneutic principle.

Turkey as Antichrist’s Stronghold

joels-map

Nobody knows the day or hour of the return of Christ but the signs will become evident as the event approaches. The biblical prophecies point to the region of modern Turkey as one of the Antichrist’s chief strongholds thus deeming this region of extreme importance. “And I saw one of his heads as it were wounded to death; and his deadly wound was healed:  and all the world wondered after the beast” (Rev. 13:3). As predicted in chapter thirteen, the seventh empire headquartered in Constantinople, Turkey (former capital of the Eastern Roman Empire) was “wounded” by the abolishment of the Caliphate in 1924. From the Ezekiel prophecies, Turkey stands out prominently as a chief player in End Times’ warfare against Israel. Ezekiel prophesied against an Antichrist figure named Gog:

Son of man, set thy face against Gog, the land of Magog, the chief prince of Meshech and Tubal, and prophecy against him. And say, Thus saith the Lord God; Behold, I am against thee, O Gog, the chief prince of Meshech and Tubal: . . . Persia, Ethiopia (Cush), and Libya (Put/Phut) with them; all of them with shield and helmet:  Gomer, and all his bands; the house of Togarmah of the north quarter, and all his bands:  and many people with thee (Ezek. 38:2-3, 5-6).

Five of the eight locations in this prophecy were specifically located within the modern borders of Turkey. These regions include; Magog, Meshech, Tubal, Gomer and Togarmah. The associated allies of this regime were listed as Persia (modern-day Iran), Cush (Sudan and Somalia), Put/Phut (region west of Egypt – possibly Libya, Algeria, Tunisia, and Mauritania). All these regions are Islamic.[18]

Within this prophecy many mistranslate the Hebrew phrase “chief prince of” as “prince of Rosh” or “chief” as “Rosh” in order to phonetically equivocate this to Rus or Russia. This does not correlate with Hebrew Lexicons such as Brown Driver Briggs and others. The word Rosh as “chief” or “head of” remains the standard in all the biblical occurences.[19] So, a proper reading would signify Gog as the leader (“head of” or “chief prince of”) all these Islamic regions.

Magog has been identified with the Scythians who dominated regions of “Asia Minor (Turkey) and the several Central Asian states (Turkmenistan, Kazakstan, Tajikistan, Uzbekistan, etc.)” which are all former southern soviet states of Russia now turned Muslim.[20] All these regions were part of the ancient Assyrian Empire. The remaining four prophesied regions of Meshech, Tubal, Gomer and Togormah were all within the boundaries of modern Turkey.

Antakya, Turkey

Most biblical scholars acknowledge that Antiochus IV Epiphanes was an exact type of the future antichrist. He reigned from 175-164 BC as ruler over the Hellenistic Seleucid Empire. The capitol of the Seleucid empire was Antioch, located in modern Antakya, Turkey. This strategic city, located near the northwestern Syrian border, had significant importance over the centuries including the clash between the Crusaders and the Muslim armies.

Antakya, Turkey

Antakya, Turkey

Modern biblical prophecy scholars who wish to maintain a consistent thesis should take this fact into consideration when teaching which general region the final antichrist may emerge from. The “king of the north” of Daniel 11 fits the description of Antiochus IV as a type of the final antichrist who rules from the region of Turkey.

The Altar of Pergamon as the Throne of Satan

The Book of Revelation records the words of Jesus to the seven churches in Asia Minor (modern Turkey):

And to the angel of the church in Pergamos write; These things saith he (Jesus) which hath the sharp sword with two edges; I know thy works, and where thou dwellest, even where Satan’s seat (throne)  is:  and thou holdest fast my name, and hast not denied my faith, even in those days wherein Antipas was my faithful martyr, who was slain among you, where Satan dwelleth (Rev 2:12-13).

Ancient Pergamos

Ancient Pergamos

Ancient Pergamos was considered to be the center of all pagan worship in Asia Minor (Turkey) and represented a vast assortment of gods throughout all past world empires. A massive altar to Zeus was erected on the south end of this theatre complex. The altar/temple was constructed in a horseshoe like shape and its dimensions are 35.64 meters wide and 33.4 meters deep. The temple base includes a frieze often named the Gigantomachy which depicts the war between the giants and the gods.

Gigantomachy frieze on altar

Gigantomachy frieze on altar

The altar was excavated by German archaeologists and brought to Berlin, Germany. The first Pergamon Museum was opened in 1901. However, it was eventually deemed structurally unfit and later replaced by a larger museum complex in 1930. Between 1934 and 1937, the Nazi party’s chief architect, Albert Speer, constructed a replica of the Pergamon altar for the Zeppelintribune; a grandstand for the massive Nuremberg rallies. In the middle of the altar was a bronze bull designed for human sacrifices. This bull was removed and replaced with Hitler’s pulpit.

Hitler-Zeppelin

Hitler-Zeppelin

Zeppelinfeld vor der Haupttribne auf dem Reichsparteitagsgel„nde in Nrnberg

 

This bull has a long history of grisly terror for its victims. The Christian bishop, Antipas was murdered upon this altar according to the Apostle John’s revelation. Antipas had driven out so many evil spirits from the city that the worship of the pagan gods was disturbed and complaints to the Roman governor were issued. When Antipas refused to offer sacrifice to a statue of the Roman emperor as “lord” and “god” he was condemned to death. The pagan rite of the bull sacrifice involved opening a door panel on the bull and inserting the human sacrifice with their head inside the bull head and the body within the body. A fire would be lit under the bronze bull slowly roasting the victim alive. The bull head was fitted with a pipe so that when the victim moaned and cried out in pain the bull would appear to come alive.[21]

brazenbull_1

Pierre_Woeiriot_Phalaris

From this same centered altar, Hitler claimed to have summoned mystical powers and rallied the people for world conquest, culminating in WWII. The word ‘holocaust’ in the Greek meant “a wholly burnt animal sacrifice.” Six million Jews were sacrificed in like manner via Hitler’s supreme orders channeled from the occult spirit realm.

Scenes from these torch light ceremonial Nuremberg gatherings, with Hitler portrayed as a god-like figure, were made into the most famous propaganda film of all time, “Triumph of the Will.” The film was directed by the famous German actress, Leni Riefenstahl. Hitler carefully approved of every scene and it was shown throughout Germany for twelve years. Interestingly, when the Pergamon altar was taken by the Russians in 1948 the nation of Israel was born. The altar was later returned in 1958.

triumphofthewill-masseshitler-triumph-rows

In 2006, Turkey attempted to get the Pergamon altar back from Germany but was denied. The government of Turkey has intentioned to construct a replica altar in its original location. Biblical scriptures and the witness from church history attest to the fact that Satan and demonic spirits maintain strongholds in nations, cities, buildings, animals, people, and even objects at times. Asia Minor (Turkey) has been a stronghold of Satan for ages and culminating with the reign of Islam. The capital pagan city of the ancient world, Pergamon, was geographically near the capital of the Eastern Roman Empire (Constantinople), which is now Istanbul (Capital of the Islamic Ottoman Empire) and soon to be revived under the Antichrist and the pagan moon-god Allah.

Islamic and Military Resurgence in Turkey

In the Book of Daniel, a prophecy of the Antichrist states:

And in the latter time of their kingdom, when the transgressors are come to the full, a king of fierce countenance, and understanding dark sentences, shall stand up. And his power shall be mighty, but not by his own power:  and he shall destroy wonderfully, and shall prosper, and practice, and shall destroy the mighty and the holy people. And through his policy also shall cause craft to prosper in his hand; and he shall magnify himself in his heart, and by peace shall destroy many:  he shall also stand up against the Prince of princes; but he shall be broken without hand. And the vision of the evening and the morning which was told is true:  wherefore shut up the vision; for it shall be for many days (Dan. 8:23-26).

Daniel continues:

And he shall confirm the covenant with many for one week:  and in the midst of the week he shall cause the sacrifice and the oblation to cease, and for the overspreading of abominations he shall make it desolate, even until the consummation, and that determined shall be poured upon the desolate (Dan. 9:27).

The Antichrist will be a master of negotiation and deception. He will make a covenant with Israel and other nations for seven years but break it midway. Muhammad and Allah’s so-called revelations sanction the creation of false peace agreements and treaties for furthering the advancement of Islam. Muhammad broke his word in the ten-year truce (hudna) or “Treaty of Hudaybiyyah” and his followers, throughout history, have followed his example of deceptive false peace.

President Abduallah Gul (literally translated “the servant of Allah the demon”

Turkish President Abduallah Gul (literally translated “the servant of Allah the demon”

 

Turkish Prime Minister Recep Tayyip Erdogan

Turkish Prime Minister Recep Tayyip Erdogan

 

 

 

 

 

 

 

 

The Turkish Prime Minister Recep Tayyip Erdogan and President Abduallah Gul (literally translated “the servant of Allah the demon”) have positioned Turkey as the leading broker for peace in the Middle East. Turkey has played the mediator for numerous peace initiatives and agreements. However, one must take account of their ambitions to obtain membership in the E.U. and appease the west. Meanwhile, the Islamists have been taking control behind the scenes with extreme anti-Jewish and anti-Christian sentiment escalating throughout Turkey. This should not come as a shock considering the long standing history of atrocities against Jews and Christians from this Islamic capital. The Turkish government continues to deny any formal recognition of the Armenian genocide of Christians much like those who deny the Holocaust of the Jews. In 2007, Erdogan issued a new definition for government institution policy; to substitute the term “1915 event” in place of the “so-called Armenian genocide,” This was an obvious attempt to obscure the gravity of the atrocities committed in 1915 and prior. In 2012 France has pushed to make the Armenian genocide official yet Turkey still refuses to acknowledge this historical fact. Meanwhile, as Turkey slides into Sharia rule, a 1400 percent increase in the murder rate of women has occurred, and many of these were honor killings.

Numerous examples may be cited concerning the rise in religious hatred toward the Christians and Jews within modern Turkey. In 2006, the Turkish film “Valley of the Wolves:  Iraq” smashed the all time box office records in Turkey and did extremely well in Germany within the Turkish immigrant community. The film includes the “Hood Incident” in Iraq where Turkish elite Special Forces troops were captured by the American military and hoods placed on their heads. Turkish commandos felt humiliated and thus initiated an unwanted backlash from the Turkish people. In a form of reprisal, the film portrays Americans as evil criminals and includes a Jewish doctor played by Gary Busey who harvests organs of Iraqis to be sold on the black markets of Tel Aviv, New York, and London.[22]

The online Der Spiegel International news site commented, “This wouldn’t be so bad if the film didn’t portray the opponents of Turks and Muslims so brutally – the bad guys in this black and white world are the Americans, the Kurds, the Christians and the Jews.”[23] Many Turks regard this film as one of the greatest movies of all time and completely relish in the biased propaganda. A follow-up film entitled “Valley of the Wolves:  Palestine” employs an obvious anti-Zionist agenda in the plot dealing with the Palestinian “flotilla crisis.” Other examples of rising hate within Turkey include best selling books such as; Adolph Hitler’s “Mein Kampf” (My Struggle), Attack on the Pope, The Protocols of the Elders of Zion and Henry Ford’s International Jew.[24]

Adolph Hitler’s “Mein Kampf” (My Struggle)

Adolph Hitler’s “Mein Kampf” (My Struggle)

mein kampf TurkeyMeinKampf

 

 

 

 

 

 

 

 

Both President Abdullah Gul and Prime Minister Erdogan had their roots in Turkey’s Islamist movement under the liberal AKP (Islamic Justice and Development Party). Erdogan feigns an appeasement to global peace and western democracy yet clings to his Islamic roots. Shoebat cites examples:

Erdogan was caught making the infamous quote that, “Democracy is like a streetcar. You ride it until you arrive at your destination and then you get off.” It was also reported that Erdogan’s undersecretary stated that it was necessary to replace secularism and republicanism with a more participatory, Islamic system. On another occasion, in a rare moment of transparency, Erdogan recited the following portion of a radical poem that he wrote:  “[The] Mosques are our barracks, [the] domes our helmets, [the] minarets our bayonets, [the] believers our soldiers. This holy army guards my religion. Almighty, our journey is our destiny, the end is martyrdom.”[25]

These comments seem to reflect the true nature of Erdogan’s intentions for the institution of complete Islamic rule over Turkey. Statements such as these, have earned him endorsements from the al-Qaeda leadership, such as al-Zawahiri and others.

In a short period, the AKP, under Erdogan’s control has come close to installing an Islamic regime under the guise of democracy. According to an article by Joel Richardson titled, Turkey to Double Size of its Army, the AKP has accomplished the following since 2002:

“Occupy the presidency; occupy the seat of prime minister; gain a large majority of seats in the parliament; fill the judiciary with Islamist-leaning judges; behead the top echelons of the military; infiltrate the police force (over 70 percent are members of the Islamist Gulen movement); intimidate and imprison Turkish journalists (there are more Turkish journalists in prison than any other nation in the world – more than China or Iran).” The nation’s leadership is now working toward a bill authorizing them to rewrite the Turkish Constitution, giving them far more sweeping powers over the military and judiciary.[26]

There are plans for Turkey to double the size of its military which is already the second- largest standing army in NATO with an estimated 500,000 soldiers. A key motivation for this push is to quell the serious unemployment problem. With a public support level of 80 percent it will likely go forward unopposed. In addition to doubling its existing paid army, the government has been quietly pursuing its own nuclear ambitions. In 2006, Erdogan pushed for reviving the nuclear power plans and was approved by Parliament in 2007. In 2010, Russia and Turkey made a pact to build a nuclear plant in this decade. Thus far, the media has remained quiet regarding the event taking place in Turkey.[27] The Western powers may have cause for concern now that the wounded Islamic Ottoman Empire has shown signs of new life and making tentative alliances with Eastern nations hostile to Western values. For example, Turkey’s usual “Anatolian Eagle” joint power exercises recently replaced the Israeli and American forces with Chinese planes and pilots. The Chinese were given permission by Tehran to fly over Iranian airspace.[28] All these signs are worth noting as the Antichrist’s Empire awakens to wreak death and destruction upon the nations.

Many in the West ignore these signs of Islamic resurgence based on their assumption that their militaries are far superior and can never be overthrown. However, paradigm shifts in world superpowers have occurred in the past virtually overnight. Islamic mullahs preach to their flocks that they will conquer the West much like the Christians conquered pagan Rome.

At the conclusion of the third century, Rome was at the apex of its military expansion yet also in full scale economic crisis. Emperor Diocletian decided to institute price fixing in a futile attempt to thwart the rapid economic collapse. Simultaneously, he inflicted an intense persecution of Christians and Jews throughout the empire which caused an internal backlash and revolt led by the recently converted Christian, Constantine. By 312, the paganized Roman Empire was overthrown and Constantine was decreed as an Emperor. Could a similar shift in world powers occur in regard to Islam? Christianity had spread throughout the Roman Empire and it was only a matter of time before it achieved victory. Likewise, the first Islamic Empire conquered vast territories of Christian Byzantium (formerly Roman territory) in just a few decades. Could history repeat itself in regard to a resurgent worldwide Islamic Empire? Muslims have mass immigrated and exploded in growth in the West. Could a similar scenario of a worldwide shift in power occur within the next few decades? The answer appears to be in the affirmative according to current economic and demographic trends.

 

From Chapter 16 of Mecca, Muhammad & the Origins of Islam:  A Candid Investigation Into the Origins of Islam.

[15] Shoebat, God’s War on Terror, 226.

[16] Ibid., 91.  [17] Ibid., 300.  [18] Ibid., 421.

[19] Brown, Driver, Briggs; Brown-Driver-Briggs Hebrew, 910-11.

[20] Shoebat, God’s War on Terror, 255.

[21] Gordon Robertson, The Seat of Satan:  Ancient Pergamum, [http://www.cbn.com/700club/features/ChurchHistory/Pergamon/EZ28_seat_of_satan_part_2.aspx] (accessed January, 2012).

[22] Shoebat, God’s War on Terror, 438.

[23] Cem Ozdemir, Controversy Over Turkish Movie:  Beyond the Valley of the Wolves, [http://Spiegel.de/international/0,1518,401565,00.html] (accessed January, 2012).

[24] Shoebat, God’s War on Terror, 438-39.  [25] Ibid., 441-42.

[26] Joel Richardson, Turkey to Double Size of Its Army [http://www.bibleprophecyblog.com/2011/07/turkey-to-double-size-of-its-army.html] (accessed January, 2012).

[27] Hillel Fradkin and Lewis Libby, Power Play:  Turkey’s Bid to Trump Iran [http://www.worldaffairsjournal.org/article/power-play-turkeys-bid-trump-iran] (accessed January, 2012).

[28] Ibid.

www.bigfaithminstries.com

 

Related Links:

The Mideast Beast Video

Turkish Foreign Minister invokes Ottoman Empire as new order for Middle East

Muslims Kill Christians, Bottle Their Blood, And Sell It For $100,000 A Piece To Saudis

Turkey becoming world’s leading terrorism finance hub

 

Jan 29

Gun Confiscation as Prelude to the Armenian Genocide

april24

The Islamic Turks had fought many wars and committed many heinous crimes of war leading up to their eventual collapse. Into the twentieth and twenty-first centuries, the Muslim invasions had continued relentlessly. From 1894-1896, the Turkish Muslims slaughtered over 250,000 Armenian Christians. In 1904 and 1909, another 30,000 Armenians were murdered. Once again, in 1915, just prior to World War I, the Muslim Turks systematically carried out the genocide of a million Armenians. Many were gunned down, “drowned (including children), and thrown over cliffs; those who survived were deported or reduced to slavery.”[46]

 

 

Armenian_Genocide copy800px-Armenian_Genocide_Map-en.svg

 

One may ponder how these genocides could be so effective. The Islamic Turks instituted draconian weapons confiscation by instituted threats of torture and death. The Armenian soldiers within the ranks of the Turkish army were targeted first. They were forced into forced labor groups and their weapons confiscated. Later, they would be led out to dig their own graves and summarily executed. Next the government turned toward disarming the citizens. One may wonder how Armenian citizens were duped into surrendering their weapons. The Armenian religious and civic leaders were used as tools to implement mass propaganda against their own people. This tactic convinced some but many Armenians were reluctant based upon their past experience of the 1895-96 atrocities which included prior weapons confiscations. Nevertheless, the Turks increased their pogroms by ordering all Armenians to produce a certain quota of weapons. Of course, this was not even feasible since many did not own any guns. The results were merciless: Those who could not surrender any weapons were severely tortured; those who obtained some by purchase or trade were sent to prison for treason and also tortured; and those discovered to have hidden weapons tortured with the maximum intensity. Once the Armenians were disarmed the genocidal slaughter entered into full swing with mass deportations and murder.

Under the guise of an ordered deportation policy the Muslims were able to deceive other nations from any intervention. In reality, most of those forced into the train cars were executed en route or died of starvation. Others, who went by sea were often thrown overboard and drowned. Those who made the journey to the concentration camps in the Syrian Desert and along the Euphrates were either executed or died of malnutrition or disease.[47]

 

Armenian-genocide-heads

a_genocide

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Meanwhile complete religious cleansing swept through the Armenian provinces. Karsh cites an example from the province of Van:

The main executioner was Djevdet Pasha, the brother-in-law of the minister of war, Enver Pasha, who, in February 1915, was made governor of Van. A sadist known throughout Armenia as the “horseshoe of Bashkale” for his favorite pastime of nailing horseshoes to the feet of his victims, Djevet inaugurated his term in office by slaughtering some eight hundred people—mostly old men, women, and children. By April the death toll had risen to ten thousand, and in the following months the population of the Van zone would be systematically exterminated.[48]

Murderer Turks

 

Hitler would use this model of Armenian genocide for his own tool for a holocaust. Hitler and Heinrich Himmler were both impressed by the Islamic Turk’s methods of quiet exterminations. Hitler, Stalin, Mao, Pol Pot, and most other mass genocidal maniacs instituted complete gun confiscations shortly before they implemented their reigns of terror and slaughter of millions. The Muslims were pioneers in the policy of disarming the populace for their subsequent exterminations; emulated by all the great dictators of the twenty first century.

hitler-himmler

 

 

 

 

 

 

 

 

The citizens of the United States of America have been blessed by the foresight of the founding fathers in securing the right to bear arms under a constitutional law. The founders were all keenly aware of the atrocities governments could potentially impose based upon the history of Europe and their current struggles forming the new Republic.

index2 index

 

 

 

 

 

 

 

 

 

In addition to weapon confiscations, Hitler also used trains to transport his victims to concentration camps, often packed to triple capacity, thus many died en route. Furthermore, Hitler gave free reign to torture such as the Muslims had done. Walid Shoebat, in God’s War on Terror:  Islam, Prophecy and the Bible, cites an historical account:

“Hitler was even more impressed with how the Turks got away with genocide. On Aug. 22, 1939, Hitler explained that his plans to invade Poland included the formation of death squads that would exterminate men, women, and children. He asked, ‘who, after all, speaks today of the annihilation of the Armenians?”[49]

images

 

 

 

 

 

 

 

 

Hitler continued to conspire with the Muslims in an unholy cabal to exterminate the Jews during World War II. It is entirely conceivable, given our current economic, political and global climate; that in the biblical Last Days another coalition will form between Islam and a future powerful dictator. Or, possibly, Islam itself will subdue the world. The Apostle John prophesied: “One of the heads of the beast seemed to have a fatal wound, but the fatal wound had been healed” (Rev. 13:3). The end of the Islamic Caliphate in 1924 was a fatal blow to the beast (Antichrist Empire) and yet, now is reviving, consolidating and expanding in a torrid pace. Eventually, the beast will be ‘healed’ when the Caliphate is re-instituted. John continues, “The inhabitants of the earth whose names have not been written in the book of life from the creation of the world will be astonished when they see the beast, because he once was, then he was not, and yet came again” (Rev. 17:8).

 

From Chapter 13 of Mecca, Muhammad & the Origins of Islam:  A Candid Investigation Into the Origins of Islam.

[46] Warraq, Why I Am Not a Muslim, 238.

[47] Karsh, Islamic Imperialism, 116-17.  [48] Ibid., 116.

[49] Walid Shoebat, God’s War on Terror:  Islam, Prophecy and the Bible (n.p.:  Top Executive Media, 2010), 171.

Related Videos:

 

 

www.bigfaithministries.com

 

Creative Commons License
Gun Confiscation as Prelude to the Armenian Genocide by Brett Stortroen is licensed under a Creative Commons Attribution 3.0 Unported License.

Nov 19

Are The Arabs The Descendants of Ishmael?

By Dr. Robert A. Morey.
The Middle East will never have peace until the above question is honestly
answered according to the historical facts. Myths and legends are fine as
stories for children but in the real world we must have facts and
documentation. Read the rest of this entry »

Oct 09

A Common Sense Analysis of the Qur’an

Throughout the centuries and progressing into the twenty first century, Muslims will make outlandish claims regarding the origins of the Qur’an. Despite the lack of any credible historical evidence, these myths have been perpetuated for nearly thirteen hundred years. Now, the ebb tide has turned, with advanced textual studies the ancient myths surrounding the Qur’an’s origins will be dispelled.

THE COMPILATION OF THE QUR’AN

The Muslim Theory

According to popular Muslim ideology, the Qur’an had been perfectly transmitted from a “preserved tablet” in Paradise (Qur’an 85:22), to the prophet Muhammad, and down through the ages to today’s contemporary Qur’an. The Islamic orthodox position concerning the textual transmission states that on every occasion Muhammad had the revelations revealed to him, he had it written down. Subsequently, once a year the spirit Gabriel appeared to Muhammad to facilitate and collate the material previously revealed. Although the Qur’an had not been written out in book form at that period, not prior to the death of Muhammad, it was later compiled; all the suras were gathered in the correct order.

Next, the first caliph, Abu Bakr; ordered the first official recension. In the course of Uthman’s caliphate, various disquieting problems were seen in the text; so, Uthman established a committee, “then borrowed from Hafsa the copy made by Abu Bakr, and on its basis had a standard codex written out in the pure dialect of Quraish.”[1] Afterward, many copies were sent to the important centers of the Islamic kingdom. Consequently, all modern texts of the Qur’an had been exact reproductions of Uthman’s original, without any flaws or variation from the original, according to the orthodox Islamic beliefs.

The Scholar’s View

This Muslim position has been based on wishful thinking regarding the origin of the Qur’an. There is no evidence that Muhammad had formulated a written Qur’an. His messages were proclaimed orally. The prophet’s followers memorized the majority of the revelations. These individuals along with their successors were called Qurra (the reciters, later the readers).[2] The Hadith claimed that Zaid b. Thabit had been ordered on a mission to collect all the Qur’an into one book. The principle reason for this task was on account of the fact that many of the reciters were killed in the battle of Al-Yamama. Since these oral accounts were in the memories of these men, many of the Qur’an verses needed to be recorded that were in danger of being lost. The Hadith stated:

Zaid bin Thabit narrated: . . . Umar came to me and said:  ‘A great number of reciters of the Holy Qur’an were killed on the day of the battle of Al-Yamama, and I am afraid that the casualties among the reciters of the Qur’an may increase on other battle-fields whereby a large part of the Qur’an may be lost. Therefore, I consider it advisable that your (Abu Bakr) should have the Qur’an collected.’[3]

From this historical evidence, one must conclude that there was initially no complete codified Qur’an, not even one at the time of Muhammad. If there were a complete text already in existence, there would have been no urgent need to collect any compiled materials or fragments in order to formulate a book. Another account from the Hadith states:

Zaid bin Thabit testifies that Abu Bakr called him to search for the fragmentary scripts of the Qur’an and to collect it (in one book). So I started looking for the Qur’an and collecting it from (what was written on) palm leaf stalks, white stones, and also from the men who knew it by heart, till I found the last verse. . . . Then the complete manuscripts of the Qur’an remained with Abu Bakr till he died then with Umar till the end of his life, and then with Hafsa, the daughter of Umar.[4]

Also, since the Qur’an verses were placed in notes, stones, shoulder bones, rib bones, pieces of leather, and small boards, it is quite obvious Muhammad neither compiled nor had in his possession a complete Qur’an Text.[5] If there were already a complete Qur’an Text at the time of Muhammad, there would be no need to search for all these fragments.

OTHER QUR’AN VERSIONS

The majority of Muslims will assume that the Qur’an translation of today is the exact replica of the original. The question remains regarding which of the so-called originals will ever be confirmed to be the correct one.

Throughout Arabia there existed many private and public versions. Interestingly, after Muhammad died, the only Muslims to have the entire Qur’an were Ansars. Not a single one of them were from the Quraysh tribe. Muhammad proclaimed the Qur’an was to be learned from four people, “generally given as:  Ibn Mas’ud, Ubayy b. Ka’b, Salim, and Mu’adh b. Jabal.”[6] Two of these codices were very popular, those of Ibn Mas’ud and Ubayy b. Ka’b. Both of these Qur’anic versions varied from the Uthman Text. Arthur Jeffry in Materials for the History of the Text of the Qur’an commented on the diverse number of Qur’ans:

The people of Homs, and Damascus followed the codex of Miqdad b. al-Aswad, the Kufans that of Ibn Mas’ud, the Basrans that of Abu Musa al-Ash`ari, and the Syrians in general that of Ubai b. Ka`b (Ibn al-Athir, Kamil, III, 86). Here we have the beginning of Metropolitan Codices, each great center following that collection, or perhaps we may say that type of text, which had local fame.[7]

There were wide variations among the important regions of Medina, Mecca, Basra, Kufa, and Damascus. After it was compiled, Zayd’s Text was later concealed. After Umar died, it had been given to Hafsah for private keeping. It was not given publicity or official sanction. In Jam al-Qur’an, Gilchrist shed further doubt pertaining to Zayd’s Text:

At the time of its codification Zaid knew that his text could not be regarded as an absolutely perfect record as some passages were acknowledged as having been lost and the redactor himself overlooked at least two verses until he was reminded of them by Khuzaima. If Zaid and Abu Bakr were persuaded that his text was unquestionably authentic to the last word and letter, it would almost certainly have been given public prominence.[8]

In the course of Uthman’s caliphate, the other Qur’an versions had been established as normative in the various regions. Compiled by Zayd, Uthman’s Recension Text was hidden away in obscurity while the other texts were considered equally valid. During the caliphate of Uthman, controversy over these texts broke out; “The Muslim general Hudhayfah ibn-al-Yaman led an expedition into Northern Syria drawing his troops partly from Syria and partly from Iraq.”[9] As a result, the Muslims argued over which of the Qur’ans were to be used. Ibn Mas’ud’s Text remained standard for Muslims in Kufa, Iraq. Incidentally, the Hudhayfah became distraught over this and informed the caliph, Uthman.[10] The Hadith mentioned this account:

Huthaifa was afraid of the (people of Sha’m and of Iraq) differing in the recitation of the Qur’an, so he said to Uthman:  O chief of the believers! Save this nation before they differ about the book (Qur’an) as Jews and Christians did before. So Uthman sent a message to Hafsa saying:  Send us the manuscripts of the Qur’an so that we may complete the Qur’anic materials in perfect copies and return the manuscripts to you. . . . They did so and when they had written many copies . . . Uthman sent to every Muslim province one copy of what they had copied, and ordered all the other Qur’anic materials, whether written in fragmentary or whole copies, be burnt.[11]

Incredibly, Uthman burned entire copies of the Qur’an that were copied by Muhammad’s closest reciters. By solidifying a specific normative text for the Islamic kingdom, Uthman made a hasty move. Possibly in his haste, major portions of the real Qur’an were destroyed. By political and geographical popularity, the renderings from Medina were favored, despite the fact that Kufa had the superior recognition as the center of Qur’anic studies.[12] The above quoted hadith mentioned that the Jews and Christians had disputes on the text. This event was not very specific; perhaps, it had involvement with some of the heretical cults flourishing at the time, especially around Arabia.

Today, Islam’s ardent followers claim the differences in the various texts were only in the pronunciation of the Qur’an recitations. Since there were no vowel points used, this hypothesis is completely false in correlation to the beginning of the written texts. Therefore, in the written texts, no differences in recitation would have been evident. Hence, the question becomes apparent:  Why did Uthman destroy all these manuscripts? The answer appears irrefutably simple; the texts themselves have had distinct variations. As a consequence, this provocation caused intense skepticism and doubt on the Qur’an’s preservation as being untainted throughout the ages.

Reaction to Uthman’s decree resulted in a complete outrage by the Islamic community. “The Ibadites made the charge against ‘Uthman that he had tampered with God’s word.’”[13] Gilchrist gives an example:

Abdullah ibn Mas’ud reacted very strongly to Uthman’s order and we are also informed that when Uthman enquired into the grievances among the Muslims who were rising in opposition to him, one of their complaints against him was his destruction of the other Qur’an codices, that he had “obliterated the book of Allah” (Ibn Abi Dawud, Kitab al-Masahif, p. 36). They significantly did not just say it was the Masahif (manuscripts), the usual word used for the Qur’an codices compiled before Uthman’s decree, but the Kitabullah, the “Scripture of Allah,” to emphasize their severe antagonism to his wanton extermination of such important manuscripts of the Qur’an.[14]

Definitely, the most outspoken critic of Uthman’s decree was Ibn Mas’ud. He had been one of Muhammad’s earliest disciples who learned the Qur’an directly from Muhammad and became regarded by Muhammad as the greatest scholar of the Qur’an. Zayd was not mentioned, but Ibn Mas’ud, Ubayy Ibn Ka’b, and others were highly praised by the prophet. Ibn Mas’ud refused to hand over his copy; when “the copy of Zaid’s text arrived for promulgation at Kufa as the standard text, the majority of Muslims there still adhered to Ibn Mas’ud’s text.”[15] Such a paradox appears to insinuate tampering and contamination of the text that even brought controversy among the original Islamic community.

Hafsa, one of Muhammad’s wives, kept another pre-Uthmanic Text. Marwan, the governor of Medina, demanded Hafsa surrender her text to him. Jeffrey described Marwan eliminated this text in the following account:

When she died Marwan assisted at her funeral and at its conclusion sent and with much insistence demanded the codex from `Abdallah b. Umar, Hafsa’s brother. Abdallah finally sent it to him and he had it destroyed, fearing, he said, that if it got abroad the variety of readings that Uthman desired to suppress would recommence.[16]

Then, Jeffrey commented:

This is a most unlikely story to have been invented and makes it quite clear that in the case of this codex we are in touch with a pre-Uthmanic text which differed, perhaps considerably, from that of Uthman.[17]

Again, it becomes apparently obvious that the Uthman Text was not the Hafsa Text that Mulsims claim to be official. All sorts of textual discrepancies are blatantly evident. How can any Muslim be certain that Uthman’s Text is the revealed words of Allah? Obviously, the text has been tampered with excessively.

All these variant texts around Arabia were either burned or hidden. Some survived to the present but are regarded as heretical by Islamic scholars. Arthur Jeffrey describes the level to which these manuscripts were suppressed:

An interesting modern example occurred during the last visit of the late Prof. Bergstrasser to Cairo. He was engaged in taking photographs for the archive and had photographed a number of the early codices in the Egyptian Library when I drew his attention to one in the Azhar Library that possessed certain curious features. He sought permission to photograph that also, but permission was refused and the codex withdrawn from access, as it was not consistent with orthodoxy to allow a western scholar to have knowledge of such a text.[18]

The extent of such suppression has been attributable to a lack of confidence in the transmission of the Qur’an. No Muslim can be certain of what material was actually in the original text. Uthman ordered corrections to be made in his text and therefore doubts remain concerning its reliability. He brought together four redactors to make revisions, amendments, and rewrite the text into the original Quraysh dialect. Once more, this reflects a change in the text itself, since any variations in pronunciation would not be seen in the actual text.[19] In view of the fact that no surviving manuscripts date back to Uthman’s time, no Muslim can even be certain that today’s text remains a replica of his compilation or is simply a revision text.

Repeatedly, Muslims will claim that Muhammad had a complete codified Qur’an. One will find evidence to the contrary; the Qur’an is disjointed, fragmentary, and historical dating is completely mixed up in reference to creation events and personages depicted in the biblical accounts. Clearly, this will support the premise, in alliance with textual criticism, that the Qur’an has chronological problems pertaining to events and characters mentioned within the earlier dated Dead Sea Scrolls and Tanach.

Zayd collected the fragments of the Qur’an verses. Later, under Uthman, the redactors edited the verses to form a revised Qur’an. Perhaps, more tampering with the text had taken place after Uthman. Though there had been no manuscript evidence to prove otherwise, the Muslims are faced with a dilemma. Apparently, Muhammad’s revelations were erroneous, or the men who compiled the text of the Qur’an also corrupted it.

All these facts indicate and point to textual tampering. With the burning and suppression of other equally valid texts, it becomes easy to doubt the authenticity of the text. Concerning the Qur’an’s accuracy, it remains a question of blind faith versus forensic facts. The evidence clearly points to the contamination of the Qur’an text.

THE EARLY MANUSCRIPTS OF THE QUR’AN

Often, the Muslim scholars claim there are two ancient manuscripts of the Qur’an, which are supposed to be Uthman’s original text. Western scholars have challenged this hypothesis. In order to determine the precise date of a manuscript, an analysis of the script must be done. Before Islam came into existence, the only script proven to exist had been the Jazm script. No Qur’an texts from this period are known to exist. To be precise, no large fragments or complete codices have been known to exist “earlier than the late eighth century (about one hundred years after Muhammad’s death).”[20] Most of the earliest extant manuscripts are written in the Kufic script. This script originates from “Kufa in Iraq, where Ibn Mas’ud’s codex had been highly prized until Uthman ordered its destruction.”[21] Furthermore, before the ninth century, one must realize that the Kufic script Qur’an was not known to exist in either Mecca or Medina. Absolutely none had come from either area; furthermore, there is not even a thread of recorded evidence for verification!

Consistently, Muslims have claimed two specific manuscripts were found which were Uthman originals. As mentioned before, the Uthman Text was basically Hafsa’s Codex; yet Marwan destroyed that text. Rejecting historical details opposing their dogmatic blindness to the truth, Muslims still cling to the belief that original manuscripts still survived.

Moreover, fanciful accounts surrounded the Topkapi and Samarqand Codices. From the past to the present, many have attested that these manuscripts were actually Uthman’s. They claim that, at the time of his murder, he was reading the Qur’an and the preserved pages are still covered with his blood.

The Samarqand Codices are preserved . . . in the Soviet State Library at Tashkent in Uzbekistan in Southern Russia.[22] Gilchrist describes this codex:

It is clearly written in Kufic script and, as we have seen, it is asking too much of an objective scholar to believe that a Qur’an manuscript written at Medina as early as the caliphate of Uthman could ever have been written in this script. Medinan Qur’ans were written in the al-Ma’il and Mashq scripts for many decades before the Kufic script became the common denominator of all the early texts throughout the Muslim world, and, in any event, Kufic only came into regular use at Kufa and elsewhere in the Iraqi province in the generations following Uthman’s demise.[23]

Another manuscript is being displayed at the Topkapi Museum in Istanbul, Turkey. Like the Samarqand, the Topkapi Codex has been claimed to be an Uthman original. Again, the problem of the script written in Kufic style becomes contradictory. In addition, this codex has “ornamental medallions with occasional ornamentation between the Suras,” which indicates an older date.[24]

Equally, these manuscripts, the Samarqand and Topkapi, are said to have bloodstains on them. If both texts were Uthman’s, he must have been reading both at the time of his death, which is quite improbable according to traditional teachings that mention only one book. However, the most glaring problem lies in the script style; Uthman’s Text would not have used the later Kufic style. Outrageous beliefs such as these demonstrate how far the Muslim community will go to prove the accuracy of the Qur’an. These lies may be parleyed off to the ignorant but not to scholars of history. From the evidence, no surviving Qur’an text dates earlier than one hundred years after Muhammad’s death. An enormous gap of time exists between Muhammad and the earliest extant Qur’an. With these facts exposed, the tenacious claim by Muslims for the perfect transmission of the Qur’an, again, becomes a matter of blind faith and not based on historical documentation.

THE DOCTRINE OF ABROGATION

Muhammad’s moon-god, Allah, declared abrogation of revelations an acceptable practice. Qur’an 2:106 states:

Such of Our revelations as We abrogate or cause to be forgotten, We bring (in place) one better or the like thereof. Knowest thou not that Allah is able to do all things?

This sura completely contradicts Qur’an 85:22, which declared the Qur’an to have been written on a “preserved tablet” in heaven.

The Muslims believe Allah is an omniscient being, all knowing in regard to all human events. However, Allah could not predict the future based upon the Qur’anic declarations. Why would an all-knowing deity need to constantly abrogate (change) his original messages? Allah therefore, emphatically, cannot be the deity of the biblical patriarchs. Yahveh knows the future as well as fulfills prophecies. When Yahveh came as a man, Jesus (Yahsu) declared in regard to his word:

Do not think that I came to destroy the law or the prophets. I did not come to destroy but to fulfill. For assuredly, I say to you, till heaven and earth pass away, one jot or tittle will by no means pass from the law till all is fulfilled” (Matt. 5:17-18).

In the case of Muhammad, one notices a stark contrast concerning the word of God. It remains apparent that Muhammad dictated the revelations and not Allah. Albeit, his close followers, and those to whom he had been in contact, were at times skeptical of his messages. The Qur’an is satiated with verses showing the resistance to his prophethood. Qur’an 25:4-5 states:

Those who disbelieve say:  This is naught but a lie that he hath invented, and other folk have helped him with it, so that they have produced a slander and a lie. And they say:  Fables of the men of old which he hath had written down so that they are dictated to him morn and evening.

This passage puts Muhammad to the test. The question remains in the twilight of history to deliberate fiction from truth. Was Muhammad a true prophet? If so, why did he have to constantly change his messages? As mentioned in chapter four, Muhammad, who was continually under pressure and reprimanded by his peers for worshipping the three goddesses, changes his revelation message. He simply declares this practice of polytheism unlawful and avoids any confrontation. However, he must now explain how Allah has suddenly changed his mind again. Again, the fingerprints of Muhammad are evident all over the Qur’an.

With the proper study of the Islamic texts, a vast number of abrogated verses have been discovered. Pertaining to the fast of Ramadan, Muhammad abrogates a verse with reference to not approaching women during this particular time frame. This verse becomes a problematic dilemma for Muhammad due to his follower’s disobedience to this injunction. Muhammad cannot afford to punish them for fear of the repercussions and thus modifies the prior revelation by a new one:

It is made lawful for you to go unto your wives on the night of the fast . . . Allah is aware that ye were deceiving yourselves . . . so hold intercourse with them and seek that which Allah hath ordained for you (Qur’an 2:187).

Conveniently, Muhammad changes the Qur’an to suit the particular occasion to meet his needs. Often, when dealing with his own affairs, he would apply the abrogation technique. Once, while Muhammad’s wife Hafsa was gone, it was mentioned that he brought Mary, the Copt—from the Coptic Christianity of Africa—to the house of his wife. Hafsa was perturbed, so Muhammad tried to appease her by saying, “‘Keep my secret, and I will consider Mary the Copt unlawful to me!’”[25] Hafsa told Aisha, Muhammad’s child bride, which aroused so much anger that Muhammad divorced Hafsa. Later, Muhammad changed his mind and Allah conveniently declared:

O prophet! Why bannest thou that which Allah hath made lawful for thee, seeking to please thy wives? And Allah is forgiving, merciful. Allah hath made lawful for you absolution from your oaths, and Allah is your protector. He is the knower, the wise (Qur’an 66:1-2).

After Muhammad’s anger subsided, he abrogated the previous verses. He resumed sexual relations with Mary and even remarried Hafsa.[26] These were merely a few sample passages demonstrating how Muhammad employed the practice of abrogation. His ‘fingerprints’ of coercions are all over the Qur’an. To believe that these former injunctions, now replaced by new opposite revelations, were divinely inspired messages from Allah seems ludicrous to the rational individual.

There are numerous passages questioning whether the revelations were from Allah or Muhammad. For instance, why would Allah be so concerned about trivial matters of the prophet’s daily squabbles? Qur’an 33:53 states:

Enter not the dwellings of the prophet for a meal without waiting for the proper time, unless permission be granted you. But if ye are invited, enter, and, when your meal is ended, then disperse. Linger not for conversation. Lo! That would cause annoyance to the prophet, and he would be shy of (asking) you (to go).

One may find difficulty to believe that Allah uttered these verses; it seems more probable that Muhammad said them.

Further evidence that questions the divine authorship of the Qur’an may be seen in Sura 1:

Praise be to Allah, Lord of the worlds, the Beneficent, the Merciful. Owner of the day of judgment, Thee (alone) we worship; Thee (alone) we ask for help. Show us the straight path (Qur’an 1:1).

Interestingly, casting further doubt on Uthman’s version, Ibn Mas’ud does not include this passage in his Qur’an. If this was Allah speaking, why does it sound like a prayer to Allah? Again, in Qur’an 27:91-92, Allah could not be speaking:  “I am commanded only to serve the Lord of this land which he hath hallowed, and unto whom all things belong. And I am commanded to be of those who surrender.” If Allah was speaking, then Allah seems to be worshipping himself or another god. Likewise, Suras 112 and 113 are obvious prayers to Allah. Frequently, the Muslim translators insert the word “say” in front of the passage, but this too, would seem to be an abrogation to the original Arabic. As a result, the Muslims are altering their own sacred texts to facilitate a cover up of the original intended meaning of the text. The Qur’an cannot be the words of Allah based upon these examples.

In formulating falsified material that would compose the Qur’an, there exists further evidence to buttress the theory that Muhammad was the sole source of inspiration in conjunction with his demonic spirit guide. By rejecting Muhammad as a biblical prophet, the Jews often pressured Muhammad. Consequently, Muhammad changed his religious practices and dogma. Originally, he followed the Yom Kippur fast of the Jews, but changed it to the Ramadan fast with all its pagan overtones. Similarly, he changed the direction of prayer from Jerusalem to Mecca.

To the contrary, the biblical prophets of the Holy Tanach would have never succumbed to pressure from others, no matter what the cost, even if it meant laying down their lives as martyrs. On the other hand, Muhammad fabricated and revised his religion day by day; when under extreme pressure, he would repeatedly redact his religion by the principle of abrogation.

THE SOURCE OF THE QUR’AN

Muhammad’s Qur’an was virtually a blend of many religions. In Mecca, as a child, he learned the pagan religions of the Kabah, which included approximately 360-plus gods for every day of the year, based primarily on astrological rites. The principle deity was, of course, the moon-god, Allah. Along with these cults, he was exposed to others while he traveled the caravan route around Arabia:  1) Legends from the Arabs, 2) Jewish myths from the Talmud, 3) Midrash, and apocryphal works, 4) Sabean traditions, 5) Zoroastrianism, 6) Hinduism, and 7) Christian heretical sects.

One of these Christian heretical sects, Ebionism, possibly played a major role in Muhammad’s spiritual development. His first wife, Khadija, had a cousin named Waraqa Ibn Nauwfal “who was the Ebionite Christian bishop of Mecca.”[27] The Ebionites denied the deity of Jesus (Yahsu), the Messiah, just as Muhammad taught later. From a young boy, Muhammad was indoctrinated with false teachings from numerous sources. His early mystic experiences with his familiar spirit, feigned as Gabriel in the cave, infiltrated his conscience with dark influences; while Waraqa, the Ebionite bishop, filled his young mind with further errant dogma. The Hadith verified that Waraqa was familiar with the scriptures:

Waraqa bin Naufa . . . who, during the PreIslamic Period became a Christian and used to write with Hebrew letters. He used to write the gospel, the Hebrew as much as Allah wished him to write.[28]

Waraqa taught Muhammad a distorted version of the Holy Bible, which appears quite evident as one compares the original biblical accounts and historicity with the scrambled stories in the Qur’an, which are absurdly mixed up chronologically. Assessments of numerous Bible accounts reveal the twisted and perverted Qur’an renditions. Had Muhammad’s Qur’an been delivered by the real angel, Gabriel, the biblical stories and characters would not have been distorted, placed in the wrong chronological order, abrogated constantly, nor filled with historical deficiency.

 

From Chapter 7 of Mecca, Muhammad & the Origins of Islam:  A Candid Investigation Into the Origins of Islam.

[1] Arthur Jeffrey, Materials for the History of the Text of the Qur’an:  The Old Codices (Leiden:  E.J. Brill, 1937), 5.

[2] Ibid., 6.

[3] al-Boukhari, Hadith,  vol. 9, no. 7191:119-20.

[4] al-Boukhari, Hadith, vol. 6, no. 4986:279-80.

[5] Newmann, Muhammad, Islam and the Qur’an (Hatfield, PA:  Interdisciplinary Biblical Research Institute, 1996), 6.

[6] Ibid., 312.

[7] Jeffrey, Materials, 7-8.

[8] Jeffrey Gilchrist, Jam’ al-Qur’an:  The Codification of the Qur’an Text, [http://www.answering-islam.org/Gilchrist/Jam/index.html] (accessed February, 2012).

[9] Ibid.  [10] Ibid.

[11] al-Boukhari, Hadith, vol. 6, no. 4987:280.

[12] Jeffrey, Materials, 8.

[13] Ibid.

[14] Gilchrist, Jam’ al-Qur’an, chap. 2:2.

[15] Ibid., chap 3:2.

[16] Jeffrey, Materials, 213.

[17] Ibid.

[18] Ibid., 10.

[19] Gilchrist, Jam’ al-Qur’an, chap. 2:7.

[20] Ibid., chap. 7:2.  [21] Ibid.  [22] Ibid., chap 7:5.  [23] Ibid., chap. 7:5.  [24] Ibid.

 

 

Related Links:

 

http://www.message4muslims.org.uk/the-quran/form-arrangement-of-the-koran/the-original-quran/

 

 

 

Sep 16

Islamic Jihads of Antiquity

The mission of Muhammad and his moon-god Allah may be summed up in one Qur’an verse:  “And fight them until persecution is no more, and all religion is for Allah” (Qur’an 8:39). Throughout history, Muslims have conquered and pillaged in the name of Allah. In Farrakhan, Islam and the Religion that is Raping America, Moody Adams narrates:

Muhammad led 27 invasions of neighboring countries, personally fighting in nine of these and killed thousands. In addition, he ordered his followers to conduct at least 47 other invasions that reigned death on neighboring countries.[26]

Within twenty-five years, Muhammad’s followers conquered Syria, Persia, Palestine, and Egypt. Two men responsible for many of these early conquests were the caliph Abu Bakr and Khald ibn al-Walid, both of whom the prophet highly esteemed. Below, a few examples of the Islamic carnage have been cited.

 

Abu Bakr ordered Khalid to subdue the Persians and take the ports of Iraq. The Iraqi general, Hermez, was given the ultimatum to embrace Islam and pay the special tax called al-Jizya; or he was given the option to fight. Hermez refused to submit. So, the Muslims looted the Persians and one-fifth war booty was seized. During the battle of Alees on the border of Iraq, 70,000 people were slain by Khalid. These were staggering numbers for the world population of that time. In Ayn al-Tamr, Iraq, a siege was set on one of the fortresses. Then, Khalid proceeded to murder all the inhabitants for refusal to surrender to the religion of Islam. Abu Bakr decided to invade Syria and at the battle of Yarmouk thousands were decimated.[27]

What was the impetus and drive behind the Islamic Imperial conquests? Muhammad laid out his vision for world domination under Islam and combined the sacred mandate with the quest for profit. Muhammad always promised much war booty to those who would fight in holy wars. Muhammad’s successor and first caliph promised booty to be seized from the Byzantines. Likewise, Muhammad’s son-in-law and fourth caliph, Ali ibn Abi Talib, laid out an enticing vision, “Before you lies these great sawad [the fertile lands of Iraq] and those large tents”[28] The third caliph, Uthman, another son-in-law of Muhammad, acquired outrageous wealth from these wars. Karsh comments:

By the time of his assassination in July 656 A.D., he (Uthman) had netted himself a fortune of 150,000 dinars and one million dinars in cash, and the value of his estates amounted to 200,000 dinars, aside from a vast herd of camels and horses. This fortune paled in comparison with the fabulous wealth amassed by some of Muhammad’s closest companions. The invested capital of Zubair ibn Awam amounted to some fifty million dirhams and 400,000 dinars, and he owned countless properties in Medina, Iraq and Egypt. Talha ibn Ubaidallah, one of the earliest converts to Islam to whom Muhammad had promised a place in Paradise, . . . left, according to some authorities, 200,000 dinars, and 2.2 million dirhams in cash, and his estates were valued at thirty million dirhams. His investments in Iraq alone yielded him one thousand dinars per day.[29]

With the Islamic Empire moved to Baghdad the vast trade routes were opened to the far reaches of the globe and the Islamic Empire transformed into a leading economic power. All this new wealth came at the expense of those who were conquered. For example, the drive to acquire gold was insatiable as Muslims plundered the Sudan of all its resources, robbed vast amounts from the Iranian palaces, and even raided the tombs of the pharaohs of Egypt.

Furthermore, the profitable Islamic slave trade minions captured black East Africans by the thousands and forced them into labor camps in the salt flats near Basra. They were labeled a class called (Zanj), treated poorly, torn from their families and given small rations. Amazingly, Islamic adherents today continue to subdue the Africans in brutal domination and trade them off as slaves.[30]

The Islamic hordes continued to expand their empire throughout the known ancient world. By the early eighth century, the empire conquered Central Asia, vast territory in the Indian subcontinent, the western regions of China, laid siege to the Byzantine capitol Constantinople, and invaded North Africa and Spain.[31] In addition, Southern Italy and the Mediterranean islands (Corsica, Sicily, Cyprus, Crete, Rhodes, Malta and Sardinia) were conquered by Islamic forces.

Karsh gives an interesting historical thread of obedient adherence to Muhammad’s calls to subjugate the entire world for Allah:

“I was ordered to fight all men until they say ‘there is no god but Allah.’” — Prophet Muhammad’s farewell address, March 632

“I shall cross this sea to their lands to pursue them until there remains no one on the face of the earth who does not acknowledge Allah.” — Saladin, January 1189

“We will export our revolution throughout the world . . . until the calls ‘there is no god but Allah and Muhammad is the messenger of Allah’ are echoed all over the world.” — Ayatollah Ruhollah Khomeini, 1979

“I was ordered to fight the people until they say there is no god but Allah, and his prophet Muhammad.” — Osama bin Laden, November 2001[32]

Battle of Constantinople

The Islamic juggernaut piled through the Eastern Christian frontier slaughtering anyone who did not submit to Allah. In 705 Muslims locked up all the Armenian Christian nobles inside a church and burned them to death. Numerous massacres against Christian and Jewish populaces took place during these Islamic incursions.[33]

Many historians regard the victory over two Islamic sieges against Constantinople (674-678 and 717-718) as one of the great turning points in history. The powerful Christian Byzantium capital of Constantinople was a fortified stronghold. It was the gateway to Europe and the last resistance against the Islamic armies in the East.[34]

The Caliph Muawiyah had just defeated the Byzantine armies in Egypt, Syria, and the entire north coast of Africa. The Caliph brought a massive army of 50,000 Islamic Jihadists to the heart of Byzantium, Constantinople. It was only by maintaining a superior technological advantage via powerful fortifications and a secret offensive weapon that Byzantium was able to overcome the Islamic siege.

In God’s Battalions, Rodney Starks describes the walls of Constantinople:

These were not merely walls; they were an engineering marvel:  a massive outer wall with towers and superb battlements and behind it an even stronger inner wall, forty feet high and fifteen feet thick, having even more elaborate battlements and towers. If that was not enough, on the landward side there was a huge moat, and, of course, on the other three sides attackers could reach the walls only by boat.[35]

The Byzantines were able to repel the Islamic frontal siege attacks. However, the Muslims also attempted to starve the city inhabitants by employing a naval blockade. In fortuitous timing, a Syrian engineering architect named Kallinikos of Heliopolis had fled the Islamic persecution in his homeland and settled in Constantinople. He was given credit for the invention of “Greek fire.” However, its true origins were likely derived from the alchemist technology based on ancient texts or preserved knowledge from the legendary Egyptian Library of Alexandria.

Greek fire was similar to modern napalm. It was highly flammable and could not be extinguished by water. The Byzantines hurled the fire via catapults or pumping devices. The catapults could send the flammable substance contained in glass or pottery up to 400-500 yards. Upon impact the flames could spread out 75 feet in diameter and inflict considerable damage to enemy ships. However, catapults were difficult to employ from ships so the Greeks devised a type of flamethrower which consisted of a pump that could discharge the stream of liquid through a tube installed in the bow of the galley. The Byzantines decimated the Muslim ships by this technological weapon over and over again.

In 717, the Muslims brought forth a massive contingent of 1800 galleys against Constantinople. The Byzantines lured the Muslim navy into the Bosporous and then pummeled them with Greek fire, destroying most of their fleet. The next spring the Muslims tried again with a new navy but again succumbed to the onslaught of the Byzantine arsenal of Greek fire.[36] These famous early battles of Constantinople were crucial to preserving Europe from a certain Islamic invasion via the Balkans.

Battle of Tours/Poitiers

In their zealous quest for world domination the Islamic war machine set their sites on the heartland of Europe in an assault to the western front. The Muslim invaders, led by Abdul Rahman Al Ghafiqi pushed further north from Spain into France. Along the way the Muslims slaughtered several Christian armies, burned churches, looted and plundered. They were about to pillage the basilica of St. Martin of Tours but first paused to revel in their conquests and booty seized. Meanwhile, the approach of Charles Martel and his famous Merovingian Knights made steady progress, unnoticed by Abdul Rahman’s army.

Martel was exceptionally tall and powerfully built. His stunning victories against the Alemanni, Bavarians, Frisians, and the Saxons gave him the power to found the Carolingian Empire.  He was, in effect, the leader of northeastern Gaul which gave rise to the Kingdom of Francia (later to be named France). His elite army of Franks met the Islamic incursion in 732. The armies of Charles Martel and Abdul Rahman Al Ghafiqi clashed for seven days in bloody conflict on a battlefield located between Tours and Poitiers, about 150 miles south of Paris. In this epic battle, historians have estimated the Muslims killed anywhere from 30,000 up to 300,000. The Muslims suffered serious casualties and Abdul Rahman was killed. Due to Martel’s great victory, the famous title, “The Hammer,” was appended to his name, possibly referring to Judas Maccabeus “The Hammerer” of the famous Maccabean revolt. Eventually, Charles Martel became the grandfather of the powerful Holy Roman Emperor, Charlemagne.

Many historians claim Europe was saved from total Islamic conquest by this victory and perhaps one of the most important battles in history. In 735, the Islamic armies invaded Gaul again but Martel and his knights defeated them with such force that the Muslims would never again foray that far north into Europe.[37] Despite these setbacks, the Islamic Imperial forces continued to strengthen and expand in other regions. The mandate of Muhammad has never been rescinded, thus the Islamic imperialistic ambitions for complete world domination remains in focus.

Al-Hakim (The Mahdi)

Islamic eschatological Shia tradition believes the sixth Fatimid caliph in Egypt, Tariqu al-Hakim never died, and would return as the twelfth Imam or Mahdi (Guided One) in the end of days and rule seven years. In Christian eschatology the Islamic Mahdi is actually equated to the biblical Antichrist. All Islam believes in an end-time Muslim world leader called the Mahdi but each sect has their own varying interpretations concerning his appearance. In 996, Hakim became the caliph of Egypt at age eleven and ruled until he vanished at age thirty-six. His rule was characterized by brutal persecutions and destruction. Stark summarizes Hakim’s bizarre reign:

He ordered all the dogs in Cairo be killed, that no grapes be grown or eaten (to prevent the making of wine), that women never leave their homes, and that shoemakers cease making women’s shoes. Hakim also outlawed cheese and the eating of watercress or any fish without scales. He suddenly required that everyone work at night and sleep during the day since this were his preferred hours. He murdered his tutor and nearly all of his viziers, large numbers of other high officials, poets, and physicians, and many of his relatives—often doing the killing himself. He cut off the hands of female slaves in his palace. To express his opposition to public baths for women, he had the entrance to the most populated one suddenly walled up, entombing all who were inside.[38]

Stark further elaborates on the persecutions:

Hakim also forced all Christians to wear a four-pound cross around their necks and Jews to wear an equally heavy carving of a calf (as shame for having worshipped the Golden Calf). Finally, Hakim had his name substituted for that of Allah in mosque services. . . . Hakim ordered the burning or confiscation of all Christian churches (eventually about “thirty thousand were burned or pillaged”) and the stripping and complete destruction of the Church of the Holy Sepulchre in Jerusalem, including all traces of the carved-out tomb beneath it.[39]

Hakim had disappeared during a journey into the hills where he often dabbled in astrology. His donkey returned with blood on its back and many believe he was murdered. In 1027, the next ruler allowed the Byzantines to reconstruct the Church of the Holy Sepulchre but much of the damage done to the cavern could not be repaired.[40]

News of these atrocities and desecration of the holy places stirred livid anger in Europe and would continue to build as more abuses were reported from returning pilgrims. It is interesting to note the behavior of this type of Antichrist (Mahdi) figure who desecrated the holy sites, instituted massive persecutions and elevated himself above God. A similar personage will arise in the Last Days to accomplish the same feats but on a much grander scale. The Islamic massacres continued unabated during the early eleventh century. In 1032-1033, six thousand Jews were slaughtered in Morocco and at least that many in Grenada.[41]

Norman Liberation of Italy and Sicily

In 1038, George Maniakes, a famous Byzantine general led his regular troops, Lombards, and a contingent of mercenaries, including one comprised of Norman knights, to complete the liberation of Southern Italy and Sicily from the Muslims. The ambitious Normans or “Northmen” were powerful Viking warriors who had settled in the area of Northern France and founded the Kingdom of Normandy. The invasions were a complete success up until Maniakes decided to withhold the Normans their share of the rewards. A rebellion broke out among the Byzantine army and the Muslims regained uncontested rule of Sicily.

In 1041, the Norman warlords, led by the powerful heroic William of Hauteville (Iron Arm), decided to take Sicily for themselves. They were able to take over the fortifications and establish a base in Melfi. The Byzantines contested this brazen move by sending their armies to battle against the Normans. Although vastly outnumbered, the Normans, with their fighting prowess and bravery were able to rout the Byzantine armies time after time. As a result of these repeated defeats, the Byzantines would never again fight with Normans in open battle in Italy.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

Between 1059 and 1071, the Norman, Robert Guiscard, established a Norman kingdom in Southern Italy and Sicily and the Muslims were expelled. As with the Byzantines, the Islamic armies would never invade those territories. In 1098, Robert Guiscard’s eldest son, Bohemond, would lead the crusader forces to victory against the fortified city of Antioch. The Normans and Norse Vikings would play a crucial role in the liberation of Christian lands from Islamic armies during the eleventh and twelfth centuries, including the Crusades to the Holy Land.[42]

El Cid

In Spain the Christian armies reclaimed the former Visigothic Kingdom of Toledo from the Muslims in 1085. Toledo had fallen to Arab and Berber Muslims in the eighth century and was long established as an Islamic stronghold and one of the wealthiest Muslim dynasties.[43] When King Alfonso VI of Leon-Castile wrested control of Toledo, it was a powerful blow to the Islamic morale. From 1092 to 1098 Islam suffered serious losses in the Iberian Peninsula to Spain’s most famous Christian knight, Rodrigo Diaz de Vivar, otherwise known as El Cid.

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

 

One may recall Charlton Heston playing the role of Rodrigo Diaz in the epic 1961 film “El Cid.” The title ‘El Cid’ translates into “Lord” or “The Master” and was in regard to his title as Campeador or champion. In order to spare losses incurred in battles kings would often designate their champion knight to battle a champion knight of an opposing army; the victor would claim the city or cities in dispute. Rodrigo Diaz was a military genius in arms whether fighting solo or leading vast armies. He was never defeated. El Cid’s brilliant victories against overwhelming odds and by liberating and defending the strategic coastal city of Valencia inspired many Christian knights to continue in like manner.

India

One of the greatest ongoing genocides of history involved the subjugation and decimation of the population on the Indian subcontinent. The crimes against humanity were carried out by Muslims literal obedience to Muhammad’s command to subdue the entire world until all is for Allah.

The historian K.S. Lal has estimated that between the year 1000 and 1525, almost eighty million people were killed in India in the name of Islam. He also figured about two million died during the invasions led by Mahmud of Ghazni, who ruled between 997 and 1030, over an extensive empire covering Pakistan, Afghanistan, Iran, and northwestern India. These regions still inflict severe casualties in the quest of Islamic Jihad.

Seljuq Turkish Invasion

In The Crusades:  The Authoritative History of the War for the Holy Land, Thomas Asbridge describes a new Islamic threat from the East:

A further, dramatic change transformed the world of Islam in the eleventh century—the coming of the Turks. From around 1040, these nomadic tribesmen from Central Asia—noted for their warlike character and agile skill as mounted archers—began to seep into the Middle East. One particular clan, the Seljuqs (from the steppes of Russia, beyond the Aral Sea), spearheaded the Turkish migration. . . . By 1055, the Seljuq warlord Tughrul Beg had been appointed as sultan of Baghdad and could claim effective overlordship of Sunni Islam.[44]

Turghrul Beg’s Muslim armies invaded the Christian Monophysite Kingdom of Armenia. They pillaged the city of Arzden; slaughtered the men, raped the women, and took the children as slaves. Further massacres ensued across Armenia with some cities’ dead piled so high that they blocked all the streets. Eventually, these events brought a response from Byzantium. The Turkish Islamic armies continued to battle against Byzantium and would plague the eastern Christian empire for centuries.

The Turks, under the leadership of Atsiz bin Uwaq, continued to expand their domain and forayed into the holy lands. In 1074, they took Acre; in 1075, they seized Damascus. In 1077, they laid siege to Jerusalem. Atsiz promised safety to the residents of Jerusalem, but when the gates were opened, slaughtered thousands. The Turks proceeded to wipe out the citizens of Ramla, Gaza, Tyre and Jaffa.[45] In the midst of this carnage, Christian pilgrims were persecuted and those who escaped brought more horrid news of these atrocities perpetrated by the Islamic Turkish hordes.

Meanwhile the Islamic Seljuqs “established the sultanate of Rum (Rome, referring to the New Rome, Constantinople) in Nicea that same year.”[46] So, the Turks would centralize their own capital near the real Constantinople and continue to battle what little remained of the Christian empire of Byzantium. The historical evidence for Islamic imperialistic world domination cannot be refuted and should not be ignored. The numerous accounts cited in this chapter only serve as glimpses or highlights from the annals of history regarding the peoples and lands laid waste by Muhammad’s minions. Realizing the brutal escalation of the Islamic agenda for world conquest in the centuries leading up to the end of the eleventh century, is vital to understand the mindset of those who chose to go on crusade to liberate the once Christian controlled Holy Land from Islamic rule.

 

From Chapter 12 of Mecca, Muhammad & the Origins of Islam:  A Candid Investigation Into the Origins of Islam.

 

[26] Moody Adams, The Religion that is Raping America (n.p.:  The Moody Adams Evangelistic Association, n.d.), 101.

[27] n.a., Behind the Veil, 60-2.

[28] Karsh, Islamic Imperialism, 25.

[29] Ibid., 25-6.  [30] Ibid., 49.  [31] Ibid., 23.  [32] Ibid., 1.

[33] Rodney Stark, God’s Battalions:  The Case for the Crusades (New York:  Harper Collins Publishers, 2009), 29.

[34] Ibid., 36-7.  [35] Ibid., 38.  [36] Ibid., 38-9.  [37]Ibid., 40-44.

[38] Ibid., 90.  [39] Ibid., 91.  [40] Ibid.

[41] Ibid., 29.  [42] Ibid., 48-51.  [43] Ibid., 46.

[44] Thomas Asbridge, The Crusades:  The Authoritative History of the War for the Holy Land (New York:  Harper Collins Publishers, 2010), 21.

[45] Stark, Battalions, 97.

[46]  Robert Spencer, The Politically Incorrect Guide to Islam (and the Crusades) (Washington DC:  Regnery Publishing, Inc., 2005), 125.

 

www.bigfaithministries.com

 

 

Creative Commons License
Islamic Jihads of Antiquity by Brett Stortroen is licensed under a Creative Commons Attribution 3.0 Unported License.

Jul 28

Muslims Converting to Christianity

Book: 200,000 Muslims convert to Christianity

Is Jesus Christ Reaching Out to Muslims Through Their Dreams?

 

Famous Muslim Leader accept Lord Jesus Christ….Dr Daniel Shayesteh

 

 

Muslim near death experience sees Jesus (Isa) becomes Christian

Muslim near death experience sees Jesus (Isa) becomes Christian

 

More Than Dreams 1/5 – Ali (Christian Documentary)

Why I Left Islam-Ex-Muslim terrorist Walid Shoebat(Part 1 of 2)

 

Jun 26

JIHAD OF ANTICHRIST (THE MAHDI)

Both Sunni and Shi’a branches of Islam await the coming of their messianic leader, the Mahdi. The Sunni Muslims refer to him as the “rightly-guided and awaited one” and Shi’a Muslims acknowledge him by the title Sahib Al-Zaman, “The Lord of the Age.” The biblical scriptures know this figure as Satan who is likewise called “The Lord of the Age.” The Muslims Messiah is the Christian’s Antichrist. Read the rest of this entry »

Older posts «